Monday, 17 September 2018

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی


بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی


ایک احساس، ایک سوچ، ایک دکھ نے مجھے ایک عرصے سے اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے. اب سوچتا ہوں کہ آپ سے آپ کی رائے جان لوں؟ شائد آپ بات سمجھنے میں میری مدد کرسکیں؟
.
وطن عزیز میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے لاتعداد واقعات اس سوال کو پیدا کرتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں؟ کیوں پاکستان میں مدارس سے لے کر اسکولوں تک اور شہروں سے لے کر دیہاتوں تک معصوم بچوں کو ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ میں خوب واقف ہوں کہ دنیا بھر میں ایسی بیمار مجرمانہ ذہنیت کے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی شہوت کی تسکین کیلئے بچوں کو پامال کردیتے ہیں. مگر اعداد و شمار سے اب یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے وطن عزیز میں یہ غلاظت عموم سے کہیں زیادہ ہے. جیسے اسپین میں ہم جنس پرستی عروج پر ہے یا جس طرح پڑوسی ملک بھارت میں عورتوں کو ریپ کرنے کا تناسب بہت ہے ویسے ہی پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کا تناسب اکثر ممالک سے زیادہ نظر آتا ہے. کیوں ؟ وہ کیا عوامل ہیں جن سے اتنی بڑی تعداد کو ان معصوم فرشتوں کو پامال کرنے کا شوق ہوگیا ہے؟
.
دھیان رہے کہ فی الوقت ہمارے پیش نظر بچوں پر ہونے والا جسمانی تشدد نہیں ہے. وہ اپنے آپ میں ایک بڑا مسئلہ ہے. اس وقت فوکس صرف بچوں سے جنسی ہوس پوری کرنے والے وہ درندے ہیں جو ملک میں مذہبی، لبرل، امیر، غریب - ہر بھیس میں موجود ہیں. میں نے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پنڈی، پشاور سمیت ملک کے بیشتر شہروں کو دیکھ رکھا ہے اور ان کے لوگوں سے ملتا رہا ہوں. میں شدید دکھ سے اعتراف کرتا ہوں کہ یہ خبیث وباء قریب قریب پاکستان کے ہر علاقے میں نظر آئی. کہیں کم، کہیں زیادہ اور کہیں بہت زیادہ. کیوں ؟ اگر کسی کے نزدیک وجہ جہالت ہے تو پھر ہر اس ملک میں یہ خباثت اتنی ہی ہونی چاہیئے تھی جہاں تعلیم کی شرح کم ہو. اگر کسی کے نزدیک وجہ معاشرے میں مذہبی پابندیاں ہیں تو پاکستان سے زیادہ مذہبی معاشروں میں یہ کریہہ عمل ہم سے کم کیسے ہے؟ اگر کسی کے نزدیک وجہ مغربی فحاشی کا عام ہونا ہے تو پھر مغرب خود کیوں اس گھٹیا پن سے ویسا متاثر نہیں جیسا ہمارا ملک ہے؟
.
آپ بتایئے .. آپ کیا کہتے ہیں ؟ بیماری کا علاج اسی وقت ممکن ہے جب اس کے محرکات کی نشاندہی ہو.
.
====عظیم نامہ====

نبوی ڈائٹ


نبوی ڈائٹ

.
١. سادہ ترین خوراک کھانا
٢. خوراک میں صحت بخش غذاؤں جیسے کھجور، دودھ، زیتون، شہد وغیرہ کا استعمال کرنا
٣. صرف اس وقت ہی کھانا جب خوب بھوک محسوس ہو اور اسوقت کھانا چھوڑ دینا جب بھوک کچھ باقی ہو
٤. کبھی چند نوالوں پر ہی اکتفاء کرنا اور کبھی معدے کو تین حصوں میں بانٹ کر ایک حصہ کھانا، دوسرا حصہ پانی پینا اور تیسرا حصہ خالی رہنے دینا
٥. ہر ہفتے کم از کم دو روز یعنی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا. اس کے علاوہ بھی کثرت سے نفلی روزے رکھنا
٦. سال میں ماہ رمضان میں لگاتار تیس روزے رکھنا
٧. روزہ نہ ہو تو دن میں کبھی تو صرف ایک بار اور کبھی دو بار مختصر سا سادہ و صحت بخش میسر کھانا تناول کرنا
٨. چھوٹے لقمے بنا کر سکون سے چبا کر کھانا اور اطمینان سے کئی گھونٹ میں پانی پینا
٩. گوشت کھانے کو معمول نہ بنانا بلکہ کبھی کبھار گوشت تناول کرنا
١٠. میسر خوراک کو لوگوں کے ساتھ بانٹ کر کھانا
١١. روزمرہ کی ورزش کیلئے چلتے ہوئے سکون کے ساتھ نہایت تیز رفتار رکھنا
١٢. فٹ نس ایسی برقرار رکھنا کہ 'ماؤنٹین کلائمبنگ' یعنی پہاڑ کی چوٹی پر موجود غار حرا جاتے رہنا
.
یہ ہمارے محبوب و محسن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک زندگی کے ایک حصے کی مختصر جھلک ہے. دل پر ہاتھ رکھ کر کہیئے گا کہ کیا اگر ہم مسلمان اپر درج باتوں پر عمل کرلیں تو پھر کسی اور ڈائٹ پلان کی حاجت یا گنجائش باقی رہتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہم اس پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ ہماری زبان داڑھی و مسواک یا عمامہ و عطر ہی کو صرف سنت کیوں بیان کرتی ہے؟ حالانکہ سنت تو کم کھانا اور خود کو فٹ رکھنا بھی ہے؟ عام مسلمانوں میں خود میں اس کا مجرم ہوں کہ ایک فٹ جسم کی بجائے نہایت فربہ جسم رکھتا ہوں. ہر وہ مولوی بھی اس کا مجرم ہے جو داڑھی و عمامہ کی سنت کو تو اپناتا ہے مگر اپنے بے ڈول جسم یا بے حساب خوراک کو قابو کرنے کی کوشش نہیں کرتا.
.
نوجوانی میں جو ہیرو مجھے فٹ نس میں سب سے زیادہ آئیڈیل لگتا تھا، اس کا نام ہے 'جین کلاڈ وین ڈیم'. کچھ دنوں پہلے اس کا ایک ویڈیو انٹرویو دیکھنے کو ملا. جس میں جب اس سے اسکی فٹ نس کا راز پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ مسلمانوں کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈائٹ اپنا لو. افسوس کہ جو بات مجھ جیسے کوڑھ مغز مسلمان کو نہ سمجھ آئی، اسے ایک غیرمسلم نے سمجھ لیا. ویڈیو لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے.
.
====عظیم نامہ====

اصیل مرغ - شیرو


اصیل مرغ - شیرو

Image may contain: bird
.
مجھے ہمیشہ جانوروں سے ایک غیر معمولی انسیت رہی ہے. بچپن سے لے کر نوجوانی تک میں طرح طرح کے جانور پالتا آیا ہوں. انواع و اقسام کے طوطوں سے لے کر رنگ برنگی چڑیاؤں تک ، بلی سے لے کر خرگوش تک، مچھلیوں سے لے کر بکروں تک اور تیتر بٹیر سے لے کر مرغیوں تک. میں ہمیشہ جانوروں کو محبت سے پالتا رہا ہوں. یوں تو ہر جانور ہی دل سے قریب محسوس ہوا مگر جو جانور میرا پسندیدہ ہے وہ سندھی النسل اصیل مرغ کہلاتا ہے. اسکی شان ہی جدا لگی. اونچی نسل کے اس مرغ کو پالنا اپنے خواص کے لحاظ سے ایسا ہی ہے جیسے کوئی شاہین یا عقاب گھر میں پال لے. میرے اسی شوق و لگن کو دیکھتے ہوئے میرے ایک رشتہ دار جو زمین دار تھے، انہوں نے اندرون سندھ سے ایک بہت ہی عالی النسل اصیل مرغ کا ایک چوزہ مجھے لاکر دیا. ان کے بقول یہ ایک بڑے فاتح مرغ کی نسل سے تھا جس کا چوزہ حاصل کرنے کیلئےہر شوق رکھنے والا بیقرار ہوتا ہے. میں اس وقت شائد دس بارہ سال کا تھا اور اسے حاصل کرکے بہت خوش تھا. میں نے اسے بہت توجہ سے تنہا ہی رکھ کر پالنا شروع کیا. میں اسے بڑے لاڈ سے رکھتا، اسے مہنگی بہترین غذا کھلاتا اور اسے سنوارتا رہتا. نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ایک بہت خوبصورت اونچا اور جاندار اصیل مرغ بن گیا. میں نے اس کا نام 'شیرو' رکھا تھا، آج جب عمران کے کتے شیرو کا کوئی ذکر کرتا ہے تو میری یادداشت میں اپنا وہ مرغ 'شیرو' ابھر آتا ہے. مسئلہ تب ہوا جب میرے بے جا لاڈ پیار نے اسے بلکل 'ممی ڈیڈی' یعنی چھوئی موئی بنا دیا. زبردست جسامت رکھنے کے باوجود اگر اس کا سامنا کسی فارمی مرغ سے بھی ہو جائے تو وہ دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوتا. یوں لگتا تھا جیسے وہ جوان ہونے کے باوجود بھی ابھی تک خود کو چوزہ ہی سمجھتا ہے. دھیان رہے کہ اصیل نسل کے مرغ نہایت لڑاکا اور جنگجو مشہور ہوتے ہیں. جو مر جاتے ہیں مگر مقابل کے سامنے ہار نہیں مانتے. پھر میرا یہ 'شیرو' تو اونچی فاتح نسل سے تھا. مگر میں نے اسے لاشعوری طور پر ایک ڈرپوک بزدل بنا ڈالا تھا.
.
ہم نے کسی اچھے دیسی باپ کی طرح ٹھانی کہ بھئی جوان ہوگیا ہے، شادی کردو خود ہی ٹھیک ہو جائے گا. لہٰذا ایک اصیل نسل کی مرغی لے آئے اور ساتھ پنجرے میں چھوڑ دیا. مگر یہ کیا ؟ اس مرغی نے ہمارے وجیہہ مرغے کی ایسی پھینٹی لگائی کہ بیچارا بے حال ہوگیا. کچھ دن کی کوشش کے بعد کانوں کو ہاتھ لگائے اور مرغی جس سے لی تھی، اسے واپس کردی. اب پریشان تھا کہ اس کو کیسے ٹھیک کروں؟ اتفاق سے ہمارے پڑوسی کے پاس مرغیاں تھیں اور اس سے بھی بڑا اتفاق یہ کہ بناء مرغے کے تھیں. ہم نے ان سے اجازت لی اور ان کی چھت پر اپنا گبرو جوان ان کے ساتھ چھوڑ دیا. وہی ہوا جس کا ڈر تھا. چاروں پانچوں مرغیوں نے باری باری اور کبھی مل کر اسے ایسے پٹخ پٹخ کر مارا جیسے ریسلنگ میں ریسلرز تالی مار کے ایک مخنچو کو مارتے ہیں. عجیب منظر تھا، مرغا آگے آگے دوڑ رہا ہوتا اور مرغیاں اسے مارنے کیلئے اسکے پیچھے پیچھے. شرم سے ہماری گردن جھکی ہوئی تھی. ہمارا پڑوسی کبھی اسکی نامردی پر قہقہہ لگاتا تو کبھی حیرت زدہ رہ جاتا. اس نے ہمیں بہت گفت و شنید کے بعد قائل کیا کہ اسے ایک پوری رات مرغیوں کے ساتھ پنجرے میں بند کردو. سو فیصد صلح ہوجائے گی. ہم نے بات مان لی اور دل پر پتھر رکھ کر اسے پنجرے میں مقفل کردیا. صبح ہوتے ہی بھاگم بھاگ پڑوسی کی چھت پر دل میں امیدیں سجائے گیا تو دیکھا کہ مرغ کونے میں ادھڑے ہوئے دبکے سہمے بیٹھے ہیں. ساری رات کمبخت مرغیوں نے اس پر جسمانی اور شائد جنسی تشدد بھی کیا تھا. مجھے دیکھتے ہی بھاگم بھاگ پاس آگیا. مجھے لگا جیسے شکایت کررہا ہو کہ کیا ایسا ہوتا ہے اچھا مالک؟ میں نے شکستہ دل سے اسے اٹھایا اور واپس گھر لے آیا. میں نے خود کو سمجھا لیا کہ ہمارا یہ چہیتا بھلے دیکھنے میں چارمنگ پرنس لگتا ہو، حقیقت میں یہ پاپا کی پرنسس ہی کہلانے کے قابل ہے.
.
پھر ایک دن اچانک مجھے اپنے دور پرے کے جاننے والے کا خیال آیا جو اصیل مرغ پالنے اور ان کے مقابلے کروانے میں مقبول تھا. ظاہر ہے کہ میں مرغ سمیت کسی بھی جانور کو لڑانے کا قائل نہیں مگر میں اتنا ضرور چاہتا تھا کہ یہ نالائق مرغ کم از کم مرد تو بنے؟ ہم نے ڈھونڈھ کر ان صاحب کا نمبر تلاش کیا اور انہیں فون کھڑکا کر اپنا دکھڑا بیان کیا. انہوں نے کہا کہ فکر ہی نہیں، میں اسے بلکل ٹھیک کرسکتا ہوں. شرط اتنی ہے کہ اسے میرے گھر لے آؤ اور میں جو بھی کروں مجھے روکو نہیں. اب مصیبت یہ تھی کہ وہ صاحب ہمارے گھر سے کافی دور ، کراچی کے ایک نسبتاً غیر محفوظ علاقے 'لالو کھیت' میں رہتے تھے. ہم ابھی اتنے بڑے نہیں تھے کہ گھر سے اکیلے جانے کی اجازت مل سکے. لہٰذا والدہ کو منانے کا مشن شروع ہوا. پہلے ڈانٹ پڑی، پھر جھاڑ پڑی لیکن آخر میں ممتا کے ہاتھوں مجبور انہوں نے حامی بھر لی. دونوں ماں بیٹے رکشہ میں بیٹھ کر اور والد کو بتائے بغیر لالو کھیت ان دور پرے کے جاننے والے گھر میں جاپہنچے. ان صاحب نے گھر کے تنگ سے دالان کو ایک رکاوٹ کے ذریعے بند کیا اور مجھ سے لے کر شیرو کو اسکے بیچ میں چھوڑ دیا. اسکے بعد وہ اپنے دو لڑاکا نسل کے مرغ لے آئے جنہیں وہ مقابلوں میں لڑایا کرتے تھے. میں دیکھ کر گھبرایا کہ ہمارا مسٹنڈا تو مرغیوں کی تاب نہیں لا پاتا اور یہ صاحب اس پر اپنے دو دو جنگجو چھوڑنے لگے ہیں. میرا ایسا نہ کرنے کی التجا کو ان صاحب نے سنی ان سنی کردیا اور دونوں مرغوں کو ایک ادا سے اچھال کر ہمارے معصوم پر چھوڑ دیا. ان دونوں مرغوں کے تیور ہی الگ تھے. انہوں نے پر جھٹک کر شان سے اذان دی اور للکار کر ہمارے مرغ کی جانب بڑھے. میں دل تھامے بیچارے شیرو کی جانب دیکھ رہا تھا جو حیرتناک طور پر خوفزدہ نہیں لگ رہا تھا. بلکہ غور سے آنے والے مقابل مرغوں کی للکار سن رہا تھا. ان دونوں نے مرغوں نے لڑنے سے پہلے اپنے بالوں کو کھڑا کیا، جیسے پہلوان سامنے والے پہلوان سے انگلیاں پھنسا کر پہلے پنجوں سے زور لگاتا تھا، وار بعد میں کرتا ہے. شیرو صاحب نے بھی لامحالہ اپنے بالوں کو لڑنے کیلئے کھڑا کرلیا. میرے لئے یہ حیرت کا پہلا جھٹکا تھا. آج سے پہلے کبھی اسے اس انداز میں نہ دیکھا تھا. اچانک لڑائی شروع ہوئی. شیرو کو کوئی بیس سیکنڈ تو کچھ سمجھ نہ آیا اور دونوں مرغ اس پر چڑھ دوڑے. مگر پھر جیسے غیرت جاگ گئی ہو. شیرو نے پلٹ کر وار شروع کئے. وہ دونوں مرغوں سے زیادہ توانا اور پھرتیلا تھا. لڑتے ہوئے جب اچھلتا تو بہت اپر تک جاتا. جلد ہی دونوں ماہر مرغے بری طرح پٹنے لگے. میں حیرت زدہ کھڑا دیکھ رہا تھا. مجھ سے زیادہ حیران بلکہ غصے میں وہ صاحب تھے، جن کے پہلوان مرغے کسی سستے کرائے کے غنڈوں کی مانند پٹ رہے تھے. میں نے کئی بار لڑائی کو روکنا چاہا، مگر ان صاحب کو ضد سی ہوگئی کہ لڑنے دو. آخرکار جب لڑائی واضح طور پر ان مرغوں کی پٹائی میں بدل گئی تو میں نے زبردستی مرغا اٹھا لیا.
.
میں نے پیار و ترس سے جو شیرو کو دیکھا تو پہلی بار اسکی آنکھوں میں شدید غصہ نظر آیا. میرے ہاتھوں میں ہی اذان پر اذان دے رہا تھا، جیسے اپنی فتح کا اعلان کر رہا ہو. میں اس عجیب ترین روداد کے بعد گھر لوٹ آیا مگر اب شیرو وہ ڈرپوک شیرو نہیں تھا. اس نے سب سے پہلے ان مرغیوں کی کٹ لگائی جو اسے مارتی تھیں، پھر اس پاس جو بھی دیسی و فارمی مرغ اسے نظر آجاتا، یہ اس کی کٹائی لگانے پہنچ جاتا. زبردستی چھڑانا پڑتا. محلے سے شکایت آنے لگی کہ آپ اپنے مرغے کو بند کرکے رکھیں، وہ ہمارے مرغے کو مار کر ہماری مرغیاں اپنے ساتھ لے جاتا ہے. یہ حقیقت تھی کہ اب اس کے ساتھ دوسرے گھروں کی مرغیوں کا ایک پورا جھمگھٹا ہوتا تھا، جن پر وہ پورا حق جماکر ان کا خیال رکھتا. ایک تبدیلی یہ بھی آئی کہ پہلے وہ خود بخود اپنے پنجرے کے اندر چلا جاتا تھا، مگر اب وہ پنجرے کے اپر کسی چیل کی مانند بیٹھ کر کھلی ہوا میں رات بسر کرتا اور صبح گھر سے باہر چلا جاتا. یہ اور بات کہ مجھ سے ابھی بھی ویسے ہی لاڈ کرواتا، جس طرح پہلے کرواتا تھا. کافی عرصے بعد ایک روز وہ صبح ہی صبح آوارہ کتوں کے ایک غول کے حملے کا شکار ہوگیا. دیکھنے والے نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھ کی مرغیوں کو بچانے کی کوشش میں مارا گیا. میرا صدمے سے رو رو کر برا حال تھا. گھر والے اور دوست سب تعزیت کرتے دلاسے دیتے. اسکی موت کے بعد کئی روز تک گھر پر مرغیاں آکر عجیب بھیانک آواز میں شور کرتیں. جیسے بین کررہی ہوں.
.
میں جانتا ہوں کہ یہ تحریر کچھ لوگوں کو شائد جھوٹ محسوس ہو مگر یقین کیجیئے کہ یہ بلکل سچ ہے. میں واقف ہوں کہ کچھ لوگ مجھ پر ہنسیں کہ عظیم نے یہ کیا بیکار مرغے مرغیوں کی باتیں شروع کردی ہیں؟ مگر میں خود اسے اپنی زندگی کا ایک ناقابل فراموش واقعہ گردانتا ہوں. ایسا واقعہ جس میں کئی سبق پوشیدہ ہیں.
.
====عظیم نامہ====

.
(نوٹ: تصویر اصل شیرو کی نہیں ہے، مگر وہ رنگ اور قد کاٹھ میں کچھ ایسا ہی سا تھا)

دوست



دوست

 دوست وہ نہیں جس کے ساتھ آپ معتبر بنے بیٹھیں رہیں. دوست تو وہ ہے کہ جس کا ساتھ تکلف سے پاک ہو. جو آپ کا مذاق اڑا سکتا ہو اور جسے اپنی ہنسی اڑاتے سن کر آپ تالی مار کر لوٹ پوٹ ہوسکتے ہوں. کسی مشکل یا پریشانی میں کام آنا تو دوستی کا فقط ایک وصف ہے. وگرنہ صرف حلقہ یاراں میں بیٹھ کر گپ شپ کرلینا بھی نہ صرف طبیعت کو فرحت بخشتا ہے بلکہ غیرمحسوس معلومات کا تبادلہ اسے زندگی کی کئی کٹھنائیوں سے محفوظ کردیتا ہے. سوچ کے بند دروازوں کو کھول دیتا ہے. یوں تو دوستوں کا ساتھ ہر مرد و زن کو درکار ہوتا ہے مگر بحیثیت مرد میں یہ جانتا ہوں کہ مردوں کیلئے تو بے تکلف دوستوں کا ہونا بیحد ضروری ہے. کچھ بیگمات اپنے شوہروں کو دوستوں کے ساتھ بیٹھنے سے آخری حد تک روکتی ہیں. صرف گھر کو وقت دو، فلاں فلاں گھریلو کام کرو، نوکری یا بزنس پر فوکس کرو، اپنے بچوں پر توجہ دو - یہ اور اس قسم کے ہزار مزید تقاضے سامنے رکھ کر وہ شوہر کو گھر سے آفس اور آفس سے گھر تک مقید کرکے رکھ دیتی ہیں. انہیں لگتا ہے کہ یہی صحیح طریق یا عقلمندی ہے مگر انہیں نہیں معلوم کہ ایسا کرکے وہ خود اپنے لئے گڑھا کھود بیٹھتی ہیں. ان کے شوہر بھی انکی ساس یا نند بن جاتے ہیں جو بات بے بات نقص نکالتے رہتے ہیں. گھر کی آرائش سے لے کر غیرضروری خاندانی معاملات تک وہ رائے زنی کرتے ہیں اور اگر ان کی نہ مانی جائے تو جھٹ پٹ روٹھ بھی جاتے ہیں. اپنے اردگرد موجود ایسے مرد حضرات کا جائزہ لیجیئے کہ جن کی دوڑ کام سے گھر تک محدود ہے اور جنکی زندگی دوستوں کی محافل سے خالی ہے. آپ دیکھیں گے کہ اگر سب نہیں تو ان میں سے نوے فیصد نفسیاتی ہوچکے ہیں اور گھر میں موجود عورت سے زیادہ عورت بنے بیٹھے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

Monday, 30 July 2018

جانوروں کا درد


جانوروں کا درد 


چندروز قبل کچھ ظالم شیطانوں نے ایک گدھے پر نوازشریف لکھ کر اس بےزبان کو مار مار کر ادھ موا کردیا۔ اب پھر کچھ شیاطین نے ایک کتے پر پی ٹی آئی کا جھنڈا باندھ کر، اس بے زبان کو گولیوں سے تڑپا تڑپا کر ہلاک کردیا۔ کیسے لوگ ہیں ہم؟ کیا ہم اسی دین کے نام لیوا ہیں جو ہمیں ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے پر اخروی نجات کی بات بتاتا ہے؟ اور ایک بلی کو بھوکا مارنے پر ابدی جہنم کا واقعہ سناتا ہے؟ آخر کب ہم بحیثیت قوم شعور کی منزل طے کریں گے؟ ہماری روح کیوں نہیں کانپتی جب ہم لوگوں کو بطور مزاح آوارہ کتوں بلیوں کو پتھر مارکے زخمی کرتے دیکھتے ہیں؟ ہماری آنکھ کیوں نہیں بھیگتی جب اس کے سامنے کسی بےزبان گدھے کو اس کا مالک چھڑی سے مار مار کر لہولہان کردیتا ہے تاکہ وہ اپنی قوت سے بڑھ کر بوجھ اٹھاسکے؟ یاد رکھیں انسانی جان کی قدر بھی ہم اسوقت تک نہیں کرسکتے جب تک ہمارے دل ان بے زبان جانوروں کا درد محسوس نہیں کرتے۔
۔
====عظیم نامہ====

احتساب ہوگا .. ضرور ہوگا


احتساب ہوگا .. ضرور ہوگا


.
ملک سے لوٹی گئی دولت کا جب ہم سنتے ہیں تو کیا سوچتے ہیں؟ یہی نا کہ وہ دولت واپس لائی جائے اور یہ سلسلہ آئندہ کیلئے بند ہوسکے؟ اس کی تین بڑی ممکنہ صورتیں ہم سب ہی سوچتے یا جانتے ہیں
.
١. لوٹی ہوئی ساری دولت واپس لائی جائے، مجرموں کو سزا ملے اور آئندہ کیلئے یہ سلسلہ بند ہو
.
٢. لوٹی ہوئی دولت کا جتنا حصہ ممکن ہوسکے واپس لایا جائے، جو مجرم گرفت میں آسکیں انہیں سزا ملے اور آئندہ کیلئے یہ سلسلہ بند ہو
.
٣. لوٹی ہوئی دولت واپس نہ بھی آپائے اور مجرمین سزا سے بچ بھی جائیں تب بھی آئندہ کیلئے یہ سلسلہ بند ہو
.
اس تمہید کو پڑھ کر آپ یقیناً اس تحریر کو سیاسی سمجھ بیٹھے ہونگے. لیکن نہیں ! .. بلکہ یہاں مقصد یہ ہے کہ آپ اور ہم مل کر اپنے ذاتی خرچوں اور بینک بیلنس کا جائزہ لیں. اپر لکھے تین امکانات جنہیں ہم سب ملک کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کیلئے بیان کرتے ہیں، ان ہی امکانات کا اطلاق ہم اپنی معیشت یعنی اخراجات و بچت پر کریں اور پھر دیکھیں کہ ہماری تنخواہ و دولت کہاں غائب ہو رہی ہے؟ کون ہے جو ہماری ممکنہ بچت کو لے اڑتا ہے؟ اور کیسے اسے آئندہ کیلئے نہ صرف روکا جائے بلکہ کوشش کی جائے کہ جو چلا گیا اسے کسی حد تک واپس لایا جاسکے؟
.
اگر آپ کا مزاج مجھ سے ملتا جلتا ہے تو یقیناً آپ کیلئے بھی بینک اسٹیٹمنٹ یا حساب کتاب دیکھنا کٹھن اور کوفت زدہ ہوتا ہوگا. مگر لازمی ہے کہ ہم اسکے باوجود ایک ایسی کاپی یا 'ایکسل شیٹ' بنائیں جس میں ہماری ماہانہ آمدنی اور ماہانہ اخراجات بلترتیب لکھے ہوئے ہوں. ایسا کرنے کیلئے آپ کو کوئی معاشیات کا ماہر نہیں بننا پڑے گا. بس اپنے سابقہ بینک اسٹیٹمنٹس کو دیکھتے ہوئے سادگی سے ایک جانب آمدنی لکھیں، دوسری طرف اخراجات کے نام ثبت کریں اور تیسری جانب خرچ ہونے والی رقم لکھ لیجیئے. یہ کرنا ممکن ہے آپ کی طبیعت پر شدید گراں گزرے مگر ایک بار جو آپ نے یہ کرلیا تو اب آپ کے سامنے اپنے اخراجات کی ایک کھلی تصویر آجائے گی جسے دیکھتے ہوئے آپ کو یہ اندازہ ہوسکے گا کہ بڑے اخراجات کون سے ہیں؟ مخفی خرچے کون سے ہیں؟ اور فضول خرچی کہاں ہورہی ہے؟ . اسکے بعد آپ ممکنہ طور پر سمجھ پائیں گے کہ کہاں خرچہ کم کیا جاسکتا ہے؟ کیا کوئی ایسا خرچہ ہے جسے روکا جاسکے؟ کیا کوئی ایسی شے ہے جو آپ کسی اور سے کم قیمت پر لےسکیں؟ کیا کوئی ایسا بل تو موجود نہیں جو آپ سے زیادہ پیسے لے رہا ہے یا جس سے آپ اپنے پیسے واپس طلب کرسکیں؟ کوئی ایسا معاملہ تو نہیں جو سود کی صورت میں آپ کی تنخواہ کا حصہ کھا رہا ہے؟ -
.
یقین کیجیئے کہ اکثر کیسز میں اپنے بینک اکاؤنٹ کی یہ خود احتسابی ایک بڑی بچت کا سبب بن سکتی ہے. کچھ اور نہیں تو اتنا تو ضرور ہوگا کہ آپ فضول خرچی پر بہتر انداز میں نظر رکھ سکیں گے. ساتھ ہی اپنی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کیجیئے. یہ دیکھیئے کہ کیا بہتر نوکری یا کاروبار ممکن ہے؟ کیا پارٹ ٹائم انکم کا کوئی امکان ہے؟ اگر آپ نے کسی کو قرض دیا تھا تو کیا وہ واپس مل سکتا ہے؟ اگر بینک کی جانب سے قرضہ آپ پر ہے تو سود سے بچنے کا کوئی امکان ہے؟ کیا اپنے گھر کی کوئی شے یا زیور یا زمین بیچ کر قرضے سے نکلنا ممکن ہے؟ .. غرض ایسے بہت سے امکانات ہیں جن کا آپ جائزہ لے کر اپنی معاشی حالت کو بہتری کی جانب لے جاسکتے ہیں. گو اسکے لئے آپ کو کمر کسنا ہوگی اور نظر چرانے کی بجائے صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا.
.
====عظیم نامہ====
.

(نوٹ: ہمیں اپنے عملی تجربے سے جو سود مند لگا وہ قارئین کیلئے بھی درج کردیا.البتہ راقم آپ کی ذاتی معاشی مشکلات کا نہ مداوا کرسکتا ہے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی مشورہ دے سکتا ہے
)

گھٹیا فعل


گھٹیا فعل


کچھ دیر قبل کسی نے ایک ویڈیو کلپ بھیجا جس میں بطور مذاق ایک سات آٹھ سال کے بچے کو بیوقوف بنا کر اس کی نیکر اتار دی گئی. وہ بچہ چیخیں مار مار کر شرم سے رو رہا ہے لیکن ساتھ کھڑے اسکے بےغیرت رشتہ دار نہ صرف اس بچے کی بے بسی پر قہقہے لگا رہے ہیں بلکہ اسکی ویڈیو بھی بنا رہے ہیں. یقین کیجیئے یہ پہلی بار نہیں ہے جب میرے سامنے ایسا ویڈیو کلپ آیا ہو. میں ایسے واقعات بہت بار سن یا دیکھ چکا ہوں جہاں کسی بچے یا سادہ مزاج انسان کو مذاق کا نشانہ بناتے ہوئے دھوکے سے برہنہ کردیا جاتا ہے. ہمارے ملک میں ذہنی پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ لوگ اسے لطیفہ سمجھ کر لوٹ پوٹ ہوتے ہیں. حالانکہ یہ ایسا گھٹیا فعل ہے جس پر کرنے والے کا منہ توڑ دینا چاہیئے. ان ذہنی مفلوج لوگوں کو یہ اندازہ بھی نہیں کہ وہ اس بچے یا انسان کو کیسا ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں؟ جو ممکن ہے ساری زندگی اس کی نفسیات پر تباہ کن اثرات مرتب کرے. خدا کیلئے ایسے کسی مذاق پر دانت نکالنا بند کریں اور سمجھیں کہ اس طرح کسی کی عزت نفس کو مجروح کرنا کریہہ ترین جرم اور گناہ کبیرہ ہے.
.
====عظیم نامہ====