Saturday, 26 September 2020

داڑھی کی مقدار

 داڑھی رکھنے  سے متعلق اہل علم میں مختلف آراء رہی ہیں

۔

کچھ کے نزدیک داڑھی رکھنا فرض یا واجب ہے

۔

کچھ کے نزدیک سنت موکدہ ہے

۔

کچھ کے نزدیک تمام انبیاء کی سنت ہے

۔

کچھ کے نزدیک رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق و محبت کا اظہار ہے، لہذا مستحب ہے

۔

کچھ کے نزدیک یہ فقط قبائلی معاشرے کی روایت ہے

۔

ہر ایک گروہ قران، حدیث، تاریخ اور عقل سے اپنا استدلال پیش کرتا نظر آتا ہے۔ رائے جو بھی آپ کو قرین قیاس لگے، اس حقیقت کو جھٹلانا ناممکن ہے کہ تمام معلوم انبیاء، کم و بیش تمام صحابہ اکرام رض کے چہرے داڑھیوں سے مزین تھے۔ اس میں شک نہیں کہ دشمنان اسلام کی بھی ایک بڑی تعداد روایتی طور داڑھی رکھتی تھی مگر ان میں ایسی مثالیں بھی مل جاتی ہیں، جہاں فرد یا مخصوص علاقائی گروہ نے داڑھی مونڈھ رکھی تھی۔ پھر آج اگر کوئی داڑھی رکھتا ہے تو وہ ظاہر ہے نسبت رسول کو یاد کرکے رکھتا ہے۔ ابوجہل یا دیگر کی سنت اس کے پیش نظر نہیں ہوتی۔ گویا کم سے کم یہ اجر تو پکا ہے کہ امتی نے اپنے محبوب آقا کی  ظاہری پیروی کی کوشش کی۔ مانا کہ باطنی یا اخلاقی پیروی اہم تر ہے مگر اسے بنیاد بناکر ظاہری پیروی کو معمولی گرداننا ہماری احقر سمجھ میں کوئی مناسب بات نہیں۔ 

۔

داڑھی کی مقدار کتنی ہو؟ یہ دوسرا سوال ہے۔ اس کا ایک سادہ جواب تو یہ ہے کہ مشت بھر ہو ، کیونکہ یہی سنت سے ثابت ہے. مگر سوال یہ ہے کہ کم از کم کا معیار کیا ہو؟ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ مونچھیں پست کرو اور داڑھی چھوڑ دو۔ مونچھوں کی پستی سے کچھ نے پوری مونچھوں کو کتر ڈالا اور کچھ نے مونڈھ کر بالکل ہی چکنا کردیا۔ مگر کیا مونچھوں کی پستی سے واقعی یہی دونوں صورتیں مراد ہیں؟ ہماری سمجھ کے مطابق ضروری نہیں۔ بلکہ ہونٹ سے اوپر کا حصہ بس اس قدر کترا ہو کہ پانی پیتے یا کھانا کھاتے صفائی کا اہتمام ہوسکے۔ اطراف میں مونچھیں جتنی بڑی ہوں، اجازت ہے۔ حضرت عمر رض کی مونچھیں صرف اوپر کی جانب سے پست تھیں، باقی اطراف میں خوب لمبی اور گھنی تھیں، جنہیں حالت جلال میں آپ تائو بھی دیتے تھے۔ ایسی ہی اور مثالیں بھی موجود ہیں۔ حدیث کا دوسرا حصہ کہتا ہے کہ داڑھی کو چھوڑ دو یعنی بڑھنے دو۔ اس سے مراد ایک گروہ نے یہ لی کہ اپنی داڑھی کاٹنا ہی ترک کردیا اور یوں طویل داڑھی اگا لی۔ اس داڑھی کو رکھ کر نفیس لگنا اور گنجلک ہونے سے بچانا خاصہ کٹھن ہے۔ دوسرے گروہ نے حج کے موقع پر صحابی رض کے اس عمل کو دلیل بنایا جس کے مطابق انہوں نے داڑھی کو پوری مٹھی میں تھام کر بقیہ باہر داڑھی کے بالوں کو کتر ڈالا۔ ان کا نتیجہ یہ ہے کہ داڑھی چھوڑنے سے مراد اسے مشت بھر چھوڑنا ہے اور باقی پاکیزگی کیلئے کتر ڈالنا ہے۔ تیسرے گروہ نے کہا کہ اس سے فقط اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مشت سے زیادہ داڑھی نہیں رکھنی چاہیئے۔ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس سے کم نہیں رکھی جاسکتی۔ گویا داڑھی چھوڑنے سے مراد یہ ہے کہ اتنے بال اگا لیئے جائیں، جنہیں دیکھ کر داڑھی کہا جاسکے۔ پھر بھلے وہ مشت بھر ہوں یا اس سے کم۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ برصغیر پاک و ہند سے باہر نکلتے ہیں تو آپ کو بڑے بڑے امام چھوٹی چھوٹی داڑھیاں سجائے نظر آتے ہیں۔

۔

اب تک دو باتیں ہم نے زکر کی۔ پہلی یہ کہ داڑھی رکھنے پر کیا معروف آراء ہیں؟ اور دوسری یہ کہ داڑھی کی مقدار کتنی ہو؟، اس پر کیا اختلاف موجود ہے؟ اب ایک تیسری بات یہ کہ داڑھی آخر ہوتی کیا ہے ؟ ایک گروہ کے مطابق داڑھی ان بالوں کا نام ہے جو ٹھوڑی اور جبڑے پر اگائے جاتے ہیں۔ دوسرے گروہ کے مطابق یہ ان بالوں کا نام ہے جو ٹھوڑی پر نکلتے ہیں۔ گویا جبڑے پر نکلے بال ان احباب کے نزدیک داڑھی کی شرط نہیں۔ لہذا یہ فرینچ گوٹی کو بھی داڑھی مانتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ دوسری رائے بہت کمزور اور ناقابل قبول ہے۔ گویا آپ اگر ہماری رائے میں دلچسپی رکھتے ہوں تو "کم از کم" کے اعتبار سے اب تک کی گفتگو کا خلاصہ ہماری دانست میں کچھ یوں ہے کہ داڑھی رکھنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، امتی کا رکھنا نسبت کا اظہار ہے لہذا کم سے کم مستحب کے درجے میں ہے (گو اس سے زیادہ کا بھی امکان ہے)۔ داڑھی مشت بھر رکھنا کم از کم افضل ہے۔ داڑھی کی مقدار کم از کم ٹھوڑی اور جبڑے پر اتنے بالوں کا ہونا ہے، جنہیں دیکھنے والا داڑھی ہی سمجھے (چند دن کا بڑھا شیو اور داڑھی میں ہر کوئی باآسانی فرق کرلیتا ہے)

۔

====عظیم نامہ====

۔

(نوٹ: میں اسوقت جہاز میں بیٹھا یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ استنبول روانگی ہے، خیالات ذہن میں آئے تو لکھ ڈالے۔ سفر کے سبب کمنٹس میں جوابات دینا شائد ممکن نا ہوسکے۔ پیشگی معذرت)

Tuesday, 31 December 2019

تعارف

تعارف  

 "ڈوبتے سورج نے اہل زمین سے پوچھا ، "میرے بعد اس دنیا کو کون روشن کرے گا ؟

ایک ٹمٹماتا چراغ بولا ، میں کوشش کروں گا


میرا نام عظیم الرحمٰن ہے. میں نہ تو عالم ہوں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ میرا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ 'طالب علم' . میں ایک معمولی طالبعلم ہوں کتاب الله قران کا اور دین الله اسلام کا

علماء کے قحط اور علمی انحطاط کے اس دور میں جب اجتہاد و تحقیق اجنبی الفاظ بن گۓ اور سوچنا جرم قرار پایا ہے. یہ امر لازم ہوگیا ہے کہ قران حکیم اور جدید علوم دونوں  سے آگاہی رکھنے والے افراد سامنے آکر یہ جائزہ لیں کہ قران پاک نئی تحقیقات کی روشنی میں کیا مطالب فراہم کر رہا ہے ؟
عبدالله ابن عباس رضی الله عنہ کو مفسر اعظم تسلیم کیا جاتا ہے، جب آپ کے انتقال کے ایام قریب تھے تو لوگوں نے استفسار کیا کہ اے عبداللہ ! آپ کے بعد کون ہمیں قران کے خزائن بتاۓ گا ؟ کون قران کی تفسیر کرے گا ؟ اس موقع پر آپ رضی الله عنہ نے وہ تاریخ ساز الفاظ کہے جو وقت اور اذہان دونوں پر ثبت ہو گئے. آپ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ

"قران ہر آنے والے دور میں اپنی تفسیر خود فراہم کرتا ہے"

المیہ یہ ہے کہ ہمارے علماء کی ایک کثیر تعداد نے خود کو تقلید اور تفرقے کے خول میں قید کرلیا. دنیا اور دین کے علوم میں فرق کرکے ایسی تخصیص کی کہ جدید فلسفوں سے بلکل نابلد ہو گئے. بقول اقبال

حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایت میں کھو گئی


یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ مسلم نوجوان نسل میں مقبول اسکالروں کی اکثریت آج روایتی مدرسوں کے فارغ التحصیل نہیں ہیں. ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر جاوید احمد غامدی تک، ڈاکٹر ذاکر نائیک سے لے کر شیخ احمد دیدات تک، مولانا مودودی سے لیکر پرفیسر احمد رفیق تک، یاسر قاضی سے لیکر نعمان علی خان تک. یہ سب اور بہت سے مزید مقبول اشخاص جو مسلم نسل کی ذہن سازی کر رہے ہیں وہ سب جدید علوم پر دسترس رکھتے ہیں
روایتی علماء کا بدقسمتی سے یہ حال ہے کہ انہیں بخاری شریف تو زبانی یاد ہوگی، مثنوی کے دقیق نقطے تو وہ با آسانی بیان کر سکتے ہونگے مگر جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات سے وہ ربط پیدا نہیں کرسکتے. وہ نہیں جانتے کہ چارلس ڈارون ، کارل مارکس ، رچرڈ ڈاکن کون ہیں ؟ نظریہ ارتقاء کیا بلا ہے ، تھیوری آف ریلٹوٹی کس چڑیا کا نام ہے ؟ لہٰذا انکا ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ ایسے کفریہ سوال نہ پوچھو، اسلام سے باہر ہو جاؤ گے. نتیجہ الحاد اور شکوک کی صورت میں برآمد ہوا
یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسا احقر طالبعلم اپنی تمام تر ناقص العلمی کے اعتراف کے باوجود یہ کاوش کرنے پر مجبور ہے کہ ان جدید فلسفیانہ شکوک کے جوابات دے، دین کی گم گشتہ حکمت کو کھوجنے کی کوشش کرے اور پھر اہل علم کو اپنی اس کوشش پر علمی تنقید و اصلاح کی دعوت دے. یہ بلاگ اسی کی کڑی ہے. میری اپنے رب سے دعا ہے کہ وہ اسے قبول کرے. آمین یا رب العالمین 

===عظیم نامہ====

Sunday, 29 September 2019

اسلام کا روایتی بیانیہ یا پھر جدید جوابی بیانیہ

اسلام کا روایتی بیانیہ یا پھر جدید جوابی بیانیہ ؟ کون سی فکر اسلام کی درست ترجمان ہے؟ ==================================================== . اگر اس جوابی بیانیہ سے آپ کی مراد وہ فکری تحریک ہے جو آج رائج و مقبول روایتی اسلامی فکر کے مقابل ہر دوسرے مذہبی موضوع کو للکار رہی ہے، اسے نئی تشریح فراہم کررہی ہے تو پھر یہ کوئی آسان سوال نہیں ہے. اس کا جواب کسی ایک کے مکمل اثبات و انکار میں دینا علمی دیانت کے خلاف ہوگا. میں حد سے حد آپ کو وہ زاویہ نظر دے سکتا جس سے میں خود اس موجودہ فکری کشمکش کو دیکھ پاتا ہوں. مگر اس سے پیشتر آپ کو ایک سادہ علمی نظریہ سمجھنا ہوگا. . مشہور جرمن فلسفی ہیگل کے فلسفہ سے ماخوز ایک نظریہ صاحبان دانش میں ہمیشہ معروف رہا ہے. اس نظریئے کے کی رو سے انسانی فکر کا سفر تھیسس (thesis) ، اینٹی تھیسس (antithesis) اور سینتھسس (synthesis) کے ذریعے اپنے شعوری مدارج طے کرتا آیا ہے. میں اسی فکر کو آج اپنے زاویہ نظر میں ڈھال کر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں. آسان الفاظ میں کسی موضوع پر سب سے پہلے ایک تھیسس پیش کیا جاتا ہے، جس میں اس موضوع کا بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہوتا ہے. اس بیانیہ (thesis) کو عقل عام و خاص قبول کرلیتے ہیں مگر جب ایک لمبا وقت اسے پیش کئے گزر جاتا ہے تو کچھ نئے وقتی تقاضے پیدا ہونے لگتے ہیں، کچھ اس فکر کی خامیاں نمایاں ہوتی ہیں، کچھ نئی تحقیقات سامنے آتی ہیں، کچھ نئے زاوئیے جنم لیتے ہیں. اب اس مقام پر ہونا تو یہ چاہیئے کہ ان تازہ دریافتوں کا خیر مقدم کیا جائے مگر انسانی تاریخ گواہ ہے کہ اکثر ایسا نہیں ہوتا. بلکہ اس روایتی بیانیہ سے افراد گہرے تقدس میں مبتلا ہوجاتے ہیں. وہ نہ صرف کسی نئی تحقیق کو قبول کرنے میں شدید تردد ظاہر کرتے ہیں بلکہ وہ سارا زور کسی ناقدانہ جدید سوچ کو کچلنے میں لگادیتے ہیں. اجتہاد کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور عقائد عقیدے کا لباس پہن لیتے ہیں. اس غیرفطری روک سے انسانوں میں ایک فکری بغاوت جنم لیتی ہے جو رستہ نہ پا کر اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہے مگر دم نہیں توڑتی بلکہ ہر گزرتا وقت اسے ایک خاموش طوفان بناتا رہتا ہے. بلاخر ایک وقت آتا ہے جب یہ بغاوت اس تھیسس (thesis) یعنی بیانیہ کے رد کی صورت میں برآمد ہوتی ہے. اسی رد کو اینٹی تھیسس (antithesis) کہا جاتا ہے. یہاں تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ چونکہ اس رد بیانیہ یعنی اینٹی تھیسس (antithesis) کو ایک زمانے تک زبردستی دبایا گیا ہوتا ہے لہٰذا اب اس کا ابھرنا ردعمل کی نفسیات کو ساتھ لئے ہوئے ہوتا ہے. جہاں روایتی بیانیہ یعنی تھیسس (thesis) فکری جمود اور عقیدت کی چادر اوڑھ لینے کے بعد ایک انتہا کی صورت اختیار کر چکا ہوتا ہے ، وہاں یہ جوابی بیانیہ (antithesis) یعنی اینٹی تھیسس اپنے آپ میں ایک دوسری انتہا لئے ہوئے آتا ہے اور اس کے داعی بھی اکثر نئے نتائج کی لاشعوری تقلید اپنالیتے ہیں. . اب اس تھیسس (thesis) اور اینٹی تھیسس (antithesis) یا بیانیہ اور جوابی بیانیہ کی فکری کشتی ہوتی ہے جو ایک لمبا عرصہ جاری رہتی ہے. اس گھمسان کی لڑائی میں بہت ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے جو نہ صرف فریقین کیلئے اذیت کا سبب بنتی ہے بلکہ دیکھنے والوں پر بھی تھرتھراہٹ طاری رکھتی ہے. یہ خاموش ناظرین بیچارے بہت ہی قابل رحم ہوتے ہیں. ہوا کے جھونکوں کی طرح کبھی یہ ایک جانب قلابازی کھاتے ہیں تو کبھی کسی دوسرے کے زور بیان سے اس کی طرف لڑھکتے جاتے ہیں. آغاز میں اینٹی تھیسس (antithesis) کو بظاہر زیادہ کامیابی ہوتی نظر آتی ہے. جس کی بہت سی وجوہات ہیں. جیسے کچھ خاموش اقلیت روایتی بیانیہ (thesis) سے پہلے ہی ناراض بیٹھی ہوتی ہے. اس لئے وہ نئی فکر کا دل و جان سے خیر مقدم کرتی ہے. اسی طرح روایتی بیانیہ (thesis) کی خامیاں یا کچھ ناکامیاں .. جوابی بیانیہ (antithesis) پیش کرنے والے کے سامنے موجود ہوتی ہیں. جس کا وہ کھل کر فائدہ اٹھاتے ہیں. جب کے اسکے برعکس جوابی بیانیہ (antithesis) کی اپنی خامیاں اور ناکامیاں ابھی وقت کے امتحان سے نہ گزرنے کے سبب سامنے نہیں آئی ہوتیں. لہٰذا فطری طور پر آغاز میں اینٹی تھیسس (antithesis) یا جوابی بیانیہ ایک انقلابی سوچ کے طور پر نمودار ہوتا ہے. مگر جب اس علمی تصادم میں کچھ وقت گزر جاتا ہے تو اب بیانیہ (thesis) کے ساتھ ساتھ جوابی بیانیہ (antithesis) کی خامیاں بھی کھل کے سامنے آنے لگتی ہیں. پہلی بار یہ حاملین کو سمجھ آتا ہے کہ پیش کردہ تنقید یا فکر کے کئی حصے جزوی یا کلی طور پر غلط ہیں. یہی وہ مقام ہے جہاں کچھ اہل علم دونوں آراء میں تطبیق پیدا کرتے ہیں اور دونوں جانب کی مظبوط تر باتوں کو لے کر ایک مشترکہ بیانیہ پیش کردیتے ہیں. اسی مشترکہ بیانیہ کو سینتھیسس (synthesis) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے. اب یہ سینتھیسس (synthesis) جو تھیسس (thesis) اور اینٹی تھیسس (antithesis) دونوں کا نچوڑ اور علمی اعتبار سے افضل ہوتا ہے .. وقت گزرنے کے بعد پھر سے ایک نیا تھیس (thesis) بن جاتا ہے. پھر کوئی اینٹی تھیسس (antithesis) پیش کرتا ہے. پھر جنگ ہوتی ہے. پھر سینتھیسس (synthesis) نکالا جاتا ہے اور یوں انسانی فکر کا ارتقاء جاری رہتا ہے. . عزیزان من ، اس ساری تمہید و تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد فقط اتنا ہے کہ آپ بالغ نظر ہوکر اسلام کی مذہبی فکری تشکیل نو کو نگاہ بصیرت سے دیکھ سکیں. علامہ اقبال رح نے اسی لئے اپنے خطبات پر مشتمل واحد کتاب کا نام 'اسلام میں مذہبی افکار کی تعمیر نو' رکھا تھا. آج ہم جس دور میں زندہ ہیں، وہاں یہ فکری تصادم اپنی جولانیوں پر نظر آرہا ہے. جو اپنے آپ میں ایک عامی کیلئے نہایت تکلیف دہ عمل ہے. مگر اس صورت سے مایوس ہرگز نہ ہوں. جان لیں کہ آپ دو انتہاؤں میں سفر کر رہے ہیں ، آپ تھیسس (thesis) اور اینٹی تھیسس (antithesis) کے تصادم میں زندہ ہیں مگر ابھی سینتھیسس (synthesis) پیش ہونا ہے جو انشاللہ سراسر خیر کا پیش خیمہ ہوگا. جان لیں کہ آپ کا رب .. فرعون کے گھر میں آسیہ اور موسیٰ کو پروان چڑھاتا ہے. وہی ہے جو مردہ سے زندہ کو پیدا کرتا ہے اور شر سے بھی خیر کو برآمد کردیتا ہے. عقلمند وہ ہے جو دونوں فکری گروہوں کا غیر جانبداری سے جائزہ لیتا رہے. جو نہ روایتی فکر کو جہالت سمجھے اور نہ جدید فکر کو گالی دے. وقت کی کسوٹی جلد یا بدیر کھرے کو کھوٹے سے جدا کردے گی. روایتی بیانیہ سے منسلک دوستوں کو سمجھنا چاہیئے کہ اگر جدید تشریحات فاسد ہیں تو جلد ہی انکار حدیث یا معتزلہ جیسے فلسفوں کی طرح دم توڑ دیں گی. آپ بس ان کے موقف کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیں اور اگر غلط پائیں تو دلیل سے ان کی غلطی ثابت کرتے رہیئے. دوسری طرف جوابی بیانیہ سے منسلک احباب کو سمجھنا چاہیئے کہ جہاں آپ کو دلیل سے تنقید کی اجازت ہے ، وہاں مختلف موضوعات پر مسلمانوں کی پوری علمی روایت کیلئے تحقیر کا لب و لہجہ اپنانا صریح ظلم ہے. ایک دوسرے کو عزت دینے کی اداکاری نہ کیجیئے بلکہ فی الواقع عزت دیجیئے. مقابل نقطہ نظر کیلئے دل میں حقیقی محبت پیدا کیجیئے کہ دونوں گروہوں کی نیت مبنی بااخلاص ہے. اگر سامنے والے کی سمجھ میں غلطی ہوسکتی ہے تو پیغمبر آپ بھی نہیں ہیں. سمجھ کی غلطی آپ کو بھی ہوسکتی ہے. چنانچہ مدمقابل کی دلیل کو وسعت قلبی سے سنیں اور پھر شائستگی سے رد یا قبول کرلیں. . (نوٹ: پوسٹ میں درج بیانیہ اور جوابی بیانیہ کی اصطلاحات کا استعمال صرف خلافت و جہاد تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے مراد قدیم و جدید تشریحات کا تصادم ہے) . ====عظیم نامہ====

روایتی بیانیہ یا پھر جدید جوابی بیانیہ

اسلام کا روایتی بیانیہ یا پھر جدید جوابی بیانیہ ؟ کون سی فکر اسلام کی درست ترجمان ہے؟
====================================================
.
اگر اس جوابی بیانیہ سے آپ کی مراد وہ فکری تحریک ہے جو آج رائج و مقبول روایتی اسلامی فکر کے مقابل ہر دوسرے مذہبی موضوع کو للکار رہی ہے، اسے نئی تشریح فراہم کررہی ہے تو پھر یہ کوئی آسان سوال نہیں ہے. اس کا جواب کسی ایک کے مکمل اثبات و انکار میں دینا علمی دیانت کے خلاف ہوگا. میں حد سے حد آپ کو وہ زاویہ نظر دے سکتا جس سے میں خود اس موجودہ فکری کشمکش کو دیکھ پاتا ہوں. مگر اس سے پیشتر آپ کو ایک سادہ علمی نظریہ سمجھنا ہوگا.
مشہور جرمن فلسفی ہیگل کے فلسفہ سے ماخوز ایک نظریہ صاحبان دانش میں ہمیشہ معروف رہا ہے. اس نظریئے کے کی رو سے انسانی فکر کا سفر تھیسس (thesis) ، اینٹی تھیسس (antithesis) اور سینتھسس (synthesis) کے ذریعے اپنے شعوری مدارج طے کرتا آیا ہے. میں اسی فکر کو آج اپنے زاویہ نظر میں ڈھال کر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں. آسان الفاظ میں کسی موضوع پر سب سے پہلے ایک تھیسس پیش کیا جاتا ہے، جس میں اس موضوع کا بہترین انداز میں بیان کیا گیا ہوتا ہے. اس بیانیہ (thesis) کو عقل عام و خاص قبول کرلیتے ہیں مگر جب ایک لمبا وقت اسے پیش کئے گزر جاتا ہے تو کچھ نئے وقتی تقاضے پیدا ہونے لگتے ہیں، کچھ اس فکر کی خامیاں نمایاں ہوتی ہیں، کچھ نئی تحقیقات سامنے آتی ہیں، کچھ نئے زاوئیے جنم لیتے ہیں. اب اس مقام پر ہونا تو یہ چاہیئے کہ ان تازہ دریافتوں کا خیر مقدم کیا جائے مگر انسانی تاریخ گواہ ہے کہ اکثر ایسا نہیں ہوتا. بلکہ اس روایتی بیانیہ سے افراد گہرے تقدس میں مبتلا ہوجاتے ہیں. وہ نہ صرف کسی نئی تحقیق کو قبول کرنے میں شدید تردد ظاہر کرتے ہیں بلکہ وہ سارا زور کسی ناقدانہ جدید سوچ کو کچلنے میں لگادیتے ہیں. اجتہاد کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور عقائد عقیدے کا لباس پہن لیتے ہیں. اس غیرفطری روک سے انسانوں میں ایک فکری بغاوت جنم لیتی ہے جو رستہ نہ پا کر اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہے مگر دم نہیں توڑتی بلکہ ہر گزرتا وقت اسے ایک خاموش طوفان بناتا رہتا ہے. بلاخر ایک وقت آتا ہے جب یہ بغاوت اس تھیسس (thesis) یعنی بیانیہ کے رد کی صورت میں برآمد ہوتی ہے. اسی رد کو اینٹی تھیسس (antithesis) کہا جاتا ہے. یہاں تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ چونکہ اس رد بیانیہ یعنی اینٹی تھیسس (antithesis) کو ایک زمانے تک زبردستی دبایا گیا ہوتا ہے لہٰذا اب اس کا ابھرنا ردعمل کی نفسیات کو ساتھ لئے ہوئے ہوتا ہے. جہاں روایتی بیانیہ یعنی تھیسس (thesis) فکری جمود اور عقیدت کی چادر اوڑھ لینے کے بعد ایک انتہا کی صورت اختیار کر چکا ہوتا ہے ، وہاں یہ جوابی بیانیہ یعنی اینٹی تھیسس (antithesis) اپنے آپ میں ایک دوسری انتہا لئے ہوئے آتا ہے اور اس کے داعی بھی اکثر نئے نتائج کی لاشعوری تقلید اپنالیتے ہیں. 
.
اب اس تھیسس (thesis) اور اینٹی تھیسس (antithesis) یا بیانیہ اور جوابی بیانیہ کی فکری کشتی ہوتی ہے جو ایک لمبا عرصہ جاری رہتی ہے. اس گھمسان کی لڑائی میں بہت ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے جو نہ صرف فریقین کیلئے اذیت کا سبب بنتی ہے بلکہ دیکھنے والوں پر بھی تھرتھراہٹ طاری رکھتی ہے. یہ خاموش ناظرین بیچارے بہت ہی قابل رحم ہوتے ہیں. ہوا کے جھونکوں کی طرح کبھی یہ ایک جانب قلابازی کھاتے ہیں تو کبھی کسی دوسرے کے زور بیان سے اس کی طرف لڑھکتے جاتے ہیں. آغاز میں اینٹی تھیسس (antithesis) کو بظاہر زیادہ کامیابی ہوتی نظر آتی ہے. جس کی بہت سی وجوہات ہیں. جیسے کچھ خاموش اقلیت روایتی بیانیہ (thesis) سے پہلے ہی ناراض بیٹھی ہوتی ہے. اس لئے وہ نئی فکر کا دل و جان سے خیر مقدم کرتی ہے. اسی طرح روایتی بیانیہ (thesis) کی خامیاں یا کچھ ناکامیاں .. جوابی بیانیہ (antithesis) پیش کرنے والے کے سامنے موجود ہوتی ہیں. جس کا وہ کھل کر فائدہ اٹھاتے ہیں. جب کے اسکے برعکس جوابی بیانیہ (antithesis) کی اپنی خامیاں اور ناکامیاں ابھی وقت کے امتحان سے نہ گزرنے کے سبب سامنے نہیں آئی ہوتیں. لہٰذا فطری طور پر آغاز میں اینٹی تھیسس (antithesis) یا جوابی بیانیہ ایک انقلابی سوچ کے طور پر نمودار ہوتا ہے. مگر جب اس علمی تصادم میں کچھ وقت گزر جاتا ہے تو اب بیانیہ (thesis) کے ساتھ ساتھ جوابی بیانیہ (antithesis) کی خامیاں بھی کھل کے سامنے آنے لگتی ہیں. پہلی بار یہ حاملین کو سمجھ آتا ہے کہ پیش کردہ تنقید یا فکر کے کئی حصے جزوی یا کلی طور پر غلط ہیں. یہی وہ مقام ہے جہاں کچھ اہل علم دونوں آراء میں تطبیق پیدا کرتے ہیں اور دونوں جانب کی مظبوط تر باتوں کو لے کر ایک مشترکہ بیانیہ پیش کردیتے ہیں. اسی مشترکہ بیانیہ کو سینتھیسس (synthesis) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے. اب یہ سینتھیسس (synthesis) جو تھیسس (thesis) اور اینٹی تھیسس (antithesis) دونوں کا نچوڑ اور علمی اعتبار سے افضل ہوتا ہے .. وقت گزرنے کے بعد پھر سے ایک نیا تھیس  (thesis) بن جاتا ہے. پھر کوئی اینٹی تھیسس (antithesis) پیش کرتا ہے. پھر جنگ ہوتی ہے. پھر سینتھیسس (synthesis) نکالا جاتا ہے اور یوں انسانی فکر کا ارتقاء جاری رہتا ہے. 
.
عزیزان من ، اس ساری تمہید و تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد فقط اتنا ہے کہ آپ بالغ نظر ہوکر اسلام کی مذہبی فکری تشکیل نو کو نگاہ بصیرت سے دیکھ سکیں. علامہ اقبال رح نے اسی لئے اپنے خطبات پر مشتمل واحد کتاب کا نام 'اسلام میں مذہبی افکار کی تعمیر نو' رکھا تھا. آج ہم جس دور میں زندہ ہیں، وہاں یہ فکری تصادم اپنی جولانیوں پر نظر آرہا ہے. جو اپنے آپ میں ایک عامی کیلئے نہایت تکلیف دہ عمل ہے. مگر اس صورت سے مایوس ہرگز نہ ہوں. جان لیں کہ آپ دو انتہاؤں میں سفر کر رہے ہیں ، آپ تھیسس (thesis) اور اینٹی تھیسس (antithesis) کے تصادم میں زندہ ہیں مگر ابھی سینتھیسس (synthesis) پیش ہونا ہے جو انشاللہ سراسر خیر کا پیش خیمہ ہوگا. جان لیں کہ آپ کا رب .. فرعون  کے گھر میں آسیہ اور موسیٰ کو پروان چڑھاتا ہے. وہی ہے جو مردہ سے زندہ کو پیدا کرتا ہے اور شر سے بھی خیر کو برآمد کردیتا ہے. عقلمند وہ ہے جو دونوں فکری گروہوں کا غیر جانبداری سے جائزہ لیتا رہے. جو نہ روایتی فکر کو جہالت سمجھے اور نہ جدید فکر کو گالی دے. وقت کی کسوٹی جلد یا بدیر کھرے کو کھوٹے سے جدا کردے گی. روایتی بیانیہ سے منسلک دوستوں کو سمجھنا چاہیئے کہ اگر جدید تشریحات فاسد ہیں تو جلد ہی انکار حدیث یا معتزلہ جیسے فلسفوں کی طرح دم توڑ دیں گی. آپ بس ان کے موقف کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیں اور اگر غلط پائیں تو دلیل سے ان کی غلطی ثابت کرتے رہیئے.  دوسری طرف جوابی بیانیہ سے منسلک احباب کو سمجھنا چاہیئے کہ جہاں آپ کو دلیل سے تنقید کی اجازت ہے ، وہاں مختلف موضوعات پر مسلمانوں کی پوری علمی روایت کیلئے تحقیر کا لب و لہجہ اپنانا صریح ظلم ہے. ایک دوسرے کو عزت دینے کی اداکاری نہ کیجیئے بلکہ فی الواقع عزت دیجیئے. مقابل نقطہ نظر کیلئے دل میں حقیقی محبت پیدا کیجیئے کہ دونوں گروہوں کی نیت مبنی بااخلاص ہے. اگر سامنے والے کی سمجھ میں غلطی ہوسکتی ہے تو پیغمبر آپ بھی نہیں ہیں. سمجھ کی غلطی آپ کو بھی ہوسکتی ہے. چنانچہ مدمقابل کی دلیل کو وسعت قلبی سے سنیں اور پھر شائستگی سے رد یا قبول کرلیں. 
.
(نوٹ: پوسٹ میں درج بیانیہ اور جوابی بیانیہ کی اصطلاحات کا استعمال صرف خلافت و جہاد تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے مراد قدیم و جدید تشریحات کا تصادم ہے)
.
====عظیم نامہ====

ناس پیٹی فیس بک


کوئی کھیرا شریف کے چھلکوں سے تقدس سیکھا رہے ہیں تو کوئی اسٹرابیری کو زرقوم کہہ کر ممنوع بتا رہے ہیں. کوئی ایک سے زائد شادی کرنے کو فرض کررہے ہیں تو کوئی خوبصورت لڑکیوں سے بات کو مستحب بنارہے ہیں. کوئی مریدوں کو روحانیت کے کرنٹ لگارہے ہیں تو کوئی متعدد حوروں سے تعلق کا نقشہ سمجھا رہے ہیں.
.
ہائے رے ناس پیٹی فیس بک تو نے گھر بیٹھے ہمیں کیا کیا دیکھا دیا !

america

http://daleel.pk/2016/12/31/22965?fbclid=IwAR2OO6AzgL1EsPr0pxKC1zfOd6VFUbdW0zVGQNWfDmutkI_hG9AcHP_Tzh4

مولانا طارق جمیل


مولانا طارق جمیل - 'تبلیغی جماعت' کا یقینی طور پر سب سے زیادہ مقبول نام ہے. آپ بلا شبہ عالم اسلام کی ایک عظیم المرتبت شخصیت ہیں. جن کا پراثر طریقہ تعلیم خواص وعوام دونوں کو دین سے جوڑتا آیا ہے. آپ دور حاضر میں وحدت امت کے بہت بڑے داعی ہیں اور تفرقہ ختم کردینے کیلئے شب و روز کوشاں ہیں. دیگر بہت سے احباب کی طرح میں بھی مولانا سے کئی فکری اختلافات رکھتا ہوں مگر ساتھ ہی میں آپ کی وسعت قلبی، جذبہ ایمانی اور پر سوز واعظانہ قابلیت کا تہہ دل سے مداح رہا ہوں. میں ہمیشہ ان کے لئے دل میں بے پناہ محبت اور عزت محسوس کرتا ہوں. شائد اسلئے کہ میں ان میں دوسروں کی طرح محقق یا مجدد تلاش نہیں کرتا بلکہ ایک واعظ اور داعی کو دیکھتا ہوں. میں ان میں ایک ایسا عظیم مبلغ پاتا ہوں جو شیخ عبدلقادر جیلانی رح کی طرح آپ کے روحانی وجود کو سادہ باتوں کے زریعے جھنجھوڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے. ان کے خطبات، میں علمی وسعت کیلئے نہیں سنتا بلکہ اسلئے سنتا ہوں کہ مجھے اپنی موت یاد آجائے اور میری آنکھیں ندامت سے بھیگ سکیں. یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی سننے والا مولانا کو بناء تعصب کو سنے اور اسے فکر آخرت محسوس نہ ہو. میرا احساس یہ ہے کہ اللہ پاک نے مولانا کی دین میں محنت کے سبب ان کی زبان میں عجب سا اثر پیدا کردیا ہے. وہی جملہ اور وہی الفاظ جو کوئی اور ادا کرے تو عام سے محسوس ہوں وہی جب مولانا کی زبان سے ادا ہوتے ہیں تو مخاطب کے قلب میں جا اترتے ہیں. کچھ عرصہ قبل مولانا طارق جمیل انگلینڈ تشریف لائے تو حسن اتفاق سے آپ سے ملاقات ہوئی. آپ کے ساتھ بیٹھے، نماز پڑھی اور خطاب سنا. مولانا کو اس سے پہلے بھی کئی بار سامنے سن چکا تھا مگر آپ سے باقاعدہ ملاقات پہلی بار تھی. آپ کا ایک ایک انگ دین کی محنت سے سجا محسوس ہوا. اس عمر میں اتنا سفر اور مشقت اٹھانا صرف دین کی تبلیغ و ترویج کیلئے آپ ہی کا خاصہ ہے.
.
آپ کی فکر پر بہت سے اعتراض کئے جاتے ہیں جن میں سے کچھ احقر کی سمجھ میں حقیقت اور اکثر مذھبی منافرت پر مبنی ہیں. پہلا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ کی دعوت کا محور صرف مشہور اشخاص ہیں. یہ ایک بے بنیاد بات ہے. اتنا ضرور ہے کہ عمران خان سے لے کر عامر خان تک اور فلمی اداکاروں، گلوکاروں سے لے کر کرکٹ ٹیم تک آپ کے ذریعے دین کا پیغام پاتے رہے ہیں مگر اسے بنیاد بناکر یہ کہنا کہ آپ عام لوگوں کو دین نہیں پہنچاتے بلکل غلط الزام ہے. اسی طرح ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہا کہ آپ فلاں عالم یا فلاں دہشت گرد گروہ یا فلاں سیاسی رہنما کا نام لے کر تنقید کیوں نہیں کرتے؟ یہ کہنے والے ایک لمحہ یہ نہیں سوچتے کہ تبلیغی جماعت بحیثیت مجموعی کبھی بھی نام لے لے کر کسی کو ملامت نہیں کرتے بلکہ ہر کسی کو محبت سے دین کی جانب بلاتے ہیں. مختلف مذہبی گروہ اپنی اپنی دینی فکر کو سب سے اہم سمجھ کر مولانا سے امید کرتے ہیں کہ وہ ان کے حق میں بات کریں اور جب وہ ایسا نہیں کرتے تو تو آپ پر الزامات لگاتے ہیں جیسے جہادی گروہ چاہتے ہیں کہ وہ جہاد کریں، تجدید امت کے دعویدار چاہتے ہیں کہ وہ جہادی گروہوں کا نام لے لے کر ان کی مذمت کریں، خلافت کے گروہ چاہتے ہیں کہ وہ اقامت دین کی ذمہ داری ادا کریں اور تحقیقی مزاج کے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی جماعت کو قران ریسرچ اکیڈمی بنادیں. ان میں سے کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ہر جماعت کا اپنا منہج ہے اور وہ اپنے لحاظ سے دین کا کام کر رہے ہیں. جس طرح ان پر تبلیغی جماعت اپنا منشور نہیں تھوپتی، اسی طرح انہیں بھی یہ حق نہیں کہ مولانا کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کریں. اسی طرح سہہ روزہ یا چلہ وغیرہ کو بدعات قرار دیا جاتا ہے حالانکہ مولانا یا تبلیغی جماعت نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ دین کے لوازم ہیں بلکہ اسے ہمیشہ ایک تربیتی مشق کے طور پر پیش کیا. آپ پر جن اعتراضات سے میں متفق ہوں وہ تین ہیں. پہلا آپ کا دوران خطاب بعض اوقات ضعیف و موضوع احادیث کو پیش کردینا ہے. آپ کا ایسا کرنا احناف میں موجود اس رائے کے تحت ہے جس میں اگر قران اور صحیح حدیث کے نصوص سے اصول ثابت ہو تو فضائل کے ضمن میں ضعیف احادیث و واقعات بھی پیش کئے جاسکتے ہیں. میں خود کو اس سے بلکل متفق نہیں پاتا کہ اس سے بہت سے معاملات میں بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے. دوسرا اعتراض یہ کہ قران مجید کو تبلیغ اور تربیت دونوں کا محور ہونا چاہیئے. جو راقم کی رائے میں نہیں ہے یا اس درجہ میں نہیں ہے جس میں ہونا چاہیئے. تیسرا اور آخری اعتراض یہ کہ مولانا بعض اوقات منظر نگاری میں بہت دور نکل جاتے ہیں جیسے جنت، جہنم، حور وغیرہ جو ممکن ہے سادہ طبیعتوں کو تو مائل کرتا ہو مگر بہت سے پڑھے لکھے اذہان کو متنفر کردیتا ہے. بہرحال میرے یہ اعتراضات اگر صحیح بھی مان لئے جائیں تب بھی بیشمار خیر کے پہلوؤں سے استفادہ نہ کرنا بہت بڑی محرومی ہوگی. میں دین پر تحقیق کیلئے انہیں نہیں سنتا بلکہ مجھے جب خود کو فکر آخرت کی جانب مائل کرنا ہو تو مولانا بلاشبہ میری پہلی ترجیح ہوتے ہیں. آپ سب پہلے ہی مولانا کو سنتے ہونگے مگر اگر کسی مسلکی منافرت کی وجہ سے نہیں سنتے تو ضرور سنیں بلکہ ان کے خطبات پر مشتمل کتب بھی لے آئیں.

مجذوب فقیر

حکایت ہے کہ کسی شخص نے ایک اللہ والے مجذوب فقیر کی شہرت سنی تو منت سماجت کرکے اسے اپنے گھر لے آیا۔ اس کے گھر والو نے فقیر کی دل کھول کر خدمت کی، بہترین پکوان کھلائے، مہنگے کپڑے دیئے، اس کے پیر دبائے اور بیش قیمتی تحائف پیش کیئے۔ آخر میں اس شخص نے فقیر سے التجا کی کہ وہ اسکے گھر اور خاندان کیلئے دعا کرے۔ چنانچہ فقیر نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور کچھ یوں کہا "اللہ کرے کہ پہلے تیرا باپ مرے، پھر تو مرے، پھر تیری اولاد مرے آمین"۔ یہ الفاظ سنتے ہی اس شخص کی ساری عقیدت یکلخت ختم ہوگئی اور اس نے غم و غصہ سے فقیر کو گریبان سے جکڑ کر کہا کہ کمبخت تو کیسا انسان ہے؟ میں نے تیری اتنی خدمت کی، میری اولاد نے تیرے پیر دبائے اور میرے والد نے تجھے سرآنکھوں پر رکھا۔ مگر تو نے ہمیں اتنی گھٹیا دعا دی؟
۔
فقیر نے محبت سے خود کو چھڑوایا اور کہا کہ اس میں کچھ بھی گھٹیا نہیں بلکہ یہ انتہائی رحمت والی دعا ہے۔ موت تو برحق ہے، جسے کوئی ٹال نہیں سکتا مگر خیر اسی میں ہے کہ رب موت کو فطری ترتیب میں دے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے ضعیف باپ اور معصوم بچوں کو بے سہارا چھوڑ کر پہلے تم خود مرجائو؟ یا پھر تم یہ چاہتے ہو کہ تم سے پہلے تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری نوجوان اولاد مر جائے؟ میں نے تو رب سے یہی دعا و درخواست کی ہے کہ تم اس اضافی کرب و اذیت سے بچ سکو اور تمہارے گھر میں موت ترتیب سے آئے یعنی "اللہ کرے کہ پہلے تیرا باپ مرے، پھر تو مرے، پھر تیری اولاد مرے آمین"
۔
====عظیم نامہ====

استنبول - میری نظر سے (قسط اول)

استنبول - میری نظر سے (قسط اول)
=====================
.
میں کچھ عرصہ قبل ترکی جاچکا ہوں اور انطالیہ، الانیہ، ائیوسلار، انسیکم، پاموکالے جیسے علاقے گھوم چکا ہوں. میرا یہ فیملی ہولیڈے توقع سے زیادہ بہترین گزرا تھا مگر ایک کمی پھر بھی رہ گئی تھی اور وہ یہ کہ میں نے اس خوبصورت ملک کا وہ شہر اب بھی نہیں دیکھا تھا جو اسکی شان ہے یعنی استنبول. ترکی کی سرزمین اور عوام دونوں نے ہی میرا دل جیت رکھا تھا. پچھلے سال ہی جب پاکستان جانے کا ارادہ کیا تو خیال آیا کہ کیوں نا ترکی کا ٹرانزٹ ویزہ لے کر تین روز استنبول قیام کرتے ہوئے کراچی جاؤں؟ ٹکٹ دیکھا تو قیمت کا معمولی سا فرق تھا. فوری ارادہ کرلیا اور اپنے قریبی دوست سے جو لندن میں مقیم ہے، اس کا ذکر کیا. پلان سن کر اس نے بھی ساتھ چلنے کی خواہش کردی. نہ صرف وہ بلکہ ہمارا ایک اور مشترکہ انگریز دوست بھی پلان سن کر چلنے کیلئے راضی ہوگیا. چنانچہ استنبول کے ایک سلطانی طرز کے چھوٹے سے خوبصورت ہوٹل میں دو کمرے نہایت مناسب قیمت میں بک کروالیے گئے اور مقررہ دن پر ہم استنبول جاپہنچے. کیا ہی حسین اور منفرد شہر ہے استنبول ! ہزار سالہ اسلامی تاریخ جاننی ہو، خلافت عثمانیہ کا جاہ و جلال محسوس کرنا ہو یا پھر شاہی طرز تعمیر دیکھنا ہو. استنبول اپنی مثال آپ ہے. اسے مساجد کا شہر کہا جاتا ہے. جس طرف نظر کرو وہاں ایک سے ایک حسین مسجد قائم نظر آتی ہیں. سیاحوں کے اژدہام کے باوجود صفائی اور نظم و ضبط اپنے عروج پر دیکھائی دیتا ہے. مسکراتے ہوئے، مدد کیلئے تیار اور صفائی پسند ترک عوام سیاح کے تجربے کو مزید مثبت بنادیتے ہیں. ہوٹل، ریسٹورنٹ، سڑکیں، پارک .. جہاں بھی جاؤ ہر طرف خوبصورت بلیاں آزادانہ گھوم رہی ہیں. یوں لگتا ہے کہ مقامی باشندوں کو ان سے خاص انس ہے. کتوں کی بھی ایک اچھی تعداد آزادانہ گھوم رہی ہے، جن کے ساتھ گورنمنٹ نے ٹریکر لگا رکھے ہیں. یہ کتے دیکھنے میں ہرگز بھی آوارہ کتے نہیں لگتے بلکہ مہنگی نسل کے محسوس ہوتے ہیں. نہ جانوروں کو مقامی انسانوں سے کوئی خوف ہے اور نہ ہی رہائشیوں کو ان جانوروں سے کوئی خطرہ. مسلم ملک ہونے کی بناء پر تمام کھانے حلال ہیں. مقامی ڈشوں میں ہمیں سب سے زیادہ پسند ان کا ایک روایتی میٹھا آیا جس کا نام "کنافے" ہے اور جسے چیز یعنی پنیر کے ساتھ بنایا جاتا ہے. اسی طرح ان کی مٹھیاں جو ٹرکش ڈیلائیٹ کہلاتی ہیں مزیدار ہیں. خریداری کے حوالے سے اگر صحیح سودا کیا جائے تو قیمتیں مناسب ہیں. ترکی کے نقش و نگاری سے مزین برتن اور نہایت خوبصورت قمقمے خریداروں کے پیر جکڑ لیتے ہیں. دکانداروں کے ایجنٹ ہر مصروف چوک پر خریداروں کی تاک میں رہتے ہیں. ایک قالین فروش نے تو ہمارے دوست کی چڑ بنالی. ہم جہاں جاتے وہ مل جاتا اور لپک کر اسکے پاس جاپہنچتا. آتے جاتے ہر جگہ لوگ قہوے یا سیب کی چائے سے تواضع کرتے. مجھے سبز سیب کی چائے بہت پسند آئی جو میں پینے کا موقع نہیں چھوڑتا.
.
ممتاز سیاحی مقامات قریب قریب واقع ہیں. سب سے پہلے ہم نے 'ہیگیہ صوفیہ' کو دیکھا. یہ عظیم الشان عمارت اپنے آپ میں صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہے. یونانی کاریگروں کے ہاتھوں تیار کردہ یہ تعمیر دراصل اپنی ابتداء میں ایک چرچ تھا اور کہا مشہور ہے کہ اس نے فن تعمیر کی انسانی تاریخ کو بدل ڈالا. زمانے کے بہت سے سرد و گرم دیکھنے کے بعد خلافت عثمانیہ نے اسے مسجد میں تبدیل کردیا. محراب، منبر اور مینار اس میں شامل کردیئے گئے مگر ١٩٣٥ میں اسے عوام کیلئے ایک میوزیم کی طرح کھول دیا گیا. اس کے وسیع ہال میں کھڑے ہوکر انسان مبہوت رہ جاتا ہے کہ ایک جانب تو اللہ عزوجل، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے اسم مبارک آویزاں ہیں اور ساتھ ہی مریم علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام اور ملائک کی تصاویر بھی چھت پر نقش ہیں. یہاں سے نکل کر ہم دوسرے مقبول ترین سیاحی مقام 'بلیو موسق' یانی نیلی مسجد میں داخل ہوئے. اس مسجد کا حقیقی مگر غیرمقبول نام سلطان احمد مسجد ہے اور اسے عثمانی خلافت کے جاہ و جلال کے ساتھ سلطاں احمد نے 'ہیگیہ صوفیہ' کے بلکل سامنے تعمیر کیا تھا. یہ ایک خوبصورت اور فن تعمیر کی شاہکار مسجد ہے. اس کا ایک حصہ تمام سیاحوں کیلئے کھلا ہے مگر قانون ہے کہ مسجد کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے جسم اور سر ڈھانک کر اندر داخل ہوں. اسی مسجد کا دوسرا حصہ نمازیوں کیلئے خاص ہے. ہم تینوں دوستوں نے وہاں نماز ادا کی. اپنے غیر مسلم دوست کو وضو اور نماز کا طریق سیکھایا.
.
دوسرے روز ہم نے تاریخی مقامات میں خلافت عثمانیہ کا شاید سب سے بڑا مظہر 'ٹوپ کاپی پیلس (محل)' دیکھا. یہ ایک عالیشان محل ہے جو عثمانی سلطانوں یا خلفاء کی چار سو سال تک رہائش گاہ رہی ہے. یہ چار بڑے آنگنوں اور بہت سی چھوٹی چھوٹی عمارتوں پر مشتمل ہے. باغ، فوارے، سپاہیوں کی رہائش گاہیں، خاندان سلطان کا گھر، حرم، خدمت گزاروں کنیزوں کے ٹھکانے، مشاورت کی زبردست جگہیں، عدالتیں اور بیت المال. اس محل میں اتنا کچھ ہے کہ اسکی تفصیل پر کتاب لکھی جاسکتی ہے اور لکھی جاچکی ہیں. 'ٹوپ کاپی پیلس (محل)' کا ایک حصہ میوزیم بنادیا گیا ہے جہاں وہ وہ اسلامی تاریخی نوادرات موجود ہیں جو دنیا میں کہیں اور نہیں. اہل بیت سے لے کر صحابہ اکرام رضی اللہ اجمعین تک کی بیشمار استعمال شدہ چیزیں یہاں موجود ہیں. پھر وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا کرتا مبارک ہو، تیرہ سو سالہ پرانا قران حکیم ہو، غلاف کعبہ ہو یا پھر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تلواریں. تاریخ کا ایک خزانہ آپ کا منتظر ہے. تلواروں کا سائز دیکھ کر بے اختیار مجھے ان اصحاب کی جسمانی قد و قامت کا اندازہ ہونے لگا. حضرت جعفر بن طیار ، حضرت ابو بکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اجمعین کی تلواریں مجھے بقیہ تلواروں سے دیکھنے میں زیادہ بھاری محسوس ہوئیں. ایک حیرت انگیز مشاہدہ یہ بھی ہوا کہ کچھ برتنوں اور تلواروں پر جو صحابہ کے زیر استمال تھے یا صحابہ کے دور سے بہت قریب تھے، تصاویر بنی ہوئی تھیں. ان تصاویر میں زیادہ تر شبیہہ شیر، عقاب یا ڈریگن کی تھی. رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہید دندان مبارک، موئے مبارک اور نقش قدم بھی یہاں موجود ہے. ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر نشانیاں جیسے آپ کا خط یا انگوٹھی مبارک بھی موجود ہے. قدیم قرانی نسخہ ہو یا دیگر تحاریر مجھے اعراب نظر نہیں آئے. اسی میوزیم کا ایک اور حصہ دیگر انبیاء کی نوادرات سے آراستہ ہے. جیسے حضرت یوسف الیہ السلام کی پگڑی یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا !! ان کا یہاں موجود ہونا میرے لئے نہایت حیرت کا سبب تھا اور میرے ذہن میں شکوک پیدا ہونے لگے. میں نے ایک ایک کر کے کئی لوگوں سے وہاں اسکے بارے میں دریافت کیا کہ اگر انبیاء کے یہ ہزاروں سال پرانے نوادرات سچے ہیں تو انہیں کہاں سے ملے؟ اور اسکا کیا ثبوت ہے؟ ثبوت تو ظاہر ہے مجھے کوئی نہ مل سکا مگر ایک صاحب علم سے یہ معلوم ہوا کہ خلافت عثمانیہ جب آدھی دنیا پر راج کررہی تھی تب ان نوادرات کو مصر اور حجاز سے یہاں لے آیا گیا. گویا یہ نوادرات مختلف حصوں میں نسل در نسل منتقل ہوئی تھیں اور ان سب کو سلطنت عثمانیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا اور آج اسے ہم اس محل میں دیکھ پارہے ہیں. بات میں کتنا سچ ہے؟ یہ تو اللہ ہی جانے مگر بہرحال ان کے صحیح یا غلط دونوں ہونے کا امکان موجود ہے.
.
====عظیم نامہ====
(جاری ہے)

استنبول - میری نظر سے (قسط دوم-ختم شد)

استنبول - میری نظر سے (قسط دوم-ختم شد)
=============================
۔
شام ہوتے ہوتے جسم دکھنے لگا. مشورہ آیا کہ کیوں نا ٹرکش حمام جایا جائے؟ استنبول کے ایک قدیم ترین حمام کا پتہ ہمیں معلوم ہوا، وہاں پہنچے تو ایسا لگا جیسے وقت کا پہیہ سینکڑوں سال پیچھے چلا گیا ہو. یہ زمین دوز حمام پرانے طرز تعمیر کا نمونہ تھا. مساج کیلئے پہلوان نما ترک مرد بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ ہمیں گھور رہے تھے. ایک لمحے کو دل چاہا کہ الٹے قدموں بھاگ لیں مگر کچھ تذبذب کے بعد حامی بھر لی. ستر ڈھانپنے کو ہمیں ایک بڑا تولیہ دیا گیا، جسے ہم نے سختی سے لپیٹ لیا اور برہنگی نہ ہونے کو یقینی بنایا. ہمیں ایک بڑے ہال میں لے جایا گیا جہاں گرم پانی کے قدیم نلکے جاری تھے. چاروں طرف کسی لمبے برش سے جھاگ ہی جھاگ میں لپیٹ دیا گیا اور بیس پچیس منٹ بعد گرما گرم پانی کے کٹورے سر پر انڈیلے جانے لگے. جسم میں سکون اور درد دونوں محسوس ہورہا تھا. اس کے بعد ان پہلوان نما مردوں نے مساج کے نام پر وہ پہلوانی کی جو آپ نے انگریزی ریسلنگ میں بھی نہ دیکھی ہوگی. دائو پیچ سے کڑاکے نکل رہے تھے۔ ہم تینوں کو اس دوران ہنسی بھی آرہی تھی اور چیخیں بھی نکل رہی تھیں. بہرحال یہ جان لیوا مرحلہ بھی ختم ہوا اور ہم نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے واپس اپنے ہوٹل کی راہ لی. اگلے روز ایک اور اسلامک ہسٹری کا میوزیم دیکھا جہاں ایسے ایسے نوادرات دیکھنے کو ملے کہ حیرت ہونے لگی. رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی نشانیاں اتنے قریب سے دیکھنا فرحت کا سبب تھا. اسکے بعد ہم نے "بیسی لیکا سسٹرن" دیکھا. یہ سینکڑوں سال پرانا پانی کا ذخیرہ ہے جو استنبول شہر کے نیچے یعنی زمین دوز ہے. یہ چھٹی صدی میں رومن سلطنت نے قائم کیا تھا. اب اس پانی کے ذخیرے میں مچھلیاں تیرتی ہوئی نظر آتی ہیں. یہاں دیومالائی داستان کی کردار 'میڈوسا' کے دو سر بھی ستونوں کے ساتھ نسب ہیں. کہتے ہیں کہ انہیں رومن سلطنت کے آخری ادوار میں یہاں منتقل کیا گیا تھا. 'میڈوسا' کی یونانی داستان بڑی دلچسپ ہے. جس کے مطابق میڈوسا عورت کی شکل کی ایک بلا تھی جس کے پر تھے اور جس کے سر پر بالوں کی جگہ سانپ لٹکتے تھے. جو اسے دیکھ لے وہ پتھر کا بن جاتا تھا. میڈوسا کا سر ایک یونانی ہیرو پرسیس نے قلم کردیا تھا. جو پھر بعد میں اس کے سر کو اپنی ڈھال سے لگا کر رکھتا اور دشمن کو پتھر کا بنا دیتا. کہانی طویل ہے مگر ایک وقت آتا ہے جب میڈوسا کا سر خود کو آئینے میں دیکھتا ہے اور خود پتھر کا بن جاتا ہے. یہی وہ پتھر کا سر ہے جو اس عمارت میں نسب ہے. ظاہر ہے کہ کہانی فرضی ہے مگر گریک متھولوجی کے شوقین لوگوں کیلئے یہ ایک تحفے سے کم نہیں. سسٹرن کی اس عمارت میں ہی ہم تین دوستوں نے سلطانی لباس اور تلواریں سنبھال کر کچھ تصاویر بھی کھنچوائی اور اس بچپنے میں ہمیں خوب مزہ آیا.
.
یہاں سے فارغ ہوکر ہم پتھر سے بنے "گلاٹا ٹاور" گئے. اس عظیم الشان عمارت کی اونچائی پر پہنچ کر پرانے استنبول کا نظارہ کرنا خوش کن تجربہ تھا۔ بگلے ہمارے آس پاس آکر بیٹھ رہے تھے. کچھ دیر بعد ہی ہم نے واپسی کی راہ لی. شام میں ہم نے ایک بحری جہاز کا ٹرپ بک کروا لیا تھا جو ہمیں خوش قسمتی سے کافی مناسب پیسوں میں دستیاب ہوگیا تھا. یہ ایک چھوٹا سا خوبصورت جہاز تھا جو ہمیں آبی راستے سے پورا استنبول گھماتا رہا. جہاز کے اندر بہترین کھانے کا اہتمام تھا. طرح طرح کے پروگرام پیش کیئے جانے لگے جیسے سلطانی طرز کا ڈرامہ، روایتی رقص، تلوار زنی، میجک شو وغیرہ. سب سے عمدہ پروگرام صوفی رقص تھا، جس میں ایک صوفی نے پہلے سیاہ اور پھر سرخ رنگ کے کپڑوں میں پورے اہتمام سے گول گھوم کر ایک وجدانی رقص پیش کیا. پہلی بار اس صوفی رقص کا فلسفہ سمجھ آیا۔ میں جہاز کے اپر ڈیک پر چلا گیا اور کتنی ہی دیر استنبول کی مختلف تعمیرات دیکھتا رہا. رات دیر کو ہم تینوں دوستوں نے "تقسیم اسکوائر" جانے کا پلان بنایا جو بلاشبہ استنبول کی رونق کا نمونہ ہے. خوبصورت علاقہ، بیشمار دکانیں، روشنیاں، ان گنت لوگ ایک سحر سا پیدا کردیتے ہیں. یہاں ہم نے پہلی بار یہاں کا روایتی میٹھا "کنافا" تناول کیا، جس کا ذائقہ اسوقت بھی زبان پر محسوس ہورہا ہے. رات گئے یہاں گھومتے رہے اور پھر ہوٹل واپس آکر نڈھال سو گئے. صبح ناشتے کے وقت اپنے ایک مقامی دوست کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اسکی بحث ایک اور مقامی سے ہونے لگی. ہمارا دوست طیب اردگان کا پرزور حامی تھا اور دوسرا شخص اردگان کا پرجوش دشمن جو کہہ رہا تھا کہ اس کی وجہ سے دھماکے ہورہے ہیں، سیاحت متاثر ہورہی ہے. جب کہ ہمارے دوست کا کہنا تھا کہ یہ دھماکے اردگان کو روکنے کیلئے کیئے جارہے ہیں جس نے اس معاشرے میں ایک بار پھر اسلامی اقدار بحال کی ہیں. میں نے خاموشی سے ان کی باتیں سننے اور سوالات کرنے تک خود کو محدود رکھا. ایک بزرگ خاتون ہاتھوں میں کچھ اخروٹ تھامے اسے بیچنے کی کوشش کررہی تھے، میں نے ان سے کچھ زیادہ دام دے کر وہ لے لئے تو انہوں نے میرا چہرہ تھام کر اتنی دعائیں دیں کہ دل خوشی سے بھر گیا. ہم نے اپنے اس دوست سے طے کیا کہ ہم کسی اور کو پیسے دینے کی بجائے تمہیں پیسے دیں گے، تم ہمیں اپنی گاڑی میں کچھ روحانی مقامات لے کر جاؤ. چانچہ ہم اسکے ساتھ روانہ ہوئے. سب سے پہلے وہ ہمیں 'یوسھا ہل ' لے گیا جو خاصی اونچائی پر ایک خوبصورت مقام تھا. یہاں ہم کچھ دیر قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوئے.
اس کے بعد ایک لمبی ڈرایو کرکے پڑوسی شہر 'آیوپ' گئے جہاں حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ مدفون ہیں. فاتحہ پڑھی اور نماز بھی اسی مسجد میں ادا کی. دعاؤں سے فراغت کے بعد باہر علاقہ گھومنے لگے تو ہمارا مقامی دوست اچانک خوشی سے چلانے لگا. وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ اس نے کچھ اور پاکستانی دیکھے ہیں جو اردو بول رہے ہیں. اسے لگتا تھا کہ یہ ہمارے لئے نہایت خوشی کی بات ہوگی. بہرحال اسکے جذبے کو دیکھ کر میں اس کے ساتھ گیا تو وہ سبز پگڑیوں میں ملبوس دعوت اسلامی کے کچھ بھائی تھے. ان سے دعا سلام ہوئی اور ہم واپس گاڑی میں سوار ہوگئے. ہمارا یہ دوست ہمیں ایک بہت معروف دینی بزرگ محمد تقادی کے مزار پر لے گیا جہاں اردگرد خوبصورت پھول موجود تھے. ہم نے پھر فاتحہ پڑھی، کچھ دیر رکے اور واپسی کی راہ لی. اسکے بعد ایک نہایت خوبصورت مسجد گئے جسے سلطنت عثمانیہ میں تعمیر کیا گیا تھا. اس کا نام ہے 'سکولو محمود پاشا مسجد'. خوبصورت طرز تعمیر اور نقش و نگاری کے علاوہ یہاں حجر اسود کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی موجود ہے. مسجد کا وہ حصہ بند کیا جاچکا تھا مگر ہمارے دوست نے جب ہمارے بارے میں بتایا تو اس ترک بزرگ نگہبان نے ہمیں کچھ دیر وہاں جانے کی اجازت دے دی. حجر اسود کے اس ٹکڑے کو انگلی کے لمس سے محسوس کیا اور دعائیں کی. یوں ہمارا یہ سفر بھی ختم ہوا. استنبول کے دو بازار بہت مشہور ہیں پہلا ہے گرینڈ بازار اور دوسرا ہے اسپائس بازار. کافی دیر ہم دکانیں دیکھتے رہے، سودے بازیاں کرتے رہے اور مقامی تحفے تحائف خریدتے رہے. میں نے اپنے دوستوں کیساتھ خوبصورت نقوش والی کچھ پلٹیں خریدی. واپسی کا وقت ہوچکا تھا لہٰذا ہم تینوں نے ہوٹل سے سامان اٹھایا اور ٹیکسی سے ائیرپورٹ کی راہ لی. ہمیں یقین نہیں آرہا تھا اور ہم ایک دوسرے کی پیٹھ تھپتھپا رہے تھے کہ صرف تین دنوں میں ہم نے اتنے سارے مقامات گھوم لئے. گو ابھی بھی کئی ایسے مقامات ہیں جن کا مضمون میں ذکر ہونے سے رہ گیا ہے.
.
====عظیم نامہ====

مخلص اور ایمان دار


آپ کا مخلص اور ایمان دار ہونا آپ کے عقلمند اور درست ہونے کی دلیل نہیں ہے.
۔
آپ بیک وقت نہایت مخلص اور انتہائی احمق ہوسکتے ہیں.
۔
اسی طرح آپ کا پوری ایمان داری سے تحقیق کرنا آپ کے صحیح ہونے کا حتمی ثبوت نہیں ۔
۔
آپ بیک وقت اچھے محقق اور مکمل غلط ہوسکتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

نیکی

یہ حقیقت ہے کہ بعض اوقات اپنی کسی نیکی کا بیان دوسروں کیلئے ترغیب کا سبب بن جاتا ہے. مگر کچھ نیکیاں اپنے نامہ اعمال میں ایسی ضرور رکھیں جو صرف آپ کے اور آپ کے رب کے درمیان مخفی رہیں. ایمان پوشیدہ ہے اور پوشیدہ نیکیوں سے قوی ہوتا ہے.
.
====عظیم نامہ====

فطرت کی رہنمائی

اگر عقل اپنے مدارج، فطرت کی رہنمائی میں طے کرے تو اسکا لازمی نتیجہ ایک ایسا سکون ہے جو آپ کا قلبی و عقلی شخصیت کا مکمل احاطہ کرلیتا ہے. قران حکیم میں اسکی مثال حکیم لقمان علیہ سلام کی صورت میں دی گئی ہے، قران کے اسلوب سے واضح ہے کہ وہ غالباً نہ تو نبی تھے اور نہ ہی کسی نبی کے پیرو. مگر انہوں نے اپنی عقل کا استمعال فطرت کی رہنمائی میں کیا تو اسی حکمت کے وارث بن گئے جو انبیاء کی میراث ہے. ابراہیم علیہ سلام بھی نبوت ملنے سے قبل اسی فطرت کی رہنمائی میں اپنی عقل کا استمعال کرتے رہے، کبھی سوچا کہ سورج میرا رب ہے، پھر مسترد کیا. پھر چاند ، ستاروں کو رب کہا مگر عقل و فطرت نے اسے بھی مسترد کردیا. بلاخر فطرت کی رہنمائی میں اس عقلی ارتقاء سے وہ یہ جان گئے کہ یہ سب خود مخلوق ہیں اور خالق وہ ہے جو انہیں ایک نظام کا پابند کرتا ہے. نبوت انہیں اس دریافت کے بعد عطا ہوئی. عام انسانی تاریخ میں فیثا غورث اور سقراط اسی عقل و فطرت کے امتزاج کا بہترین نمونہ ہیں. میرا ماننا یہ ہے کہ جب اخلاص فطرت کی رہنمائی میں تعقل کے درجہ پر پہنچتا ہے تو حقیقت الہام کردی جاتی ہے.
.
====عظیم نامہ====

نحوست


گناہوں کی یہی نحوست کتنی غلیظ ہے کہ بندہ ذوق عبادت کھو بیٹھے، ذکر کی حلاوت سے محروم ہونے لگے اور سجدے کی توفیق اس سے چھننے لگے. ارشاد الٰہی کا مفہوم ہے کہ نماز کی پابندی گناہوں سے روکتی ہے مگر اس میں یہ پیغام بھی مضمر محسوس ہوتا ہے کہ اس کا الٹ ہوجائے یعنی گناہ کی دانستہ کثرت بندے کو نماز کی پابندی سے روکنے لگے.
.
===عظیم نامہ====

آپ سوچا کیئے

آپ نے کیا کیا؟ آپ دیکھا کیئے، آپ سوچا کیئے!
============================
.
آپ ایسے جیئے، اپنے لب سی لئے!
اس نے آنسو دیئے، آپ نے پی لئے!
.
سر پر تلوار تھی، خوف میں جی لئے!
آپ پھرتے رہے، لاش اپنی لئے!
.
آپ کا گھر بچا، باقی سب جل گیا!
آپ نے کیا کیا؟ آپ دیکھا کیئے، آپ سوچا کیئے!
.
آج ہے میرا گھر، کل کوئی اور ہے!
مسئلہ دوستو قابل غور ہے!
.
امن و انصاف کا بے سبب شور ہے!
بن گیا ہے وہ منصف، جو خود چور ہے!
.
آپ کو لوٹ کر، اس نے گھر بھر لیا !
آپ نے کیا کیا؟ آپ دیکھا کیئے، آپ سوچا کیئے!

نعت

اعتراف: جب دماغ پر بوجھ ہو، طبیعت اداس ہو اور دل اچاٹ ہو تو ایسے میں نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سننا بہت سکون دیتا ہے

بہتر چیز

جہاں تک ممکن ہو بہتر چیز اپنے مسلم یا غیر مسلم بھائی کو آفر کردیں اور اپنے نفس کو کمتر پر راضی رکھیں. جب کسی کے ساتھ ہوں تو اپنے دل سے پوچھیں کہ میرے نفس کو اس وقت کیا محبوب ہے؟ اور پھر اس انتخاب کو اپنے بھائی کیلئے آفر کرکے قربان کردیں. گویا غیرمحسوس انداز میں بہتر نشست بیٹھنے کیلئے یا کھانے کا بہتر حصہ تناول کرنے کیلئے انہیں پیش کردیں. ابتداء میں یہ عمل طبیعت پر شدید گراں گزرے گا مگر اگر کر گئے تو ان شاء اللہ تہذیب نفس میں بہت معاون ثابت ہوگا اور ایک ایسی اندرونی فرحت کا سبب بنے گا، جس کی مثال نہیں.
.
====عظیم نامہ====

روز قیامت معاف

اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ اللہ رب العزت آپ کے بڑے بڑے ان گنت گناہوں کو روز قیامت معاف فرمادیں تو پھر اپنا دل بڑا کریں اور ہر اس انسان کو بلاتفریق و تمیز سچے دل سے معاف کردیں جس نے کبھی آپ کا کوئی حق مارا ہو، آپ کو نقصان پہنچایا ہو یا آپ کی دل آزاری کی ہو. ہرگز یہ نہ کہیں کہ اس شخص کا فلاں گناہ یا جرم اتنا بڑا ہے کہ میں معاف نہیں کرسکتا. اگر میں کسی کی زیادتی کو بڑا سمجھ کر معاف نہیں کرسکتا تو مجھے کیا حق ہے کہ اپنے بڑے جرائم بناء سزا معاف ہوجانے کی رب سے امید رکھوں؟ ہاں یہ درست ہے کہ رب کریم رحمٰن و رحیم ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ وہ اپنے بندے سے وہی معاملہ کریں گے جیسا معاملہ اس نے اپنے اختیار سے دیگر مخلوق کیساتھ کیا ہوگا. اس حدیث کو دیکھیئے
.
نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس کی آرزو ہو کہ وہ جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہو جائے تو اس کی موت اس حالت میں آنی چاہیے کہ وہ لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کی شہادت دیتا ہو اور وہ لوگوں سے بھی وہی معاملہ کرے جو اپنے لئے چاہتا ہو‘‘۔( الطبرانی)
.
گویا اگر کوئی انسان اپنے لئے روز قیامت معافی چاہتا ہے تو چاہیئے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں کو معاف کرنے کی عادت ڈال لے. بیشمار آیات و احادیث میں ہماری یہی تربیت کی گئی ہے. اگر یہ حقیقت آپ کو سمجھ آگئی ہے تو راقم بحیثیت بھائی آپ سے یہ استدعا کرتا ہے کہ آج ہی اس انسان کو فون کریں یا اس سے ملاقات کریں جس کے خلاف آپ کے دل میں رنجش ہے، اس سے پوری محبت سے بات کریں اور اسے صدق دل سے اللہ کی رضا کیلئے معاف کردیں.
.
دھیان رہے کہ معاف کردینا محض الفاظ کا ادا کرنا نہیں ہے بلکہ یہ اپنے دل کو مخاطب کی جانب سے صاف کرلینے کا نام ہے. مشاہدہ ہے کہ خواتین کو خاص کر یہ مرحلہ درپیش ہوتا ہے کہ وہ اگر الفاظ سے معاف کر بھی دیں تو ساری زندگی دل صاف نہیں کر پاتی. ان کا دل بدستور اس زیادتی پر زخمی رہتا ہے اور بعض اوقات تو وہ منتظر رہتی ہیں کہ کب فلاں شخص اسی دنیا میں اپنی برائی کی سزا پالے. ایسا معاف کرنا کسی زاویئے سے بھی معاف کرنا نہیں ہے. اگر آپ بھی خود میں اسی روش کو موجود پاتے ہیں تو جان لیں کہ یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے جس سے آپ کو نجات حاصل کرنی چاہیئے. ایسی صورت میں ایک آزمودہ علاج یہ ہے کہ اس زیادتی کرنے والے انسان کیلئے دن رات خیر کی دعا کریں چاہے خود پر جبر کرکے کرنی پڑے. ساتھ ہی اللہ پاک سے اپنے لئے بھی دعا مانگیں کہ وہ آپ کے دل کو راضی فرما دے.
.
====عظیم نامہ====

بدبو


شراب ہو یا ہیروئن گانجے کی طرح کوئی بھی نشہ سب سے ایک ناگوار بدبو اٹھتی ہے۔ یہ اصول تو نہیں ہے مگر مشاہدہ ہے کہ روزمرہ کی خورونوش کی اشیاء میں اکثر طیب چیزیں خوشبودار اور غیر طیب چیزیں بدبودار ہوتی ہیں۔ کچا گوشت چاہے مچھلی کا ہو یا کسی اور جانور کا، جب تک کچا رہتا ہے اسے کھایا نہیں جاتا۔ یہاں تک کہ اسے اتنا پکایا جاتا ہے کہ وہ گلنے لگے اور بدبو خوشبو میں تبدیل ہوجائے۔ جیسے ابتداء ہی میں عرض کیا کہ یہاں اصولی بات نہیں ہورہی بلکہ راقم اپنا ایک احساس قاری سے بانٹ رہا ہے۔ کئی ایسی حلال اشیاء بھی ہیں جن کی بو خوشگوار نہیں جیسے پیاز یا لہسن وغیرہ۔ مگر اول تو انکی بو اتنی بری بھی نہیں ہوتی کہ انسان کو کھڑے رہنا دوبھر ہوجائے اور دوم یہ کہ ان کو کھا لینے کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں منہ کی اضافی صفائی کے اہتمام کی تلقین کرتی ہے اور اس بدبو کیساتھ مساجد آنے سے منع کرتی ہے۔ اونٹ کے گوشت میں چونکہ اضافی بو ہوتی ہے، اسلئے ایک فقہ میں تو اس قدر احتیاط ہے کہ اونٹ کا گوشت تناول کرنے کے بعد دوبارہ وضو کرنے کا حکم ہے۔
۔
رفع حاجت سے جو بدبودار فضلہ باہر آتا ہے، اس کی بدبو ہی سلیم الفطرت انسان کو اس سے جلدازجلد نجات پر ابھارتی ہے۔ یہی معاملہ الٹی ہوجانے یا ریح کے خارج ہونے کا ہے، اسکی معیوبیت کی اصل بدبو ہی ہے۔ بہترین قیمتی کھانا بھی اگر سڑ گل جائے تو بدبودار ہوکر کھانے کے قابل نہیں رہتا۔ انسان نہائے نہیں، گندہ رہے تو اس سے بدبو اٹھنے لگتی ہے۔ گویا کسی شے کی بدبو اور خوشبو اگر ہمیشہ نہیں تو اکثر اس شے کا مخفی و ظاہری احوال سناتی ہے۔ کھانے پینے یا استعمال کی وہ چیزیں جن کے حلال، حرام یا مکروہ ہونے میں آدمی کو بعض اوقات اشکال ہوتا ہے۔ ان کی بو ہمیں محتاط کرسکتی ہے یا سمجھنے میں کسی قدر معاون ہوسکتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص سنتوں میں سے ایک سرفہرست سنت خوشبو لگانا ہے اور دوسری سرفہرست سنت ہر وضو کے وقت مسواک کرنا ہے۔ مسواک دانتوں کی صفائی کرکے نہ صرف بدبو یا گندگی دور کرتی ہے بلکہ لکڑی کی مہک خوشبو بھی چھوڑجاتی ہے۔ اگر ہم اسی روح کو سمجھتے ہوئے دور حاضر میں موجود کسی اور جدید طریق کو اختیار کرتے ہیں جو حرام نہ ہو اور خوشبو بھی پیدا کردے تو راقم کے نزدیک ایسا کرنا احسن عمل ہے۔ اسکی ایک مثال ان ماوتھ فریشنرز کا استعمال ہے جو حلال اجزاء پر مبنی ہیں اور منہ کی بو دور کردیتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ایک مسلم و مومن کیلئے بدبو سے بچنا اور خوشبو کا اہتمام رکھنا ضروری ہے۔ کچھ احادیث کے مضمون سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بدبو ملائکہ کو اذیت دیتے ہیں اور انہیں آپ سے دور رکھتے ہیں۔ جبکہ نیک اعمال کے ساتھ صفائی اور خوشبو کا اہتمام ملائک کو اپ سے نزدیک رکھتا ہے۔
۔
====عظیم نامہ====

سائنسی مزاج

زیادہ سائنسی مزاج کے لوگ نئی تحقیق کے نام پر چیزوں کو مضر صحت اور زیادہ مذہبی مزاج کے افراد مذہب کے نام پر چیزوں کو حرام یا مکروہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں. سچ یہ ہے کہ اپنی اصل میں نہ سائنسی ذوق رکھنا غلط ہے اور نہ ہی مذہبی مزاج ہونا معیوب ہے. لیکن جس طرح کسی بھی شے کی زیادتی مضر ہے. ویسے ہی سائنس یا مذہبیت کا ہیضہ طاری ہوجانا غلط ہے. ہم امت وسط ہیں اور ہمیں ہر معاملے میں اعتدال کی تلقین کی گئی ہے
.
====عظیم نامہ ====