Monday, 30 July 2018

جانوروں کا درد


جانوروں کا درد 


چندروز قبل کچھ ظالم شیطانوں نے ایک گدھے پر نوازشریف لکھ کر اس بےزبان کو مار مار کر ادھ موا کردیا۔ اب پھر کچھ شیاطین نے ایک کتے پر پی ٹی آئی کا جھنڈا باندھ کر، اس بے زبان کو گولیوں سے تڑپا تڑپا کر ہلاک کردیا۔ کیسے لوگ ہیں ہم؟ کیا ہم اسی دین کے نام لیوا ہیں جو ہمیں ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے پر اخروی نجات کی بات بتاتا ہے؟ اور ایک بلی کو بھوکا مارنے پر ابدی جہنم کا واقعہ سناتا ہے؟ آخر کب ہم بحیثیت قوم شعور کی منزل طے کریں گے؟ ہماری روح کیوں نہیں کانپتی جب ہم لوگوں کو بطور مزاح آوارہ کتوں بلیوں کو پتھر مارکے زخمی کرتے دیکھتے ہیں؟ ہماری آنکھ کیوں نہیں بھیگتی جب اس کے سامنے کسی بےزبان گدھے کو اس کا مالک چھڑی سے مار مار کر لہولہان کردیتا ہے تاکہ وہ اپنی قوت سے بڑھ کر بوجھ اٹھاسکے؟ یاد رکھیں انسانی جان کی قدر بھی ہم اسوقت تک نہیں کرسکتے جب تک ہمارے دل ان بے زبان جانوروں کا درد محسوس نہیں کرتے۔
۔
====عظیم نامہ====

احتساب ہوگا .. ضرور ہوگا


احتساب ہوگا .. ضرور ہوگا


.
ملک سے لوٹی گئی دولت کا جب ہم سنتے ہیں تو کیا سوچتے ہیں؟ یہی نا کہ وہ دولت واپس لائی جائے اور یہ سلسلہ آئندہ کیلئے بند ہوسکے؟ اس کی تین بڑی ممکنہ صورتیں ہم سب ہی سوچتے یا جانتے ہیں
.
١. لوٹی ہوئی ساری دولت واپس لائی جائے، مجرموں کو سزا ملے اور آئندہ کیلئے یہ سلسلہ بند ہو
.
٢. لوٹی ہوئی دولت کا جتنا حصہ ممکن ہوسکے واپس لایا جائے، جو مجرم گرفت میں آسکیں انہیں سزا ملے اور آئندہ کیلئے یہ سلسلہ بند ہو
.
٣. لوٹی ہوئی دولت واپس نہ بھی آپائے اور مجرمین سزا سے بچ بھی جائیں تب بھی آئندہ کیلئے یہ سلسلہ بند ہو
.
اس تمہید کو پڑھ کر آپ یقیناً اس تحریر کو سیاسی سمجھ بیٹھے ہونگے. لیکن نہیں ! .. بلکہ یہاں مقصد یہ ہے کہ آپ اور ہم مل کر اپنے ذاتی خرچوں اور بینک بیلنس کا جائزہ لیں. اپر لکھے تین امکانات جنہیں ہم سب ملک کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کیلئے بیان کرتے ہیں، ان ہی امکانات کا اطلاق ہم اپنی معیشت یعنی اخراجات و بچت پر کریں اور پھر دیکھیں کہ ہماری تنخواہ و دولت کہاں غائب ہو رہی ہے؟ کون ہے جو ہماری ممکنہ بچت کو لے اڑتا ہے؟ اور کیسے اسے آئندہ کیلئے نہ صرف روکا جائے بلکہ کوشش کی جائے کہ جو چلا گیا اسے کسی حد تک واپس لایا جاسکے؟
.
اگر آپ کا مزاج مجھ سے ملتا جلتا ہے تو یقیناً آپ کیلئے بھی بینک اسٹیٹمنٹ یا حساب کتاب دیکھنا کٹھن اور کوفت زدہ ہوتا ہوگا. مگر لازمی ہے کہ ہم اسکے باوجود ایک ایسی کاپی یا 'ایکسل شیٹ' بنائیں جس میں ہماری ماہانہ آمدنی اور ماہانہ اخراجات بلترتیب لکھے ہوئے ہوں. ایسا کرنے کیلئے آپ کو کوئی معاشیات کا ماہر نہیں بننا پڑے گا. بس اپنے سابقہ بینک اسٹیٹمنٹس کو دیکھتے ہوئے سادگی سے ایک جانب آمدنی لکھیں، دوسری طرف اخراجات کے نام ثبت کریں اور تیسری جانب خرچ ہونے والی رقم لکھ لیجیئے. یہ کرنا ممکن ہے آپ کی طبیعت پر شدید گراں گزرے مگر ایک بار جو آپ نے یہ کرلیا تو اب آپ کے سامنے اپنے اخراجات کی ایک کھلی تصویر آجائے گی جسے دیکھتے ہوئے آپ کو یہ اندازہ ہوسکے گا کہ بڑے اخراجات کون سے ہیں؟ مخفی خرچے کون سے ہیں؟ اور فضول خرچی کہاں ہورہی ہے؟ . اسکے بعد آپ ممکنہ طور پر سمجھ پائیں گے کہ کہاں خرچہ کم کیا جاسکتا ہے؟ کیا کوئی ایسا خرچہ ہے جسے روکا جاسکے؟ کیا کوئی ایسی شے ہے جو آپ کسی اور سے کم قیمت پر لےسکیں؟ کیا کوئی ایسا بل تو موجود نہیں جو آپ سے زیادہ پیسے لے رہا ہے یا جس سے آپ اپنے پیسے واپس طلب کرسکیں؟ کوئی ایسا معاملہ تو نہیں جو سود کی صورت میں آپ کی تنخواہ کا حصہ کھا رہا ہے؟ -
.
یقین کیجیئے کہ اکثر کیسز میں اپنے بینک اکاؤنٹ کی یہ خود احتسابی ایک بڑی بچت کا سبب بن سکتی ہے. کچھ اور نہیں تو اتنا تو ضرور ہوگا کہ آپ فضول خرچی پر بہتر انداز میں نظر رکھ سکیں گے. ساتھ ہی اپنی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کیجیئے. یہ دیکھیئے کہ کیا بہتر نوکری یا کاروبار ممکن ہے؟ کیا پارٹ ٹائم انکم کا کوئی امکان ہے؟ اگر آپ نے کسی کو قرض دیا تھا تو کیا وہ واپس مل سکتا ہے؟ اگر بینک کی جانب سے قرضہ آپ پر ہے تو سود سے بچنے کا کوئی امکان ہے؟ کیا اپنے گھر کی کوئی شے یا زیور یا زمین بیچ کر قرضے سے نکلنا ممکن ہے؟ .. غرض ایسے بہت سے امکانات ہیں جن کا آپ جائزہ لے کر اپنی معاشی حالت کو بہتری کی جانب لے جاسکتے ہیں. گو اسکے لئے آپ کو کمر کسنا ہوگی اور نظر چرانے کی بجائے صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا.
.
====عظیم نامہ====
.

(نوٹ: ہمیں اپنے عملی تجربے سے جو سود مند لگا وہ قارئین کیلئے بھی درج کردیا.البتہ راقم آپ کی ذاتی معاشی مشکلات کا نہ مداوا کرسکتا ہے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی مشورہ دے سکتا ہے
)

گھٹیا فعل


گھٹیا فعل


کچھ دیر قبل کسی نے ایک ویڈیو کلپ بھیجا جس میں بطور مذاق ایک سات آٹھ سال کے بچے کو بیوقوف بنا کر اس کی نیکر اتار دی گئی. وہ بچہ چیخیں مار مار کر شرم سے رو رہا ہے لیکن ساتھ کھڑے اسکے بےغیرت رشتہ دار نہ صرف اس بچے کی بے بسی پر قہقہے لگا رہے ہیں بلکہ اسکی ویڈیو بھی بنا رہے ہیں. یقین کیجیئے یہ پہلی بار نہیں ہے جب میرے سامنے ایسا ویڈیو کلپ آیا ہو. میں ایسے واقعات بہت بار سن یا دیکھ چکا ہوں جہاں کسی بچے یا سادہ مزاج انسان کو مذاق کا نشانہ بناتے ہوئے دھوکے سے برہنہ کردیا جاتا ہے. ہمارے ملک میں ذہنی پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ لوگ اسے لطیفہ سمجھ کر لوٹ پوٹ ہوتے ہیں. حالانکہ یہ ایسا گھٹیا فعل ہے جس پر کرنے والے کا منہ توڑ دینا چاہیئے. ان ذہنی مفلوج لوگوں کو یہ اندازہ بھی نہیں کہ وہ اس بچے یا انسان کو کیسا ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں؟ جو ممکن ہے ساری زندگی اس کی نفسیات پر تباہ کن اثرات مرتب کرے. خدا کیلئے ایسے کسی مذاق پر دانت نکالنا بند کریں اور سمجھیں کہ اس طرح کسی کی عزت نفس کو مجروح کرنا کریہہ ترین جرم اور گناہ کبیرہ ہے.
.
====عظیم نامہ====

اِدھر اُدھر کی معلومات



اِدھر اُدھر کی معلومات 


شہد کی مکھی جب کسی انسان یا جانور کو ڈنک مارتی ہے تو ایسا کرنا درحقیقت اسکے لئے خود کشی ثابت ہوتا ہے. شہد کی مکھی ڈنک مار کر جب اڑتی ہے تو اس کا ڈنک انسانی و حیوانی چمڑی میں پھنس کر ٹوٹ جاتا ہے. یہی نہیں بلکہ اس کے معدے کا کچھ حصہ، ہاضمے کی نالی، کچھ نسیں اور جسمانی پٹھے بھی کاٹنے والی جگہ میں پیوست ہو کر ٹوٹ جاتے ہیں. نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ڈنک مارنے کے بعد کچھ ہی دیر میں شہد کی مکھی کی موت ہوجاتی ہے.
.
مچھر کے کاٹنے سے ہوجانے والا دانہ ہم سب ہی کو تنگ کرتا ہے. مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ دانہ ہوتا کیوں ہے؟ دراصل جب مچھر خون چوسنے آپ کی کھال پر بیٹھتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے تھوک کے ذریعے جسم کی اس جگہ کو سن یعنی غیر حساس کرتا ہے جہاں سے خون چوسنا ہے. وہ ڈنک کے ذریعے اپنے لعاب کو آپ کے جسم میں داخل کردیتا ہے. یہی وجہ ہے کہ اکثر افراد کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ کوئی مچھر ڈریکولا بنا ان کے خون کا سافٹ ڈرنک پی رہا ہے. یہی لعاب یا تھوک ہمارے جسم سے الرجک ری ایکشن کرتا ہے تو جسم پر دانہ نمودار ہوجاتا ہے. اگر مچھر کو اسکی کاروائی کے دوران اڑا دیا جائے یا مار دیا جائے تو دانہ ہوجانے کا امکان بھی زیادہ ہوجاتا ہے. اسی طرح اگر دانہ ہوجانے کے بعد اسے رگڑا جائے تو مچھر کا یہ زہریلا لعاب مزید حصے پر پھیل کر اس دانے کو اور بھی تکلیف دہ اور حجم میں بڑا بنا دیتا ہے.
.
====عظیم نامہ====

ہلکی پھلکی معلومات


ہلکی پھلکی معلومات


.
کبھی سوچا کہ پیراسیٹامول یا پیناڈول وغیرہ کھانے سے ہمارا درد کیسے دور ہو جاتا ہے؟ اور اس دوا کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں جسم کے کس حصے میں درد ہو رہا ہے؟ گویا درد سر میں ہو یا ٹانگ میں - پیراسیٹامول کھانے سے افاقہ کیونکر ممکن ہوتا ہے؟
.
دراصل دوا کو یہ قطعی معلوم نہیں ہوتا کہ درد کہاں ہورہا ہے؟ اس میں شامل اجزاء کا کام فقط اتنا ہے کہ وہ جسم میں پیدا ہونے والے ایک خاص کیمکل (پرسوٹاگلینڈن) کی پیداوار پر روک لگا دیتا ہے. عموماً یہ کیمکل درد اور حرارت بڑھانے کا کام کرتا ہے. لہٰذا اس کی پیداوار رکنے سے درد کی شدت کم محسوس ہوتی ہے. یہ بھی یاد رکھیں کہ ہمارے جسم کی ہر نس کے کنارے سے درد کے پیغامات ہمارے دماغ تک پہنچتے ہیں. پیراسیٹامول جیسی ادویات ان درد کے سگنلز یا پیغامات پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں. جس کی وجہ سے ہمارا دماغ ویسا درد محسوس نہیں کرپاتا جیسا دوا کے اثر ہونے سے قبل کررہا تھا.
.
کبھی سوچا کہ ایلفی یعنی گلو جس کی چپک ہر سخت شے پر نہایت شدید ہوتی ہے، اپنی ٹیوب کے اندر کیوں نہیں چپکتا؟
.
دراصل یہ ایلفی گلو اپنی ٹیوب کے اندر مائع (پانی) کی صورت موجود ہوتا ہے. لیکن جیسے ہی یہ اپنی ٹیوب سے باہر آتا ہے تو اطراف میں موجود ہوا سے ری ایکٹ کر کے اسکا پانی بھاپ کی صورت اڑ جاتا ہے جس سے ایلفی گلو فوری چپک جاتا ہے. دوسرے الفاظ میں ایلفی کی ٹیوب ایلفی گلو کو ہوا سے محفوظ رکھتی ہے، جسکے نتیجے میں ایلفی کا مواد گیلا (مائع) ہی رہتا ہے اور ہوا نہ ملنے کے سبب چپکتا نہیں.
.
====عظیم نامہ====

چھلنی کرتا ہوا صدمہ


چھلنی کرتا ہوا صدمہ


بعض اوقات دل کو چھلنی کرتا ہوا صدمہ بھی بندے کو اپنے رب کے قریب لے آتا ہے. انسان عجیب مطلب پرست ہے، مسرتوں میں ایسا مگن ہوتا ہے کہ گناہوں سے بچنے کی پرواہ ہی چھوڑ دیتا ہے. مومن کا مغموم دل بھلے کسی بھی دکھ کی بدولت ہو ، اپنے رب کے حضور اشک ریزی کا سبب بن ہی جاتا ہے. شائد یہی وجہ رہی ہو کہ بیشمار ولی عشق مجازی میں ٹوٹے تب ہی عشق حقیقی میں راہ پاسکے. پھر وہ مخلوق کی تکلیف کو اپنے سینے میں موجزن پاتے ہیں. پھر ان کی روح اپنے رب کے فراق میں پل پل سسکتی ہے. اس مسلسل کرب کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟ مگر کتنے ہی اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جو اس درد کی آرزو کرتے ہیں.
.
درد سے میرا دامن بھر دے ... یا اللہ !
پھر چاہے دیوانہ کردے ... یا اللہ !
.
میں نے تجھ سے چاند ستارے کب مانگے؟
روشن دل، بیدار نظر دے ... یا اللہ !
.
سینہ تان کے چلتا رہنے دے مجھ کو
دینا ہے تو اپنا ڈر دے ... یا اللہ !

یا دھرتی کے زخموں پر مرہم رکھ دے
یا میرا دل پتھر کر دے ... یا اللہ !

.
====عظیم نامہ====

ایک ہی خواہش


ایک ہی خواہش


ایک نے ووٹ بلے کو دیا کہ وہ اس کرپٹ نظام کا خاتمہ اور کرپٹ سیاستدانوں کا محاسبہ چاہتا ہے.
ایک نے ووٹ شیر کو دیا کہ وہ اسٹیٹس-کو اور اسٹیبلشمنٹ کو نیچا دیکھانا چاہتا ہے.
ایک نے ووٹ پتنگ کو دیا کہ وہ اپنے شہر میں صفائی اور رونق دوبارہ دیکھنا چاہتا ہے.
ایک نے ووٹ کتاب کو دیا کہ وہ اسے اسلامی نظام کی جانب پیش رفت سمجھتا ہے.
ایک نے ووٹ دیا ہی نہیں کہ وہ چہروں کا نہیں بلکہ اس باطل نظام کا خاتمہ چاہتا ہے.
.
تمام تر سیاسی اختلاف و رنجش کے باوجود ان میں سے ہر ایک کے دل میں صرف اور صرف ایک ہی خواہش ہے - اور وہ ہے پاکستان کی خوشحالی - پاکستان کا بہتر مستقبل - امن و انصاف کی جیت - کرپشن و دہشت گردی سے نجات. گویا ہر پاکستانی کی تمنا ایک ہی ہے.
.
لہٰذا جو بھی جیتے، ایک دوسرے کو جھپی ڈال لیں. آج پچیس جولائی کو دعا ہم سب کی یہی ہونی چاہیئے کہ رب کریم اس مملکت خداداد کو استحکام و ترقی عطا فرمائے اور اسے امن و اسلام کا گہوارہ بنا دے. آمین یا رب العالمین.
.
====عظیم نامہ====