Thursday, 14 December 2017

کیا غیرمسلم جنت میں جاسکتا ہے


کیا غیرمسلم جنت میں جاسکتا ہے

.

بحیثت قران حکیم کے طالبعلم جس بات کے ہم قائل ہیں وہ یہ ہے کہ کم از کم تین چنیدہ اور بنیادی حقائق ایسے ہیں جن کا شعور ہماری فطرت میں پیوست یعنی ودیعت کردیا گیا ہے. ان حقائق کے ضمن میں ہر صاحب عقل شخص سے اسکے اپنے حالات و مواقع کے مطابق جواب دہی ضرور ہوگی. اس کے علاوہ جو دیگر حقائق و اعمال ہیں  جیسے ملائکہ پر ایمان، رسالت پر ایمان، شرعی احکام و عبادات کی ادائیگی وغیرہ. ان کی جوابدہی پیغام پہنچنے اور واضح ہونے سے مشروط ہے. وجہ وہی کہ ان سب کا شعور ہمیں داخل سے نہیں خارج کی معلومات سے حاصل ہوتا ہے. جب کے ان تین بنیادی حقائق کا شعور ہمیں باطن ہی سے مل جاتا ہے. یہ تین حقائق کون سے ہیں؟ ان کا بیان کم از کم دو مقامات پر کم و بیش ایک سے الفاظ میں کیا گیا ہے. سورہ البقرہ کی آیات ٦١ سے ٦٣ ملاحظہ کیجیئے:
.
"جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو اللہ (یعنی ایک خدا) اور روز قیامت (یعنی اعمال کی جزا و سزا) پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے"
.
گویا اہل ایمان کے ساتھ تمام دیگر موجود مذاہب کے حاملین کو ایک قطار میں کھڑا کر کے کہا جارہا ہے کہ جو درج ذیل تین باتوں پر ایمان لائے گا اور اس کے مطابق عمل کرے گا، اسے روز قیامت نہ کوئی خوف ہوگا نہ ہی کوئی غم. یہ وہ تین عقائد ہیں جو اسلام کا پیغام نہ پہنچنے کے باوجود ہر انسان کو ماننے ہونگے. چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقہ فکر سے ہو
.
١. ایک خدا پر ایمان
٢. سزا و جزا پر ایمان
٣. نیک عمل
.
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بناء اسلام کا پیغام پہنچے ان تین باتوں پر ایمان و عمل کا تقاضہ کیا زیادتی نہیں؟ تو ہرگز زیادتی نہیں ہے. وجہ وہی جو ہم نے ابتداء ہی میں بیان کی کہ ان تینوں باتوں کا احساس و شعور ہماری فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے. گویا ان تینوں باتوں کو ماننے اور عمل کرنے کیلئے آپ تک کسی مذہب، شریعت، کتاب یا رسول کا پہنچنا نہ پہنچنا ضروری نہیں. کتاب اللہ اس ضمن میں فقط آپ کو یاد دہانی (ذکر) کرواتی ہے اور یاددہانی اسی بات کی کروائی جاتی ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے  آپ پہلے سے جانتے ہوں. ان تینوں باتوں کا ایک مختصر سا جائزہ لے لیتے ہیں کہ کس طرح یہ ہماری فطرت میں پیوست ہیں؟ اگر نہیں، پھر تو یہ ایسا ہے کہ ایک شخص کو پیاس نہ لگی ہو اور آپ زبردستی اسے پانی پلانے لگیں. ایسے میں اسکا جسم پانی اگل دیگا کیونکہ اس میں طلب ہی نہیں ہے.
.
١. ایک خدا پر ایمان
--------------------
.
سب سے پہلی شرط اللہ پر ایمان یعنی ایک خدا پر ایمان. جائزہ لیجیئے کہ کیا انسان میں واقعی ایک خالق کی پیاس ہے ؟ کیا اسکی فطرت اپنا پروردگار طلب کرتی ہے؟ تاریخ انسانی اس بات پر گواہ ہے کہ انسان نے ہر دور میں اور ہر علاقے میں ایک برتر ہستی کے تصور کو تسلیم کیا ہے. ایک ثابت شدا چیز کو ثابت نہیں کیا جاتا بلکہ اسکے رد کرنے والے سے استدلال طلب کیا جاتا ہے. انسانیت کی عدالت نے تاریخی اعتبار سے خدا کے وجود میں پیش کیۓ جانے والے مقدمے کو قبول کیا ہے، اب آپ لاکھ ان ثبوت و دلائل کا انکار کریں، اس تاریخی سچ کو بدلنے کی آپکی حیثیت نہیں ہے. یہ دعویٰ انسانیت نے ہر دور میں اجتمائی حثییت سے قبول کیا ہے،  اب اگر کچھ سر پھرے اٹھتے ہیں اور انسانیت کے اس متفقہ فیصلے کو رد کرتے ہیں تو ان سے پوچھا جاۓ گا کہ استدلال پیش کریں . یہ بلکل ایسا ہی ہے جیسے انسان یہ خوب جانتا ہے کہ ممتا کا جذبہ ماں میں الہامی طور پر ودیعت شدہ ہے ، اسکا اظہار مختلف ماحول میں مختلف طریق سے ہوسکتا ہے مگر اس جذبے کا فطری ہونا سب کو قبول ہے. اسی طرح ایک خالق کا تصور ہمیشہ ہر ماحول میں انسانیت کا مشترکہ اثاثہ رہا ہے، اسے کبھی اللہ، کبھی خدا، کبھی گاڈ، کبھی پرماتما اور کبھی آسمانی باپ کہہ کر پکارا گیا. حد تو یہ ہے کہ آج کا جدید ذہن جسے خدا کے تصور سے بھی الرجی ہے، وہ بھی آج 'سپریم انٹیلجنس' یا ' کولیکٹیو کانشئیس نیس' جیسی دلفریب اصطلاحات ایجاد کرکے اسی کی توجیہہ پیش کرتا نظر آتا ہے. نام جو بھی دیں مگر ایک برتر ہستی کے تصور کو انسانیت نے ہمیشہ آگے بڑھ کر قبول کیا.  "کہہ دو کہ اسے اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو،سارے اچھے نام اسی کے ہیں"(بنی اسرائیل:۱۱۰:۱۷). تصور خدا کی کونپل فطرت کی گود میں پروان چڑھتی ہے یہ اندر سے باہر کا سفر کرتی ہے. یہی وجہ ہے کہ ایک بچہ  چاہے وہ امریکہ میں  پیدا ہوا ہو یا پاکستان میں ، چین سے تعلق رکھتا ہوں یا افریقہ کے زولو قبیلے سے .. وہ اپنے والدین سے بچپن میں یہ سوال ضرور کرتا ہے کہ  مجھے کس نے بنایا ؟ یا میں کہاں سے آیا؟  . آپ اسے کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں  درخت سے توڑ لیا یا ایک فرشتہ ہمیں دے گیا یا  مارکیٹ سے خرید لیا. آپ اس بچے کو مطمئن کرنے کیلئے جو بھی جواب دیں، مگر اس کا یہ معصوم سوال اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہے کہ خدا کے وجود کی طلب انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے . انسانی رویوں پر کی جانے والی بہت سی تحقیقات ، جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق بھی شامل ہے ، وہ سب یہی بتاتی ہیں کہ انسان میں فطری و جبلی طور پر ایسے داعیات موجود ہیں جو اسے ایک خدا پر ایمان رکھنے پر آمادہ کرتے ہیں. تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ سخت ترین ملحد بھی انتہائی مشکل حالت میں بے اختیار ایک برتر ہستی کو پکار اٹھتا ہے. گویا انسان الہامی پیغام نہ پہنچنے پریا الہامی پیغام نہ واضح ہونے پر مذہب کا انکار تو کر سکتا ہے مگر خدا کے وجود کا نہیں. قران حکیم کے بیان کے مطابق اس جسدی وجود کے حصول سے قبل ہم سب انسانوں کی ارواح یا نفوس  نے اللہ کے رب ہونے کی گواہی دی ہے. اس مکالمے کا احساس ہماری جسمانی یاداشت سے ضرور محو کردیا گیا ہے مگر ہماری روح اور فطرت آج بھی پکار پکار کر ہمیں ہمارا جواب یاد دلا رہی ہے. سورہ الاعراف کی ١٧٢ آیت ملاحظہ ہو:
.
"اور اے نبی(ص)، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" انہوں نے کہا "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں" یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ "ہم تو اس بات سے بے خبر تھے،"
.
٢. سزا و جزا پر ایمان
-----------------------
.
دوسری شرط بعد از موت خدا کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس ہے. یہ تقاضہ بھی انسان کے اندر موجود ہے کہ اچھائی کا بدلہ اچھا اور برائی کا بدلہ برا نکلتا ہے. انسان زمانہ طفلی سے یہ چاہتا ہے کہ اس کی اچھائی یا کامیابی کو سراہا جائے اور کوئی زیادتی کرے تو اسے سزا دی جائے. اسی کو مدنظر رکھ کر والدین سے لے کر اساتذہ تک انعام کی لالچ اور سزا کا خوف کو بطور آزمودہ طریق استعمال کرتے ہیں.  یہی تقاضہ ہے جس کی بنیاد پر انسان عدالت سے لے کر پولیس تک کے نظام قائم کرتا ہے. جیل سمیت دیگر سزاؤں کا نفاز کرتا ہے.
.
اس دنیا میں مکمل انصاف کا تصور بھی ناممکن ہے. یہاں تو مشاہدہ یہ ہے کہ ظالم طاقت و اقتدار کے نشے میں چور رہتا ہے اور مظلوم، استبداد کی چکی میں پستا ہی جاتا ہے. یہاں اکثر حرام کھانے والا عیاشیوں کا مزہ لوٹتا ہے اور محنت کش پر زندگی کی بنیادی ضروریات بھی تنگ ہو جاتی ہیں. کتنے ہی مجرم، فسادی اور قاتل کسی عدالت کی پکڑ میں نہیں آتے. ایک مثال لیں، اگر ایک بوڑھا شخص کسی نوجوان کو قتل کردیتا ہے اور مان لیں کہ وہ پکڑا بھی جاتا ہے. عدالت اسے اسکی جرم کی بنیاد پر سزاۓ موت بھی نافز کردیتی ہے. اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ انصاف ہے ؟ کہنے کو تو قاتل کو قتل کے بدلے میں قتل کردیا گیا ؟ مگر کیا یہی انصاف کی مکمل صورت ہے ؟ قاتل تو ایک بوڑھا شخص تھا ، جو اپنی زندگی گزار چکا تھا. جبکہ مقتول ایک نوجوان تھا ، اسکی پوری زندگی اسکے سامنے تھی. ممکن ہے کہ اسکی اچانک موت سے اسکی بیوی بے گھر ہوجاۓ ، اسکے یتیم بچے باپ کا سایہ نہ ہونے سے آوارگی اختیار کرلیں. کیا یہی حقیقی انصاف ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں. یہی وہ صورتحال ہے جو انسان میں یہ فطری و عقلی تقاضہ پیدا کرتی ہے کہ کوئی ایسی دنیا و عدالت برپا ہو جہاں انصاف اپنے اکمل ترین درجے میں حاصل ہو. جہاں بد کو اسکی بدی کا اور نیک کو اسکی نیکی کا پورا پورا بدلہ مل سکے. دین اسی عدالت کی خبر روز حساب کے نام سے دیتا ہے اور اسی دنیا کی بشارت جنت و دوزخ سے دیتا ہے. اب کوئی اسے جنت جہنم کہے، نرگ سورگ پکارے، ھیون ھیل کا نام دے، مواکشا، نروان یا پھر پنر جنم سے اس کی توجیہہ کرے. سب درحقیقت اسی 'جواب دہی کے احساس' یعنی 'سینس آف اکاونٹیبلیٹی' کے روپ ہیں. 
.
انسان کی فطرت ایسی ہے کہ وہ مجموعی اعتبار سے کبھی بھی ناممکن کا تقاضہ نہیں کرتا. یعنی وہ یہ دعا ہرکز نہیں کرتا کہ اسکے دو کی جگہ چار ہاتھ نکل آئیں، وہ یہ تمنا نہیں رکھتا کہ کاش ! دو اور دو چار نہ ہوتے بلکے پانچ ہوتے. مگر کیا یہ عجب نہیں ہے؟ کہ یہی انسان فطری طور پر تمنا رکھتا ہے کہ اسے موت نہ پکڑے، وہ ہمیشہ کی زندگی جئے . اسے بیماری نہ ستائے ، وہ ہمیشہ صحت سے بھرپور رہے. اس پر بڑھاپا نہ سوار ہو، وہ ہمیشہ جوانی کے شباب میں رہے. یہ تقاضے اس لیے ہماری فطرت میں موجود ہیں کہ بھلے اس دنیا میں ان کی تعبیر ناممکن محسوس ہو لیکن ایک اور دنیا ایسی ضرور سجائی جائے گی جہاں ان فطری تقاضوں کی تکمیل ہوگی. دین اسی دنیا کی بشارت دیتا ہے
.
سورہ الاحزاب کی ان ٧١ سے ٧٣ آیات پر غور کیجیئے
.
إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا
.
"ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے"
.
لفظ امانت کے بارے میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں مگر معنی جو بھی اخذ کیئے جائیں، اتنا ظاہر ہے کہ اس امانت کا بار  جس کی جواب دہی کا احساس آج بھی ہمارے لاشعور میں پیوست ہے انسانیت نے خود قبول کیا ہے
.
٣. نیک عمل
--------------
.
خیر و شر کا تعین بھی ہماری فطرت میں ودیعت شدہ ہے. سورہ الشمس میں ارشاد باری تعالی ہے {فَأَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقْوَاہَا: ہم نے ا نسان پر اسکی نیکی و بدی کو الہام کردیا ہے-} گویا نیکی اور بدی کا بنیادی شعور ہم سب انسانوں میں موجود ہے. یہی وجہ ہے کہ پوری انسانیت کی تاریخ دیکھ لیجیئے، بناء تخصیص رنگ، نسل، مذھب آپ کو نظر آئے گا کہ انسان ہمیشہ یہ جانتا ہے کہ سچ بولنا اچھا اور جھوٹ بولنا برا ہے. کسی مظلوم کی مدد کرنا،کسی روتے کو ہنسانا، کسی بھوکے کو کھلانا اعلیٰ اوصاف اور کسی کا حق مارنا،ناحق قتل کرنا، کسی کو دکھ دینا برے اعمال ہیں. دنیا بھر کا جسٹس سسٹم کچھ معاشرتی اقدار کے علاوہ اپنی اصل میں ان ہی بنیادی قدروں سے پھوٹنے والی جزیات کا بیان ہے. یہ البتہ سچ ہے کہ الہامی کتب ہوں یا دیگر فلسفے ان سے اضافی اعمال بھی اس فہرست میں شامل ہوتے جاتے ہیں
.
یہ وہ مختصر بیان ہے جس سے ایک طالبعلم یہ سمجھ سکتا ہے کہ کیوں ان تین باتوں پر ایمان و عمل مذہب کے پہنچنے سے مشروط نہیں ہے. یہاں یہ بھی سمجھ لیجیئے کہ مسلمانوں کی اکثریت کی سمجھ ہماری اس پیش کردہ سمجھ کی موافقت میں نہیں ہے. ان کا نظریہ ٹھیک وہی ہے جو دیگر مذاہب کے نام لیوا اختیار کرتے آئے ہیں اور وہ یہ کہ ان کے ہم مذہبوں کے سوا کسی اور کی مجال نہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوسکے.اس ضمن میں دوسری رائے کے علمبردار مسلمان علماء سب سے پہلے ہماری پیش کردہ آیت سمیت اسی موضوع کی دیگر آیات کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ ان کا اطلاق شریعت محمدی صلی اللہ علیہوسلم سے قبل کے مسلمانوں کے واسطے ہے. گو راقم نے بحیثیت قران حکیم کے طالبعلم کے ایسا کوئی واضح قرینہ نہیں پایا جس سے اس دعوے کی صحت کو تسلیم کرسکے. پھر وہ اس آیت کو پیش کرکے جنت میں داخلہ قبولیت اسلام پر منحصر قرار دیتے ہیں. 

’’اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ ۔ ۔ اور جس نے اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین چاہا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ نامرادوں میں سے ہو گا۔‘‘ ، (آل عمران3: 19 ، 85) 

قران حکیم کے مزاج اور دیگر مقامات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس آیت کے عمومی  اطلاق کے تو قائل ہیں مگر صرف اس وقت تک جب تک دین اسلام ایک شخص پر واضح انداز میں پہنچ جائے. دوسرے الفاظ میں اس پر اتمام حجت ہوجائے. اس کے بعد اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ دین اسلام کی بجائے وہ کسی دوسرے دین کو پیش کرکے نجات پالے گا تو یہ صریح غلط فہمی ہے اور اس کا رویہ کھلا کفر ہے. اگر پیغام پہنچا ہی نہیں یا درست طور پر نہیں پہنچا یا اسے تحقیق کیلئے جو مواقع و رغبت درکار ہے وہ حاصل نہیں ہوئی تو ایسے انسان کو ہم معذور خیال کریں گے. ہمارا رب بہترین منصف ہے اور یہ انصاف اس کی بہترین صورت میں روز جزا ہم مشاہدہ کرسکیں گے ان شاء اللہ. واللہ اعلم بلصواب
.
====عظیم نامہ====
.
نوٹ: یہ ہماری ناقص سمجھ ہے جس میں غلطی کا امکان ہے. قاری کو چاہیئے کہ وہ دونوں جانب کے دلائل کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرکے ہماری اس رائے کو قبول یا رد کردے

Wednesday, 13 December 2017

کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ..


کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ..

.

Image may contain: text
میں آپ سے یہ وعدہ تو کرسکتا ہوں کہ ہمیشہ وہی لکھوں گا جسے پوری دیانت سے میں سچ سمجھتا ہوں. مگر میں یہ وعدہ قطعی نہیں کرسکتا کہ ہمیشہ وہی لکھوں گا جسے پوری دیانت سے آپ سچ سمجھتے ہیں. پھر میں بارگاہ خداوندی میں اس کا مکلف تو ہوں کہ میں کیا لکھ رہا ہوں؟ مگر اس کا ذمہ دار نہیں ہوں کہ اس سے آپ کیا مطلب نکال رہے ہیں؟ میں دانستہ اپنے سچ سے آپ کو گمراہ نہیں کروں گا مگر الفاظ خالی برتن کی مانند ہوتے ہیں، انہیں مفہوم ہم عطا کرتے ہیں. مجھ سمیت ہر انسان کے لکھے یا کہے میں غلطی کا احتمال ہوا کرتا ہے. لہٰذا لازمی نہیں کہ سچ بولنے والا اپنی سمجھ میں درست بھی ہو. ممکن ہے کہ اس نے سچائی کا ایک ہی زاویہ دیکھا ہو یا پھر اسے نتیجہ قائم کرنے میں غلطی لگ گئی ہو مگر وہ اسی غلط نتیجے کو پوری سچائی سے درست مان رہا ہو. گویا ایک شخص اپنی کسی سمجھ میں بیک وقت سچا اور غلط دونوں ہوسکتا ہے. کسی اور کا سچ میرا سچ بنے، یہ قطعی ضروری نہیں. ہم سب کو بس وہی بیان کرنا ہے جو ہم پر 'سچ' بن کر واضح ہوگیا ہے. میں اپنے سچ کو اسی وقت تک تھامے رکھوں گا جب تک اس سے برتر سچ میرے سامنے نہ آجائے. اگر کسی معاملے میں برتر سچ کا مجھے سامنا ہو تو لازم ہے کہ میں بعد از تحقیق اپنا سابقہ سچ چھوڑ دوں اور اس نئے سچ کو لپک کر قبول کرلوں. بعض لوگ سچ کڑوا ہوتا ہے، سچ کڑوا ہوتا ہے کی رٹ لگا کر ہر طرح کی بد تہذیبی کیئے جاتے ہیں. انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اکثر سچ کڑوا نہیں ہوتا بلکہ سچ بولنے والے کا انداز اور غلط الفاظ کا انتخاب اسے کڑوا بنا دیتا ہے. کڑوی سے کڑوی بات بھی اگر تہذیب اور شائستگی سے کی جائے تو اس میں شیرنی گھل جاتی ہے. اسکی سب سے بڑی مثال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے جنہوں نے ہمیشہ سچ بولا مگر کبھی کڑوا نہ بولا. اگر آپ سچ بولنے کی آڑ میں مخاطب کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں تو جان لیجیئے، یہ سچ کا پرچار نہیں بلکہ آپ کی انا کی تسکین کا سامان ہے. 
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 12 December 2017

ممبئی کے بھائی لوگ اور کراچی کے دادا لوگ



ممبئی کے بھائی لوگ اور کراچی کے دادا لوگ 


.
تقسیم ہند کے بعد انڈیا اور پاکستان کی صورت میں جو دو ریاستیں وجود میں آئیں. وہ نظریاتی طور پر کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہوں مگر اپنے مزاج کے حوالے سے بڑی حد تک مماثلت رکھتی ہیں. یہاں تک کے دونوں ملکوں کے نمائندہ شہروں کے مزاج بھی ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں. لہٰذا دہلی اور لاہور کئی ثقافتی و معاشرتی حوالوں سے ایک جیسے لگتے ہیں. اسی طرح ممبئی اور کراچی جڑواں بھائی محسوس ہوتے ہیں. دونوں پورٹ سٹی ہیں، معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، کاروباری سرگرمیوں کے گڑھ ہیں، مختلف لسانی گروہوں کی آماجگاہ ہیں، جرائم یا انڈر ورلڈ کا بھی سب سے بڑا ٹھکانا ہیں. گویا ایسے ان گنت حوالے ہیں جن میں دونوں ہوبہو ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں. ان ہی میں سے ایک حوالہ یا خاموش تعلق اس 'بازاری بولی' یعنی 'سلینگ لینگویج' کا بھی ہے جو ان دونوں شہروں میں اپنی اپنی طرح سے بولی جاتی ہے اور مختلف ہو کر بھی ایک دوسرے میں ضم ہوتی رہتی ہے. لہٰذا دونوں طرف اس بازاری زبان کے الفاظ بے تکلفی سے مستعار لے لئے جاتے ہیں اور کوئی ایک دوسرے سے پوچھتا تک نہیں. اسی زبان کے چند نمونے اپنی یادداشت سے درج کررہا ہوں. پہلا کالم میں ممبئی کی بازاری زبان کے الفاظ ہیں اور دوسرے کالم میں اسی کے قائم مقام کراچی کے بازاری الفاظ. امید ہے آپ اس خلاف معمول اور ہلکی پھلکی پوسٹ سے لطف لیں گے. یاد رہے کہ ایک لفظ کے ایک سے زیادہ اطلاق ہوسکتے ہیں. اسلئے ممکن ہے کہ ممبئی یا کراچی کا ہونے کے باوجود کچھ الفاظ آپ نے کسی ایک معنی میں سن رکھے ہوں اور دوسرے معنی میں نہ سن رکھے ہوں
.
بھاشن گیری = بھرم بازی 
راج ہے = ٹیکہ ہے 
راپ چک = بمباٹ 
بہت توڑو = بہت ادھم 
سولڈ ہے باپ = دھانسو ہے ماما 
جھکاس = چکاس 
چرکوٹ = چمپو 
گھنٹا = پونکا 
ٹھلو = کدو 
ہٹا ساون کی گھٹا ! = ابے خلی کرا !
جانے دے ہوا آنے دے ! = ہٹو بچو !
بن داس = لش پش 
کھجور = اخروٹ 
ھلکٹ = ڈھکن، ٹوکن 
بھائی گیری = دادا گیری 
سپاری = پرچی 
چیخم چلی = ادھم کوٹنا 
کان کے نیچے بجانا = رکھ کے دینا
اپن کا فنٹر ہے = اپنا جگر ہے 
پانڈو = آڑی 
لکھھا = فارغ 
زیادہ سیان پتی نہیں = زیادہ تین پانچ نہیں 
لفڑا = پھڈا ، پنگا 
دھو دیا = کوٹ دیا 
چل وٹ لے ! = چل کٹ لے !
ٹینشن لینے کا نہیں دینے کا ! = فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا !
ایک نمبر ! = چیتا !
چالو = دو نمبر 
مسکا = کنچا 
ھول دینا = تڑی دینا 
دماغ کی نہیں لگا = دماغ کی دہی نہ کر 
واٹ لگادی = ریڑھ ماردی
بول بچن = منہ کے فائر
ماموں = گھونچو
چپکانا = ٹوپی پہنانا
جلی کیا؟ = ہٹی کیا؟
سٹک گئی = سنک گئی
۔ 
یہ صرف چند امثال ہیں جو یادداشت سے درج کردی گئی ہیں۔ اگر آپ کو بھی کچھ ایسے مماثل الفاظ دونوں شہروں کے معلوم ہیں تو درج کردیں۔ البتہ خیال رہے کہ وہ نازیبا الفاظ ہرگز نہ لکھیں جو خواتین سے متعلق ہوں، کسی قسم کی گالی ہوں یا فحاشی کے زمرے میں آتے ہوں۔ ورنہ ایسا کمنٹ فوری ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔ 🤗
۔
====عظیم نامہ====

Friday, 8 December 2017

آؤٹ آف باڈی، ایسٹرو پروجیکشن اور نیئر ڈیتھ تجربہ


 آؤٹ آف باڈی، ایسٹرو پروجیکشن اور نیئر ڈیتھ تجربہ

Image may contain: one or more people and outdoor
.
دعوت دین کیلئے سڑکوں پر آتے جاتے لوگوں سے جب گفتگو کی جائے تو بیشمار متفرق عقائد، فلسفوں اور مزاجوں کا سامنا ہوتا ہے. جن سے آپ کے لئے سوچ کے نت نئے زاویئے کھل جاتے ہیں. کچھ سال قبل، میں لندن کے ایک ایسے علاقے میں دعوت دین کیلئے ایک ٹیم کیساتھ شامل ہوا جو پہلے سے وہاں متحرک تھی. اس ٹیم کا ایک داعی بالخصوص میری توجہ کا مرکز تھا. یہ ایک نہایت زہین، شریعت پر کاربند اور خوبصورت انداز گفتگو رکھنے والا انسان ہے. جسے دعوت کے حوالے سے اللہ پاک نے عمدہ صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے. روز کسی غیرمسلم کا اس کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا ایک روٹین سا ہے. اس روز اتفاق سے میں اور وہ ہی موجود رہ گئے. دونوں مختلف افراد سے گفتگو میں منہمک تھے. یہاں تک کے شام ہونے لگی. ایک انگریز خاتون سے میں اور وہ مل کر گفتگو کرنے لگے. یہ خاتون مراقبوں کی شوقین تھیں اور کشف و الہام رکھنے کی دعویدار. مکالمے کے دوران مجھے احساس ہوا کہ میرا دوست داعی اور وہ انگریز خاتون غیبی کم شیطانی دنیا کے بارے میں وہ معلومات رکھتے ہیں جو بناء عملی تجربے کے ممکن ہی نہیں. خاتون، میرے اس داعی دوست کے تجربات سے متاثر تھی اور پھر اسلام کے پیغام کو سمجھنے کی طرف زیادہ راغب. گفتگو ختم ہوئی تو یہ داعی مجھ سے بچ کر نکلنا چاہتا تھا، اسکی خواہش تھی کہ میں اسے نہ کریدوں مگر میں کب ماننے والا تھا؟ اسے زور دے کر معلوم کیا کہ کیسے اسے اس شیطانی دنیا کا اتنا زیادہ ادراک ہے؟ مجبور ہوکر اس نے بتایا کہ نوجوانی میں وہ ایک بگڑا ہوا انسان تھا جس نے کالے جادو اور اس سے متعلق مشقوں کو اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر اختیار کر رکھا تھا. ان مشقوں کی بدولت یہ دونوں دوست اپنے اجسام سے باہر آجاتے اور اس دنیا کا مشاہدہ کرتے جو اردگرد ہماری آنکھوں سے نہاں موجود ہے. ایسی دنیا جہاں شیاطین دہشت ناک سیاہ سایوں کی صورت ہر جگہ موجود ہیں اور جو چاہتے ہیں کہ آپ ان ہی کا حصہ بن جائیں. اس دنیا میں آپ کو زنا سمیت ہر حرام شہوت میسر ہے. لطف بھی حقیقی دنیا سے زیادہ محسوس ہوتا ہے. شروع شروع میں تو یہ دونوں دوست اپنی مرضی سے حالت نیند میں اپنے جسم سے باہر نکلتے مگر پھر ایسا ہوا کہ یہ سائے انہیں ان کی مرضی کے خلاف نکلنے پر مجبور کرنے لگے. واپس اپنے جسم میں داخل ہونا چاہتے تو یہ جسم کے سینے پر سوار داخل ہونے سے روکتے. اس داعی کے دوست کو اسی حالت میں یہ سائے پکڑ کر ایک ایسے مقام پر لے گئے جہاں ایک بہت بڑی کتاب موجود تھی. یہ سائے چاہتے تھے کہ اس کتاب پر قسم کھا کر وہ بھی ان میں مستقل شامل ہوجائے. ان دونوں کی نیندیں سکون سب حرام ہوگیا تو یہ دین کی جانب پلٹے. اپنے گناہوں سے توبہ کی اور ذکر اذکار کا اہتمام کیا. جس سے ان کی حالت بتدریج بہتر ہوتی گئی. گو مکمل شفاء ابھی بھی نہیں ہے. میں مسلسل سوالات پوچھتا رہا اور تفصیل حاصل کرتا رہا.
.
کچھ عرصہ قبل مجھے میرے ایک نہایت قریبی دوست نے رابطہ کیا جو میرے ساتھ انگلینڈ ہی میں مقیم ہے. میرا اور اس کا ساتھ بیس بائیس سال پرانا ہے اور ہم دونوں ایک دوسرے کو بہت خوبی سے پہچانتے ہیں. کالج، انجینئرنگ اور ماسٹرز ہم نے ساتھ ساتھ کیا ہے لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ جھوٹ بولیں. میرے اس دوست کی حلقہ احباب میں ایک عادت معروف رہی ہے کہ وہ ضروری غیرضروری ہر چیز کی معلومات رکھتا ہے. پھر وہ اس کے کمرے میں پڑے دنیا جہاں کے عجیب و غریب الیکٹرانک گیجٹس ہوں یا پھر اس کے کمپیوٹر میں موجود عجیب ترین معلومات. اس کی اسی عادت کے سبب دوست یار اسے 'وکی پیڈیا' کہہ کر پکارتے ہیں. جس روز اس نے مجھ سے رابطہ کیا، اس دن خوف و پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھے. اس نے بتایا کہ پچھلی کچھ راتوں سے اس کا وجود جسم سے باہر آجاتا ہے اور ہر شے کا مشاہدہ کرتا ہے. ایک سنہرے رنگ کی رسی سے (اسٹرنگ) اس کی گردن کے پچھلے حصے سے نکل کر جسم سے جڑی رہتی ہے اور وہ اسی حالت میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے یا گھر سے باہر گھوم آتا ہے. اس کا بیان بھی یہی تھا کہ کچھ نیک غیبی وجود بھی محسوس ہوتے ہیں مگر اکثر چاروں طرف سیاہ سائے ہیں جو چاہتے ہیں کہ میں اسی دنیا میں مستقل رہنے لگوں. یہاں بہت سی ماورائی قوتیں اسے حاصل ہو جاتی ہیں اور یہ تجربہ اتنا حقیقی ہے کہ اس کا ریشنل مائنڈ اسے کسی درجے میں بھی خواب ماننے کو تیار نہیں. اس آؤٹ آف باڈی تجربوں کے دوران اس نے خود کو بار بار پرکھا کہ کہیں یہ اس کے ذہن کا دھوکہ تو نہیں؟ مثال کے طور پر وہ باہر کھڑی گاڑی کو دیکھ کر آیا جس کا ٹائر پنکچر تھا. دوسرے روز صبح باہر جا کر دیکھا تو واقعی پنکچر ٹائر کے ساتھ گاڑی موجود تھی. یا اپنے برابر کر کمرے میں موجود چیزوں کو دیکھ کر آیا اور صبح انہیں ویسا ہی رکھا پایا. مسلہ یہ ہے کہ اسے لگتا تھا کہ یہ سائے اب اسے اپنے جسم میں جانے سے روک رہے ہیں، ایک بار تو اسے نہایت سختی سے روکا گیا. پہلے پہل وہ اپنے جسم سے باہر اسلئے نکلا تھا کہ اس نے کچھ ذہنی ریاضتیں کی تھیں مگر اب اس کا یہ نکلنا اپنی مرضی سے نہیں تھا بلکہ یہ سائے اسے پکڑ کر نکال لیتے تھے. یہ بتاتے ہوئے اس کے چہرے پر شدید خوف کے سائے تھے. اتنا خوف کہ وہ اس موضوع پر بات کرنے سے ہی انکاری ہورہا تھا. بڑی کوششوں کے بعد اسے اس حالت سے واپس نجات حاصل ہوگئی. اس سب کے بات میں نے کئی بار اپنے اس دوست سے بات کی اور قسمیں لے کر اسکی پوری داستان سنی ہے. ہمارے مشترکہ دوستوں کی شدید خواہش ہے کہ میں بھی ان ریاضتوں کا اہتمام کرکے اپنے جسم سے باہر اس غیبی دنیا کا جائزہ لوں اور پھر بتاؤں کہ اس میں کتنا سچ ہے اور کتنا ذہن کا دھوکہ؟ گو جن دونوں احباب کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہے وہ مجھے ایسی کسی بھی کوشش سے منع کرتے ہیں کہ یہ تجربہ نہایت ہولناک اور کنٹرول سے باہر بھی ہوسکتا ہے.
.
ان کے علاوہ بھی کئی ایک واقعات سامنے آتے رہے ہیں. انٹرنیٹ اور یو ٹیوب لوگوں کے ان تجربات سے بھرا ہوا ہے. کچھ کو یہ تجربات بہت مثبت اور پسندیدہ لگے اور کچھ کو منفی اور شیطانی. ان تجربات میں فرد کے عقائد کی جھلک بھی محسوس ہوتی ہے جو اسکی صحت کے بارے میں شکوک پیدا کرتی ہے مگر اتنی تعداد میں ان واقعات کا ہونا اور ہونے والے قریب قریب سب ہی لوگوں کا اسے سچ ماننا ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے. ان تجربات میں بہت سی باتیں بلکل ایک جیسی ہیں. ایک تحقیق کے مطابق ہر بیس میں سے ایک فرد کو یہ تجربہ ہوچکا ہے. ان میں نیورو سرجنز سے لے کر نیورو سائنٹسٹ تک بھی شامل ہیں. سائنسی حوالے سے اسے کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ دماغ کا ایک خاص حصہ اگر متحرک ہو جائے تو وہ ہمیں خیال کو حقیقت بنا کر پیش کرنے لگتا ہے. اس کا رد دوسرے محققین کرتے ہیں. ان کے بقول ایسے بہت سے کیسز موجود ہیں جب ہارٹ اٹیک یا کارڈیک اریسٹ کے دوران انسان کو 'نیئر ڈیتھ ایکسپیرینس' ہوا اور بیہوشی یا کوما یا کلینیکل ڈیتھ کے دوران مریض نے خود کو اپنے بدن سے باہر پایا. ہر شے کا مشاہدہ کیا اور واپس جسم میں آکر اپنے تجربات کا درست بیان کیا. یہی نہیں بلکہ کئی نے تو اس تجربے کے دوران دوسرے کمروں میں ہونے والی گفتگو بھی سنی اور بیان کی. میرے اپنے والد کے ساتھ یہی تجربہ ہوچکا ہے جب ١٩٩٢ میں انہیں ہارٹ اٹیک ہوا اور آئی سی یو میں جان بچانے کی کوشش کے دوران میرے والد اپنے جسم سے باہر آگئے اور ہوا میں تیرنے لگے. وہ بتاتے ہیں کہ یہ انتہائی پرلطف احساس تھا اور وہ ایک روشنی کی جانب تیرتے جارہے تھے. اس دوران انہیں ہم سب کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں جو انہیں شدید ناگوار گزری کہ میں اتنا خوش ہوں اور یہ رو رہے ہیں؟ اسی کے بیچ انہوں نے میری والدہ کی فریاد و چیخ سنی جس سے وہ بجلی کی طرح واپس اپنے جسم میں واپس داخل ہوگئے. بعد میں میری والدہ نے اس فریاد اور چیخ کی تصدیق کی.
.
اس موضوع پر ایک بیسٹ سیلر کتاب 'سائیکک وارئیر' کا مطالعہ ذہن کے نئے دریچے کھول سکتا ہے. یہ سابقہ سی آئی اے ایجنٹ 'ڈیوڈ مور ہاؤس' کی تصنیف ہے جس میں اس نے بتایا ہے کہ کس طرح سی آئی اے میں وہ اور اسکی ٹیم 'آؤٹ آف باڈی یعنی جسم سے باہر آکر' روس کی جاسوسی کیا کرتے تھے. ڈیوڈ اب باقاعدہ 'ریموٹ ویونگ' سیکھاتے ہیں. سائنسی اور فلسفیانہ اذہان والے اشخاص میں سے کچھ ان تجربات کو دماغ کا دھوکہ اور کچھ 'کانشئیس نیس' کے بناء جسم باقی رہنے کی دلیل قرار دیتے ہیں. چرچ اسے جنت جہنم کا سفر سمجھتا ہے اور اکثر مسلم محققین نے اسے برزخی زندگی سے تعبیر کیا ہے. اسکی اصل حقیقت کیا ہے؟ اسے حتمی طور پر جاننے کا دعویٰ کوئی نہیں کرسکتا. البتہ راقم کا اپنا رجحان بھی برزخی زندگی کے حق میں ہے جو نیند میں جزوی اور موت میں کلی طور پر سامنے آنے لگتی ہے. گو جب تک مکمل موت واقع نہ ہوجائے تب تک اس میں ہمارا ذہن آمیزش کرتا رہتا ہے. یہی آمیزش اس تجربے کی صحت پر شکوک پیدا کرتی ہے. قران حکیم سے بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نیند اور موت دو جڑواں بہنیں ہوں. سورۃ زمر کی آیت 42 ملاحظہ ہو : 'اللہ ہی سب کی روحیں قبض کرتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان کی بھی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا ہوتا ان کی نیند (کی حالت) میں پھر ان جانوں کو تو وہ روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہوتا ہے اور دوسری جانوں کو وہ چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ مدت تک بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں'
.
====عظیم نامہ====

Monday, 4 December 2017

جادو اور اسکی بنیادی اقسام



جادو اور اسکی بنیادی اقسام


.
قران حکیم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ جادو کی دو بڑی اقسام ہیں. پہلی قسم نظر بندی یا نظر کا دھوکہ. دوسری قسم نفسی حملہ جسے عام الفاظ میں کالا جادو بھی کہہ دیا جاتا ہے. 
.
نظر بندی یا نظر کا دھوکہ
----------------------------
اس میں جادوگر ایسے حالات یا ماحول تخلیق کردیتا ہے جس سے آپ کی نظر وہی دیکھتی ہے جو جادوگر آپ کو دیکھانا چاہتا ہے. گویا یہ آپ کے خیال پر اثر انداز ہوتے ہیں. اس طرح کے جادو معمولی کرتب دیکھانے والو سے لے کر سنجیدہ جادوگروں نے اپنا رکھے ہیں. ہوا میں اڑنا ہو، پانی پر چلنا ہو، آری سے کسی کا سر کاٹ کر دوبارہ دھڑ سے جوڑ دینا ہو یا ایفل ٹاور کو ہزاروں کے مجمع کی آنکھوں سے غائب کردینا ہو. یہ سب آج کے نمائندہ جادوگر کررہے ہیں جیسے ڈیوڈ کاپر، فیلڈ، کرس اینجل، ڈائنامو وغیرہ قران حکیم میں اس کا واضح ذکر ان جادوگروں کے حوالے سے ہوتا ہے جنہیں فرعون موسیٰ علیہ السلام کے مقابل لایا تھا اور جنہوں نے لوگوں پر نظر بندی یعنی نظر پر جادو کردیا تھا. 
.
"جب انہوں نے (جادوگروں نے) ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا ( نظر بند کر دی ) اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور بہت بڑا جادو کر دیا " الاعراف 116
.
ہپناسس یا ہپناٹزم کے بارے میں موجود معلومات کی بناء پر اس جادو کی قسم کو آج سب مان لیتے ہیں. 
.
کالا جادو 
----------
.
یہ جادو کی وہ قسم ہے جس میں جادوگر اپنی نفسی طاقت سے دوسرے کے نفس پر حملہ آور ہوتا ہے اور نقصان پہنچانے کی سعی کرتا ہے. یہ نفسی قوت وہ مختلف مراقبوں، ریاضتوں، مجاہدوں اور ارتکاز کی مشقوں سے حاصل کرتا ہے. ہر انسان میں یہ مخفی نفسی صلاحیتیں پنہاں ہوتی ہیں جنہیں تقویت دینا ممکن ہے. اسکی ایک مثال نظر لگنے کی ہے جو اسلامی تعلیمات اور تجربات دونوں سے ثابت ہے. "اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ضرور عقل سے دور ہیں" (سورہ القلم 51). رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : العين حق "نظر (کا لگنا) حق ہے۔" [صحيح مسلم : 2188، 5702]
.
ہمارے اردگرد ایک غیبی دنیا ایک پیرالیل ورلڈ آباد ہے. جس میں جہاں ملائکہ ہر پل مختلف امور کو سرانجام دے رہے ہیں اور مومنین پر نصرت و سکینت نازل کررہے ہیں. وہاں دوسری جانب شیاطین جو جن و انس دونوں میں موجود ہیں، ابلیس کا مشن نبھانے میں مشغول ہیں. یہ جادوگر خود بھی شیاطین ہی ہیں اور اپنی نفسی قوت کے ساتھ ساتھ شیاطین جنات سے اسی سحر یعنی جادو کیلئے مدد لیتے ہیں. اسی حوالے سے سورہ الانعام کی ١٢٨ آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ"قیامت کے دن جب وہ اللہ ان سب کو جمع کریں گے تو کہیں گے اے جنات کی جماعت تم نے انسانوں سے بہت فائدہ اٹھا لیا ہے اور ان کے دوست جو انسان تھے وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھا لیا ہے اور جو تو نے وقت مقرر کیا تھا ہم اس مقررہ وقت یعنی قیامت کو پہنچ گئے ہیں وہ اللہ کہیں گے تمھارا ٹھکانہ جہنم ہے تم اس میں ہمیشہ رہو گے جب تک اللہ چاہے یقینا آپ کا رب خوب حکمت والا اور اچھی طرح جاننے والا ہے" قران مجید کے مطابق جنات انسان سے قبل آگ سے تخلیق کیئے گئے ہیں، وہ عام حالات میں انسانی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں، یہ بھی انسان کی طرح اس دارالامتحان میں ارادہ و اختیار کی آزادی کے ساتھ امتحان سے گزر رہے ہیں. کچھ جداگانہ صلاحیتیں جنات کے وجود میں ودیعت شدہ ہیں. اسی کا ایک مظاہرہ حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کے اس قصے میں ہوتا ہے جو سورہ النمل میں مذکور ہے "”۔اب سلیمان نے (اپنے درباریوں سے) کہا: اے اہل دربار! تم میں سے کون ہے جو ان کے مطیع ہو کر آنے سے پہلے پہلے ملکہ کا تخت میرے پاس اٹھا لائے؟”۔ایک دیو ہیکل جن نے کہا: ” آپ کے دربار کو برخواست کرنے سے پہلے میں اسے لا سکتا ہوں۔ میں اس کام کی پوری قوت رکھتا ہوں اور امانت داربھی ہوں .." جادوگر شیاطین جنات کے ساتھ مل کر انسانی نفوس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے ہیں. ان کا حملہ اکثر انسانی نفسیات پر ہوتا ہے اور اس کے ذریعے وہ بغض، عداوت، رنجش، غصے جیسے تباہ کن جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں. درج ذیل آیات پر غور کریں: "اور (وہ یہودی )ان (خرافات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے، اور سلیمان نے ہرگز کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس علم کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اترا تھا۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش ( کاذریعہ)ہیں چنانچہ تم نافرمانی میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے ایسا (علم ) سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ ...” (سورہ البقرہ ۲: آیات ۱۰۳-۱۰۲)" 
.
کالے جادو کے ماہرین کے بقول اس خبیث دنیا میں جادو کے سترہ درجات ہیں. جن میں سے پہلے کا نام 'کنیا چماری' اور آخری کا نام 'کھنڈولا' ہے. ان تمام درجات کے حصول کیلئے طرح طرح کی سفلی ریاضتیں بھی کرنا پڑتی ہیں اور شیاطین جنات کے ساتھ کیلئے غلیظ سے غلیظ تر عمل بھی کرنے پڑتے ہیں. ان میں اپنا پاخانہ کھانا، سیاہ الو یا بکرے کا خون پینا، اپنی اولاد کو ذبح کرنا، مردہ اجسام کے ساتھ جنسی تعلق یعنی شہوت کرنا اور لاش کا گوشت کھانا وغیرہ شامل ہیں. ہر درجے پر آپ کو کچھ شکتیاں حاصل ہوتی ہیں اور انسان مزید سے مزید گندگی میں غرق ہوتا چلا جاتا ہے. پاکستان میں جادو کا گڑھ بلوچستان کی پہاڑیاں ہیں جہاں سے خاک لا کر دیگر شہروں میں جادو کی جگہ بنائی جاتی ہے. ان جادوگروں کے نزدیک 'کالی ماتا' جیسی شکتیاں حقیقت میں موجود ہیں جو ان سے خون اور قربانی مانگتی ہیں. آپ نے اخباروں میں پڑھا ہو گا کہ کسی پاگل عورت نے اپنی اولاد کو ذبح کردیا یا فلاں خراب ذہنی توازن والاآدمی قبر میں مردہ سے زنا کرتا پکڑا گیا وغیرہ. اخبار آپ کو بتاتے ہیں کہ ان افراد کا ذہنی توازن ٹھیک نہ تھا مگر جب کچھ جرنلسٹ نے ماضی میں ان واقعات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ سب جادو کے درجات کے حصول کے واسطے تھا. پاکستان میں ایک تحقیق کے مطابق کوئی جادوگر ایسا نہیں ہے جو بارہ درجے سے بھی اپر جاسکا ہو. البتہ ہندوستان، افریقہ اور بنگلہ دیش میں ایسے جادوگر گزرے ہیں جو پندرہ سولہ درجے تک جاپہنچے تھے. ان جادوگروں میں سب سے خبیث اور ماہر جادوگر ہندوستان کے 'اگھوری' سمجھے جاتے ہیں جو ننگ دھڑنگ جسم پر راکھ ملے غلیظ حالت میں گروہوں کی صورت میں گھومتے ہیں. ان کی انسانی مردے کھاتے ہوئے ویڈیوز آپ کو باآسانی یو ٹیوب پر مل جائیں گی. یہاں یہ یاد رہے کہ ایک سچا مسلمان یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ کسی جادو، جادوگر یا جن کی مجال نہیں کہ وہ اذن ربی کے خلاف جاسکے. جادوگر بعض اوقات روحانیت کا جعلی چوغہ پہن کر بھی دھوکہ دیتے ہیں. جادوگر کو پہچاننے کے ویسے تو کئی طریق ہیں مگر ان میں کچھ یہ ہیں کہ وہ آپ سے اس شخص کا کپڑا مانگے گا، والدہ کا نام پوچھے گا، اس زبان میں کچھ پڑھے گا جو سمجھ نہ آئے، خود بھی گندہ ہوگا اور جگہ بھی اندھیرے و گندگی میں رکھے گا، کسی خاص جانور کی قربانی و خون مانگے گا. اس کا بھی امکان ہے کہ وہ آپ کو مرعوب کرنے کیلئے کچھ ایسی باتیں پہلے ہی بتا دے جو آپ نے اسے ابھی نہ بتائی ہوں جیسے آپ کے آنے کا مقصد وغیرہ. ہرگز متاثر نہ ہوں، یہ کرتب دیکھانا کوئی بڑی بات نہیں ہیں.
.
مشاہدہ ہے کہ اکثر جادو و جنّات کا شکار خواتین یا کم سن بچے ہوتے ہیں. اسکی وجہ بعض لوگ غلط طور پر یہ بیان کرتے ہیں ک جنّات حسن پرست ہیں اور اسی لئے وہ عورتوں پر عاشق ہوجاتے ہیں. بات یہ نہیں ہے بلکہ سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ بچے اور خواتین عمومی طور پر وہم کا شکار جلدی ہوجاتے ہیں. خوف کی کیفیت ان پر با آسانی طاری ہوجاتی ہے. ...لہٰذا کسی جن یا جادو کا نفسیاتی حملہ ان پر کارگر ہونا زیادہ آسان ہوتا ہے. اسی لئے جادوگر بھی جب کسی جن کو حاظر کرنا چاہتے ہیں یا لوگوں کے سامنے ان کی موجودگی ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو کسی معصوم بچے کا سہارا لیتے ہیں جو کبھی اپنے سامنے یا کبھی انگھوٹوں کے ناخن میں مناظر دیکھتا ہے۔ شیاطین جادوگروں اور جنات کا نفسیاتی حملہ ایسی جگہ مزید آسان ہوجاتا ہے جہاں انسانی ذہن سستی یا خوف محسوس کرے، جیسے رات میں کوئی برگد کا پرانا درخت یا پھر کوئی بوسیدہ قبرستان. شیاطین جنات ان موجود خرافات کا فائدہ بھی اٹھاتے ہیں جو لوگوں میں پہلے ہی خوف کی علامت بنی ہوئی ہوں یا کسی عقیدے کی صورت رائج ہوں۔ لہذا ہندوستان میں یہ پنرجنم کی کہانیوں کو تقویت دیتے ہیں، پاکستان میں چھلاوے یا پچھل پہری وغیرہ کو بڑھاوا دیتے ہیں اور یورپ امریکہ میں بدروح یعنی 'گھوسٹ' یا 'ڈی مین' بن کر لوگوں کو نفسیاتی خوف میں مبتلا کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ سب شرارت ان ہی جن شیاطین کی ہوا کرتی ہے۔ یہ آہستہ آہستہ متاثر مکان یا شخص پر اپنا تسلط قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اثرزدہ شخص پہلے ہلکی پھلکی کیفیات اور خوف سے گزرتا ہے، پھر اس کی 'ھلوسینیشن اور ہپناسس افیکٹ' بڑھتا جاتا ہے۔ یہاں تک کے ذہن و وجود جکڑا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ خالص نفسیاتی معاملہ ہے، اسلیے اسکے توڑ کے لئے نفسی علوم اور انکے ماہر موجود ہیں. یہ ماہرین ہر مذہب میں پاۓ جاتے ہیں اور انکا طریقہ علاج دین سے زیادہ 'یقین' پر بنیاد رکھتا ہے. . اسلام نے بھی ایسی صورت میں جن آیات کی تلاوت کا حکم دیا ہے ، وہ واضح طور پر پڑھنے والے کے یقین کو اپنے رب پر قوی کرتی ہیں. اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہندو جنتر منتر پڑھ کر، ایک عیسائی کراس یا ہولی واٹر دکھا کر اور ایک مسلمان قرانی آیات کی تلاوت کرکے جنّات و جادو کا کامیاب توڑ کرلیتا ہے. جس طرح طبیعاتی علاج میں مریض کی قوت مدافعت کے بناء کوئی بہترین ڈاکٹر بھی کچھ نہیں کر پاتا، بلکل اسی طرح ایک آسیب زدہ جب تک یہ ٹھان نہ لے کہ وہ اس بیرونی اثر کا آگے بڑھ کر مقابلہ کرے گا تب تک کوئی پیر، فقیر یا عامل اسکی مدد نہیں کر سکتا. یہ بھی ملحوظ رہے کہ سفلی علم اول تو مظبوط اعصاب و نفسیات کے شخص پر کارگر نہیں ہوتا، پھر جس پر کرنا ہو اسے ایک خاص ماحول میں لانا ہوتا ہے، اس کی خاص چیزوں جیسے ناخن یا کپڑے تک رسائی درکار ہوتی ہے. لہٰذا یہ کہنا کہ اگر جادو ہے تو کوئی ڈونلڈ ٹرمپ پر جادو کیوں نہیں کرتا؟ ایک بچکانہ اعتراض ہے.
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: یہ ایک طالبعلم کی سمجھ ہے جس میں غلطی کا امکان ہے. رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہوا تھا یا نہیں؟ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے اور اس ضمن میں اہل علم دو مخالف آراء رکھتے ہیں. یہ آپ کی اپنی تحقیق پر ہے کہ آپ کس رائے کو اختیار کرتے ہیں؟)

Sunday, 3 December 2017

آنے والا دور




آنے والا دور ..


.
اس دنیا میں دو طرح کے علوم موجود ہیں. پہلے مادی علوم اور دوسرے نفسی علوم. جس دور میں ہم زندہ ہیں، یہ مادی علوم کے عروج کا دور ہے. نیوٹن کی کلاسیکل فزکس سے آئین اسٹائن کی ماڈرن فزکس تک، ایک انقلاب ہے جو ان مادی علوم میں برپا ہوا ہے. جس کے نتیجے میں انسان نے وہ وہ ایجادات کی ہیں جو محیر العقل ہیں. اس کے برعکس نفس سے متعلق علوم بدقسمتی سے کوئی مربوط صورت اختیار نہیں کرسکے. بہت سے افراد مختلف نفسی علوم کے ماہرین تصور کیئے جاتے ہیں مگر ان میں سے اکثر خود کو کبھی پراسراریت اور کبھی مذہبی چوغے میں ملبوس رکھتے ہیں. گویا ان نفسی علوم کو باقاعدہ اکیڈمک اسٹرکچر میں لانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی. نتیجہ یہ کہ ایسے ڈھونگی افراد کو راستہ ملا جو لوگوں کو بیوقوف بناکر اپنا الو سیدھا کرنا جانتے ہیں. سائیکولوجی ایک ایسا اکیڈمک مضمون بنا ہے جس میں علمی و سائنسی سطح پر خاصی پیش رفت ہوئی ہے. گو دیگر سائنسز کے مقابلے میں سائیکولوجی کو 'نیو بورن بے بی' یا نومولود تصور کیا جاتا ہے. 
.
اسی طرح مغرب میں 'میٹا فزکس' یا 'پیرا نارمل ایکٹویٹیز' پر سائنسی طرز پر تحقیق کی کوشش کی جارہی ہے. پھر چاہے وہ 'ریکی' کے ذریعے نفسی علاج ہو، 'چی' کی طاقت کا استعمال ہو، 'ریموٹ ویوینگ' کے ذریعے آنکھیں بند کرکے دیکھنا ہو، یا 'میڈی ٹیشن' کے ذریعے اپنے لاشعور سے ملاقات ہو. نجی سطح پر ان پر کام جاری ہے. گو مادی یعنی 'فزیکل سائنسز' کے وہ علمبردار جو انسانی وجود کے پوٹنشیل کو فقط معلوم مادی اصولوں میں مقید رکھنا چاہتے ہیں، ان کے نزدیک یہ تمام دیگر علوم یا تحقیق 'سوڈو سائنسز' یعنی جعلی سائنس میں شمار ہوتی ہیں. ان تجربات میں شائد سب سے زیادہ کامیابی 'ہپناسس' یا 'ہپناٹزم' کے سبجیکٹس کو حاصل ہوئی ہے. اب نہ صرف ہپناسس یونیورسٹیوں میں پڑھایا جارہا ہے بلکہ اسے نفسی علاج اور برین پراگرمنگ کیلئے باقاعدہ اپنایا جاچکا ہے. اس صدی میں 'کوانٹم مکینکس' کی آمد نے جہاں ماڈرن فزکس یعنی 'تھیوری آف ریلیٹویٹی' کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں. وہاں یہ امکان بھی پیدا کردیا ہے کہ مادی علوم اور نفسی علوم میں آج نہیں تو کل ایک ایسا پل قائم ہوسکے جسے سائنس کی تائید حاصل ہو. اگر آج کا دور مادی علوم کے عروج کا دور ہے تو کیا معلوم آنے والا دور نفسی علوم کی بلندیوں کا ہو؟ 
.
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی ؟
.
====عظیم نامہ====

تاریخ اسلام اور صحابہ اکرام رضوان اللہ عنہم اجمعین




تاریخ اسلام اور تقدیس صحابہ اکرام رضوان اللہ عنہم اجمعین

.
پچھلے کئی سالوں میں سوشل میڈیا پر میں نے ان گنت متفرق موضوعات پر تحریریں لکھی ہیں. دین اسلام سے لے کر تقابل ادیان تک، فلسفہ سے لے کر سائنسی موضوعات تک، سیاست سے لے کر سماجیات تک، حالات حاضرہ سے لے کر ادب تک، الحاد سے لے کر انکار حدیث تک، ملکی سلامتی سے لے کر معروف شخصیات تک - ہر ہر موضوع پر میں کافی کچھ لکھتا آیا ہوں. لیکن وصال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی تاریخ کو میں نے کبھی شاذ ہی موضوع بنایا ہو. وجہ ؟ وجہ یہ کہ اس تاریخ میں کئی نامور شخصیات اور کئی معروف واقعات کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قریب قریب ناممکن ہے. اگر بات فقط انسانی تاریخ تک محدود ہوتی تو میں پھر قلم اٹھاتے ہوئے اتنا نہ جھجھکتا لیکن یہاں معاملہ ان شخصیات و واقعات کا ہے جن سے لوگوں کی وابستگی دین کے حوالے سے ہے. گویا اول تو کسی حتمی نتیجے پرپہنچنا یعنی اس کی صحت پر سو فیصد مطمئن ہونا ممکن نہیں اور دوسرا میرا قائم کردہ یہ نتیجہ میرے ساتھی مسلمان کے دل کو چھلنی کرسکتا ہے. جی ہاں میرا اشارہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی جانب ہے. جن سے قلبی تعلق ہر کلمہ گو کو نسبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ہوا کرتا ہے. ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص خود کو مسلمان بھی کہے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ترین مرتبت کو اپنے دل میں بھی محسوس نہ کرے. فریقین میں مسئلہ اس بات کا نہیں ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی جائے یا نہیں؟ جھگڑا اس بات کا ہے کہ فلاں شخص صحابی ہے بھی یا نہیں؟ گویا جب ایک شخص کسی مشہور تاریخی شخصیت کی مخالفت میں بولتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس کو صحابی کے درجے پر فائز ہی نہیں سمجھتا. اس کے نزدیک وہ شخصیت یا تو کبھی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں شامل ہی نہ تھی یا اگر تھی بھی تو بعد میں ارتداد اختیار کرنے کے سبب شامل نہ رہی. اب اپنے اس دعوے یا نتیجے میں وہ جزوی یا کلی طور پر غلط تو ہوسکتا ہے مگر اس کی نیت کو غلط سمجھنا شائد درست نہ ہو. 
.
میں ہاتھ جوڑ کر اپنے قارئین سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ جذباتی ہوئے بناء ٹھنڈے دماغ سے اپر درج بات پر غور کریں. یہ بھی سوچیں کہ صحابی ہوتا کون ہے؟ اس تعریف میں بھی اہل علم نے اختلاف کیا ہے. کچھ کے نزدیک حالت اسلام میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو فقط دیکھنا ہی صحابی کہلانے کیلئے کافی ہے، کچھ کے نزدیک ملاقات شرط ہے اور کچھ کے نزدیک ایک عرصے تک بارگاہ رسول میں تربیت صحابی کہلانے کے لئے لازمی ہے. یہ عرصہ کتنا طویل ہو؟ اس میں بھی مختلف آراء ممکن ہیں. پھر ایسی امثال بھی بکثرت موجود ہیں جنہوں نے حیات رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اسلام قبول کیا مگر وصال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ارتداد اختیار کرلیا. واقعہ کربلا کی مثال لیجیئے. مظلومی اہل البیت اور شہادت حسین رضی اللہ عنہ پر پوری امت کا اجماع ہے. مگر اس افسوسناک واقعہ کے ذمہ دار کیا حضرت امیر معاویہ تھے یا نہیں ؟ یہ وہ بات ہے جس پر اہل تشیع تو کیا ؟ اہل السنہ میں بھی آپ کو لوگ اختلاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. پہلا موقف کچھ تاریخی شواہد کو پیش کرکے اس اندوہناک واقعہ کا ذمہ دار حضرت امیر معاویہ کو قرار دیتے ہیں. جب کے دوسرا موقف کچھ اور تاریخی اقوال و آثار پیش کرکے حضرت امیر معاویہ کو بے گناہ قرار دیتا ہے. یہی متفرق موقف ایک کے نزدیک انہیں صحابی بناتے ہیں اور دوسرے کے نزدیک غیر صحابی. ذرا تعصب کی پٹی اتار کردیکھیں تو دونوں کی موافقت و مخالفت محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ہے. دونوں موقف رکھنے والو سے کچھ اس انداز میں سوال پوچھ کر دیکھیئے کہ واقعہ کربلا کا جو بھی ذمہ دار تھا، کیا آپ کے نزدیک وہ دشمن اسلام تھا؟ تو بناء کسی تامل کے آپ کو جواب ہاں میں ملے گا. گویا حسین کا مخالف کوئی نہیں ہے، آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت دونوں کو ہے، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت دونوں کو ہے. بس تاریخی تحقیق کے نتیجے الگ الگ نگل آئے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں موقف کی حمایت میں آپ کو تاریخی دلائل میسر ہیں. ایک کے نزدیک ایک رائے زیادہ مظبوط دلائل پر ہے اور دوسرے کے نزدیک دوسری رائے. مگر دلائل سے خالی کوئی بھی نہیں. یہ تاریخی ریکارڈ سینکڑوں سال بعد مرتب کیا گیا ہے، اس پر زمانے کے سرد و گرم گزرے ہیں اور ان کی تحقیق احادیث صحیحہ کے اسلوب پر نہیں کی گئی ہے. چانچہ اس سے حتمی نتائج برآمد کرنا احقر کے نزدیک مناسب نہیں. ہماری خواہش یہی ہے کہ ان واقعات کو اول تو ضرورت سے زیادہ موضوع ہی نہیں بنانا چاہیئے، دوئم یہ کہ اگر کوئی رائے کسی شخصیت کی مخالفت میں آپ قائم بھی کرتے ہیں تو لازم ہے کہ اسے انتہائی محتاط اور شائستہ انداز میں درج کریں. لعن طعن یا گالی و تشنیع کسی صورت جائز نہیں اور ایسا کرنے والے پر فوری قانونی کاروائی ہونی چاہیئے. سوئم یہ ملحوظ رکھیں کہ آپ کی رائے میں بھی غلطی کا امکان ہے. 
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: یہ پوسٹ بہت ہمت کرکے لکھ رہا ہوں. یہ امید رکھ کر کہ میرے بھائی بہن میری نیت پر شک نہیں کریں گے. ناراض ہوئے بناء، بات سے شر برآمد کرنے کی بجائے اس میں خیر ڈھونڈھنا پسند کریں گے)