Monday, 23 April 2018

اسٹیفن ہاکنگ



اسٹیفن ہاکنگ 



اسٹیفن ہاکنگ - ایک عہد ساز سائنسدان آج دنیا سے رخصت ہوگیا. افسوس کہ ہماری کسی یونیورسٹی یا ریسرچ ادارے نے انہیں ان کی زندگی میں کسی تحقیقی لیکچر کیلئے مدعو نہیں کیا. حالانکہ وہ سائنس کا ایک ایسے محقق اور استاد تھا جو صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے. آج بھی مشیوکاکو جیسے نامور سائنسدان ہمارے اس دور میں زندہ ہیں مگر ہم انہیں بھی اسٹیفن کی طرح نہیں بلائیں گے. ہم تو آج بھی اس بحث پر سارا زور لگا رہے ہیں کہ اسٹیفن کی وفات پر اِناللہِ واِنا الیہِ راجِعُون پڑھنا جائز ہے یا ناجائز. اللہ کے بندوں صرف اس کلمے کا مطلب پڑھ لو تو سمجھ جاؤ گے کہ یہ پڑھنے والے کے اپنے لئے یاددہانی ہے. یعنی ہم سب اللہ ہی کی جانب سے آئے ہیں اور اللہ ہی جانب ہم سب کو لوٹ کرجانا ہے. پھر لوٹ کر جانے والے کا نام اسٹیفن ہاکنگ ہو، رام پرکاش ہو یا عبدللہ عزیز ... کیا فرق پڑتا ہے؟ مجھے اس کی کتاب 'بریف ہسٹری آف ٹائم' اور مختلف کالم پڑھ کر یہ اندازہ ہوا کہ اسٹیفن ہاکنگ زندگی بھر خدا کو کسی نہ کسی درجے میں ضرور مانتا رہا. گو وہ روز جزاء کا منکر تھا اور بڑھاپے میں الحاد اختیار کرلیا. اس کے اس نتیجے کے پیچھے جو بھی وجوہات رہی ہوں مگر اس سے اس کا علوم سائنس میں قد کم نہیں ہوتا. جو خدمات اسکی تحقیقات کے سبب ہم تک پہنچی ہیں ان کا انکار کون احمق کرسکتا ہے؟ اس کی تحقیقات میں بلیک هول میں تابکاری کی تھیوری سرفہرست ہے جسے 'ہاکنگ ریڈی ایشن (تابکاری)' کے نام سے موسوم کیا جاتا ہیں. اس کے علاوہ وہ دنیا بھر میں پہلا سائنسدان تھا جس نے البرٹ آئین اسٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹی وٹی اور کوانٹم میکنکس کے اجماع سے علم فلکیات کی تھیوری پیش کی جو آنے والے دور میں بھی سنگ میل ثابت ہوگی. اگر ہم آج سائنسی علوم میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ سائنسدانوں کے عقائد سے بالاتر ہو کر ان کی سائنسی تحقیقات کو سمجھا جائے. اگر ہم اپنی قوم میں سائنس و تحقیق کا شوق پیدا کرنا چاہتے ہیں تو چاہیئے کہ سائنس کے ان نامور ناموں کو اپنے تعلیمی اداروں میں مدعو کیا جائے. رہی بات الحاد کی تو اس کا جواب فکری بنیادوں پر دیا جائے گا، سائنسدانوں کی آمد پر پابندی لگا کر نہیں. 
.
====عظیم نامہ====

الطاف حسین کے بدلتے خیالات



الطاف حسین کے بدلتے خیالات




میں نے بہت بار دوسرے شہروں میں بسے اپنے دوستوں کو اس بات پر حیران ہوتے اور مذاق اڑاتے سنا ہے کہ کراچی کے پڑھے لکھے لوگ کیسے الطاف حسین کو اپنا لیڈر بنا بیٹھے؟ انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ شاید الطاف حسین اور ایم کیو ایم شروع دن سے پاکستان مخالف مافیا تھے. حالانکہ یہ وطن سے شدید محبت کرنے والے متوسط طبقے کے لوگوں کی جماعت تھی جسے مسلسل استحصال، سازشوں اور نیت کے فتور نے تباہ کر ڈالا. الطاف حسین کی حالیہ ویڈیوز پر ٹھٹھا لگانے والے آج یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی وہ پڑھا لکھا لیڈر تھا جس کی حق پرستی اور قوت بیان کبھی مثالی سمجھے جاتے تھے. ذوالفقار علی بھٹو کے سوا زور خطابت میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا. جس طرح کل بنگالی دبائے گئے تھے اور آج بلوچ کچلے جا رہے ہیں. اسی طرح ایک وقت تھا جب پاکستان کی بنیادوں میں اپنا خون دینے والے مہاجروں کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک ہوا. کوٹہ سسٹم کے نام پر میرٹ کا قتل عام ہوا اور قلم سے محبت رکھنے والے مہاجروں کو ڈرپوک کہہ کہہ کر بندوق اٹھانے پر مجبور کیا گیا. ایسے میں الطاف حسین وہ نام تھا جس نے قیادت کی باگ سنبھالی. ایک جانب اس نے حقوق دلانے کی جدوجہد کی جس میں اسے جزوی کامیابی حاصل ہوئی تو دوسری طرف اس نے بندوق کا جواب بندوق سے دیا، جو مجھ سمیت کچھ لوگوں کی نظر میں غلط اور کچھ کی نظر میں ناگزیر تھا. یہ اور بات کہ مافیاؤں سے مقابلہ کرتے کرتے یہ جماعت خود بھی مافیا سی لگنے لگی.
الطاف حسین کے بدلتے خیالات و شخصیت سے شدید نظریاتی اختلاف کے سبب میں نے آج سے کوئی پندرہ سولہ برس قبل خود کو اسوقت الگ کرلیا تھا جب کراچی پریس کلب میں الطاف حسین کے وکلاء برادری سے ٹیلیفونک خطاب کی میں نے میزبانی (ھوسٹ/ کمپیئرنگ) کی تھی. اس کے باوجود میں اپنے شہر کے لوگوں کی الطاف حسین سے والہانہ محبت کی وجوہات کو سمجھتا ہوں. بہرحال بات کہاں سے کہاں نکل گئی؟ اصل بات فقط اتنی تھی کہ یہ ویڈیو جس میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین تقریر کررہے ہیں اور اسوقت کے وزیر اعظم نواز شریف کا استقبال کررہے ہیں. اس ویڈیو سے کراچی سے باہر بسنے والو کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کیوں الطاف حسین کو کراچی کی عوام نے اپنا قائد بنایا تھا. 
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: گزارش ہے کہ سیاسی اختلاف کو تہذیب گفتگو پر اثر انداز نہ ہونے دیں. اخلاق سے گرے ہوئے کسی بھی کمنٹ کو ڈیلیٹ کردیا جائے گا)

رشتہ نبھانے کے دو بڑے فلسفے


رشتہ نبھانے کے دو بڑے فلسفے



۔
شادی کے بعد محبت اور رشتہ نبھانے کے دو بڑے فلسفے ہیں۔ پہلا فلسفہ بتاتا ہے کہ محبت ایک دوسرے کو اپنانے کیساتھ ساتھ ایک دوسرے کیلئے خود کو بدلنے کا بھی نام ہے۔ دوسرا فلسفہ اس کے برعکس دعوی کرتا ہے کہ محبت تو بس ایک دوسرے کو اسی طرح اپنائے رکھنے کا نام ہے جس طرح وہ شادی سے قبل تھے۔ گویا پہلا فلسفہ محبوب کی خوشی اور ایک دوسرے سے نباہ کیلئے اپنی عادات و مزاج میں مطابقت پیدا کرنا سیکھاتا ہے۔ جس میں کوشش دونوں جانب سے ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کسی کیلئے اپنی فطرت و خصلت کو بدلنا ممکن نہیں۔ نہ ہی اپنے تشخص کو مکمل گنوا بیٹھنا کوئی عقلمندی کہلا سکتی ہے۔ البتہ اس پہلے فلسفے کے حساب سے اپنی عادات و اطوار کو یا اپنے مزاج و پسند کو کسی حد تک محبوب کی چاہ کے مطابق کرلینا شادی شدہ بندھن کی مضبوطی اور محبت کے دوام کی بڑی علامت ہے۔ 
۔
دوسری جانب دوسرا فلسفہ اپنے محبوب و ہمسفر کیلئے کسی ایسی قربانی دینے کو یا رشتہ نبھانے کیلئے خود کو بدلنے کی کوشش کو حماقت سے تعبیر کرتا یے۔ اپنی آزادی و اختیار پر قدغن سمجھتا ہے۔ اس کیلئے محبت کی توہین ہے کہ محبوب کی خوشی کیلئے خود کو بدلا جائے۔ یہ دوسرا فلسفہ رومانوی فلموں کا فلسفہ ہے جو نوجوان اذہان بلخصوص لڑکیوں کو بہت جاذب محسوس ہوتا ہے۔ مگر حقیقت میں کامیاب و پریکٹکل فلسفہ وہی پہلا ہے جہاں کوئی جوڑا ایک دوسرے کی پسند و ترغیبات کو مدنظر رکھ کر خود کو تھوڑا تھوڑا ایک دوسرے کی مرضی میں ڈھال لیتا ہے۔ یہی دوطرفہ کوشش کامیاب رشتے کی کلید بھی ہے اور محبت کی سچی تعریف بھی۔ یہ اور بات کہ محبت اگر کسی کیس میں عشق بن جائے تو غیرفطری شدت اختیار کرلیتی ہے۔ عشق چونکہ اکثر یکطرفہ ہوتا ہے اسلئے اس میں محبوب کیلئے خود کو ڈھالنا بھی یکطرفہ ہوجاتا ہے۔ بقول شاعر
۔
رانجھا رانجھا کر دی نی میں، آپے رانجھا ہوئی 
سدو نی مینو دھیدو رانجھا، ہیر نہ آکھو کوئی
۔
====عظیم نامہ====

انسانی ادراک پانچ نمائندہ حسیات


انسانی ادراک پانچ نمائندہ حسیات



انسانی ادراک پانچ نمائندہ حسیات میں سے کچھ یا ان پانچوں کے اجماع سے تشکیل پاتا ہے۔ گویا کسی شے کے اچھے یا برے محسوس ہونے کا جسمانی ادراک ہمیں ان ہی حسیات سے حاصل ہوتا ہے۔ جو حقائق ان حسیات سے پرے ہیں وہ دلائل و براہین سے مانے تو جاسکتے ہیں مگر جسمانی ادراک کے احاطے میں نہیں آسکتے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ قران حکیم میں بھی عالم غیب کی کچھ خبریں دیتے ہوئے رب کریم نے یہ بتادیا کہ ہمارا ادراک دنیا میں اس کا تجربہ پانے سے عاجز ہے۔ جیسے ارشاد ہوا 'وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ' (اور تمہیں کیا ادراک کہ القارعتہ کیا ہے؟) 
۔
یہ پانچ نمائندہ حسیات کچھ یوں ہیں: دیکھنا، سننا، چھونا، چکھنا اور سونگھنا۔ اگر آپ کسی گھر، آفس یا مقام کو دیگر انسانوں کیلئے جاذب ترین بنانا چاہتے ہیں تو ان ہی پانچ پہلووں یعنی پانچ حسیات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں اگر ایک گھر دیکھنے میں نفاست سے سجا ہے، سننے میں دھیمی پرسکون آواز سناتا ہے، چھونے میں صاف و گداز معلوم ہوتا ہے، چکھنے کیلئے خوش ذائقہ پکوان یا میوے وغیرہ رکھتا ہے اور سونگھنے کیلئے مدہم بھینی خوشبو سے مہک رہا ہے تو اس گھر میں داخل ہونے والا ہر شخص اس کے سحر و حسن میں گرفتار ہوجائے گا۔ اس اہتمام کا خاص بیان ہمیں جنت کے بارے میں ملتا ہے جہاں بقیہ اور ان گنت زاویوں کیساتھ ساتھ ان پانچوں حسیات کی جمالیاتی تکمیل بھی ہوگی۔ یہی کلیہ انسان کی اپنی ظاہری شخصیت کی جاذبیت کیلئے بھی منطبق ہوسکتا ہے۔ گو لازم نہیں کہ پانچوں ہی کا اہتمام ہو۔ مگر پانچ میں سے جتنی حسیات ممکن ہوں ان کا اہتمام کرنا آپ کی مجموعی شخصیت کو چار چاند لگا سکتا ہے۔ بعض افراد یہ گمان کربیٹھتے ہیں کہ شائد ان کا مہنگا لباس پہننا یا خوبصورت نظر آنا ہی کافی ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کچھ افراد خوبصورت نظر آنے کے باوجود کسی اور حسیاتی پہلو کو بری طرح نظر انداز کر بیٹھتے ہیں اور ساری جاذبیت پل میں رفوچکر ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر ان کے پاس سے ناگوار پسینے کی بدبو آتی ہے یا وہ ایسے اکھڑ لہجے میں مخاطب ہوتے ہیں جو سماعتوں پر تازیانہ بن کر برستا ہے۔ اب آپ چاہے دیکھنے میں پرنس چارمنگ یا اسنو وائٹ ہی کیوں نہ لگیں؟ آپ کی ظاہری شخصیت کبھی بھی ملنے والے پر اچھا تاثر قائم نہیں کرسکتی.
۔
====عظیم نامہ====
۔ 
(نوٹ: ایک پروقار شخصیت کیلئے ذہانت، اعتماد، علم وغیرہ بھی اہم ترین ہیں۔ گو تحریر میں صرف انسان کے ظاہری پہلووں کو موضوع بنایا گیا ہے)

کتابیں پڑھنے کے شوق پر فیس بک کے اثرات



کتابیں پڑھنے کے شوق پر فیس بک کے اثرات 



.
ایک مقبول عام رائے یہ ہے کہ سوشل میڈیا اور بلخصوص فیس بک کے بڑھتے رجحان نے لوگوں کو کتاب سے دور کردیا ہے. یہ رائے کسی حد تک درست بھی ہے مگر پورا سچ نہیں ہے. یہ درست ہے کہ واقعی سوشل میڈیا کے اس سیلاب نے ہمارے وقت پر کچھ اس طرح قبضہ کرلیا ہے کہ مجھ سمیت بہت سے کتب بینی کے شوقین افراد کا کتاب سے رشتہ کمزور ہوا ہے. مگر یہ بھی سچ ہے کہ اسی فیس بک پر موجود تحریروں کی بدولت بیشمار لوگوں میں مطالعہ کی ہمت و شوق پیدا ہوا ہے. اب وہ افراد بھی کتابیں پڑھ رہے ہیں جو فیس بک پر جڑنے سے قبل کورس کی کتابوں کے سوا کوئی کتاب نہیں پڑھ سکتے تھے. نہ ہی انہیں اس کا شوق تھا نہ ہی ہمت. فیس بک پر موجود نت نئے موضوعات پر تحریریں، اردو بلاگز اور پی-ڈی-ایف ڈیجیٹل کتابوں نے انہیں یہ حوصلہ دیا ہے کہ اگر وہ ایک طویل تحریر شوق سے پڑھ سکتے ہیں تو پھر یقیناً پوری کتاب بھی پڑھ سکتے ہیں. انہیں یہ بات سمجھ آئی ہے کہ جاسوسی ناول اور رومانوی ڈائجسٹ کے علاوہ سنجیدہ موضوعات بھی دلچسپ ہوسکتے ہیں. اس کا ایک بڑا ثبوت ملک بھر میں ہونے والے وہ کتابی میلے ہیں جنہیں منتظمین کے بقول ماضی سے کہیں زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی. نوجوانوں سے لے کر ادھیڑ عمر تک کے مرد و زن ان میلوں میں امڈ آئے اور کتابوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی. 
۔
بات اتنی ہی نہیں ہے کہ لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق بیدار ہورہا ہے بلکہ اس زریعے سے سینکڑوں ہزاروں نئے لکھاری بھی وجود میں آئے ہیں۔ جن میں سے کئی کی تو کتب بھی شائع ہوگئی ہیں۔ ان لکھاریوں کی اکثریت سوشل میڈیا کے اس انقلاب سے قبل خود بھی اپنے بارے میں یہ امر نہیں جانتی تھی کہ وہ اچھا لکھ سکتے ہیں۔ ان ہی تحریروں سے اردو زبان کا فروغ بھی ملک بھر اور بیرون ممالک میں اردو سمجھنے والو کیلئے ہوا ہے۔ ورنہ مغربی تعلیم یافتہ طبقے کی ایک تعداد تو اردو پڑھنا یا لکھنا ہی بھول گئے تھے اور صرف اردو بولنے سننے پر گزارہ تھا۔ فرقہ واریت کی وہ دیوار جو مذہبی حلقوں نے اپنے اپنے مسالک پر یہ کہہ کر لگا رکھی تھی کہ مخالف مسلک کی کتب پڑھنا ناجائز ہے۔ منافرت کی وہ دیوار فیس بک کی دیوار کی تاب نہ لاسکی۔ یہاں قاری ہر مسلک سے وابستہ افراد کو پڑھنے پر مجبور ہے جس سے عدم برداشت کم ہوئی ہے اور بہتر موقف اختیار کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ مدرسے اور کالج کا جو فرق دینی و دنیاوی تعلیم کی تفریق پر قائم کیا گیا تھا وہ بھی اس ریلے میں بہہ گیا ہے۔ اب مدرسے کا ایک طالبعلم کسی یونیورسٹی کے پروفیسر سے گپ لگاتا ہے تو کالج کا طالبعلم کسی مفتی و عالم سے تالی مار کر گفتگو کرلیتا ہے۔ عوام الناس جو اب تک پرنٹ اور الیکڑونک میڈیا کی ذہنی غلام بنی رہی ہے۔ آج اسے فیس بک، ٹوئیٹر جیسے سوشل میڈیا کے وہ ذرائع میسر آئے ہیں جن سے وہ اپنی رائے کا موثر طور پر اظہار کرسکیں۔ یہ تحریری اظہار اتنا طاقتور ہے کہ انقلابی تحریک بن کر کئی ممالک سے جابر حکمرانوں کا تختہ پلٹ چکا ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج ملک کا مین اسٹریم میڈیا بھی کئی معاملات میں سوشل میڈیا سے ڈکٹیشن لینے پر مجبور ہے۔ فیس بک کا اعتدال سے ہٹ کر یا غلط استعمال نقصان دہ ضرور ہے مگر ہماری رائے میں اس کے ان گنت فوائد ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
۔
====عظیم نامہ====

وزیراعظم غریب عوام میں گھل مل گئے




وزیراعظم غریب عوام میں گھل مل گئے !


۔
یہ کوئی راز نہیں کہ آج مسلم معاشرے میں جس سدھار کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ان کے "معاملات" ہیں۔ یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں "عبادات" جیسے نماز، روزہ، حج، صدقات سب کا اہتمام قابل قدر درجے میں کیا جاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود ایک دوسرے سے بحیثیت شوہر یا بیوی، باپ یا ماں، بیٹا یا بیٹی، نوکری پیشہ یا کاروباری، مزدور یا سیٹھ ۔۔۔ سب حیثیتوں میں ہمارے مجموعی معاملات اسلامی اقدار سے بہت دور محسوس ہوتے ہیں۔ اسی ضرورت کو محسوس کرکے آج دانشوروں سے لے کر مسجد کے صاحبان منبر تک کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ وہ اپنا فوکس عبادات سے زیادہ معاملات کے سدھار پر مرکوز کریں۔ میرا اپنا احساس یہ ہے کہ اب مساجد کے منبر سے فی الواقع حقوق العباد اور معاملات کے سدھار کی بات ماضی سے زیادہ کی جارہی ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشرتی سطح پر کمتر درجے میں بھی سدھار نہیں پیدا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ہر صاحب شعور کو یہ سوچنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے؟
۔
ہماری احقر رائے میں اس کا ایک بڑا سبب روایتی اصطلاحات کے ساتھ روایتی طرز خطابت ہے جسکی وجہ سے بات کی اثر انگیزی زائل ہوجاتی ہے۔ ہماری اس بات کو سمجھنے کیلئے ایک مثال پر غور کریں۔ ہم بچپن سے ٹی وی پر ایک مخصوص الفاظ کی رپورٹنگ سنتے آرہے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ "پاک فوج کی توپوں نے دشمن کو 'منہ توڑ'جواب دیا اور دو چوکیاں تباہ کردی" ۔۔۔ یا پھر بتایا جائے گا کہ "وزیر اعظم نے فلاں متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور غریب عوام میں 'گھل مل' گئے" وغیرہ۔ اب اس طرح کی جملے بازی یا رپورٹنگ اتنی کثرت سے کی گئی ہے کہ اپنی اثر انگیزی کھو بیٹھی ہے۔ یہ گھسے پٹے الفاظ ہماری سماعتوں پر گرتے تو ضرور ہے مگر قلب و ذہن تک اپنا رستہ نہیں بنا پاتے۔ ٹھیک اسی طرح ہمارے یہاں معاملات کے سدھار کا درس تو دیا جارہا ہے مگر ایسے روایتی الفاظ، مخصوص طرز خطابت اور بار بار دہرائی گئی ان احادیث کیساتھ جنہیں سن کے سامعین تقدس سے گردن تو جھکا لیتے ہیں مگر اپنی زندگی کو اس سے relate نہیں کرسکتے یعنی مطابقت قائم نہیں کرپاتے۔ اگر ہم واقعی لوگوں کی انفرادی و معاشرتی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ وہ انداز و الفاظ اختیار کریں جو مخاطبین کی زندگیوں سے میل کھاتا ہو۔ ایسے حالات حاظرہ، آپ بیتیاں اور تاریخی واقعات سنائے جائیں جو سننے والے کی توجہ پوری طرح جذب کرلیں اور انہیں یہ موقع فراہم کریں کہ وہ ان واقعات کے آئینے میں اپنے معاملات یا اخلاقی شخصیت کا عکس دیکھ سکیں۔ ان مسائل کا زکر ہو جو ہماری زندگیوں سے براہ راست متعلق ہیں جیسے ٹریفک قوانین کی پابندی، پان گٹکے وغیرہ سے پرہیز یا مہذب مکالمے کی اہمیت وغیرہ۔ ہم یہ قطعی نہیں کہہ رہے کہ بیان کرتے وقت آیات و احادیث نہ سنائی جائیں۔ عرض فقط اتنی ہے کہ روایتی انداز و الفاظ سے اجتناب برتا جائے تاکہ الفاظ صرف الفاظ بن کر واہ واہ میں نہ ڈھلیں بلکہ اخلاق بن کر کردار میں موجزن ہوں۔
۔
====عظیم نامہ====

احساس ندامت



احساس ندامت



۔
اپنے کسی گناہ، غلطی یا جرم پر احساس ندامت کا ہونا بھی ایک مومن کیلئے بہت بڑی نعمت ہے۔ بلاشبہ اپنے نفس کی اصلاح وہی کرسکتا ہے یا اپنے گناہ سے تائب وہی ہوسکتا ہے جو اپنی کی گئی غلطی کو غلطی مان کر اس پر پر نادم ہو یعنی اپنے اندر احساس ندامت رکھتا ہو۔ اب جو غلط کو غلط ہی نہ سمجھے یا جو اپنی غلطی کی تاویلیں پیش کرکے اس کا دفاع کرے تو ایسے شخص سے کبھی توبہ کی امید بھی نہیں کی جاسکتی۔ احساس ندامت انسان کے قلب میں بوجھ بن کر ضمیر کو ملامت کرنے پر اکساتا ہے۔اسے گناہ کا احساس دلاتا ہے۔ اسے کچوکے لگاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بلآخر اپنی غلطی سے تائب ہو اور واپس رجوع کرلے۔
۔
لیکن کسی دوسرے انسان کو غلط طور پر کسی احساس ندامت کی مستقل اذیت میں مبتلا کردینا ایک قبیح عمل ہے۔ پھر چاہے آپ کی نیت دوسرے کو نیکی کی جانب بلانے کی ہی کیوں نہ ہو؟ آپ کسی کو اس داخلی عذاب میں مبتلا نہیں کرسکتے۔ میرا اشارہ ان دینی بہن بھائیو کی جانب ہے جو اپنے مخاطبین کو کبھی جہنم کا ڈراوا دے کر اور کبھی نفل کام کو فرض بتا کر کسی اچھائی کی جانب بلاتے ہیں۔ ہمیں یہ اختیار ہرگز نہیں ہے کہ ہم اپنی مرضی سے دین کو تبدیل کردیں۔ اور دین کو تبدیل کردینا یہی نہیں کہ آیات و احادیث کے قطعی پیغام کو بدلنے کی کوشش ہو بلکہ دین کو بدلنا یہ بھی ہے کہ آپ کسی فرض کو نفل یا نفل عمل کو فرض کی طرح پیش کرنے لگیں۔ مثال کے طور پر فرض رکعات کے علاوہ سنتوں یا نوافل کا اہتمام مستحب تو ضرور ہے مگر فرض نہیں ہے۔ لہذا کسی کا اپنے مخاطب کو یہ خوف دلانا کہ تم نے نماز میں سنتوں یا نوافل کا اہتمام نہ کیا تو جہنم میں جاو گے یا تراویح کا اہتمام نہ کیا تو روزوں کا کوئی فائدہ نہیں یا فلاں اذکار نہیں پڑھے تو گناہ کا وبال تمہارے سر ہوگا۔ ایک نہایت غلط روش ہے۔ اس طرح آپ دوسرے انسان کو مستقل احساس جرم و ندامت میں ڈالے رکھتے ہیں جس سے بعض اوقات وہ دین سے متنفر ہوجاتا ہے اور کبھی اپنی بخشش کی امید ہی چھوڑ بیٹھتا ہے۔ خدارا اپنا تقوی دوسرے پر فتوی بناکر مسلط نہ کریں۔ کسی نفل عمل کی چاہے کتنی ہی فضیلت کیوں نہ ہو؟ اسے فرض جیسا بنا کر پیش کرنا مجرمانہ فعل ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ اہل علم دانستہ دینی احکام میں موجود رعایتوں کو اس خدشے کے سبب بیان ہی نہیں کرتے کہ عوام انہیں معمول نہ بنالیں جیسے حالت سفر میں نماز کو قصر کرنا یا ظہر عصر، مغرب عشاء کو ملا کر ادا کرنا وغیرہ. حالانکہ آپ معمول نہ بنانے کی مخاطب کو تنبیہ تو کرسکتے ہیں مگر کسی موجود آسانی کو چھپا نہیں سکتے.
۔
====عظیم نامہ====