Sunday, 3 December 2017

آنے والا دور




آنے والا دور ..


.
اس دنیا میں دو طرح کے علوم موجود ہیں. پہلے مادی علوم اور دوسرے نفسی علوم. جس دور میں ہم زندہ ہیں، یہ مادی علوم کے عروج کا دور ہے. نیوٹن کی کلاسیکل فزکس سے آئین اسٹائن کی ماڈرن فزکس تک، ایک انقلاب ہے جو ان مادی علوم میں برپا ہوا ہے. جس کے نتیجے میں انسان نے وہ وہ ایجادات کی ہیں جو محیر العقل ہیں. اس کے برعکس نفس سے متعلق علوم بدقسمتی سے کوئی مربوط صورت اختیار نہیں کرسکے. بہت سے افراد مختلف نفسی علوم کے ماہرین تصور کیئے جاتے ہیں مگر ان میں سے اکثر خود کو کبھی پراسراریت اور کبھی مذہبی چوغے میں ملبوس رکھتے ہیں. گویا ان نفسی علوم کو باقاعدہ اکیڈمک اسٹرکچر میں لانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی. نتیجہ یہ کہ ایسے ڈھونگی افراد کو راستہ ملا جو لوگوں کو بیوقوف بناکر اپنا الو سیدھا کرنا جانتے ہیں. سائیکولوجی ایک ایسا اکیڈمک مضمون بنا ہے جس میں علمی و سائنسی سطح پر خاصی پیش رفت ہوئی ہے. گو دیگر سائنسز کے مقابلے میں سائیکولوجی کو 'نیو بورن بے بی' یا نومولود تصور کیا جاتا ہے. 
.
اسی طرح مغرب میں 'میٹا فزکس' یا 'پیرا نارمل ایکٹویٹیز' پر سائنسی طرز پر تحقیق کی کوشش کی جارہی ہے. پھر چاہے وہ 'ریکی' کے ذریعے نفسی علاج ہو، 'چی' کی طاقت کا استعمال ہو، 'ریموٹ ویوینگ' کے ذریعے آنکھیں بند کرکے دیکھنا ہو، یا 'میڈی ٹیشن' کے ذریعے اپنے لاشعور سے ملاقات ہو. نجی سطح پر ان پر کام جاری ہے. گو مادی یعنی 'فزیکل سائنسز' کے وہ علمبردار جو انسانی وجود کے پوٹنشیل کو فقط معلوم مادی اصولوں میں مقید رکھنا چاہتے ہیں، ان کے نزدیک یہ تمام دیگر علوم یا تحقیق 'سوڈو سائنسز' یعنی جعلی سائنس میں شمار ہوتی ہیں. ان تجربات میں شائد سب سے زیادہ کامیابی 'ہپناسس' یا 'ہپناٹزم' کے سبجیکٹس کو حاصل ہوئی ہے. اب نہ صرف ہپناسس یونیورسٹیوں میں پڑھایا جارہا ہے بلکہ اسے نفسی علاج اور برین پراگرمنگ کیلئے باقاعدہ اپنایا جاچکا ہے. اس صدی میں 'کوانٹم مکینکس' کی آمد نے جہاں ماڈرن فزکس یعنی 'تھیوری آف ریلیٹویٹی' کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں. وہاں یہ امکان بھی پیدا کردیا ہے کہ مادی علوم اور نفسی علوم میں آج نہیں تو کل ایک ایسا پل قائم ہوسکے جسے سائنس کی تائید حاصل ہو. اگر آج کا دور مادی علوم کے عروج کا دور ہے تو کیا معلوم آنے والا دور نفسی علوم کی بلندیوں کا ہو؟ 
.
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی ؟
.
====عظیم نامہ====

تاریخ اسلام اور صحابہ اکرام رضوان اللہ عنہم اجمعین




تاریخ اسلام اور تقدیس صحابہ اکرام رضوان اللہ عنہم اجمعین

.
پچھلے کئی سالوں میں سوشل میڈیا پر میں نے ان گنت متفرق موضوعات پر تحریریں لکھی ہیں. دین اسلام سے لے کر تقابل ادیان تک، فلسفہ سے لے کر سائنسی موضوعات تک، سیاست سے لے کر سماجیات تک، حالات حاضرہ سے لے کر ادب تک، الحاد سے لے کر انکار حدیث تک، ملکی سلامتی سے لے کر معروف شخصیات تک - ہر ہر موضوع پر میں کافی کچھ لکھتا آیا ہوں. لیکن وصال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی تاریخ کو میں نے کبھی شاذ ہی موضوع بنایا ہو. وجہ ؟ وجہ یہ کہ اس تاریخ میں کئی نامور شخصیات اور کئی معروف واقعات کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قریب قریب ناممکن ہے. اگر بات فقط انسانی تاریخ تک محدود ہوتی تو میں پھر قلم اٹھاتے ہوئے اتنا نہ جھجھکتا لیکن یہاں معاملہ ان شخصیات و واقعات کا ہے جن سے لوگوں کی وابستگی دین کے حوالے سے ہے. گویا اول تو کسی حتمی نتیجے پرپہنچنا یعنی اس کی صحت پر سو فیصد مطمئن ہونا ممکن نہیں اور دوسرا میرا قائم کردہ یہ نتیجہ میرے ساتھی مسلمان کے دل کو چھلنی کرسکتا ہے. جی ہاں میرا اشارہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی جانب ہے. جن سے قلبی تعلق ہر کلمہ گو کو نسبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ہوا کرتا ہے. ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص خود کو مسلمان بھی کہے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ترین مرتبت کو اپنے دل میں بھی محسوس نہ کرے. فریقین میں مسئلہ اس بات کا نہیں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی جائے یا نہیں؟ جھگڑا اس بات کا ہے کہ فلاں شخص صحابی ہے بھی یا نہیں؟ گویا جب ایک شخص کسی مشہور تاریخی شخصیت کی مخالفت میں بولتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس کو صحابی کے درجے پر فائز ہی نہیں سمجھتا. اس کے نزدیک وہ شخصیت یا تو کبھی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں شامل ہی نہ تھی یا اگر تھی بھی تو بعد میں ارتداد اختیار کرنے کے سبب شامل نہ رہی. اب اپنے اس دعوے یا نتیجے میں وہ جزوی یا کلی طور پر غلط تو ہوسکتا ہے مگر اس کی نیت کو غلط سمجھنا شائد درست نہ ہو. 
.
میں ہاتھ جوڑ کر اپنے قارئین سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ جذباتی ہوئے بناء ٹھنڈے دماغ سے اپر درج بات پر غور کریں. یہ بھی سوچیں کہ صحابی ہوتا کون ہے؟ اس تعریف میں بھی اہل علم نے اختلاف کیا ہے. کچھ کے نزدیک حالت اسلام میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو فقط دیکھنا ہی صحابی کہلانے کیلئے کافی ہے، کچھ کے نزدیک ملاقات شرط ہے اور کچھ کے نزدیک ایک عرصے تک بارگاہ رسول میں تربیت صحابی کہلانے کے لئے لازمی ہے. یہ عرصہ کتنا طویل ہو؟ اس میں بھی مختلف آراء ممکن ہیں. پھر ایسی امثال بھی بکثرت موجود ہیں جنہوں نے حیات رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اسلام قبول کیا مگر وصال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ارتداد اختیار کرلیا. واقعہ کربلا کی مثال لیجیئے. مظلومی اہل البیت اور شہادت حسین رضی اللہ عنہ پر پوری امت کا اجماع ہے. مگر اس افسوسناک واقعہ کے ذمہ دار کیا حضرت امیر معاویہ تھے یا نہیں ؟ یہ وہ بات ہے جس پر اہل تشیع تو کیا ؟ اہل السنہ میں بھی آپ کو لوگ اختلاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. پہلا موقف کچھ تاریخی شواہد کو پیش کرکے اس اندوہناک واقعہ کا ذمہ دار حضرت امیر معاویہ کو قرار دیتے ہیں. جب کے دوسرا موقف کچھ اور تاریخی اقوال و آثار پیش کرکے حضرت امیر معاویہ کو بے گناہ قرار دیتا ہے. یہی متفرق موقف ایک کے نزدیک انہیں صحابی بناتے ہیں اور دوسرے کے نزدیک غیر صحابی. ذرا تعصب کی پٹی اتار کردیکھیں تو دونوں کی موافقت و مخالفت محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ہے. دونوں موقف رکھنے والو سے کچھ اس انداز میں سوال پوچھ کر دیکھیئے کہ واقعہ کربلا کا جو بھی ذمہ دار تھا، کیا آپ کے نزدیک وہ دشمن اسلام تھا؟ تو بناء کسی تامل کے آپ کو جواب ہاں میں ملے گا. گویا حسین کا مخالف کوئی نہیں ہے، آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت دونوں کو ہے، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت دونوں کو ہے. بس تاریخی تحقیق کے نتیجے الگ الگ نگل آئے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں موقف کی حمایت میں آپ کو تاریخی دلائل میسر ہیں. ایک کے نزدیک ایک رائے زیادہ مظبوط دلائل پر ہے اور دوسرے کے نزدیک دوسری رائے. مگر دلائل سے خالی کوئی بھی نہیں. یہ تاریخی ریکارڈ سینکڑوں سال بعد مرتب کیا گیا ہے، اس پر زمانے کے سرد و گرم گزرے ہیں اور ان کی تحقیق احادیث صحیحہ کے اسلوب پر نہیں کی گئی ہے. چانچہ اس سے حتمی نتائج برآمد کرنا احقر کے نزدیک مناسب نہیں. ہماری خواہش یہی ہے کہ ان واقعات کو اول تو ضرورت سے زیادہ موضوع ہی نہیں بنانا چاہیئے، دوئم یہ کہ اگر کوئی رائے کسی شخصیت کی مخالفت میں آپ قائم بھی کرتے ہیں تو لازم ہے کہ اسے انتہائی محتاط اور شائستہ انداز میں درج کریں. لعن طعن یا گالی و تشنیع کسی صورت جائز نہیں اور ایسا کرنے والے پر فوری قانونی کاروائی ہونی چاہیئے. سوئم یہ ملحوظ رکھیں کہ آپ کی رائے میں بھی غلطی کا امکان ہے. 
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: یہ پوسٹ بہت ہمت کرکے لکھ رہا ہوں. یہ امید رکھ کر کہ میرے بھائی بہن میری نیت پر شک نہیں کریں گے. ناراض ہوئے بناء، بات سے شر برآمد کرنے کی بجائے اس میں خیر ڈھونڈھنا پسند کریں گے)

ایک بادشاہ


 ایک بادشاہ



کہتے ہیں ایک بادشاہ کو شکار کا شوق تھا. شکار کے وقت وہ اپنے ساتھ صرف اپنے قابل بھروسہ وزیر کو ساتھ رکھتا. یہ وزیر بڑا بردبار اور سچا مومن تھا. ایک بار شکار کے دوران، بادشاہ کا ہاتھ بری طرح زخمی ہوگیا. مشکل سے شہر واپس پہنچے تو زخم میں زہر پھیلنے کی وجہ سے بادشاہ کی ایک انگلی کاٹنی پڑی. بادشاہ اسی رنج میں بیٹھا تھا کہ وزیر نے اطمینان سے تسلی دی کہ "کوئی بات نہیں، ضرور اس میں کوئی خیر ہے." شاہ کو یہ سن کر شدید غصہ آیا کہ بجائے افسوس کرنے کے یہ وزیر میری انگلی کٹ جانے کو خیر سے تعبیر کر رہا ہے. اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وزیر کو گھسیٹ کر قید خانے میں ڈال دیا جائے. وزیر نے جب یہ حکم سنا تو اس حکم پر بھی اس نے وہی جملہ کہا "کوئی بات نہیں، ضرور اس میں کوئی خیر ہے." 
اس واقعہ کو ایک مہینہ گزر گیا. بادشاہ پھر شکار کیلئے نکلا. خدا کا کرنا کچھ ایسا ہوا کہ وہ بھٹک کر جنگلیوں کے ایک قبیلے جا پہنچا جہاں اسے قیدی بنالیا گیا. معلوم ہوا کہ یہ جنگلی آج ہی کی رات اپنے دیوتا کے سامنے انسان کی بلی چڑھاتے ہیں یعنی قربانی دیتے ہیں. بادشاہ کو ذبح کرنے کے لئے دیوتا کے سامنے لٹا دیا گیا. بادشاہ کے چاروں طرف جنگلی مدہوش ہو کر ناچنے لگے. موت بادشاہ کے بلکل نزدیک آپہنچی. قریب تھا کہ تلوار سے اس کا سر کاٹ دیا جاتا کہ اچانک کوئی چیخا کہ "ارے اس آدمی کی قربانی نہیں ہوسکتی ! اسکی تو ایک انگلی ہی نہیں ہے لہٰذا اس میں نقص ہے اور ہم دیوتا کو نقص والی قربانی نہیں دے سکتے" یہ سن کر سب جنگلی رک گئے اور بادشاہ کو یہ کہہ کر آزاد کردیا کہ تو ہمارے کسی کام کا نہیں. بادشاہ بھاگم بھاگ اپنے دربار واپس پہنچا اور وزیر کی فوری رہائی کا حکم دیا. جب وزیر سامنے آیا تو اسے گلے لگا کر بتایا کہ کس طرح اس انگلی کا کٹ جانا خیر ثابت ہوا. کچھ توقف کے بعد بادشاہ نے وزیر کو پھر مخاطب کیا اور پوچھا کہ چلو یہ تو ثابت ہوگیا کہ میری انگلی کا کٹنا میرے لئے خیر تھا مگر جب تمہیں قید خانے میں ڈالا گیا، اسوقت بھی تم نے یہی کہا تھا کہ ضرور اس میں کوئی خیر ہے. وزیر نے مسکرا کر جواب دیا کہ "ہاں بلکل اور اس کا بھی خیر ہونا واقعے سے ثابت ہوگیا. اگر آپ مجھے قید خانے میں نہ ڈالتے تو پھر میں آپ کے ساتھ ہوتا اور چونکہ مجھ میں کوئی جسمانی نقص نہیں تھا، اسلئے جنگلی مجھے اپنے دیوتا کے سامنے ذبح کردیتے"
.
دوستو ، اس سبق آموز کہاوت سے آپ کو بتانا یہ مقصود ہے کہ رب کے ہر کام میں اس کی کوئی برتر مصلحت اور حکمت ضرور پنہاں ہوتی ہے. پھر چاہے وہ کام آپ کو اپنے لئے سزا نظر آتا ہو یا امتحان. ہمیں توکل، صبر اور شکرگزاری کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیئے. جس طرح آپ کے موبائل یا کمپیوٹر پر موجود یہ تصویر لاکھوں کروڑوں 'پکسلز' (Pixels) سے مل کر بنی ہے. ویسے ہی یہ کائنات اربووں کھربوں پکسلز یعنی واقعات سے مل کر چل رہی ہے. انسان فقط ایک دو پکسلز کو دیکھ پاتا ہے لہٰذا وہ کبھی بھی حقیقت کا مکمل ادرک نہیں کرسکتا، ساری تصویر یا پوری حقیقت یا تمام پکسلز صرف قادر المطلق کے علم میں ہیں. ہمیں بس اسی پر بھروسہ ہے. 
.
====عظیم نامہ====

Sunday, 26 November 2017

نیا دورنیا انداز


نیا دورنیا انداز 



دور حاضر میں جدید ذہن نے مذہبی تعبیرات سے جان چھڑانی تو ضرور چاہی ہے مگرملتی جلتی تعبیرات نئے ناموں سے ایجاد بھی کرڈالی ہیں. گویا آج کے انسان کو لفظ 'مذہب' سے تو ضرور چڑ ہے مگر خودساختہ فلسفوں سے مزین 'آرٹ آف لیونگ' یا 'وے آف لائف' اسے خوب متاثر کرتے ہیں. جس میں عقائد سے لے کر عبادات تک موجود ہیں. اسے لفظ 'خدا' سے تو الرجی ہے مگر 'مدر نیچر' ، 'سپریم انٹیلجنس' یا ' کولیکٹیو کانشئیس نیس' جیسے اصطلاحات اس کی توجہ کھینچ لیتی ہیں. وہ کسی خالق کے لافانی ہونے کا تو انکاری ہے مگر 'لاء آف تھرموڈائنامکس' کے تحت انرجی کو ابدی و ازلی ماننے سے نہیں جھجھکتا. اسے ملائکہ یا شیاطین جنات کا ذکر تو نری جہالت محسوس ہوتے ہیں مگر اپنے اردگرد موجود 'پازیٹو اور نیگٹو انرجیز' پر وہ بڑے بڑے سیمنار منعقد کرتا ہے. اسے نظر کے لگنے یا جادو کے ہونے پر تو ہنسی آتی ہے مگر 'ہپناسس' یا 'ریموٹ ویوینگ' جیسے موضوعات میں خوب دلچسپی ہوتی ہے. اسے نماز، تسبیحات، اعتکاف جیسی عبادات تو وقت کا زیاں لگتی ہیں مگر مختلف طریقوں کی 'میڈیٹشن' یا 'یوگا' خوب دل کو بھاتے ہیں. اسے 'دعا' کا مانگنا تو سراسر حماقت محسوس ہوتا ہے مگر 'لاء آف ایٹریکشن' جیسے فلسفے اسے اتنے پسند ہیں کہ اس پر لکھی کتب کو بیسٹ سیلر بنادیتا ہے. اسے روح کے ہونے پر بات بھی کرنا پسند نہیں مگر کیا 'مائنڈ اور کانشیس نیس' ہمارے دماغ سے الگ رہ کر بھی موجود ہوسکتے ہیں؟ اس پر وہ بات کرنے، سننے اور بعض اوقات ماننے پر بھی تیار ہوجاتا ہے. 
.
زمانے کے انداز بدلے گئے 
نیا دور ہے، ساز بدلے گئے 
.
====عظیم نامہ====

Saturday, 25 November 2017

دین اور میتھمیٹکس


دین اور میتھمیٹکس



اگر میں آپ احباب سے پوچھوں کہ 'چھ منفی چار' کتنے ہوتے ہیں؟ تو آپ سب فوری بتادیں گے کہ "دو" ! .. اگر میں آپ سے پوچھوں کہ اچھا 'دو جمع تین' کتنے ہوتے ہیں؟ تو آپ مل کر پکار اٹھیں گے کہ "پانچ" ! .. اگر میں پوچھوں کہ اچھا اچھا یہ بتایئے کہ 'پانچ ضرب تین' کتنے ہوتے ہیں؟ تو آپ سب کا یہی جواب ہوگا کہ "پندرہ" ! .. گویا آپ سب میتھمیٹکس یعنی حساب کے تسلیم شدہ بنیادی اصولوں جیسے منفی، جمع، ضرب وغیرہ سے واقف ہیں. یہی وجہ ہے کہ آپ سب کا ایک ہی جواب ہے. ان ہی اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر میں آپ کو مشکل سے مشکل حساب کا فارمولہ، سوال یا ایکویشن حل کرنے کو دوں تو مجھے اعتماد ہے کہ اگر آپ اصولوں کو ٹھیک سے اپلائی کریں گے تو آپ سب کا نتیجہ ایک سا برآمد ہوگا. یہ ممکن ہے کہ آپ سب ایک دوسرے سے مختلف میتھڈز یا طریق اپنائیں. کسی کا طریق زیادہ آسان، کسی کا مشکل ہو. کسی کا مختصر اور کسی کا طویل ہو مگر نتیجہ پھر بھی آپ سب کا ایک ہی نکلے گا. وجہ؟ وجہ وہی کہ آپ سب اصولوں میں متفق ہیں. 

.
دین کے بھی کچھ قطعی یعنی حتمی اصول ہیں دوستو. جنہیں اپنا کر جب محققین یا اہل علم تحقیق کرتے ہیں تو تفصیل میں یا میتھڈ میں تو فرق ہوسکتا ہے مگر آخری نتیجے میں فرق نہیں ہوا کرتا. گویا عقائد میں توحید ہو، آخرت ہو، الہامی کتب ہوں، رسول ہوں، تقدیر ہو یا ملائکہ سب محققین ان کے دین میں ہونے کے قائل ہیں. عبادات میں نماز ہو، روزہ ہو، حج ہو، زکات ہو ہر کوئی نمائندہ مسلک یا فرقہ آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو ان کا انکاری ہو. ان عبادات کی تفصیل کا بھی ایک بڑا حصہ ایسا ہوگا جس میں آپ کو ذرا سا بھی اختلاف نظر نہیں آئے گا جیسے نماز میں نماز کی رکعات، سورہ الفاتحہ کی تلاوت، ہر رکعت میں رکوع، سجدوں وغیرہ کی تعداد، پڑھے جانے والے اذکار پر آپ کو پوری امت کا اتفاق نظر آئے گا. وجہ ؟ وجہ وہی کہ تمام ترمسلکی اختلافات کے باوجود کیونکہ اصولوں پر اتفاق ہے اسلئے پوری امت ان 'قطعی' معاملات میں ایک ہی جگہ پر کھڑی نظر آتی ہے. جن مقامات پر آپ کو علماء میں اختلاف نظر آتا ہے وہ اختلاف بھی ان اصولوں سے ملی اجازت کی بناء پر ہوتا ہے. یہ علمی اختلاف ہے جو ہوتا ہے اور ہوتا رہنا چاہیئے تاکہ جمود طاری نہ ہو. مگر دین کا بنیادی ڈھانچہ چودہ سو سال سے جوں کا توں برقرار ہے. گویا بنیادی عقائد کون کون سے ہیں؟ بنیادی عبادات کون کون سی ہیں؟ بنیادی عبادات کی ادائیگی میں لوازم کون کون سے ہیں؟ اس میں آپ کو کوئی اختلاف نہیں ملے گا. 
.
اب ذرا ہماری آغاز میں دی گئی مثال کو ذہن میں رکھیئے اور سوچیئے کہ ایک محقق صاحب اٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چھ منفی چار دو نہیں بلکہ تین ہوتے ہیں. دو جمع تین پانچ نہیں بلکہ نو ہوتے ہیں اور پانچ ضرب تین پندرہ نہیں بلکہ سترہ ہوتے ہیں. اب یہ صاحب ظاہر ہے کہ جس بھی فارمولے، سوال یا ایکویشن کو حل کرنے کا بیڑہ اٹھائیں گے تو ان کا نتیجہ ہمیشہ آپ سب سے مختلف برآمد ہوگا. ٹھیک اسی طرح دین میں بھی ایسے 'محقق' اٹھتے ہیں جن کی ہر کی گئی تحقیق پوری امت سے الگ نتائج برآمد کرتی رہتی ہے. وجہ؟ وجہ وہی کہ ان محقق محترم نے اپنی تحقیق کے اصول ہی الگ اپنا رکھے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے وہ قطعی ترین معاملات کو بھی رد کرکے ایسے نتائج پیش کرتے ہیں جو ورطہ حیرت میں مبتلا کردے. حماقت ہماری یہ ہے کہ ہم ان نتائج کے ٹھیک ہونے یا نہ ہونے پر بحث کرنے لگتے ہیں اور یہ دیکھتے ہی نہیں کہ وہ اصول تو غلط نہیں جن پر بنیاد رکھ کر یہ نتائج برآمد ہوئے ہیں؟ عوام تو عوام - علماء بھی اکثر یہی غلطی کررہے ہوتے ہیں. مثال کے طور پر ایک خود ساختہ محقق اجماع صحابہ یا حدیث متواتر کو سرے سے حجت یا اصول دین تسلیم ہی نہیں کرتا اور اس کے نتیجے میں وہ فقط لغت کے ذریعے قران حکیم سے دین کی ایک اچھوتی تفسیر پیش کرنے لگتا ہے. جیسے وہ کہتا ہے کہ بھائی یہ کیا ہندؤں کی طرح متھا ٹیکنے کو تم نے سجدہ سمجھ لیا ہے؟ سجدہ تو بس احکام پر سر تسلیم خم کرنے کا نام ہے یا یہ کیا تم مشرکین کی طرح قربانی کرکے خون بہاتے ہو؟ قربانی کا مطلب تو بس اپنی خواہشات نفس کی قربانی ہے یا حج تو انٹرنیشنل میٹنگ کا نام تھا، یہ کیا تم نے پتھر کی دیوار کو شیطان بنا کر پتھر مارنا شروع کردیا؟ وغیرہ. اب اگر آپ ان محقق صاحب کے اصولوں کو نظر انداز کرکے ان نتائج پر بحث کرنے لگیں تو کبھی نتیجہ نہیں نکلے گا بلکہ امکان ہے کہ آپ کو شکست فاش ہو. لازمی ہے کہ پہلے ان اصولوں کے درست ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہو پھر ان نتائج پر گفتگو کی جائے. اسی طرح ایک شخص ملحد ہے، وجود خدا کا ہی انکاری ہے اور آپ اس سے یہ مکالمہ کرنے لگیں کہ واقعہ معراج کی کیا حقیقت ہے؟ یا معجزات کیسے ممکن ہے؟ تو یہ صرف وقت کا زیاں ہے. لہٰذا دین کے سنجیدہ طالبعلمو اور علماء اکرام سے راقم کی یہی استدعا ہے کہ ہر مکالمے میں اصول دین کو نظر سے اوجھل نہ ہونے دیں.
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: راقم کو امید ہے کہ قاری دی گئی مثال کی کھال اتارنے سے زیادہ موجود پیغام کو سمجھنے کی سعی کرے گا)

Friday, 24 November 2017

پیرامیڈ مارکیٹنگ


پیرامیڈ مارکیٹنگ

کبھی آپ کا 'پیرامیڈ مارکیٹنگ' کا دعویٰ کرنے والی بزنس کمپنیوں سے واسطہ پڑا ہے؟ اگر ہاں تو آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ یہ لوگ کس خوبی سے آپ کا بھروسہ جیت کر آپ کو ہفتوں مہینوں میں امیر کبیر ہوجانے کا یقین دلادیتے ہیں. آپ کتنے ہی پڑھے لکھے اور اپنی دانست میں عقلمند کیوں نہ ہوں؟ یہ اپنا بزنس پلان آپ کو کچھ اس طرح چپکاتے ہیں کہ آپ خوشی خوشی راضی ہوجاتے ہیں. مغربی ممالک میں ان کا طریقہ واردات اکثر کچھ یوں ہوتا ہے کہ کوئی بھروسے کا جاننے والا انسان آپ کو اپروچ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ کچھ ہی عرصے میں اپنا ایک ایسا کامیاب بزنس قائم کرچکا ہے جو اسے ناقابل یقین حد تک منافع دے رہا ہے. یہی نہیں بلکہ چند سالوں ہی میں یہ بزنس اسے یقینی طور پر کروڑپتی بنادے گا. یہ سن کر ظاہر ہے آپ میں شدید اشتیاق پیدا ہوجاتا ہے. اب آپ کا یہ لاڈلا دوست یا رشتہ دار آپ کو بھی اس بزنس کا مشورہ دیتا ہے مگر صرف چند نہایت جاذب باتیں بتاکر خاموش ہوجاتا ہے. آپ کتنا ہی اصرار کرلیں وہ مزید تفصیل نہیں بتاتا بلکہ کہتا ہے کہ اگر آپ واقعی بزنس مین بن کر مالامال ہونے میں سنجیدہ ہیں تو فلاں روز فلاں کمپنی کانفرنس میں شرکت کیجیئے. جہاں کمپنی کا مالک یا مینجر تفصیل سے اس بزنس کا ماڈل سمجھائے گا. ساتھ ہی وہ آپ کو ایک چمکتا ہوا بزنس کارڈ یا انویٹیشن بھی دیتا ہے. ساتھ ہی یہ تلقین کرتا ہے کہ اس روز آپ سوٹ ٹائی پہنیں کہ یہ بزنس کا ڈریس کوڈ ہے. آپ شدید مرعوب ہو جاتے ہیں اور طے شدہ روز بہترین سوٹ پہن کر پرفیوم لگا کر تیار ہوجاتے ہیں. بعض اوقات تو آپ کو مقررہ مقام پر کوئی مہنگی گاڑی لے کر جاتی ہے. یہ بھی ممکن ہے کہ اسے کم کپڑوں میں ملبوس کوئی حسینہ ڈرائیو کر رہی ہو.
.
کانفرنس کے ماحول میں ہر شے سے خوشی، کامیابی اور امیری جھلک رہی ہوتی ہے. یہاں آپ کی ملاقات ایسے بہت سے افراد سے ہوتی ہے جو کچھ روز قبل تک بے روزگار تھے یا معمولی سی نوکری کیا کرتے تھے مگر اب اس بزنس کی بدولت ان کی زندگی میں انقلاب آگیا ہوتا ہے. وہ آپ کو اپنے خوشحال ہونے کے قصے سناتے ہیں اور مستقبل قریب میں امیر کبیر ہوجانے کی نوید دیتے ہیں. یہ سب اشخاص آپ ہی کی طرح عام انسان ہوتے ہیں اور ان کے لہجے میں سچائی والا اعتماد جھلک رہا ہوتا ہے. آپ سے فارم بھروایا جاتا ہے اور ایک بہترین نشست پر دیگر افراد کے ہمراہ آپ بھی براجمان ہوجاتے ہیں. اب 'وہ' آتا ہے جس کا سب کو انتظار ہوتا ہے. یعنی کمپنی کا مالک و مینجر. یہ انتہاء درجے کا چرب زبان، حاضر جواب، پر مزاح اور پر اعتماد انسان ہوتا ہے. یہ بتاتا ہے کہ کس طرح امیر لوگ اس دنیا میں ہم عام لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور غریب رکھنا چاہتے ہیں؟ یہ آپ کو سامنے بورڈ اور کمپیوٹر سلائڈز کے ذریعے ایک زبردست نیٹ ورک مارکیٹنگ کا بزنس ماڈل پیش کرتا ہے جس میں آپ کسی پروڈکٹ کو خرید کر شمولیت حاصل کرسکتے ہیں اور پھر اسی پروڈکٹ یا پروڈکٹس کو اپنے احباب میں بیچ کر انہیں بھی ممبر بنا سکتے ہیں. آپ جتنے ممبر بنائیں ہے، وہ ممبر مزید ممبرز لائیں گے اور یہ مزید ممبرز مزید اور ممبرز. اس طرح یہ پیرامڈ چلتا رہے گا. زبردست انکشاف یہ ہے کہ ہر آنے والے کے پرافٹ میں آپ کا ایک لازمی حصہ ہوگا کیونکہ اس چین (کڑیوں) کا آغاز آپ سے ہوا ہے. گویا آپ جب سو بھی رہے ہوں گے تو آپ کے لائے یہ سینکڑوں لوگ آپ کے لئے پرافٹ جمع کررہے ہوں گے. یوں آپ ہفتوں، مہینوں میں امیری کی سیڑھی چڑھنے لگیں گے. چند سالوں میں اتنا پیسہ ہوجائے گا کہ آپ خوشی سے ریٹائر ہوسکیں. اس کامیابی کی گواہی وہاں موجود بہت سے افراد اسٹیج پر آکر آپ کو دیتے ہیں. آپ کا لاڈلا عزیز جو آپ کو یہاں لایا تھا اور جس پر آپ کو بھروسہ ہے، وہ بھی ان ہی میں کسی درجے شامل ہوتا ہے. اس بزنس کی اثرانگیزی ثابت کرنے کیلئے بڑے بڑے بزنس مین کے اقوال دیکھائے جاتے ہیں جیسے ڈونالڈ ٹرمپ، رابرٹ کیوساکی وغیرہ. زندہ مثالوں اور میتھمیٹکس کے ذریعے آپ کو فارمولے دیکھائے جاتے ہیں. یہ فارمولے سالوں کی محنت کے بعد کچھ اس انداز میں تشکیل دیئے گئے ہوتے ہیں کہ جنہیں آپ کوشش کے باوجود غلط ثابت نہیں کرسکتے. چاہے آپ کسی ریاضی دان، سائنسدان یا فلسفی کے سپوت ہی کیوں نہ ہوں. یہ اور بات کہ وہ ہوتے فقط سراب ہی ہیں. ان کے پاس آپ کے ہر ممکنہ سوال کا پہلے سے ہی ایک نپا تلا جواب تیار ہوتا ہے. اگر بادل نخواستہ کوئی نیا سوال آپ اٹھا بھی دیں تو یہ اپنی ٹریننگ کی بدولت کسی نوسرباز کی مانند اس سوال کو ایسا گھمائیں گے کہ آپ شکل دیکھتے رہ جائیں. ستر فیصد کے قریب لوگ ایسی کانفرنسز میں ان سے مستقل جڑ جاتے ہیں یا کم ازکم جڑنے کی شدید خواہش لے کر گھر واپس آتے ہیں.
.
آپ کتنے ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہوں؟ ان نوسربازوں کو دلیل یا مکالمے سے ہرگز نہیں ہراسکتے. یہ اپنی دھوکہ دہی میں طاق اور نہایت تجربہ کار ہوتے ہیں. ان کی حقیقت جاننے کا ایک آزمودہ طریقہ یہ ہے کہ آپ ان افراد کی بینک اسٹیٹمنٹ چیک کریں جو ہر مہینے لاکھوں روپے کمانے کا دعویٰ کررہے ہیں. ان کا سجایا سارا بھرم چکنا چور ہوجائے گا. بہت سے بہت انہیں اتنا پیسہ ملتا ہوگا جتنا ایک معمولی سیلز مین کو ملتا ہے. کمپنی کے مالک اور اس کے چند چیلوں کے سوا باقی جتنے لوگ باسمیت آپ کے لاڈلے عزیز کے اس میں شامل ہیں وہ سب اس دھوکہ دہی کا شکار ہوتے ہیں. مشورہ صرف اتنا ہے کہ کامیابی کا شارٹ کٹ ڈھونڈھنا ترک کردیں اور ایسی خواب دکھاتی کمپنیوں سے کوسوں دور رہیں.
.
اب ایک آخری بات. یہ چرب زبان نوسرباز صرف بزنس کی دنیا میں نہیں ہوتے بلکہ یہ اپنی دکان مذہب کے نام پر بھی چمکاتے ہیں. یہ آپ کو بتاتے ہیں کہ کیسے آج تک آپ کو ملاؤں نے دھوکہ دیا ہے؟ کیسے آپ چودہ سو سال سے ایک بہت بڑی سازش کا شکار رہے ہیں؟ اس کے بعد وہ آپ کو دین کی ایک نئی سمجھ دیتے ہیں، جسے رد کرنا آپ کو اپنے بس میں نظر نہیں آتا. ان کی باتیں آپ کو لاجک اور دلیل سے مزین نظر آتی ہیں. مگر جان لیجیئے کہ یہ وہی سراب ہے جسے ایک آدمی بزنس کا نام لے کر دیکھا رہا ہے اور دوسرا مذہب کی اوٹ میں یہی کام سرانجام دے رہا ہے. میں آپ کو انہیں سننے، پڑھنے اور تحقیق کرنے سے ہرگز نہیں روک رہا. صرف خبردار کررہا ہوں کہ جب کوئی نیا آدمی اپنی چرب زبانی سے آپ کو بتائے کہ دین کو یا دین کے فلاں عقیدے کو آج تک سب غلط سمجھے ہیں اور میں آپ کو درست بات بتا رہا ہوں تو بہت بہت زیادہ غور و فکر کے بعد کوئی فیصلہ لیجیئے. آخر یہ آپ کی عاقبت کا معاملہ ہے.
.
====عظیم نامہ====

.
(نوٹ: راقم ایک ایسی بہت بڑی پیرامڈ کمپنی کا لندن میں دو ہفتے حصہ رہا ہے اور ان کی حقیقت جاننے کے بعد انہیں مکمل طور پر تباہ کردینے میں کلیدی کردار ادا کرچکا ہے
)

Wednesday, 22 November 2017