Monday, 13 March 2017

طرز اختلاف یا تذلیل


طرز اختلاف 
یا تذلیل 



آج سارا دن کے بعد فیس بک کھولا تو یہ دیکھ کر شدید کوفت ہوئی کہ کچھ مذہبی رجحان رکھنے والے دوست رائے سے اختلاف کرتے ہوئے ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں، پھبتیاں کس رہے ہیں، تذلیل کر رہے ہیں. ان میں سے ایک طرف کچھ صاحبان مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رح کے معتقدین ہیں اور دوسری جانب وہ حضرات ہیں جو مولانا وحید الدین خان صاحب کی محبت میں فنافی الشیخ کی منازل سر کرچکے ہیں. پہلے قبیل کو اہل مدارس کا بیانیہ سپورٹ کررہا ہے اور دوسرے گروہ کو غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ. دھواں دھار لڑائی جاری ہے اور تاحال دونوں جانب سے مغلظات کا اسکور قریب قریب برابر ہے.
.
 سوچتا ہوں اگر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رح اس طرز اختلاف کو اپنے نام پر ہوتا دیکھ لیں تو شائد اپنا دل تھام کر بیٹھ جائیں. تصور کرتا ہوں اگر مولانا وحید الدین خان اپنے نام لیواؤں کو ایسی تحقیری زبان استعمال کرتا دیکھ لیں تو شائد اپنا سر پیٹ لیں. ڈاکٹر اسرار احمد رح نے اپنی پوری زندگی قران حکیم کی تعلیم اور خلافت کی جدوجہد میں بسر کی مگر اس کے باوجود مولانا امین احسن اصلاحی رح کو اپنے اساتذہ میں شمار کرکے ویسی ہی عزت دیتے رہے. جاوید احمد غامدی صاحب سے جب میری اپنی ملاقات ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ وہ جب جب مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رح کا ذکر کرتے ہیں تو ایک اضافی ادب ان کا احاطہ کرلیتا ہے. وہ بتاتے ہیں کہ علمی اختلاف کیسے کیا جاتا ہے؟ یہ مولانا مودودی رح سے سیکھا.
.
 افسوس کہ آج ان ہی صاحبان علم کا نام لے کر ایسا غیر علمی انداز اختیار کیا جارہا ہے جسے دیکھ کر غصہ بھی آتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے. غصہ اسلئے کہ یہ غیر شائستہ انداز اپنانے والے جاہل نہیں بلکہ مجھ جیسے سے کہیں زیادہ علم رکھتے ہیں اور افسوس اسلئے کہ دونوں طرفین تعمیر سمجھ کر تخریب کا حصہ بن رہے ہیں. میں آپ دونوں مکاتب فکر سے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں کہ صبر و شائستگی کا دامن تھامیں. اگر ایک جانب سے گالی دی جائے تو دوسری جانب بردباری کا مظاہرہ کرے. اگر دوسری جانب سے دل دکھایا جائے تو پہلی جانب حکمت سے کام لے. اگر میری اس تحریر سے آپ میں سے کسی کو چوٹ پہنچے تو میں پیشگی معافی مانگتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ میرا مقصد آپ کی تذلیل ہرگز نہیں بلکہ اخوت و مروت ہے.
.
 ====عظیم نامہ====

Saturday, 11 March 2017

استغفار کی اہمیت


استغفار کی اہمیت



تمام اللہ والو میں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ وہ استغفار کا کثرت سے اہتمام کرتے ہیں. احادیث مبارکہ میں استغفار کے ایسے ایسے فضائل بیان کئے گئے ہیں جن کے حصول کیلئے اصولی طور پر ایک سچا مسلمان دن رات تگ و دو کرسکتا ہے. گناہ سے خلاصی ہو، قلب کی صفائی ہو، رزق کی کشادگی ہو یا پھر مصیبتوں سے نجات - استغفار کی کثرت ہمیشہ مومن کا لازمی ہتھیار ہوتی ہے. ایک حدیث کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن میں ستر بار اور دوسری صحیح حدیث کے مطابق دن میں سو بار استغفار کیا کرتے تھے. دوستو کیا آپ جانتے ہیں کہ سو بار استغفار پڑھنے کیلئے مشکل  سے پانچ منٹ درکار ہوتے ہیں؟ نہ ہی اس کے پڑھنے کیلئے کسی خاص وقت یا جگہ کی کوئی قید ہے. گویا آپ چاہیں تو کسی خاص وقت یا خاص نماز کے بعد پڑھیں ورنہ چاہیں تو اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اپنے گناہوں کو اور رب کی رحمت کو سوچتے ہوئے استغفار کر سکتے ہیں. پھر کیسی محرومی کی بات ہے کہ میں اور آپ اس پانچ منٹ کے ذکر کو ترک کرکے استغفار کے لاتعداد فضائل سے خود کو محروم کرلیں؟ کیوں نا کم ازکم ہم سو مرتبہ استغفار پڑھنے کو اپنا روز کا معمول بنالیں؟ آپ زیادہ سے زیادہ بھی استغفار پڑھ سکتے ہیں کہ یہ اور بھی سعادت کا موجب ہوگا مگر یہ نہ ہو کہ جوش میں دو چار روز تو دس ہزار مرتبہ استغفار کی تسبیح پڑھ لی اور اس کے بعد اکتا کر ترک کردیا. بہتر و افضل یہی ہے کہ عمل یا ذکر بھلے کم ہو مگر اپنی روح کے ساتھ ہو اور مسلسل ہو. پھر یہاں تو صرف سو مرتبہ پڑھ لینا سنت بھی ہے. 
.
 ====عظیم نامہ====

شریعت اور ساس سسر کے حقوق


شریعت اور ساس سسر کے حقوق




"شریعت نے ساس سسر کی خدمت کی ذمہ داری عورت پر نہیں ڈالی ہے"

.
 یہ وہ جملہ ہے جسے آج کل ہر دوسری لڑکی نے حفظ کررکھا ہے. کچھ بڑے مولانا حضرات نے بھی سسرال میں بہو پر ہونے والی زیادتیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس جملے کو خوب تعلیم کیا ہے. مگر جہاں اس سے سے ایک خیر برآمد ہوا کہ مرد یعنی شوہر کو ایسی توقعات نہ رکھنے کا احساس ہوا. وہاں اس سے دوسرا کریہہ تر شر بھی برآمد ہوا اور وہ یہ کہ آج کی عورت یعنی بیوی نے اس رخصت کو بہانہ بنا کر اپنے ساس سسر کی خدمت یا ان کی فرمانبرداری سے منہ پھیر لیا. محترمہ شریعت نے تو آپ کو اس بات کا بھی مکلف نہیں کیا کہ آپ لازمی راہ گیروں، مسافروں، دور کے رشتہ داروں وغیرہ کے کام آئیں. لیکن ہر عملی مسلمان اس سب کا لازمی اہتمام کرتا ہے کیونکہ دین یہی مزاج ہمیں دیتا ہے. یہی تربیت ہمیں فراہم کرتا ہے کہ ہر بوڑھے ہر بچے سے محبت و احترام کا معاملہ کریں. پھر یہ کیسی منطق ہے؟ کہ شوہر کا رشتہ جسے کسی مرد نے نہیں بلکہ آپ کے رب نے اونچے ترین مقام پر رکھا تھا، جس کی اطاعت و موافقت کو بطور بیوی آپ کی پہلی ذمہ داری بنایا تھا .. اسی کے بوڑھے والدین کی خدمت سے آپ یہ کہہ کر انکار کردیں کہ شریعت مجھے اس کا مکلف نہیں کرتی؟ اسی کے والدین سے آپ بدتہذیبی سے پیش آئیں اور ان کے جائز مطالبوں کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ لیں؟ کیسے بھول جاتی ہیں آپ ؟ کہ آپ کا شوہر اپنے ماں باپ کا بیٹا بھی ہے، جن کی رضا میں اسکی جنت و جہنم کا فیصلہ چھپا ہے.  جس دین میں پڑوسی کے حقوق اتنے زیادہ ہوں کہ صحابہ رض کو لگنے لگا کہیں وراثت میں بھی ان کا حصہ مقرر نہ کردیا جائے، اس میں ساس سسر کے حقوق نہ ہوں؟عجیب بات ہے. مانا کہ اس مرد کو بطور شوہر آپ کے حقوق کا پورا خیال رکھنا ہے مگر بحیثیت انسان فطری طور پر وہ آپ سے کیسے خوش رہ پائے گا یا آپ کو عزت کیسے دے پائے گا اگر آپ اسکے والدین کو ناراض رکھیں گی اور انکی عزت نہ کریں گی؟ یہ ناممکن ہے. 
.
 ایک عورت اپنے آنسو دیکھا کر بہت جلد مظلومیت کا میڈل خود پر سجا لیتی ہے مگر ایک مرد شدید ذہنی کرب سے گزرتے ہوئے بھی اپنی داخلی کیفیت کے درست اظہار سے محروم رہتا ہے. مجھے غلط نہ سمجھیں، میں سسرال میں کیئے جانے والے مظالم اور حق تلفیوں سے بھی بخوبی آگاہ ہوں اور اس بات کا قائل ہوں کہ اگر والدین گھر کی بہو پر زندگی تنگ کردیں تو مرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کو الگ گھر فراہم کرے. مگر ساتھ ہی میں پاکستانی معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس رجحان سے بھی خوب آگاہ ہوں جہاں ماں باپ کا درجہ دینا تو دور کی بات، ایک لڑکی اپنے ساس سسر کی بات کو اہمیت دینے کو بھی ذہنی طور پر تیار ہی نہیں ہوتی. ساس سسر کا کوئی جائز مطالبہ بھی اسے اپنے 'فریڈم' کے خلاف نظر آتا ہے اور ساس سسر کا اپنی اولاد کو کوئی مشورہ دینا اسے اپنی 'پرائیویسی' کی موت محسوس ہوتا ہے. ہمارے معاشرے میں طلاقوں کی بڑھتی ہوئی شرح میں یہ جدید رجحان بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے. اپنے ماں باپ کے زمانے میں جھانک کر دیکھیئے تو جو زیادتیاں یا حق تلفیاں اس زمانے میں ایک عورت کے ساتھ سسرال کی جانب سے ہوتی تھی اس کا عشر عشیر بھی آج نہیں ہوتی مگر ان عورتوں نے ان زیادتیوں کو سہہ کر گھر بنائے اور آج اکثر گھرانوں میں یہی مائیں .. باپوں سے زیادہ مستحکم و زورآور نظر آتی ہیں. لیکن شائد آج کی لڑکیاں کچھ زیادہ عقلمند ہوگئی ہیں ، اسی لئے اپنے مزاج کے خلاف معمولی بات پر بھی ایسا تلملاتی ہیں کہ مانو ان سے جینے کا حق ہی چھین لیا گیا ہو. آخری بات، فی زمانہ آپ کو ایسے بہت سے 'دانشور' مل جائیں گے جو آپ کے ہم آواز ہو کر عورت کی مظلومیت اور مرد کے مظالم کے نعرے لگائیں گے. اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کو اپنے مطلب کا 'آدھا سچ' قبول ہے یا پھر تکلیف دہ 'پورا سچ'. 
.
 ====عظیم نامہ====

Thursday, 9 March 2017

دی لائن کنگ

دی لائن کنگ

میں کارٹون موویز آج بھی اتنے انہماک سے دیکھتا ہوں کہ ادرگرد کی کوئی خبر نہیں ہوتی. میرا احساس ہے کہ ان کارٹون موویز میں انٹرٹینمنٹ کے ساتھ ساتھ عام موویز یا ڈراموں سے کہیں زیادہ مثبت پیغامات چھپے ہوتے ہیں. 'دی لائن کنگ' ان کارٹون موویز میں میری پسندیدہ رہی ہے. کل یوٹیوب پر سالوں بعد اسے دوبارہ دیکھا تو لطف ہی آگیا. بہت ممکن ہے کہ آپ میں سے کئی دوست میری اس تحریر پر ہنسیں مگر کوئی بات نہیں ہنسنا صحت کیلئے برا نہیں ہے. کہانی کا آغاز 'موفاسہ' نامی ایک ببر شیر کی بادشاہت کے بیان سے ہوتا ہے. دیکھاتے ہیں کہ موفاسہ کے گھر بیٹا پیدا ہوتا ہے جس کا نام 'سمبا' رکھا جاتا ہے. ایک 'رافیکی' نام کا کاہن نما شاہی لنگور اسے گود میں اٹھا کر پورے جنگل کو دیکھاتا ہے اور سب جانور ادب سے سر جھکا لیتے ہیں. یہ اس بات کا اعلان تھا کہ 'سمبا' مستقبل کا بادشاہ بنے گا. 'موفاسہ' ایک نہایت طاقتور، حکیم اور انصاف پسند بادشاہ ہے. جو اپنے بیٹے 'سمبا' کی مختلف انداز سے تربیت کرتا ہے. ایک موقع پر وہ اسے جانوروں سے محبت اور انصاف کی تلقین کرتا ہے تو سمبا پوچھتا ہے کہ "..لیکن ہم تو انہیں شکار کرکے کھا جاتے ہیں؟". 'موفاسہ' سمجھاتا ہے کہ بیٹا آج تم ان چوپایوں کو کھا جاتے ہو، کل جب ہم شیر مر جائیں گے تو ہمارے جسم مٹی ہو کر گھاس اور چارہ بن جائیں گے، جنہیں یہ چوپائے کھائیں گے. یہی 'زندگی کا دائرہ' ہے جس کا احترام لازم ہے. اسی طرح 'موفاسہ' اپنے لاڈلے 'سمبا' کو غیر ضروری خطرات مولتے دیکھ کر سمجھاتا ہے کہ بہادر ہونے کا مطلب قطعی یہ نہیں کہ تم زبردستی خود کو خطرات میں ڈال لو۔ صرف اسی وقت بہادر بنو جب بہادری کی ضرورت پڑ جائے۔ 'موفاسہ' کا ایک حسد کرنے والا بھائی بھی ہے، جس کا نام 'اسکار' ہے اور جو اپنی شاطر و خبیث فطرت کی وجہ سے خونخوار لکڑبھگوں میں رہنا پسند کرتا ہے. اسکار چونکہ سمبا کا چچا ہے لہٰذا وہ 'سمبا' کو ہلاک کرنے کی سازش کرتا ہے مگر 'موفاسہ' عین وقت پر پہنچ کر اپنے بیٹے کو بچا لیتا ہے. 'اسکار' ایک بار پھر لکڑبھگوں کیساتھ مل کر بڑی سازش کرتا ہے اور 'موفاسہ' کو قتل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے. چھوٹے سے 'سمبا' کو وہ یہ تاثر دیتا ہے کہ اس کا باپ 'موفاسہ' اسکی وجہ سے حادثاتی موت مرگیا ہے. وہ 'سمبا' کو بھاگ جانے کا مشورہ دیتا ہے اور اسکے جاتے ہی اسکے پیچھے لکڑبھگوں کو اسے ہلاک کرنے کیلئے بھیج دیتا ہے. یہ لکڑبھگے اسے ہلاک نہیں کر پاتے اور 'سمبا' بچ نکلتا ہے.
.
'سمبا' احساس جرم دل میں لئے دوسرے جنگل جاکر کچھ نئے دوست بناتا ہے جو اسے 'اکونو مٹاٹا' کا ایک نیا فلسفہ سکھاتے ہیں. جس کے مطابق بے حس ہو کر بناء کسی ٹینشن کے زندگی گزارنی چاہیئے. شکار کی بھی فکر نہ کرو، بلکہ بکھرے ہوئے کیڑے مکوڑے کھالو. 'سمبا' ان ہی کے ساتھ پل بڑھ کر جوان ہوجاتا ہے اور پھر ایک روز اچانک اسکی ملاقات اپنی بچپن کی منگیتر 'نالا' سے ہوجاتی ہے. وہ بتاتی ہے کہ سب کو یہی بتایا گیا ہے کہ تم مر چکے ہو. 'اسکار' نے لکڑبھگوں کیساتھ مل کر بادشاہت سنمبھال رکھی ہے. بربریت سے تمام جنگل تباہ ہوچکا ہے. 'نالا' اسے واپس جا کر اپنا تخت چھیننے کیلئے ابھارتی ہے، جواب میں 'سمبا' انکار کرکے اسے بھی 'اکونو مٹاٹا' کی تھیوری سمجھاتا ہے. 'نالا' غصہ کرکے کہتی ہے کہ بے فکری کا نام لے کر تم اپنی ذمہ داری اور حقیقت سے فرار حاصل نہیں کرسکتے. 'سمبا' تنہائی میں جاکر سوچنے لگتا ہے تو وہاں وہی شاہی کاہن لنگور 'رافیکی' آجاتا ہے جو اس سے اپنے ملنگ انداز میں پرمغز گفتگو کرتا ہے. 'سمبا' کہتا ہے کہ ماضی نے اسے جکڑ رکھا ہے. جواب میں لنگور اس کے سر پر اپنی لاٹھی سے ضرب لگاتا ہے. 'سمبا' تکلیف سے پوچھتا ہے کہ کیوں مارا؟ لنگور کہتا ہے فکر نہ کرو وہ ماضی تھا. 'سمبا' شکایت کرتا ہے مگر یہ تکلیف دہ تھا. اب لنگور اس کے گلے میں ہاتھ ڈال کر کہتا ہے کہ ہاں ماضی تکلیف دہ ہوسکتا ہے مگر تم دو رویئے اپنا سکتے ہو. یا تو ماضی سے بھاگتے رہو یا پھر ماضی سے سبق حاصل کرو. یہ جملہ کہتے ہی لنگور دوبارہ ضرب لگانے کی کوشش کرتا ہے مگر اس بار 'سمبا' سر جھکا کر خود کو بچا لیتا ہے. گویا 'سمبا' نے ماضی یعنی پہلی ضرب سے سیکھ کر دوسری ضرب سے خود کو بچالیا تھا. اسی دوران اس ملنگ لنگور کے ذریعے 'سمبا' پر کشف کی کیفیت طاری ہوتی ہے جس میں اسے اپنا باپ 'موفاسہ' یہ شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ 'سمبا' تم نے مجھے بھلا دیا. 'سمبا' چیختا ہے کہ نہیں میں آپ کو کیسے بھلا سکتا ہوں بابا؟ 'موفاسہ' جواب دیتا ہے کہ تم نے اپنی حقیقت بھلا دی یعنی مجھے بھلادیا. اس کشف کے بعد 'سمبا' واپس اپنے آبائی جنگل جاتا ہے اور 'اسکار' سے اسکا خونی معرکہ ہوتا ہے. جس کے دوران 'اسکار' یہ اعتراف بھی کرلیتا ہے کہ 'موفاسہ' کا قاتل وہی ہے. 'اسکار' کا انجام دردناک ہوتا ہے کہ اس کے ساتھی سینکڑوں لکڑبھگے اس کی مطلب پرستی سے ناراض ہوکر اس پر حملہ کردیتے ہیں اور اسے کھا جاتے ہیں. 'سمبا' اپنے باپ کا تخت بلاخر سنبھال لیتا ہے اور ایک بار پھر جنگل میں خوشحالی اور انصاف لوٹ آتا ہے. مووی کا اختتام اس پر ہوتا ہے کہ 'سمبا' اور 'نالا' کے گھر بیٹی/بیٹا پیدا ہوا ہے. جسے وہی ملنگ شاہی لنگور 'رافیکی' گود میں اٹھا کر سارے جنگل کو دیکھاتا ہے اور سب جانور احترام سے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 7 March 2017

میری ایک جذباتی سیاسی تحریر


میری ایک جذباتی سیاسی تحریر 


.
وہ احباب جو زرداری، نواز شریف، الطاف حسین یا کسی اور لیڈر کے دن رات گن گاتے رہتے ہیں. ان لیڈروں کی ہر جائز ناجائز بات کا دفاع کرنا خود پر فرض سمجھتے ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کی تنقید سن کر آگ بگولہ ہوجاتے ہیں. دل چاہتا ہے کہ ان سے کہوں کہ اگر آپ اپنے لیڈر کو اتنا ہی پرفیکٹ اور نیک تسلیم کرتے ہیں تو دو رکعت نفل پڑھ کر یا صرف ہاتھ اٹھا کر دل سے  رب کریم سے دعا کریں کہ وہ آپ کی اولاد کو اسی لیڈر جیسا بنادے اور آپ کا حشر آخرت میں اسی لیڈر کے ساتھ کرے. اگر آپ ایسی دعا کر سکتے ہیں تو کم از کم آپ اپنے قول و فعل میں سچے ہیں. آپ اپنے کہے میں صحیح یا غلط تو ہوسکتے ہیں مگر جھوٹے نہیں. لیکن  اگر آپ ایسی کوئی دعا اس لئے نہیں کرتے کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کا من پسند لیڈر کرپٹ ہے یا اس کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں تو امکان ہے کہ روز قیامت آپ کو پیشانی کے بالوں سے پکڑا جائے اور آپ کو ایک مجرم کا دست بازو بننے پر اسی کا ساتھی شمار کیا جائے. 
.
میں جانتا ہوں کہ وطن عزیز میں ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے لہٰذا ہمیں کسی بہتر الو کا ہی انتخاب کرنا ہوگا. مگر خدا کے لئے نواز ہو یا عمران، الطاف ہو یا فضل الرحمٰن کسی کی بھی شخصیت پرستی اختیار نہ کیا کریں. افسوسناک امر یہ ہے کہ فیس بک پر بھی کچھ ذہن ساز لکھاری اسی شخصیت پرستی میں مبتلا نظر آتے ہیں. اتنا حوصلہ رکھیں کہ جہاں کسی کی اچھی بات پر تعریف کرسکتے ہوں وہاں اسی کی کسی بری بات پر کھل کر تنقید بھی کرسکیں. عجیب ماحول بنالیا ہم نے کہ یہاں یا تو ایک لیڈر کو موسیٰ کی مسند پر بیٹھا دیا جاتا ہے یا پھر سیدھا فرعون کا تمغہ دیا جاتا ہے. بیچ کا کوئی امکان ہی نہیں .. یہاں ایسا کوئی تصور نہیں ہے کہ ایک شخص کی بیک وقت کچھ باتیں غلط اور کچھ صحیح تسلیم کی جایئں .. یہاں حق کو حق کہنے اور باطل کو باطل کہنے کا رواج نہیں ہے. یہاں حق و باطل کی کسوٹی انصاف نہیں عقیدت بن گئی ہے. یہاں اگر آپ نے کسی لیڈر کو حق کہنا ہے تو اسکے باطل کو بھی حق کہنا ہے، اور اگر کسی کو باطل پکارنا ہے تو اسکے حق کو بھی باطل پکارنا ہے. مجھ سے واقف لوگ یہ بات خوب جانتے ہیں کہ میں نے اگر آج تک کسی لیڈر کی کھل کر حمایت کی ہے، اسکے حق میں تحریریں لکھی ہیں تو وہ عمران خان ہے. ایک پرانی تحریر کا لنک نمونے کے طور پر پہلے کمنٹ میں درج کررہا ہوں. میں آج بھی خان صاحب کی کچھ باتوں سے ناراض ہونے کے باوجود ان سے محبت محسوس کرتا ہوں، ان سے امید رکھتا ہوں مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی پے درپے حماقتوں کا وکیل بن کر دفاع کرتا رہوں؟ ان پر تنقید نہ کروں؟ خان صاحب نے کوئی ایک بیوقوفی نہیں کی ہے بلکہ سیاسی و شخصی حماقتوں کی ایک طویل فہرست مرتب کردی ہے. جن میں سے کوئی نہ کوئی ہر دوسرے روز اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہے. جب آپ نے خود کو قومی لیڈر  بنا کر پیش کردیا تو اب آپ پبلک پراپرٹی ہیں. جس طرح کرپشن کرنے والے کو کرپٹ کہا جاتا ہے ویسے ہی بیوقوفیاں کرنے والے کو بیوقوف پکارا جائے گا. نواز لیگ، انصافی کارکنان اور تمام جماعتوں کے اراکین میں یہ جرأت ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے من پسند لیڈر پر بھی جہاں وہ غلط ہے تنقید کرسکیں. ساتھ ہی اپنے مخالف کی تنقید کو کھلے ذہن سے سننے کی ہمت پیدا کریں. یہ ہوگا تو حقیقی شعور بیدار ہوسکے گا. یہ نہیں ہوگا تو شعور کے نام پر صرف دھینگا مشتی ہوگی. 
.
====عظیم نامہ====



Sunday, 5 March 2017

فیس بک کو ہلکا نہ لیں




فیس بک کو ہلکا نہ لیں


.
 فیس بک اپنی سوچ کے اظہار کیلئے ایک انتہائی طاقتور ذریعہ بنتا جا رہا ہے. پہلے عظیم نامہ کے عنوان سے میری تحریر کچھ احباب پڑھتے تھے، پھردیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں لوگ پڑھنے لگے، سینکڑوں سے تعداد ہزاروں تک چلی گئی، پھر معلوم ہوا کہ کچھ معروف فیس بک پیجز اور گروپس بھی ان تحریروں کو شیئر کررہے ہیں، پھر کچھ بڑی اردو ویب سائٹس نے تحریروں کو شائع کیا، پھر کچھ رسالوں نے تحریروں کو شامل کیا، پھر ملک کے نمائندہ اخبارات نے کئی تحریروں کو خود ہی چھاپ دیا، پھر سیک سیمینار لاہور میں مجھے بطور لکھاری خطاب کا موقع دیا گیا، پھر کچھ اخبارات نے مجھے مستقل کالم نگار بننے کی دعوت دی (جو تاحال میں نے قبول نہیں کی)، پھر بڑے صاحبان علم نے میری کچھ تحریروں کو اپنی کتب میں جگہ دی (جو منظر عام پر بہت جلد آرہی ہیں)، پھر میری تحریروں اور کچھ ویڈیوز کو دیکھ کر دو ٹی وی چینلز کے متعلقین نے خود رابطہ کیا (امید ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی ترتیب بن جائے)
.
 یہ سب مجھے بناء کسی اضافی کوشش کے، صرف فیس بک پر تحریریں لکھنے سے حاصل ہورہا ہے. حالانکہ میں پوری دیانتداری سے اور بناء کسی انکساری کے یہ بات بخوبی جانتا ہوں کہ حد سے حد میں ایک اوسط درجے کا لکھاری ہوں اور مجھ جیسے بلکہ مجھ سے کہیں بہتر بہت سے لکھاری اسی فیس بک پر موجود ہیں. اس فیس بک نے عوام میں موجود ہر اس سوچنے والے ذہن کو ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے جو اظہار کی صلاحیت و قوت رکھتا ہے. اب یہ آپ پر ہے کہ اچھا لکھ کر اپنا لوہا منوائیں.
.
 ====عظیم نامہ====

ایک بزرگ کی دو نصیحتیں



ایک بزرگ کی دو نصیحتیں



۔
 کبھی تھوڑے سے مزہ کیلئے گناہ نہ کرنا ۔۔ کیونکہ مزہ جلد مٹ جائے گا مگر گناہ آخرت تک تمہارے ساتھ رہے گا۔
۔
 کبھی تھوڑی سی مشقت کیلئے ثواب نہ چھوڑنا ۔۔ کیونکہ مشقت جلد مٹ جائے گی مگر ثواب آخرت تک تمہارے ساتھ رہے گا۔
۔
 گویا ہر گناہ کے کرنے میں لطف ہے تب ہی تو ہم جانتے بوجھتے اس کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ مگر یہ لطف بہت تھوڑا سا اور عارضی ہے جبکہ اس کے عیوض ملنے والا گناہ بناء توبہ کے دائمی ہے۔ لہذا میرے دوست بدنظری سمیت کسی بھی گناہ کو لطف کے سبب کبھی نہ کرنا۔ 
۔
 اس کے برعکس تہجد میں اٹھنا ہو، فجر میں مسجد کیلئے گھر سے نکلنا ہو یا پھر کسی عزیز کی عیادت کو جانا ہو۔ ہر نیکی میں ایک مشقت ہے۔ مگر یہ مشقت تھوڑی اور عارضی ہے جبکہ اسکے عیوض حاصل ہونے والا اجر دائمی ہے۔ لہذا میرے رفیق عبادات ہوں یا معاملات، کسی بھی نیکی کے موقع کو مشقت کے سبب کبھی نہ چھوڑنا۔ 
۔
 ====عظیم نامہ====