نیکی یہ بھی ہے
کچھ
دن قبل ایک چھوٹے سے مقامی 'فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ' میں کھانا کھانے گیا. حسب
معمول وہی پاکستانی لڑکا کھانا پکاتا اور پیش کرتا نظر آیا. مگر آج اس کے
چہرے پر شدید تھکن تھی. میں کچھ لمحے اس کا تھکن سے چور چہرہ دیکھتا رہا.
پھر اسے محبت سے مخاطب کیا. میں نے اسے بتایا کہ میں ایک زمانے سے اسے اسی
ریسٹورنٹ میں جانفشانی سے کام کرتا دیکھ رہا ہوں اور اس کی محنت و صلاحیت
کا خود کو قائل پاتا ہوں. میں نے اعتراف کیا کہ علاقے بھر میں سب سے اچھا
پیزا اور رول اسی کے پاس ملتا ہے. صرف اتنا ہی نہیں
بلکہ اسکی کسٹمر سروس بھی بہت اعلی ہے. وہ یہ سب سن کر کبھی مسکراتا اور
کبھی شرماتا رہا. اب اس کا چہرہ دمک رہا تھا اور جیسے تھکاوٹ چہرے سے رخصت
ہوچکی تھی. (دھیان رہے کہ میری یہ تعریف بناوٹی نہیں تھی بلکہ میں فی
الواقع اس کا دل میں معترف تھا، بس اظہار آج کیا تھا)
.
اسی طرح چند روز پہلے میں ایک علاقے کی دکان سے کچھ پھل خرید رہا تھا. کاونٹر کے پیچھے بیٹھا وہ افغانی شخص خالی آنکھوں سے دیوار کو تک رہا تھا. میں نے اسے سلام کرنے کے بعد خیریت پوچھتے ہوئے اس سے دریافت کیا کہ آج وہ اتنا بجھا بجھا کیوں ہے؟ وہ پہلے جھجھکا مگر پھر جیسے پھٹ پڑا. اس نے بتایا کہ کس طرح اسے اس کی محبت نے دھوکہ دے دیا اور اب اسے جینے کی کوئی چاہ محسوس نہیں ہوتی. وہ خود کو گم کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ کام کرتا ہے مگر یہ اذیت اسکی جان نہیں چھوڑتی. اس نے اپنے موبائل میں سے ایک تصویر نکالی جس میں ایک نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا. اس نے پوچھا کہ جانتے ہو یہ کون ہے؟ میں نے کہا نہیں میں نہیں جانتا. اس نے دکھی لہجے میں کہا کہ یہ میں ہوں ! صرف دو سال پہلے کی تصویر میں. اب اس غم نے مجھے بوڑھا کردیا ہے. میرا چہرہ زرد ہوگیا ہے اور بال تیزی سے گررہے ہیں. وہ اپنے دل کا حال کسی مشین کی مانند سنائے جارہا تھا. جیسے اس نے کہنے کیلئے بہت کچھ جمع کررکھا ہو مگر کسی کو اسے سننا گوارہ نہ ہو. میں خاموشی سے اسے سنتا رہا اور دبے دبے لفظوں میں اس کا حوصلہ بڑھاتا رہا. اسے بتایا کہ وہ اس دھوکہ کھانے میں تنہا نہیں ہے. کتنے ہی مرد عورتوں سے اور عورتیں مردوں سے یونہی دھوکہ کھا بیٹھتی ہیں. اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ایک بیوفا محبت کیلئے بہت سی سچی محبتوں کو بھلا بیٹھیں. خدا، رسول، والدین، بھائی بہن، دوست - یہ سب بھی تو محبت ہی کے روپ ہیں؟ وہ اپنا دکھڑا مجھ سے کہہ کر اب کچھ ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا.
.
دوستو نیکی یہی نہیں ہے کہ آپ بس لوگوں کو مذہبی عبادات جیسے نماز روزے کی جانب بلاتے رہیں. بلکہ نیکی یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کے کام آئیں. صدقہ یہی نہیں ہے کہ آپ بکرا ذبح کردیں یا فقیروں میں خیرات بانٹ دیں بلکہ صدقہ یہ بھی ہے کہ آپ کسی دکھی کو حوصلہ دے دیں. ہم سب کے اردگرد ایسے بیشمار مواقع ہوا کرتے ہیں، جب لوگوں کو ہماری ضرورت ہوتی ہے. یقین کیجیئے اس نفسا نفسی کے دور میں آج لوگوں کو مثبت انرجی کی جتنی ضرورت ہے، اتنی مال کی نہیں ہے. لوگوں سے مسکرا کر ملیں، انہیں حوصلہ دیں، ان کی بات کو بغور سنیں. یہی بہت بڑی نیکی ہے.
.
====عظیم نامہ====
.
اسی طرح چند روز پہلے میں ایک علاقے کی دکان سے کچھ پھل خرید رہا تھا. کاونٹر کے پیچھے بیٹھا وہ افغانی شخص خالی آنکھوں سے دیوار کو تک رہا تھا. میں نے اسے سلام کرنے کے بعد خیریت پوچھتے ہوئے اس سے دریافت کیا کہ آج وہ اتنا بجھا بجھا کیوں ہے؟ وہ پہلے جھجھکا مگر پھر جیسے پھٹ پڑا. اس نے بتایا کہ کس طرح اسے اس کی محبت نے دھوکہ دے دیا اور اب اسے جینے کی کوئی چاہ محسوس نہیں ہوتی. وہ خود کو گم کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ کام کرتا ہے مگر یہ اذیت اسکی جان نہیں چھوڑتی. اس نے اپنے موبائل میں سے ایک تصویر نکالی جس میں ایک نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا. اس نے پوچھا کہ جانتے ہو یہ کون ہے؟ میں نے کہا نہیں میں نہیں جانتا. اس نے دکھی لہجے میں کہا کہ یہ میں ہوں ! صرف دو سال پہلے کی تصویر میں. اب اس غم نے مجھے بوڑھا کردیا ہے. میرا چہرہ زرد ہوگیا ہے اور بال تیزی سے گررہے ہیں. وہ اپنے دل کا حال کسی مشین کی مانند سنائے جارہا تھا. جیسے اس نے کہنے کیلئے بہت کچھ جمع کررکھا ہو مگر کسی کو اسے سننا گوارہ نہ ہو. میں خاموشی سے اسے سنتا رہا اور دبے دبے لفظوں میں اس کا حوصلہ بڑھاتا رہا. اسے بتایا کہ وہ اس دھوکہ کھانے میں تنہا نہیں ہے. کتنے ہی مرد عورتوں سے اور عورتیں مردوں سے یونہی دھوکہ کھا بیٹھتی ہیں. اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ایک بیوفا محبت کیلئے بہت سی سچی محبتوں کو بھلا بیٹھیں. خدا، رسول، والدین، بھائی بہن، دوست - یہ سب بھی تو محبت ہی کے روپ ہیں؟ وہ اپنا دکھڑا مجھ سے کہہ کر اب کچھ ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا.
.
دوستو نیکی یہی نہیں ہے کہ آپ بس لوگوں کو مذہبی عبادات جیسے نماز روزے کی جانب بلاتے رہیں. بلکہ نیکی یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کے کام آئیں. صدقہ یہی نہیں ہے کہ آپ بکرا ذبح کردیں یا فقیروں میں خیرات بانٹ دیں بلکہ صدقہ یہ بھی ہے کہ آپ کسی دکھی کو حوصلہ دے دیں. ہم سب کے اردگرد ایسے بیشمار مواقع ہوا کرتے ہیں، جب لوگوں کو ہماری ضرورت ہوتی ہے. یقین کیجیئے اس نفسا نفسی کے دور میں آج لوگوں کو مثبت انرجی کی جتنی ضرورت ہے، اتنی مال کی نہیں ہے. لوگوں سے مسکرا کر ملیں، انہیں حوصلہ دیں، ان کی بات کو بغور سنیں. یہی بہت بڑی نیکی ہے.
.
====عظیم نامہ====
No comments:
Post a Comment