Thursday, 20 April 2017

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بداخلاقی


بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بداخلاقی



یہ افسوسناک امر ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک تعداد ایسی بھی ہے جو مغربی ممالک میں ہر جائز و ناجائز قانون کی تو مسکرا مسکرا کر پاسداری کرتے ہیں. مگر جیسے ہی پاکستان جانے کیلئے 'پی آئی اے' کے جہاز میں داخل ہوتے ہیں یا پاکستانی ایئر پورٹ پر اترتے ہیں تو لگتا ہے ان سے بڑی نواب کی اولاد کوئی نہیں. بدتمیزی سے پاکستانی اسٹاف کے ساتھ بات کرنا، بلاوجہ انگریزوں سے زیادہ انگریزی جھاڑنا، نظم و ضبط کی شکایت کر کے پھنکاریں مارتے رہنا (جیسے کبھی پاکستان میں رہے ہی نہ ہوں)، بات بات پر عملے سے الجھنا اور اچانک اپنی صفائی پسندی بھول کر گند پھیلانا ان کی حرکات  سے صاف ظاہر ہوتا ہے. یہی افراد جب ملک پہنچ جاتے ہیں تو ہر قانون اور سگنل توڑتے ہوئے تیز گاڑی چلاتے ہیں، اپنے مختلف کاموں کیلئے دو نمبر ڈاکومینٹس بنواتے ہیں اور پھر اپنے احباب میں بیٹھ کر عالمانہ تجزیئے کرتے ہیں کہ کیسے فلاں ملک زبردست ہے؟ اور کیوں پاکستان کا کچھ نہیں ہوسکتا؟ 
.
 بحیثیت ایک بیرون ملک مقیم پاکستانی کے جب میں یا میرے جیسے دوسرے محب وطن پاکستانی ان جیسے افراد کے رویوں کو دیکھتے ہیں، جن کا ذکر پوسٹ میں ہوا ہے تو خون کھول اٹھتا ہے. آج 'ایف آئی اے' کی جانب سے ریلیز کردہ اس ویڈیو کو دیکھنے کا اتفاق ہوا. جس میں ناروے سے آنے والی کچھ پاکستانی نژاد نارویجین عورتیں آخری درجے میں عملے سے بدتمیزی کررہی ہیں اور ان کی ایک سننے کو تیار نہیں ہیں. بلکہ اگر بڑھ کر کبھی ضبط کردہ موبائل چھین رہی ہیں اور کبھی ایک خاتون اسٹاف کے ہاتھ پکڑ کر جھٹک رہی ہیں. میں آپ کو اطمینان دلاتا ہوں کہ اگر یہی حرکت ان عورتوں نے کسی مغربی ملک میں کی ہوتی تو ان کی ایسی کی تیسی کر کے پولیس لے جاتی. امریکہ ہوتا تو الیکٹرک شاک مار کر گرایا جاتا اور یورپ ہوتا تو فرش پر منہ کے بل پھینک کر ہاتھ باندھ دیئے جاتے. بہت ممکن ہے کہ سفر پر پابندی لگتی، جیل ہوتی یا تگڑا جرمانہ لگتا. یہاں یہ غلط فہمی بھی دور کرلیں کہ امریکہ اور یورپ وغیرہ میں ہمیشہ مسافروں کے ساتھ درست وجوہات کی بنیاد پر ہی کاروائی ہوتی ہے. ہرگز نہیں بلکہ بلاوجہ شک یا کسی بھی بیکار بات کو وجہ بنا کر آپ کو روکا بھی جاسکتا ہے، آپ کا کوئی سامان عارضی یا مستقل ضبط بھی ہوسکتا ہے اور آپ کو گھنٹوں انتظار بھی کروایا جاسکتا ہے. کسی بھی صورت میں مسافر یہ حماقت نہیں کرتا کہ عملے پر چڑھائی کردے. اسے خوب معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کرنے پر اس کا کیا حشر ہونا ہے. اس سے قطع نظر کہ غلطی اس کی ہے یا اسٹاف کی. 
.
 ====عظیم نامہ====

درود پر اعتراض


درود پر اعتراض



سوال:
 سر، غیر مسلموں کی جانب سے درود شریف پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام و آل ابراہیم پر رحمت و برکت کی دعا کر دی گئی تو اس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل ازخود آ جاتی ہے. اس کا الگ سے ذکر ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آل ابراہیم سے نہیں ہیں. براہ مہربانی جواب عنایت فرمائیں.
.
جواب:
 یہ خصوصیت کا بیان ہے. جیسے میں دعا کروں کہ اللہ پاک تمام امت مسلمہ کے گناہوں کو معاف فرمادیں اور پھر خصوصیت سے یہ بھی کہوں کہ یا اللہ مجھ گنہگار کے گناہ بھی معاف کردیں اور میرے گھر  والوں کو بھی بخش دیں.
اب ایسے میں کوئی عقلمند اٹھے اور فرمانے لگے کہ جب امت مسلمہ کے گناہوں کی معافی مانگ لی تھی تو آپ اور آپ کا گھر اس میں شامل تھا. پھر اپنا یا گھر والو کا ذکر خصوصیت سے کیوں کیا؟ .. ایسے اعتراض پر سر پکڑنے کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ 
.
 یہ پہلو بھی ملحوظ رہے کہ اسلام کو دین ابراہیمی سے تعبیر کیا جاتا ہے. حج ہو یا قربانی ہم مختلف طریق سے سنت ابراہیمی سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں، انہیں یاد کرتے ہیں. درود ابراہیمی میں اسی نسبت اور تعلق کا اظہار ہوتا ہے. 
.
 ====عظیم نامہ====

Wednesday, 19 April 2017

درود ابراہیمی پر سوال و جواب

درود ابراہیمی پر سوال و جواب




١. درودِ ابراہیمی قرآن شریف کی کس سورت میں ہے؟
.
جواب: احادیث کریمہ تو اس باب میں بکثرت مروی ہیں اور قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے:
.
ان اللہ وملٰٓئکتہٗ یصلون علی النبی یآ یھا الذین اٰمنو ا صلو ا علیہ وسلمو ا تسلیماo
.
ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو‘‘۔
.
درود ابراہیمی سمیت کوئی دوسرا درود قران حکیم میں بیان نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مفصل بیان احادیث مبارکہ میں ملتا ہے. یہ ایسا ہی ہے جیسے قران حکیم میں قیام، رکوع و سجود کا اصولی حکم دیا گیا ہے مگر یہ تینوں افعال کرتے کیسے ہیں؟ اس کا بیان احادیث یا سنت سے حاصل ہوتا ہے. 
.
٢. درودِ ابراہیمی صحاحِ ستہ میں سے کس کتاب میں ہے؟ کیا درودِ ابراہیمی بخاری شریف میں موجود ہے؟
.
جواب: صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے. گویا صرف صحیح حدیث ہی نہیں ہے بلکہ اسے متفق علیہ کا مقام بھی حاصل ہے. تفصیل کیلئے دیکھیئے 
.
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً، إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ ‏"‏ فَقُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏"‏‏.‏ بخاری ٦٣٥٧
.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، کہا ہم سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، کہا کہ کعب بنعجرہ رضیاللہعنہ مجھ سے ملے اور کہا کہ
میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ؟ ( یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لو گوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں ، لیکن آپ پر درود ہم کس طرح بھیجیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو ۔ اللهم صل على محمد ، ‏‏‏‏ وعلى آل محمد ، ‏‏‏‏ كما صليت على آل إبراهيم ، ‏‏‏‏ إنك حميد مجيد ، ‏‏‏‏ اللهم بارك على محمد ، ‏‏‏‏ وعلى آل محمد ، ‏‏‏‏ كما باركت على آل إبراهيم ، ‏‏‏‏ إنك حميد مجيد ‏ ” اے اللہ ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ، جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔ اے اللہ ! محمد پر اور آل محمد پر بر کت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔
.
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ آیت مبارک میں درود کے ساتھ ساتھ سلام پڑھنے کا بھی حکم ہے. جس کا بیان قران مجید نے خود کردیا ہے (التحیات ..). لیکن کس وقت پڑھنا ہے؟ اس کا بیان بھی بخاری کی حدیث میں موجود ہے. 
.
٣. کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں درودِ ابراہیمی پڑھا ہے؟ جواب اگر ہاں ہے تو اس کا حوالہ دیجیے۔
.
جواب: اس کا بیان نسائی اور مسند ابو عوانہ کے حوالے سے بیان ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دوران نماز سلام پھیرنے سے قبل خود پر درود بھیجتے تھے (دعا کرتے تھے). گو مجھے اس کا ریفرنس حاصل نہیں. اگر اس سے تشفی نہ ہو تو یہاں یہ یاد کیجیئے کہ آیت میں کہا گیا ہے "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں" جس طرح اللہ رب العزت کا درود بھیجنا ہمارے درود بھیجنے سے مختلف ہے، اسی طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر کچھ مختلف الفاظ سے اپنے لئے درود یعنی دعا کرتے ہوں تو کوئی حیرت کی بات نہیں. وہ الفاظ اگر مختلف بھی ہوں اور ہمارے علم میں نہ ہوں تب بھی اس سے ہمارا درود پڑھنا متاثر نہیں ہوسکتا. ہم مسلمانوں کو تو درود کےالفاظ سیکھا دیئے گئے ہیں 
.
٤. کس کس صحابی نے نماز میں درودِ ابراہیمی پڑھا ہے؟
.
جواب: یہ عملی و قولی تواتر سے ہم تک پہنچا ہے جو ازخود دین میں ایک قطعی حجت ہے. گویا تمام صحابہ رضی اللہ اجمعین نے اس کا اہتمام کیا. اگر کسی کو لگتا ہے کہ صحابی یہ نہیں کرتے تھے تو اسے ثبوت پیش کرنا ہوگا. ہم نے تو صحیح بخاری و مسلم کی متفقہ علیہ حدیث کو پیش کردیا ہے، جس میں صحابہ کو تلقین کردی گئی ہے کہ وہ درود کن الفاظ سے پڑھیں. دیگر کتب کا بیان اس کی تصدیق میں اضافی موجود ہے. 
.
٥. درودِ ابراہیمی سب سے پہلے کس کتاب میں لکھا گیا؟
.
جواب: جب اجماع علماء و امت کے حساب سے احادیث صحیحہ کی مستند ترین کتب میں موجود ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ سب سے پہلے کس کتاب میں ذکر ہوا؟ اس کے لئے صحیفہ ہمام بن منبہ یا موطا ابن مالک وغیرہ کو دیکھنا ہوگا. مگر چونکہ یہ سوال ہی عبث ہے لہٰذا میں مشقت نہیں کرنا چاہوں گا 
.
٦. درودِ ابراہیمی نماز میں کب شامل کیا گیا اور کس نے شامل کیا؟
.
جواب: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شامل کیا. انہوں نے ہی مکمل نماز مسلمانوں کو سکھائی ہے. صراحت اپر کے جوابات میں موجود ہے.
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 13 April 2017

مشعل خان


 مشعل خان



اسے درندگی کہوں؟ ... نہیں یہ الزام میں انہیں کیسے دے سکتا ہوں ؟ .. درندے تو اتنے سفاک نہیں ہوا کرتے. کسی انسان کو گستاخ قرار دے کر اسے ڈنڈوں سے مار مار کر قتل کردیا جاتا ہے. اس کا سر ضربوں سے کچل دیتے ہیں. جسم کے ہر ایک حصے کو لہولہان کردیتے ہیں. پھر اس کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں مگر دل ابھی بھی نہیں بھرتا، جذبہ ایمانی کی تسکین ابھی بھی نہیں ہوتی لہٰذا مجمع میں گھسیٹ لاتے ہیں. پھر اس کی لاش کو پیروں سے روندتے ہیں اور باجماعت نعرے لگاتے ہیں اللہ اکبر ! اللہ اکبر ! 
 کیا کہوں اسے؟ حب رسول؟ اسلام؟ .. نہیں یہ میں نہیں کہہ سکتا. میں اسے اسلام نہیں مان سکتا. قطعی نہیں. اول تو آج کی تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں مگر اگر مشعل خان گستاخ تھا تب بھی میری آنکھ آج اس نوجوان کے دردناک سفاکانہ قتل پر اشکبار ہے. کیا ان متقین کی نظر میں مجھے بھی گستاخ قرار دے دیا جائے گا؟ عدالت جانے کی بجائے اس مجمع نے کسی کی جان اتنی سفاکیت سے تلف کرکے اور اسکی لاش کی ایسی بے حرمتی کرکے بدترین جرم کا ارتکاب کیا ہے. اس افسوسناک بلکہ شرمناک واقعہ پر تین اقدامات لازمی کرنے چاہیئے
.
١١. اس سفاکیت کے ذمہ دار ایک ایک مجرم کو سخت ترین سزا دی جائے. 
.
٢٢. اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کسی گروہ کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ ان مجرمین کو عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر پیش کرنے لگیں. 
.
٣٣. علماء آگے بڑھ کر ایسے شدت پسند بلکہ نفسیاتی رویوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کریں اور صرف مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ مسلسل منبروں اور میڈیا کے ذریعے قوم کی تربیت کریں کہ ایسا کوئی بھی اقدام شدید جرم ہے. 
.
 ====عظیم نامہ====

Wednesday, 12 April 2017

فارن کوالیفائڈ


فارن کوالیفائڈ 



یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں کراچی کی ایک یونیورسٹی میں کمپیوٹر انجینئرنگ کا طالبعلم تھا. میرا ایک دوست، طالبعلم ہونے کے ساتھ ساتھ آئی ٹی کے معروف کالج میں ایک مخصوص مضمون کو پڑھاتا بھی تھا. ایک روز ہم دونوں کسی تقریب میں شرکت کو جارہے تھے جب اس نے مجھ سے کہا کہ دس منٹ کیلئے اسے کالج لے جاؤں تاکہ وہاں سے وہ اپنا کچھ سامان اٹھالے. چانچہ ہم دونوں کالج پہنچے اور جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ کالج کا ڈائریکٹر اور دیگر منتظمین انتہائی پریشان بیٹھے ہوئے ہیں. پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آج ایک مشکل کمپیوٹر کے مضمون کی انتہائی اہم کلاس تھی. جسے ملتوی کرنا کسی طور درست نہیں ہے. سب اسٹوڈنٹس کلاس میں موجود ہیں مگر استاد کسی وجہ سے نہیں آپایا ہے. اب سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے سنبھالیں؟ دوست نے اس مضمون کی کتاب اٹھائی، وہ خاص سبق نکالا جو اس دن پڑھایا جانا تھا. کوئی دس سے پندرہ منٹ منہمک ہو کر اسے پڑھا اور کلاس میں پڑھانے کو داخل ہونے لگا. میں نے گھبرا کر اسے روکا کہ کیسے کرو گے؟ تو اس نے کھلکھلاتے ہوئے کہا کہ 'عظیم میں فارن کوالیفائڈ انسان ہوں، تم مجھے ہلکا لے رہے ہو.' یہ کہہ کر وہ کلاس میں داخل ہوگیا. میں بھی دبک کرایک کونے میں بیٹھ گیا. یہ سوچتے ہوئے کہ اب شامت ہے. یہ کوئی اسکول کے بچے نہیں تھے جنہیں کوئی بھی پڑھا کر بیوقوف بنا دے. کلاس شروع ہوئی تو دوست نے اعتماد سے سبق پڑھانا شروع کیا. کلاس نہایت دھیان سے اسے سن رہی تھی. میں سارا وقت جائزہ لیتا رہا کہ کہاں وہ اسٹوڈنٹس کو بیوقوف بناتا ہے؟ مگر حیرت انگیز طور پر اس نے عمدگی سے اسے سبق کو پوری طرح سمجھا دیا. کلاس برخواست ہوئی اور دوست مسکراتا ہوا میرے پاس آگیا.
.
 میں نے بھی مسکرا کر اسکی پیٹھ تھپتھپائی اور سرگوشی کی کہ باقی سب تو ٹھیک ہے مگر یہ بتاؤ کہ تم کب سے فارن کوالیفائڈ ہوگئے؟ ... اس نے چٹکی بجاتے ہوئے آنکھ ماری اور جواب دیا "فارن کوالیفائڈ نہیں ! فوراً کوالیفائڈ .. فوراً فوراً کوالیفائڈ " ہم دونوں نے قہقہہ مارا اور کالج سے باہر آگئے. آج سوچتا ہوں کہ اس نے اتنے پروفیشنل اسٹوڈنٹس کو بناء تیاری اسلئے پڑھا لیا تھا کہ کمپیوٹرز کی تعلیم میں اسکی بنیاد مظبوط تھی. یہی وجہ تھی کہ اس نے اس سبق کو بھی نہایت تیزی سے سمجھ لیا جسے فقط دس منٹ پڑھا تھا. کم و بیش یہی معاملہ علم کے ہر شعبے میں ہے. جو احباب ادب کی کسی ایک بھی صنف کی تعلیم یا اس سے شغف رکھتے ہیں. ان کے لئے ادب کی دیگر اصناف کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے. اسی طرح جب آپ دین کی بنیادی تعلیم میں پختہ ہوجاتے ہیں تو دیگر دینی مسائل کو سمجھنا اور اس پر موجود آراء کا تقابل بھی نسبتاً آسان ہوجاتا ہے. میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ آپ کوئی مجتہد بن جائیں گے. ایسا سمجھنا تو سراسر حماقت ہے. مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر قران حکیم، اصول الفقہ، اصول الحدیث وغیرہ کی بنیادی تعلیم آپ کو حاصل ہو تو کسی عام فرد سے دس گنا زیادہ تیزی و گہرائی سے آپ دین کے تفصیلی موضوعات کو سمجھ پاتے ہیں اور مجتہدین یا فقہاء کی آراء کا فہم حاصل کرپاتے ہیں. میرا احساس ہے کہ اگر اخلاص نیت ہو تو جس بنیادی تعلیم کا میں ذکر کررہا ہوں وہ چھ مہینے یا سال میں حاصل کی جاسکتی ہے. ہم سب جو ساری زندگی پوری تگ و دو سے سائنس، فلسفے، لسانیات، معاشیات وغیرہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں. کاش کہ ہمیں یہ توفیق بھی ہو کہ زندگی کا ایک سال یا چھ مہینہ ہی پورے اخلاص سے دین کی بنیادوں کو سیکھنے میں صرف کرسکیں. 
.
 ====عظیم نامہ====

Monday, 10 April 2017

فیس بک ری ایکشن


فیس بک ری ایکشن



ایک آدمی تھا جو کسی کے جنازے پر جاتا تو زور زور سے ہنسنے لگتا. 
ایک عورت تھی جو کسی کی اولاد پیدا ہونے پر جاتی تو مبارکباد کی بجائے صدمے سے رونے لگتی. 
ایک لڑکا تھا جو کسی کو اچھی بات کہتے سنتا تو غصہ سے آگ بگولہ ہوجاتا.
ایک لڑکی تھی جو کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھتی تو اس پر خوب واہ واہ کرتی. 
.
 یہ پڑھ کر کچھ عجیب سا محسوس ہوا؟ کچھ احمقانہ سا لگا؟ تھوڑی حیرت سی ہوئی؟ مذکورہ افراد کچھ نفسیاتی سے لگے؟
.
 بلکل ایسا ہی ایک فیس بک کے لکھاری کو محسوس ہوتا ہے، جس کی کسی تکلیف دہ تحریر پر کوئی قاری ہنسنے والا تاثر (فیس بک ری ایکشن) دیتا ہے. یا اس کی کسی مزاح سے مزین تحریر پر رونے والا تاثر (فیس بک ری ایکشن) دے جاتا ہے. یا اس کی کسی اصلاحی تحریر پر غصہ والا تاثر (فیس بک ری ایکشن) چھوڑ جاتا ہے. یا پھر کسی ناپسندیدہ شے کے بیان والی تحریر پر واہ واہ کرنے والا تاثر (فیس بک ری ایکشن) دے ڈالتا ہے. 
.
 فیس بک نے یہ تاثرات لائیک کے ساتھ ساتھ اسلئے شامل کئے تھے کہ لوگ اسکے ذریعے اپنے جذبات کا درست اظہار کرسکیں مگر کچھ سجن ساتھی ایسے بھی ہیں جو ان کا ایسا الٹا استعمال کرتے ہیں کہ بندہ ورطہ حیرت میں غرق ہوئے سر پکڑ کر بیٹھ جائے. 
.
او کون لوگ ہو تسی ؟ ! 😎
.
 ====عظیم نامہ====

Sunday, 9 April 2017

ذرا مشکل


ذرا مشکل



تنقید بہت آسان ... تعریف ذرا مشکل

تکفیر بہت آسان ... اصلاح ذرا مشکل
۔
باتیں بنانا بہت آسان .. عملی اقدام ذرا مشکل 
مسائل پر رونا بہت آسان .. انہیں حل کرنا ذرا مشکل
۔
غلط کیا ہے؟ صرف یہ جان لینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ 
غلط کو صحیح کرنے کی کوشش سے کچھ بدلتا ہے۔ 
روشنی کی ایک ننھی سی کرن اندھیرے کی دبیز چادر کو چاک کرسکتی ہے۔
.. مگر اس کیلئے شمع کو خود جلنا ہوگا
ایک ننھا سا پودا پتھریلی زمین کا سینہ چاک کرسکتا ہے
.. مگر اس کیلئے بیج کو دفن ہونا ہوگا  
-
کہتے ہیں کہ اک روز سورج نے اہل زمیں سے پوچھا "میرے بعد اس جہان کو کون روشن کرے گا؟" 
ایک ٹمٹماتا چراغ بولا "میں کوشش کروں گا"
۔
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے ۔۔
۔
 ====عظیم نامہ====