Thursday, 1 November 2018

پلیس ایبو افیکٹ (Placebo Effect)

پلیس ایبو افیکٹ (Placebo Effect)

.
میں ایک ایسی بین الاقوامی نمائندہ ریسرچ کمپنی کیلئے کام کرتا ہوں، جو دنیا بھر کی نئی آنے والی ادویات کے تجربات یعنی "کلینیکل ٹرائلز" میں معاونت فراہم کرتی ہے. کسی بھی نئی دوا کو مارکیٹ میں لانے سے قبل جانوروں پر آزمایا جاتا ہے. اس کے ممکنہ سائیڈ افیکٹس سمجھے جاتے ہیں. پھر جب وہ کسی درجے محفوظ قرار پائے تو انسانوں میں سے معاوضے کے بدلے کچھ رضاکاروں پر اس دوا کو مختلف طریقوں سے آزمایا جاتا ہے. اور کئی مزید مراحل کے بعد یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اس دوا کو عام خریدار کیلئے مارکیٹ میں بھیجا جائے یا مسترد کردیا جائے. ان ہی تجربات کے دوران ایک طریق جو بیماری کو ٹھیک کرنے کیلئے یا اس کی نوعیت سمجھنے کیلئے اختیار کیا جاتا ہے اسے ہم "پلیس ایبو افیکٹ" کے نام سے موسوم کرتے ہیں.
.
"پلیس ایبو افیکٹ" بڑی دلچسپ شے ہے. درحقیقت یہ مریض کو بناء دوا دیئے صرف اس کی نفسیات سے کھیل کر اسے ٹھیک کرنے کی ایک کوشش ہے. "پلیس ایبو افیکٹ" کے تحت ڈاکٹر مریض کو ایک دوا تجویز کرتا ہے اور اس دوا کی افادیت پر لیکچر دے کر مریض کا اس دوا پر اعتماد قائم کردیتا ہے. مگر جو شے وہ اسے دوا کے نام پر دیتا ہے وہ درحقیقت دوا نہیں ہوتی ! بلکہ صرف دوا کے بہروپ میں میٹھی پھیکی گولی ہوتی ہے. مریض اسے اس اعتماد سے استعمال کرتا ہے کہ یہ اسکی بیماری جیسے شوگر، بلڈ پریشر، ڈپریشن وغیرہ کیلئے بہت آزمودہ اور قیمتی دوا ہے. بنیادی طور پر مریض کو بیوقوف بنایا جاتا ہے. مزیدار بات یہ ہے کہ آدھے مریضوں کا یہی اعتماد انہیں ٹھیک کردیتا ہے اور وہ کچھ ہی دنوں میں بھلے چنگے ہوجاتے ہیں. اس سے کچھ لوگ یہ بھی نتیجہ نکالتے ہیں کہ اگر بندہ ٹھیک ہونے پر یقین کرلے تو بہت سی بیماریاں خود ہی رفوچکر ہونے لگتی ہیں. ہمارے یہاں ہومیو پیتھک ادویات میں بھی کئی بار اسی "پلیس ایبو افیکٹ" کا مریض پر استعمال کیا جاتا ہے.
.
یہ تو ہوگئی کچھ علمی بات مگر اب اپنی توجہ اپنے اردگرد پھیلے ان واقعات کی جانب کیجیئے جس میں لوگ قسم کھا کھا کر یقین دلاتے ہیں کہ فلاں گاؤں کے بابا ایک خاص مٹی کھانے کو دیتے ہیں جس سے بیماری دور ہوجاتی ہے. یا فلاں پیر صاحب اپنے گھر کے کنویں میں غوطہ دیتے ہیں تو بیماری دفع ہوجاتی ہے. یا فلاں جھیل کی کیچڑ مل لینے سے بندہ ٹھیک ہوجاتا ہے. آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے جاننے والے قران رسول کی قسمیں کھا کر شفاء کی داستان سنا رہے ہوتے ہیں. آپ کو رنگ برنگی توجیہات پیش کرتے ہیں کہ اس مٹی کیچڑ میں خاص کیمکلز شامل ہیں یا فلاں بزرگ کا تبرک ہے وغیرہ. ان میں سے سب نہیں تو اکثر درحقیقت اسی "پلیس ایبو افیکٹ" کا شاخسانہ ہے. پہلے لوگوں کے اندر اس مٹی، پانی یا کیچڑ کے بارے میں شہرت ہوتی ہے، پھر کچھ شفاء کے قصے سنا کر آپ کا اعتماد قائم کیا جاتا ہے اور پھر بلآخر آپ بھی اپنے علاج کو راضی ہوجاتے ہیں. "پلیس ایبو افیکٹ" کے تحت نصف لوگ ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں اور جو نہیں ہوتے وہ خاموش رہتے ہیں. یوں دھندہ چلتا رہتا ہے. کچھ اتائی حکیم یا پیر فقیر تو شروع میں یہ تلقین بھی کردیتے ہیں کہ اگر شفاء ہونے کا پہلے سے یقین نہیں ہے تو کوئی فائدہ نہیں. بقول ایک مزاح نگار کہ 'ہمیں غصہ اس بات پر قطعاً نہیں ہے کہ لوگ پیچش کا علاج مٹی کھا کر کرتے ہیں، ہمیں غصہ تو اس بات پر ہے کہ وہ ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں.'
.
====عظیم نامہ====

ایسی عورت


ایسی عورت


اگر تم ایسی عورت سے ملو جو اپنی غلطی کا اعتراف کرے، معافی مانگے اور اپنی تصحیح کرلے تو ۔۔ خبردار ہوجائو ! وہ عورت نہیں مرد ہے ! عورتیں یہ سب نہیں کرتی

گناہ کبیرہ

گناہ کبیرہ

کنوارے رضامندی سے بند کمرے میں زنا کرتے ہیں - یہ گناہ کبیرہ ہے
شادی شدہ رضامندی سے بند کمرے میں زنا کرتے ہیں - یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
فخر سے سب کو بتا کر زنا کرتے ہیں - یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
پیسہ لے کر یا پیسہ دے کر زنا کا ارتکاب کرتے ہیں - یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
جذبات میں بہہ کر کمزور لمحے میں زنا کرتے ہیں - یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
بطور عادت زنا پر زنا کرتے ہیں - یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
ہم جنسی اختیار کرکے زنا کرتے ہیں - یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
جبر و زبردستی سے مرضی کے خلاف زنا کرتے ہیں - یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
کسی نابالغ معصوم بچے یا بچی کے ساتھ زنا کرتے ہیں - یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
بہت سے وحشی مل کر ایک کے ساتھ جبری زنا کرتے ہیں - یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
جان سے مار ڈالتے ہیں ایسے زنا کرتے ہیں - یہ بھی گناہ کبیرہ ہے
.
گویا ایک "گناہ کبیرہ" کی بھی کریہہ سے کریہہ تر صورت ممکن ہے. یہی معاملہ دیگر "گناہ کبیرہ" کا بھی ہے. جیسے ایک قتل خطا ہے، ایک قتل عمد ہے، ایک بدلے میں قتل ہے، ایک معصوم کا قتل ہے، ایک اذیت دے دے کر قتل ہے، ایک فقط لذت کیلئے قتل ہے.
.
دنیاوی قوانین کی پہنچ و ادراک بہت محدود ہے. حقیقی انصاف و بدلہ تو وہ ہی ذات لے گی جو بیک وقت اللطیف و الخبیر بھی ہے اور القہار و المنتقم بھی. الرحمٰن و الرحیم بھی ہے اور العفو و العادل بھی.
.
====عظیم نامہ====

پروگرام آڈیشن

 پروگرام آڈیشن

 
انگلینڈ آنے سے قبل پاکستان میں میری آخری نوکری معروف ٹی وی چینل 'اے آر وائی' کے ساتھ تھی. جہاں میں ایک علمی و سیاسی پروگرام "آپ، ہم اور آپ" میں بطور فری لانسر 'پروگرام کوارڈینیٹر' اور 'اسسٹنٹ ڈائریکٹر' کام کیا کرتا تھا. یہ آج سے کوئی سولہ برس قبل پرانی بات ہے اور میری تنخواہ کم و بیش پینتیس ہزار روپے بنتی تھی. ایک یونیورسٹی کے طالبعلم کیلئے یہ ایک اچھی مناسب تنخواہ تھی. پروگرام پلاننگ سے لے کر مہمانوں ناظرین کو مدعو کرنے تک. سب میری ذمہ داریوں میں شامل تھے. کام میری پسند کا تھا لہٰذا میں یہ نوکری بخوبی نبھا رہا تھا. بہت جلد ہی میرے قدم جمنے لگے اور دوسرے ڈائریکٹرز نے مجھ سے رابطہ کرنا شروع کردیا. میں اپنی تعلیم کی وجہ سے ان آفرز کو منع کر رہا تھا. ان ہی دنوں ایک ڈائریکٹرنے مجھ سے رابطہ کیا جو پرائم ٹی وی پر ایک مقبول گانوں کا پروگرام پیش کرکے پہچان بنا چکا تھا. یہ ڈائریکٹر جیسے میرے پیچھے ہی لگ گیا اور ہر طرح سے مجھے اپنے ساتھ کام کرنے پر ابھارنے لگا. اس نے میرے پروگرام کے ڈائریکٹر کے ذریعے بھی مجھے اپروچ کیا مگر میں اسکے پروگرام کی نوعیت کے سبب کام کیلئے بلکل راضی نہ تھا. اس کا پروگرام دراصل نوجوانوں کے ایک ایسے مقابلے پر مشتمل تھا جس میں تین مراحل ہونے تھے. پہلا گانے کا مقابلہ، پھر اداکاری کا اور پھر ناچنے کا. ظاہر ہے یہ میرے اس اصول کے خلاف تھا کہ میڈیا پر صرف علمی پروگرام ہی کروں گا. مگر یہ ڈائریکٹر جما رہا اور میں بھی آھستہ آھستہ پگھلنے لگا. پھر اس نے مجھے آفر کی کہ جتنا میں کما رہا ہوں اتنا ہی مزید وہ مجھے دے گا. گویا میری تنخواہ ایک جھٹکے میں دگنی. نفس و شیطان نے مجھ پر قابو پایا اور میں نے حامی بھر لی.
.
پروگرام کیلئے آڈیشن لینا میری ذمہ داری تھی. شہر کراچی کے مختلف کالج و یونیورسٹیوں سے رابطہ کیا گیا اور میں ٹرائل لینے ان کے پاس جانے لگا. نمائندہ تعلیمی اداروں کے بند کمروں میں ٹرائل ہونے لگا. لڑکے لڑکیاں گانے گاتے، اداکاری کرتے اور ڈانس کرتے. میں اور ڈائریکٹر مل کر یہ فیصلہ لیتے کہ کس کس کو پروگرام ریکارڈنگ کیلئے فائنل کرنا ہے؟ یہ سب کرتے ضمیر ملامت کرتا تو تگڑی تنخواہ کا خیال اسکی آواز دبا دیتا. اسی دوران ڈائریکٹر صاحب کو ایک اور اچھوتا خیال سوجھا کہ کیوں نا کراچی کے نمائندہ اسکولوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے؟ جیسے بیکن ہاؤس، سٹی اسکول یا کراچی گرامر وغیرہ. میں نے اسکی بھی حامی بھری مگر ساتھ میں یہ شرط لگائی کہ ان اسکولوں کے ناموں میں میرے اپنے اسکول کا نام بھی شامل کیا جائے. ڈائریکٹر کو میرے چھوٹے سے اسکول کو شامل کرنا قبول نہ تھا مگر مجھے منع کرنا بھی ممکن نہ تھا. لہٰذا اجازت دے دی گئی. میں نے سب سے پہلے اپنے ہی اسکول میں ٹرائل لینے کی ٹھانی. میرے اسکول والو کا خوشی کے مارے کوئی ٹھکانا نہ تھا کہ ان کا اسکول اب کراچی کے نمائندہ اسکولوں کے ساتھ ٹی وی پر آئے گا. جس دن میں ٹرائل کیلئے پہنچا تو وہ ٹیچرز جن سے میرا رشتہ احترام و ادب کا تھا، وہ میرے اردگرد گھوم رہے تھے. میری تعریف کررہے تھے کہ اسٹوڈنٹ ہو تو ایسا جو مقام پر پہنچ کر بھی اپنا اسکول نہ بھولے.
.
ٹرائل ناچنے سے شروع ہوا اور میرے سامنے وہ آٹھویں، نویں، دسویں جماعت کی معصوم چہرہ بچیاں ناچنے لگی. ٹیچر میڈم انہیں اسٹیپ سمجھا رہی تھیں تاکہ میں انہیں پروگرام کیلئے منتخب کرسکوں. یہ وہ لمحہ تھا جب بلآخر میرے ضمیر کی بس ہوگئی اور روح چیخ اٹھی. اپنے آپ سے گھن محسوس ہوئی کہ میں یہ کیا کررہا ہوں؟ ایسا لگتا تھا جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا ہو. میں بیچ سے ہی بہانہ بناکر اٹھ آیا اور ڈائریکٹر کو دوٹوک الفاظ میں نہ صرف یہ بتایا کہ میں یہ کام اب نہیں کروں گا بلکہ ان آڈیشنز کا نتیجہ دینے سے بھی معزرت کرلی جو میں نے لئے تھے. روکنے کی بہت کوشش ہوئی مگر اب میں نہ رکا. میں رب سے اور اپنے آپ سے شرمندہ تھا. وعدہ کیا کہ اب ایسے کسی بھی کام سے اجتناب کروں گا. دعا کررہا تھا کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ یہ پرگرام نہ چلے اور ہوا بھی یہی. کچھ دوسری ٹیکنکل وجوہات کے سبب یہ پروگرام آن ائیر نہیں ہوسکا.
.
اس واقعے سے قاری کیا پیغام اخذ کرتا ہے؟ یہ میں اسی کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں. البتہ اس واقعہ سے سے یہ ضرور ظاہر ہے کہ مال سمیت دیگر چمک دھمک انسان کو کسی بھی وقت اسکے راستے سے ہٹا سکتی ہے. اپنے اس واقعے پر مجھے ندامت ہے فخر نہیں. پھر بھی اسے یہاں بیان کردیا کہ شائد اس سے کوئی سبق لے اور مجھ جیسے کسی بھی لکھاری و خطیب کو پارسا سمجھنے کی غلط فہمی نہ پالے.
.
====عظیم نامہ====

فلمی



انڈین لوگ بڑے فلمی ہوتے ہیں، شائد اسی لئے انکی فلمیں مشہور ہیں؟ اور ہم پاکستانی بڑے ڈرامے باز ہوتے ہیں، شائد اسی لئے ہمارے ڈرامے زیادہ مشہور ہیں؟

پرفیکٹ رشتہ

پرفیکٹ رشتہ


ہم میں سے اکثر ایسا ہمسفر چاہتے ہیں جس سے ہمارا پرفیکٹ رشتہ قائم ہو۔ پھر جب شادی کے کچھ عرصہ بعد ایک بیوی کو شوہر میں اور شوہر کو اپنی بیوی میں من چاہی پرفیکشن نہیں ملتی تو غصے و مایوسی سے پکار اٹھتے ہیں کہ کوئی رشتہ پرفیکٹ نہیں !۔ یہ بات گو اپنی اصل میں درست ہے مگر ایک زاویہ دیکھنے کا یہ بھی تو ممکن ہے کہ ہر انسان کو ایک نہیں بلکہ بہت سے پرفیکٹ رشتے حاصل ہوتے ہیں۔ کسی دوست کے ساتھ چائے پینا پرفیکٹ لگتا ہے۔ کسی استاد سے تعلیم حاصل کرنا پرفیکٹ محسوس ہوتا ہے۔ کسی سے مذاق کرنا، کسی سے رومانس کرنا اور کسی سے منطقی گفتگو کرنا پرفیکٹ معلوم ہوتا ہے۔ گویا مختلف رشتوں میں کچھ نہ کچھ پرفیکٹ ہے۔ پرفیکٹ ہونے کا سارا بوجھ کسی ایک رشتے پر ڈال دینا کوئی مناسب بات تو نہیں۔
۔
====عظیم نامہ====

جم کیری - معرفت کا مسافر

جم کیری - معرفت کا مسافر

Image may contain: 2 people, people smiling, people standing, beard and cloud
.
ہالی وڈ کے شہرہ آفاق مزاحیہ اداکار "جم کیری" سے کون واقف نہیں؟ اگر ہالی وڈ کی تاریخ کے صف اول کے چند اداکاروں کو نکالا جائے تو بلاشبہ ان میں جم کیری کا نام سرفہرست ہوگا. اپنے منفرد کرداروں اور اچھوتے انداز سے اس اداکار نے دنیا بھر کے ناظرین کے دلوں پر ایک زمانہ راج کیا ہے. جو شہرت و مقبولیت "جم" کو ملی وہ بہت ہی کم اداکاروں کے ہاتھ آتی ہے. "جم کیری" ان چند بڑے اداکاروں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ وہ فلمی کردار کو نبھانے سے قبل خود پر مکمل طاری کرلیتے ہیں. یہاں تک کہ اس کردار کو جینے لگتے ہیں. بالی وڈ کے اداکار "عامر خان" بھی ان ہی چند میں شامل ہیں. "جم کیری" نے جو کردار نبھایا اسے امر کردیا. پھر وہ 'ماسک' ہو یا 'ایس وینچرا' .. 'لائر لائیر' ہو یا پھر 'بروس آل مائٹی' - ہر فلم ایک شاہکار کہلائی. لیکن "جم کیری" فقط ایک اداکار نہیں ہیں. وہ ہمیشہ سے ایک نہایت حساس طبیعت اور سوچنے والا دماغ رکھتے ہیں. زندگی کی نوعیت کیا ہے؟ انسانی نفسیات کیسے کام کرتی ہے؟ سائنس ہمارے دماغ کو کیسے بیان کرتی ہے؟ خدا کا حقیقی تصور کیا ہے؟ .. یہ اور اس طرح کے کئی اور سوالات "جم کیری" کی سوچ کا اس وقت بھی محور رہے جب وہ تیزی سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایک کامیاب نوجوان تھے. اس کا ثبوت ان کے پرانے انٹرویوز کی صورت میں موجود ہے. البتہ پچھلے چند سالوں میں تو جیسے "جم کیری" کی زندگی میں انقلاب برپا ہوگیا ہو. انہوں نے روحانیت، خدائی تصور اور انسانی وجود سے متعلق اپنے وہ نتائج پرزور انداز میں بیان کرنے شروع کردیئے ہیں. جنہیں سن کر ان کے دنیا بھر میں پھیلے مداحوں میں سے کچھ حیران، کچھ معتقد اور ایک بڑی تعداد انہیں پاگل سٹیایا ہوا قرار دے رہی ہے.
.
"جم کیری" پر سب سے پہلا انکشاف یہ ہوا کہ انسانی دماغ میں ابھرتی سوچیں ایک سراب کے سوا کچھ نہیں. جو کچھ ہے وہ اسی لمحہ موجود میں ہے. مستقبل تو فقط ایک نتیجہ ہے اور ماضی محض ایک روداد. اگر کچھ ہے تو وہ ابھی ہے، حال میں، لمحہ موجود میں. انہیں نیند سے بیداری میں وہ روحانی تجربہ ہوا جس میں انہوں نے اپنی ذات کو ان جسمانی اور نظریاتی حدود سے بہت بلند محسوس کیا. اسی طرح مختلف فلمی کردار نبھاتے ہوئے کئی بار وہ اپنا آپ ہی بھلا بیٹھے اور اسی کردار میں ضم ہو گئے. یہ وہ لمحہ تھا جب انہوں نے حیرت سے اپنے آپ میں پوچھا کہ ارے "جم کیری"کہاں گیا؟ جواب ملا کون "جم کیری"؟ وہ تو کبھی تھا ہی نہیں ! وہ تو بس ایک کردار تھا جیسے یہ ایک کردار ہے. جیسے ویڈیو گیم میں آپ کسی ایک کردار کو اپنے لئے پسند کرلیتے ہیں. "جم کیری" کے اس کردار میں اور بقیہ نبھائے فلمی کرداروں میں فرق صرف اتنا تھا کہ "جم کیری" کا کردار انہوں نے خود نہیں اپنایا تھا، کسی نے دے رکھا تھا اور جسے وہ دھوکے میں اپنا اصل وجود مان بیٹھے تھے. ورنہ ان کی حقیقت تو ایک بہت بڑے "کل" کا "جزو" ہے. یہ ساری کائنات دراصل "ایک" ہے اور ہم سب اسی "ایک" کا حصہ ہیں. گویا ہم ہی کائنات ہیں. یہ بھرم ہے کہ ہم اس دنیا کا مشاہدہ کررہے ہیں، حقیقت میں تو ہم ہی دنیا ہیں. پہلے لگتا تھا کہ "جم کیری" اس دنیا کا تجربہ کررہا ہے مگر اب لگتا ہے کہ دراصل دنیا "جم کیری" کا تجربہ کررہی ہے۔ بقول اقبال:
.
مکانی ہوں؟ یا آزادِ مکاں ہوں؟
جہاں میں ہوں؟ یا خود سارا جہاں ہوں؟
وہ اپنی لامکانی میں رہیں مست !
مجھے اتنا بتادیں، "میں" کہاں ہوں؟

.
ابتدا میں "جم کیری" کیلئے یہ دریافت ہولناک تھی کہ ان کی اصلیت "جم کیری" نہیں ہے. سالہا سال کی محنت جو انہوں نے اپنے اس کردار کو اپنا اصل سمجھ کر کی تھی، وہ سب مٹی میں ملتی محسوس ہونے لگی. لیکن آخرکار انہوں نے حقیقت کو تسلیم کرلیا. "جم کیری" کے نزدیک اداس ہونا ایک کیفیت ہے مگر "ڈپریشن" دراصل آپ کی ذات کی چیخ و پکار ہے کہ اب میں یہ کردار نہیں نبھانا چاہتا. آج وہ خود کو ایک مسلسل سرشاری کی کیفیت میں پاتے ہیں. یہ احساس مسحور کن ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں "سب" ہیں، ساری کائنات ہیں. وہ اس تجربے سے ہر لمحہ گزر رہے ہیں. ان سے کوئی پوچھے کہ کیا میں "جم کیری" سے مخاطب ہوں؟ تو وہ دوٹوک کہتے ہیں کہ نہیں ! بلکہ آپ "جم کیری" نامی ایک کردار سے مخاطب ہیں. ورنہ ٹھیک اسی وقت وہ انٹرویو لینے والے بھی ہیں، کونے میں بیٹھے وہ آدمی بھی ہیں، دور جھاڑو لگاتا وہ شخص بھی ہیں. درحقیقت ہم سب ایک اجتماعی شعور کا حصہ ہیں. واقعات جو باہر رونما ہوتے ہیں وہ دراصل پہلے ہمارے شعور میں وجود پاتے ہیں. گویا دنیا ہم ہی بناتے ہیں. "جم کیری" کے بقول خدا یہی آفاقی انرجی ہے جو ہر شے پر محیط ہے اور جس سے ہم سب وابستہ ہیں. گو ہم سب میں سے بہت تھوڑے ہیں جو اس وابستگی کا شعور رکھتے ہیں. "جم کیری" حقیقت کو پاچکے ہیں؟ یا ابھی معرفت کے سفر میں ہیں؟ اس پر ہم فی الوقت تبصرہ نہیں کریں گے. گو ان کے نتائج جان کر بے اختیار تصوف کے نمائندہ عقائد "وحدت الوجود" اور "وحدت الشہود" یاد آجاتے ہیں. یوں لگتا ہے کہ "جم کیری" کے تجربات کسی حد تک ان ہی عقائد کی تفسیر بیان کرہے ہیں.
.
راقم یعنی ہماری سمجھ اور تجربات میں موجودات کی کثرت میں ایک پوشیدہ وحدت ضرور پنہاں ہے، مگر یہ وحدت ذات کی نہیں بلکہ کلمہ 'کن فیکون' کی تفسیر ہے. سائنس بھی البرٹ آئین اسٹائن سے لے کر اسٹیفن ہاکنگ تک 'تھیوری آف ایوری تھنگ' کی تلاش میں سرگرداں نظر آتی ہے جو اپنی اصل میں اسی 'کن فیکون' کی کھوج ہے.
.
====عظیم نامہ====