Tuesday, 4 April 2017

حاضری


حاضری


پانچ وقت نماز قائم کرنے والا مسلمان دراصل اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ خدا اسکی زندگی میں فی الواقع ترجیح اول کا درجہ رکھتا ہے. وہ خطاکار تو ہوسکتا ہے مگر سرکش نہیں ہوسکتا. نیند کس انسان کو عزیز نہیں ہوتی؟ مگر منہ اندھیرے اس نیند کو توڑ کر اور گرم بستر کو چھوڑ کر وہ فجر کیلئے وضو کرنے کھڑا ہوجاتا ہے. صرف اسلئے کہ اسے اپنے رب کا حکم اپنے آرام سے زیادہ عزیز ہے. نوکری یا کاروبار کرنے کی اہمیت سے کون انکاری ہوسکتا ہے؟ ایسے میں عین کام کے دوران جب طرح طرح کی ذمہ داریوں نے اسے جکڑ رکھا ہوتا ہے، وہ نماز ظہر کیلئے ان سب کو یکلخت ترک کردیتا ہے اور اور اپنے رب کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا ہے. صرف اسلئے کہ مالک کے سامنے حاضری اسے کسی بھی مصروفیت سے زیادہ پیاری ہے. دن ڈھلتے جب اپنا کاروبار سمیٹ رہا ہوتا ہے، نوکری نمٹا رہا ہوتا ہے تو ذہن پر یہی دھن سوار ہوتی ہے کہ بچے ہوئے کاموں کو ختم کرسکے. ایسے میں اس کے کان میں نماز عصر کی اذان گونجتی ہے اور وہ نفس پر پیر رکھ کر اپنے پروردگار کے سامنے رکوع کرنے چل پڑتا ہے. صرف اسلئے کہ اسے کسی بھی مالی فائدے سے زیادہ اہم حکم الہی کو ماننا نظر آتا ہے. سارا دن مشقت کے بعد جب گھر جانے کا وقت ہوتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ بس جلدی سے اپنے ٹھکانے پہنچ جاؤں مگر ایسے میں نماز مغرب کا وقت اسے کھینچ کر پھر اپنے معبود کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے. صرف اسلئے کہ اسکی ترجیح تسکین نفس نہیں بلکہ خدا ہے. رات میں تھکن سے چور جب سونے کا وقت قریب آتا ہے تو وقت عشاء میں ایک بار پھر اپنے رب کی بارگاہ میں عاجزی سے سجدہ ریز ہوجاتا ہے. صرف اسلئے کہ اسکے لئے آرام سے برتر اپنے رب کے حکم پر لبیک کہنا ہے. غرض یہ کہ وہ چوبیس گھنٹے کے دن میں پانچ مرتبہ نماز نہیں پڑھتا بلکہ پانچ وقت کی نماز کے دوران چوبیس گھنٹے کا دن گزارتا ہے.
.
یہ حقیقت ہے کہ ایک مسلمان کو نماز سمجھنے سے لے کر خشوع و خضوع کے حصول تک کی ہر ممکن کوشش کرنا ضروری ہے مگر نماز کی یہ پابندی جس کا بیان راقم نے کیا ہے، اپنے آپ میں ایک بہت بڑی سعادت ہے. جس طرح شفیق استاد اپنی جماعت کے کمزور ترین طالبعلم کو بھی اکثر رعایتی نمبرز دے کر اسلئے پاس کردیتے ہیں کہ وہ کم از کم کلاس میں آتا رہا، ٹوٹی پھوٹی کوشش کرتا رہا. اسی طرح 'کم از کم' اتنا تو ہو کہ پانچ وقت رب کے حضور حاضری لگتی رہے؟ کل اتنا تو وہ کہیں کہ بندہ نالائق ضرور تھا مگر کلاس میں آتا رہا. حاضری لگاتا رہا. کیا معلوم کچھ رعایتی نمبرز ہمیں بھی عطا ہوجائیں؟
.
====عظیم نامہ====

Monday, 3 April 2017

ایک اچھوت پاکستانی



ایک اچھوت پاکستانی 


.
 کیا آپ کبھی کسی بے ہنگم ہجوم کا حصہ بنے ہیں؟ جہاں رش ایسا ہو کہ کندھے سے کندھا ٹکراتا ہو. کسی کو آپ کی فکر نہ ہو. ہر انسان آپ کو دھکا مار کے بس اپنا رستہ بنانے میں دلچسپی رکھتا ہو. دائیں جانب والا بائیں جانب جا رہا ہو. بائیں جانب والا دائیں جانب آرہا ہو. کوئی غصے سے پھنکار رہا ہو، کوئی آستینیں چڑھائے لڑنے کو تیار ہو اور کوئی اپنا جرم ماننے کی بجائے آپ ہی کو مجرم بنانے کے درپے ہو. ایسی صورتحال کا سامنا کم از کم ایک پاکستانی کسی نہ کسی درجے جلوسوں میں، سڑکوں پر، بازاروں میں ضرور کر چکا ہوتا ہے. آپ کتنے ہی خوش اخلاق اور تحمل مزاج کیوں نہ ہوں؟ زیادہ دیر نہیں لگتی کہ آپ کی شخصیت پر بھی ایک جھنجھلاہٹ، ایک الجھن اور ایک غصہ حاوی ہوجاتا ہے. پھر یوں ہوتا ہے کہ آپ، آپ نہیں رہتے بلکہ اسی بے ہنگم ہجوم کا ایک بے ہنگم حصہ بن کر رہ جاتے ہیں. ایسے میں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کون غلط ہے اور کون صحیح؟ اپنے سوا سب ہی غلط نظر آنے لگتے ہیں اور حالات اتنے ابتر محسوس ہوتے ہیں کہ ان کے درست ہونے کی کوئی امید رکھنا بھی آپ چھوڑ دیتے ہیں. ایسے میں اگر کسی طرح آپ اس ہجوم سے نکل کر کسی بلند کشادہ مقام پر پہنچنے میں دانستہ یا نا دانستہ کامیاب ہو جائیں جہاں آپ نسبتاً سکون سے سفر بھی کرنے لگیں اور اس مقام سے ہجوم کا بھی جائزہ لے رہے ہوں. اس صورت میں کچھ وقفے کے بعد آپ کے حواس بحال ہوجائیں گے. وہی تحمل مزاجی اور خوش اخلاقی واپس لوٹ آئے گی جو آپ کا اصلاً حصہ تھی. اب آپ کو ان حماقتوں کا بھی ادراک ہوگا جو آپ نے ہجوم کا حصہ ہوتے ہوئے کی تھی اور بلندی سے جائزہ لے کر یہ بھی جان پائیں گے کہ اس ہجوم کو کس طرح واپس منظم کیا جائے؟ ہجوم کا حصہ رہ کر جو الجھنیں آپ کو بہت بڑی لگ رہی تھیں، اب وسیع نظر سے ان کے معمولی ہونے کا احساس ہوگا اور حقیقی مسائل کی جانب نظر مرکوز ہوگی. اب آپ کو اس ہجوم میں شامل افراد پر غصہ نہیں آئے گا بلکہ ان کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے ان سے ہمدردی ہوگی. یہ احساس ہوگا کہ اس ہجوم میں موجود لوگ میری ہی طرح اچھے لوگ ہیں بس بدنظمی کا شکار ہوکر اپنی ہی اذیت کا سبب بن گئے ہیں.
.
 ہمیں پسند آئے یا نہ آئے لیکن ہم پاکستانیوں کی کیفیت بحیثت قوم اسی بے ہنگم ہجوم کی سی ہے اور بیرون ملک مقیم محب وطن پاکستانیوں کی مثال شائد ان افراد کی جو دانستہ یا نادانستہ اس ہجوم سے نکل کر قدرے اونچے یا کشادہ مقام پر آگئے ہیں. آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا ادراک پاکستان میں بیٹھے افراد ہی کرسکتے ہیں. ہم کہتے ہیں کہ یہ گمان ایک درجے تک تو درست ہے مگر مسائل کی بھول بھلیوں سے نکلنے کا راستہ وہ شخص زیادہ بہتر بتا سکتا ہے جو خود ان بھول بھلیوں سے باہر ہو مگر اس کا مشاہدہ بلندی سے کرپارہا ہو. مسلمانوں کی قیادت کیلئے کیوں علامہ اقبال کی نظر کروڑوں کی آبادی والے ہندوستان میں موجود سینکڑوں رہنماؤں کو چھوڑ کر صرف جناح پر جا ٹکی؟ وہ جناح جو ملک چھوڑے بیٹھے تھے؟. مجھ سمیت دیگر محب وطن پاکستانیوں کو جو بیرون ملک اپنی مرضی یا کسی مجبوری کی وجہ سے آباد ہیں، مسلسل یہ طعنہ سننا پڑتا ہے کہ تم کون ہوتے ہو پاکستان کے حالات پر بولنے والے؟ اسکی کسی پالیسی یا نظام پر تنقید کرنے والے؟ شائد وہ افراد یہ چاہتے ہیں کہ ہم سب بھی ان چند پاکستانیوں جیسے ہو جائیں جو خود کو پاکستانی کہلانا ایک گالی تصور کرتے ہیں. جنہیں پاکستان کے سود و زیاں سے کوئی غرض نہیں. کیوں نہیں سوچتے یہ لوگ؟ کہ ہمارے دل آج بھی پاکستان ہی کے لئے دھڑکتے ہیں. آج بھی میز پر ٹائمز میگزین لندن اور جنگ اخبار پاکستان رکھا ہو تو میں جنگ اخبار ہی لپک کر اٹھاتا ہوں. آج بھی ہم پوری دنیا چھوڑ کر پاکستان ہی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اسی کی زمین پر فلاحی ادارے قائم کرتے ہیں، اسی کی سیاست و صحافت سے دلچسپی رکھتے ہیں، اسی کی فوج کو اپنی فوج مانتے ہیں، اسی کو کھیل سے لے کر سیاست تک میں سپورٹ کرتے ہیں. اگر آپ معاشی اعداد و شمار نکالیں تو بیرون ملک بسے پاکستانی ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہے ہیں. کیوں آپ مجھے اور میرے جیسے بیرون ملک بسے پاکستانیوں کو اچھوت بنا دینا چاہتے ہیں؟ کیوں آپ میں سے کچھ کی طبیعت ناگفتہ پر یہ گراں گزرتا ہے کہ ایک شخص بیرون ملک میں رہ کر بھی محب وطن ہوسکتا ہے؟ اپنے ملک کیلئے بات کرسکتا ہے؟ کون سا ترقی پذیر یا ترقی یافتہ ملک ایسا ہے جس کے ان گنت شہری دنیا کے دوسرے ملکوں میں آباد نہیں؟ کیا وہ بھی اپنے ان شہریوں کو یونہی ملکی معاملات سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں؟ اور ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ انہیں مساوی تکریم حاصل ہوا کرتی ہے. ضروری ہے کہ ہم پردیس میں بسے پاکستانیوں سے خار کھانے کی بجائے انہیں اپنا سمجھ کر ان کے تجربات و صلاحیتوں سے استفادہ کریں. 
.
 ====عظیم نامہ====

Sunday, 2 April 2017

ابلیس لبرل یا مذہبی


ابلیس لبرل یا مذہبی



بہت سے ایسے نوجوان جو باڈی بلڈنگ یا ورزش کے ذریعے اپنے اجسام کو مظبوط و کسرتی بناتے ہیں. ان کی چال میں کئی بار ایک عجیب سی اکڑ آجاتی ہے. چہرے پر ایک خاص سختی اور آنکھوں میں ایک عجیب سی مصنوعی شان وہ سجا لیا کرتے ہیں. 
.
 بہت سے ایسے احباب جو سائنسی یا فلسفیانہ موضوعات میں آگے بڑھ گئے ہیں. ان کے انداز فکر میں بھی کئی بار تکبر کی بو آتی ہے. خود کو عقل کل سمجھنا اور عوام کو تحقیر کی نظر سے دیکھنا ان کا مزاج بن جاتا ہے. 
.
بہت سے ایسے حضرات جو دینی علوم میں ماہر ہو جاتے ہیں. ان میں سے بھی کئی کے لب و لہجے میں عجیب سی رعونت در آتی ہے. اپنے پیش کردہ دلائل پر واہ واہ کرنے والو کا ٹولہ ان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے. ایک خاص قسم یا خاص رنگ کا جبہ اور مخصوص حلیہ وہ اپنی ذاتی شناخت کے طور پر اپنا لیتے ہیں. جس میں ممکن ہے کہ سنت کا معمولی سا شائبہ تو ہو مگر اس کی سادگی کا عکس نہ ہو. 
.
 بہت سے ایسے اشخاص جو تصوف کے سفر میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں. ان میں سے بھی کئی متقی ہونے کے کبر میں مبتلا ہوجاتے ہیں. ہاتھ چوموانا، مریدوں سے پیر دبوانا اور اپنے نام سے پہلے پیران پیر یا قطب الاقطاب جیسے القاب لگوانا انہیں عزیز ہوجاتا ہے. 
.
 سوچتا ہوں کہ جب ابلیس نے حکم خداوندی کو ٹھکرایا تھا تو اس کے اس عمل کے پیچھے شائد اپنی طاقت کی اکڑ بھی تھی، صلاحیتوں کا غرور بھی، علم کا زعم بھی اور ذہد و تقویٰ کا کبر بھی. فضول کی وہ بحث جو آج فیس بک پر جاری ہے کہ ابلیس کا سجدے سے انکار کرنا اسکے لبرل ہونے کی وجہ سے تھا یا مذہبی ہونے کے سبب سے، اس کا چنداں کوئی مصرف نہیں. اس سے کہیں بہتر ہے کہ بحیثیت اولاد آدم علیہ السلام ہم اپنا احتساب کریں کہ ابلیسیت کی کوئی جھلک آج ہمارے کردار کا حصہ تو نہیں.
.
 ====عظیم نامہ====

Friday, 31 March 2017

دو تلخ ترین سوالات



دو تلخ ترین سوالات



.
وجود خالق سے لے کر دلائل رسالت تک اور  پیغام دین سے لے وحی الہی کے اثبات تک. مشکل سے مشکل سوال کا شافی جواب الحمدللہ موجود ہے. 
 مگر غیر مسلموں کو دعوت دین کے دوران جو سوال سب سے زیادہ شاق گزرتا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اسلام فی الواقع 'امن' کا دین ہے تو اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ بے امنی کیوں؟ اگر اسلام واقعی ایک انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل کہتا ہے تو پھر کلمہ گو مسلمان اسلام کا نام لے کر معصوم انسانوں پر خودکش حملہ کیسے کردیتے ہیں؟ --
 (میں اس سوال کا بہترین ممکنہ جواب سائل کو دے دیتا ہوں جس سے وہ بڑی حد تک مطمئن بھی ہوجاتا ہے مگر یہ سچ ہے کہ یہ سوال مجھے بحیثیت مسلمان امت ہمیشہ افسردہ ضرور کردیتا ہے)
.
 عبادات سے لے کر معاملات تک ایک مسلمان کے جتنے سوالات ہوسکتے ہیں، ان سب کے بھی الحمدللہ شافی جوابات حاصل ہیں. 
 مگر ایک اعتراض یا سوال جو ہمیشہ میرے دل کو چوٹ پہنچاتا ہے وہ یہ کہ کوئی مدرسہ سے پڑھا ہوا انسان اپنے ذاتی تجربے سے مدارس میں ہونے والے جسمانی یا جنسی تشدد کی داستان بیان کرے. میں اسے سمجھاتا ہوں کہ کچھ واقعات یا ذاتی تجربہ کو بنیاد بنا کر تمام مدارس سے متنفر ہونا کسی صورت درست نہیں ہے --
.
 (اس ضمن میں مخاطب کی تشفی کیلئے جو دلائل ممکن ہیں، میں دیا کرتا ہوں. جس سے اکثر وہ مخاطب کسی حد تک پرسکون ہوجاتا ہے مگر یہ سچ ہے کہ کوئی بھی ایسی داستان میرے دل کو زخمی ضرور کردیتی ہے)
.
 غور کریں تو یہ دونوں سوالات دراصل اسلام کی کمزوری نہیں بلکہ ہماری اپنی کمزوری و نالائقی کا شاخسانہ ہیں. جارج برنارڈ شاء نے غالباً اسی لئے کہا تھا کہ "میں نے اسلام سے بہتر کوئی مذہب نہیں دیکھا اور مسلمانوں سے بدتر کوئی قوم نہیں دیکھی". بہت آسان ہے کہ ہم ان تلخ مسائل کو مسائل ماننے سے ہی انکار کردیں اور امت مسلمہ کے مجموعی رویئے یا مدارس پر مسلسل لگتے ان الزامات سے چشم پوشی اختیار کریں. مگر اس سے کیا درپیش مسلہ ختم ہو جائے گا؟ ہمیں کھلے دل سے ان مسائل کو مسائل تسلیم کرنا ہوگا اور اس کیلئے ہر ممکنہ اصلاحات کی سعی کرنا ہوگی. جب کوئی امت مسلمہ کو دہشت گرد یا جنونی کہتا ہے تو دراصل وہ مجھے یعنی عظیم کو گالی دیتا ہے. جب کوئی شخص میرے دینی مدارس پر انگلی اٹھاتا ہے تو درحقیقت وہ میری عصمت دری کرتا ہے. امت مسلمہ صرف داڑھی والے کی نہیں ہے بلکہ ہر کلمہ گو کی ہے. مدارس صرف اس میں پڑھنے والو کے نہیں ہیں بلکہ ہم سب مسلمانوں کے سر کا تاج ہیں. اسکول کالجز میں بھی بہت کچھ غلط ہورہا ہے بلکہ شائد کئی حوالوں سے ان کا حال مدارس سے زیادہ خستہ ہے. مگر یہ اسکول و کالج دین اسلام کے ترجمان نہیں. مدارس ترجمان ہیں. اور جو دین کا ترجمان ہوگا اس کے نقائص کو زمانہ مائیکرواسکوپ لگا کر دیکھے گا. مجھے ڈر ہے کہ میری یہ تحریر بہت سے دوستو کی خفگی و غصہ کا سبب بن سکتی ہے. مگر پھر بھی یہ تحریر دست بدستہ ہاتھ جوڑ کر لکھ رہا ہوں. اس مدہم امید پر کہ اسے مخالف کی تنقید نہیں بلکہ حمایتی کا اصلاحی جذبہ سمجھا جائے گا.
.
 ====عظیم نامہ====

Thursday, 30 March 2017

آپ کون ہیں؟



آپ کون ہیں؟



.
 میرے ایک عزیز جو پاکستان میں مقیم ہیں، انہیں اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کا موقع میسر ہے جسے وہ پوری خوش اسلوبی سے نباہ رہے ہیں. نہ صرف ان کے والدین اس خدمت سے بہت خوش ہیں بلکہ دیگر احباب بھی ان کی اس ضمن میں مثال دیا کرتے ہیں. یہ صاحب بھی اپنے والدین کے ساتھ ساتھ دوسرے بزرگ افراد کی خدمت کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے. کچھ عرصہ قبل مجھ سے کہنے لگے کہ میرا ایک خواب ہے عظیم اور وہ یہ کہ میں پاکستان میں ہی ایک اولڈ ایج ہوم یعنی بوڑھوں کا آسائشوں سے مزین گھر بناؤں. جہاں ان بزرگوں کا خیال رکھ سکوں جو کسی حادثے یا نافرمان اولاد کے سبب تنہا رہ گئے ہیں. بے یار و مددگار ہیں. انہیں ایسی ہی محبت دوں جیسی ایک فرمانبردار اولاد اپنے شفیق والد اور دلعزیز والدہ کو دیا کرتی ہے. یہ کہتے ہوئے ان صاحب کی آواز میں سچائی، لہجے میں درد اور آنکھوں میں ایسا عزم موجزن تھا، جس سے مجھے پوری امید ہے کہ یہ اپنے خواب کو ایک دن ضرور عملی شکل دے پائیں گے. ان شاء اللہ 
.
 برطانیہ میں مقیم میرے ایک دوست جن کی بیٹی کو پیدائشی طور پر ایک جزوی ذہنی بیماری یعنی 'مینٹل ڈس ایبلیٹی' لاحق ہے. اپنی زوجہ کے ساتھ مل کر اس بچی کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں. بہت سی مشکلات کے باوجود وہ روز ایک نئی انرجی کے ساتھ اپنی بیٹی کی ذہنی و اخلاقی تربیت میں مشغول رہتے ہیں. آج مجھ سے کہنے لگے کہ عظیم میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ میں تمام 'مینٹل ڈس ایبل' بچوں کیلئے بلعموم اور مسلمان بچوں کیلئے بلخصوص ایک 'کیئر سینٹر' کھولوں گا. جہاں دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ان مسلمان بچوں کو جو ذہنی معذوری یا ڈس ایبیلٹی کے باوجود بڑی حد تک سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، انہیں اسلام کے کچھ آسان بنیادی احکام کی تربیت دی جائے. جیسے نماز پڑھنا یا تلاوت سننا وغیرہ. اسی طرح ان کی اخلاقیات کو بھی دینی تناظر میں بہتر بنایا جائے اور اس کا طریق نہایت آسان و دلپسند اختیار کیا جائے. یہ صاحب اپنے اس نیک ارادے میں اٹل نظر آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں معلومات کے حصول میں ان کا دست بازو بنوں. ان شاء اللہ 
.
 میں خود ایک لمبے عرصے سے انگلینڈ میں مقیم ہوں. مجھے انفرادی طور پر یہاں الحاد سمیت مختلف مذہبی و غیر مذہبی فلسفوں کی ایک یلغار کا سامنا رہا ہے. یہ احساس مجھ میں اور میرے یہاں رہائش پذیر کئی دوستوں میں عرصہ ہوا تقویت پکڑ چکا کہ ہمیں غیرمسلوں کیلئے دین کی ترویج و تبلیغ کا اہتمام کرنا ہے اور ان مسلمان اذہان کو واپس دین سے جوڑنا ہے جو مغربی افکار کے سیلاب میں ارتداد کی سرحد پر جاپہنچے ہیں. لہٰذا تفرقہ سے پاک ہوکر مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے سڑکوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک اور الیکٹرانک میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک کسی نہ کسی درجے میں ہم دعوت دین کا کام انجام دیتے ہیں. اسلام کی نظریاتی سرحدوں پر ہونے والے الحاد و دیگر فلسفوں کے حملوں کا موثر جواب دیتے ہیں. دین پر لگے الزامات کو اپنی بساط بھر کوشش سے دفاع فراہم کرتے ہیں. اسی حوالے سے ہم کئی اہم پروجیکٹس سے منسلک ہیں اور مستقبل میں انہیں عملی شکل دینے کا خواب رکھتے ہیں. ان شاء اللہ 
.
 مختلف افراد کے ان متفرق ارادوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اس حقیقت کو سمجھیں کہ ہر انسان کچھ مختلف اور مخصوص حالات و واقعات سے گزرتا ہے. جو اس کے قلب و فکر پر کچھ اثرات مرتب کرتے ہیں. یہ حالات کبھی آسانی اور اکثر سختی کے ساتھ انسان کو درپیش آتے ہیں. اعلان نبوت سے قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام پر وارد ہونے والے سخت ترین حالات و واقعات کو سوچیئے، نبوت سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نامساعد اور دہشت انگیز حالات زندگی پر غور کیجیئے، حضرت یوسف علیہ السلام کے اذیت ناک تربیتی مراحل پر نظر کیجیئے، رسول اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی آمد سے پہلے بچپن کی یتیمی سے لے کر غار حرا تک کے حالات زندگی کا جائزہ لیجیئے. آپ کو اندازہ ہو گا کہ کس طرح ان برگزیدہ ہستیوں کو مختلف مراحل سے گزار کر نبوت کے مشن کے لئے تیار کیا گیا. یہی حال آپ کو صحابہ اکرام رضی اللہ اجمعین اور بزرگان دین کی زندگیوں میں نظر آئے گا. گویا ہر عبداللہ کو حالات و واقعات کی بھٹی سے گزار کر اللہ کے ماسٹر پلان میں تعمیری حصہ بننے کا امیدوار بنایا جاتا ہے. اب بہتراور عقلمند انسان وہ ہے جو نہ صرف ان حالات کا خوبی سے سامنا کرے بلکہ ان حالات سے سیکھ کر معاشرے کے سدھار میں اپنا بھرپور کردار بھی ادا کرے. چنانچہ اپنی زندگی کا جائزہ لیجیئے اور جانیئے کہ آپ کون ہیں؟ اور آپ کس مشن کیلئے موزوں ہیں؟
.
 ====عظیم نامہ====

Tuesday, 28 March 2017

غیرمسلم اذہان

 

غیرمسلم اذہان


غیرمسلم اذہان میں میرے دو پسندیدہ ترین نام جو اب فوت ہوچکے ہیں 
.
١. سقراط (فلسفی)
٢. البرٹ آئن اسٹائن (سائنسدان)
. 
غیرمسلم اذہان میں میرے دو پسندیدہ ترین نام جو ابھی حیات ہیں
.
١. سدھ گرو (یوگی)
٢. مشیو کاکو (سائنسدان) 

.
 ان چاروں کے علمی قد کے بھرپور اعتراف کے ساتھ اور اپنی ناقص العلمی کے مکمل ادراک کے ساتھ مجھے ان سب سے ہی کسی نہ کسی درجے اختلاف ہے. مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رب تعالیٰ نے ان استادوں کو غیر معمولی ذہانت سے نوازا ہے. جس سے نہ صرف یہ اپنے اپنے شعبوں میں بہترین پیش رفت کرپائے بلکہ انسانی زندگی کے دیگر شعبوں پر بھی ان کی رائے مجھے سوچنے پر مجبور کردیتی ہے. 
.
====عظیم نامہ====

.
 نوٹ: دھیان رہے کہ یہ راقم کا ذاتی احساس ہے، جس سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں. ان چاروں کے کچھ عقائد و نظریات فی الواقع ایسے ہیں جو دین کی رو سے یکسر باطل قرار پاتے ہیں. گو یہ چاروں بھی آپس میں متفق نہیں. ان فاسد نظریات کو بنیاد بناکر، باقی پیش کردہ تحقیقات و خیالات سے گریز ایک طالبعلم کے لئے محرومی ہے. جہاں تک ان چاروں کے اپنے اپنے شعبوں میں بیان کا ذکر ہے تو اسے سننے یا پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن جب بات خدا اور اسکے پیغام کی ہو تو ایک مسلمان کیلئے لازم ہے کہ پہلے قران حکیم کو خوبی سے سمجھے پھر ان سمیت کسی اور مفکر کو پڑھے یا سنے
.

ایاز نظامی

 

 

ایاز نظامی

.
 سوشل میڈیا اور حقیقی دنیا میں اب تک میں کتنے ملحدین سے مکالمہ کرچکا ہوں؟ سچ پوچھیئے تو اتنی بڑی تعداد ہے کہ یاد رکھنا ممکن نہیں. یہ اور بات کہ میں کسی بھی ایسے فیس بک گروپ یا پیج کا حصہ بننے کا مخالف رہا ہوں جہاں رب العالمین یا رحمت العالمین کیلئے توہین آمیز الفاظ کا استعمال ہو. انکار خدا سے لے کر انکار رسالت تک جو شکوک و سوالات ہوں، میں ہمیشہ اپنی بساط بھر کوشش سے مسکرا کر ان کا جواب دیتا آیا ہوں. مگر کوئی سوال پوچھنے کی آڑ میں توہین رسالت کرے؟ تحقیق کا نام لے کر غلیظ الفاظ استعمال کرے؟ تو اسے برداشت کرنا میری غیرت ایمانی کی موت ہے. یہ میں ہرگز برداشت نہیں کرتا. میں نے پچھلے دس برسوں میں ان ملحدین کے بہت سے نام نہاد رہنماؤں سے گفتگو کی اور قریب قریب سب کو سطحی سوچ کا حامل پایا. ایک وقت تھا جب میں نے چن چن کر نمائندہ ملحدین لکھاریوں کی پوسٹوں پر ان سے شائستہ انداز میں استدلال سے تنقید کرنا شروع کی. ان ہی دنوں تین چار بار ایسا ہوا کہ جب کوئی مخاطب ملحد دلیل سے بلکل بے بس ہوگیا تو اس نے پوسٹ پر کسی 'ایاز نظامی' کو ٹیگ کیا. اسی طرح اس ایاز نظامی کے ہاتھوں کچھ مسلمان جب پھنستے تو وہ مجھے ٹیگ کرکے اسے جواب دینے پر ابھارتے. یہ میرا اس شخص سے پہلا تعارف تھا. پہلی بار ایک ایسا ملحد سوشل میڈیا پر ملا جو واقعی کسی حد تک دلیل سے بات کرتا اور عام ملحدین کے ٹریڈ مارک گھٹیا لب و لہجے سے اجتناب کرتا. گفتگو پوسٹوں سے نکل کر میسجز پر ہونے لگی. میرے لئے یہ حقیقت صدمہ کا سبب تھی کہ اس نے درس نظامی کے بعد بھی ارتداد کی لعنت کو اپنایا تھا. میری دلی خواہش تھی کہ یہ شخص واپس لوٹ آئے. اس لئے میں نے اسے اسکائپ پر گفتگو کی دعوت دی جو اس نے قبول کرلی. دونوں نے ایک دوسرے کو ایڈ کیا مگر وقت کے فرق کی وجہ سے گفتگو نہ ہو پائی. البتہ اب اس کی سرگرمیوں پر میری نظر تھی اور شائد اسکی مجھ پر؟
.
 کچھ عرصہ گزرا تو احترام کا وہ جذبہ جو میرے دل میں ایاز کیلئے پیدا ہوا تھا دم توڑنے لگا. وجہ یہ تھی کہ مجھے اس کی پالیسی سمجھ آنے لگی. اب میں دیکھ پارہا تھا کہ بھلے دوران مکالمہ یہ گندے الفاظ نہیں لکھتا مگر ایسی گندگی پھیلانے والو کی پشت پر یہی سب سے آگے کھڑا ہے. وہ پیجز جو سراسر توہین اور تخریب پر مبنی ہیں، ان کے چلانے والو میں نہ صرف یہ شامل ہے بلکہ ان کی فکری بنیاد یہی رکھ رہا ہے. میں نے اپنے کچھ دوستوں سے اس کا ذکر کیا اور ایک بار پھر پورا ارادہ کیا کہ اس کی فکر کو باقاعدہ للکارا جائے. گو عربی نہ جاننے یا مقابل سے کم جاننے کی وجہ سے مجھے ایک جھجھک سی ضرور تھی. یہ خواہش عملی جامہ پہنتی، اس سے پہلے ہی وہی کام مولانا مرزا احمد وسیم بیگ کی جانب سے ہوا. جنہوں نے نہ صرف ایاز نظامی سے ایک طویل بہترین مکالمہ کیا بلکہ فی الواقع اس پر دلیل کی برتری ثابت کی. گو ظاہر ہے ایسی بحثوں میں نتیجہ مانتا کوئی فریق نہیں ہے. مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ آج ایاز نظامی کی گرفتاری پر میں دل سے خوش ہوں. حکومتی اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں اور خواہش کرتا ہوں کہ ایاز یعنی عبد الوحید جیسے فتنہ پرور افراد کو سخت ترین سزا بذریعہ عدالت دی جائے. میں آپ دوستو سے بھی کہتا ہوں کہ ہم مکالمہ و سوالات کا خیر مقدم کرنے والے لوگ ہیں. لہٰذا کوئی سخت ترین سوال بھی تہذیب سے پوچھا جائے گا تو ہم اس کا علمی جواب دیں گے. اسے دھتکاریں گے نہیں. لیکن کوئی بدبخت سوال یا تحقیق کا راگ آلاپ کر سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر زبان دراز کرے (یعنی گالی دے) تو پھر ہم ہر ممکن اقدام کریں گے کہ اسے حوالات تک پہنچایا جائے. اسکے لئے "آئی پیز" ٹریس کرنے سے لے کر جیمز بانڈ بننے تک جو کرنا پڑے، کیا جائے.
.
 ====عظیم نامہ