Friday, 30 November 2018

سب سے بڑا جاہل اور نالائق

سب سے بڑا جاہل اور نالائق

۔
مجھ سمیت ہر وہ شخص جو خود کو دین کا طالبعلم گردانتا ہے، اسے سوچنا چاہیئے کہ کیا یہ حصول علم وہ فی الواقع اپنی کردار سازی اور اپنے تزکیہ عمل و فکر کیلئے کرتا ہے؟ یا پھر یہ سب پڑھنا پڑھانا، تحقیق کرنا اور پیش کرنا محض ایک علمی چٹخارہ ہے؟ اپنے نفس کی بھوک کا سامان ہے؟ کیا واقعی اسکے علم کا محور قران و سنت سے پہلے خود کو اور پھر اردگرد کو بہتر بنانا ہے یا پھر یہ سب اسکے لئے ایک ڈھکوسلہ ہے؟ کسی افیم و چرس کی مانند یہ کتب بینی، یہ مکالمہ مذاکرے بھی کوئی نفسیاتی نشہ ہے؟ ایک ایسا نشہ جس کی تسکین کیلئے وہ پڑھتا ہے، پڑھاتا ہے، لکھتا ہے یا محافل میں علمیت بگھارتا ہے؟ اگر دین کا علم حاصل کرکے ہم میں اپنی اصلاح نفس کی فکر بیدار نہیں ہوتی تو یہ علم نہیں بلکہ سراب ہے۔ دین سیکھتے یا سیکھاتے ہوئے اگر ہمارا سارا زور اسی پر ہے کہ کسی طرح تحقیق کے نام پر کوئی علمی نتیجہ پیش کردیں۔ اپنے علم کے ڈنکے بجوا دیں تو بلاشبہ ہم سے بڑا جاہل اور نالائق اور کوئی نہیں !
۔
====عظیم نامہ====

بات تو اچھی کہی ہے

بات تو اچھی کہی ہے


آج کل یہ چلن بھی عام ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی بات کسی مذہبی شخصیت جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول بنا کر یا کوئی بھی بے وزن سا شعر کسی معروف شاعر جیسے غالب وغیرہ سے منسوب کرکے آگے بڑھا دیا جاتا ہے. لوگوں کا حال یہ ہے کہ فقط اس شخصیت یا شاعر سے قلبی نسبت کی وجہ سے وہ اس جعلی قول یا نقلی شعر پر واہ واہ کے ڈونگرے بھی برساتے ہیں اور اپنے احباب سے بھی اسی توصیف کی امید کرتے ہیں. طرہ یہ ہے کہ اگر انہیں توجہ دلائی جائے کہ بھائی جی یا بہنا جی آپ کی یہ شائع کردہ بے وزن شاعری ہرگز ہرگز اقبال کی نہیں ہے. تب ترنت دو جواب ملتے ہیں. پہلا "اچھا ! اگر اقبال کا نہیں ہے تو پھر کس کا ہے؟" .. یعنی کیونکہ ہم نے انہیں بتایا کہ یہ کلام اقبال کا نہیں، اسلئے لامحالہ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان صاحب کو یہ بھی ڈھونڈھ کر بتائیں کہ یہ فضول کلام آخر ہے کس کا؟ .. میاں گنگو تیلی کا ہے ! بشیر الیکٹریشن کا ہے ! یا شمشاد نائی کا ہے ! ہمیں کیا معلوم؟ ایک شعر نما سنیئے:
.
بلبل کی چونچ میں ہے گچھا انگور کا
مہندی رنگ لاتی ہے سوکھ جانے کے بعد
.
کل اگر آپ درج بالا فضول شعر فرما کر اسے اقبال کا نام دے دیں اور آپ جیسے دیگر اسے آگے بڑھانے لگیں تو کیا ہم جیمز بانڈ بن کر آپ کی کھوج کرتے پھریں گے؟

دوسرا جوابی حملہ ڈھٹائی سے یہ ہوتا ہے کہ اگر اقبال کا نہیں بھی ہے تو کیا ہوا؟ بات تو اچھی کہی ہے ! .. گویا ان کی نظر میں کوئی بھی اچھی بات لکھ کر اسے اقبال، جناح یا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کردیں تو کوئی حرج کی بات نہیں.یعنی میں اگر یہ اچھی بات لکھوں کہ "روز اپنے والد کی ٹانگیں دابا کرو" اور اپنی اس بات کو مشہوری کی خاطر محمد علی جناح کا قول بنا کر پیش کر دوں تو کوئی مسئلہ نہیں؟ صحیح مسلم کی ایک حدیث کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ « كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع » ... کسی انسان کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کر دے۔‘‘ .. یہاں حکم صرف سنی سنائی بات کا ہے. اچھی یا بری بات کی قید رکھی ہی نہیں. مگر یہاں تو اللہ معاف کرے حال یہاں تک ہے کہ لوگ کسی گھڑی ہوئی بات کو "الحدیث" لکھ کر بھی شیئر کرنے سے نہیں چوکتے. پھر ان کیلئے کسی نامعلوم شعر پر اقبال کا نام لکھ دینا کون سی بڑی بات ہوگی؟ مان لیا کہ سوشل میڈیا پر معلومات کے اس سیلاب میں بعض اوقات یہ جاننا نہایت کٹھن ہوجاتا ہے کہ کون سی بات سچ ہے اور کون سی جھوٹ؟ مگر خدا کیلئے جب کوئی آپ کو توجہ دلائے تو کم از کم اتنی اخلاقی جرأت ضرور دکھایئے کہ غلطی کا اعتراف کرلیں. یا کم از کم اسے اپنی فیس بک وال سے ہٹا لیں تاکہ مزید لوگوں میں ایک جھوٹی بات نہ پھیلے.
.
====عظیم نامہ====

میرا پسندیدہ مصنف


میرا پسندیدہ مصنف

۔
میں نے ابوالاعلی مودودی کی سحر انگیز تحریروں کو پڑھا ہے، میں نے ابوالکلام آزاد کی انشاء پردازی کا کمال دیکھا ہے۔ میں نے ڈاکٹر اسرار احمد کی نثر میں بھی ان کی گرج محسوس کی ہے، میں نے وحید الدین خان کی اصلاحی تحریروں کا حسن سراہا ہے۔ میں نے اشفاق احمد کے ناولوں سے محبت کو جذب کیا ہے، میں نے جون ایلیاء کے مضامین میں بغاوت کی کاٹ کو جھیلا ہے۔ میں نے قدرت اللہ شھاب کے قلم سے امڈتی مثبت لہروں کو اپنے وجود کا حصہ بنایا ہے، میں نے سعادت حسن منٹو کی عینک سے معاشرے کا تاریک چہرہ بھگتا ہے۔ میں نے غزالی سے تصوف کا سبق سمجھا ہے، میں نے ابن تیمیہ سے علمی تنقید کو سیکھا ہے۔ میں نے تقی عثمانی کی نثر سے اکابرین کی روایات کو جانا ہے، میں نے اقبال کے خطبات میں مذہبی فکر کی تعمیر نو کا مطالعہ کیا ہے۔ میں نے سرسید اور غلام احمد پرویز کے مضامین میں چھپی عقلیت پسندی کے سیلاب کا سامنا کیا ہے، میں نے غامدی اور ابن حزم کی تعبیرات کو سمجھا ہے۔ ایسے ہی ان گنت نام اور ہیں جنہیں میں نے پڑھا اور جن کے زور بیان کو محسوس کیا۔ مشرقی و مغربی کتنے علماء، فلاسفہ، حکماء کو اب تک پڑھا؟ سچ پوچھیئے تو شائد اب یادداشت سے سب کا نام لکھ دینا ممکن ہی نہیں۔ مگر ایک بات ان سب میں مشترک تھی اور وہ یہ کہ اپنے اپنے منفرد انداز تحریر میں ان کو کمال حاصل تھا۔
۔
مجھے خود پر حیرت ہے کہ اتنے زور بیاں رکھنے والو کو پڑھنے کے بعد بھی جو مصنف مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ وہ تو اس کے اپنے بقول مصنف ہے ہی نہیں۔ اس کا نام "ممتاز مفتی" ہے۔ جو حقیقت میں نہ دانشوری کے اعتبار سے "ممتاز" تھا اور نہ ہی کسی بھی زاویئے سے "مفتی" تھا۔ شائد ممتاز مفتی مجھے اسلئے پسند ہے کہ وہ کوئی پارسا نہیں بلکہ میری طرح گناہوں سے لتھڑا ایک کمزور انسان تھا۔ فرق اتنا ہے کہ اس میں اعتراف کی جرات ہے اور مجھ میں نہیں۔ میں فقط عمومی سچ بولتا ہوں۔ جبکہ ممتاز مفتی اپنی ذات و کردار کے بارے میں سچ بولتا ہے۔ وہ کہانیاں سناتا ہے، افسانے بھی گھڑتا ہے مگر ان سب کے بیچ وہ ایسی سچائیوں کا بیان کرجاتا ہے۔ جو مجھ جیسے نام کے شرفاء کو اکثر گوارا نہیں ہوتی۔ عجیب شخص ہے یہ ! جسکی تحریر اپنی واہ واہ ہی نہیں چاہتی۔ بلکہ کئی بار تو اسے چوک پر برہنہ کھڑا کردیتی ہے۔ جس پر لوگ ہنستے ہیں اور کئی نفرت سے تھوک بھی دیتے ہیں۔ دوسروں کے متعلق سچ بولنا کون سی بڑی بات؟ مگر کوئی اپنے بارے میں اتنی سفاکی سے سچ کیسے بول سکتا ہے؟؟ بطور قاری کئی بار میں چیخ پڑتا ہوں کہ نہیں ممتاز ! نہیں ! خدا کیلئے اب مزید سچ نہ بولو۔ خود کو اتنا ذلیل نہ کرو۔ مگر وہ بے لاگ بولتا ہے۔ اس کا تعلق اپنے خدا سے بھی نرالا ہے۔ جو تقدس کی چادر میں لپٹا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ ایک قلندر و مجذوب کی بیقرار صدا ہے۔ ورنہ کس ہوش مند کی جرات ہے؟ کہ وہ رب کعبہ کو اپنی تحریر میں کھلے عام عجب حالت جذب میں 'کالے کوٹھے والا' کہہ کر مخاطب کرے؟ اور پھر بھی مولوی کی تکفیر سے بچ نکلے؟ ان کے قریبی ترین دوستو میں قدرت اللہ شھاب، ابن انشاء، اشفاق احمد اور واصف علی واصف جیسے بڑے روحانی لوگ شامل ہیں۔ شھاب صاحب کو ممتاز مفتی مرشد کی جگہ بھی دیتے تھے۔ ان سب کے نام کے بعد لوگ آج بھی رحمتہ اللہ علیہ کا لاحقہ لگادیتے ہیں۔ اس حلقہ یاراں میں فقط ممتاز مفتی ہی وہ گنہگار نام ہے جو اس لاحقے سے محروم ہے۔ اور کیوں نہ محروم ہو؟ کہ جب وہ ساری زندگی ہی ملامتی فرقے کا غیبی امام بن کر رہا۔ ممتاز مفتی سے نفرت کرنی ہو تو 'علی پور کا ایلی' پڑھیئے۔ مگر جو کبھی ان سے محبت سیکھنی ہو تو 'لبیک'، 'تلاش' اور 'الکھ نگری' پڑھیئے۔
۔
====عظیم نامہ====

شریف النفسی کا دور

شریف النفسی کا دور

Image may contain: 2 people, people smiling 
 
پچھلے دو روز سے پاکستانی عوام کو ایک چٹخارہ میسر آیا ہوا ہے. 'ھیلنا' نامی ایک امریکی شہری اپنی محبت 'کاشف' سے شادی کرنے کیلئے سیالکوٹ پاکستان پہنچ گئی اور جلد دونوں نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں گے. چٹخارہ یہ ہے کہ 'ھیلنا' کی عمر اکیالیس برس جبکہ 'کاشف' کی عمر فقط اکیس برس ہے. بس پھر کیا ہے؟ پوری قوم کی ہنسی چھوٹ رہی ہے، دانت نکل رہے ہیں، فقرے کسے جا رہے ہیں کہ امریکی عورت نے پاکستانی بچہ گود لے لیا. لونڈا پھنسا لیا. یا پھر لڑکے نے امریکی شہریت کیلئے ہاتھ مار لیا. وغیرہ وغیرہ. دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی قوم ہے جو اس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہونے کی دعویدار ہیں جنہوں نے پچیس برس کی عمر میں چالیس برس کی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تھا اور ان کے ساتھ ایک نہایت بہترین ازدواجی زندگی بسر کی تھی. جب یہی الزام کوئی دشمن اسلام آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک پر لگاتا ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ انہوں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح مال و دولت کی لالچ میں کیا تھا تو اس پر آگ بگولہ ہوجاتے ہیں. مگر آج اس نوجوان پر بناء کچھ جانے یہ الزام لگاتے نہیں چوک رہے کہ اس کا یہ نکاح کا فیصلہ امریکی شہریت یا مال کی لالچ میں ہے. افسوس صد افسوس ہے.
.
بڑے بوڑھوں نے یہ رونا بھی ڈال رکھا ہے کہ ہمارا دور شریف النفسی کا دور تھا. اب تو اس کمبخت انٹرنیٹ نے کباڑا کر رکھا ہے. جسے دیکھو عشق کا مریض ہے. مان لیا کہ انٹرنیٹ نے رابطہ اتنا آسان بنا دیا ہے کہ مرد و عورت کے مابین تعلقات کے امکانات وسیع ہوگئے ہیں. مگر یہ سوچنا کہ ان بڑے بوڑھوں کا زمانہ بڑا پاک تھا، ہمارے نزدیک خود فریبی کے سوا کچھ نہیں. فرق فقط اتنا ہے کہ کل رقعے پھینکے جاتے تھے اور آج واٹس ایپ ہوتا ہے. کل چھتوں پر چڑھ کر تاکا جھانکی کرتے تھے اور آج فیس بک پر پروفائل گھومے جاتے ہیں. ہماری اکثریت انڈیا سے ہجرت کرکے آئی ہے. ذرا تکلف کرکے اپنے بڑے بوڑھوں کے دور کی تحقیق کیجیئے. کس کس کے کس کس سے چکر چلے ہیں؟ سب سامنے آجائے گا. معلوم ہوگا کہ تمام تر قدامت پسندی اور مذہبی اقدار کے باوجود بہت سی لڑکیاں اس وقت بھی بھاگ کر شادی کیا کرتی تھیں، اس وقت انٹرنیٹ پر جنسی بے راہ روی موجود ہے تو پہلے زمانے کے کئی لڑکے خاص طرح کا سینما اور مجرہ دیکھا کرتے تھے. دھیان رہے کہ ہم آج موجود بڑھتی ہوئی برائی کا انکار یا دفاع نہیں کر رہے. بلکہ اتنا سمجھا رہے ہیں کہ ماضی میں بھی سب حاجی غفور اور نیک پروین نہیں تھے.
.
جو بھی ہو تم پہ معترض، اس کو یہی جواب دو
آپ بہت شریف ہیں، آپ نے کیا نہیں کیا !
.

میری جانب سے تو 'ھیلنا' اور 'کاشف' کو شادی کی ڈھیروں مبارک اور نیک تمنائیں. باقی بحیثیت اجتماعی ہم ویسے ہی دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کے چیمپئن ہیں. لہٰذا اگنور اینڈ فکر ناٹ !
.
====عظیم نامہ====

اگر آپ

اگر آپ


اگر آپ لوگوں میں خوشیاں بانٹنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو خوش رہنا ہوگا
اگر آپ معاشرے میں سکون و سلامتی کی علامت بننا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو خود پرسکون رہنا ہوگا
اگر آپ ماحول کیلئے مثبت انرجی کا مرکز بننا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو اپنی سوچ مثبت بنانا ہوگی
.
یہ درست ہے کہ ایک مسلمان فقط اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ آگے بڑھ کر اپنے معاشرے کی اصلاح میں بھی عملی و علمی کردار ادا کرتا ہے. مگر یہ اپنی جگہ سچ ہے کہ ہماری کوشش کا اولین میدان ہمارا اپنا نفس ہونا چاہیئے. اس کا تزکیہ و تطہیر ہوگی تب ہی خارج میں ہم کسی بہتری کا موثر ذریعہ بن سکیں گے. ورنہ خود فریبی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا. سوشل میڈیا پر استاد، محقق یا لکھاری بننے سے قبل اپنے اندر ضرور جھانک کر دیکھ لیجیئے کہ جو میں کہہ رہا ہوں اس کا ایک قابل قدر حصہ مجھے خود حاصل ہوچکا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو پہلے سالک و طالبعلم بن کر اپنی ذات پر محنت کیجیئے، اپنے نفس کو توجہ کا محور بنایئے. ایک بار جو آپ کو وہ خیر حاصل ہوگیا تو آپ دیکھیں گے کہ لوگ خود آپ کو پکڑ پکڑ کر پوچھیں گے. آپ سے سیکھیں گے. اب آپ کے قلب و فکر میں اطمینان بھی ہوگا اور قول و فکر میں تضاد بھی نہ ہوگا. اب آپ کی زبان سے ادا کردہ ہر کلمہ پراثر ہوگا. گویا بات متکلم کے دل سے نکلے گی اور مخاطب کے دل میں گھر کر لے گی.
.
====عظیم نامہ====

علت

علت

ایک ہے حکم کی "علت" اور دوسری شے ہے اس حکم کی "حکمت". "علت" اس بنیادی وجہ یا نتیجے کو کہتے ہیں جس کی بنیاد پر حکم صادر کیا گیا. جبکہ حکمت ان ممکنہ فوائد کا نام ہے جو اس حکم کی بجاآوری سے عامل کو حاصل ہوسکتے ہوں.
.
الہامی حکم کی "علت" قران و سنت کے نصوص سے ہی معلوم ہوسکتی ہے. اسے فقط غور و فکر سے گھڑا نہیں جاسکتا. دین میں رب العزت نے کچھ احکامات کی "علت" بیان فرما دی ہے اور کچھ کی نہیں. جن کی بیان فرمادی انہیں ہم کسی کمی و بیشی کے بغیر من و عن تسلیم کرتے ہیں. جن کی نہیں بیان کی ان کے بارے میں کسی بھی خامہ فرسائی سے گریز کرتے ہیں. جیسے روزے کی "علت" کلام پاک میں تقویٰ کا حصول بیان ہوئی ہے. لہٰذا ارشاد باری تعالیٰ ہے:
.
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو!تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلی اْمتوں پر فرض کئے گئے تھے، اسی سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی۔‘‘ (البقرہ183)
.
"حکمت" کا معاملہ البتہ جدا ہے. "حکمت" چونکہ ممکنہ فوائد کا نام ہے، اسلئے اگر ان کا بیان نصوص میں صراحت سے نہ بھی ہوا ہو تب بھی غور و فکر کرکے اور دین کا عمومی پیغام مدنظر رکھ کے انہیں پیش کیا جاسکتا ہے. بس اتنا ملحوظ رہے کہ چونکہ اسکی سند قران و سنت میں صریحاً درج نہیں ہے، اسلئے "حکمت" کا یہ بیان قطعیت کے ساتھ نہ کیا جائے بلکہ بطور امکانات ان کا ذکر ہو.
.
یہ بھی دھیان رہے کہ جب آخری درجہ میں حکم کا من جانب اللہ ہونا ثابت ہوگیا تو اب ایک مسلمان کی عقل اپنے بنانے والے کی نازل کردہ وحی کی پابند ہوگئی. اب یہ احکامات کی پوشیدہ حکمت تو ضرور کھوج سکتی ہے، طالبعلمانہ سوالات تو کرسکتی ہے مگر ان احکامات کے قبول و رد کا میعار ہرگز نہیں بن سکتی. حکمت کا جاننا یا نہ جاننا اب احکام پر عمل کرنے یا نہ کرنے کی دلیل نہیں بن سکتا. اب تو بس سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا اصول لاگو ہوگا یعنی 'ہم نے سنا اور اطاعت کی'.
.
====عظیم نامہ====

نیکی یہ بھی ہے

نیکی یہ بھی ہے


کچھ دن قبل ایک چھوٹے سے مقامی 'فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ' میں کھانا کھانے گیا. حسب معمول وہی پاکستانی لڑکا کھانا پکاتا اور پیش کرتا نظر آیا. مگر آج اس کے چہرے پر شدید تھکن تھی. میں کچھ لمحے اس کا تھکن سے چور چہرہ دیکھتا رہا. پھر اسے محبت سے مخاطب کیا. میں نے اسے بتایا کہ میں ایک زمانے سے اسے اسی ریسٹورنٹ میں جانفشانی سے کام کرتا دیکھ رہا ہوں اور اس کی محنت و صلاحیت کا خود کو قائل پاتا ہوں. میں نے اعتراف کیا کہ علاقے بھر میں سب سے اچھا پیزا اور رول اسی کے پاس ملتا ہے. صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اسکی کسٹمر سروس بھی بہت اعلی ہے. وہ یہ سب سن کر کبھی مسکراتا اور کبھی شرماتا رہا. اب اس کا چہرہ دمک رہا تھا اور جیسے تھکاوٹ چہرے سے رخصت ہوچکی تھی. (دھیان رہے کہ میری یہ تعریف بناوٹی نہیں تھی بلکہ میں فی الواقع اس کا دل میں معترف تھا، بس اظہار آج کیا تھا)
.
اسی طرح چند روز پہلے میں ایک علاقے کی دکان سے کچھ پھل خرید رہا تھا. کاونٹر کے پیچھے بیٹھا وہ افغانی شخص خالی آنکھوں سے دیوار کو تک رہا تھا. میں نے اسے سلام کرنے کے بعد خیریت پوچھتے ہوئے اس سے دریافت کیا کہ آج وہ اتنا بجھا بجھا کیوں ہے؟ وہ پہلے جھجھکا مگر پھر جیسے پھٹ پڑا. اس نے بتایا کہ کس طرح اسے اس کی محبت نے دھوکہ دے دیا اور اب اسے جینے کی کوئی چاہ محسوس نہیں ہوتی. وہ خود کو گم کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ کام کرتا ہے مگر یہ اذیت اسکی جان نہیں چھوڑتی. اس نے اپنے موبائل میں سے ایک تصویر نکالی جس میں ایک نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا. اس نے پوچھا کہ جانتے ہو یہ کون ہے؟ میں نے کہا نہیں میں نہیں جانتا. اس نے دکھی لہجے میں کہا کہ یہ میں ہوں ! صرف دو سال پہلے کی تصویر میں. اب اس غم نے مجھے بوڑھا کردیا ہے. میرا چہرہ زرد ہوگیا ہے اور بال تیزی سے گررہے ہیں. وہ اپنے دل کا حال کسی مشین کی مانند سنائے جارہا تھا. جیسے اس نے کہنے کیلئے بہت کچھ جمع کررکھا ہو مگر کسی کو اسے سننا گوارہ نہ ہو. میں خاموشی سے اسے سنتا رہا اور دبے دبے لفظوں میں اس کا حوصلہ بڑھاتا رہا. اسے بتایا کہ وہ اس دھوکہ کھانے میں تنہا نہیں ہے. کتنے ہی مرد عورتوں سے اور عورتیں مردوں سے یونہی دھوکہ کھا بیٹھتی ہیں. اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ایک بیوفا محبت کیلئے بہت سی سچی محبتوں کو بھلا بیٹھیں. خدا، رسول، والدین، بھائی بہن، دوست - یہ سب بھی تو محبت ہی کے روپ ہیں؟ وہ اپنا دکھڑا مجھ سے کہہ کر اب کچھ ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا.
.
دوستو نیکی یہی نہیں ہے کہ آپ بس لوگوں کو مذہبی عبادات جیسے نماز روزے کی جانب بلاتے رہیں. بلکہ نیکی یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کے کام آئیں. صدقہ یہی نہیں ہے کہ آپ بکرا ذبح کردیں یا فقیروں میں خیرات بانٹ دیں بلکہ صدقہ یہ بھی ہے کہ آپ کسی دکھی کو حوصلہ دے دیں. ہم سب کے اردگرد ایسے بیشمار مواقع ہوا کرتے ہیں، جب لوگوں کو ہماری ضرورت ہوتی ہے. یقین کیجیئے اس نفسا نفسی کے دور میں آج لوگوں کو مثبت انرجی کی جتنی ضرورت ہے، اتنی مال کی نہیں ہے. لوگوں سے مسکرا کر ملیں، انہیں حوصلہ دیں، ان کی بات کو بغور سنیں. یہی بہت بڑی نیکی ہے.
.
====عظیم نامہ====