Sunday, 17 June 2018

کل ہو نہ ہو



کل ہو نہ ہو


.
وہ ایک ملنسار اور نڈر نوجوان لڑکی تھی. جسے لگتا تھا کہ اسے سب معلوم ہے، ساری دنیا جیسے اس کی چٹکیوں میں ہو. اسے پورا بھروسہ تھا کہ جیسے ہی اس کا اسکول ختم ہوگا، وہ یونیورسٹی میں من پسند ڈگری کیلئے داخلہ لے لے گی، بہترین نوکری یا بزنس کرے گی اور پھر جلد ہی اس کا شمار ایک کامیاب ترین جوان عورت کے طور پر ہونے لگے گا. اسی یقین اور خواب کے ساتھ حسب معمول وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی، خود کو آئینے میں سنوارا اور جاکر اپنے 'بنک بیڈ' (بستر) پر لیٹ کر آنکھیں موند لی. صبح بیدار ہوئی تو آنکھیں نیند سے بہت بوجھل تھیں مگر پھر بھی بستر چھوڑ کر کھڑی ہوگئی. ان ہی نیم بند آنکھوں میں حسب معمول آئینے کے سامنے پہنچی، آنکھیں بمشکل کھول کر جو آئینہ دیکھا تو مارے خوف کے تیزی سے پیچھے ہٹی. آئینے میں اس کا اپنا عکس نہیں تھا بلکہ سامنے سلوٹوں بھرا ایک بڑی عمر کی عورت کا عکس اسے گھور رہا تھا. گھبرا کر اس نے اپنے اردگرد غور کیا تو وہ اس کا کشادہ کمرہ نہیں تھا بلکہ یہ تو کوئی پرانا بوسیدہ سا فلیٹ کا تنگ کمرہ تھا. وہ اس خوفناک صدمے سے ابھی ابھر بھی نہ سکی تھی کہ اچانک کمرے میں ایک گیارہ سال کا لڑکا دوڑتا ہوا داخل ہوا اور اسکی جانب امی امی کہتا ہوا بڑھنے لگا. اس منظر کو دیکھ کر خوف و بوکھلاہٹ سے کانپتی ہوئی وہ چیخیں مارنے لگی اور زمین پر گرگئی. اسے ایمرجنسی میں اسپتال لے جایا گیا.
.
ڈاکٹروں نے اس کے دماغ کا چیک اپ کیا تو اکشاف ہوا کہ سخت معاشی حالات میں شدید اسٹریس اور ڈپریشن کے سبب اس عورت کا دماغ کچھ اس بری طرح متاثر ہوا کہ وہ اپنی سابقہ زندگی کے سترہ سال بھول گئی ہے. گویا اسکی یادداشت سے اب سترہ سال ایسے محو تھے جیسے کبھی وہ گزرے ہی نہ ہوں. لہٰذا اب اسے نہ اپنی شادی یاد تھی اور نہ ہی اپنا گیارہ سال کا بیٹا. وہ آج بھی ذہنی طور پر خود کو پندرہ سال کا سمجھ رہی تھی کیونکہ اس کی موجود یادیں پندرہ سال کی عمر تک ہی محیط تھیں. لیکن حقیقت اب کچھ اور ہی تھی. وہ خواب سب گم ہوگئے تھے اور ایک بھیانک زندگی سچ بن کر زبردستی اس پر سوار تھی. وہ تو سمجھتی تھی کہ چونتیس برس کی عمر میں یہ دنیا اسکے پیروں تلے ہوگی، شاندار گھر ہوگا، وجیہہ شوہر ہوگا اور پیسوں کی ریل پیل ہوگی. مگر یہ کیا ؟ وہ تو زندگی سے شکست خوردہ ایک ایسی عورت بن چکی تھی جو گورنمنٹ کے دیئے ہوئے ایک چھوٹے سے سیلن زدہ گھر میں مقیم تھی. 
.
یہ ایک سچی کہانی ہے جو انگلینڈ میں مقیم ایک عورت کے ساتھ پیش آئی. یادداشت کا جزوی طور پر موقوف ہوجانا جس سے مریض اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ بلکل فراموش کربیٹھے ، ایک ایسی بیماری ہے جو ہر سال بہت سے افراد کو کو اپنا نشانہ بناتی ہے. میں نے اس عورت کے واقعے کو جب برطانوی اخبار میں سالوں قبل پڑھا تھا تو جیسے دل کو جھٹکا لگا تھا. اس کرب کو معلوم نہیں کیوں؟ میں نے اپنے سینے میں محسوس کیا. بلکہ اگر سچ بولوں تو اس وقت بھی کررہا ہوں. کیا ہو کہ اس لڑکی کی جگہ آپ ہوں؟ اور کل صبح جو آپ کی آنکھ کھلے تو آپ خود کو ستر برس کا ایک بوڑھا انسان پائیں؟ کیا کرسکیں گے ہم؟ کیا سوچیں گے ہم؟ کیسے جی سکیں گے؟ پچھتاووں کا سامنا کیسے کریں گے؟ ... کاش کہ ہم موجود زندگی سمیت ہر اس شے کی قدر کرنا سیکھ لیں جو ہمیں حاصل ہے. کیا معلوم کل ہو نہ ہو؟
.
====عظیم نامہ====

Monday, 4 June 2018

پاک چین دوستی - زندہ باد


پاک چین دوستی - وان سوئے - پاک چین دوستی - زندہ باد 


No automatic alt text available.
.
اس میں کوئی شائبہ نہیں ہے کہ قیام پاکسان سے لے کر آج تک، اگر گنتی کے چند ممالک پاکستان کے حقیقی دوست کہلائے جاسکتے ہیں تو ان میں سرفہرست نام چین کا ہے. ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ دوستی بھی اپنے مفادات پر بڑی حد تک منحصر رہی ہے. دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے ان گنت مفاد حاصل کیئے ہیں. چین کیلئے پاکستان کی دوستی اسلئے بھی اہم رہی ہے کہ وہ خطے میں بھارت کی اجارہ داری اور اسکی آڑ می امریکہ کا اثر و رسوخ قائم نہیں ہونے دینا چاہتا. ظاہر ہے ایسے میں پاکستان جیسا دوست اسکے لئے نعمت ہے. دوسری طرف پاکستان کیلئے تو یہ دوستی اور بھی اہم تر ہے. وجہ اس کے امریکہ، انڈیا، اسرائیل جیسے طاقتور دشمن ہیں جو اسکے وجود و استحکام کیلئے ہمیشہ خطرہ بنے رہے ہیں. ایسے میں چین جیسے مضبوط ملک کا ساتھ پاکستان کیلئے بن الاقوامی سطح پر انتہائی تقویت کا سبب رہا ہے. سیاسی سپورٹ سے لے کر معاشی امداد تک اور دفاعی آلات کی فروخت سے لے کر ٹیکنالوجی میں خودکفالت تک - چین ہمارا زبردست ساتھی بنا رہا ہے. ایسے میں اس ساتھ کو شکرگزاری سے نہ دیکھنا بلکہ مفاد پرستی کا طعنہ دیتے رہنا شائد درست روش نہیں. یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ چین ایک کمیونسٹ ملک ہے اور کمیونزم اپنی اصل میں مذہب مخالف رہا ہے. لہٰذا چین کے پاکستان سے تعلق کو وہاں مذہبی جبر و پابندی سے جوڑ کر دیکھنا ٹھیک نہیں. اس سے ہمارا ساتھ ایک 'اسٹریٹجک پارٹنر' کا ہے، چانچہ اس سے امید بھی 'اسٹریٹجک' فوائد سے متعلق ہی کی جاسکتی ہیں.
.
حال میں سی-پیک کے حوالے سے باسٹھ بلین ڈالرز کی خطیر سرمایہ کاری پاکستان میں کی گئی ہے. گوادر کی تعمیر میں بہت سال ایسے گزرے جب ہمارے پاکستانی حکمرانوں نے کرپشن کرکرکے اس پروجیکٹ کو التواء میں ڈال دیا. چینی سرمایہ کاری سے آئی مشینری کو زنگ لگ گیا مگر ہم نے ہفتوں کا کام سالوں میں انجام دیا. بلآخر پاکستانی فوج نے ذمہ داری لی اور چین سے ازسر نو معائدے کیئے. انڈیا اور امریکہ سے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے کہ گوادر سمیت اس سی-پیک پروجیکٹ کو سبوتاز کیا جاسکے مگر تاحال وہ اس میں ناکام رہے ہیں. بہت سے دانشوروں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ چین کی یہ سرمایہ کاری وہی صورت اختیار نہ کرلے جو آزاد ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے کی تھی اور پاکستان چین کی کالونی بن کر نہ رہ جائے. اس کیلئے وہ چین کی ہانگ کانگ والی مثال بھی پیش کرتے ہیں اور موجودہ شرائط و ضوابط میں پاکستان کی لاچارگی بھی ظاہر کرتے ہیں. یہ واقعی پریشانی کے لائق ہے مگر اسکے لئے ہمیں اپنے فوجی و سیاسی حکمرانوں کو تفصیل پیش کرنے پر مجبور کرنا ہوگا. اسے بنیاد بناکر چین سے اور ان کے پاکستان میں موجود چینی اہلکاروں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنا درست نہیں. ہم جانتے ہیں کہ حال ہی میں چینی اہلکاروں کی جانب سے طرح طرح کے ناخوشگوار واقعات پیش آئے ہیں. جن میں بدمعاشی سے لے کر چوری تک شامل ہیں. ہمیں قانونی اداروں کو بناء تخصیص کاروائی کرنے کا پابند کرنا چاہیئے. لیکن جہاں کچھ چینیوں کا یہ رویہ قابل مذمت ہے وہاں ہم پاکستانیوں کا ان سے نفرت انگیز کھچاؤ سا رکھنا بھی اچھی بات نہیں. یہ ہمارا مشاہدہ رہا ہے کہ چینی اہلکاروں سے ہم بھی کچھ کھنچے ہوئے سے ہیں اور انہیں اس نظر سے دیکھ رہے ہیں جیسے وہ قبضہ کرنے آئے ہوں. بازار یا ائیرپورٹ پر میں نے ان چینیوں کو تنہا اجنبی بنے ہوئے دیکھا، جن سے مسکرا کر گپ شپ کرنا مفقود نظر آیا. اس نفرت سے فاصلے تو بڑھیں گے مگر صورتحال بہتر نہیں ہوگی. ضروری ہے کہ ہم چینیوں سمیت ہر غیرملکی کو محبت دیں، تب ہی سیاحت سے لے کر بین الاقوامی سرمایہ کاری میں پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوسکے گی. طعنے اور حقارت آمیز جملے کسنا گھٹیا بات ہے جیسے 'یہ سالے کتے اور سانپ کھانے والے چپٹے ہمیں سمجھائیں گے' .. (یہ اور بات کہ کتے اور گدھے کا گوشت کھانے میں تو اب ہم بھی خود کفیل ہیں)
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 29 May 2018

قادیانی اور ہم



قادیانی اور ہم 

.
قران حکیم کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ کفار و مشرکین کا رویہ دعوت دین کی جانب استکبار اور استہزاء کا ہوا کرتا تھا. گویا جب رسولوں کے مخاطبین پر بات آخری درجے میں واضح ہوجاتی اور ان کے پاس دلائل کی بنیاد پر نہ ماننے کی وجہ نہ ہوتی، تب وہ استہزاء کا رویہ اپنا لیتے. وہ دلیل کا نہ مطالبہ کرتے اور نہ ہی دلیل پیش کرتے. اب وہ کبھی رسولوں کو تحقیر آمیز نام دیتے، کبھی کردار کشی کرتے، کبھی قہقہوں یا ڈھول تاشوں سے بات کو دبا دیتے، کبھی کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے، کبھی طنز و تشنیع کا سہارا لیتے، کبھی جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے، کبھی مذاق اڑاتے اور کبھی گالیاں دیتے. ظاہر ہے ان کا یہ رویہ احقر درجے میں بھی علمی یا اخلاقی نہ تھا. اس کے برعکس قران حکیم نے جو مکالمہ کا طریق سکھایا وہ سراسر دلائل و براہین کی بنیاد پر ہے. قران صرف اپنے مقدمے کے اثبات میں دلائل ہی نہیں دیتا بلکہ وہ اپنے مخاطبین سے دلائل پیش کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے. وہ کہتا ہے کہ تورات، انجیل یا کوئی اور ثبوت اپنی بات کے حق میں پیش کرو. وہ حکم دیتا ہے کہ خبردار لوگوں کے جھوٹے خداؤں تک کو گالی نہ دینا، وہ سمجھاتا ہے کہ پہلے متفق باتوں پر مجتمع ہونا پھر اختلافی بات پر آنا، وہ نصیحت کرتا ہے کہ انتہائی احسن انداز میں گفتگو کرنا اور اگر کوئی جہالت پر اتر آئے تو اسے سلام کہہ کر یعنی اسکے لئے سلامتی کی دعا کرکے اس سے الگ ہوجانا. یہ وہ مقام ہے جس پر قران اپنے ماننے والوں کو لے کر آتا ہے. گویا وہ ایک مہذب اور صحتمند مکالمہ کی فضاء کو ہموار کرتا ہے. گالیاں دینا، اپنے مخاطب کے پیش کردہ استدلال کو نہ سننا اور مخاطب کی تحقیر کرنا کسی صورت بھی ایک مومن کا طریق نہیں ہوسکتا. یہ انداز تو مشرکین مکہ یا کفار کا ہوا کرتا ہے. 
.
افسوس یہ ہے کہ آج ہم نے بھی دعوت دین کا نام لے کر یہی روش اپنا رکھی ہے. سوشل میڈیا پر دیگر مذاہب یا مخالف مسالک سے بلعموم اور قادیانیوں سے بلخصوص یہی استہزاء کا رویہ اپنایا جاتا ہے. بجائے اس کے کہ انہیں دلائل سے ان کی غلطی سمجھائی جائے، ہم ان کی تضحیک و تحقیر کو اسلام کی خدمت سمجھ بیٹھتے ہیں. ہم مسلمان اس کے قائل ہیں کہ غلام احمد قادیانی اپنے دعوے میں کاذب ہے مگر وہ دین جو جھوٹے خدا کو گالی دینے سے روک رہا ہے، وہ جھوٹے نبی کو گالی دینے کی کیسے اجازت دے سکتا ہے؟ پھر یہ یاد رکھیں کہ آپ جب اپنے مخالف مخاطب کو گالی دیتے ہیں یا اس کے لئے کسی قابل احترم ہستی کو گالی دیتے ہیں تو دراصل آپ خود اپنے ہاتھ سے ممکنہ دعوت کے دروازے پر کنڈی لگادیتے ہیں جو کیا معلوم ؟ کل بارگاہ الہی میں قابل گرفت ہو. جب آپ اپنے مخاطب کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں تو غصہ اور ضد میں آکر وہ اسے بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہوجاتا ہے ، جسے وہ مہذب مکالمے کے ذریعے مان سکتا تھا. ہم یہ جانتے ہیں کہ عیسائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ رسالت کو معاذ اللہ ثم معاذ اللہ جھوٹا قرار دیتے ہیں تو کیا انہیں بھی یہ اختیار ہونا چاہیئے کہ اپنے ممالک میں ہمارے ساتھ وہی رویہ اختیار کریں جو مسلم جھوٹی نبوت کے قائل ایک قادیانی کے ساتھ اپناتا ہے؟ 
.
مگر افسوس ہمارا معاملہ تو آج یہ ہے کہ ہم انکی عبادت گاہوں کو نعرہ رسالت لگا کر مسمار کرتے ہیں اور خوشی سے پھول جاتے ہیں کہ دین کی خدمت انجام دی گئی ہے. ہماری روش یہ ہے کہ ہم اپنی دکانوں پر یہ لکھ کر لگا دیتے ہیں کہ یہاں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے. اگر ایسا کرکے کوئی سمجھتا ہے کہ قادیانیت کا فتنہ کمزور ہورہا ہے تو یہ پرلے درجے کی غلط فہمی ہے. قادیانیوں پر کسی بھی قسم کی پابندی یا اقدام حکومت کی جانب سے ہی ہونا چاہیئے. فرد اس کا مکلف نہیں کہ وہ جہاں قادیانی دیکھے اس پر چڑھ دوڑے. اصل بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر دوران بحث اپنے نفس کو موٹا کرتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کا فریضہ انجام پارہا ہے. ہماری نیت انہیں دین کا پیغام پہنچا کر واپس اسلام میں لانے کی ہونی چاہیئے، انہیں شکست دینے کی نہیں. لہٰذا انہیں صریح انداز میں غیر مسلم ہی سمجھیں، حکومتی سطح پر اس کا اہتمام کریں کہ ایک قادیانی خود کو مسلم نہیں بلکہ قادیانی یا احمدی کے نام سے ہی دستاویز میں ظاہر کرنے کا پابند ہو، مگر خدارا ان پر اپنی نفرت سے دعوت کے دروازے بند نہ کریں بلکہ اہل علم سے ان پر بناء تذلیل کیئے دلیل سے بات کی وضاحت کا اہتمام کریں. جس نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا وہ موت سے ہمکنار ہوکر اپنی شامت اعمال تک جاپہنچا. آج کئی نسلوں بعد پیدا ہونے والا قادیانی ویسے ہی موروثی طور پر قادیانی ہے جیسے ایک ہندو کے گھر میں پیدا ہونے والا ہندو. جس طرح اور جس انداز میں ایک ہندو، سکھ یا عیسائی ہماری دعوت کا مستحق ہے ویسے ہی مستحق ہماری دانست میں ایک قادیانی بھی ہے. 
.
====عظیم نامہ====

.
(نوٹ: ہم واقف ہیں کہ یہ ہمارے معاشرے میں ایک ایسا حساس موضوع ہے جو قارئین میں سے کچھ کو ہمارے خلاف بھی مشتعل کرسکتا ہے اور شائد ہم پر تکفیر کا سبب بھی بن سکتا ہے. اسکے باوجود یہ تحریر اس امید کے ساتھ لکھ دی ہے کہ کیا معلوم کچھ اذہان ایسے بھی ہوں جو ہماری اس بات کو سمجھیں اور اپنے رویئے پر نظر ثانی کریں؟)

تکبر


تکبر


ہمارے ایک دوست دین بیزار اور دنیا میں بہت زیادہ مگن رہا کرتے تھے۔ انہیں اپنی دولت، کامیابی اور مرتبے پر تکبر تھا۔ جو ان کی گفتگو سے عیاں ہوتا رہتا تھا۔ ان کے اسی تکبر سے ان کا تمام حلقہ احباب خفاء تھا مگر انکی پوزیشن کے سامنے کسی کی ہمت نہ تھی۔ پھر ہوا کچھ یوں کہ حالات نے پلٹا کھایا اور مسلسل آفتوں نے ان کے گھر کا رخ کرلیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا دبدبہ ملیامیٹ ہوگیا۔ زندگی جو الٹ پلٹ ہوئی تو ان صاحب کو دین سے جڑنے کی چاہ پیدا ہوئی اور وہ شب و روز قران و حدیث کے مطالعہ میں غرق ہوگئے۔ میرے لئے انکے خیرخواہ کی حیثیت سے یہ تبدیلی بڑی خوش آئند تھی۔ بھلا اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی تھی کہ ایک متکبر دین بیزار شخص تائب ہو اور دین کو پڑھنے سمجھنے میں لگ جائے؟ 
۔
خیر جناب ایک عرصہ گزر گیا۔ اس دوران ہمارا رابطہ بھی مصروفیت کے سبب ان سے ممکن نہ ہوسکا۔ زمانے بعد اچانک ملاقات ہوئی تو خیر و عافیت کے بعد ان کا مزاج پوچھا۔ یہ جان کر صدمہ ہوا کہ انہیں اب اپنی دنیا کا تکبر تو شائد نہ تھا مگر انکی گفتگو سے دینی علمیت کا تکبر ضرور عیاں ہورہا تھا۔ وہ دیگر اہل علم کو چھوٹا بتا کر مجھ پر یہ ثابت کررہے تھے کہ کیسے ان کے پائے کا کوئی صاحب علم موجود نہیں؟ میں اس اچانک ملاقات میں چاہ کر بھی کچھ کہہ نہ پایا لیکن میرا دل اس دوران چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ بھائی تکبر سے بچو کہ یہ بڑے ترین جرائم میں سرفہرست ہے۔ اس تکبر میں سب سے غلیظ تر تکبر اپنی علمیت کا ہے اور شیطان کا سب سے کاری وار احساس پارسائی ہے۔ اگر علم نے تمہاری ذات میں اتر کر عجز و انکساری پیدا نہیں کی تو شائد وہ علم ہے ہی نہیں فقط معلومات ہے۔
۔
====عظیم نامہ====

بول ٹی وی




بول ٹی وی

Image may contain: 7 people, including Ansar Ul Haq and Faizullah Khan, people smiling, beard and text

پچھلے دنوں بول ٹی وی پر ہونے والا واقعہ ہر خاص و عام کی زبان پر ہے. مجھ سے اس واقعہ پر ان گنت قارئین رائے طلب کرچکے ہیں. اسلئے سوچا کہ غیر متعصب ہوکر دیانتداری سے جو مجھے محسوس ہوا وہ لکھ دوں. مگر مجھے لگتا ہے کہ کسی بھی تجزیئے سے قبل اس واقعہ میں ملوث مختلف کرداروں پر اپنا مختصر تاثر بیان کردینا بہتر ہے. یہی تاثر اس سجائے ہوئے ڈرامے کے محرکات بیان کردے گا.
.
بول ٹی وی 
=======
.
یہ ایک ایسا چینل ہے جو نہایت زور و شور سے انقلاب برپا کرنے کا دعویٰ کرکے میڈیا کی دنیا میں وارد ہوا اور جس نے نمائندہ ٹی وی چینلز کے نمائندہ چہروں کو زبردست پیکیج آفر کرکے اپنے ساتھ کر لیا. مگر پھر ابتداء ہی سے ایسی مشکلات میں گھرا کہ اب تک نکل نہیں پایا. اس سے منسلک بہت سے لوگ اسے چھوڑ گئے اور کئی کو متعدد ماہ کی تنخواہ تاخیر سے ملی یا نہیں ملی. ایسی صورتحال میں اس چینل کو ایسے پروگرامز اور اینکرز کی اشد ضرورت ہے جو اسے دوبارہ صف اول میں لا سکیں. عامر لیاقت کو دوبارہ موقع مل جانا ہمارے نزدیک اسی مقصد کے تحت ہے. پھر وہ اخلاقیات سے عاری پروگرام "ایسا نہیں چلے گا" ہو یا پھر آج اسلام کی آڑ میں "رمضان میں بول" جیسے مذہبی پروگرام ہوں. اصل مقصد اسی ٹی- آر - پی کا حصول ہے جسکی بول چینل کو آج اشد ضرورت ہے اور جسے حاصل کرنے کیلئے عامر میڈیا میں معروف ہیں.
.
عامر لیاقت 
=======
.
عامر لیاقت باتوں کا بادشاہ ہے. میں انہیں اس وقت سے جانتا ہوں جب میڈیا پر وہ نظر بھی نہیں آئے تھے. ہم دونوں ہی فن خطابت سے منسلک رہے ہیں. گو عمر میں زیادہ ہونے کے سبب وہ میرے سینئر رہے. بحیثیت مقرر عامر لیاقت ایک بہت بڑا نام تھا جس نے 'تک بندی' اور 'منظر نگاری' کے ذریعے فن خطابت کو چار چاند لگائے. جب میں نے فن خطابت میں قدم رکھا تب عامر اس فن سے رخصت ہورہے تھے. مجھے بھی اس فن میں اچھا خاصہ نام حاصل ہوا اور ملکی سطح پر میں نے قریب قریب تمام نمائندہ اعزاز جیتے. جن دنوں عامر جیو ٹی وی پر 'عالم آن لائن' کی میزبانی کر رہے تھے. ان دنوں مجھے سرسید انجینئرنگ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز آفس میں 'نائن زیرو' کی جانب سے رابطہ کیا گیا اور پیشکش ہوئی کہ چونکہ عامر کو ٹکٹ دے کر الیکشن میں متحدہ کی جانب سے کھڑا کیا جارہا ہے اسلئے تنظیم چاہتی ہے کہ "عالم آن لائن" کی میزبانی اب سے میں کروں. ظاہر ہے کہ یہ ایک بہت بڑی آفر تھی مگر میری طبیعت نے کبھی کسی سیاسی تنظیم کو اس لائق نہیں پایا کہ اس کا باقاعدہ فعال حصہ بن سکوں. لہٰذا اس بار بھی میں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ میں گریجویشن کے فوری بعد ماسٹرز کیلئے انگلینڈ جا رہا ہوں اور ہوا بھی ایسا ہی. میں انگلینڈ آگیا اور عامر لیاقت نے دونوں ذمہ داریاں بخوبی نبھائی. 'عالم آن لائن' کے ذریعے اس نے نہ صرف شہرت کا آسمان چھولیا بلکہ اسے لامحالہ ایک مذہبی اسکالر بھی تسلیم کیا جانے لگا. حقیقت میں عامر ایک 'انٹر ٹینر' ہے جس کا واحد مقصد اپنا پروگرام اور نام بیچنا ہے. پھر وہ مذہبی پروگرام ہو یا پھر گیم شو .. کوئی فرق نہیں پڑتا. عامر لیاقت کا مذہبی رجحان بریلوی مکتب فکر اور اہل تشیع افراد کے اردگرد گھومتا ہے. لہٰذا غیرجانبداری یا مفاہمت کا چاہے کتنا ہی دعویٰ ہو؟ مقدمہ وہ یہی پیش کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا. 
.
مولانا کوکب اکاڑوی
=============
.
مولانا کوکب کی دلفریب مسکراہٹ نے مجھے سب سے پہلے متاثر کیا تھا جو بعد میں ایک فریب نظر ثابت ہوا. غالباً ٢٠٠١ میں جیو ٹی وی پر ایک مذہبی پروگرام آیا کرتا تھا. زمانہ طالبعلمی میں مجھے تین دیگر طالبعلموں کے ساتھ ان کی پروگرام ریکارڈنگ میں ڈیفنس کراچی کے ایک بنگلے میں بھیجا گیا، جہاں ہم نے مولانا کے سامنے بیٹھ کر ان سے سوالات پوچھنے تھے. مایوسی اسوقت ہوئی جب سوالات پہلے سے ہی فکس کر دیئے گئے. گویا ہم نے پوچھنے کی اور مولانا نے بتانے کی ایکٹنگ کرنی تھی. خیر ہم نے اسے پروگرام مینجمنٹ کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کیا. دوسری حیرانی اسوقت ہوئی جب مولانا کو خوب 'کیمرہ کونشئس' پایا. میک اپ سے لے کر کیمرہ پوزیشن تک میں وہ ایک ماہر محسوس ہوئے. میک اپ کی ٹچنگ وہ بتا بتا کر کروا رہے تھے. پروگرام سے قبل یا پروگرام کے بعد جب ان سے مصافحہ ہوا تو خلاف توقع ہمارے ساتھ موجود یونیورسٹی کے آفیسر نے میرا تعارف بحیثیت اچھے مقرر و طالبعلم کے مولانا کو دیا. ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ میں دیوبند کے اکابر علماء کے خاندان سے ہوں. یہ سنتے ہی مولانا کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور انہوں نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ 'الحمدللہ میں دیوبندی نہیں ہوں.' اس وقت بھی ایک زہر آلود مسکراہٹ ان کے چہرے پر چسپاں تھی. کئی اور ایسے مواقع دیگر حاضرین نے محسوس کیئے جو مذہبی منافرت کا اشارہ دیتے تھے. میرے قلب و ذہن سے اسی دن ان کا نام اتر گیا. گو بہت سے بریلوی علماء ایسے ہیں جنہیں آج بھی پورے ذوق و شوق سے پڑھتا ہوں اور دل سے بحیثیت اہل علم انہیں قبول کرتا ہوں. 
.
مولانا اسحٰق عالم 
===========
.
اسحٰق بھائی سے واقفیت فیس بک کے ذریعے ہی ہوئی. سالوں سے ان سے تعلق برقرار ہے. سوشل میڈیا پر ان کا نام ہو یا ان کے دیگر بھائیوں کا نام جیسے فاروقی صاحب یا فرنود عالم بھائی - یہ سب میرے لئے قابل عزت ہیں. اسحٰق بھائی سے واحد طویل نشست ان کے گھر پر ہوئی تھی. جہاں بہت سی باتوں پر تبادلہ خیال ہوا. وہ مجھے ایک صلح جو اور روایت پسند دیوبندی حنفی عالم محسوس ہوئے. 
.
مفتی حنیف قریشی 
============
.
یہ بلاشبہ ایک زہین اور تیز بریلوی عالم دین ہیں جو اپنا مقدمہ تاریخی و فقہی حوالوں سے پیش کرنا بخوبی جانتے ہیں. البتہ ان کی ساری تگ و دو کسی اچھے مسلک پرست عالم کی طرح اپنے مسلک کو درست ثابت کرنے میں ہوتی ہے. اس حوالے سے ان کا مناظرانہ مزاج ناظرین سے ڈھکا چھپا نہیں. یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ شائد مولانا کوکب اکاڑوی بحیثیت اپنے مکتب فکر کے بڑے ہونے کی حیثیت سے کسی حد تک مفتی حنیف قریشی کا پروگرام میں مزاج بناتے ہیں. 
.
قاری خلیل الرحمن جاوید 
===============
.
قاری خلیل ایک کھرے اہل حدیث عالم محسوس ہوئے. آپ سے تعارف اس سے قبل نصیب نہیں تھا مگر ان دنوں میں بہت سے کلپس میں ان کی گفتگو سننے کو ملی جس سے ان کا قران اور صحیح حدیث کے نصوص پر مبنی طرز استدلال بہت خوب محسوس ہوا. البتہ ان کے لہجے کی کاٹ اور کچھ غیر محتاط الفاظ پروگرام میں گاہے بگاہے ایسے آتے رہے جن سے بریلوی اور شیعہ مکتب فکر کی سمجھ کو سختی سے جھٹلایا گیا. گویا وہ یوں بات نہیں کرتے تھے کہ اس حوالے سے اہل حدیث کی رائے یہ ہے. بلکہ آگے بڑھ کر وہ دوسرے مکاتب کی رائے کے بارے میں یہ بھی کہہ جاتے تھے کہ یہ بلکل غلط ہے. ان کا یہ انداز راقم نے اس آخری پروگرام سے بہت قبل محسوس کرلیا تھا اور اس ضمن میں ممکنہ تصادم بھی متوقع تھا. پروگرام میں اپنی رائے کو مقدم رکھنے کیلئے عامر لیاقت نے کئی بار کوشش کی مگر اس دوران قاری خلیل اپنی دو ٹوک رائے دے کر کسی بھی دوسرے شریک سے زیادہ شہرت پانے لگے. بلاخر وہ ہوا جس کا ڈر تھا. انہیں جس انداز میں کارنر کیا گیا اسے سمجھنے کیلئے آئین اسٹائن ہونا ضروری نہیں. 
.
علامہ شبیر حسن 
===========
.
آپ میڈیا پر اہل تشیع کی جانب سے ان گنت بار مدعو کئے جاچکے ہیں. انہیں بلانے کا ایک بڑا مقصد شائد یہی ہوتا ہے کہ یہ انتہائی صلح جو اور بناء کسی اختلاف میں پڑے اپنی مسلکی رائے بیان کرنے میں طاق ہیں. یہ اپنی بات اس انداز میں پیش کرتے ہیں، جس سے شیعہ نقطہ نظر بریلوی سنی نقطہ نظر کی موافقت کرتا ہوا محسوس ہو. 
.
ڈاکٹر ذاکر نائیک 
==========
.
ڈاکٹر ذاکر کے قد اور نام سے کون واقف نہیں؟ غیر مسلموں کو دعوت دینے کی ضمن میں جو خدمات آپ کی ہیں اس کی مثال حال یا ماضی میں ملنا مشکل ہے. میں خود انگلینڈ میں سالہا سال دعوت کے شعبے سے منسلک رہا ہوں اور دیانتداری سے کہتا ہوں کہ ساری دنیا میں دعوتی سرگرمیوں کو جو قوت ڈاکٹر ذاکر اور شیخ دیدات کی بدولت حاصل ہوئی ہے وہ بے مثال ہے. چاہے وہ ان کا طرز استدلال ہو، ان کی فراہم کردہ ٹریننگ ہو یا پھر دعوتی کتب. ایک زمانہ اس وقت ان سے استفادہ کررہا ہے اور شائد صدیوں کرتا رہے گا. کتنے ہی غیرمسلموں سے میں خود مل چکا ہوں جو اسلام لے آئے یا اسلام کے قریب آگئے کیونکہ انہوں نے ڈاکٹر ذاکر کی تقاریر سن لی تھیں. ڈاکٹر ذاکر صاحب سے جو غلطی ہوئی وہ یہ کہ انہیں بحیثیت داعی خود کو محدود رکھنا چاہیئے تھا. تاریخ اسلام کے واقعات کو موضوع بنانا یا فقہی باریکیوں میں الجھنا ان کے مرتبے کی بات نہ تھی. اس کیلئے پہلے ہی لاکھوں موجود تھے/ہیں. یہ دعوت دین کے علاوہ تاریخی واقعات ہی کو موضوع بنانے کا نتیجہ ہے کہ ان سے جلنے والو کو موقع حاصل ہوا کہ وہ ان کی کسی غلط سمجھ یا بات کو پکڑ کر ان کے تمام کام کو زیرو بتانے لگیں. اس بات سے قطع نظر کہ کیا درست کیا نہیں؟ یزید والی بحث انکے کرنے کی تھی ہی نہیں. البتہ جو فرقہ باز مولوی آج اسے بنیاد بنا کر ڈاکٹر ذاکر کو کافر بنانے پر تلے ہوئے ہیں. اگر انہیں ان ہی کے اکابر کے کفر بھرے جملے سنائے جائیں تو فوری تاویل کرنے لگیں گے. جو کل مرحوم جنید جمشید کی آنسو بھری توبہ کو بھی سن کر اسے قتل کرنے کے درپے تھے وہ آج عامر لیاقت کی توبہ کو فوری سینے سے لگانے کو تیار ہیں. دھیان رہے کہ یہی منافرت بقیہ مسالک میں بھی یونہی موجود ہے پھر وہ اہل حدیث ہوں، دیوبندی ہوں یا بریلوی. 
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 22 May 2018

آپ یا تو


آپ یا تو


سوال:
ہم جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہیں تو لفظ "آپ" کا استعمال کرتے ہیں. اس کے برعکس ہم جب اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں تو لفظ "تو" سے بھی مخاطب ہو جاتے ہیں. کیا یہ صریح گناہ نہیں؟
.
جواب:
ہر زبان اور معاشرے کی اپنی حدود و قیود ہوا کرتی ہیں. یہ ہماری صوابدید پر ہے کہ ہم بحیثیت مسلم انہیں ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ اور اسکے رسول کیلئے جس طرز تخاطب کو زیادہ مناسب پائیں، اسے اختیار کریں. آپ کا درج کردہ اشکال دراصل برصغیر پاک و ہند کے مزاج اور زبان اردو سے متعلق ہے. اسکی جو ممکنہ توجیح ہم پیش کرسکتے ہیں وہ یہ کہ اللہ پاک نے اپنی کتاب قران حکیم میں ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ انکے محبوب پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے معاملہ انتہائی ادب و احترام کیساتھ کریں. اس ضمن میں بے احتیاطی انسان کے تمام اعمال کو اکارت کرسکتی ہے. لہٰذا اس احتیاط کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم اردو بولنے والے جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کریں تو انہیں "آپ" سے مخاطب کریں. سورہ الحجرات کی دوسری آیت ملاحظہ ہو:
.
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو"
.
اس کے برعکس بندے کا اپنے پروردگار سے تعلق بہت الگ ہے. اس تعلق میں بیک وقت خشیت و احترام بھی ہے اور دوستی و بےتکلفی بھی. وہ اپنے خالق سے شب و روز مخاطب ہوتا ہے. اسکے سامنے اپنا حال دل، اپنی حاجات رکھتا ہے. گویا ایک عبد کبھی تو رب ارض وسماء کی ہیبت سے ایسا لرزاں ہوتا ہے کہ آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں اور دھڑکن رک سی جاتی ہے. جبکہ کبھی اپنے بنانے والے سے بندہ خود کو اتنا نزدیک پاتا ہے کہ لاڈ اور مان سے ضد یا فرمائش کرنے لگتا ہے. اسی بے تکلفی میں کسی قریبی دوست کی مانند اسے "تو" کہہ کر مخاطب کرلیتا ہے. ہمارے نزدیک اگر جذبہ اسی قربت و تعلق کا ہو تو پھر "تو" کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی ان شاء اللہ یہ ادب کے منافی قرار پائے گا. اللہ پاک اپنے نیک بندوں کو اپنا دوست قرار دیتے ہیں. پھر چاہے وہ خلیل اللہ یعنی اللہ کے دوست ابراہیم علیہ السلام ہوں یا پھر سچے مومنین، جنہیں اولیاء قرار دیا جاتا ہے. سورہ البقرہ کی ٢٥٧ آیت ملاحظہ ہو.
.
"ایمان ﻻنے والوں کا ولی (کارساز) اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے"
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: ایک توجیحح اس سوال کی اہل علم یہ بھی دیا کرتے ہیں کہ چونکہ "آپ" جمع کا صیغہ ہے اسلئے خدائے واحد کیلئے "تو" کا استعمال کیا جاتا ہے. گو راقم کو جو دلیل زیادہ قوی محسوس ہوتی ہے وہ پوسٹ/ تحریر میں بیان کردی گئی ہے. اردو زبان میں "آپ" واحد کیلئے بھی مستعمل ہے، خاص کر جب مخاطب کو عزت دینا مقصود ہو)

Monday, 14 May 2018

شائد میری ہی ناک خراب ہو



شائد میری ہی ناک خراب ہو؟


.
ملکی سیاست پر میرا قلم بہت ہی کم چل پاتا ہے. حالانکہ میں خوب واقف ہوں کہ پاکستانی قارئین کی سب سے زیادہ دلچسپی حالات حاضرہ اور سیاسی تجزیوں میں ہی ہوا کرتی ہے. مجھے تو یہ سیاسی منظرنامہ اتنا تعفن زدہ محسوس ہوتا ہے کہ دم گھٹنے لگتا ہے. کہتے ہیں غلاظت صاف کرنے کیلئے غلاظت میں اترنا پڑتا ہے؟ مگر یہاں تو جو اترتا نظر آتا ہے وہ بھی صفائی کی بجائے اسی غلاظت میں کسی مست ہاتھی کی مانند لوٹنے پوٹنے لگتا ہے. وہ محبان ملت جو ہمیشہ محبت کی بات کرتے ہیں، جب سیاست کا معاملہ ہو تو نفرت بانٹنے لگتے ہیں. ان کا قلم صرف آگ اور بغض اگلتا ہے. وہ اہل علم جو خود کو غیر متعصب کہلوانا پسند کرتے ہیں، اپنے من پسند سیاسی لیڈروں کے ملک مخالف بیانات، کرپشن اور غلط پالیسیوں کا ہر ممکن دفاع کرنے لگتے ہیں. اور وہ صاحبان دانش جو قومی شعور بیدار کرنے کے دعویدار ہیں، اپنے موقف پر اتنے متشدد ہوجاتے ہیں کہ مخالف کی اچھی سے اچھی بات کی بھی تائید کرنے سے قاصر رہتے ہیں. مانتا ہوں کہ کسی بھی خیرخواہ کیلئے سیاست سے مکمل دوری ممکن نہیں مگر غلاظت صاف کرنے کی بجائے خود اس میں لتھڑ جانا بھی تو ٹھیک نہیں ہے. پھر جب چاروں اطراف خود سے زیادہ عقلمند افراد کو اس سے چپکا لپٹا دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ کیا معلوم سڑاند ہو ہی نہیں؟ بلکہ شائد میری ہی ناک خراب ہو؟
.
====عظیم نامہ====