Saturday, 8 April 2017

ونود کھنا



ونود کھنا




وہ جوانی بھی کیا جوانی جسے بڑھاپا کھا جائے؟ وہ صحت بھی کیا صحت جو بیماری سے زیر ہوجائے؟ وہ طاقت بھی کیا طاقت جو نقاہت سے ختم ہوجائے؟ وہ حسن بھی کیا حسن جو جھریوں سے تباہ ہوجائے؟ وہ شہرت بھی کیا شہرت جو کل گمنام ہوجائے؟ وہ مال بھی کیا مال جسے انسان ساتھ نہ لے جا پائے؟ ۔۔ فلمی دنیا میں نامور، وجیہہ ترین شخصیت کا مالک اور اپنے وقت کا سپراسٹار 'ونود کھنہ' آج اپنے آخری ایام کی جانب۔ 
 دعا ہے کہ رب کریم اپنے اس بندے کو موت سے قبل سچی توبہ اور ایمان کا نور عطا فرمائیں۔ آمین

ملے خاک میں اہل شاں کیسے کیسے
مکیں ہو گئے لامکاں کیسے کیسے
۔
ہوئے نامور بےنشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
۔
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے، تماشا نہیں ہے
۔ 
 ====عظیم نامہ====

Friday, 7 April 2017

فرائض، سنتیں یا نوافل


فرائض، سنتیں یا نوافل



میرے عزیز اگر خواہش اور کوشش کے باوجود نماز کا اہتمام نہیں کر پاتے تو صرف فرائض ادا کرلو. فرائض کی پابندی ہونے لگے تو پھر سنتیں یا نوافل بھی پڑھ لیا کرنا. یاد رکھو کہ مواخذہ صرف فرائض کی عدم ادائیگی پر ہوگا. باقی نوافل یا اضافی نمازیں لازمی نہیں ہیں. ایک صحیح حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ایک بدو نے کہا کہ وہ صرف اور صرف فرض عبادات کا اہتمام کرے گا جیسے فرض نماز، روزہ اور زکوٰۃ. اس کے علاوہ کوئی نفل نہ پڑھے گا تو اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ اکرام کے سامنے یہ تبصرہ فرمایا کہ "جسے یہ بات بھاتی ہو کہ وہ اہل جنت میں سے ایک آدمی کو  دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے۔‘‘ سوچو فرض پڑھنے میں صرف پانچ منٹ مشکل سے لگیں گے. اگر کوشش کے باوجود فجر یا کوئی اور نماز رہ جاتی ہے تو دن میں وقت ملتے ہی اسکی قضاء ضرور پڑھ لیا کرو. اگر یہ بھی نہیں ہو پارہا تو چار وقت کی نماز پڑھ لو. تین، دو یا ایک وقت کی جو بھی ممکن ہو وہ نماز پڑھ لو. چاہے ایک وقت ہی کی نماز کیوں نہ ہو مگر پڑھنا شروع کرو اور مکمل ترک نہ کرو. بس اس ایک وقت کی روز پابندی کرلو. باقی کیلئے کوشش اور دعا کرتے رہو مگر جب تک نہ ہو تب تک جتنا پڑھ پارہے ہو، اتنا ضرور پڑھو. اگر میرے بھائی اتنا بھی ممکن نہیں ہو پارہا تو قران حکیم کی تلاوت و ترجمہ پڑھتے رہو کہ قران کا پیغام خود دل کی دنیا بدل دیتا ہے. یہ بھی نہیں تو زبان سے کوئی آسان سا ذکر کرتے رہو جو تمھیں تمھارےرب سے جوڑے رکھے. ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اسلام کے احکام میرے لئے بہت زیادہ ہیں مجھ کو ایسا عمل بتائیں جس پر میں پابندی سے عمل کروں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
.
لا يزال لسانك رطبا من ذكر اللہ
یعنی تمہاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر بہ تر رہے۔
(جامع الترمذی صفحہ 372)
.
 یاد رکھو کہ تم تھوڑی سی کوشش یا عزم دیکھاؤ گے تو ان شاء اللہ رب تعالیٰ تمہارے لئے باقی عمل آسان کرتے جائیں گے. شیطان کے جھانسے میں نہ آؤ جو تمہیں منافقت کا طعنہ دے کر سمجھاتا ہے کہ اتنی سی نیکی کا کیا فائدہ؟ سورہ زلزال کی اس آیت کو یاد رکھو ".. جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرا بھر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا". یقین کیجیئے کہ آپ کا رب آپ کو ہرگز ہرگز جہنم میں نہیں ڈالنا چاہتا. وہ تو معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں، وہ تو کسی بہانے تمہیں معاف کردینا چاہتا ہے. بس تم بھی سرکش نہ بنو اور رجوع کی جتنی ممکن ہو کوشش و دعا کرتے رہو. سفر اگر ہزار میل کا بھی ہو تو آغاز ایک قدم ہی سے ہوتا ہے اور سفر کیلئے نکل پڑنا یعنی پہلا قدم اٹھانا ہی سب سے اہم ہے. اللہ پاک ہم سب بھائی بہنوں کو تمام فرائض ادا کرنے والا بنائے اور پھر نوافل کا بھی شوق عطا کرے. آمین
.
 نوٹ: دھیان رہے کہ اس تحریر کا مقصد یہ نہیں کہ آپ فرائض یا نوافل کی اہمیت کو کم سمجھنے لگیں یا فرائض کی عدم ادائیگی کو قابل مواخذہ نہ سمجھیں بلکہ مقصود اتنا ہے کہ آپ کم از کم فرائض کی بجاآوری کا آغاز کردیں اور پھر اپنے رب کی رحمت سے پرامید رہیں. 
.
 ====عظیم نامہ====

سوشل میڈیا اور مسجد کا منبر


سوشل میڈیا اور مسجد کا منبر



فیس بک کی وال ہو یا مسجد کا منبر. دونوں ہی کے مخاطب عام افراد ہوا کرتے ہیں. ہمارے مخاطبین میں اکثریت ان مسلمانوں پر مشتمل ہے جو دین پر چلنا تو چاہتی ہے مگر دنیا کے بکھیڑوں میں پھنس کر فرائض کو بھی پورا نہیں کرپاتی. ضروری ہے کہ واعظ و خطیب ان کا حوصلہ بڑھائیں، ان سے آسان بات کریں، ان کیلئے دین کو مشکل نہ بننے دیں. صحیح بخاری کی حدیث میں الفاظ آئے ہیں 'ان الدین یسرٌ' یعنی دین آسان ہے. مانا کہ مسلمان خوف اور امید دونوں کے درمیان ہوا کرتا ہے مگر یہ کیفیت انسان کے ذاتی احتساب کا نتیجہ ہے. دعوت دین کا طریقہ نہیں ہے. دعوت نبوی ﷺ کا طریق یہی ہے کہ امید کا پہلو خوف سے زیادہ غالب ہو. بخاری و مسلم کی متفقہ علیہ حدیث میں سیدنا انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:’’دین میں آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور لوگوں کو خوش خبری سناؤ اور زیادہ تر ڈرا ڈرا کر انہیں متنفر نہ کرو۔‘‘ عجیب بات یہ ہے کہ ہماری عوامی محافل میں خطیب اور کتب یا سوشل میڈیا پر لکھاری بزرگان دین کے ایسے معمولات کو سنانے پر زیادہ زور دیتے ہیں. جنہیں سن یا پڑھ کر ایک بے عمل انسان پر دھاک تو بیٹھ جاتی ہے مگر شائد عمل کی ہمت بھی ٹوٹنے لگتی ہے. صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ اجمعین میں بھی کبائر صحابہ کے ان واقعات تک وعظ محدود رہتا ہے جن کے درجے تک پہنچنا بقیہ صحابہ کے لئے بھی ممکن نہ ہوسکا. جیسے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا بدر کے وقت تمام گھر کا سامان پیش کردینا. ان واقعات کو بعض اوقات ایسے سنایا جاتا ہے کہ گویا یہی دین کا ایک عام مسلمان سے لازمی تقاضہ ہے. 
.
 دیکھیں میری بات کو غلط نہ سمجھیں. میں یہ قطعی نہیں کہہ رہا کہ ان واقعات پر یکسر بات نہ ہو. اس سے کس کو انکار ہوسکتا ہے؟کہ صحابہ و صالحین ہمارے رول ماڈل ہیں. کہنا یہ چاہتا ہوں کہ کم از کم عوامی محافل جیسے خطبہ جمعہ یا سوشل میڈیا پر ان واقعات کے ساتھ مخاطب کو وہ ہمت بھی دیں، جس سے وہ مایوسی سے نکل کر کوشش شروع کرسکے. اسے سمجھائیں کہ دین کے بنیادی تقاضے جن سے اسکی نجات مشروط ہے، وہ بہت آسان ہیں. البتہ ایک مومن ہمیشہ اپنے کردار و عمل کو ہمیشہ بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے. جس کی منتہا کمال انبیاء کے بعد صحابہ ہیں. عوامی پلیٹ فارمز پر دین کی بنیادی باتوں جیسے ارکان اسلام اور اخلاقیات پر زیادہ زور دینا چاہیئے. البتہ وہ محافل یا کلاسز جو دین کے سنجیدہ طالبعلموں اور فرائض پر کاربند مسلمانوں کیلئے منعقد کی جاتی ہیں. ان میں حصول تقویٰ کیلئے ایسے واقعات کے ذریعے ترغیب دینا احسن ہے. عوام و خواص کے مزاج کا یہی وہ فرق ہے جو آپ کو کبائر صحابہ اور سادہ طبعیت بدوؤں میں نظر آتا ہے. ایک جانب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں جو صحابہ میں افضل ترین ہیں. وہ عالم خشیت میں پکارتے ہیں کہ ”کاش میں سرراہ ایک درخت ہوتا، اونٹ گذرتا تو مجھ کو پکڑتا، مارتا، چباتا اور میری تحقیر کرتا اور پھر مینگنی کی صورت میں نکال دیتا۔ یہ سب کچھ ہوتا مگر میں بشر نہ ہوتا“ اور دوسری جانب وہ صحرائی بدو ہے جس ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﺸﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﻮﻥ ﻟﮯ ﮔﺎ ؟ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ " ﺍﻟﻠﮧ " ﺑﺪﻭ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺟﮭﻮﻡ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﺨﺪﺍ ﺗﺐ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ؟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ " ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺮﯾﻢ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﯾﻢ ﺟﺐ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎ ﻟﯿﺘﺎ ہے ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ" ﺑﺪﻭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻤﻠﮧ ﺩﮨﺮﺍ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ رہے 'ﻗﺪ ﻭﺟﺪ ﺭﺑﮧ..ﻗﺪ ﻭﺟﺪ ﺭﺑﮧ!!' ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﺏ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻟﯿﺎ. 
.
 ====عظیم نامہ====

Wednesday, 5 April 2017

دل میں ایمان کا نور


دل میں ایمان کا نور



سابقہ نوکری پر ایک شخص سے شناسائی ہوئی، جس کا وزن خاصہ زیادہ تھا اور جو کھانے پینے کا انتہائی شوقین تھا. دوست یار اسے چھیڑتے مگر مجال ہے جو اس پر کوئی اثر ہو. وہ اسی شوق اور جوش سے طرح طرح کے کھانے تناول کرتا. ان ہی دنوں رمضان آیا تو یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے کہ وہ شخص جو ہر تھوڑے تھوڑے وقفے میں کھائے بناء رہ ہی نہیں سکتا تھا، اس نے نہ صرف پورے روزے رکھے بلکہ تراویح سمیت دیگر عبادات کا بھی بھرپور اہتمام کیا. دھیان رہے کہ ان دنوں انگلینڈ میں روزوں کا کم و بیش اٹھارہ سے بیس گھنٹے کا دورانیہ ہوا کرتا تھا. کئی مسلم ایسے تھے جنہوں نے گھبرا کر روزے قضاء کیئے مگر میرے اس بھائی کے ماتھے پر ایک شکن نظر نہ آئی. ایک دن کسی نے اس کے طویل روزے رکھنے پر حیرت کا اظہار کیا اور چھیڑا کہ چھپ کر تو نہیں کھاتے؟ اس نے خلاف عادت قدرے غصے سے جواب دیا کہ .. 'مجھے کھانے کا بہت شوق ہے اور میں کھانا صرف اللہ ہی کے کہنے پر چھوڑ سکتا ہوں. ورنہ کسی کے باپ میں اتنی ہمت نہیں کہ مجھے کھانے سے روک سکے.' میں اس کا یہ جواب سن کر بے اختیار مسکرا دیا. کیسا دلچسپ مگر مظبوط تعلق تھا اس کا اپنے معبود سے؟
.
 انگلینڈ ہی میں مقیم ایک صاحب علم دوست مجھے بتانے لگا کہ کسی زمانے میں وہ کمیونزم سے بہت قریبی اور فعال تعلق رکھتا تھا. آپ جانتے ہی ہیں کہ خالص کمیونزم میں مذاہب کو پابند کیا جاتا ہے اور اسے مذموم سمجھا جاتا ہے. کمیونزم کی کسی بڑی کانفرنس میں ایک دن یہ دوست شریک تھا. جہاں مقرر نے رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بناء درود و احترام کے صرف محمد کہہ دیا. (صلی اللہ علیہ وسلم). یہ بھائی اس وقت مذہب سے دور تھا اور اسکی عملی و علمی وابستگی فقط کمیونزم کے ساتھ تھی. اس کے باوجود جب اس نے رسول اللہ کا نام بناء درود کے سنا تو بے اختیار باآواز بلند پکارا ... "صلی اللہ علیہ وسلم" ... کمیونزم جیسے مذہب مخالف فلسفے کی فکری نشست میں ایسا اظہار ایک بڑی جسارت تھی. اب اس مقرر نے غصہ سے جان کر دوبارہ نام لیا، اس بار دوست نے پھر زور دار انداز میں کہا "صلی اللہ علیہ وسلم". بعد میں شرکاء اس سے خفگی کا اظہار کرتے رہے مگر یہ اپنے موقف پر قائم رہا. ذہن و فکر پر کمیونزم کے بھرپور غلبے کے باوجود میرے اس بھائی کے دل میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع روشن تھی. میں دل ہی دل مسکراتے اپنے اس دوست کا چہرہ دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیسا عجیب رشتہ تھا اس مسلمان کا کہ اسکی غیرت ایمانی نے عین معصیت اور مخالفت مذہب کے وقت بھی یہ گوارا نہ کیا کہ اس کے رسول کا نام بناء توقیر کے لئے لیا جائے؟
.
 دوستو ہم سب مسلمان ایک دوسرے سے بڑھ کر گنہگار ہیں، خطاکار ہیں، مجرم ہیں. بس ہمارے جرائم اور کوتاہیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر اب مجھے سمجھ آچکا ہے کہ اعمال و افکار سے قطع نظر ہر مسلمان بہت قیمتی ہے. ہر مسلم کے دل میں کہیں نہ کہیں ایمان کا نور ہے. حب اللہ اور محبت رسول کی شمع روشن ہے. الحمدللہ
.
 ====عظیم نامہ====

Tuesday, 4 April 2017

حاضری


حاضری


پانچ وقت نماز قائم کرنے والا مسلمان دراصل اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ خدا اسکی زندگی میں فی الواقع ترجیح اول کا درجہ رکھتا ہے. وہ خطاکار تو ہوسکتا ہے مگر سرکش نہیں ہوسکتا. نیند کس انسان کو عزیز نہیں ہوتی؟ مگر منہ اندھیرے اس نیند کو توڑ کر اور گرم بستر کو چھوڑ کر وہ فجر کیلئے وضو کرنے کھڑا ہوجاتا ہے. صرف اسلئے کہ اسے اپنے رب کا حکم اپنے آرام سے زیادہ عزیز ہے. نوکری یا کاروبار کرنے کی اہمیت سے کون انکاری ہوسکتا ہے؟ ایسے میں عین کام کے دوران جب طرح طرح کی ذمہ داریوں نے اسے جکڑ رکھا ہوتا ہے، وہ نماز ظہر کیلئے ان سب کو یکلخت ترک کردیتا ہے اور اور اپنے رب کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا ہے. صرف اسلئے کہ مالک کے سامنے حاضری اسے کسی بھی مصروفیت سے زیادہ پیاری ہے. دن ڈھلتے جب اپنا کاروبار سمیٹ رہا ہوتا ہے، نوکری نمٹا رہا ہوتا ہے تو ذہن پر یہی دھن سوار ہوتی ہے کہ بچے ہوئے کاموں کو ختم کرسکے. ایسے میں اس کے کان میں نماز عصر کی اذان گونجتی ہے اور وہ نفس پر پیر رکھ کر اپنے پروردگار کے سامنے رکوع کرنے چل پڑتا ہے. صرف اسلئے کہ اسے کسی بھی مالی فائدے سے زیادہ اہم حکم الہی کو ماننا نظر آتا ہے. سارا دن مشقت کے بعد جب گھر جانے کا وقت ہوتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ بس جلدی سے اپنے ٹھکانے پہنچ جاؤں مگر ایسے میں نماز مغرب کا وقت اسے کھینچ کر پھر اپنے معبود کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے. صرف اسلئے کہ اسکی ترجیح تسکین نفس نہیں بلکہ خدا ہے. رات میں تھکن سے چور جب سونے کا وقت قریب آتا ہے تو وقت عشاء میں ایک بار پھر اپنے رب کی بارگاہ میں عاجزی سے سجدہ ریز ہوجاتا ہے. صرف اسلئے کہ اسکے لئے آرام سے برتر اپنے رب کے حکم پر لبیک کہنا ہے. غرض یہ کہ وہ چوبیس گھنٹے کے دن میں پانچ مرتبہ نماز نہیں پڑھتا بلکہ پانچ وقت کی نماز کے دوران چوبیس گھنٹے کا دن گزارتا ہے.
.
یہ حقیقت ہے کہ ایک مسلمان کو نماز سمجھنے سے لے کر خشوع و خضوع کے حصول تک کی ہر ممکن کوشش کرنا ضروری ہے مگر نماز کی یہ پابندی جس کا بیان راقم نے کیا ہے، اپنے آپ میں ایک بہت بڑی سعادت ہے. جس طرح شفیق استاد اپنی جماعت کے کمزور ترین طالبعلم کو بھی اکثر رعایتی نمبرز دے کر اسلئے پاس کردیتے ہیں کہ وہ کم از کم کلاس میں آتا رہا، ٹوٹی پھوٹی کوشش کرتا رہا. اسی طرح 'کم از کم' اتنا تو ہو کہ پانچ وقت رب کے حضور حاضری لگتی رہے؟ کل اتنا تو وہ کہیں کہ بندہ نالائق ضرور تھا مگر کلاس میں آتا رہا. حاضری لگاتا رہا. کیا معلوم کچھ رعایتی نمبرز ہمیں بھی عطا ہوجائیں؟
.
====عظیم نامہ====

Monday, 3 April 2017

ایک اچھوت پاکستانی



ایک اچھوت پاکستانی 


.
 کیا آپ کبھی کسی بے ہنگم ہجوم کا حصہ بنے ہیں؟ جہاں رش ایسا ہو کہ کندھے سے کندھا ٹکراتا ہو. کسی کو آپ کی فکر نہ ہو. ہر انسان آپ کو دھکا مار کے بس اپنا رستہ بنانے میں دلچسپی رکھتا ہو. دائیں جانب والا بائیں جانب جا رہا ہو. بائیں جانب والا دائیں جانب آرہا ہو. کوئی غصے سے پھنکار رہا ہو، کوئی آستینیں چڑھائے لڑنے کو تیار ہو اور کوئی اپنا جرم ماننے کی بجائے آپ ہی کو مجرم بنانے کے درپے ہو. ایسی صورتحال کا سامنا کم از کم ایک پاکستانی کسی نہ کسی درجے جلوسوں میں، سڑکوں پر، بازاروں میں ضرور کر چکا ہوتا ہے. آپ کتنے ہی خوش اخلاق اور تحمل مزاج کیوں نہ ہوں؟ زیادہ دیر نہیں لگتی کہ آپ کی شخصیت پر بھی ایک جھنجھلاہٹ، ایک الجھن اور ایک غصہ حاوی ہوجاتا ہے. پھر یوں ہوتا ہے کہ آپ، آپ نہیں رہتے بلکہ اسی بے ہنگم ہجوم کا ایک بے ہنگم حصہ بن کر رہ جاتے ہیں. ایسے میں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کون غلط ہے اور کون صحیح؟ اپنے سوا سب ہی غلط نظر آنے لگتے ہیں اور حالات اتنے ابتر محسوس ہوتے ہیں کہ ان کے درست ہونے کی کوئی امید رکھنا بھی آپ چھوڑ دیتے ہیں. ایسے میں اگر کسی طرح آپ اس ہجوم سے نکل کر کسی بلند کشادہ مقام پر پہنچنے میں دانستہ یا نا دانستہ کامیاب ہو جائیں جہاں آپ نسبتاً سکون سے سفر بھی کرنے لگیں اور اس مقام سے ہجوم کا بھی جائزہ لے رہے ہوں. اس صورت میں کچھ وقفے کے بعد آپ کے حواس بحال ہوجائیں گے. وہی تحمل مزاجی اور خوش اخلاقی واپس لوٹ آئے گی جو آپ کا اصلاً حصہ تھی. اب آپ کو ان حماقتوں کا بھی ادراک ہوگا جو آپ نے ہجوم کا حصہ ہوتے ہوئے کی تھی اور بلندی سے جائزہ لے کر یہ بھی جان پائیں گے کہ اس ہجوم کو کس طرح واپس منظم کیا جائے؟ ہجوم کا حصہ رہ کر جو الجھنیں آپ کو بہت بڑی لگ رہی تھیں، اب وسیع نظر سے ان کے معمولی ہونے کا احساس ہوگا اور حقیقی مسائل کی جانب نظر مرکوز ہوگی. اب آپ کو اس ہجوم میں شامل افراد پر غصہ نہیں آئے گا بلکہ ان کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے ان سے ہمدردی ہوگی. یہ احساس ہوگا کہ اس ہجوم میں موجود لوگ میری ہی طرح اچھے لوگ ہیں بس بدنظمی کا شکار ہوکر اپنی ہی اذیت کا سبب بن گئے ہیں.
.
 ہمیں پسند آئے یا نہ آئے لیکن ہم پاکستانیوں کی کیفیت بحیثت قوم اسی بے ہنگم ہجوم کی سی ہے اور بیرون ملک مقیم محب وطن پاکستانیوں کی مثال شائد ان افراد کی جو دانستہ یا نادانستہ اس ہجوم سے نکل کر قدرے اونچے یا کشادہ مقام پر آگئے ہیں. آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا ادراک پاکستان میں بیٹھے افراد ہی کرسکتے ہیں. ہم کہتے ہیں کہ یہ گمان ایک درجے تک تو درست ہے مگر مسائل کی بھول بھلیوں سے نکلنے کا راستہ وہ شخص زیادہ بہتر بتا سکتا ہے جو خود ان بھول بھلیوں سے باہر ہو مگر اس کا مشاہدہ بلندی سے کرپارہا ہو. مسلمانوں کی قیادت کیلئے کیوں علامہ اقبال کی نظر کروڑوں کی آبادی والے ہندوستان میں موجود سینکڑوں رہنماؤں کو چھوڑ کر صرف جناح پر جا ٹکی؟ وہ جناح جو ملک چھوڑے بیٹھے تھے؟. مجھ سمیت دیگر محب وطن پاکستانیوں کو جو بیرون ملک اپنی مرضی یا کسی مجبوری کی وجہ سے آباد ہیں، مسلسل یہ طعنہ سننا پڑتا ہے کہ تم کون ہوتے ہو پاکستان کے حالات پر بولنے والے؟ اسکی کسی پالیسی یا نظام پر تنقید کرنے والے؟ شائد وہ افراد یہ چاہتے ہیں کہ ہم سب بھی ان چند پاکستانیوں جیسے ہو جائیں جو خود کو پاکستانی کہلانا ایک گالی تصور کرتے ہیں. جنہیں پاکستان کے سود و زیاں سے کوئی غرض نہیں. کیوں نہیں سوچتے یہ لوگ؟ کہ ہمارے دل آج بھی پاکستان ہی کے لئے دھڑکتے ہیں. آج بھی میز پر ٹائمز میگزین لندن اور جنگ اخبار پاکستان رکھا ہو تو میں جنگ اخبار ہی لپک کر اٹھاتا ہوں. آج بھی ہم پوری دنیا چھوڑ کر پاکستان ہی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اسی کی زمین پر فلاحی ادارے قائم کرتے ہیں، اسی کی سیاست و صحافت سے دلچسپی رکھتے ہیں، اسی کی فوج کو اپنی فوج مانتے ہیں، اسی کو کھیل سے لے کر سیاست تک میں سپورٹ کرتے ہیں. اگر آپ معاشی اعداد و شمار نکالیں تو بیرون ملک بسے پاکستانی ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہے ہیں. کیوں آپ مجھے اور میرے جیسے بیرون ملک بسے پاکستانیوں کو اچھوت بنا دینا چاہتے ہیں؟ کیوں آپ میں سے کچھ کی طبیعت ناگفتہ پر یہ گراں گزرتا ہے کہ ایک شخص بیرون ملک میں رہ کر بھی محب وطن ہوسکتا ہے؟ اپنے ملک کیلئے بات کرسکتا ہے؟ کون سا ترقی پذیر یا ترقی یافتہ ملک ایسا ہے جس کے ان گنت شہری دنیا کے دوسرے ملکوں میں آباد نہیں؟ کیا وہ بھی اپنے ان شہریوں کو یونہی ملکی معاملات سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں؟ اور ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ انہیں مساوی تکریم حاصل ہوا کرتی ہے. ضروری ہے کہ ہم پردیس میں بسے پاکستانیوں سے خار کھانے کی بجائے انہیں اپنا سمجھ کر ان کے تجربات و صلاحیتوں سے استفادہ کریں. 
.
 ====عظیم نامہ====

Sunday, 2 April 2017

ابلیس لبرل یا مذہبی


ابلیس لبرل یا مذہبی



بہت سے ایسے نوجوان جو باڈی بلڈنگ یا ورزش کے ذریعے اپنے اجسام کو مظبوط و کسرتی بناتے ہیں. ان کی چال میں کئی بار ایک عجیب سی اکڑ آجاتی ہے. چہرے پر ایک خاص سختی اور آنکھوں میں ایک عجیب سی مصنوعی شان وہ سجا لیا کرتے ہیں. 
.
 بہت سے ایسے احباب جو سائنسی یا فلسفیانہ موضوعات میں آگے بڑھ گئے ہیں. ان کے انداز فکر میں بھی کئی بار تکبر کی بو آتی ہے. خود کو عقل کل سمجھنا اور عوام کو تحقیر کی نظر سے دیکھنا ان کا مزاج بن جاتا ہے. 
.
بہت سے ایسے حضرات جو دینی علوم میں ماہر ہو جاتے ہیں. ان میں سے بھی کئی کے لب و لہجے میں عجیب سی رعونت در آتی ہے. اپنے پیش کردہ دلائل پر واہ واہ کرنے والو کا ٹولہ ان کے ساتھ ساتھ رہتا ہے. ایک خاص قسم یا خاص رنگ کا جبہ اور مخصوص حلیہ وہ اپنی ذاتی شناخت کے طور پر اپنا لیتے ہیں. جس میں ممکن ہے کہ سنت کا معمولی سا شائبہ تو ہو مگر اس کی سادگی کا عکس نہ ہو. 
.
 بہت سے ایسے اشخاص جو تصوف کے سفر میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں. ان میں سے بھی کئی متقی ہونے کے کبر میں مبتلا ہوجاتے ہیں. ہاتھ چوموانا، مریدوں سے پیر دبوانا اور اپنے نام سے پہلے پیران پیر یا قطب الاقطاب جیسے القاب لگوانا انہیں عزیز ہوجاتا ہے. 
.
 سوچتا ہوں کہ جب ابلیس نے حکم خداوندی کو ٹھکرایا تھا تو اس کے اس عمل کے پیچھے شائد اپنی طاقت کی اکڑ بھی تھی، صلاحیتوں کا غرور بھی، علم کا زعم بھی اور ذہد و تقویٰ کا کبر بھی. فضول کی وہ بحث جو آج فیس بک پر جاری ہے کہ ابلیس کا سجدے سے انکار کرنا اسکے لبرل ہونے کی وجہ سے تھا یا مذہبی ہونے کے سبب سے، اس کا چنداں کوئی مصرف نہیں. اس سے کہیں بہتر ہے کہ بحیثیت اولاد آدم علیہ السلام ہم اپنا احتساب کریں کہ ابلیسیت کی کوئی جھلک آج ہمارے کردار کا حصہ تو نہیں.
.
 ====عظیم نامہ====