Sunday, 29 September 2019

مجذوب فقیر

حکایت ہے کہ کسی شخص نے ایک اللہ والے مجذوب فقیر کی شہرت سنی تو منت سماجت کرکے اسے اپنے گھر لے آیا۔ اس کے گھر والو نے فقیر کی دل کھول کر خدمت کی، بہترین پکوان کھلائے، مہنگے کپڑے دیئے، اس کے پیر دبائے اور بیش قیمتی تحائف پیش کیئے۔ آخر میں اس شخص نے فقیر سے التجا کی کہ وہ اسکے گھر اور خاندان کیلئے دعا کرے۔ چنانچہ فقیر نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور کچھ یوں کہا "اللہ کرے کہ پہلے تیرا باپ مرے، پھر تو مرے، پھر تیری اولاد مرے آمین"۔ یہ الفاظ سنتے ہی اس شخص کی ساری عقیدت یکلخت ختم ہوگئی اور اس نے غم و غصہ سے فقیر کو گریبان سے جکڑ کر کہا کہ کمبخت تو کیسا انسان ہے؟ میں نے تیری اتنی خدمت کی، میری اولاد نے تیرے پیر دبائے اور میرے والد نے تجھے سرآنکھوں پر رکھا۔ مگر تو نے ہمیں اتنی گھٹیا دعا دی؟
۔
فقیر نے محبت سے خود کو چھڑوایا اور کہا کہ اس میں کچھ بھی گھٹیا نہیں بلکہ یہ انتہائی رحمت والی دعا ہے۔ موت تو برحق ہے، جسے کوئی ٹال نہیں سکتا مگر خیر اسی میں ہے کہ رب موت کو فطری ترتیب میں دے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے ضعیف باپ اور معصوم بچوں کو بے سہارا چھوڑ کر پہلے تم خود مرجائو؟ یا پھر تم یہ چاہتے ہو کہ تم سے پہلے تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری نوجوان اولاد مر جائے؟ میں نے تو رب سے یہی دعا و درخواست کی ہے کہ تم اس اضافی کرب و اذیت سے بچ سکو اور تمہارے گھر میں موت ترتیب سے آئے یعنی "اللہ کرے کہ پہلے تیرا باپ مرے، پھر تو مرے، پھر تیری اولاد مرے آمین"
۔
====عظیم نامہ====

استنبول - میری نظر سے (قسط اول)

استنبول - میری نظر سے (قسط اول)
=====================
.
میں کچھ عرصہ قبل ترکی جاچکا ہوں اور انطالیہ، الانیہ، ائیوسلار، انسیکم، پاموکالے جیسے علاقے گھوم چکا ہوں. میرا یہ فیملی ہولیڈے توقع سے زیادہ بہترین گزرا تھا مگر ایک کمی پھر بھی رہ گئی تھی اور وہ یہ کہ میں نے اس خوبصورت ملک کا وہ شہر اب بھی نہیں دیکھا تھا جو اسکی شان ہے یعنی استنبول. ترکی کی سرزمین اور عوام دونوں نے ہی میرا دل جیت رکھا تھا. پچھلے سال ہی جب پاکستان جانے کا ارادہ کیا تو خیال آیا کہ کیوں نا ترکی کا ٹرانزٹ ویزہ لے کر تین روز استنبول قیام کرتے ہوئے کراچی جاؤں؟ ٹکٹ دیکھا تو قیمت کا معمولی سا فرق تھا. فوری ارادہ کرلیا اور اپنے قریبی دوست سے جو لندن میں مقیم ہے، اس کا ذکر کیا. پلان سن کر اس نے بھی ساتھ چلنے کی خواہش کردی. نہ صرف وہ بلکہ ہمارا ایک اور مشترکہ انگریز دوست بھی پلان سن کر چلنے کیلئے راضی ہوگیا. چنانچہ استنبول کے ایک سلطانی طرز کے چھوٹے سے خوبصورت ہوٹل میں دو کمرے نہایت مناسب قیمت میں بک کروالیے گئے اور مقررہ دن پر ہم استنبول جاپہنچے. کیا ہی حسین اور منفرد شہر ہے استنبول ! ہزار سالہ اسلامی تاریخ جاننی ہو، خلافت عثمانیہ کا جاہ و جلال محسوس کرنا ہو یا پھر شاہی طرز تعمیر دیکھنا ہو. استنبول اپنی مثال آپ ہے. اسے مساجد کا شہر کہا جاتا ہے. جس طرف نظر کرو وہاں ایک سے ایک حسین مسجد قائم نظر آتی ہیں. سیاحوں کے اژدہام کے باوجود صفائی اور نظم و ضبط اپنے عروج پر دیکھائی دیتا ہے. مسکراتے ہوئے، مدد کیلئے تیار اور صفائی پسند ترک عوام سیاح کے تجربے کو مزید مثبت بنادیتے ہیں. ہوٹل، ریسٹورنٹ، سڑکیں، پارک .. جہاں بھی جاؤ ہر طرف خوبصورت بلیاں آزادانہ گھوم رہی ہیں. یوں لگتا ہے کہ مقامی باشندوں کو ان سے خاص انس ہے. کتوں کی بھی ایک اچھی تعداد آزادانہ گھوم رہی ہے، جن کے ساتھ گورنمنٹ نے ٹریکر لگا رکھے ہیں. یہ کتے دیکھنے میں ہرگز بھی آوارہ کتے نہیں لگتے بلکہ مہنگی نسل کے محسوس ہوتے ہیں. نہ جانوروں کو مقامی انسانوں سے کوئی خوف ہے اور نہ ہی رہائشیوں کو ان جانوروں سے کوئی خطرہ. مسلم ملک ہونے کی بناء پر تمام کھانے حلال ہیں. مقامی ڈشوں میں ہمیں سب سے زیادہ پسند ان کا ایک روایتی میٹھا آیا جس کا نام "کنافے" ہے اور جسے چیز یعنی پنیر کے ساتھ بنایا جاتا ہے. اسی طرح ان کی مٹھیاں جو ٹرکش ڈیلائیٹ کہلاتی ہیں مزیدار ہیں. خریداری کے حوالے سے اگر صحیح سودا کیا جائے تو قیمتیں مناسب ہیں. ترکی کے نقش و نگاری سے مزین برتن اور نہایت خوبصورت قمقمے خریداروں کے پیر جکڑ لیتے ہیں. دکانداروں کے ایجنٹ ہر مصروف چوک پر خریداروں کی تاک میں رہتے ہیں. ایک قالین فروش نے تو ہمارے دوست کی چڑ بنالی. ہم جہاں جاتے وہ مل جاتا اور لپک کر اسکے پاس جاپہنچتا. آتے جاتے ہر جگہ لوگ قہوے یا سیب کی چائے سے تواضع کرتے. مجھے سبز سیب کی چائے بہت پسند آئی جو میں پینے کا موقع نہیں چھوڑتا.
.
ممتاز سیاحی مقامات قریب قریب واقع ہیں. سب سے پہلے ہم نے 'ہیگیہ صوفیہ' کو دیکھا. یہ عظیم الشان عمارت اپنے آپ میں صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہے. یونانی کاریگروں کے ہاتھوں تیار کردہ یہ تعمیر دراصل اپنی ابتداء میں ایک چرچ تھا اور کہا مشہور ہے کہ اس نے فن تعمیر کی انسانی تاریخ کو بدل ڈالا. زمانے کے بہت سے سرد و گرم دیکھنے کے بعد خلافت عثمانیہ نے اسے مسجد میں تبدیل کردیا. محراب، منبر اور مینار اس میں شامل کردیئے گئے مگر ١٩٣٥ میں اسے عوام کیلئے ایک میوزیم کی طرح کھول دیا گیا. اس کے وسیع ہال میں کھڑے ہوکر انسان مبہوت رہ جاتا ہے کہ ایک جانب تو اللہ عزوجل، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے اسم مبارک آویزاں ہیں اور ساتھ ہی مریم علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام اور ملائک کی تصاویر بھی چھت پر نقش ہیں. یہاں سے نکل کر ہم دوسرے مقبول ترین سیاحی مقام 'بلیو موسق' یانی نیلی مسجد میں داخل ہوئے. اس مسجد کا حقیقی مگر غیرمقبول نام سلطان احمد مسجد ہے اور اسے عثمانی خلافت کے جاہ و جلال کے ساتھ سلطاں احمد نے 'ہیگیہ صوفیہ' کے بلکل سامنے تعمیر کیا تھا. یہ ایک خوبصورت اور فن تعمیر کی شاہکار مسجد ہے. اس کا ایک حصہ تمام سیاحوں کیلئے کھلا ہے مگر قانون ہے کہ مسجد کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے جسم اور سر ڈھانک کر اندر داخل ہوں. اسی مسجد کا دوسرا حصہ نمازیوں کیلئے خاص ہے. ہم تینوں دوستوں نے وہاں نماز ادا کی. اپنے غیر مسلم دوست کو وضو اور نماز کا طریق سیکھایا.
.
دوسرے روز ہم نے تاریخی مقامات میں خلافت عثمانیہ کا شاید سب سے بڑا مظہر 'ٹوپ کاپی پیلس (محل)' دیکھا. یہ ایک عالیشان محل ہے جو عثمانی سلطانوں یا خلفاء کی چار سو سال تک رہائش گاہ رہی ہے. یہ چار بڑے آنگنوں اور بہت سی چھوٹی چھوٹی عمارتوں پر مشتمل ہے. باغ، فوارے، سپاہیوں کی رہائش گاہیں، خاندان سلطان کا گھر، حرم، خدمت گزاروں کنیزوں کے ٹھکانے، مشاورت کی زبردست جگہیں، عدالتیں اور بیت المال. اس محل میں اتنا کچھ ہے کہ اسکی تفصیل پر کتاب لکھی جاسکتی ہے اور لکھی جاچکی ہیں. 'ٹوپ کاپی پیلس (محل)' کا ایک حصہ میوزیم بنادیا گیا ہے جہاں وہ وہ اسلامی تاریخی نوادرات موجود ہیں جو دنیا میں کہیں اور نہیں. اہل بیت سے لے کر صحابہ اکرام رضی اللہ اجمعین تک کی بیشمار استعمال شدہ چیزیں یہاں موجود ہیں. پھر وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا کرتا مبارک ہو، تیرہ سو سالہ پرانا قران حکیم ہو، غلاف کعبہ ہو یا پھر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تلواریں. تاریخ کا ایک خزانہ آپ کا منتظر ہے. تلواروں کا سائز دیکھ کر بے اختیار مجھے ان اصحاب کی جسمانی قد و قامت کا اندازہ ہونے لگا. حضرت جعفر بن طیار ، حضرت ابو بکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اجمعین کی تلواریں مجھے بقیہ تلواروں سے دیکھنے میں زیادہ بھاری محسوس ہوئیں. ایک حیرت انگیز مشاہدہ یہ بھی ہوا کہ کچھ برتنوں اور تلواروں پر جو صحابہ کے زیر استمال تھے یا صحابہ کے دور سے بہت قریب تھے، تصاویر بنی ہوئی تھیں. ان تصاویر میں زیادہ تر شبیہہ شیر، عقاب یا ڈریگن کی تھی. رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہید دندان مبارک، موئے مبارک اور نقش قدم بھی یہاں موجود ہے. ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر نشانیاں جیسے آپ کا خط یا انگوٹھی مبارک بھی موجود ہے. قدیم قرانی نسخہ ہو یا دیگر تحاریر مجھے اعراب نظر نہیں آئے. اسی میوزیم کا ایک اور حصہ دیگر انبیاء کی نوادرات سے آراستہ ہے. جیسے حضرت یوسف الیہ السلام کی پگڑی یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا !! ان کا یہاں موجود ہونا میرے لئے نہایت حیرت کا سبب تھا اور میرے ذہن میں شکوک پیدا ہونے لگے. میں نے ایک ایک کر کے کئی لوگوں سے وہاں اسکے بارے میں دریافت کیا کہ اگر انبیاء کے یہ ہزاروں سال پرانے نوادرات سچے ہیں تو انہیں کہاں سے ملے؟ اور اسکا کیا ثبوت ہے؟ ثبوت تو ظاہر ہے مجھے کوئی نہ مل سکا مگر ایک صاحب علم سے یہ معلوم ہوا کہ خلافت عثمانیہ جب آدھی دنیا پر راج کررہی تھی تب ان نوادرات کو مصر اور حجاز سے یہاں لے آیا گیا. گویا یہ نوادرات مختلف حصوں میں نسل در نسل منتقل ہوئی تھیں اور ان سب کو سلطنت عثمانیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا اور آج اسے ہم اس محل میں دیکھ پارہے ہیں. بات میں کتنا سچ ہے؟ یہ تو اللہ ہی جانے مگر بہرحال ان کے صحیح یا غلط دونوں ہونے کا امکان موجود ہے.
.
====عظیم نامہ====
(جاری ہے)

استنبول - میری نظر سے (قسط دوم-ختم شد)

استنبول - میری نظر سے (قسط دوم-ختم شد)
=============================
۔
شام ہوتے ہوتے جسم دکھنے لگا. مشورہ آیا کہ کیوں نا ٹرکش حمام جایا جائے؟ استنبول کے ایک قدیم ترین حمام کا پتہ ہمیں معلوم ہوا، وہاں پہنچے تو ایسا لگا جیسے وقت کا پہیہ سینکڑوں سال پیچھے چلا گیا ہو. یہ زمین دوز حمام پرانے طرز تعمیر کا نمونہ تھا. مساج کیلئے پہلوان نما ترک مرد بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ ہمیں گھور رہے تھے. ایک لمحے کو دل چاہا کہ الٹے قدموں بھاگ لیں مگر کچھ تذبذب کے بعد حامی بھر لی. ستر ڈھانپنے کو ہمیں ایک بڑا تولیہ دیا گیا، جسے ہم نے سختی سے لپیٹ لیا اور برہنگی نہ ہونے کو یقینی بنایا. ہمیں ایک بڑے ہال میں لے جایا گیا جہاں گرم پانی کے قدیم نلکے جاری تھے. چاروں طرف کسی لمبے برش سے جھاگ ہی جھاگ میں لپیٹ دیا گیا اور بیس پچیس منٹ بعد گرما گرم پانی کے کٹورے سر پر انڈیلے جانے لگے. جسم میں سکون اور درد دونوں محسوس ہورہا تھا. اس کے بعد ان پہلوان نما مردوں نے مساج کے نام پر وہ پہلوانی کی جو آپ نے انگریزی ریسلنگ میں بھی نہ دیکھی ہوگی. دائو پیچ سے کڑاکے نکل رہے تھے۔ ہم تینوں کو اس دوران ہنسی بھی آرہی تھی اور چیخیں بھی نکل رہی تھیں. بہرحال یہ جان لیوا مرحلہ بھی ختم ہوا اور ہم نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے واپس اپنے ہوٹل کی راہ لی. اگلے روز ایک اور اسلامک ہسٹری کا میوزیم دیکھا جہاں ایسے ایسے نوادرات دیکھنے کو ملے کہ حیرت ہونے لگی. رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی نشانیاں اتنے قریب سے دیکھنا فرحت کا سبب تھا. اسکے بعد ہم نے "بیسی لیکا سسٹرن" دیکھا. یہ سینکڑوں سال پرانا پانی کا ذخیرہ ہے جو استنبول شہر کے نیچے یعنی زمین دوز ہے. یہ چھٹی صدی میں رومن سلطنت نے قائم کیا تھا. اب اس پانی کے ذخیرے میں مچھلیاں تیرتی ہوئی نظر آتی ہیں. یہاں دیومالائی داستان کی کردار 'میڈوسا' کے دو سر بھی ستونوں کے ساتھ نسب ہیں. کہتے ہیں کہ انہیں رومن سلطنت کے آخری ادوار میں یہاں منتقل کیا گیا تھا. 'میڈوسا' کی یونانی داستان بڑی دلچسپ ہے. جس کے مطابق میڈوسا عورت کی شکل کی ایک بلا تھی جس کے پر تھے اور جس کے سر پر بالوں کی جگہ سانپ لٹکتے تھے. جو اسے دیکھ لے وہ پتھر کا بن جاتا تھا. میڈوسا کا سر ایک یونانی ہیرو پرسیس نے قلم کردیا تھا. جو پھر بعد میں اس کے سر کو اپنی ڈھال سے لگا کر رکھتا اور دشمن کو پتھر کا بنا دیتا. کہانی طویل ہے مگر ایک وقت آتا ہے جب میڈوسا کا سر خود کو آئینے میں دیکھتا ہے اور خود پتھر کا بن جاتا ہے. یہی وہ پتھر کا سر ہے جو اس عمارت میں نسب ہے. ظاہر ہے کہ کہانی فرضی ہے مگر گریک متھولوجی کے شوقین لوگوں کیلئے یہ ایک تحفے سے کم نہیں. سسٹرن کی اس عمارت میں ہی ہم تین دوستوں نے سلطانی لباس اور تلواریں سنبھال کر کچھ تصاویر بھی کھنچوائی اور اس بچپنے میں ہمیں خوب مزہ آیا.
.
یہاں سے فارغ ہوکر ہم پتھر سے بنے "گلاٹا ٹاور" گئے. اس عظیم الشان عمارت کی اونچائی پر پہنچ کر پرانے استنبول کا نظارہ کرنا خوش کن تجربہ تھا۔ بگلے ہمارے آس پاس آکر بیٹھ رہے تھے. کچھ دیر بعد ہی ہم نے واپسی کی راہ لی. شام میں ہم نے ایک بحری جہاز کا ٹرپ بک کروا لیا تھا جو ہمیں خوش قسمتی سے کافی مناسب پیسوں میں دستیاب ہوگیا تھا. یہ ایک چھوٹا سا خوبصورت جہاز تھا جو ہمیں آبی راستے سے پورا استنبول گھماتا رہا. جہاز کے اندر بہترین کھانے کا اہتمام تھا. طرح طرح کے پروگرام پیش کیئے جانے لگے جیسے سلطانی طرز کا ڈرامہ، روایتی رقص، تلوار زنی، میجک شو وغیرہ. سب سے عمدہ پروگرام صوفی رقص تھا، جس میں ایک صوفی نے پہلے سیاہ اور پھر سرخ رنگ کے کپڑوں میں پورے اہتمام سے گول گھوم کر ایک وجدانی رقص پیش کیا. پہلی بار اس صوفی رقص کا فلسفہ سمجھ آیا۔ میں جہاز کے اپر ڈیک پر چلا گیا اور کتنی ہی دیر استنبول کی مختلف تعمیرات دیکھتا رہا. رات دیر کو ہم تینوں دوستوں نے "تقسیم اسکوائر" جانے کا پلان بنایا جو بلاشبہ استنبول کی رونق کا نمونہ ہے. خوبصورت علاقہ، بیشمار دکانیں، روشنیاں، ان گنت لوگ ایک سحر سا پیدا کردیتے ہیں. یہاں ہم نے پہلی بار یہاں کا روایتی میٹھا "کنافا" تناول کیا، جس کا ذائقہ اسوقت بھی زبان پر محسوس ہورہا ہے. رات گئے یہاں گھومتے رہے اور پھر ہوٹل واپس آکر نڈھال سو گئے. صبح ناشتے کے وقت اپنے ایک مقامی دوست کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اسکی بحث ایک اور مقامی سے ہونے لگی. ہمارا دوست طیب اردگان کا پرزور حامی تھا اور دوسرا شخص اردگان کا پرجوش دشمن جو کہہ رہا تھا کہ اس کی وجہ سے دھماکے ہورہے ہیں، سیاحت متاثر ہورہی ہے. جب کہ ہمارے دوست کا کہنا تھا کہ یہ دھماکے اردگان کو روکنے کیلئے کیئے جارہے ہیں جس نے اس معاشرے میں ایک بار پھر اسلامی اقدار بحال کی ہیں. میں نے خاموشی سے ان کی باتیں سننے اور سوالات کرنے تک خود کو محدود رکھا. ایک بزرگ خاتون ہاتھوں میں کچھ اخروٹ تھامے اسے بیچنے کی کوشش کررہی تھے، میں نے ان سے کچھ زیادہ دام دے کر وہ لے لئے تو انہوں نے میرا چہرہ تھام کر اتنی دعائیں دیں کہ دل خوشی سے بھر گیا. ہم نے اپنے اس دوست سے طے کیا کہ ہم کسی اور کو پیسے دینے کی بجائے تمہیں پیسے دیں گے، تم ہمیں اپنی گاڑی میں کچھ روحانی مقامات لے کر جاؤ. چانچہ ہم اسکے ساتھ روانہ ہوئے. سب سے پہلے وہ ہمیں 'یوسھا ہل ' لے گیا جو خاصی اونچائی پر ایک خوبصورت مقام تھا. یہاں ہم کچھ دیر قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوئے.
اس کے بعد ایک لمبی ڈرایو کرکے پڑوسی شہر 'آیوپ' گئے جہاں حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ مدفون ہیں. فاتحہ پڑھی اور نماز بھی اسی مسجد میں ادا کی. دعاؤں سے فراغت کے بعد باہر علاقہ گھومنے لگے تو ہمارا مقامی دوست اچانک خوشی سے چلانے لگا. وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ اس نے کچھ اور پاکستانی دیکھے ہیں جو اردو بول رہے ہیں. اسے لگتا تھا کہ یہ ہمارے لئے نہایت خوشی کی بات ہوگی. بہرحال اسکے جذبے کو دیکھ کر میں اس کے ساتھ گیا تو وہ سبز پگڑیوں میں ملبوس دعوت اسلامی کے کچھ بھائی تھے. ان سے دعا سلام ہوئی اور ہم واپس گاڑی میں سوار ہوگئے. ہمارا یہ دوست ہمیں ایک بہت معروف دینی بزرگ محمد تقادی کے مزار پر لے گیا جہاں اردگرد خوبصورت پھول موجود تھے. ہم نے پھر فاتحہ پڑھی، کچھ دیر رکے اور واپسی کی راہ لی. اسکے بعد ایک نہایت خوبصورت مسجد گئے جسے سلطنت عثمانیہ میں تعمیر کیا گیا تھا. اس کا نام ہے 'سکولو محمود پاشا مسجد'. خوبصورت طرز تعمیر اور نقش و نگاری کے علاوہ یہاں حجر اسود کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی موجود ہے. مسجد کا وہ حصہ بند کیا جاچکا تھا مگر ہمارے دوست نے جب ہمارے بارے میں بتایا تو اس ترک بزرگ نگہبان نے ہمیں کچھ دیر وہاں جانے کی اجازت دے دی. حجر اسود کے اس ٹکڑے کو انگلی کے لمس سے محسوس کیا اور دعائیں کی. یوں ہمارا یہ سفر بھی ختم ہوا. استنبول کے دو بازار بہت مشہور ہیں پہلا ہے گرینڈ بازار اور دوسرا ہے اسپائس بازار. کافی دیر ہم دکانیں دیکھتے رہے، سودے بازیاں کرتے رہے اور مقامی تحفے تحائف خریدتے رہے. میں نے اپنے دوستوں کیساتھ خوبصورت نقوش والی کچھ پلٹیں خریدی. واپسی کا وقت ہوچکا تھا لہٰذا ہم تینوں نے ہوٹل سے سامان اٹھایا اور ٹیکسی سے ائیرپورٹ کی راہ لی. ہمیں یقین نہیں آرہا تھا اور ہم ایک دوسرے کی پیٹھ تھپتھپا رہے تھے کہ صرف تین دنوں میں ہم نے اتنے سارے مقامات گھوم لئے. گو ابھی بھی کئی ایسے مقامات ہیں جن کا مضمون میں ذکر ہونے سے رہ گیا ہے.
.
====عظیم نامہ====

مخلص اور ایمان دار


آپ کا مخلص اور ایمان دار ہونا آپ کے عقلمند اور درست ہونے کی دلیل نہیں ہے.
۔
آپ بیک وقت نہایت مخلص اور انتہائی احمق ہوسکتے ہیں.
۔
اسی طرح آپ کا پوری ایمان داری سے تحقیق کرنا آپ کے صحیح ہونے کا حتمی ثبوت نہیں ۔
۔
آپ بیک وقت اچھے محقق اور مکمل غلط ہوسکتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

نیکی

یہ حقیقت ہے کہ بعض اوقات اپنی کسی نیکی کا بیان دوسروں کیلئے ترغیب کا سبب بن جاتا ہے. مگر کچھ نیکیاں اپنے نامہ اعمال میں ایسی ضرور رکھیں جو صرف آپ کے اور آپ کے رب کے درمیان مخفی رہیں. ایمان پوشیدہ ہے اور پوشیدہ نیکیوں سے قوی ہوتا ہے.
.
====عظیم نامہ====

فطرت کی رہنمائی

اگر عقل اپنے مدارج، فطرت کی رہنمائی میں طے کرے تو اسکا لازمی نتیجہ ایک ایسا سکون ہے جو آپ کا قلبی و عقلی شخصیت کا مکمل احاطہ کرلیتا ہے. قران حکیم میں اسکی مثال حکیم لقمان علیہ سلام کی صورت میں دی گئی ہے، قران کے اسلوب سے واضح ہے کہ وہ غالباً نہ تو نبی تھے اور نہ ہی کسی نبی کے پیرو. مگر انہوں نے اپنی عقل کا استمعال فطرت کی رہنمائی میں کیا تو اسی حکمت کے وارث بن گئے جو انبیاء کی میراث ہے. ابراہیم علیہ سلام بھی نبوت ملنے سے قبل اسی فطرت کی رہنمائی میں اپنی عقل کا استمعال کرتے رہے، کبھی سوچا کہ سورج میرا رب ہے، پھر مسترد کیا. پھر چاند ، ستاروں کو رب کہا مگر عقل و فطرت نے اسے بھی مسترد کردیا. بلاخر فطرت کی رہنمائی میں اس عقلی ارتقاء سے وہ یہ جان گئے کہ یہ سب خود مخلوق ہیں اور خالق وہ ہے جو انہیں ایک نظام کا پابند کرتا ہے. نبوت انہیں اس دریافت کے بعد عطا ہوئی. عام انسانی تاریخ میں فیثا غورث اور سقراط اسی عقل و فطرت کے امتزاج کا بہترین نمونہ ہیں. میرا ماننا یہ ہے کہ جب اخلاص فطرت کی رہنمائی میں تعقل کے درجہ پر پہنچتا ہے تو حقیقت الہام کردی جاتی ہے.
.
====عظیم نامہ====

نحوست


گناہوں کی یہی نحوست کتنی غلیظ ہے کہ بندہ ذوق عبادت کھو بیٹھے، ذکر کی حلاوت سے محروم ہونے لگے اور سجدے کی توفیق اس سے چھننے لگے. ارشاد الٰہی کا مفہوم ہے کہ نماز کی پابندی گناہوں سے روکتی ہے مگر اس میں یہ پیغام بھی مضمر محسوس ہوتا ہے کہ اس کا الٹ ہوجائے یعنی گناہ کی دانستہ کثرت بندے کو نماز کی پابندی سے روکنے لگے.
.
===عظیم نامہ====