پلیس ایبو افیکٹ (Placebo Effect)
.میں ایک ایسی بین الاقوامی نمائندہ ریسرچ کمپنی کیلئے کام کرتا ہوں، جو دنیا بھر کی نئی آنے والی ادویات کے تجربات یعنی "کلینیکل ٹرائلز" میں معاونت فراہم کرتی ہے. کسی بھی نئی دوا کو مارکیٹ میں لانے سے قبل جانوروں پر آزمایا جاتا ہے. اس کے ممکنہ سائیڈ افیکٹس سمجھے جاتے ہیں. پھر جب وہ کسی درجے محفوظ قرار پائے تو انسانوں میں سے معاوضے کے بدلے کچھ رضاکاروں پر اس دوا کو مختلف طریقوں سے آزمایا جاتا ہے. اور کئی مزید مراحل کے بعد یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اس دوا کو عام خریدار کیلئے مارکیٹ میں بھیجا جائے یا مسترد کردیا جائے. ان ہی تجربات کے دوران ایک طریق جو بیماری کو ٹھیک کرنے کیلئے یا اس کی نوعیت سمجھنے کیلئے اختیار کیا جاتا ہے اسے ہم "پلیس ایبو افیکٹ" کے نام سے موسوم کرتے ہیں.
.
"پلیس ایبو افیکٹ" بڑی دلچسپ شے ہے. درحقیقت یہ مریض کو بناء دوا دیئے صرف اس کی نفسیات سے کھیل کر اسے ٹھیک کرنے کی ایک کوشش ہے. "پلیس ایبو افیکٹ" کے تحت ڈاکٹر مریض کو ایک دوا تجویز کرتا ہے اور اس دوا کی افادیت پر لیکچر دے کر مریض کا اس دوا پر اعتماد قائم کردیتا ہے. مگر جو شے وہ اسے دوا کے نام پر دیتا ہے وہ درحقیقت دوا نہیں ہوتی ! بلکہ صرف دوا کے بہروپ میں میٹھی پھیکی گولی ہوتی ہے. مریض اسے اس اعتماد سے استعمال کرتا ہے کہ یہ اسکی بیماری جیسے شوگر، بلڈ پریشر، ڈپریشن وغیرہ کیلئے بہت آزمودہ اور قیمتی دوا ہے. بنیادی طور پر مریض کو بیوقوف بنایا جاتا ہے. مزیدار بات یہ ہے کہ آدھے مریضوں کا یہی اعتماد انہیں ٹھیک کردیتا ہے اور وہ کچھ ہی دنوں میں بھلے چنگے ہوجاتے ہیں. اس سے کچھ لوگ یہ بھی نتیجہ نکالتے ہیں کہ اگر بندہ ٹھیک ہونے پر یقین کرلے تو بہت سی بیماریاں خود ہی رفوچکر ہونے لگتی ہیں. ہمارے یہاں ہومیو پیتھک ادویات میں بھی کئی بار اسی "پلیس ایبو افیکٹ" کا مریض پر استعمال کیا جاتا ہے.
.
یہ تو ہوگئی کچھ علمی بات مگر اب اپنی توجہ اپنے اردگرد پھیلے ان واقعات کی جانب کیجیئے جس میں لوگ قسم کھا کھا کر یقین دلاتے ہیں کہ فلاں گاؤں کے بابا ایک خاص مٹی کھانے کو دیتے ہیں جس سے بیماری دور ہوجاتی ہے. یا فلاں پیر صاحب اپنے گھر کے کنویں میں غوطہ دیتے ہیں تو بیماری دفع ہوجاتی ہے. یا فلاں جھیل کی کیچڑ مل لینے سے بندہ ٹھیک ہوجاتا ہے. آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے جاننے والے قران رسول کی قسمیں کھا کر شفاء کی داستان سنا رہے ہوتے ہیں. آپ کو رنگ برنگی توجیہات پیش کرتے ہیں کہ اس مٹی کیچڑ میں خاص کیمکلز شامل ہیں یا فلاں بزرگ کا تبرک ہے وغیرہ. ان میں سے سب نہیں تو اکثر درحقیقت اسی "پلیس ایبو افیکٹ" کا شاخسانہ ہے. پہلے لوگوں کے اندر اس مٹی، پانی یا کیچڑ کے بارے میں شہرت ہوتی ہے، پھر کچھ شفاء کے قصے سنا کر آپ کا اعتماد قائم کیا جاتا ہے اور پھر بلآخر آپ بھی اپنے علاج کو راضی ہوجاتے ہیں. "پلیس ایبو افیکٹ" کے تحت نصف لوگ ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں اور جو نہیں ہوتے وہ خاموش رہتے ہیں. یوں دھندہ چلتا رہتا ہے. کچھ اتائی حکیم یا پیر فقیر تو شروع میں یہ تلقین بھی کردیتے ہیں کہ اگر شفاء ہونے کا پہلے سے یقین نہیں ہے تو کوئی فائدہ نہیں. بقول ایک مزاح نگار کہ 'ہمیں غصہ اس بات پر قطعاً نہیں ہے کہ لوگ پیچش کا علاج مٹی کھا کر کرتے ہیں، ہمیں غصہ تو اس بات پر ہے کہ وہ ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں.'
.
====عظیم نامہ====
No comments:
Post a Comment