الجیرین
انگلینڈ میں ساری دنیا کی اقوام آباد ہیں. لہٰذا مختلف ممالک کے لوگوں کے
متفرق مزاج دیکھنے اور سمجھنے کو ملتے ہیں. مسلم ممالک میں 'الجیریا' کے
لوگوں میں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ ان سب میں غضب کا غصہ
ہوتا ہے. ہم پاکستانی آپس میں ازراہ مذاق انہیں پٹھان دماغ کہا کرتے ہیں.
وجہ ظاہر ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں سب سے زیادہ غصہ پٹھان برادری میں نظر
آتا ہے. الجیریا کے یہ افراد انسان دوست، مہمان نواز اور دیگر خوبیوں کے
حامل ہیں. مگر ان کا غصہ اکثر ان کی خوبیوں پر پانی پھیر دیتا
ہے. مزیدار بات یہ ہے کہ اپنی اس اجتماعی خامی کا اعتراف بھی یہ کرتے
ہیں.مگر کوشش کے باوجود اس مزاج کی گرمی سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتے. آج
ایک الجیرین بھائی سے گپ شپ لگی جو ایک زمانے سے انگلینڈ ہی میں مقیم ہے.
اس نے بتایا کہ کس طرح ابتدائی سالوں میں اس کا ہر روز کسی نہ کسی گورے یا
کالے سے مارپیٹ ہوتی. وجہ وہی غصہ تھا. وہ بتانے لگا کہ ہم سب اس کمزوری کی
وجہ سے اپنی بات صحیح سے بیان نہیں کر پاتے. مکالمے، گفتگو یا اپنی بات
بتاتے ہوئے ہمارا پارہ چڑھ جاتا ہے اور اکثر دماغ اتنا گرم ہوجاتا ہے کہ جو
کہنا چاہتے ہیں وہ کہہ نہیں پاتے.
.
میرا یہ الجیرین بھائی اپنی اس خامی پر قابو پانے میں اتنا سنجیدہ ہے کہ وہ ماہرین نفسیات کے پاس چلا گیا اور ان سے اس قومی مزاج پر گفتگو کی. نفسیات کے ڈاکٹرز نے اسے جو وجہ بتائی، وہ وجہ اسے بالکل درست محسوس ہوئی. وجہ یہ ہے کہ الجیریا میں عموماً بچوں کی تربیت اس انداز میں ہوتی ہے کہ انہیں اپنی رائے کا اظہار نہیں کرنے دیا جاتا. کبھی آنکھیں دیکھا کر، کبھی ڈانٹ کر اور کبھی مار کر ان کی رائے کو کچل دیا جاتا ہے. سوال پوچھیں تو اس سوال کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی. وہ بتا رہا تھا کہ کس طرح بچپن میں جب وہ اپنے والد سے کوئی سوال کرتا تو وہ اسے یکسر نظر انداز کردیتے جیسے سنا ہی نہ ہو، وہ دوبارہ پوچھتا، تیسری بار پوچھتا تو اسے اتنے غصے سے گھورتے کہ وہ سہم کر خاموش ہو جاتا. باپ کو گلے لگانا یا ماں سے لپٹ جانا معیوب تھا. والد کے انتقال کے وقت جب وہ تکلیف میں آئے تب بھی اس کے بڑے بھائی میں انہیں تھامنے کی ہمت نہ ہوئی اور وہ بس صدمے سے اپنا ہی منہ نوچتا ہوا گھر سے بھاگ گیا. رائے کچلنے، جواب نہ ملنے اور اپنوں کے ہاتھوں مسلسل بے عزتی کا یہ غصہ بچپن سے انسان کے اندر پلتا رہتا ہے، بغاوت بن کر کسی سلگتے انگارے کی مانند دہکتا رہتا ہے. اسی حال میں وہ جوان ہوتا ہے اور یوں اس غصے کے مرض کا شکار ہوجاتا ہے.
.
میں اسکی اس تکلیف دہ روداد کو سنتا رہا اور کچھ اپنے تجربات بھی بتاتا رہا. سوچتا ہوں کہ یہ مسئلہ شائد صرف الجیریا کا نہیں بلکہ پاکستان کا بھی ہے. بلکہ اپنی اصل میں تو یہ مسئلہ کسی قومیت کا ہے ہی نہیں بلکہ انسانی نفسیات کا ہے. جہاں بھی انسانی نفسیات کو کچلا جائے گا وہاں ایسے ہی تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے. آپ اگر ایک سلیم المزاج انسان ہے تو فیصلہ کریں کہ اپنی اولاد، اپنی بیوی، اپنے گھروالو کی عزت نفس کو مسلنے نہیں دیں گے. ان سے مشاورت کریں گے. ان کی رائے کو اہمیت دیں گے. تب ہی بدلاؤ ممکن ہے. اگر آپ کو شکایت ہے کہ آپ کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہیئے تھا تو ٹھان لیں کہ آپ اپنی نسل کو اس محرومی سے گزرنے نہیں دیں گے. ان شاء اللہ
.
====عظیم نامہ====
.
میرا یہ الجیرین بھائی اپنی اس خامی پر قابو پانے میں اتنا سنجیدہ ہے کہ وہ ماہرین نفسیات کے پاس چلا گیا اور ان سے اس قومی مزاج پر گفتگو کی. نفسیات کے ڈاکٹرز نے اسے جو وجہ بتائی، وہ وجہ اسے بالکل درست محسوس ہوئی. وجہ یہ ہے کہ الجیریا میں عموماً بچوں کی تربیت اس انداز میں ہوتی ہے کہ انہیں اپنی رائے کا اظہار نہیں کرنے دیا جاتا. کبھی آنکھیں دیکھا کر، کبھی ڈانٹ کر اور کبھی مار کر ان کی رائے کو کچل دیا جاتا ہے. سوال پوچھیں تو اس سوال کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی. وہ بتا رہا تھا کہ کس طرح بچپن میں جب وہ اپنے والد سے کوئی سوال کرتا تو وہ اسے یکسر نظر انداز کردیتے جیسے سنا ہی نہ ہو، وہ دوبارہ پوچھتا، تیسری بار پوچھتا تو اسے اتنے غصے سے گھورتے کہ وہ سہم کر خاموش ہو جاتا. باپ کو گلے لگانا یا ماں سے لپٹ جانا معیوب تھا. والد کے انتقال کے وقت جب وہ تکلیف میں آئے تب بھی اس کے بڑے بھائی میں انہیں تھامنے کی ہمت نہ ہوئی اور وہ بس صدمے سے اپنا ہی منہ نوچتا ہوا گھر سے بھاگ گیا. رائے کچلنے، جواب نہ ملنے اور اپنوں کے ہاتھوں مسلسل بے عزتی کا یہ غصہ بچپن سے انسان کے اندر پلتا رہتا ہے، بغاوت بن کر کسی سلگتے انگارے کی مانند دہکتا رہتا ہے. اسی حال میں وہ جوان ہوتا ہے اور یوں اس غصے کے مرض کا شکار ہوجاتا ہے.
.
میں اسکی اس تکلیف دہ روداد کو سنتا رہا اور کچھ اپنے تجربات بھی بتاتا رہا. سوچتا ہوں کہ یہ مسئلہ شائد صرف الجیریا کا نہیں بلکہ پاکستان کا بھی ہے. بلکہ اپنی اصل میں تو یہ مسئلہ کسی قومیت کا ہے ہی نہیں بلکہ انسانی نفسیات کا ہے. جہاں بھی انسانی نفسیات کو کچلا جائے گا وہاں ایسے ہی تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے. آپ اگر ایک سلیم المزاج انسان ہے تو فیصلہ کریں کہ اپنی اولاد، اپنی بیوی، اپنے گھروالو کی عزت نفس کو مسلنے نہیں دیں گے. ان سے مشاورت کریں گے. ان کی رائے کو اہمیت دیں گے. تب ہی بدلاؤ ممکن ہے. اگر آپ کو شکایت ہے کہ آپ کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہیئے تھا تو ٹھان لیں کہ آپ اپنی نسل کو اس محرومی سے گزرنے نہیں دیں گے. ان شاء اللہ
.
====عظیم نامہ====
No comments:
Post a Comment