Monday, 8 January 2018

ایک شیخ

ایک شیخ


کہتے ہیں کہ ایک شیخ اپنے طالبعلموں کو قران حکیم کی تعلیم دے رہے تھے. وہاں سے ایک الحاد زدہ شخص کا گزر ہوا. اس نے شیخ کو استہزائی انداز میں مخاطب کرکے جملہ کسا .... "شیخ ! تم سب کتنے احمق ہو ! دنیا والے سائنس پڑھ کر چاند پر پہنچ گئے اور تم لوگ ابھی تک قران و حدیث میں لگے ہوئے ہو" ....
.
شیخ مسکرا کر متوجہ ہوئے اور جواب دیا .... "اس میں کیا حیرت کی بات ہے؟ وہ مخلوق ہیں اور ایک مخلوق سے دوسری مخلوق تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایک عمدہ کوشش ہے. ہم مخلوق ہیں اور اپنے خالق تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایک بہترین کوشش ہے. دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ خیر ضرور حاصل کررہے ہیں. لیکن تم واقعی احمق ہو جس نے نہ سائنس پڑھ کر ان کے ساتھ مخلوقات کی حقیقت کو پانے کی سعی کی اور نہ ہی ہمارے ساتھ قران و سنت سمجھ کر خالق کو پانے کی کوشش کی. تم دونوں ہی حوالوں سے احمق ہو." ....
.
====عظیم نامہ====

(ایک انگریزی بیان کا تاثر)

نماز میں خشوع کا دوسرا درجہ

نماز میں خشوع کا دوسرا درجہ


خشوع کا اونچا درجہ تو یہی ہے کہ دوران نماز، عابد حضوری کے احساس سے سرشار ہو اور اس کا ارتکاز مکمل طور پر تلاوت و مفہوم پر قائم رہے۔ مگر یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے جھنجھٹوں میں پھنسے ہم لوگوں کی نماز طرح طرح کے خیالات سے نبردآزما رہتی ہے۔ ایسے میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ دوران نماز دین و رب سے متعلق خیالات کا آنا معصیت و گناہ کے خیالات کے مماثل نہیں ہے۔ گویا ہمارے نزدیک ذہن کا خیالات میں بھٹکنا ایک جیسا نہیں۔ ایک بھٹکنا محبوب یعنی قرب خدا سے دوری کا استعارہ ہے اور دوسرا بھٹکنا اپنے محبوب کی گلی میں بھٹکنا ہے۔ کسی عارف نے سچ کہا ہے کہ نماز میں آپ کا ذہن وہاں ہی رہتا ہے جہاں نماز سے باہر رہتا ہے۔ اگر آپ کی روزمرہ کی مصروفیات میں دین کو ترجیح حاصل ہے تو خیالات کی آمد بھی دین سے متعلق رہے گی مگر اگر اس کے برعکس آپ کی زندگی گناہ و معصیت یا حصول مادیت کے گرد گھومتی ہے تو دوران نماز بھی خیالات اسی سے وابستہ ہونگے۔ نیک خیالات نماز یا دین سے آپ کو کبھی دور نہیں لے جائیں گے۔ جبکہ گناہ سے آلودہ خیالات نہ صرف خشوع کو دور کردیں گے بلکہ جلد ہی نماز و دین کی پابندی سے بھی آپ کو محروم کردیں گے۔
۔
====عظیم نامہ====

آپ کیا پریکٹس کرتے آئے ہیں


آپ کیا پریکٹس کرتے آئے ہیں


انگریزی کا ایک مقبول مقولہ ہے کہ 'پریکٹس میکس دی مین پرفیکٹ'. یعنی کسی کام کا بار بار کرنا یا دہرانا آپ کو اس کام کا ماہر بنا دیتا ہے. 
.
اسی طرح کنگ فو کی فیلڈ میں ایک چینی کہاوت ہے کہ 'مجھے ان ایک لاکھ داؤ سے خطرہ نہیں ہے جو تم نے ایک بار پریکٹس کئے ہیں. مجھے تو اس ایک داؤ سے خوف ہے جو تم نے ایک لاکھ بار پریکٹس کئے ہیں'
.
ایک اور مشہور مقولہ یہ بھی ہے کہ 'ہم پہلے اپنی عادات بناتے ہیں اور پھر وہ عادات ہمیں بناتی ہیں' - گویا پہلے ہم کسی کام کو بار بار کر کے اس کی عادت ڈال لیتے ہیں مگر پھر وہی عادت ہماری مستقل صفت بن کر ہماری شخصیت کا تعارف بن جاتی ہے.
.
یہ تمام اور اس جیسے اور بہت سے اقوال و کہاوتیں دراصل ایک ہی حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہیں اور وہ یہ کہ کسی بھی کام کی بار بار پریکٹس آپ کو اس خاص کام کا ماہر بنادیتی ہے. اب سوال صرف اتنا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں آج تک کیا پریکٹس کرتے رہے ہیں؟
.
اگر آپ شکایت پریکٹس کرتے آئے ہیں تو کچھ ہی عرصے میں آپ اس میں ایسے ایکسپرٹ ہوجائیں گے کہ جلد ہی لوگوں سے، معاشرے سے، رشتوں سے اور خدا سے آپ کو طرح طرح کی شکایات ہونے لگیں گی 
.
اگر آپ تنقید پریکٹس کرتے آئے ہیں تو یقین جانیئے کہ جلد ہی آپ تنقید کے اتنے بڑے ماہر بن جائیں گے کہ مثبت سے مثبت ترین بات میں بھی تنقیدی پہلو ڈونڈھ نکالیں گے 
.
اگر آپ سکون پریکٹس کرتے آئے ہیں تو بہت جلد آپ سخت سے سخت حالات میں بھی سکون کا پیغام بنے نظر آئیں گے. 
.
سوال بہرحال یہی ہے کہ آپ کیا پریکٹس کرتے آئے ہیں؟
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 28 December 2017

کہت کبیر


کہت کبیر


کبیر داس دنیا بھر کے نمائندہ تاریخی اسپرچولسٹ شخصیات میں شمار کیئے جاتے ہیں. ان کے افکار میں بیک وقت ہندو دھرم اور دین اسلام دونوں کی تعلیمات کی تائید بھی جھلکتی ہے اور انکار بھی نظر آتا ہے. گو آپ کی پرورش ایک مسلم گھرانے میں ہوئی مگر ان کی اصل مذہبی شناخت کے بارے میں اتنا زیادہ ابہام ہے کہ کسی حتمی فیصلے تک پہنچنا مشکل ہے. البتہ اس کا اعتراف ہر محقق و طالبعلم کرے گا کہ آپ کی سوچ اور شاعری نے روحانیت کے سالکین کو ہمیشہ اپنی جانب مائل کیا ہے. ہم یہاں اپنے قارئین کیلئے ان کی ایک طویل نظم کے کچھ چنیدہ اشعار درج کررہے ہیں. اس امید کے ساتھ کہ قاری تعصب سے بالاتر ہو کر ان میں سے خیر کشید لے گا.
.
=======
کہت کبیر
=======
.
بُرا جو دیکھن میں چلا ، بُرا نہ مِلیا کوئے
جو مَن کھوجا اپنا ، تو مُجھ سے بُرا نہ کوئے
.
کبیرا کھڑا بازار میں، مانگے سب کی خیر
نہ کَہو سے دوستی ، نہ کَہو سے بَیر
.
سائیں اتنا دیجئے جا مَیں کُٹمب سمائے
میں بھی بھوکا نہ رہوں سادھو نہ بھوکا جائے
.
مایا مَری نہ من مَرا ، مَر مَر گئے شریر
آشنا ترشِنا نہ مَری ، کہہ گئے داس کبیر
.
دُکھ میں سِمرن سَب کریں سُکھ میں کرے نہ کوئے
جو سُکھ میں سِمرن کرے تو دُکھ کہاں سے ہوئے ؟
.
جیسے تِل میں تیل ہے ، جِیوں چَکمک میں آگ
تیرا سائیں تُجھ میں ہے ، تُو جاگ سکے تو جاگ
.
دھیرے رے مَنا ، دھیرے سب کچھ ہوئے
مالی سینچے سو گھڑا ، رُت آئے پھل ہوئے
.
ماٹی کہے کُمہار سے ، تُو کیا روندھے موئے ؟
اِک دِن ایسا ہو وے گا ، میں روندھوں گی توئے
.
مالا پھیرتے جگ بَھیا ، پھرا نہ من کا پھیر
مالا کا منکا چھوڑ دے ، مَن کا منکا پھیر
.
جب تُو آیا جَگت میں ، لوگ ہنسے ، تُو روئے
ایسی کرنی نہ کری ، پیچھے ہنسے سب کوئے
.
چِنتا ایسی دیکھنی ، کاٹ کلیجہ کھائے
وَید بِچارا کیا کرے ، کہاں تک دوا لگائے
.
میرا مُجھ میں کُچھ نہیں ، جو کُچھ ہے سو تیرا
تیرا تُجھ کو سونپ دیں ، کیا لاگے ہے میرا ؟
.
حد حد جائے ہر کوئی ، اَن حد جائے نہ کوئے
حد اَن حد کے بیچ میں ، پڑا کبیرا سوئے
.
کلام: بھگت کبیر داس
.
انتخاب: عظیم الرحمٰن عثمانی

نبی کیلئے جنت کا ہونا عدل کے خلاف یا نہیں


نبی کیلئے جنت کا ہونا عدل کے خلاف یا نہیں




سوال:نبوت کسبی نہیں وھبی ہے ۔ یعنی انبیاء طے شُدہ ہوتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے معصیت سے محفوظ ۔ جبکہ اُمتی امتحان میں ہوتا ہے ۔ یہ کیسا عدل ہے؟

جواب:
تاخیر کیلئے معزرت. جی آپ نے درست کہا کہ نبوت کسبی نہیں وھبی ہے. گویا انسان اپنے عمل و ریاضت سے شہید، صدیق، صالح کا درجہ حاصل کرسکتا ہے مگر نبی کا درجہ عمل نہیں خالص عطا ہے. سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ رب کریم چاہے تو کسی مخلوق کو بذریعہ امتحان اپنی جنت میں داخل کرے اور چاہے تو کسی مخلوق جیسے ملائکہ کو بناء امتحان جنت میں داخلہ دے دے. یہ خالص اللہ پاک کا ہی ڈومین ہے. اسی طرح جب اللہ رب العزت کسی انسان کو نبوت پر فائز فرماتے ہیں تو اس سے یہ بات تو ضرور لازم ہوجاتی ہے کا وہ شخص اب معصیت سے محفوظ رکھا جائے گا. مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آزمائش سے نہ گزرے گا بلکہ اسے تو اسی کے لوگوں میں جھوٹا، سحر ذدہ اور پاگل جیسے القاب دے کر رسوا کیا جاتا ہے. سچ تو یہ ہے کہ نبی کو اتنی سخت ترین نفسیاتی و جسمانی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے جس کے خود پر تصور سے بھی روح کانپ جائے. رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی ہو، یوسف علیہ السلام کو بچپن میں غلام بنا  دینا ہو، موسیٰ علیہ السلام کو شیرخواری میں دریا برد کرنا ہو، ابراہیم علیہ السلام کے والد کا انہیں سنگسار کردینے کی دھمکی دینا ہو، یعقوب علیہ السلام کی اذیت ہو، اسمعیل علیہ السلام کا خود ذبح ہونے کیلئے چھری کے نیچے لیٹنا ہو، ایوب علیہ السلام کا بیماری میں مبتلا ہوکر اپنے پیاروں کی دھتکار سننا ہو، نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سال کی شب و روز مشقت ہو، یونس علیہ السلام کی ایک خطا پر مچھلی کے پیٹ میں اپنی چمڑی گلانا ہو. یہ اور بہت بہت کچھ جسے انبیاء کو سہنا پڑتا ہے اسے سوچ کر بھی کپکپی طاری ہوتی ہے. دوسری جانب ایک امتی کیلئے جنتی ہونا اور جنت میں اونچے ترین درجات، یہاں تک کے نبیوں کی رفاقت حاصل کرنا نسبتاً نہایت آسان نظر آتا ہے. گویا یہ دیکھنے کا زاویہ ہے. آپ کہتے ہیں کہ یہ کیسا عدل ہے کہ امتی امتحان میں ہوتا ہے اور نبی کا جنتی ہونا طے ہے؟ کوئی دوسرا یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کیسا عدل ہے کہ امتی صرف توبہ کے ساتھ فرائض بھی پورے کرلے تو جنت کے باغات میں داخل ہوسکتا ہے اور نبی کو اتنے خوفناک و ہولناک آزمائشوں سے گزر کر یہی جنت کے باغات حاصل ہوتے ہیں. حقیقت یہ ہے کہ ہمارا رب سب سے بڑا عادل ہے، اس کا کوئی عمل عدل کا کمتر درجے میں بھی منافی نہیں. وہ بہتر جانتا ہے کہ کن کن صلاحیتوں یا موقعوں کے ملنے کے بعد کتنی کتنی آزمائش عدل کیلئے ضروری ہے؟
.
====عظیم نامہ====

Friday, 22 December 2017

دہرا عذاب


دہرا عذاب 


Image may contain: 1 person
.
ہم مشاہدہ رکھتے ہیں کہ موت کے ایام میں ہر جانور ایک سخت تکلیف کا سامنا کرتا ہے. اس کے اندرونی و بیرونی اعضاء ایک ایک کرکے ناکارہ ہونے لگتے ہیں تو اس پر ایک ایسا عذاب گزرتا ہے جسے اس سے پہلے اس نے کبھی نہ بھگتا تھا. کسی جانور کو اس تکلیف دہ عمل سے گزرتا دیکھنا، فطری طور پر انسان کو رنجیدہ کردیتا ہے. وہ اس کی چیخوں اور اذیت کو اپنی سابقہ جمسانی تکالیف یاد کرکے کسی حد تک سمجھ پاتا ہے. مگر انسان کی اپنی موت کا معاملہ ذرا الگ ہے. 
.
سوچتا ہوں کہ موت کے وقت انسان دہری اذیت سے گزرتا ہے. جہاں اس کا جسمانی وجود شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے، وہاں اس کا نفسیاتی شاکلہ بھی ایک ناقابل بیان کرب سے گزرتا ہے. گویا اسے اس جسمانی اذیت کا تو سامنا ہوتا ہی ہے جو دیگر حیوانات کو پیش آتی ہے. مگر ساتھ ہی چونکہ وہ اپنی شخصیت میں عقلی اور جذباتی دونوں پہلو رکھتا ہے، لہٰذا اسے حالت مرگ میں ایک نفسیاتی دوزخ کا بھی سامنا ہوتا ہے. اسے اپنی زندگی کا اختتام سوچ کر دہشت طاری ہونے لگتی ہے، اپنی اولاد و دیگر گھر والو کی ذمہ داریاں یاد کرکے اس کا کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے، مہلت ختم ہوئی اور حیات بعد الموت کسی بھی لمحہ شروع ہونی ہے .. یہ سوچ اسے ہلکان کررہی ہوتی ہے. اس کی یادداشت اسے تمام ادھوری خواہشات اور نامکمل تمناؤں کی حسرت انگیز تصویر دیکھاتی ہے. غرض اکثر صورتوں میں اس کا یہ نفسیاتی کرب اسکی جسمانی اذیت سے زیادہ خوفناک ہوتا ہے. اس دہرے عذاب سے شائد چھوٹی عمر کے اطفال (بچے) کسی درجے محفوظ رہتے ہیں. ان کی عقل، جذبات، احساسات چونکہ ابھی پوری طرح تشکیل نہیں ہو پائے ہوتے لہٰذا ان پر بھی حیوانات کی مانند فقط جبلت غالب ہوتی ہے. آسان الفاظ میں بچے بالخصوص نومولود اسی یکطرفہ تکلیف سے گزرتے ہیں جس سے حیوانات بیماری یا موت کے وقت دوچار ہوتے ہیں اور اس دہری اذیت سے بچ جاتے ہیں جس سے ایک عاقل انسان کو گزرنا پڑتا ہے. شائد یہی خالص جبلت و فطرت کا ہونا ہے جس کی وجہ سے بچے اور جانور تکالیف، دکھوں یا رنجشوں کو بہت جلد بھول جاتے ہیں. 
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: یہاں ایک فرضی اور عمومی موت کی مثال لی گئی ہے اور امکانات پر غیر مذہبی طرز فکر سے سوچا گیا ہے. لہٰذا یہاں نہ تو ہر طرح کی اموات جیسے حادثاتی موت یا قتل وغیرہ کا تجزیہ کیا گیا ہے اور نہ ہی موضوع یہ ہے کہ مومن اور کافر کے مابین حالت نزاع میں کیا نفسیاتی فرق ہوتا ہے؟)

Wednesday, 20 December 2017

ہم سب قاتل ہیں


ہم سب قاتل ہیں

.
Image result for fish eat fish
سوچتا ہوں کہ کیا ہم سب قاتل ہیں؟ یوں لگتا ہے جیسے کائنات کی تمام تر موجودات اپنی بقاء کیلئے دیگر موجودات کو فنا کرنے پر مجبور ہیں. گویا ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے. ہم انسانوں کی غالب اکثریت ایسی شدید گوشت خور ہے کہ جس کیلئے وہ روزانہ کروڑوں اربوں پرندوں، چوپایوں اور دیگر حیوانات کو ذبح کر ڈالتی ہے. کون سا سا سلیم الفطرت دل ایسا ہے جو کسی جانور کو اذیت سے تڑپتے دیکھ کر اور اسکی گردن سے خون کے فوارے پھوٹتے دیکھ کر رنج محسوس نہ کرے؟ مگر پھر بھی ہم اپنے جینے کیلئے ان کی جان تلف کرتے ہیں اور صرف زبان کے چٹخارے کیلئے بھی انہیں قتل کر ڈالتے ہیں. کچھ انسانوں نے اس خونریزی کو حیوانات پر ظلم جانا اور صرف سبزی خور ہونے کا ارادہ کرلیا. بیشک حرمت جان کے پیش نظر ان کا یہ جذبہ قابل احترام ہے مگر یہ سائنسی حقیقت اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ پودے پیڑ وغیرہ بھی زندگی رکھتے ہیں، جان رکھتے ہیں اور تکلیف محسوس کرتے ہیں. قاتل ہم ویسے بھی تھے قاتل ہم ایسے بھی ہیں. حقوق حیوانات کی تنظیمیں جو حیوانات کو کھانے سے روکتی ہیں اور نباتات کے کھانے پر اصرار کرتی ہیں. وہ بھی اس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتی کہ اگر کوئی فرق پڑا تو فقط اتنا پڑا کہ حیوانات کا تڑپنا، خون کا نکلنا اور چیخیں مارنا ہم مشاہدہ کرپاتے ہیں. جب کے نباتات کی تڑپ اور چیخ ہم اپنی محدودیت کے سبب مشاہدہ نہیں کرپاتے. پھر یہی تنظیمیں جو حیوانات کے قتل کو انسانیت سوز قرار دیتی ہیں، وہ حشرات الارض کے حقوق کیلئے کوئی تحریک نہیں چلایا کرتی. ان حشرات کو پیروں سے ہی نہیں کچلا جاتا بلکہ مختلف کھانوں میں اقوام استعمال کرتی ہیں. اتنا ہی نہیں بلکہ نیشنل ٹی وی چینلز پر ایسے پروگرام 'ریلیٹی شوز' کے نام پر چلتے ہیں جس میں شرکاء ان حشرات کو زندہ چبا جاتے ہیں. کوئی کچھ نہیں کہتا بلکہ اس ہمت پر داد دی جاتی ہے.
.
کچھ سمندری مخلوقات بھی حقوق کی دوڑ میں مچھلیوں یا مگرمچھوں سے کمتر ہیں لہٰذا انہیں بھی مہذب ممالک تک کے پوش ریسٹورینٹز میں زندہ کھا لیا جاتا ہے اور کسی تنظیم برائے حقوق کے دل میں درد نہیں ہوتا. سچ تو یہ ہے کہ ہم سب قاتل ہیں اور قاتل بنے رہنے پر مجبور ہیں. اس پوسٹ کو پڑھنے کے دوران جتنی بار آپ نے سانس لی ہے، اس میں لاتعداد جراثیم آپ کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں. کتنے ہی حشرات آپ میں سے کئی کے بوجھ تلے مارے گئے ہیں. یہ سب مخلوقات 'زندگی' رکھتی ہیں، خوراک لیتی ہیں، جوانی و بڑھاپے سے گزرتی ہیں. نا جانے ہمیں یہ حق کس نے دیا کہ ہم ایک مخلوق کی جان کو دوسری مخلوق کی جان پر مقدم قرار دے دیں؟ شائد ہم نے برہمن، راجپوت، دلت اچھوت جیسی تقسیم و تفریق یہاں بھی کر رکھی ہے. یہی زندگی کا دائرہ ہے عزیزان من. یہاں زندگی اور موت ایک دوسرے کا مسلسل ایسے پیچھا کررہی ہے جیسے دن اور رات ایک دوسرے کا کیا کرتے ہیں. موت و حیات کا یہ کھیل یونہی جاری رہے گا جب تک ایک دوسری دنیا کا قیام نہ ہو جہاں موت کا خاتمہ کرکے اس مسلسل جاری دائرے کو بنانے والا خود اسے توڑ ڈالے.
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: اس تحریر کو راقم کی ایک غیر مذہبی خودکلامی پر محمول کیا جائے. مذہبی نقطہ نظر سے اسے نہ پیش کیا گیا ہے اور نہ اس نظر سے قاری کو اسے دیکھنا چاہیئے)