Friday, 16 December 2016

'خواہش'، 'عقل' اور 'وحی'


 'خواہش'، 'عقل' اور 'وحی'



مومن کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی 'خواہش' پر 'عقل' کو حاکم مانتا ہے اور 'عقل' پر 'وحی' کو نگران تسلیم کرتا ہے. اس کے برعکس ملحد 'عقل' ہی کو معراج سمجھ بیٹھتا ہے. جس طرح آپ کسی ملحد سے یہ دریافت کریں کہ اگر خواہش عقل کے صریح خلاف ہو تو کیا کرنا چاہیئے؟ اس کا عمومی جواب یہی ہوگا کہ ایسی خواہش سے ہر صورت اجتناب کیا جانا چاہیئے. ٹھیک اسی طرح جب کسی مومن سے پوچھا جائے گا کہ اگر عقل کا کوئی فیصلہ وحی کے صریح خلاف نظر آئے تو کیا کرنا چاہیئے؟ اس کا ہر صورت جواب یہی ہوگا کہ ایسی صورت میں بھی وحی کی ہی پیروی کی جائے گی. یہ اور بات کہ دین کے عمومی احکام کبھی عقل و فطرت کی نفی نہیں کرتے. علم اور مشاہدہ دونوں گواہی دیتے ہیں کہ 'عقل' اپنی تمام تر عظمتوں اور حشر سامانیوں کے باوجود محدود ہے اور مسلسل غلطیوں کا بھرپور احتمال رکھتی ہے. دوسری جانب اگر وحی کا من جانب اللہ ہونا کسی عاقل پر ثابت ہوجائے تو پھر اس میں نقص پایا جانا ممکن نہیں لہٰذا ٹھوکر کھانے کا امکان بھی باقی نہیں رہتا. گویا مومن خواہش کو عقل اور عقل کو وحی کے تابع کرکے ایک ایسے مقام پر کھڑا ہوپاتا ہے، جہاں اسے قلبی و عقلی دونوں سکون حاصل ہوتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

No comments:

Post a Comment