Monday, 23 April 2018

انسانی ادراک پانچ نمائندہ حسیات


انسانی ادراک پانچ نمائندہ حسیات



انسانی ادراک پانچ نمائندہ حسیات میں سے کچھ یا ان پانچوں کے اجماع سے تشکیل پاتا ہے۔ گویا کسی شے کے اچھے یا برے محسوس ہونے کا جسمانی ادراک ہمیں ان ہی حسیات سے حاصل ہوتا ہے۔ جو حقائق ان حسیات سے پرے ہیں وہ دلائل و براہین سے مانے تو جاسکتے ہیں مگر جسمانی ادراک کے احاطے میں نہیں آسکتے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ قران حکیم میں بھی عالم غیب کی کچھ خبریں دیتے ہوئے رب کریم نے یہ بتادیا کہ ہمارا ادراک دنیا میں اس کا تجربہ پانے سے عاجز ہے۔ جیسے ارشاد ہوا 'وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ' (اور تمہیں کیا ادراک کہ القارعتہ کیا ہے؟) 
۔
یہ پانچ نمائندہ حسیات کچھ یوں ہیں: دیکھنا، سننا، چھونا، چکھنا اور سونگھنا۔ اگر آپ کسی گھر، آفس یا مقام کو دیگر انسانوں کیلئے جاذب ترین بنانا چاہتے ہیں تو ان ہی پانچ پہلووں یعنی پانچ حسیات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں اگر ایک گھر دیکھنے میں نفاست سے سجا ہے، سننے میں دھیمی پرسکون آواز سناتا ہے، چھونے میں صاف و گداز معلوم ہوتا ہے، چکھنے کیلئے خوش ذائقہ پکوان یا میوے وغیرہ رکھتا ہے اور سونگھنے کیلئے مدہم بھینی خوشبو سے مہک رہا ہے تو اس گھر میں داخل ہونے والا ہر شخص اس کے سحر و حسن میں گرفتار ہوجائے گا۔ اس اہتمام کا خاص بیان ہمیں جنت کے بارے میں ملتا ہے جہاں بقیہ اور ان گنت زاویوں کیساتھ ساتھ ان پانچوں حسیات کی جمالیاتی تکمیل بھی ہوگی۔ یہی کلیہ انسان کی اپنی ظاہری شخصیت کی جاذبیت کیلئے بھی منطبق ہوسکتا ہے۔ گو لازم نہیں کہ پانچوں ہی کا اہتمام ہو۔ مگر پانچ میں سے جتنی حسیات ممکن ہوں ان کا اہتمام کرنا آپ کی مجموعی شخصیت کو چار چاند لگا سکتا ہے۔ بعض افراد یہ گمان کربیٹھتے ہیں کہ شائد ان کا مہنگا لباس پہننا یا خوبصورت نظر آنا ہی کافی ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ کچھ افراد خوبصورت نظر آنے کے باوجود کسی اور حسیاتی پہلو کو بری طرح نظر انداز کر بیٹھتے ہیں اور ساری جاذبیت پل میں رفوچکر ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر ان کے پاس سے ناگوار پسینے کی بدبو آتی ہے یا وہ ایسے اکھڑ لہجے میں مخاطب ہوتے ہیں جو سماعتوں پر تازیانہ بن کر برستا ہے۔ اب آپ چاہے دیکھنے میں پرنس چارمنگ یا اسنو وائٹ ہی کیوں نہ لگیں؟ آپ کی ظاہری شخصیت کبھی بھی ملنے والے پر اچھا تاثر قائم نہیں کرسکتی.
۔
====عظیم نامہ====
۔ 
(نوٹ: ایک پروقار شخصیت کیلئے ذہانت، اعتماد، علم وغیرہ بھی اہم ترین ہیں۔ گو تحریر میں صرف انسان کے ظاہری پہلووں کو موضوع بنایا گیا ہے)

کتابیں پڑھنے کے شوق پر فیس بک کے اثرات



کتابیں پڑھنے کے شوق پر فیس بک کے اثرات 



.
ایک مقبول عام رائے یہ ہے کہ سوشل میڈیا اور بلخصوص فیس بک کے بڑھتے رجحان نے لوگوں کو کتاب سے دور کردیا ہے. یہ رائے کسی حد تک درست بھی ہے مگر پورا سچ نہیں ہے. یہ درست ہے کہ واقعی سوشل میڈیا کے اس سیلاب نے ہمارے وقت پر کچھ اس طرح قبضہ کرلیا ہے کہ مجھ سمیت بہت سے کتب بینی کے شوقین افراد کا کتاب سے رشتہ کمزور ہوا ہے. مگر یہ بھی سچ ہے کہ اسی فیس بک پر موجود تحریروں کی بدولت بیشمار لوگوں میں مطالعہ کی ہمت و شوق پیدا ہوا ہے. اب وہ افراد بھی کتابیں پڑھ رہے ہیں جو فیس بک پر جڑنے سے قبل کورس کی کتابوں کے سوا کوئی کتاب نہیں پڑھ سکتے تھے. نہ ہی انہیں اس کا شوق تھا نہ ہی ہمت. فیس بک پر موجود نت نئے موضوعات پر تحریریں، اردو بلاگز اور پی-ڈی-ایف ڈیجیٹل کتابوں نے انہیں یہ حوصلہ دیا ہے کہ اگر وہ ایک طویل تحریر شوق سے پڑھ سکتے ہیں تو پھر یقیناً پوری کتاب بھی پڑھ سکتے ہیں. انہیں یہ بات سمجھ آئی ہے کہ جاسوسی ناول اور رومانوی ڈائجسٹ کے علاوہ سنجیدہ موضوعات بھی دلچسپ ہوسکتے ہیں. اس کا ایک بڑا ثبوت ملک بھر میں ہونے والے وہ کتابی میلے ہیں جنہیں منتظمین کے بقول ماضی سے کہیں زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی. نوجوانوں سے لے کر ادھیڑ عمر تک کے مرد و زن ان میلوں میں امڈ آئے اور کتابوں کی ریکارڈ فروخت ہوئی. 
۔
بات اتنی ہی نہیں ہے کہ لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق بیدار ہورہا ہے بلکہ اس زریعے سے سینکڑوں ہزاروں نئے لکھاری بھی وجود میں آئے ہیں۔ جن میں سے کئی کی تو کتب بھی شائع ہوگئی ہیں۔ ان لکھاریوں کی اکثریت سوشل میڈیا کے اس انقلاب سے قبل خود بھی اپنے بارے میں یہ امر نہیں جانتی تھی کہ وہ اچھا لکھ سکتے ہیں۔ ان ہی تحریروں سے اردو زبان کا فروغ بھی ملک بھر اور بیرون ممالک میں اردو سمجھنے والو کیلئے ہوا ہے۔ ورنہ مغربی تعلیم یافتہ طبقے کی ایک تعداد تو اردو پڑھنا یا لکھنا ہی بھول گئے تھے اور صرف اردو بولنے سننے پر گزارہ تھا۔ فرقہ واریت کی وہ دیوار جو مذہبی حلقوں نے اپنے اپنے مسالک پر یہ کہہ کر لگا رکھی تھی کہ مخالف مسلک کی کتب پڑھنا ناجائز ہے۔ منافرت کی وہ دیوار فیس بک کی دیوار کی تاب نہ لاسکی۔ یہاں قاری ہر مسلک سے وابستہ افراد کو پڑھنے پر مجبور ہے جس سے عدم برداشت کم ہوئی ہے اور بہتر موقف اختیار کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ مدرسے اور کالج کا جو فرق دینی و دنیاوی تعلیم کی تفریق پر قائم کیا گیا تھا وہ بھی اس ریلے میں بہہ گیا ہے۔ اب مدرسے کا ایک طالبعلم کسی یونیورسٹی کے پروفیسر سے گپ لگاتا ہے تو کالج کا طالبعلم کسی مفتی و عالم سے تالی مار کر گفتگو کرلیتا ہے۔ عوام الناس جو اب تک پرنٹ اور الیکڑونک میڈیا کی ذہنی غلام بنی رہی ہے۔ آج اسے فیس بک، ٹوئیٹر جیسے سوشل میڈیا کے وہ ذرائع میسر آئے ہیں جن سے وہ اپنی رائے کا موثر طور پر اظہار کرسکیں۔ یہ تحریری اظہار اتنا طاقتور ہے کہ انقلابی تحریک بن کر کئی ممالک سے جابر حکمرانوں کا تختہ پلٹ چکا ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج ملک کا مین اسٹریم میڈیا بھی کئی معاملات میں سوشل میڈیا سے ڈکٹیشن لینے پر مجبور ہے۔ فیس بک کا اعتدال سے ہٹ کر یا غلط استعمال نقصان دہ ضرور ہے مگر ہماری رائے میں اس کے ان گنت فوائد ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
۔
====عظیم نامہ====

وزیراعظم غریب عوام میں گھل مل گئے




وزیراعظم غریب عوام میں گھل مل گئے !


۔
یہ کوئی راز نہیں کہ آج مسلم معاشرے میں جس سدھار کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ان کے "معاملات" ہیں۔ یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں "عبادات" جیسے نماز، روزہ، حج، صدقات سب کا اہتمام قابل قدر درجے میں کیا جاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود ایک دوسرے سے بحیثیت شوہر یا بیوی، باپ یا ماں، بیٹا یا بیٹی، نوکری پیشہ یا کاروباری، مزدور یا سیٹھ ۔۔۔ سب حیثیتوں میں ہمارے مجموعی معاملات اسلامی اقدار سے بہت دور محسوس ہوتے ہیں۔ اسی ضرورت کو محسوس کرکے آج دانشوروں سے لے کر مسجد کے صاحبان منبر تک کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ وہ اپنا فوکس عبادات سے زیادہ معاملات کے سدھار پر مرکوز کریں۔ میرا اپنا احساس یہ ہے کہ اب مساجد کے منبر سے فی الواقع حقوق العباد اور معاملات کے سدھار کی بات ماضی سے زیادہ کی جارہی ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشرتی سطح پر کمتر درجے میں بھی سدھار نہیں پیدا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ہر صاحب شعور کو یہ سوچنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے؟
۔
ہماری احقر رائے میں اس کا ایک بڑا سبب روایتی اصطلاحات کے ساتھ روایتی طرز خطابت ہے جسکی وجہ سے بات کی اثر انگیزی زائل ہوجاتی ہے۔ ہماری اس بات کو سمجھنے کیلئے ایک مثال پر غور کریں۔ ہم بچپن سے ٹی وی پر ایک مخصوص الفاظ کی رپورٹنگ سنتے آرہے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ "پاک فوج کی توپوں نے دشمن کو 'منہ توڑ'جواب دیا اور دو چوکیاں تباہ کردی" ۔۔۔ یا پھر بتایا جائے گا کہ "وزیر اعظم نے فلاں متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور غریب عوام میں 'گھل مل' گئے" وغیرہ۔ اب اس طرح کی جملے بازی یا رپورٹنگ اتنی کثرت سے کی گئی ہے کہ اپنی اثر انگیزی کھو بیٹھی ہے۔ یہ گھسے پٹے الفاظ ہماری سماعتوں پر گرتے تو ضرور ہے مگر قلب و ذہن تک اپنا رستہ نہیں بنا پاتے۔ ٹھیک اسی طرح ہمارے یہاں معاملات کے سدھار کا درس تو دیا جارہا ہے مگر ایسے روایتی الفاظ، مخصوص طرز خطابت اور بار بار دہرائی گئی ان احادیث کیساتھ جنہیں سن کے سامعین تقدس سے گردن تو جھکا لیتے ہیں مگر اپنی زندگی کو اس سے relate نہیں کرسکتے یعنی مطابقت قائم نہیں کرپاتے۔ اگر ہم واقعی لوگوں کی انفرادی و معاشرتی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ وہ انداز و الفاظ اختیار کریں جو مخاطبین کی زندگیوں سے میل کھاتا ہو۔ ایسے حالات حاظرہ، آپ بیتیاں اور تاریخی واقعات سنائے جائیں جو سننے والے کی توجہ پوری طرح جذب کرلیں اور انہیں یہ موقع فراہم کریں کہ وہ ان واقعات کے آئینے میں اپنے معاملات یا اخلاقی شخصیت کا عکس دیکھ سکیں۔ ان مسائل کا زکر ہو جو ہماری زندگیوں سے براہ راست متعلق ہیں جیسے ٹریفک قوانین کی پابندی، پان گٹکے وغیرہ سے پرہیز یا مہذب مکالمے کی اہمیت وغیرہ۔ ہم یہ قطعی نہیں کہہ رہے کہ بیان کرتے وقت آیات و احادیث نہ سنائی جائیں۔ عرض فقط اتنی ہے کہ روایتی انداز و الفاظ سے اجتناب برتا جائے تاکہ الفاظ صرف الفاظ بن کر واہ واہ میں نہ ڈھلیں بلکہ اخلاق بن کر کردار میں موجزن ہوں۔
۔
====عظیم نامہ====

احساس ندامت



احساس ندامت



۔
اپنے کسی گناہ، غلطی یا جرم پر احساس ندامت کا ہونا بھی ایک مومن کیلئے بہت بڑی نعمت ہے۔ بلاشبہ اپنے نفس کی اصلاح وہی کرسکتا ہے یا اپنے گناہ سے تائب وہی ہوسکتا ہے جو اپنی کی گئی غلطی کو غلطی مان کر اس پر پر نادم ہو یعنی اپنے اندر احساس ندامت رکھتا ہو۔ اب جو غلط کو غلط ہی نہ سمجھے یا جو اپنی غلطی کی تاویلیں پیش کرکے اس کا دفاع کرے تو ایسے شخص سے کبھی توبہ کی امید بھی نہیں کی جاسکتی۔ احساس ندامت انسان کے قلب میں بوجھ بن کر ضمیر کو ملامت کرنے پر اکساتا ہے۔اسے گناہ کا احساس دلاتا ہے۔ اسے کچوکے لگاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بلآخر اپنی غلطی سے تائب ہو اور واپس رجوع کرلے۔
۔
لیکن کسی دوسرے انسان کو غلط طور پر کسی احساس ندامت کی مستقل اذیت میں مبتلا کردینا ایک قبیح عمل ہے۔ پھر چاہے آپ کی نیت دوسرے کو نیکی کی جانب بلانے کی ہی کیوں نہ ہو؟ آپ کسی کو اس داخلی عذاب میں مبتلا نہیں کرسکتے۔ میرا اشارہ ان دینی بہن بھائیو کی جانب ہے جو اپنے مخاطبین کو کبھی جہنم کا ڈراوا دے کر اور کبھی نفل کام کو فرض بتا کر کسی اچھائی کی جانب بلاتے ہیں۔ ہمیں یہ اختیار ہرگز نہیں ہے کہ ہم اپنی مرضی سے دین کو تبدیل کردیں۔ اور دین کو تبدیل کردینا یہی نہیں کہ آیات و احادیث کے قطعی پیغام کو بدلنے کی کوشش ہو بلکہ دین کو بدلنا یہ بھی ہے کہ آپ کسی فرض کو نفل یا نفل عمل کو فرض کی طرح پیش کرنے لگیں۔ مثال کے طور پر فرض رکعات کے علاوہ سنتوں یا نوافل کا اہتمام مستحب تو ضرور ہے مگر فرض نہیں ہے۔ لہذا کسی کا اپنے مخاطب کو یہ خوف دلانا کہ تم نے نماز میں سنتوں یا نوافل کا اہتمام نہ کیا تو جہنم میں جاو گے یا تراویح کا اہتمام نہ کیا تو روزوں کا کوئی فائدہ نہیں یا فلاں اذکار نہیں پڑھے تو گناہ کا وبال تمہارے سر ہوگا۔ ایک نہایت غلط روش ہے۔ اس طرح آپ دوسرے انسان کو مستقل احساس جرم و ندامت میں ڈالے رکھتے ہیں جس سے بعض اوقات وہ دین سے متنفر ہوجاتا ہے اور کبھی اپنی بخشش کی امید ہی چھوڑ بیٹھتا ہے۔ خدارا اپنا تقوی دوسرے پر فتوی بناکر مسلط نہ کریں۔ کسی نفل عمل کی چاہے کتنی ہی فضیلت کیوں نہ ہو؟ اسے فرض جیسا بنا کر پیش کرنا مجرمانہ فعل ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کچھ اہل علم دانستہ دینی احکام میں موجود رعایتوں کو اس خدشے کے سبب بیان ہی نہیں کرتے کہ عوام انہیں معمول نہ بنالیں جیسے حالت سفر میں نماز کو قصر کرنا یا ظہر عصر، مغرب عشاء کو ملا کر ادا کرنا وغیرہ. حالانکہ آپ معمول نہ بنانے کی مخاطب کو تنبیہ تو کرسکتے ہیں مگر کسی موجود آسانی کو چھپا نہیں سکتے.
۔
====عظیم نامہ====

آپ کم کیوں لکھتے ہیں؟


آپ کم کیوں لکھتے ہیں؟



۔
یہ سوال کئی بار مجھ سے ان باکس میں پوچھا گیا ہے کہ آپ دوسرے لکھاریوں سے کم پوسٹیں کیوں کرتے ہیں؟ فلاں فلاں لکھاری تو روز تین تین چار چار تحریریں لکھتے ہیں۔ اس سوال کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ میں صرف وہی لکھتا ہوں جو مجھ پر گزرا ہو، جسے میں نے جیا ہو یا جسے بعد از تحقیق سمجھا ہو۔ لہذا اسی سبب سے اکثر حالات حاظرہ پر جب دیگر لکھاری کثرت سے لکھ رہے ہوتے ہیں تو میں پوسٹ نہیں کرپاتا۔ اسی سوال کا دوسرا جواب یہ ممکن ہے کہ فیس بک کے بہت سے نمائندہ لکھاری یا تو درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ جیسے دینی علماء و طلباء وغیرہ۔ یا پھر وہ صحافت سے منسلک ہیں جیسے جرنلسٹ و کالم نگار وغیرہ۔ ان دونوں ہی حلقوں کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لکھنا لکھانا ان کے موجود زریعہ معاش کے آڑے نہیں آتا بلکہ کچھ کیلئے تو باقاعدہ معاونت کا کام سرانجام دیتا ہے۔ مجھ جیسے افراد کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ میں بطور آئی ٹی پروفیشنل ایک نوکری سے وابستہ ہوں۔ جہاں اتنا لکھنے کیلئے وقت نکالنا بھی خاصہ کٹھن ہے جتنا میں لکھ پاتا ہوں۔ 
۔
آپ طویل پوسٹیں کیوں کرتے ہیں؟
=====================
۔
یہ دوسرا سوال ہے جو بطور شکایت مجھ سے کیا جاتا ہے۔ جیسا پہلے ہی عرض کیا کہ میں وہی لکھتا ہوں جسے شدت سے محسوس کیا ہو۔ اب وہ احساسات یا سمجھ کتنی سطور میں وارد ہوتے ہیں؟ اس کی قید میں خود بھی نہیں لگا سکتا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے میر یا غالب سے کوئی شکایت کرے کہ آپ نظم یا غزل مختصر لکھا کریں۔ تصور کیجیئے کہ کوئی اقبال سے یہ کہہ کر خفا ہو کہ آپ نے شکوہ اور جواب شکوہ اتنی طویل کیوں لکھی؟
۔
آپ سادہ اردو میں تحریر کیوں نہیں لکھتے؟
===============================
۔
یہ تیسرا سوال ہے جو ہر مہینے ایک بار ضرور سامنے آتا ہے۔ میرا اپنا احساس یہ ہے کہ میں سادہ ترین اردو لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر بعض اوقات کوئی سادہ اردو کا لفظ میسر نہیں ہوتا جو آپ کے ذہن میں اٹھنے والے احساس کا ترجمان بن سکے۔ ایسے میں ضروری ہوجاتا ہے کہ کسی بہتر یا ثقیل لفظ کو شامل کیا جائے۔ پھر تحریر کا حسن اس کا مضمون یا انداز ہی نہیں ہوا کرتے بلکہ خوبصورت الفاظ بھی ایک عام سی بات کو جاذب بنا دیتے ہیں۔ ثقیل اردو لکھنا ایک بات ہے اور اچھی اردو لکھنا دوسری بات۔ مضمون کو زبردستی ثقیل کردینے کے ہم ہرگز قائل نہیں۔ جیسا کچھ لکھاری کیا کرتے ہیں۔ مگر اچھی اردو میں فقط عامیانہ الفاظ ہی شامل ہوں؟ یہ ممکن نہیں۔ 
۔
====عظیم نامہ====

جناح سیکولر تھے یا مذہبی



جناح سیکولر تھے یا مذہبی ؟


.
یہ سوال قیام پاکستان سے لے کر آج تک دو طبقات فکر کے درمیان گونجتا رہا ہے. ایک کے نزدیک قائد اعظم محمد علی جناح (رح) ایک سیکولر دماغ کے انسان تھے جن کا مقصد پاکستان کی صورت میں ایک 'پروگریسو سیکولر' ریاست کا قیام تھا. دوسرے گروہ کے نزدیک وہ ایک مذہبی دماغ کے ساتھ ایک ایسی اسلامی ریاست کے قیام کے متمنی تھے جہاں قران و سنت کے احکام کا اطلاق کیا جاسکے. یہ دونوں گروہ ایک دوسرے پر تاریخ مسخ کرنے کا الزام لگاتے ہیں اور اپنی اپنی رائے کے دلائل میں محمد علی جناح کے خطبات و تحریری یادداشتیں پیش کیا کرتے ہیں. پریشان کن امر یہ ہے کہ جناح کی تقاریر میں جہاں جابجا ایک 'اسلامی' قوانین پر مبنی ریاست کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے وہاں کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں اس نئی ریاست سے متعلق ان کے نظریات سیکولر محسوس ہوتے ہیں.
سیکولر طبقہ فکر اپنے موقف کے حق میں گیارہ اگست کی تقریر سے اقتباسات پیش کرتے ہیں. ایک نمونہ درج ذیل ہے:
.
"آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔"
.
مگر اس تقریر کے بعد کی وہ تقاریر جو ریکارڈ پر موجود ہیں بتاتی ہیں کہ جناح پاکستان کو ایک مکمل اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے. جیسا کے 30اکتوبر1947ء کو یونی ورسٹی اسٹیڈیم لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ:
"اب میں آپ سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہر شخص تک میرا یہ پیغام پہنچا دیں کہ وہ یہ عہد کرے کہ وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اور اسے دنیا کی ان عظیم ترین قوموں کی صف میں شامل کرنے کے لیے بوقتِ ضرورت اپنا سب کچھ قربان کردینے پر آمادہ ہوگا۔"
.
اسی طرح 25جنوری 1948ء میں کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایاکہ:
.
"وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ لوگوں کا ایک طبقہ جو دانستہ طور پر شرارت کرنا چاہتا ہے، یہ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی۔ قائد اعظم نے فرمایا: ’’آج بھی اسلامی اصولوں کا زندگی پر اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح تیرہ سو برس پیشتر ہوتا تھا۔‘‘
.
یہ دونوں موقف رکھنے والو کی جانب سے ایک دو مثالیں ہیں. ورنہ ایسی ہی اور بہت سی شہادتیں دونوں طبقہ فکر پیش کرتے ہیں. ہماری دانست میں بناء کسی جانبداری کے جب ہم اس پورے سلسلے کا جائزہ لیتے ہیں تو کچھ بنیادی باتیں سامنے آتی ہیں. سب سے پہلے تو اس حقیقت کا انکار ممکن نہیں ہے کہ جناح پہلے دن سے ایک دیانتدار، ذہین اور سچے مزاج کے حامل تھے مگر ان کی زندگی کا بیشتر حصہ کسی روایتی مذہبی انسان کا نہیں ہے. مغربی چال ڈھال اور رہن سہن ان کی زندگی سے واضح تھا. ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی میں مذہب سے بلکل ہی دور رہے ہوں لیکن مذہب سے غیر معمولی لگاؤ بھی نہیں محسوس ہوتا. جناح کی سوچ میں انقلابی بدلاؤ علامہ اقبال سے رفاقت کے سبب ہوا. یہ اقبال ہی تھے جنہوں نے جناح کو لندن سے واپس ہندوستان آنے پر مجبور کردیا. ورنہ جناح ہندوستانی سیاست سے کنارہ کش ہوکر لندن جاچکے تھے. اقبال اپنی فراست سے یہ اجنتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو جس قیادت کی ضرورت ہے وہ جناح ہی کی صورت میں انہیں میسر آسکتی ہے. ان دونوں عالی دماغوں نے موجود صورتحال کا جائزہ لے کر بلآخر اس امر پر اتفاق کرلیا کہ مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن ناگزیر ہے. جناح کی جانب سے اقبال کو بھیجا گیا ایک خط اس کا ثبوت ہے. اس دور میں جناح اپنی تقاریر میں اسلام کے نظریات پر بات کرتے، وہ عوامی مقامات میں اسلامی روایات کا ذکر کرتے۔ جناح اقبال کی سوچ سے کس حد تک متاثر تھے کا اندازہ 1940ء میں کی گئی انکی ایک عوامی تقریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ"اگر مستقبل میں ہندوستان میں ایک مثالی اسلامی مملکت قائم ہوئی اور مجھ سے کہا جائے کہ اس طرز حکمرانی اور اقبال کے کام میں بہتر کونسا ہے تو میں ،مؤخر الذکر کو ہی چنوں گا۔" اقبال کے انتقال کے بعد تحریک پاکستان میں جناح کے دست بازو کے طور پر علامہ شبیر احمد عثمانی رح کھڑے نظر آتے ہیں. جناح علامہ عثمانی کی اس قدر کرتے تھے کہ غیر مسلک ہونے کے باوجود اپنے ایام انتقال میں یہ وصیت کرکے گئے کہ ان کی نماز جنازہ شبیر احمد عثمانی ہی پڑھائیں. 
.
یہ ممکن ہے کہ نوجوانی میں مغربی فلسفوں یا سیکولرزم کا رنگ آپ کی فکر پر رہا ہو مگر اپر درج اور اس جیسے کئی اور امور اسی حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح رح کی اصل جدوجہد کے آخری سال ایک مذہبی یا مسلم دماغ کے حامل رہے ہیں. یہ خارج از امکان نہیں کہ آخری دور تک ان کی گفتگو میں کچھ جھلک ان کے سابقہ خیالات کی بھی نظر آجاتی ہو مگر اسے جھٹلانا ممکن نہیں کہ بطور قائد وہ پوری دیانتداری سے ایک ایسی ریاست کے خواہاں تھے جہاں قران و سنت کے اصولوں کا اطلاق کیا جاسکے. گو انہیں زندگی نے اس کے پورے اظہار کی مہلت نہ دی. 
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: راقم خود کو تاریخ کا کوئی بہت اچھا طالبعلم نہیں سمجھتا لہٰذا اس پوسٹ کو ایک عامی کی رائے سمجھا جائے. جسے قاری چاہے تو بناء کوئی تلخی پھیلائے رد کرسکتا ہے
)

پردہ پوشی



پردہ پوشی 



.
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا یَسْتُرُعَبْدٌ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا إِلَّا سَتَرَہُ اللہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ. (رقم۶۵۹۵)
.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جوشخص دنیا میں کسی کے عیب چھپاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔ 
.
لہٰذا اے سوشل میڈیا کے باسیو ، اگر کسی شخص کا کوئی گناہ تمہیں معلوم ہو جائے تو اس کا اپنی وال پر اشتہار نہیں دیا کرو. ممکن ہو تو اسے احسن انداز میں نصیحت کرو ورنہ فقط پردہ پوشی پر اکتفاء کرو. یاد رکھو کہ ہم میں سے ہر ایک خطا کار ہے، مجرم ہے. فرق اتنا ہے کہ رب نے ہمارے گناہ پر پردہ ڈال کر اب تک ہمیں معزز کررکھا ہے. اگر ہم سب کے گناہ ایک دوسرے پر ظاہر ہو جائیں تو شائد شکلیں بھی دیکھنا نہ پسند کریں. اس لئے ہم پر یہ فرض ہے کہ اپنے کسی بھائی یا بہن کا بیچ چوراہے میں (فیس بک وغیرہ) پر بھانڈا نہ پھوٹنے دیں. نہ ہی اس کی بے عزتی کریں. اگر آج ہم کسی کے عیوب پر پردہ نہیں ڈالتے بلکہ اسے اچھال کر مزہ لیتے ہیں تو کل یوم آخر رب کریم کی ستاری چادر میں بھی شائد جگہ نہ مل سکے. صرف اسی صورت راز افشاں کرنا درست ہے جب گنہگار تائب ہونے کو تیار نہ ہو اور اس کے گناہ سے فتنہ پھیلنے یا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو. ایسی صورت میں بھی صرف متعلقہ افراد یا ادارے کو ہی اطلاع دینی چاہیئے. یہ نہیں کہ اس کا عوام میں یا سوشل میڈیا کے عوامی پلیٹ فارمز پر تماشہ کیا جائے. 
.
حضرت سیِّدُنا ابوہیثم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے حضرتِ سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی: ’’میرے پڑوسی شراب نوشی کرتے ہیں اور میں پولیس کو بلاناچاہتاہوں تاکہ وہ انہیں گرفتار کرلے۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’ایسا مت کرو، انہیں وعظ ونصیحت کرو۔‘‘عرض کی: ’’میں نے انہیں منع کیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ باز نہیں آتے، میں پولیس کو بلانا چاہتا ہوں تاکہ وہ انہیں گرفتار کر لے۔‘‘ توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: تیری ہلاکت ہو، ایسا مت کر بے شک میں نے رحمت ِ عالم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’جس نے کسی کا عیب چھپایا گویا اس نے زندہ دبائی ہوئی بچی کو اس کی قبر میں زندہ کیا(یعنی اس کی جان بچائی)۔‘‘ -- (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب البر والاحسان ،باب الجار، الحدیث:۵۱۸)
.
====عظیم نامہ====