Monday, 8 January 2018

عابی مکھنوی بھائی کی پوسٹ پر میرا کمنٹ



عابی مکھنوی بھائی کی پوسٹ پر میرا کمنٹ


۔
ویسے تو لکھنا لکھانا تقریباً چھوڑ ہی دیا ہے ۔ بھلا ہو فیس بُک کا کہ ہر روز گزشتہ چھ سات سال میں لکھا کہا گیا روزانہ سامنے رکھ دیتی ہے۔ کچھ مناسب لگا تو کاپی پیسٹ کیا اور یہ جا وہ جا !!!
کچھ تازہ نہ لکھنے کا محرک یہ بنا کہ قلم سے جلی کٹی اور مایوس کُن باتوں کے سوا کچھ برآمد ہی نہیں ہو رہا تھا جبکہ مخلوق خدا اُمید اور آسرے کی متلاشی ہے ۔ ایسے میں خاموشی بھی ثواب کا کام لگا ۔
لہذا خاموشی سادھ لی ہے ۔ کوئی مسخرانہ سوچ وارد ہوتے ہی ایک آدھ جملے میں نذر کر دیتا ہوں کہ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنا بھی صدقہ ہے۔
میں نہیں جانتا کہ اس کیفیت کو کیا کہتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے بے حسی ہو !! خود غرضی ہو !! یا محض تھکاوٹ . دائمی ہے یا عارضی !! رب جانے !!
کچھ مہینوں سے سب اچھا لگنے لگا ہے ۔ بد ترین بُرا بھی معمول جیسا !! ہو سکتا ہے اس کیفیت کو ہار یعنی شکست کہتے ہوں ۔
ایک عرصہ کشتی کھیلی ہے ۔ ہم دیکھنے والوں کے لیے کشتی لڑتے تھے اور انہی کے لیے جیت کر بھی دِکھاتے تھے ۔
شاید کوئی تماشائی اس قابل نہیں بچا کہ جسے میچ جیت کر دکھانے کی لگن بیدار ہو ۔ میدان اُجڑا پڑا ہے اور اکھاڑا آباد ہے ۔ کوئی پاگل ہی ایسے میں کرتب دِکھا سکتا ہے ذی ہوش نہیں ۔
تو ہو جائے پھر ایک ایک لطیفہ :) میں تو روز ہی پوسٹ کرتا ہوں :) آپ بھی سُنائیے نا کُچھ !!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
السلام علیکم عابی بھائی

بارہا اظہار کرچکا ہوں کہ آپ کو فقط شاعر کہنا یا سمجھنا میں قطعی طور پر غلط قرار دیتا ہوں۔ آپ نے بہت سیکھ لیا، کہہ لیا، سوچ لیا ۔۔۔ اب واقعی وقت ہے جب یہ تھکا ماندہ مگر سکون سے مزین مسافر رک کر اپنے ماضی کا طائرانہ جائزہ لے، یادوں کی کرچیاں سمیٹے اور بناء کسی تصنع و بناوٹ کے اپنے اس سفر کی روداد لکھ ڈالے۔ ایسا سفر نامہ جس میں دوسروں سے زیادہ اپنے متعلق سچ بولا گیا ہو۔ اپنی توصیف کی بجائے اس جرات سے اپنی کردار کشی کی ہو کہ ممتاز مفتی بھی مرعوب ہوجائیں۔ آپ کو اب کتاب لکھنی چاہیئے مگر صرف شاعری کی نہیں بلکہ اپنے تجربات کے نثری اظہار کی۔ جون ایلیاء سے ہزار نظریاتی اختلافات سہی مگر وہ ایک سوچنے والے ذہن کے مالک تھے۔ ان کی شاعری کی پذیرائی ہونا اپنی جگہ ایک حقیقت مگر جو کام ان کا نثری مجموعہ 'فرنود' کرگیا ہے وہ ان کی تمام کاوش کا حاصل ہے۔ ہمیں آپ کی کتاب کا انتظار ہے عابی بھائی۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عظیم الرحمن عثمانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان



ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان

Image may contain: 1 person, suit
.
پاکستان کی اسٹریٹجک لوکیشن ایسی ہے کہ دنیا میں طاقت کے توازن کو قابو میں کرنے کیلئے اسے ساتھ لے کر چلنا لازمی ہے. یہی وجہ ہے کہ امریکہ، انگلینڈ وغیرہ کے اخبارات میں پاکستان کا ذکر اچھے برے انداز سے کسی نہ کسی بہانے ہوتا ہی رہتا ہے، حالانکہ بہت سے ممالک دنیا کے منظر نامے میں ایسے گمنام ہیں کہ وہاں ہوئے بڑے واقعات بھی ان اخبارات میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتے. پاکستان کا جغرافیہ ایسا ہے کہ اگر کسی وقت تجارتی راستہ محفوظ ہو جائے تو وہ ترقی جسے حاصل کرنے میں دوسرے ممالک کو پچاس پچپن سال لگے ہیں، وہی ترقی یہ پانچ سے دس سال میں حاصل کرسکتا ہے. پاکستان کی سرزمین لوہے، کوئلے، نمک سمیت معدنیات و دیگر وسائل سے بھی بھرپور ہے اور امکان ہے کہ اگر صحیح طور پر کھدائی یا تحقیق کی جائے تو توقع سے کہیں زیادہ خزائن برآمد ہونگے. اسی طرح دنیا واقف ہے کہ پاکستان ایک نہایت مظبوط فوج اور صف اول کی انٹلیجنس ایجنسی کا مالک ہے. میزائل ٹیکنولوجی، ٹینک، آبدوز، جہاز سمیت ہر دفاعی ساز و سامان نہ صرف خود بنارہا ہے بلکہ دیگر ممالک کو بیچ بھی رہا ہے.
.
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ کو جن دو ممالک سے حقیقی معنوں میں سب سے زیادہ خطرہ رہتا ہے ، وہ ہیں روس اور چائنا. لطف کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے روس اور چین دونوں کے ساتھ مل کر اپنا کیمپ امریکہ سے الگ کرلیا ہے. سی پیک اسی کا حصہ ہے. افغانستان میں روس اپنی شکست کا ذمہ دار بجا طور پر پاکستان کو مانتا آیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان سے اپنی فوجی ہزیمت کے بعد کبھی مثبت تعلقات نہیں رکھے. یہ پہلی بار ہے کہ روس نے ماضی بھلا کر پاکستان سے ہاتھ ملا لیا ہے، اس کا ایک اور بڑا ثبوت حال ہی میں کی جانے والی روسی اور پاکستانی فوج کی پاکستان کی سرزمین پر مشترکہ مشقیں ہیں. روس کے اس اقدام نے انڈیا کا جس درجے میں دل توڑا ہے، اس کا اندازہ انڈین چینلز کے تجزیاتی پروگرامز دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے. زرداری کے دور حکومت میں امریکہ اور انڈیا گوادر پروجیکٹ کو التواع میں ڈالنے میں کامیاب ہوگئے تھے مگر پچھلے سالوں میں پاکستان آرمی نے براہ راست چین کو گوادر کی تعمیر اور تعمیر کی یقین دہانی کرائی ہے. جس کے بعد اب اس پروجیکٹ کو سیاسی دباؤ سے روکنا ممکن نہیں رہا ہے. پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ابھی بھی التواع کا شکار ہے مگر اب ایران کی جانب سے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے اشارے دوبارہ مل رہے ہیں.
.
اگر یہ منصوبہ بنا تو چائنا اور ایران کو جو فائدہ ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے مگر پاکستان کی بھی انرجی کی تمام ضروریات مکمل ہوسکیں گی. گوادر پورٹ کو چلانے کیلئے جب آغاز میں مختلف ممالک نے ٹینڈرز پیش کیئے تھے تو پاکستان نے دبئی پورٹ ورلڈ کو قبول کیا تھا مگر انڈیا نے دباؤ ڈال کر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا تھا. اب چین نے اپنی ہی 'چائنیز اوور سیز پورٹ اتھارٹی' کو گوادر کی ذمہ داری سونپ دی ہے جسے چھیالیس بلین ڈالرز کی خطیر رقم سے کھڑا کیاجارہا ہے. لہٰذا انڈیا یا امریکہ اب اسے روکنے سے قاصر ہیں. گوادر پاکستان کی گہرے گرم پانی کی پہلی پورٹ ہوگا جو دنیا میں گنتی کے چند ممالک کو حاصل ہے اور جسے چائنا کو 2009 تک ٹھیکے پر سونپ دیا گیا ہے، اسکے بعد یہ پاکستان نیول بیس میں تبدیل کردینے کا امکان ہے. دھیان رہے کہ کراچی پورٹ گہرے پانی کی پورٹ نہیں ہے. گہرے پانی کی پورٹ میں جہاز کو پانی میں کھڑے رہتے ہوئے آف لوڈ کیا جاسکتا ہے، جس سے وقت و سرمایہ دونوں محفوظ ہوتے ہیں. گوادر کے ذریعے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟ اسکے بارے میں عالمی سطح پر بہت سی قیاس آرائیاں موجود ہیں. مگر جو بات حتمی ہے وہ یہ کہ چائنا سمیت کئی دیوقامت تجارتی حجم والے ممالک گوادر کو تیل سمیت دیگر اشیاء کیلئے تجارتی روٹ کے طور پر استعمال کریں گے جس سے پاکستان کو کروڑوں ڈالرز کی مستقل کمائی حاصل ہوگی، لاکھوں نوکریاں اور کاروباری سرگرمیاں پیدا ہونگی. یہ خدشہ اپنی جانب موجود ہے کہ کل گوادر چین کو گروی ہی نہ رکھنا پڑ جائے. دانشور یا ذہن ساز افراد زیادہ سے زیادہ توجہ دلاسکتے ہیں مگر اس ضمن میں ہمیں اپنی فوجی و سیاسی قیادت کی فراست پر بھروسہ رکھنا ہوگا.
.
اب چونکہ امریکہ اور انڈیا یہ جان چکے ہیں کہ اس سی پیک کو روکنا ممکن نہیں ہے لہٰذا اب ان کا لائحہ عمل یہ ہے کہ پاکستان کے حالات جو پہلے ہی خستہ ہیں، انہیں آخری حد تک خراب کردیا جائے. انڈیا اب اپنے آقا امریکہ کے آشیرباد سے پانچ طریقوں سے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے. پہلا طریقہ یہ کہ پاکستان کو اسکی ہندوستانی سرحد پر حالت جنگ یعنی ریڈ الرٹ میں کسی نہ کسی بہانے سے رکھا جائے تاکہ فوج کی توانائی ملک کے اندر دیگر سرگرمیوں میں اچھی طرح استعمال نہ ہوسکیں. دوسرا طریقہ انڈیا کا وہ خواب ہے کہ امریکہ کی طرح وہ بھی پاکستان میں سرجیکل اسٹرایکس کرسکیں، اس طریقے کو عملی جامہ پہنانے کی ہمت تو یہ نہ کرسکے البتہ اسی سرجیکل حملے کا ایک جھوٹا ڈرامہ رچا کر انڈیا پوری دنیا میں لطیفہ بن گیا. تیسرا طریقہ امداد اور انٹلیجنس کے ذریعے پاکستان مخالف جماعتوں کو ملک کے اندر مدد پہنچانا ہے. بلوچ لبریشن آرمی سمیت دیگر تنظیموں کو اس وقت انڈیا کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور ان کے لیڈر انڈیا میں بیٹھ کر بھی آپریٹ کررہے ہیں. امریکی سی آئی اے کا ریمنڈ ڈیوس ہو یا بلوچستان میں انڈین راء کا پکڑا جانے والا کلبھوشن یادو. سب کا مشن پاکستان کی 'پراکسی وار' کے ذریعے تباہی ہے. چوتھا طریقہ افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کا فروغ ہے. انڈیا اس وقت افغانستان میں جتنا مظبوط ہے، اس کا آدھا مظبوط بھی وہ تاریخی طور پر کبھی نہیں رہا. پھر پاکستان نے اپنی حماقتوں کے سبب بھی اپنے افغان بھائیوں کو اپنا دشمن بنالیا ہے. حامد کرزئی جیسے سکہ بند امریکی چمچے اسوقت طاقت میں ہیں جو پاکستان کے قبائلی علاقوں کی نفسیات سے بھی خوب واقف ہیں لہٰذا پاکستان کو مسلسل اس محاذ پر ہزیمت کا سامنا ہے. پاکستان کی جانب سے حال ہی میں افغان بارڈر کو سیل کرنا اسی کے تدارک کی پاکستانی کوشش ہے. پانچواں طریقہ جو اپنایا گیا ہے اسے 'فورتھ جنریشن وار' کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، جس میں دفاعی اداروں اور عوام کے مابین نفرت و دوری پیدا کی جاتی ہے. اس کے لئے سوشل میڈیا سمیت حقوق نسواں یا انسانی اداروں کی آڑ لے کر امریکہ اور انڈیا ان افراد کو فنڈ کررہا ہے جو عوام میں نفرت، غصہ اور مایوسی کو ہوا دے سکیں. افسوس یہ بھی ہے کہ بناء معاوضہ لئے بھی ایسے لوگ بکثرت دستیاب ہیں جو پاکستان کے خلاف دن رات زہر افشانی کرنے کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہیں. ایک امکان یہ بھی ہے کہ ابھی حالیہ طور پر جن سوشل میڈیا پر متحرک افراد کو گرفتار یا غائب کیا گیا ہے ان کا شمار اسی فورتھ جنریشن وار کے متعلقین میں ہو. گو یہ فقط ایک امکان ہے.
.
اسکے علاوہ بھی مذہبی منافرت کے فروغ اور ثقافتی یلغار سمیت کئی ایسے زاویئے ہیں جن پر دشمن پوری تندہی سے کام کر رہا ہے. گویا اس وقت پاکستان کو جتنے محاذوں کا سامنا ہے اس کا تصور بھی دیگر ممالک نہیں کرپاتے. یقینی طور پر ابتداء میں ہم نے وہ اقدام نہیں کیئے جو کرنے تھے اور جس سے دشمن کو اپنے پاؤں کسی حد تک جمانے کا موقع حاصل ہوا مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اب ہم کھل کر لڑرہے ہیں. قوم اب دشمن کو پہچان پارہی ہے. وزیرستان سے لے کر کراچی تک کیئے گئے آپریشن اگر مکمل نہیں تو بڑی حد تک دشمن کو کمزور کرنے میں کامیاب رہے ہیں. کسی بم دھماکے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ آپریشن ناکام رہے، ایک نہایت غلط اپروچ ہے. یہ ایک طویل جنگ ہے جو ہم بہت سے محاذوں پر ایک ساتھ لڑ رہے ہیں لیکن کامیابی ان شاء اللہ پاکستان کی قسمت ہے.
.
ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ ٹویٹ اور اس ٹویٹ پر انڈین میڈیا کا واویلہ یہ ثابت کررہا ہے کہ روس، چین اور پاکستان کا اتحادی بلاک امریکہ اور انڈیا دونوں کے سر پر واقعی بلاک بن کر گرا ہے.
.
====عظیم نامہ====

ایک شیخ

ایک شیخ


کہتے ہیں کہ ایک شیخ اپنے طالبعلموں کو قران حکیم کی تعلیم دے رہے تھے. وہاں سے ایک الحاد زدہ شخص کا گزر ہوا. اس نے شیخ کو استہزائی انداز میں مخاطب کرکے جملہ کسا .... "شیخ ! تم سب کتنے احمق ہو ! دنیا والے سائنس پڑھ کر چاند پر پہنچ گئے اور تم لوگ ابھی تک قران و حدیث میں لگے ہوئے ہو" ....
.
شیخ مسکرا کر متوجہ ہوئے اور جواب دیا .... "اس میں کیا حیرت کی بات ہے؟ وہ مخلوق ہیں اور ایک مخلوق سے دوسری مخلوق تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایک عمدہ کوشش ہے. ہم مخلوق ہیں اور اپنے خالق تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ایک بہترین کوشش ہے. دونوں گروہ اپنی اپنی جگہ کچھ نہ کچھ خیر ضرور حاصل کررہے ہیں. لیکن تم واقعی احمق ہو جس نے نہ سائنس پڑھ کر ان کے ساتھ مخلوقات کی حقیقت کو پانے کی سعی کی اور نہ ہی ہمارے ساتھ قران و سنت سمجھ کر خالق کو پانے کی کوشش کی. تم دونوں ہی حوالوں سے احمق ہو." ....
.
====عظیم نامہ====

(ایک انگریزی بیان کا تاثر)

نماز میں خشوع کا دوسرا درجہ

نماز میں خشوع کا دوسرا درجہ


خشوع کا اونچا درجہ تو یہی ہے کہ دوران نماز، عابد حضوری کے احساس سے سرشار ہو اور اس کا ارتکاز مکمل طور پر تلاوت و مفہوم پر قائم رہے۔ مگر یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے جھنجھٹوں میں پھنسے ہم لوگوں کی نماز طرح طرح کے خیالات سے نبردآزما رہتی ہے۔ ایسے میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ دوران نماز دین و رب سے متعلق خیالات کا آنا معصیت و گناہ کے خیالات کے مماثل نہیں ہے۔ گویا ہمارے نزدیک ذہن کا خیالات میں بھٹکنا ایک جیسا نہیں۔ ایک بھٹکنا محبوب یعنی قرب خدا سے دوری کا استعارہ ہے اور دوسرا بھٹکنا اپنے محبوب کی گلی میں بھٹکنا ہے۔ کسی عارف نے سچ کہا ہے کہ نماز میں آپ کا ذہن وہاں ہی رہتا ہے جہاں نماز سے باہر رہتا ہے۔ اگر آپ کی روزمرہ کی مصروفیات میں دین کو ترجیح حاصل ہے تو خیالات کی آمد بھی دین سے متعلق رہے گی مگر اگر اس کے برعکس آپ کی زندگی گناہ و معصیت یا حصول مادیت کے گرد گھومتی ہے تو دوران نماز بھی خیالات اسی سے وابستہ ہونگے۔ نیک خیالات نماز یا دین سے آپ کو کبھی دور نہیں لے جائیں گے۔ جبکہ گناہ سے آلودہ خیالات نہ صرف خشوع کو دور کردیں گے بلکہ جلد ہی نماز و دین کی پابندی سے بھی آپ کو محروم کردیں گے۔
۔
====عظیم نامہ====

آپ کیا پریکٹس کرتے آئے ہیں


آپ کیا پریکٹس کرتے آئے ہیں


انگریزی کا ایک مقبول مقولہ ہے کہ 'پریکٹس میکس دی مین پرفیکٹ'. یعنی کسی کام کا بار بار کرنا یا دہرانا آپ کو اس کام کا ماہر بنا دیتا ہے. 
.
اسی طرح کنگ فو کی فیلڈ میں ایک چینی کہاوت ہے کہ 'مجھے ان ایک لاکھ داؤ سے خطرہ نہیں ہے جو تم نے ایک بار پریکٹس کئے ہیں. مجھے تو اس ایک داؤ سے خوف ہے جو تم نے ایک لاکھ بار پریکٹس کئے ہیں'
.
ایک اور مشہور مقولہ یہ بھی ہے کہ 'ہم پہلے اپنی عادات بناتے ہیں اور پھر وہ عادات ہمیں بناتی ہیں' - گویا پہلے ہم کسی کام کو بار بار کر کے اس کی عادت ڈال لیتے ہیں مگر پھر وہی عادت ہماری مستقل صفت بن کر ہماری شخصیت کا تعارف بن جاتی ہے.
.
یہ تمام اور اس جیسے اور بہت سے اقوال و کہاوتیں دراصل ایک ہی حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہیں اور وہ یہ کہ کسی بھی کام کی بار بار پریکٹس آپ کو اس خاص کام کا ماہر بنادیتی ہے. اب سوال صرف اتنا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں آج تک کیا پریکٹس کرتے رہے ہیں؟
.
اگر آپ شکایت پریکٹس کرتے آئے ہیں تو کچھ ہی عرصے میں آپ اس میں ایسے ایکسپرٹ ہوجائیں گے کہ جلد ہی لوگوں سے، معاشرے سے، رشتوں سے اور خدا سے آپ کو طرح طرح کی شکایات ہونے لگیں گی 
.
اگر آپ تنقید پریکٹس کرتے آئے ہیں تو یقین جانیئے کہ جلد ہی آپ تنقید کے اتنے بڑے ماہر بن جائیں گے کہ مثبت سے مثبت ترین بات میں بھی تنقیدی پہلو ڈونڈھ نکالیں گے 
.
اگر آپ سکون پریکٹس کرتے آئے ہیں تو بہت جلد آپ سخت سے سخت حالات میں بھی سکون کا پیغام بنے نظر آئیں گے. 
.
سوال بہرحال یہی ہے کہ آپ کیا پریکٹس کرتے آئے ہیں؟
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 28 December 2017

کہت کبیر


کہت کبیر


کبیر داس دنیا بھر کے نمائندہ تاریخی اسپرچولسٹ شخصیات میں شمار کیئے جاتے ہیں. ان کے افکار میں بیک وقت ہندو دھرم اور دین اسلام دونوں کی تعلیمات کی تائید بھی جھلکتی ہے اور انکار بھی نظر آتا ہے. گو آپ کی پرورش ایک مسلم گھرانے میں ہوئی مگر ان کی اصل مذہبی شناخت کے بارے میں اتنا زیادہ ابہام ہے کہ کسی حتمی فیصلے تک پہنچنا مشکل ہے. البتہ اس کا اعتراف ہر محقق و طالبعلم کرے گا کہ آپ کی سوچ اور شاعری نے روحانیت کے سالکین کو ہمیشہ اپنی جانب مائل کیا ہے. ہم یہاں اپنے قارئین کیلئے ان کی ایک طویل نظم کے کچھ چنیدہ اشعار درج کررہے ہیں. اس امید کے ساتھ کہ قاری تعصب سے بالاتر ہو کر ان میں سے خیر کشید لے گا.
.
=======
کہت کبیر
=======
.
بُرا جو دیکھن میں چلا ، بُرا نہ مِلیا کوئے
جو مَن کھوجا اپنا ، تو مُجھ سے بُرا نہ کوئے
.
کبیرا کھڑا بازار میں، مانگے سب کی خیر
نہ کَہو سے دوستی ، نہ کَہو سے بَیر
.
سائیں اتنا دیجئے جا مَیں کُٹمب سمائے
میں بھی بھوکا نہ رہوں سادھو نہ بھوکا جائے
.
مایا مَری نہ من مَرا ، مَر مَر گئے شریر
آشنا ترشِنا نہ مَری ، کہہ گئے داس کبیر
.
دُکھ میں سِمرن سَب کریں سُکھ میں کرے نہ کوئے
جو سُکھ میں سِمرن کرے تو دُکھ کہاں سے ہوئے ؟
.
جیسے تِل میں تیل ہے ، جِیوں چَکمک میں آگ
تیرا سائیں تُجھ میں ہے ، تُو جاگ سکے تو جاگ
.
دھیرے رے مَنا ، دھیرے سب کچھ ہوئے
مالی سینچے سو گھڑا ، رُت آئے پھل ہوئے
.
ماٹی کہے کُمہار سے ، تُو کیا روندھے موئے ؟
اِک دِن ایسا ہو وے گا ، میں روندھوں گی توئے
.
مالا پھیرتے جگ بَھیا ، پھرا نہ من کا پھیر
مالا کا منکا چھوڑ دے ، مَن کا منکا پھیر
.
جب تُو آیا جَگت میں ، لوگ ہنسے ، تُو روئے
ایسی کرنی نہ کری ، پیچھے ہنسے سب کوئے
.
چِنتا ایسی دیکھنی ، کاٹ کلیجہ کھائے
وَید بِچارا کیا کرے ، کہاں تک دوا لگائے
.
میرا مُجھ میں کُچھ نہیں ، جو کُچھ ہے سو تیرا
تیرا تُجھ کو سونپ دیں ، کیا لاگے ہے میرا ؟
.
حد حد جائے ہر کوئی ، اَن حد جائے نہ کوئے
حد اَن حد کے بیچ میں ، پڑا کبیرا سوئے
.
کلام: بھگت کبیر داس
.
انتخاب: عظیم الرحمٰن عثمانی

نبی کیلئے جنت کا ہونا عدل کے خلاف یا نہیں


نبی کیلئے جنت کا ہونا عدل کے خلاف یا نہیں




سوال:نبوت کسبی نہیں وھبی ہے ۔ یعنی انبیاء طے شُدہ ہوتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے معصیت سے محفوظ ۔ جبکہ اُمتی امتحان میں ہوتا ہے ۔ یہ کیسا عدل ہے؟

جواب:
تاخیر کیلئے معزرت. جی آپ نے درست کہا کہ نبوت کسبی نہیں وھبی ہے. گویا انسان اپنے عمل و ریاضت سے شہید، صدیق، صالح کا درجہ حاصل کرسکتا ہے مگر نبی کا درجہ عمل نہیں خالص عطا ہے. سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ رب کریم چاہے تو کسی مخلوق کو بذریعہ امتحان اپنی جنت میں داخل کرے اور چاہے تو کسی مخلوق جیسے ملائکہ کو بناء امتحان جنت میں داخلہ دے دے. یہ خالص اللہ پاک کا ہی ڈومین ہے. اسی طرح جب اللہ رب العزت کسی انسان کو نبوت پر فائز فرماتے ہیں تو اس سے یہ بات تو ضرور لازم ہوجاتی ہے کا وہ شخص اب معصیت سے محفوظ رکھا جائے گا. مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آزمائش سے نہ گزرے گا بلکہ اسے تو اسی کے لوگوں میں جھوٹا، سحر ذدہ اور پاگل جیسے القاب دے کر رسوا کیا جاتا ہے. سچ تو یہ ہے کہ نبی کو اتنی سخت ترین نفسیاتی و جسمانی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے جس کے خود پر تصور سے بھی روح کانپ جائے. رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی ہو، یوسف علیہ السلام کو بچپن میں غلام بنا  دینا ہو، موسیٰ علیہ السلام کو شیرخواری میں دریا برد کرنا ہو، ابراہیم علیہ السلام کے والد کا انہیں سنگسار کردینے کی دھمکی دینا ہو، یعقوب علیہ السلام کی اذیت ہو، اسمعیل علیہ السلام کا خود ذبح ہونے کیلئے چھری کے نیچے لیٹنا ہو، ایوب علیہ السلام کا بیماری میں مبتلا ہوکر اپنے پیاروں کی دھتکار سننا ہو، نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سال کی شب و روز مشقت ہو، یونس علیہ السلام کی ایک خطا پر مچھلی کے پیٹ میں اپنی چمڑی گلانا ہو. یہ اور بہت بہت کچھ جسے انبیاء کو سہنا پڑتا ہے اسے سوچ کر بھی کپکپی طاری ہوتی ہے. دوسری جانب ایک امتی کیلئے جنتی ہونا اور جنت میں اونچے ترین درجات، یہاں تک کے نبیوں کی رفاقت حاصل کرنا نسبتاً نہایت آسان نظر آتا ہے. گویا یہ دیکھنے کا زاویہ ہے. آپ کہتے ہیں کہ یہ کیسا عدل ہے کہ امتی امتحان میں ہوتا ہے اور نبی کا جنتی ہونا طے ہے؟ کوئی دوسرا یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کیسا عدل ہے کہ امتی صرف توبہ کے ساتھ فرائض بھی پورے کرلے تو جنت کے باغات میں داخل ہوسکتا ہے اور نبی کو اتنے خوفناک و ہولناک آزمائشوں سے گزر کر یہی جنت کے باغات حاصل ہوتے ہیں. حقیقت یہ ہے کہ ہمارا رب سب سے بڑا عادل ہے، اس کا کوئی عمل عدل کا کمتر درجے میں بھی منافی نہیں. وہ بہتر جانتا ہے کہ کن کن صلاحیتوں یا موقعوں کے ملنے کے بعد کتنی کتنی آزمائش عدل کیلئے ضروری ہے؟
.
====عظیم نامہ====