Wednesday, 31 January 2018

مراکش کی مختصر روداد

مراکش کی مختصر روداد
================
.
الحمدللہ کچھ ماہ قبل میں نے مراکش کا سات دنوں پر مشتمل سفر کیا. جس نے مجھے اتنی خوبصورت یادیں دی ہیں جو ان شاء اللہ تاحیات ساتھ رہیں گی. سچ یہ ہے کہ مراکش جانے سے قبل میں یہ سوچ کر پریشان تھا کہ اس شہر میں شائد ایسا کچھ خاص نہیں جس کیلئے وہاں جایا جائے. نہ سمندر، نہ ہریالی، نہ اونچی فلک شگاف بلڈنگز. مگر اب سوچتا ہوں کہ میری وہ سوچ کتنی حماقت بھری تھی؟ مراکش تو ایسا جادو ہے جو آپ کو مسحور کرنے کی پوری سکت رکھتا ہے. میں نے اور میری فیملی نے اس ٹرپ کو حد سے زیادہ پرلطف پایا. براعظم افریقہ کے اس شہر مراکش کی وہ کیا بات تھی جس نے مجھے مسحور کردیا ؟ یا جو ہر آنے والے کو اس شہر سے لگاؤ عطا کرتی ہے؟ ... بہت سوچا کہ آخر وہ کیا بات ہے جسے میں محسوس کررہا ہوں مگر الفاظ کی پوشاک نہیں پہنا پارہا؟ اور پھر جو سمجھ آیا اسے ایک سطر میں لکھے دیتا ہوں ... "مراکش جاکر یوں لگا جیسے کسی نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے آج سے ہزار سال پیچھے کھڑا کردیا ہو" ... میرے سامنے ایک پرانی تہذیب تھی اور مزیدار بات یہ کہ یہ تہذیب کسی میوزیم کا حصہ نہیں بلکہ جیتی جاگتی سانس لیتی زندہ ہے. مجھے احساس ہوا کہ لوگ بناء ٹیکنالوجی بھی خوش رہ سکتے ہیں. نہ کسی کو انٹرنیٹ کی فکر، نہ اسمارٹ فون کا نشہ، نہ ٹی وی سیٹلائٹ کی پرواہ --- کیسی جگہ ہے یہ ؟ جہاں لوگ ایک دوسرے سے مل کر خوش ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ کرنا انہیں سوشل میڈیا سے زیادہ عزیز ہے. ایسا نہیں ہے کہ مراکش میں یہ سب ٹیکنالوجی موجود نہیں. سب موجود ہے مگر اس شہر کا مزاج یہ ٹیکنالوجی قطعی نہیں ہے. یہ تو سادہ مزاج زندہ دل لوگوں کی نگری ہے. جہاں لوگ ماضی کی پرچھائیوں یا مستقبل کے اندیشوں میں نہیں بلکہ 'آج' اور 'ابھی' میں جیتے ہیں.
.
مراکش ائیرپورٹ پر جو پہلا تاثر مجھے اور میری بیوی کو ملا وہ یہ کہ سب کتنے خوش مزاج اور مسکراتے ہوئے ہیں. غالب ترین اکثریت میں لوگ دبلے پتلے مگر مظبوط اجسام رکھتے ہیں. اس شہر کے لوگوں نے پاکستان یا عرب ممالک سے متعلق میرا وہ عذر بھی پاش پاش کردیا کہ گرم موسم کے ممالک میں لوگ گرم مزاج ہوا کرتے ہیں. اگر یہ سچ ہے تو پھر اس گرم ترین شہر کے لوگ اتنے شائستہ اور مسکراہٹ سے بھرپور کیسے ہیں؟ مراکش کو سرخ شہر یعنی 'ریڈ سٹی' بھی کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں گھروں سمیت تمام عمارتیں سرخ اینٹوں سے بنی ہوئی ہیں جو دیکھنے والو کو خوب لبھاتی ہیں. مراکش میں دو طرح کے حویلی نما طرز تعمیر پر گھر ہوتے ہیں. پہلا 'ریاض' کہلاتا ہے اور دوسرا 'دار' کے نام سے جانا جاتا ہے. ریاض کے معنی باغ کے ہیں اور دار کے معنی گھر کے ہیں. یہ دونوں ملتے جلتے طرز تعمیر ہیں جہاں ایک وسیع دالان کے گرد کشادہ کمرے موجود ہوتے ہیں. ایک حسین سجائی ہوئی چھت ہوتی ہے. باغ یا پودے ہوتے ہیں اور بیچ میں ایک تالاب اور فوارہ لگا ہوتا ہے. 'ریاض' حجم کے اعتبار سے عموما 'دار' سے بڑا ہوتا ہے. میں چونکہ مراکش کی اصل روح سے آشنا ہونے کی خواہش رکھتا تھا اسلئے میں نے کسی ہوٹل یا ریزورٹ کی بجائے، ایک نہایت حسین 'ریاض' میں اور مراکش کے مصروف ترین علاقے 'مدینہ' میں کمرہ حاصل کرلیا. خوبصورت طرز تعمیر، صاف ستھرے کشادہ کمرے، لکڑی کے دیو قامت دروازے، بل کھاتی سیڑھیاں، سوئمنگ کیلئے تالاب، دلکش فوارہ، کینو کے چھوٹے چھوٹے درخت، پیاری سی چھت اور اس چھت پر بچھے کنگ سائز بستر. یہ اس 'ریاض' کے کچھ خواص تھے. ناشتے میں پراٹھوں سے لے کر مکھن تک ، پھلوں سے لے کر دہی تک اور اورنج جوس سے لے کر جام تک ہمیں ہر شے تازہ اور 'اورگینک' دی جاتی. جسے وہاں موجود باورچی خاتون پیش کرتی. مجھے سب سے زیادہ اس ریاض کی چھت پسند تھی لہٰذا ایک رات تو میں چھت پر ہی تاروں بھرے آسمان کو دیکھتے ہوئے سو گیا. گو آدھی رات میں سردی سے آنکھ کھلی تو سمجھ آیا کہ صحرائی سردی کہتے کسے ہیں؟
.
ہماری رہائش سے کوئی پندرہ منٹ کے پیدل فاصلے پر مراکش کی سب سے حسین مارکیٹ 'جامع الفناء' موجود تھی. یہ کوئی شاپنگ مال نہیں ہے بلکہ روشنیوں سے نہایا ہوا ٹھیلوں اور اسٹالوں کا بازار ہے جو رات گئے تک کھلا رہتا ہے. جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے مجمعے لگے ہوئے ہیں. کوئی دیسی مٹھائیاں بیچ رہا ہے، کوئی کپڑوں کی صدا لگا رہا ہے، کوئی حسین قمقمے سجائے کھڑا ہے، کوئی رقص کر رہا ہے، کوئی تماشا دیکھا رہا ہے، کوئی فوک گانے سنا رہا ہے، کوئی سانپوں کے کرتب کررہا ہے، کوئی شرطیں لگا رہا ہے، کوئی پتنگ اڑا رہا ہے، کوئی جانور بیچ رہا ہے اور کوئی اپنے ریسٹورنٹ بلا رہا ہے. سب مسکرا رہے ہیں، سب خوش لگتے ہیں. مجھے احساس ہوا کہ جہاں سیاحت سے اس شہر کو فائدہ ہورہا ہے وہاں ایک نقصان شائد یہ بھی ہے کہ نوجوان نسل ان ہی میلوں ٹھیلوں میں الجھ کر تعلیم سے دور ہورہی ہے.  'جامع الفناء' اپنی شدید بارگینگ کی وجہ سے بھی مقبول ہے. یہاں ایک ہی شے ایک فرد کو اگر ہزار روپے میں ملی ہے تو ممکن ہے دوسرے کو دس ہزار میں ملے. یہاں وہی کامیاب ہے جو بارگیننگ کا بادشاہ ہے. میں نے صدر کراچی میں بہت بارگیننگ  دیکھی اور کی ہے مگر یقین کریں مراکش بارگیننگ میں بہت شدید ہے. مراکش نوسربازی کیلئے بھی سیاحوں میں بدنام ہے مگر سچ پوچھیئے تو ہمارا تجربہ اس کے برخلاف رہا اور کسی نے دھوکہ دہی یا بدتمیزی نہیں کی. اسی بازار میں ایک ترتیب سے ریسٹورنٹ کھلے ہوئے ہیں. مجھے دیکھ کر وہ نعرے لگاتے 'سینس بری'، 'ٹیسکو'، لیڈل' ... (یہ انگلینڈ کی معروف سپر مارکیٹس کے نام ہیں) - گویا ان میں سے اکثر پہچان گئے کہ میں انگلینڈ سے آیا ہوں. کچھ پوچھتے ..'پاکستانی؟' .. میں ہاں میں سر ہلاتا تو نعرہ مارتے 'پاکستان زندہ باد' .. کچھ مجھے انڈین سمجھ کر بولی وڈ کے ایکٹروں کے نام سے بلاتے. ایک ریسٹورینٹ کو میں نے ہاں کردی. جیسے ہی ہاں کہا تو وہاں موجود انتظامیہ کے افراد خوشی سے ناچنے لگے. مجھے بھی پکڑ کر ساتھ لے آئے اور مجھے بھی چارو ناچار ان کے ساتھ کچھ ہلنا پڑا. چاروں طرف 'باربی کیو' کا خوشبو دار دھواں تھا اور وہ گلوکارہ شکیرہ کا معروف گانا گا رہے تھے. "زا مینا مینا .. اے اے .. وکا وکا اے ئے .. زا مینا مینا زانگ لائیوا .. دس ٹائم فار افریقہ" .. کھانا مزیدار تھا. مراکش کی سب سے مقبول ڈش 'تجین' کہلاتی ہے جو گوشت اور سبزی دونوں سے بنتی ہے. مقامی افراد اس ڈش کے اتنے دیوانے ہیں کہ تصویر کھینچتے ہوئے بھی 'چیز' نہیں کہتے بلکہ 'تجین' کہتے ہیں. کھانے کے دوران ایک سات آٹھ سال کی چھوٹی سی پیاری سی مقامی بچی میرے پاس آئی اور ہاتھ تھام کر پورے حق سے کہا کہ میں بھی کھاؤں گی. میں نے کہا آجاؤ تو جلدی سے میرے برابر میں لگ کر بیٹھ گئی جیسے میری ہی سگی بیٹی ہو. اسی طرح دیگر موقعوں پر اسی پورے حق سے ایک بچے نے ہم سے آئسکریم اور ایک نے پانی لیا. جب تک ہم مراکش میں رہے بار بار مارکیٹ 'جامع الفناء' آتے رہے.
.
جامع الكتبية - مراکش کی سب سے بڑی اور تاریخی مسجد ہے. اس کا نہایت اونچا مخصوص مینار، بڑے بڑے فانوس اور بہترین طرز تعمیر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے. میں نے اس مسجد میں کچھ وقت گزارا اور شائد عصر کی نماز ادا کی. کوئی پچاس ساٹھ سال قبل ایک فرانسیسی مصور 'جیکوئس مجوریل' مراکش کے حسن سے متاثر ہوکر یہاں آبسا تھا. اس نے کوئی چالیس سال کی محنت و لگن سے ایک باغ تیار کیا ہے جسے 'مجوریل گارڈن' کہا جاتا ہے اور جو اپنی مثال آپ ہے. خوبصورتی سے لگے حسین پھول، پیڑ، پودے، تالاب، دلفریب خوشبو، رنگ برنگی مچھلیاں اور بیچ میں گہرے نیلے اور دیگر دلفریب رنگوں سے سجا اسٹوڈیو آنے والو کو اپنا مداح کرلیتا ہے. خواتین کیلئے یہ باغ اس لئے بھی دلچسپی کا سبب ہے کہ یہاں تصاویر بہت اچھی آتی ہیں. مراکش میں دو محلات تاریخی طور پر سب سے نمایاں رہے ہیں. 'بہائیہ پیلس' اور 'البدیع پیلس'. شروع شروع میں مجھے یہ روایتی شان والے محل نہ لگے بلکہ کسی شاندار حویلی کی مانند محسوس ہوئے. مگر جیسے جیسے محل کے در کھلتے گئے، اسکی شاہانہ شان نکھر کر سامنے آنے لگی. بادشاہی نقش و نگار سے مزید چھتیں اور دیواریں، خوبصورت پتھروں سے بنا فرش، قد آور آئینے اور مہکتے ہوئے باغات ان محلوں کو چار چاند لگا دیتے ہیں. مراکش شہر میں ١٩١٧ میں کھدائی کے دوران ایک زمین دوز قبرستان دریافت ہوا. جس میں ایسی ہی شاندار قبور ہیں جیسی پاکستان میں 'مکلی' کے قبرستان میں نظر آتی ہیں. سعدی سلطنت کی ساٹھ قبریں یہاں موجود ہیں جن میں سلطان احمد بن منصور بھی مدفون ہے. سیاح قبروں کے ساتھ تصاویر بنا رہے تھے جو میری طبیعت نے گوارا نہیں کیا لہٰذا کسی تصویر کے بناء فاتحہ پڑھ کر باہر آگیا. ساتھ ہی ایک پرانی اور پروقار مسجد تھی جس سے اذان بلند ہوئی. میں جماعت کیلئے مسجد کے اندر چلا آیا. وضو کیلئے دیکھا تو وضو خانہ نہیں تھا بلکہ صحن  کے بیچوں بیچ ایک حوض نما جگہ تھی جس کے گرد بیٹھ کر سب وضو کررہے تھے. میں بھی سلام کرکے بیٹھ گیا لیکن چونکہ اس طرح وضو کی عادت نہ تھی تو دونوں ہاتھ استعمال کر رہا تھا. بیٹھے افراد آپس میں گفتگو کرنے لگے. مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے صحیح طریقہ سیکھانا چاہیئے. سب نے بہت ہی محبت سے بات کی اور پھر ایک بزرگ مجھے اپنے ساتھ مسجد کے اندر لے گئے، جہاں ان کے ساتھ میں نے نماز ادا کی. ایک بات جو نوٹ کی وہ یہ کہ امام کی جائے نماز مقتدیوں کی نسبت تھوڑی سی ترچھی تھی جو فقہی رو سے جائز ہے.
.
ایک روز ہم نے 'کواڈ بایکنگ' کا فیصلہ کیا. یہ ایک بہت ہی مزیدار تفریح ثابت ہوئی. جس میں کوئی تین گھنٹے سے زیادہ ہم نے صحرائی گھاٹیوں میں 'کواڈ بایکنگ' کی. میں چونکہ ہمیشہ سے بائکنگ پسند کرتا آیا ہوں لہٰذا نہ صرف مجھے خوب مزہ آیا بلکہ سارے گروپ میں سب سے آگے میں ہی رہا. ان ہی بایکوں کو دوڑاتے ہوئے ہم ایک گاؤں پہنچے جہاں ایک مقامی کچے گھر میں ہم نے چائے نوش کی. یہاں سے واپسی پر ہم ایک نخلستان گئے جہاں تاحد نظر کھجوروں کے درخت اور ریت تھی. ہمی گہرے نیلے رنگ کا روایتی جبہ پہنایا گیا اور ایک مخصوص پگڑی باندھی گئی. اس کے بعد ہم نے سفید اور بھورے اونٹوں پر کوئی گھنٹہ ڈیڑھ سواری کی اور اس نخلستان نما جگہ میں گھومتے رہے. میں اونٹنی پر سوار تھا اور اس کا بچہ ساتھ ساتھ چل رہا تھا. اسے کبھی شرارت سوجھتی تو اپنے چہرے سے میرے پیر گدگدانے لگتا. اسی طرح ایک دوسرے روز ہم نے مراکش کے پہاڑی سلسلے کو دیکھنے کا ارادہ کیا، جسے اطلس ماؤنٹین کہا جاتا ہے. اسی سلسلے کے ایک حسین پہاڑ پر ہم پہنچے جس کا نام  'اوریکا پہاڑ' ہے. خوبصورت دلفریب وادیوں میں گھرا یہ پہاڑ اور اس وادی میں بسے پہاڑی لوگ مثالی محسوس ہوتے ہیں. خوبصورت پگڈنڈیوں سے گزر کر ہم پہاڑ پر پہنچے اور قدرتی مگر قدرے پرخطر رستے سے اپنے گائیڈ کے ساتھ اپر چڑھنے لگے. کتنے ہی شفاف جھرنے پہاڑوں کا سینہ چیر کر بہہ رہے تھے.  ایک اونچی آبشار بھی بیچ میں آئی جس کے ٹھنڈے یخ پانی کے نیچے کچھ دیر  میں کھڑا رہا. جگہ جگہ کولڈ ڈرنکس مل رہی تھیں، مقامی لوگوں نے پتھروں اور آبشار کے ٹھنڈے پانی سے فریج بنا رکھے تھے جس میں ڈرنکس اور جوس رکھے ہوئے تھے. چھوٹی چوٹی دکانیں تھیں جہاں قدرتی خوبصورت رنگ برنگے پتھروں سے تراشے مجسمے بک رہے تھے. ایک پتھر ایسا بھی تھا جسے گیلا کرو تو وہ ہر بار ایک نیا رنگ بدل لیتا تھا. ایک بہتے جھرنے کے بیچ ہماری ٹیبل لگا دی گئی اور کھانا پیش کیا گیا. گویا ہم ننگے پیر آدھے پاؤں بہتے پانی میں ڈبوئے بیٹھے تھے اور کھانا کھا رہے تھے. ایسے میں دو مقامی گلوکار آگئے اور کچھ مقامی گانے سنانے لگے. ظاہر ہے سمجھ تو ایک لفظ نہ آیا مگر پھر بھی ان کی خوش کن آواز سے لطف اندوز ہوئے. پہاڑوں پر خوبانی کے درخت موجود تھے جس سے توڑ توڑ کر خوب شہد سے میٹھی خوبانیاں کھائیں. نیت نہ بھری تو ایک چھوٹی بالٹی بھر کر اپنے ساتھ لے گئے. ایک دوسرے پہاڑ کی بلندی پر ہمیں ایک ایسی جگہ جانے کا موقع ملا جہاں 'آرگن' کا تیل بنایا جاتا ہے. یہ ایک ایسی جڑی بوٹی ہے جو مراکش میں خاص درختوں سے ملتی ہے. مراکش کے لوگ آرگن کے تیل کو بے تحاشہ اہمیت دیتے ہیں اور اسے اپنے ملک کی سوغات بتا کر فخر محسوس کرتے ہیں. شیمپو سے لے کر صابن تک، کھانا پکانے سے لے کر چیزیں صاف کرنے تک، پرفیوم سے لے کر ادویات تک ہر ہر شے میں آرگن کا استعمال عام ہے. ہم اس جگہ پر تھے جو آرگن سے پروڈکٹس بنانے میں ماہر تھی. انہوں نے ایک جناتی سائز کی چکی دیکھائی جس میں وہ آرگن پیستے تھے. بہت سی عورتیں آرگن سے چیزیں تیار کررہی تھیں. ہم نے بھی پرفیوم لیا اور واپسی کی راہ لی.
.
اطلس پہاڑوں میں بسنے والی پہاڑی تہذیب تین سے چار ہزار سال پرانی ہے. انہیں 'بربر' کہا جاتا ہے. ان تک اسلام کیسے پہنچا؟ اس کے بارے میں متفرق آراء ہیں مگر ایک مقبول تر رائے یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب فتوحات ہوئیں اور مسلم فوجیں یہاں پہنچیں تو 'بربر' قوم نے جنگجو ہونے کے باوجود یہ اندازہ کر لیا کہ مسلمانوں کو شکست نہیں دی جاسکتی لہٰذا شکست خوردہ نہ کہلانے کیلئے انہوں نے بحیثیت اجتماعی اسلام قبول کرلیا. میں ایک 'بربر' کے گھر گیا جو آج بھی اسی چار ہزار سال پرانی تہذیب کا شاہکار ہے. باورچی خانے سے لے کر کپڑے دھونے تک اور نہانے سے لے کر سبزیاں اگانے تک سب دیکھا اور سمجھا. پورے مراکش میں جگہ جگہ 'بربر' تہذیب کی چیزیں ملتی ہیں جیسے مٹی کی کٹوری سے لپ اسٹک وغیرہ، جسے پاکستانی میں 'مسی' بھی کہتے ہیں. ان دنوں ایک ایسا شخص میرا دوست بھی بن گیا جس کے والد بربر اور والدہ عرب تھیں. میں نے اس سے پوچھا کہ میں تم لوگوں کو کیا سمجھوں؟ تم لوگ شکل سے عربی لگتے ہو لیکن عرب نہیں ہو. رہتے افریقہ میں مگر افریقی لگتے نہیں ہو. بربر تہذیب رکھتے ہو مگر سب بربر نہیں ہو. وہ ہنسا اور اس نے سمجھایا کہ تم ہمیں صرف 'موروکن' کہو. کیونکہ یہاں کی نسل میں بربر، عرب اور افریقی سب ایسے مل گئے ہیں کہ اب ان کی جداگانہ شناخت صرف موروکن ہوسکتی ہے. اپنے 'ریاض' پر میری ایک نیوزی لینڈ سے آئےلڑکے لڑکیوں کے گروپ سے گپ شپ ہوئی جو ایک مہینے سے مراکش میں کوہ پیمائی کررہے تھے. آخری روز میں نے ایک دوسرے شہر جانے کا فیصلہ کیا. جس کا نام 'ای سویرا' تھا اور جہاں ایک حسین سمندر ہمارا منتظر تھا. وہاں کا مقامی بازار بھی تہذیب کا نمونہ تھا. مقامی مچھلی بازار گیا تو ایسی ایسی مچھلیاں بک رہی تھیں جنہیں میں نے ڈسکوری چینل پر بھی کبھی نہ دیکھا تھا. ایک جگہ بیشمار سفید بگلے موجود تھے جن کے ساتھ سب تصاویر کھنچواتے رہے. غرض یوں ہمارا مختصر مگر انتہائی یادگار سفر اپنے حسین اختتام کو پہنچا. ساری دنیا سے لوگ مراکش گھومنے آتے ہیں مگر معلوم نہیں کیوں؟ پاکستانیوں میں سے بہت کم وہاں جاتے ہیں. ہمارا مشورہ ہے کہ اگر آپ مراکش گھومنے جاسکتے ہیں تو ضرور جایئے کہ یہ شہر منفرد بھی ہے اور تاریخی بھی.
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 30 January 2018

جنت میں ملنے والی نعمت


جنت میں ملنے والی نعمت



سورہ واقعہ کی ٢٥ آیت میں جنتیوں کو ملنے والی نعمتوں کا بیان کرتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہے "لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا - وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ" --
.
گویا جنت میں داخل ہونے والے افراد وہ سلیم المزاج ہوں گے جن کی طبیعت پر اس دنیا میں بیہودہ بات کہنا یا گالی گلوچ کرنا تو دور کی بات، اسے سننا بھی شدید گراں گزرتا ہوگا. لہٰذا روز جزاء جب رب کریم انہیں جنت میں داخل کریں گے تو دیگر نعمتوں کے ساتھ انہیں یہ نعمت بھی عطا ہوگی کہ اب ان کی سماعت ایسی کوئی بات نہ سنے گی جو بیہودگی پر مشتمل ہو یا گالی گلوچ میں شمار ہوتی ہو.
.
کیا یہ ان احباب کیلئے سوچنے کا مقام نہیں جو زبان کے چٹخارے کیلئے دوستوں میں ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں اور واٹس ایپ، فیس بک وغیرہ پر بیہودہ لطائف پھیلاتے ہیں ؟ 
.
====عظیم نامہ====

موت سے بھی بھیانک 

موت سے بھی بھیانک
==============
.
امریکہ ہو یا پھر یورپ کا کوئی بھی ملک ہو، آپ کو سڑکوں پر بیشمار مفلوک الحال افراد اذیت کی تصویر بنے نظر آئیں گے . بال بکھرے ہوئے، جسم سے بدبو کے بھبھکے اٹھتے ہوئے، چہرے پر کئی طرح کے زخم، دانتوں میں کیڑے پڑے ہوئے، موٹا گندہ سا لباس پہنے ہر آتے جاتے سے بھیک مانگنا اور رات میں سڑک کے کسی کونے کھدرے میں شدید سردی میں سوجانا. انہیں مغرب میں 'ہوم لیس' یعنی بے گھر افراد کے نام سے پکارا جاتا ہے. ان کی اکثریت وہ ہے جو کسی حادثے یا صدمے کے سبب اپنی زندگی کا مقصد کھو بیٹھے ہیں. کسی کا محبوب اسے دغا دے گیا، کسی کی اولاد حادثے میں مر گئی، کسی کو اپنے احساس جرم نے جکڑ لیا، کچھ شراب کے عادی ہوگئے، کچھ منشیات کے، کچھ دونوں کے اور کچھ بناء کسی لت کے یونہی حسرت و یاس میں ڈوبے ہوئے ہیں. دوست، عزیز، گھر والے سب ان سے منہ موڑ چکے ہیں. آتے جاتے لوگ انہیں دھتکارتے ہیں، ان سے گھن محسوس کرتے ہیں. جیسے یہ انسان نہیں بلکہ زمین پر بکھری غلاظت ہوں. جون ایلیاء کا ایک جملہ کسی اور کے لئے سچ ہو نہ ہو، ان کی حالت کا عکاس ضرور محسوس ہوتا ہے "تمہارے ہونے کی اب محض ایک ہی دلیل رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ تم جگہ گھیرتے ہو۔" ان کی زندگی رنگ اور مقصدیت دونوں ہی سے خالی ہے. یہ بس سانس لیتے ہیں اس لئے جی رہے ہیں. ورنہ حقیقت میں تو یہ اپنی ہی لاش اپنے کاندھوں پر لادے ہوئے ہیں. ان کی ویران آنکھوں میں چھپے کرب کو کوئی مہذب انسان کیوں محسوس کرے؟ ہم مہذب انسانوں  کے نفس کی تسکین کے لئے تو شائد یہی بہت ہے کہ ان بیکار لوگوں کی جانب چند سکے اچھال دیں  یا اپنا بچا ہوا سینڈوچ انہیں دان کرکے اپنی نیکی پر مسرور رہیں. کسی شریف آدمی کو کیا پڑی ہے کہ وہ یہ جانے کہ ایسا کیا ہوا؟ جو ایک ہنستا مسکراتا انسان اجڑ گیا. ایسا ویران ہوا جیسے کبھی آباد ہی نہ تھا؟ کوئی کیوں ان میں سے کسی کا ہاتھ تھامے ؟ گلے لگائے ! نہیں نہیں ... ہم کسی نشئی، کسی ہیروینچی، کسی پلید جسم کو کیونکر توقیر دیں گے؟ ..... حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں. 😢
.
وہ انگریز نوجوان میری ٹیم میں کام کرتا تھا. اکیس بائیس برس کا خوبرو اور کھلنڈرا سا لڑکا .. جسے بات بے بات ہنسی آتی رہتی تھی. ایک روز ... نوکری سے نکال دیا گیا کیونکہ کسی دوست نے اسے منشیات لا کر دے دی تھیں جنہیں پیتا ہوا وہ پکڑا گیا. وہ چلا گیا اور پھر سالوں نہ نظر آیا. لیکن اس دن جب میں سردی میں سکڑتا گھر کی جانب تیز قدم بڑھا رہا تھا تو کسی نے فریاد کی کہ 'کیا آپ مجھے پلیز ایک پاؤنڈ دے سکتے ہیں؟' .. پلٹ کر دیکھا تو دل کو گھونسا لگا کہ وہی حسین نوجوان اب کسی مرجھائے ہوئے پھول کی مانند بھیک مانگ رہا تھا. اسکی ناک سے خون رس رہا تھا. وہ مجھے نہیں پہچانا مگر میری روح کو چھلنی کرگیا. کیوں ہمیں ان سسکتے ہوئے لوگوں کی فکر نہیں؟ کیا ایک اچھی زندگی پر اور رب العزت پر معاذ اللہ میرا یا آپ کا یا متمول افراد کا کاپی رائٹ ہے؟ کیا یہ اللہ کے بندے نہیں؟ کیا یہ بیمار نہیں؟ کیا یہ میری توجہ، میری محبت، میری مدد کے انتہائی مستحق نہیں؟ یا پھر میں نمازیں پڑھ کر یا  چندے دے کر یا چیریٹی کر کے یا دعوت دین دے کر مطمئن رہوں؟ .. آپ احباب کا نہیں معلوم مگر میرا ضمیر مجھے کوس رہا ہے. پاکستان یا انڈیا میں تو ان مظلوموں کے حالات اور بھی خستہ ہیں. اکثر لوگ صرف انہیں دھتکارتے ہیں، کام نہ کرنے کا طعنہ دیتے ہیں، ان کا مزاق اڑتے ہیں. ان کے علاج یا انہیں اس لت سے نکالنے کا بہت ہی کم لوگ سوچتے ہیں. ضروری ہے کہ میں اور آپ ان کیلئے جو ممکن ہو کریں. اور کچھ نہیں تو کم از کم انہیں کسی عزت دار انسان جیسی  عزت و محبت ضرور دیں. لوگ بحث کرتے ہیں کہ سزائے موت ایک ظالمانہ سزا ہے جسے ختم کردینا چاہیئے. میں سوچتا ہوں کہ پھانسی پر جھول کر ایک بار مر جانے والا انسان اس انسان سے کتنا زیادہ خوش قسمت ہے جو پل پل ہزار موتیں مر رہا ہے؟ جو کسی بند جیل کی تنگ کوٹھری میں عمر قید بھگت رہا ہے یا جو اس کھلی فضاء میں بھی گھٹ گھٹ کر سانس لے رہا ہے.
.
کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے
تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے
.
جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے
جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 24 January 2018

دین سے منسلک اہل علم


دین سے منسلک اہل علم



دین سے منسلک اہل علم کی عزت کیجیئے 
دین سے منسلک اہل ایمان سے مستفید ہوں 
مگر کبھی بھی ... مذہبیوں کو مذہب کی تصویر نہ سمجھیئے 
اور اگر آپ نے کہیں ایسا سمجھنے کی حماقت کی تو بہت امکان ہے کہ کل مذہب کے بھیس میں چھپا کوئی گھٹیا انسان آپ کو دین ہی سے متنفر کردے. آپ کو ایمان سے ہی دور کردے. 
دین کا پیغام سو فیصد سچ ہے، حق ہے، خیر ہے .. مگر بظاہر اس مذہب کا علمبردار نظر آنے والا عالم، صوفی یا مجھ جیسا خودساختہ داعی فی الواقع اپنے کردار میں دین کا عکس ہو ؟ یہ قطعی ضروری نہیں 
.
پوری مذہب کی تاریخ شاہد ہے کہ جہاں ہر دور میں کچھ علماء حق موجود ہوتے ہیں وہاں علماء و مشائخ کا چوغہ پہن کر افراد کا ایک گروہ مافیا کی صورت مذہب کے پردے میں عام لوگوں کا فکری، جنسی اور مالی استحصال کیا کرتا ہے. رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں علماء حق کو انبیاء کا وارث بتایا وہاں ان علماء سو کا بھی تذکرہ کیا جنہیں آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سب سے بدترین قرار دیا
۔
سابقہ امت مسلمہ بنی اسرائیل کی جانب سے علماء و شیوخ کی اندھی پیروی کرنے کو قران حکیم نے شرک سے تعبیر کیا. لہٰذا ارشاد ہے کہ اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَـهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (التوبہ: ٣١) 
''انہوں نے اپنے علماء اور شیوخ کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ انکو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔ پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں''۔
.
عدی بن حاتم (طائی)سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو (سورہ توبہ کی) مندرجہ بالا آیت (٣١) پڑھتے سنا ''انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے'' (عدی کہتے ہیں) تو میں نے کہا: ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے۔ آپؐ نے فرمایا: جب وہ خدا کے حلال ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہراتے تو تم اس کو حرام نہیں ٹھہراتے اور جب وہ خدا کے حرام کردہ کو حلال کر لیتے ہیں تو تم ان کوحلال نہیں ٹھہراتے؟ میں نے کہا: یہ تو ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: تو پھر یہی تو ان کی عبادت ہے''
.
لہذا میرے عزیز ۔۔۔ کسی مذہبی ٹھیکیدار، گروہ، فرقے، مدرسے یا فرد کے غلیظ عمل کو دین و مذہب کی حقانیت و پیغام سے ہرگز خلط ملط نہ ہونے دو۔ تم پر فرض ہے کہ اگر صلاحیت و مواقع رکھتے ہو تو دین کا مقدمہ کتاب الہی اور مستحکم سنت سے جانو۔ کسی فرد یا گروہ کو اس کا معیار بلکل نہ بننے دو۔
۔
====عظیم نامہ====
۔
(نوٹ: اس تحریر کے اصل مخاطب وہ ہیں۔ جن سے میری مخاطبت رہی ہے۔ جن میں اہل مدرسہ بھی شامل ہیں اور جو کسی مدرسے یا مولوی کی جانب سے ہوئی زیادتی یا غلط فعل کو بنیاد بناکر دین اسلام سے ہی متنفر ہوچلے ہیں)

اپنا اپنا امتحان ہے یارو


اپنا اپنا امتحان ہے یارو


اس لڑکی کے رشتے نہیں آتے ۔۔
اس لڑکے کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ۔۔
اس مرد کی طلاق ہوگئی ۔۔
وہ عورت بیوہ ہوگئی ۔۔
اس جوڑے کے اولاد نہیں ہے ۔۔
اس جوڑے کی اولاد جسمانی معذور ہے ۔۔
اس جوڑے کی اولاد ذہنی توازن سے محروم ہے ۔۔
اس جوڑے کی اولاد بھری جوانی میں مرگئی ۔۔
اس جوڑے کی اولاد والدین کی شدید نافرمان نکلی ۔۔
۔
سب کا اپنا اپنا امتحان ہے یارو ۔۔ سب کا اپنا اپنا چیلنج ۔۔
جو تمہیں درپیش ہے وہی غنیمت ہے ۔۔
اس میں صبر و شکر سے سرخرو ہو ۔۔
جو دوسرے کو درپیش ہے وہ تمہیں درپیش ہوتا تو سوچو کیا ہوتا؟
لہذا حرص اور شکوہ چھوڑ دو ۔۔ راضی بارضا رہنا سیکھ لو ۔۔ تمہارا رب کسی پر اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے جتنا وہ سہہ سکے ۔۔ اگر تمہارا امتحان بڑا ہے تو سرخروئی پر تمہارا اجر بھی اتنا ہی بڑا ہوگا ۔۔
۔
====عظیم نامہ====

Sunday, 21 January 2018

تیری پہچان یہی ہے



تیری پہچان یہی ہے


جو ظاہر ہے وہ باطن میں نہیں اور جو باطن ہے وہ ظاہر میں نہیں. مگر میرا رب بیک وقت الظاہر بھی ہے اور الباطن بھی ..
.
جو سب سے پہلے آتا ہے وہ سب سے آخر کیسے آسکتا ہے؟ مگر میرا رب بیک وقت الاول بھی ہے اور الآخر بھی ..
.
جو رحمدل ہے وہ قہر کہاں ڈھاتا ہے؟ مگر میرا رب بیک وقت الرحمٰن بھی ہے اور القہّار بھی ..
.
جو معاف کرتا ہے وہ انتقام تو نہیں لیتا مگر میرا رب بیک وقت العفو بھی ہے اور المنتقم بھی .. 
.
لہٰذا عظیم ! اپنے خالق کو مخلوق پر قیاس نہ کر .. بلکہ اعتراف کرلے کہ ..
.
تو دل میں تو آتا ہے، سمجھ میں نہیں آتا
بس جان گیا میں، تیری پہچان یہی ہے 
.
====عظیم نامہ====

Saturday, 20 January 2018

مسلمانوں کی کچھ نمائندہ فکری تحریکیں


مسلمانوں کی کچھ نمائندہ فکری تحریکیں

.
صحابہ اکرام رضی اللہ اجمعین کی جماعت جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت یافتہ تھی وہاں نہایت سادہ طبیعت بھی تھی. ان پر جب ایک بار کفر اور ایمان واضح ہوگیا تو انہوں نے منطقی مباحث یا فلسفیانہ استدلال میں وقت نہیں لگایا بلکہ ہر اس بات پر عمل کی کوشش میں لگے رہے جو ان کی اخروی نجات کا سبب بن سکتی تھی. ان کا یہ سادہ مزاج اس صحرائی عرب کی ثقافت بھی تھا جو قران حکیم کے اولین مخاطب تھے. البتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے جب فتوحات کا سلسلہ بڑھا اور اسلام کا پیغام غیرمعمولی رفتار سے آدھی دنیا پر چھانے لگا تو مسلمانوں کی فکری بنیادوں کو نئے چیلنجز درپیش ہوئے. رومن اور گریک فلسفہ اپنا اپنا منفرد ڈھانچہ اور نہایت بلیغ انداز رکھتا تھا. اس کا ثبوت یہ ہے کہ آج کوئی ڈیڑھ دو ہزار سال بعد بھی ہماری درس گاہیں ان فلسفیوں جیسے فیثاغورث، سقراط، افلاطون، ارسطو وغیرہ کی تعلیمات پر ڈاکٹریٹ کرتے ہیں. آپ اندازہ کرسکتے ہیں؟ کہ جب ان فلاسفاء کی تعلیمات ان سادہ اذہان عربوں اور دیگر مسلمانوں تک پہنچی ہوں گی تو کیسے کیسے سوالات و موضوعات نے جنم لیا ہوگا؟ اس پر طرہ یہ کہ عیسائی مذہبی جماعتوں نے اسی فلسفے کے ذریعے اپنا مقدمہ تیار کررکھا تھا اور اسی کے ذریعے وہ اسلامی تعلیمات کی بنیادوں پر بڑی مہارت سے ذک پہنچانے میں کوشاں تھے. دور خلافت میں جب حکومتی سطح پر سائنس اور فلسفے کی بیشمار کتب کا عربی ترجمہ کیا گیا تو جہاں اس سے تحقیق و علم میں مسلمان آگے آئے وہاں ان فلسفوں کے ذریعے وہ وہ سوال اٹھائے جانے لگے جو پہلے کبھی پیدا ہی نہ ہوئے تھے. فلسفہ جبر و قدر، مسئلہ نقل و عقل، صفات خداوندی عین ذات ہیں یا نہیں، عالم امثال، کائنات محدود یا لامحدود، خدا محدود یا لامحدود، موجود شر میں خدائی انصاف اور اسی طرح دیگر سوالات مسلم اذہان کو متاثر کرنے لگے. کچھ مسلم اہل علم ان گریک اور رومن فلسفوں سے اس درجے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اگر مکمل نہیں تو اس کا بیشتر حصہ اختیار کرلیا. نئی اصطلاحات پیش کی گئی مگر ان کے پیچھے فلسفہ ارسطو یا افلاطون ہی کا ہوا کرتا. گو کچھ فلسفیانہ نتائج ان کے ذاتی بھی تھے۔ ان مسلم اہل علم کو تاریخ میں مسلم فلاسفاء پکارا جاتا ہے. الکندی، الفاربی، ابو سینا وغیرہ اسی سوچ کے نمائندہ ہیں. اسی المیئے کا ذکر علامہ اقبال نے بھی اپنے الہ آباد کے خطبات کے ابتدائیہ میں کیا ہے. 

.
ایسے میں ضرورت تھی کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں جو عقلی و علمی سطح پر ان جدید فلسفوں کا جواب دے سکیں. اسی مقصد کو لے کر دوسری صدی حجرہ میں ایک نیا گروہ سامنے آیا جنہیں تاریخ میں 'معتزلہ' کے نام سے جانا جاتا ہے. 'حسن بصری رح' کی بصرہ ہی کی علمی نشست میں ان سے ان کے ایک شاگرد 'واصل ابن عطا' نے اختلاف کیا. اس کے بقول گناہ کبیرہ کا مرتکب شخص نہ حالت ایمان میں رہتا ہے اور نہ حالت کفر میں. اس اختلاف کی بناء پر وہ نشست چھوڑ گیا جس پر حسن بصری رح نے فرمایا کہ واصل نے خود کو ہم سے الگ کرلیا. اسی بنیاد پر واصل اور اس کے نئے گروہ کو معتزلہ پکارا گیا. معتزلہ لفظ اعتزال سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں خود کو الگ کرلینا. دھیان رہے کہ معتزلہ خود کو معتزلہ نہیں کہتے تھے بلکہ وہ خود کو 'اهل التوحيد و العدل' کے لقب سے موسوم کرتے تھے. یہیں سے صحیح معنوں میں علم الکلام یا مسلم متکلمین کا آغاز ہوا. متکلم اور فلسفی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ فسلفی آخری ہدف متعین نہیں کرتا بلکہ عقل کے گھوڑے دوڑانے سے جو بھی نتیجہ اسے قرین قیاس لگے اسے اختیار کرلیتا ہے. جبکہ متکلم بنیادی اہداف وحی کی روشنی میں پہلے سے متعین کئے ہوتا ہے اور وہ عقل یا فکری استدلال سے اس متعین شدہ ہدف کا دفاع پیش کرتا ہے. معتزلہ کی یہ تحریک واصل ابن عطا کے علاوہ بھی بہت سے اہل علم سے تقویت پاتی رہی جن میں میں 'عامر ابن عبید' اور 'ابوالحدید الالطاف' شہر بصرہ میں جبکہ 'بشر ابن المتعمر' شہر بغداد میں سرفہرست ہیں. معتزلہ نے نہ صرف غیرمسلم فلسفے کا موثر ترین جواب دیا بلکہ ان سیاسی سوالات کے بھی جواب دیئے جو اس وقت عوام کی دل کی آواز تھے. معتزلہ ریشنلسٹ یعنی عقل پسند تھے اور ان کے کئی عقائد و نتائج اس عقل پسندی کو وحی و سنت پر فوقیت دیتے محسوس ہوتے تھے. معتزلہ کی اس تحریک نے کئی سرد و گرم دیکھیے مگر مجموعی اعتبار سے ان کی مقبولیت بڑھتی گئی. یہاں تک کہ خلیفہ مامون کی خلافت میں انہیں سرکاری فکر کا درجہ حاصل ہوگیا. عباسی دور میں ایک عقیدہ معتزلہ کا یہ بھی اپنایا گیا کہ قران حکیم 'مخلوق' ہے. ساتھ ہی یہ اعلان ہوا کہ جو اس سرکاری فکر کو نہیں مانے گا اسے سخت ترین سزا دی جائے گی. ایسے میں اکثر اہل علم خاموش ہوگئے مگر امام احمد بن حنبل رح نے پوری قوت سے تن تنہا حق کی صدا بلند کی اور قران حکیم کو مخلوق ماننے سے انکار کردیا. وہ جانتے تھے کہ قران کو مخلوق ماننا دراصل اسے ناقص منوانا ہے جو مستقبل میں تباہ کن ثابت ہوگا. اس کی پاداش میں انہیں زندان میں ڈالا گیا، کوڑے لگائے گئے مگر وہ اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے. معتزلہ کے زیر اثر اس استبداد نے عوام و خاص میں ان سے دوری پیدا کردی. 
.
بصرہ میں معتزلہ فکر ہی کے ایک علمی گھرانے میں ایک ذہین بچے نے آنکھ کھولی. جن کا نام 'ابو الحسن علي ابن إسماعيل اﻷشعري' رکھا گیا. آپ مشہور صحابی 'ابو موسیٰ الاشعری رض' کی نسل سے تھے. ابوالحسن الاشعری چالیس برس کی عمر تک معتزلہ فکر سے ہی وابستہ رہے. قوی امکان ہے کہ ابتداء ہی سے آپ کو معتزلہ کی فکر سے علمی اختلاف ہونے لگے تھے. مگر پھر آپ نے چالیس سال کی عمر میں دوران رمضان تین بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت کی جس میں آپ کو کہا گیا کہ طریق رسول یعنی احادیث و سنت کی حمایت کرو. اس تجربے کا اثر یہ ہوا کہ آپ نے معتزلہ کی فکر سے جدائی اختیار کی اور پورے زور و شور سے معتزلہ کا علمی رد پیش کیا. آپ نہ صرف معتزلہ فکر میں موجود خامیوں سے باخوبی آگاہ تھے بلکہ دیگر موجود عقائد پر بھی آپ کی گہری نظر تھی. لہٰذا جہاں آپ نے معتزلہ کی عقل پسندی اور علم الکلام کا پردہ چاک کیا، وہاں امام احمد بن حنبل رح کے حامیان کی اس سوچ کو بھی چیلنج کیا جو عقل و کلام کے استعمال کے مکمل مخالف محسوس ہونے لگے تھے. اسی طرح خارجیوں کی اس سمجھ کو انہوں نے غلط قرار دیا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے. ابوالحسن الاشعری کی اس برپا تحریک سے بعد میں بہت سے اہل علم جڑتے چلے گئے. جن کی بڑی تعداد شافعی تھی. اسی دور میں ثمرقند کے گاؤں ماترید میں ایک اور صاحب علم نے مقبولیت حاصل کی جن کا نام 'أبو منصور ماتریدی' تھا. آپ ابو ایوب الانصاری رض کی نسل سے تھے. آپ سے جڑنے والے علماء کی اکثریت حنفی مکتب سے منسلک تھی. آپ نے بھی معتزلہ فکر کا بھرپور علمی رد پیش کیا جیسے معتزلہ کی اسماء و صفات الہی کی سمجھ کو آپ نے غلط ثابت کیا. 'أبو منصور ماتریدی' اور 'ابوالحسن الاشعری' دونوں ہی کی فکر معتزلہ کی بیخ کنی کرتی تھی اور دونوں ہی قران کے ساتھ سنت کو بھی سینے سے لگانے والے تھے. ان دونوں صاحبان علم کی تعلیمات میں بھی کچھ ایک دوسرے سے اختلافات موجود تھے مگر ان کی نوعیت سنجیدہ نا تھی. لہٰذا جلد ہی ان دونوں بزرگان کی فکر نے مل کر سنی فکر کی نمائندگی شروع کردی. جسے آج تک 'جماعت اہل السنہ' کے نام سے مخاطب کیا جاتا ہے. دیوبندی بریلوی سب خود کو جماعت اہل السنہ ہی کہتے ہیں. خود کو عقائد میں اشعری اور ماتریدی کہہ کر پکارتے ہیں. یہاں 'امام ابو حامد غزالی' کا ذکر لازمی ہے جو بعد کے ادوار میں جماعت اہل السنہ یا اشعری فکر کے نمائندہ بن کر ابھرے. آپ ایک زمانے تک فلسفے کے عالم رہے اور اسی طرز استدلال سے وہ مختلف فلسفوں پر جیسے امامیہ، اسماعیلیہ وغیرہ پر نقد کرتے رہے. پھر اہل تصوف سے جڑ کر ان کی فکر میں انقلاب آیا اور انہوں نے علم فلسفہ ہی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا. آپ کی مقبول ترین تصنیف اس ضمن میں 'تہافت الفلسفہ' کے نام سے موجود ہے. اس کتاب نے علمی حلقوں میں ہلچل مچا دی اور فلسفے کے استعمال پرجیسے روک سی پیدا کردی. یہاں تک کہ ایک دوسرے بڑے صاحب علم مسلم فلسفی 'ابن رشد' نے اس کتاب کا بھرپور رد 'تہافت التہافت' کے نام سے پیش کیا. جس نے کسی حد تک علم فلسفہ کا دفاع کیا. دین کے سنجیدہ طالبعلموں کیلئے یہ دونوں کتب آج بھی حصول علم کا بہترین ذریعہ ہیں.
.
اس کے ساتھ ساتھ سنیوں یعنی جماعت اہل السنہ ہی میں ایک اور فکر بھی برقرار رہی جو قران حکیم کے ظاہری معنوں ہی کو درست ماننے پر اصرار کرتے ہیں اور کسی اصطلاحی یا مخفی معنی کے ہونے کا انکار کرتے ہیں. اس گروہ کو 'ظاہری' کہا گیا. اسی اپروچ پر قائم گروہوں کو آج سلفی، اہل حدیث وغیرہ بھی کہہ دیا جاتا ہے. گو درحقیقت آج موجود اہل حدیث یا سلفی فکر کے نتائج کچھ حوالوں سے اور کمتر درجے میں اصل 'ظاہری' سوچ سے مختلف ہیں. جیسے سلفی/اہل حدیث اصول الفقہ میں 'قیاس' کے قائل ہیں جبکہ ظاہری قائل نہیں ہیں. گو کہ ان کے اکثر عقائد میں بڑی حد تک مماثلت ہے اور یہ سب محدثین ہی کی جماعت سے نکلے ہیں. ظاہری سمجھ کے علمبردار علماء میں امام داؤد ظاہری، حافظ ابن حزم وغیرہ شامل ہیں. جبکہ سلفی/ اہل حدیث فکر کے لئے امام ابن تیمیہ، حافظ ابن القیم، شیخ ناصر الدین البانی، عبدالعزیز ابن باز وغیرہ شامل ہیں. کچھ محققین سلفی اور اہل حدیث فکر کو مماثل سمجھتے ہیں جبکہ کچھ کہ نزدیک ان میں بھی کچھ معمولی اختلافات موجود ہیں.
.

اس سب کے ساتھ ساتھ اہل السنہ کے علاوہ بھی مسلم تاریخ میں ایک بہت بڑا اختلاف واقع ہوا اور ارتقاء پاتا رہا. حضرت علی رض کی وفات کے بعد مسمانوں کا ایک گروہ ایسا پیدا ہوا جو خود کو 'شیعان علی' یعنی علی کے چاہنے والے کہہ کر پکارتا تھا اور جنہیں آج شیعہ یا اہل تشیع کہا جاتا ہے. ان کا حقیقی اختلاف سیاسی نوعیت کا تھا. ان کے نزدیک خلافت کے جائز حقدار امام علی رض تھے. وقت کے ساتھ ساتھ یہ اختلاف صرف سیاسی نہ رہا بلکہ فکری جدائی کا بھی سبب بننے لگا. جس طرح سنی مسلمان ابتداء میں گریک و رومن فلسفے سے متاثر ہوئے تھے. ویسے ہی مسلمانوں کا یہ گروہ فارس یعنی موجودہ ایران کی تہذیب و فلسفے سے متاثر ہوا. سنی مسلمانوں کے مرکزی دھارے سے ان کے کئی فکری اختلافات واقع ہوئے جن میں سرفہرست امامت کا تصور ہے. ان مسلسل مباحث، مکالموں، فکری اختلاف، فسلفوں، علم الکلام وغیرہ نے دین کے بہت سے طالبعلموں کو ظاہری منطق میں الجھا دیا تھا. لہٰذا یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ احکام کی روحانیت کو واپس لایا جائے. یہاں سے تصوف کا آغاز ہوا. یہ تحریک اپنے مقصد کے لحاظ سے ایک عمدہ کاوش تھی اور اگر فقط تذکیر نفس تک محدود رہتی تو کوئی معترض نہ ہوتا مگر تصوف نے اپنا پورا فکری ڈسپلن عقائد سمیت پیش کیا. دیگر علمی تحریکوں کی طرح یہ بھی بیرونی فلسفوں سے محفوظ نہ رہی. ارسطو، افلاطون، فیثاغورث کے صدیوں پہلے پیش کردہ تصورات کی بھرپور جھلک تصوف کے نام پر پیش کردہ کئی نظریات میں نظر آتی ہے. علم تصوف کے اوائل آثار دور تابعین کے فوری بعد نظر آتے ہیں مگر علمی منظم سطح پر اسے شائد سب سے پہلے 'شیخ ابن العربی' نے پیش کیا. ان سے ایک نمایاں بڑا اختلاف 'شیخ احمد سرہندی عرف مجدد الف ثانی' نے وحدت الوجود کے مقابل وحدت الشہود کا نظریہ پیش کرکے کیا۔ بعد میں 'شاہ ولی اللہ محدث دھلوی' نے ان دونوں نظریات میں تطبیق کی کوشش کی۔ جسے اہل علم کے ایک حلقے نے قبول اور دوسرے نے رد کردیا۔ اہل تصوف میں بھی بہت سے افراد ایک اور تحریک سے متاثر ہوئے جسے 'باطنیہ' کہا جاتا تھا. باطنیہ دراصل اسماعیلی عقائد کے بہت قریب تھے۔ اور عام طور پر تاریخ میں فرقہ اسماعیلی، آغا خانی، رافضی اور خوجا کے لیے باطنیہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ یہ قران حکیم کے معروف الفاظ کے بھی باطنی معنی پیش کرتے. ان کا دعویٰ تھا کہ قرآن شریف کی آیتوں کے ظاہری معنی کچھ اور ہیں اور اصلی باطنی کچھ اور. گویا جس طرح 'ظاہری' فکر کے مبلغ قران کے ظاہری معنوں ہی کو قبول کرنے پر مصر تھے. وہاں 'باطنیہ' تحریک سے متاثر یہ اہل تصوف قران حکیم کے معروف سادہ معنوں کا بھی باطنی ترجمہ کرنے لگے. جیسے لفظ 'جبال' کا سادہ و معروف معنی پہاڑ ہے مگر باطنیہ سے منسلک افراد لفظ جبال کوپہاڑ کی بجائے اولیاء اللہ سے تعبیر کرتے. ان کے بقول یہ وہ غوث و ابدال ہیں جو رب کی جانب سے زمین کی مختلف ذمہ داریوں پرجبال کی مانند مامور ہیں اور توازن قائم رکھتے ہیں. باقی تفصیل سے ہم دانستہ اجتناب کررہے ہیں کہ یہ موضوع اپنے آپ میں طوالت کا متقاضی ہے. .
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: یہ مضمون اس وقت ناقص ہے اور ایک 'رف ڈرافٹ' کی صورت میں پیش کیا گیا ہے. ان کے علاوہ بھی بہت سے فلسفے مسلم تاریخ کا حصہ ہیں. مستقبل قریب میں راقم اسکی تصحیح اور اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے. فی الوقت اسے موجود نقائص کے ساتھ قبول کیجیئے)