Saturday, 12 May 2018

یقین، تشکیک اور ایمان


یقین، تشکیک اور ایمان 



.
یقین وہ کیفیت ہے جب انسان کسی بات کی صداقت پر آخری درجے میں مطمئن ہو. اسے اس حقیقت کا ایسا براہ راست ادراک حاصل ہو یا فطرت کے نہاں خانوں میں ایسی گواہی موجود ہو کہ پھر نہ کسی دلیل کی حاجت رہے نہ ممکنہ تفکر کی. مثال کے طور پر میرے لئے یہ صداقت کہ "میں" ہوں اور آپ سے مخاطب ہوں یا آپ کیلئے یہ حقیقت کہ "آپ" ہیں اور آپ اس تحریر کو سوشل میڈیا پر پڑھ رہے ہیں. 
.
تشکیک یا شک دراصل یقین کے منافی کیفیت کا نام ہے. جب کسی شے کی حقیقت و صداقت پر آپ کو عقلی و قلبی اطمینان نہ باقی رہے تو یہ کیفیت شک کہلاتی ہے. یہ ممکن ہے کہ کسی شے یا دعوے پر آپ کو شک تو ہو مگر وہ شک ایسا قوی نہ ہو جو آپ کو اسے مکمل جھٹلانے یا نہ ماننے پر مجبور کرسکے. لیکن ساتھ ہی اس شک کی موجودگی آپ کو یقین کی منزل پر بھی نہ پہنچنے دے. 
.
ایمان وہ کیفیت ہے جو براہ راست تجربے کا نتیجہ تو نہیں ہوتی. البتہ تفکر و تدبر سے ایسے قرائن و براہین پالیتی ہے جو کسی شے یا دعوے کی صداقت پر آپ کو مطمئن کرسکے. 
.
کسی دعوے پر 'یقین' اسی وقت کرنا درست ہے جب فی الواقع آپ کے ذہن و قلب اسکی صداقت پر آخری درجے میں راضی ہوں. ساتھ ہی یہ یقین اندھا نہ ہو بلکہ اسکی براہ راست گواہی آپ کے باطن یا پھر خارج سے آپ کو حاصل ہوتی ہو. بہت سے افراد مختلف دعووں پر زبردستی 'یقین' کر بیٹھتے ہیں جو پھر کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی سیاست و طاقت کے نام پر فساد کا باعث بنتے ہیں. 'تشکیک' کا ہوجانا ایک فطری و عقلی رویہ ہے. بلکہ یہ کہنا بھی شائد غلط نہ ہو کہ انسانی شعور کے ارتقاء میں تشکیک کو کلیدی حیثیت حاصل ہے. انسان کسی بھی بات کی صحت کا اسی وقت تعین کرسکتا ہے جب وہ اسے جانچے اور جانچنے کیلئے لازم ہے کہ وہ سوال اٹھائے اور تشکیک کے مراحل سے گزرے. البتہ جس طرح کسی بھی شے کی زیادتی مضر ہوا کرتی ہے ویسے ہی تشکیک کو عمدہ ترین صفت سمجھ کر شک کی کیفیت سے نہ نکلنے کی ٹھان لینا بھی صحتمند رویہ نہیں. یہ افسوسناک امر ہے کہ کچھ جدید فلسفیانہ اذہان نے شک کرنے اور شکوک پھیلانے کو ہی علمی رویہ سمجھ لیا ہے. نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اپنے اس عقلی سفر میں وہ سکون سے عاری ہی رہتے ہیں اور اسی غلط فہمی میں مرجاتے ہیں کہ شائد یہی ذہانت کی معراج ہے.
.
اسکے برعکس اعتدال پر مبنی ایک وہ رویہ ہے جو دین ہمیں عطا کرتا ہے. دین ان تینوں رویوں کو ان کے صحیح مقام و محل پر رکھتا ہے. وہ جہاں ہمیں کچھ آفاقی و روحانی حقیقتوں پر ہمیں یقین کرنا سیکھاتا ہے. وہاں ہمارے اردگرد موجود بیشمار خود ساختہ فلسفوں پر 'تشکیک' سے انکار یعنی 'لا' تک کا سفر کرواتا ہے. تفکر و تدبر کے نام پر الہامی حقائق پر سوال کرنے کی حوصلہ افزائی کررتا ہے. اسی طرح بقیہ حقیقتوں پر دلائل و براہین سے گزار کر اپنے مخاطب کو 'ایمان' رکھنے کی تلقین کرتا ہے. دھیان رہے کہ ایمان بن دیکھے تو ہوسکتا ہے بن سمجھے نہیں. ہم میں سے اکثر ایمان کو یقین کے مماثل سمجھ لیتے ہیں حالانکہ ان دونوں میں ایک باریک مگر بنیادی فرق ہے. ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے. جیسے سورہ النساء میں آتا ہے "..اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں.." گویا ایمان زیادہ بھی ہوتا ہے اور کئی احادیث سے ظاہر ہے کہ کم بھی ہوجاتا ہے.اسکے برعکس یقین منجمد ہوتا ہے. وہ گھٹتا بڑھتا نہیں ہے. گو اسکے اپنے تین درجات ہیں جن کا بیان اختصار کے سبب کرنا مناسب نہیں. (علم الیقین،عین الیقین اور حق الیقین)
.
"اور جب ان سے کہا گیا جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا "کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں؟" خبردار! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں ہیں" - سورہ البقرہ ١٣
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 10 May 2018

آپ کو میں پسند نہیں

آپ کو میں پسند نہیں


مجھ سے کئی خواتین و مرد یہ کہتے رہے ہیں کہ عظیم مجھے آپ بہت پسند ہیں. میں عموماً ان کا شکریہ ادا کرکے خاموش ہوجاتا ہوں مگر آج انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کو میں پسند نہیں ہوں. بلکہ آپ کو میرا وہ امیج یا تصوراتی خاکہ پسند ہے جو اس فیس بک کی تحریروں کے ذریعے آپ تک منتقل ہوا ہے. میں حقیقت میں کیسا ہوں؟ میرا مزاج، میرا اخلاق، میرے عادات و اطوار کیسے ہیں؟ یہ آپ قطعی نہیں جانتے. مجھے فی الواقع جاننے کا دعویٰ یا تو میرے بیوی بچے کرسکتے ہیں یا پھر وہ عزیز و اقارب جو مجھ سے قریب رہے ہوں. مجھ سمیت دیگر جتنے لکھاریوں کو آپ پڑھتے ہیں یا فیس بک کے ذریعے جانتے ہیں، اگر ان کی بیگمات سے ان کا اخلاق پوچھا جائے تب معلوم ہو کہ عمل کی دنیا میں ان کا کردار کیسا ہے؟ اس فیس بک کی دنیا سے دھوکہ نہ کھائیں. بہت ممکن ہے کہ آپ کا شوہر، بھائی، بیوی یا بہن مجھ جیسے نام نہاد دانشور سے ہزار گنا بہتر انسان ہوں. لہٰذا سراب کو بہشت سمجھنے کی بجائے جو حاصل ہے اسکی قدر کیجیئے. 
.
====عظیم نامہ====

حسن کیا ہے؟

حسن کیا ہے؟

.
ایسا کیوں ہے کہ کم و بیش ہر زبان کے بولنے والے افراد شاعری کرتے ہیں اور شاعری کو پسند کرتے ہیں؟ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک ہی بات جب نثر میں بیان ہو تو ویسی اثر انگیزی نہیں رکھتی جیسی کسی شعر یا نظم کا پیرہن پہن کر لگتی ہے؟ کیوں کسی غزل کے اشعار سن کر ہماری طبیعت مسکرا اٹھتی ہے؟ اور کیوں ہم حمد و نعت سے لے کر قوالی و موسیقی تک شاعری کے مداح بن جاتے ہیں؟ ہمیں محبت کے لطیف جذبات کا اظہار کرنا ہو، ہمیں جدائی کا رنج و کرب بیاں کرنا ہو، ہمیں کسی کے حسن کے قصیدے پڑھنے ہوں، ہمیں انقلاب برپا کرنا ہو .. غرض مقصد و جذبہ کوئی بھی ہو، ہم کیوں شاعری ہی کو کہنا اور سننا پسند کرتے ہیں؟ ایسا کون سا حسن ہے جو شاعری میں پنہاں ہوتا ہے اور جس سے ہماری روح جھوم جھوم جاتی ہے؟ غور کیجیئے تو شاعری کا اصل حسن اس کے ' توازن ' میں ہے. مانا کہ دوسرے لوازم جیسے الفاظ کا انتخاب اور پیغام اپنی جگہ اہم ہیں مگر یہ سب تو نثر یا تقریر سے بھی منتقل ہوسکتے تھے. دراصل یہ توازن ہی ہے جو شاعری کو وہ جاذب حسن عطا کردیتا ہے جو اپنے مخاطب کی عقل و سماعت کو جکڑ لے اور اسے اپنا بنالے.
.
اسی تمہید کو سامنے رکھ کر جب سوچتا ہوں کہ حسن کیا ہے؟ تو جواب ملتا ہے کہ حسن توازن ہے. گویا کسی شے کا متوازن ہونا اس کے حسین ہونے کی دلیل ہے. کسی خاتون کی آنکھوں میں توازن نہ ہو تو یہ اس کا بھینگا پن یعنی نقص کہلاتا ہے، کسی مرد کے دانت آگے پیچھے ہوں یعنی توازن سے خالی ہوں تو اس کا حسن ماند پڑ جاتا ہے. یہ کائنات ہمیں حسین لگتی ہے اور اسکی اصل وجہ اس کا بہترین نظم یعنی توازن ہے. اسی توازن کا بیان قران حکیم میں بارہا کیا گیا جیسے سورہ الرحمٰن میں ارشاد ہوا وَالسَّماءَ رَفَعَها وَوَضَعَ الميزانَ - اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے میزان (توازن رکھنے والی) رکھی. یہی توازن کسی نہ کسی درجے میں ایک شاعر کی شاعری میں، ایک لکھاری کی نثر میں، ایک گائیک کی گائیکی میں، ایک مصور کی تصویر میں، ایک معمار کی تعمیر میں، ایک مقرر کی تقریر میں، ایک رقاص کے رقص میں اور ایک عابد کی عبادت میں حسن بن کر ظاہر ہوتا ہے. اگر جسم میں توازن نہ ہو تو پیروں پر کھڑا تک ہونا ناممکن، اگر خوراک میں توازن نہ ہو تو صحت کا برقرار رکھنا ناممکن، اگر خوراک کے اجزاء جیسے نمک و چینی وغیرہ میں توازن نہ ہو تو لذت برقرار رکھنا ناممکن اور اگر شمس و قمر جیسے فطری مظاہر میں توازن نہ ہو تو کائنات کا قائم رہنا ناممکن. گو چار سو توازن ہی ہے جو ہمیں حسن و بقاء کی داستان رقم کرتا نظر آرہا ہے. یہی توازن انسانی شخصیت میں جلوہ گر ہو تو اسے حسین بنا دیتا ہے. متوازن مزاج شخصیت ہی جاذب کہلا سکتی ہے. گویا مزاح، سنجیدگی، غضب، حلم اور ایسی دیگر انسانی صفات جس قدر شخصیت میں توازن سے موجود ہونگی، اسی قدر وہ شخصیت کا حسن بن کر نمایاں ہوسکیں گی.
.
====عظیم نامہ====

Monday, 7 May 2018

آنکھوں دیکھی



آنکھوں دیکھی

Image may contain: 1 person, text
.
"آنکھوں دیکھی" ایک ایسی کہانی ہے جو روایتی فلموں سے خاصہ ہٹ کر ہے اور جو اپنے ناظر کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے. گو اس فلم نے بہترین کہانی اور اداکاری پر کئی ایوارڈ جیتے ہیں مگر اسکے باجود ہمیں یقین ہے کہ عوام کی اکثریت نے پانچ سال قبل ریلیز ہونے والی اس مووی کو نہیں دیکھا ہوگا. وجہ وہی ہے کہ یہ کوئی ناچ گانے پر مبنی محبت و انتقام وغیرہ کی کہانی نہیں ہے بلکہ انسانی سوچ کے سنجیدہ زاویوں کو نمایاں کرتی ہے. لہٰذا اسے سمجھنے اور سراہنے کیلئے مخصوص ذوق کا حامل ہونا ضروری ہے. یہ درحقیقت ایک ایسے سوچنے والے ادھیڑ عمرانسان کی روداد ہے جو ایک نچلے متوسط گھر کا سربراہ ہے. کچھ ایسے حالات و واقعات پیش آتے ہیں، جن کے سبب یہ صاحب ٹھان لیتے ہیں کہ کسی کے کہے سنے کو اب سچ تسلیم نہیں کریں گے بلکہ فقط اپنی 'آنکھوں دیکھی' ہی کو سچ مانیں گے. ان کا یہ فیصلہ آسان ثابت نہیں ہوتا اور چاروں طرف سے ان کی مخالفت ہونے لگتی ہے. دوست احباب مذاق اڑاتے ہیں. بیگم بچے فقرے کستے ہیں. نوکری چلی جاتی ہے. بھائی گھر چھوڑ جاتا ہے مگر یہ اپنے فیصلے پر ڈٹے رہتے ہیں. انہیں پنڈت کوئی پرساد پیش کرے تو چکھ کراسے قلاقند مٹھائی کہتے ہیں مگر پرساد نہیں مانتے. انہیں کوئی بتائے کہ من موہن سنگھ ملک کے سربراہ ہیں تو اسے نہ تسلیم کرتے ہیں اور نہ رد. بلکہ کہتے ہیں کہ "ہونگے". گویا یہ ان کی نظر میں فقط ایک امکان ہے. شیر دھاڑتا ہے یا منمناتا ہے، اس کا فیصلہ اسوقت تک نہیں کرتے جب تک چڑیا گھر میں شیر کو دھاڑتا نہیں سن لیتے. انہیں جہاں دیدہ کہلانے سے زیادہ وہ کنویں کا مینڈک بننا زیادہ پسند ہے جو کم از کم اپنے کنویں سے اچھی طرح واقف ہو.
.
آہستہ آہستہ ان کے اردگرد لوگوں کا حلقہ بڑھنے لگتا ہے. وہ لوگ جو کل تک انہیں پاگل جھکی کہہ رہے تھے اب ان کے سچے پکے معتقد مرید بن جاتے ہیں. یہ سب بھی اسی فلسفے کو اپناتے ہیں کہ وہی ماننا ہے جو 'آنکھوں دیکھی' سے ثابت ہو. کچھ عرصے کیلئے یہ حضرت بلکل خاموش بھی ہوجاتے ہیں تاکہ حکمت کے راز مزید منکشف ہوں. خود ساختہ گونگا بن کر یہ اپنا پیغام سڑکوں پر بینرز اٹھا اٹھا کر پیش کرتے ہیں. ایک شاگرد ایسا بھی شامل ہوتا ہے جو مسلسل فلسفیانہ گفتگو بناء رکے کرتا ہے. گویا اسے بولنے کی بیماری سی ہوگئی ہوتی ہے. یہ اسے ہفتوں تک پورے انہماک سے سنتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسکے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے اور وہ بلاخر خاموش ہوجاتا ہے. یہ صاحب اپنے شاگردوں کو بار بار تلقین کرتے ہیں کہ میرا سچ تمہارے سچ سے الگ ہوگا. اپنا سچ خود تلاش کرو.مگر یہ مرید اندھے مقلد بن کر اپنے مرشد یعنی ان صاحب کا سچ ہی اپنا سچ بنا بیٹھتے ہیں. جو ان کیلئے دل آزاری کا سبب بنتا ہے. ان صاحب کا یہ انہونا و اچھوتا سفر انہیں کس حد تک لے جاتا ہے؟ یہ اپنے آپ میں ایک داستان ہے. راقم کا سچ یقیناً ان صاحب کے سچ سے بلکل جدا ہے مگر اسکے باوجود انسانی سوچ و فکر کیا کیا گل کھلاتی ہے؟ اس حوالے سے ہمیں یہ کہانی خوب لگی.
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: فلم کا لنک خود گوگل سے ڈھونڈھ لیجیئے. ایک لنک ہم پہلے کمنٹ میں درج کیئے دیتے ہیں)

دو موجودات


دو موجودات



دین کی رو سے صرف دو موجودات ایسے ہیں جنہیں دیکھتے رہنا بھی ثواب کا باعث ہے. پہلا 'بیت اللہ' اور دوسرا اپنے 'والدین'. لوگ کسی بزرگ کی دعا کیلئے دن رات جتن کرتے ہیں مگر اکثر ویسی کوشش اپنے والدین کی دعا کے حصول کیلئے نہیں کرتے. حالانکہ یہ باپ کی دعا ہے جو رد نہیں ہوتی اور یہ ماں کی دعا ہے جو عرش ہلادیتی ہے. 
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: تحقیق سے راقم پر منکشف ہوا ہے کہ کعبہ اور والدین کو دیکھنے پر ثواب کا بیان جن احادیث یا آثار میں ہوا ہے وہ صحیح اسناد سے ثابت نہیں. گو دونوں موجودات کی جانب محبت کی نظر کرنا دین کے مجموعی تاثر سے مستحب عمل محسوس ہوتا ہے. لہٰذا اس نوٹ کو پوسٹ میں اب کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد داخل کیا جارہا ہے)

یادوں کے جھروکے سے


یادوں کے جھروکے سے ..



.
زندگی میں بعض ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو بظاہر معمولی ہونے کے بعد بھی آپ کی یادداشت کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں اور ساتھ ہی چپکے سے آپ کو زندگی کا کوئی قیمتی سبق بھی پڑھا جاتے ہیں. ایسی ہی دو یادیں درج ذیل ہیں.
.
پہلا واقعہ کچھ یوں ہوا کہ ایک انگریز میرے ساتھ آفس میں کام کرتا تھا. یہ ہنس مکھ سا ملنسار انسان معلوم ہوتا. کئی بار اس سے سامنا ہوا مگر مسکراہٹ کے تبادلے کے سوا کوئی بات نہ ہوسکی. پھر ایک روز موقع آیا تو ہم نے اسے صبح بخیر (گڈ مورننگ) کہنے کے بعد دوسروں کی طرح حسب روایت دریافت کیا کہ کیا حال چال ہیں؟ اب ہمیں پوری توقع تھی کہ اس کا بھی جواب ویسا ہی رسمی ہوگا جیسے کوئی عام انگریز کچھ یوں دیتا ہے کہ 'میں ٹھیک ہوں، تم کیسے ہو؟' یا پھر مسلمان الحمدللہ کا رسمی و لفظی اضافہ کرکے یہی جملہ دہرا کر اپنا مذہبی فریضہ پورا کردیتا ہے. مگر ایسا نہ ہوا. جب میں نے اس سے پوچھا کہ 'کیا حال چال ہیں؟' تو اس نے غور سے میرا سوال سنا، ایک لمحہ توقف کیا. جیسے سوچ رہا ہو اور پھر پوری مسرت کے ساتھ بولا کہ "عظیم میں بلکل ٹھیک ہوں بلکہ میں بہت زیادہ خوش ہوں. مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں اتنا خوش نصیب کیسے ہوں؟ اور کیسے ہر چیز بہترین چل رہی ہے." میں اس کے اس غیر متوقع جواب پر چونکا اور سٹپٹا کر اسے دیکھنے لگا. اس کے چہرے پر خوشی اور سکون تھا. لہجے میں دیانت اور الفاظ میں سچائی. دوستو میں خود الحمدللہ ایک پرسکون اور خوش انسان ہوں مگر یقین کیجیئے کہ اس انگریز دوست کی بات نے دل پر کچھ ایسا مثبت اثر ڈالا کہ دل خوشی سے لبریز ہوکر مسکراہٹ میں ڈھل گیا. سیکھ یہ ملی کہ شکرگزاری اگر سچی ہو تو رسمی الفاظ کا لبادہ نہیں اوڑھتی بلکہ اسکی بات اور شکرگزاری تو دل سے نکلتی ہے اور دل پر اثر کرجاتی ہے.
.
دوسرا واقعہ کچھ ایسے ہوا کہ ابتداء میں جب پاکستان سے لندن آیا تو ایک نہایت مہنگے علاقے کے ایک معروف پاکستانی ریسٹورنٹ میں نوکری ملی. اس کے مالک ایک نہایت کامیاب پاکستانی کاروباری تھے. جن کی اس ریسٹورنٹ کے علاوہ بھی بہت ساری پراپرٹی اور بزنس جیسے ہوٹلز یا گھر وغیرہ تھے. میں اس ریسٹورنٹ میں کبھی بیرا بن کر گاہکوں کی خدمت کرتا اور کبھی ان کے جھوٹے برتن صاف کرتا. کبھی خانساماں کا ہاتھ بٹا کر کھانا پکانے میں مدد دیتا اور کبھی کیشیئر کی ذمہ داری سنبھال لیتا. یہ شروع شروع کے دن تھے اور شروع کے دنوں میں پاکستان سے آئے متوسط پڑھے لکھے افراد کو ایسے کام کرنا طبیعت پر گراں گزرتا ہے. میرے ساتھ بھی یہ معاملہ تھا مگر خود کو سمجھا بجھا کر پوری جانفشانی سے میں ہر محنت کا کام کررہا تھا. مگر پھر ایک دن ریسٹورنٹ کے مالک نے مجھے پونچھا (موپ) لگانے کو کہا. یوں لگا کہ جیسے کسی نے عزت نفس پر چھرا گھونپا ہو. بڑی مشکل سے خود کو راضی کیا اور ریسٹورنٹ میں پونچھا لگانے لگا. اب باس نے کہا کہ ذرا ریسٹورنٹ کے باہر سامنے بھی پونچھا لگا دو. یہ بات تو جیسے طبیعت پر بجلی کی مانند گری. اتنے مصروف علاقے میں لوگوں کے سامنے پونچھا لگانا مجھے اپنے لئے شدید ذلت محسوس ہوئی. بے اختیار آنکھوں میں آنسو امڈ آئے. میری اس کیفیت کو شائد ریسٹورنٹ کے مالک بھانپ گئے. انہوں نے فوری کہا کہ عظیم پونچھا چھوڑو تم جاکر کیش کاونٹر سنبھالو. اس کے بعد انہوں نے میرے ہاتھ سے پونچھا لیا اور ریسٹورنٹ کے باہر کی جگہ پر لوگوں کے بیچ پونچھا لگانے لگے. میں حیرت ذدہ سا انہیں دیکھنے لگا کہ ایک ارب پتی انسان پونچھا لگانے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتا؟ اور میں خود کو اتنا لارڈ گورنر سمجھتا ہوں کہ مجھے یہ کام کرنا ذلت محسوس ہوا؟ اس کے بعد میں نے ایسے متعدد واقعات دیکھے جب کامیاب ترین انسانوں نے کسی ایسے کام کو کرنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی. جنہیں ہم پاکستان میں یہ کہہ کر نہیں کرتے کہ میں کیا کوئی بھنگی چمار ہوں؟ اس واقعہ سے سیکھ ملی کہ کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا اور کسی جائز کام کے کرنے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیئے. 
.
====عظیم نامہ====

مسکراتی یادیں



مسکراتی یادیں 



.
ہر انسان کی زندگی میں ایسے کئی غیر متوقع واقعات پیش آتے ہیں جو وقتی طور پر اسے حیران بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی باقی زندگی کیلئے مسکراہٹ کا سامان بھی بن جاتے ہیں. ایسے ہی چند واقعات راقم کی زندگی سے درج ذیل ہیں.
.
میری ایک سابقہ نوکری میں ایک انڈین سکھ کام کرتا تھا. یہ بندہ انگلینڈ ہی کا پیدائشی تھا اور اپنی بہترین انگریزی کی وجہ سے ہم سب میں ممتاز نظر آتا تھا. انگریزی الفاظ کا ذخیرہ، چناؤ اور لہجے کی روانی ایسی عمدہ تھی کہ مجھ سمیت اکثر کو رشک محسوس ہوتا. ہم دونوں میں اکثر انگریزی میں گفتگو ہوتی رہتی. ایک دن 'اسٹاف لاکرز روم' میں وہ اپنے لاکر کو کھول رہا تھا. مجھے دیکھ کراس نے پہلی بار انگریزی کی بجائے پنجابی میں گفتگو کرنا چاہی تو کچھ یوں بولا .. "عظیم پائی .. میں پہے لاکر وچ رکھ ریا سی .. پر پائی اتھے تے کیڑی آندی اے کیڑی !" .. (میں پیسے لاکر میں رکھ رہا تھا مگر یہاں تو کیڑے ہوگئے ہیں) ... ایک تو اس نے سالوں بعد پہلی بار انگریزی کی بجائے مجھ سے اچانک پنجابی میں بات کی اور پھر یہ جملہ بھی ایسے ٹھیٹھ پینڈو لہجے میں بولا کہ مجھے چپ سی لگ گئی. ایسا نہیں ہے کہ مجھے پنجابی پسند نہیں ہو لیکن اس مہذب ترین انگریزی لہجے والے دوست نے پنجابی بولتے ہوئے کچھ ایسا انداز اختیار کیا کہ پہلے وقتی صدمہ سا لگا اور اس کے بعد یہ روداد زندگی بھر کی ایک مسکراتی یاد بن گئی. 
.
انگلینڈ میں ماسٹرز کرنے کے دوران میں ایک معروف 'فیشن ریٹیل فرم' میں ملازم تھا. ایک روز ایک انگریز عورت گاہک بن کر شاپنگ کر رہی تھی. اس کا سات آٹھ سال کا بیٹا نہایت بگڑا ہوا ضدی بچہ تھا. جس نے مصنوعی رونا چیخ چیخ کر پورا اسٹور سر پر اٹھا رکھا تھا. بچے کی ماں اپنے بگڑے لاڈلے کے سامنے بلکل مجبور بنی گھوم رہی تھی. میرے ساتھ ہی میرا انگریز مینجر بھی موجود تھا. جب کسی صورت اس بچے کا رونا نہ رکا تو وہ ماں کی نظر سے بچ کر اس بچے کے پاس گیا. مینجر کے چہرے پر بچے کیلئے شفقت اور مسکراہٹ تھی. وہ اس کے بلکل سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا. مجھے لگا کہ اب وہ بچے کو لاڈ پیار سے بہلائے گا. مگر اس نے بچے کو تھپڑ کا اشارہ دیکھا کر کرختگی سے کہا ... 
"Should I give you a better reason to cry about ! ??"
(یعنی .. کیا میں تمہیں رونے کی کوئی بہتر وجہ دوں؟)
یہ ضدی بچہ سہم کر اچانک چپ ہوگیا اور پھر باقی وقت چپ ہی رہا. لیکن سچ بات یہ ہے کہ اپنے مینجر کا یہ اوتار دیکھ کر خود میں بھی دنگ رہ گیا. اب بھی اسکی بات یاد آتی ہے تو بے اختیار مسکرا دیتا ہوں.
.
اسی طرح ایک اسٹور میں ملازمت کے دوران جب میں گاہکوں کی خریداری کو اسکین کرکے انکے حوالے کر رہا تھا تو ایک انگریز یہودی گاہک میرے پاس آیا. اس کے بالوں کی لمبی لٹیں، گھنی داڑھی اور مخصوص لمبا سیاہ کوٹ اس کے مذہبی ہونے کی نشاندہی کررہا تھا. میں نے حسب معمول اسے ہیلو کہا تو جواب میں اس نے مجھے جھک کر آداب کیا اور نہایت خوبصورت اردو میں میرا حال چال پوچھنے لگا. اس غیر متوقع افتاد سے میں کچھ لمحوں کے لئے سٹپٹایا مگر پھر مسرور ہوکر اس سے گفتگو کرنے لگا. یہ انگریز یہودی اردو ادب کا دلدارہ تھا اور بہت سالوں سے اردو سیکھ رہا تھا. اپنی گفتگو میں اس کا لہجہ بلا کا شائستہ تھا. وہ فراوانی سے نہ صرف نہایت ثقیل الفاظ استعمال کررہا تھا بلکہ غالب و اقبال کے اشعار بھی اسکی زبان پر رواں تھے. ظاہر ہے کہ میں اس بیس پچیس منٹ کی گفتگو میں اردو پر اسکی مہارت سے مرعوب ہو گیا تھا. اس کے خریدے ہوئے سامان کو اسکین کرتے کرتے آخر میں ایک دوائی (میڈیسن) بھی سامنے آئی. میں نے کچھ مروت میں اور کچھ بات آگے بڑھانے کو اس سے پوچھا کہ سب خیریت تو ہے محترم؟ یہ دوائی کیسی ہے؟ .. اس اردو کے ماہر نے ایک ہنکارا بھرا اور گرن ہلا کر کہا کہ "عظیم یہ پیٹ کے درد کیلئے ہے، دراصل مجھے کالی ٹٹیاں لگی ہوئی ہیں." مجھے اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا اور بوکھلا کر منہ سے نکلا "جی ! کیا لگی ہوئی ہیں؟" .. انہوں نے پھر اظہار تاسف سے کہا کہ روز کالی ٹٹی آرہی ہے. میرے ذہن میں سجا اس کی اردو دانی کا محل جیسے تاش کے پتوں کی مانند پل میں مسمار ہوگیا. کہاں وہ غالب و میر کی سی اردو اور کہاں کالی ٹٹی جیسے الفاظ سے اپنی بات کا اظہار؟ شائد میرے اس دوست کو ابھی اور کئی سال اردو کا ماہر بننے کیلئے درکار تھے. اب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو ہنسنے پر مجبور ہوجاتا ہوں.
.
====عظیم نامہ====