Friday, 30 November 2018

الجیرین


الجیرین 


انگلینڈ میں ساری دنیا کی اقوام آباد ہیں. لہٰذا مختلف ممالک کے لوگوں کے متفرق مزاج دیکھنے اور سمجھنے کو ملتے ہیں. مسلم ممالک میں 'الجیریا' کے لوگوں میں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ ان سب میں غضب کا غصہ ہوتا ہے. ہم پاکستانی آپس میں ازراہ مذاق انہیں پٹھان دماغ کہا کرتے ہیں. وجہ ظاہر ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں سب سے زیادہ غصہ پٹھان برادری میں نظر آتا ہے. الجیریا کے یہ افراد انسان دوست، مہمان نواز اور دیگر خوبیوں کے حامل ہیں. مگر ان کا غصہ اکثر ان کی خوبیوں پر پانی پھیر دیتا ہے. مزیدار بات یہ ہے کہ اپنی اس اجتماعی خامی کا اعتراف بھی یہ کرتے ہیں.مگر کوشش کے باوجود اس مزاج کی گرمی سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتے. آج ایک الجیرین بھائی سے گپ شپ لگی جو ایک زمانے سے انگلینڈ ہی میں مقیم ہے. اس نے بتایا کہ کس طرح ابتدائی سالوں میں اس کا ہر روز کسی نہ کسی گورے یا کالے سے مارپیٹ ہوتی. وجہ وہی غصہ تھا. وہ بتانے لگا کہ ہم سب اس کمزوری کی وجہ سے اپنی بات صحیح سے بیان نہیں کر پاتے. مکالمے، گفتگو یا اپنی بات بتاتے ہوئے ہمارا پارہ چڑھ جاتا ہے اور اکثر دماغ اتنا گرم ہوجاتا ہے کہ جو کہنا چاہتے ہیں وہ کہہ نہیں پاتے.
.
میرا یہ الجیرین بھائی اپنی اس خامی پر قابو پانے میں اتنا سنجیدہ ہے کہ وہ ماہرین نفسیات کے پاس چلا گیا اور ان سے اس قومی مزاج پر گفتگو کی. نفسیات کے ڈاکٹرز نے اسے جو وجہ بتائی، وہ وجہ اسے بالکل درست محسوس ہوئی. وجہ یہ ہے کہ الجیریا میں عموماً بچوں کی تربیت اس انداز میں ہوتی ہے کہ انہیں اپنی رائے کا اظہار نہیں کرنے دیا جاتا. کبھی آنکھیں دیکھا کر، کبھی ڈانٹ کر اور کبھی مار کر ان کی رائے کو کچل دیا جاتا ہے. سوال پوچھیں تو اس سوال کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی. وہ بتا رہا تھا کہ کس طرح بچپن میں جب وہ اپنے والد سے کوئی سوال کرتا تو وہ اسے یکسر نظر انداز کردیتے جیسے سنا ہی نہ ہو، وہ دوبارہ پوچھتا، تیسری بار پوچھتا تو اسے اتنے غصے سے گھورتے کہ وہ سہم کر خاموش ہو جاتا. باپ کو گلے لگانا یا ماں سے لپٹ جانا معیوب تھا. والد کے انتقال کے وقت جب وہ تکلیف میں آئے تب بھی اس کے بڑے بھائی میں انہیں تھامنے کی ہمت نہ ہوئی اور وہ بس صدمے سے اپنا ہی منہ نوچتا ہوا گھر سے بھاگ گیا. رائے کچلنے، جواب نہ ملنے اور اپنوں کے ہاتھوں مسلسل بے عزتی کا یہ غصہ بچپن سے انسان کے اندر پلتا رہتا ہے، بغاوت بن کر کسی سلگتے انگارے کی مانند دہکتا رہتا ہے. اسی حال میں وہ جوان ہوتا ہے اور یوں اس غصے کے مرض کا شکار ہوجاتا ہے.
.
میں اسکی اس تکلیف دہ روداد کو سنتا رہا اور کچھ اپنے تجربات بھی بتاتا رہا. سوچتا ہوں کہ یہ مسئلہ شائد صرف الجیریا کا نہیں بلکہ پاکستان کا بھی ہے. بلکہ اپنی اصل میں تو یہ مسئلہ کسی قومیت کا ہے ہی نہیں بلکہ انسانی نفسیات کا ہے. جہاں بھی انسانی نفسیات کو کچلا جائے گا وہاں ایسے ہی تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے. آپ اگر ایک سلیم المزاج انسان ہے تو فیصلہ کریں کہ اپنی اولاد، اپنی بیوی، اپنے گھروالو کی عزت نفس کو مسلنے نہیں دیں گے. ان سے مشاورت کریں گے. ان کی رائے کو اہمیت دیں گے. تب ہی بدلاؤ ممکن ہے. اگر آپ کو شکایت ہے کہ آپ کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہیئے تھا تو ٹھان لیں کہ آپ اپنی نسل کو اس محرومی سے گزرنے نہیں دیں گے. ان شاء اللہ
.
====عظیم نامہ====

علمی موضوعات

علمی موضوعات


ہمارے نزدیک کچھ علمی موضوعات آج ایسے ہیں جن پر بعد از تحقیق قلم اٹھانا ضروری ہے. میں وقت ملتے ہی خود کوشش کروں گا کہ اسے زیر قلم لاؤں. البتہ اگر آپ میں تسلی بخش جواب دینے کی اہلیت ہے تو میں آپ کو بھی ترغیب دیتا ہوں کہ ان سوالات و موضوعات کے تحقیقی جوابات مرتب کیجیئے جو دلائل سے پوری طرح مزین ہوں.
.
ا. 'نظریہ ارتقاء اور مذہبی بیانیہ' - اس عنوان کے تحت دو پہلو اجاگر کیئے جائیں. پہلا یہ کہ وجود خدا ، نظریہ ارتقاء کے ماننے نہ ماننے سے مشروط نہیں. دوسرا پہلو یہ کہ چودہ سو سال میں تخلیق انسان و دیگر مخلوقات کے بارے میں موجود علماء کی متفرق آراء
.
٢. 'ڈیزائن آرگیومنٹ' پر ہونے والی تنقید جو مختلف مغربی فلاسفہ کی جانب سے کی گئی ہے، اس تنقید کے ہر ایک نکتے کا مرحلہ وار شافی جواب. قران مجید کا طالبعلم یہ خوب جانتا ہے کہ بندگی خدا کے استدلال میں 'ڈیزائن آرگیومنٹ' کو کلیدی حیثیت حاصل ہے.
.
٣. 'سب خدا نے بنایا تو خدا کو کس نے بنایا؟' - اس سوال کا جواب دور حاضر میں کئی اہل علم دے چکے ہیں. مگر ابھی بھی ضرورت ہے کہ اس جواب کو مزید مربوط و مظبوط کرکے پیش کیا جائے. تاکہ اس اعتراض کا فاسد و باطل ہونا ثابت ہوسکے.
.
٤. 'محدود زندگی کے محدود گناہوں کی سزا لامحدود جہنم کیوں؟' - اس سوال کا ممکنہ جواب بھی قران و حدیث سے کئی اہل علم دے چکے ہیں. اسلاف میں سے بھی اور دور حاضر سے بھی. گو ابھی تک کسی نے ان دلائل کو یکجا کرکے بھرپور صورت میں پیش نہیں کیا ہے.
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: کمنٹس میں جوابات لکھنے سے بہتر ہے کہ جوابات کو اپنی وال کی زینت بنائیں. ورنہ کم از کم اہل علم کو دعوت دیں کہ وہ ان عنوانات پر تحقیقی مقالے لکھیں)

لفظ "اسلام" کے کیا معنی

لفظ "اسلام" کے کیا معنی


لفظ "اسلام" کے کیا معنی ہیں؟
۔
اس سوال کا جواب تین اعتبارات سے دیا جاسکتا ہے یا پھر یوں کہہ لیجیئے کہ لفظ اسلام کے تین معنی ہیں۔ پہلا لغوی معنی، دوسرا اصطلاحی معنی اور تیسرا قانونی معنی۔
۔
لغوی معنی کے اعتبار سے اسلام لفظ 'سلام' یعنی سلامتی سے نکلا ہے اور سلام کا مادہ لفظ 'سلم' یعنی خود کو مکمل حوالے کردینا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام کے لغوی معنی یہ ہوئے کہ خود کو احکام الہی کے سامنے مکمل سپرد کردینا اور یوں معاشرے میں سلامتی کا مظہر بن جانا۔ گویا سلم سے سلام کا سفر اسلام ہے۔
۔
اصطلاحی معنی درحقیقت وہ معروف معنی ہے جو معاشرے میں رائج ہیں اور اس کے اعتبار سے 'اسلام' شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کا نام ہے۔ حالانکہ قران حکیم نے مختلف شریعت کے حامل دیگر انبیاء اور ان کے پیروکاروں کو بھی مسلم ہی کہا ہے۔ مگر جیسے عرض کیا کہ اصطلاحی یا معروف معنی آج یہ ہیں کہ وہ شخص جو رسالت و شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہو۔ اسی لئے جب کوئی شخص یہ تصدیق کرتا ہے تو ہم سب کہتے ہیں کہ وہ 'اسلام' لے آیا ہے۔
۔
قانونی معنی وہ معنی ہیں جو شرعی نصوص سے ثابت ہوں۔ اس اعتبار سے اسلام ظاہر سے متعلق ہے اور ایمان باطن سے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں درج متفقہ علیہ حدیث جسے حدیث جبرئیل کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ ثابت ہے کہ اسلام پانچ چیزوں کو ماننے اور عمل کرنے کا نام ہے۔ ان پانچ چیزوں کو آج ہم ارکان اسلام بھی کہتے ہیں۔ گویا اللہ اور اسکے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی شہادت دینا، نماز، روزہ، حج اور زکات۔ جو کوئی ان پانچ ارکان کو مانتا ہے وہ قانونی اعتبار سے مسلم ہے اور اسے معاشرے میں مسلم ہی کے حقوق حاصل ہونگے۔ گو اخروی نجات ایمان کے بناء ممکن نہیں۔ جس کے چھ ارکان بھی اسی حدیث جبرئیل میں مذکور ہیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی شائد مناسب ہو کہ جس طرح اللہ پر ایمان لانے کا مطلب ایک خدا پر ایمان لانا ہے. یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میں اللہ پر ایمان لانا مگر ساتھ میں رام، کرشنا، وشنو کو بھی خدا مانتا ہوں معاذ اللہ. ٹھیک ویسے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننا ختم نبوت کو ماننا ہے. یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی کہے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا مگر ساتھ ہی ان کے بعد فلاں، فلاں اور فلاں کی نبوت پر بھی ایمان لایا. آسان الفاظ میں اللہ پر ایمان کا معنی توحید اور رسول پر ایمان کے معنی ختم نبوت کے ہیں.
۔
====عظیم نامہ====

لڑا دے ممولے کو شہباز سے

لڑا دے ممولے کو شہباز سے


کچھ دیر قبل ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں ایک خوفناک ببر شیر ایک انسان کے اعتماد کے سامنے بھیگی بلی بنا کھڑا ہے
.
ایک ایسی ویڈیو بھی نظر سے گزری جس میں ایک گھر میں پلا کتا ایک مرغی کے چوزے سے مار کھا کھا کر بھاگ رہا ہے
.
ایک اور ویڈیو میں دیکھا کہ ایک چھوٹا سا چوہا بڑی سی بلی پر حملہ آور ہے اور بلی خوفزدہ یہاں سے وہاں جان بچانے بھاگ رہی ہے
.
یہ اور اس جیسی نا جانے کتنی مثالیں ایسی ہیں جو ہم پر اس حقیقت کو منکشف کرتی ہیں کہ ہمت ہو تو اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور دشمن سے بناء خوف لڑا جاسکتا ہے. اور اگر ہمت نہ ہو تو طاقت کے باوجود کمزور کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے. طاقت حاصل کرنا بہت اہم ہے مگر اس سے بھی اہم اس ہمت کا ہونا ہے جو موجود طاقت کے استعمال کیلئے درکار ہے. یہ خودی محکم ہو تو پھر ناممکن بھی بعض اوقات ممکن ہوجاتا ہے. شائد اسی حقیقت کو اقبال یوں بیان کرگئے ہیں
.
اُٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے
.
ظاہر ہے درج بالا شعر میں اقبال عمومی صورت کا ذکر نہیں کررہے بلکہ یہاں خودی و ہمت کی پختگی بیان کرنا مقصود ہے. جس کی امثال ہم نے تحریر کی ابتداء میں درج کی ہیں. تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے جب مٹھی بھر باہمت افراد کثیر تعداد طاقتور مگر کم ہمت دشمن پر غالب آئے. کچھ کم فہم افراد نے اس شعر کی بنیاد پر اقبال کے افکار کو مذاق بنانا چاہا ہے جو کسی طور مناسب نہیں. عمومی اصول اقبال کے نزدیک بھی وہی ہے جو ہم سب کی دانست میں درست ہے اور وہ یہی کہ طاقت کا حصول ہر صورت ممکن بنایا جائے. اسی لئے اقبال یہ بھی فرماتے ہیں کہ
.
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
.
====عظیم نامہ====

دروازہ

دروازہ


انسان کیلئے کسی بھی شے کا علم یا کسی بھی شخص کی محبت منزل نہیں. فقط دروازہ ہے. اور دروازے کا کام یا تو راستہ دینا ہوتا ہے یا پھر راستہ روکنا. اب یہ ہمیں خود دیکھنا ہے کہ کسی کی محبت نے ہمارا راستہ روک تو نہیں دیا؟ اس خاکی جسم کے پنجر میں جکڑی انسان کی یہ روح اپنے اس بنانے والے سے ملنے کو بیتاب ہے. مومن کی ترجیح اول، مومن کی حتمی منزل صرف خدا ہے. یہ خود سے خودی اور خودی سے خدا کا سفر ہے. کسی بھی شے کا علم اگر اس شے کے صانع تک نہیں پہنچاتا تو وہ حقیقی علم نہیں بلکہ اس شے پر انسانی نظریات کا غاصبانہ قبضہ ہے. کسی بھی مخلوق کی محبت اگر اس کے خالق تک آپ کو نہیں لے جاتی تو وہ حقیقی محبت نہیں بلکہ ایک نادیدہ حجاب ہے.
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 6 November 2018

دہرایا گیا پیغام


دہرایا گیا پیغام



بعض اوقات مخصوص حالات و واقعات کے دوران آپ کی کہی ایک بات، مخاطب کے ذہن میں مستقل گھر کرلیتی ہے۔ مگر کلیہ یہ ہے کہ عام طور پر ایک بار میں دیا پیغام سامع یا قاری کی یادداشت میں پیوست نہیں ہوا کرتا۔ اسکے لئے لازمی ہے کہ آپ اپنی بات یا سمجھ کو کم از کم تین سے پانچ بار تک موثر انداز میں مخاطب کو پہنچاتے رہیں۔ قوی امکان ہے کہ آپ کا یہ متعدد بار دہرایا گیا پیغام اسکے لاشعور میں غیر محسوس طور پر اپنی جڑیں بنا لے۔ کچھ ہی عرصہ بعد جب وہ کسی بات کو اپنی سمجھ جان کر بیان کرے گا تو وہ فی الواقع اسی سوچ کا عکس ہوگی جس کا بیج کبھی آپ نے بویا تھا اور جسے پانی و روشنی آپ نے دہرا دہرا کر فراہم کی تھی۔ یہی انسانی نفسیات ہے۔ عمل تنویم یعنی ھپناسس میں اسے آج اختیار کیا جاتا ہے۔ لاتعداد مصلح، فلسفی اور دانا شخصیات نے اسی طریق کو اپنایا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تعلیم دیکھیئے تو وہ اس پہلو کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ لہذا ایک ہی اصلاحی بات کو مختلف مواقع پر مختلف انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بیان کیا۔ زیادہ اہم باتوں کو تو اکثر ایک ہی وقت میں تین تین بار دہرا کر مخاطبین کو تعلیم فرمایا۔ قران حکیم میں بھی رب کریم انسان کی نفسیات کو ملحوظ رکھ کر اپنا پیغام دہرا دہرا کر پیش کرتا ہے۔ تاکہ یہ الہامی ہدایات قاری کی شخصیت کا حصہ بن جائیں۔ انگریزی میں کہتے ہیں To Hammer It Down جیسے سورہ الزمر کی 23 آیت میں ارشاد ہوتا ہے۔ 

۔
"اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے جس سے ان لوگوں کےرونگٹےکھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں آخر میں انکے جسم اور دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔"
۔
====عظیم نامہ====

کہتے ہیں جسے عشق .. خلل ہے دماغ کا


کہتے ہیں جسے عشق .. خلل ہے دماغ کا



آپ بھلے مجھے جاہل و گستاخ ہی سمجھ لیجیئے مگر مجھے یہ کہنے دیجیئے کہ عشق کوئی احسن شے نہیں ہے جسکے حصول کیلئے مجاہدہ کیا جائے. اگر کسی بیماری یا دماغی خلل کی طرح زبردستی لگ جائے تو اور بات وگرنہ عشق ایک غیر متوازن رویہ ہے جس میں انسان خرد و توازن سے بیگانہ ہوکر ایک ہی جانب مبہوت و جامد ہوکر رہ جاتا ہے. دین نے ہمیں محبت کرنا سکھایا ہے، شدید محبت کرنا سکھایا ہے مگر عشق کی تلقین بلکل نہیں کی. محبت میں توازن و حسن ہوتا ہے، یہ ایک ہی وقت میں بہت سے مخاطب بنا لیتی ہے. رب سے محبت، رسول سے محبت، والدین سے محبت، مسلمانو سے محبت، انسانوں سے محبت، بچوں سے محبت وغیرہ. عشق میں معشوق کے سوا سارے رشتے معدوم ہو کر رہ جاتے ہیں جو دین کی منشاء نہیں. محبت کے ضوابط و تقاضے ہوتے ہیں. جبکہ عشق اپنے معشوق کا نام لے کر اکثر تمام حدود کو پامال کر چھوڑتا ہے. بقول مرزا اسد اللہ خاں غالب 
.
کہتے ہیں جسے عشق .. خلل ہے دماغ کا !
.
====عظیم نامہ====