Saturday, 29 October 2016

کلمہ طیبہ کے تین مراحل


 کلمہ طیبہ کے تین مراحل


غور کریں تو کلمہ طیبہ تین مراحل میں منقسم نظر آتا ہے. سب سے پہلے 'لا الہ' کہہ کر "کیا نہیں ماننا؟" اس کا اعلان کیا جاتا ہے. اس کے بعد 'الا اللہ' کہہ کر "کیا ماننا ہے؟" اس کا اقرار کیا جاتا ہے. اور سب سے آخر میں 'محمد الرسول اللہ' پکار کر یہ جانا جاتا ہے کہ "کیسے کرنا ہے؟" راقم کا احساس ہے کہ اگر اسی ترتیب و ترکیب کو ملحوظ رکھ کر دیگر علمی و عملی حقیقتوں پر بھی غور کرلیا جائے تو بہترین علمی نتائج تک پہنچنا ممکن ہے. گویا کسی بھی موجود حقیقت کا تجزیہ یا تحقیق کرتے ہوئے سب سے پہلے جائزہ لیں کہ "کیا نہیں ماننا یا کیا نہیں کرنا ہے؟" اس کے بعد دلائل و براہین سے جانیں کہ "کیا ماننا ہے یا کیا کرنا ہے؟" اور سب سے آخر میں اس کی کھوج کریں کہ "کیسے کرنا ہے؟"
.
====عظیم نامہ====

Monday, 10 October 2016

فلسفی کا خدا


فلسفی کا خدا 



خالص فلسفے اور منطق سے جو بھی خدا کا تصور تراشا جائے گا وہ کتنا ہی جاذب کیوں نہ محسوس ہو؟ اپنی اصل میں ناقص، نامکمل، غیر حقیقی اور باطل ہوگا. 
.
حقیقی خدا کون ہے؟ کیا چاہتا ہے؟ اس کا انسانی حد تک ممکن جواب صرف اسی صورت ممکن ہے جب انسان کو وحی الہی کا نور خارج میں اور فطرت سلیمہ کا نور باطن میں میسر ہو. گویا "نور علیٰ نور"
.
اگر خدا کا تصور انسانی ذہن کی تخلیق ہے تب فلسفی کا پیش کردہ خدا تسلیم کیا جاسکتا ہے. 
لیکن اگر انسانی ذہن خدا کی تخلیق ہے تب وحی کی جانب رجوع کے سوا اور کوئی راستہ نہیں. 
.
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں 
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
.
====عظیم نامہ====

Friday, 7 October 2016

نماز و اذکار کا کیا فائدہ؟


نماز و اذکار کا کیا فائدہ؟



جب تم نیکیوں کے باوجود گناہ نہیں ترک کرتے تو گناہوں کے ارتکاب کو سوچ کر نیکیاں ترک کرنے کی حماقت کیوں کرتے ہو؟ 
ہرگز ملعون ابلیس اور شاطر نفس کے اس دھوکے میں نہ آؤ کہ اس گناہ بھری زندگی میں چند نیکیوں کا کیا فائدہ؟ نماز و اذکار کا کیا فائدہ؟
.
جان لو کہ عقلمند وہ ہے جو مسلسل سچی توبہ کی کوشش کرتا رہے. چاہے ہزار بار ناکام ہو مگر ہر بار نئے عزم سے اٹھے اور رب سے معافی مانگے. اگر گناہ نہیں ترک ہو پارہے تو ترک گناہ کی سعی کیساتھ نیکیوں کا 'ان ٹیک' بڑھا دے. کیا بھول گئے؟ کہ فرمانِ باری تعالی ہے " إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ - بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں" سورہ ہود/ 114 
یاد رکھیں کہ ہمارا رب سچی توبہ پر حقوق اللہ سے متعلق بڑے سے بڑے گناہ کو معاف فرما دیتے ہیں اور نیکیوں کو کا اجر کچھ صورتوں میں دگنا، کچھ میں دس گنا، کچھ میں سات سو گنا اور کچھ میں بے حساب عطا کرتے ہیں.
.
استغفرللہ .. استغفرللہ .. استغفرللہ العظیم 
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 4 October 2016

دو نکھٹو


دو نکھٹو 



کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے کہ ان دونوں ملکوں یعنی پاکستان اور ہندوستان کو ایک دوسرے کا جھپی ڈال کر شکریہ ادا کرنا چاہیئے. قیام کے بعد قریب ستر سال گزارنے اور بے پناہ وسائل رکھنے کے باوجود، اگر ان دونوں ممالک نے کسی شعبے میں قابل ذکر ترقی کی ہے تو وہ واحد دفاع کا شعبہ ہے. ایک دوسرے کی ضد اور حرص میں میزائل، ٹینک، ہتھیار، آبدوزیں، جہاز اور ایٹم بم تک بنا ڈالے. اگر ان دونوں ممالک کے بیچ یہ مسلسل کشیدگی نہ ہوتی تو کیا معلوم؟ یہ کرپٹ حکمران (ہمارے زیادہ، ان کے ہم سے کم) باقی کا پیسہ بھی ہڑپ کر چکے ہوتے. یہ توقع بھی حماقت ہے کہ وہ اس مال کو ترقی و تعمیر کیلئے استعمال کرتے. ابھی تو مجبوری ہے کہ ملکی سلامتی کیلئے یہ پیسہ دفاع پر لگانا ہی پڑتا ہے. اگر یہ مجبوری حائل نہ ہوتی تو شائد اس دنیا میں دو صومالیہ اور ہوتے. 
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 22 September 2016

خودبخود

خودبخود



زیرو کا بلب ایڈیسن نے بنایا اور سورج خودبخود بن گیا.
ملک کا نظام انسانوں نے بنایا اور کائنات کا نظم خودبخود بن گیا.
اداروں کے قوانین قانون سازوں نے بنائے اور مادی قوانین خود بخود بن گئے. 
مادے کے ڈھیر سے جیتا جاگتا عاقل انسان خود بخود بن گیا. 
"یہ کائنات خودبخود چل رہی ہے". یہ بات ملحد نے گاڑی چلاتے ہوئے کہی.

کون بہتر؟


کون بہتر؟



ایک شخص کے تین بیٹے تھے. ایک روز اس نے ان تینوں کو جمع کرکے تلقین کی کہ دیکھو میں شام تک کیلئے گھر سے باہر جارہا ہوں. اگر میری غیرموجودگی میں کچھ مہمان آجائیں تو تم لازمی مہمان نوازی کے حقوق ادا کرنا. یہ کہہ کر وہ شخص اپنا کام نمٹانے گھر سے چلا گیا. کچھ دیر بعد کسی نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا. معلوم ہوا کہ کچھ مہمان ملنے آئے ہیں. اب ان بیٹوں نے جب مہمانوں کی صورت دیکھی تو پہلا سب سے بڑا بیٹا تو جلدی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا. دوسرا منجھلا بیٹا کمرے میں تو نہ چھپا مگر واجبی سا سلام کرکے کونے میں بیٹھ کر لاتعلقی سے اپنا ناول پڑھنے لگا. ان دونوں بڑے بیٹوں کے برعکس چھوٹے بیٹے نے جو اپنی عمر اور طاقت کے لحاظ سے بہت کم تھا، نہ صرف مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا بلکہ اپنی ٹوٹی پھوٹی گفتگو سے ان کا دل بھی بہلانے لگا. گو چھوٹا ہونے کے سبب اسے ٹھیک سے بات کرنا نہیں آتا تھا. پھر وہ اٹھا اور جا کر مہمانوں کیلئے چائے بنانے لگا لیکن اسے تو چائے بنانا بھی ٹھیک سے نہ آتی تھی. لہٰذا اس نے پانی سے پہلے دودھ ڈال دیا اور دودھ کے بعد پتی ڈالی. چینی بھی کچھ زیادہ گرگئی اور اس نے پیالی بھی زیادہ بھر دی. اب وہ اس چائے کو بامشکل سنبھالتا، لڑکھڑاتا، ڈگمگاتا مہمانوں کے پاس لانے لگا. اس کے ہاتھ توازن نہ رکھ پاتے تھے اور چائے تھوڑا تھوڑا اچھل کر طشتری میں پھیلتی جاتی تھی. اس نے بسکٹ بھی پیش کئے مگر جس برتن میں انہیں رکھا وہ چٹخا ہوا تھا. ان سب کوتاہیوں کے باوجود وہ مہمانوں کی ہر ممکنہ تواضع کرتا رہا. شام ڈھلے باپ واپس آیا تو اسے اندازہ ہوگیا کہ کچھ مہمان گھر آئے تھے. اس نے بیٹوں سے استفسار کیا کہ تم میں سے کس نے مہمان نوازی کے حقوق ادا کئے ؟
.
قارئین آپ کا کیا خیال ہے کہ ان تینوں بیٹوں میں سے وہ کون تھا جس نے حقیقی معنوں میں مہمان کے حقوق ادا کرنے کی سعی کی؟ مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے ہر ایک کا جواب یہی ہوگا کہ چھوٹے بیٹے نے حقوق ادا کئے. اس نے چاہے کتنی ہی غلطیاں کی ہوں مگر کم از کم اس نے اپنی صلاحیت کے مطابق مقدور بھر کوشش تو کی. دوستو اس فرضی کہانی کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جو افراد عملی طور پر بہتری کی کوشش کرتے ہیں، وہ اپنی اس کوشش میں کسی ممکنہ کمی اور غلطی کے باوجود بھی ان افراد سے بہرحال ہزار درجے بہتر ہیں جو صرف فصیح و بلیغ باتیں بگھارتے ہیں. افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے خود ساختہ مفکرین تنقید کرنے میں تو سب سے آگے ہیں مگر عملی میدان میں ان کا اپنا کردار صفر بٹا صفر ہے. یہ لوگ فلاحی (چیریٹی) اداروں میں کیڑے نکالتے ہیں مگر خود کسی فلاحی کام کا عملی حصہ نہیں بنتے. یہ تعلیمی شرح کے کم ہونے پر طعنہ کستے ہیں مگر خود کسی غریب کی تعلیم کا بندوبست نہیں کرتے. یہ ملک میں بڑھتی بیروزگاری کا رونا روتے ہیں مگر ذاتی وسائل رکھنے کے باوجود کسی مجبور کی نوکری کا بندوبست نہیں کرتے. 
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا 
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے 
.
====عظیم نامہ====

Monday, 19 September 2016

مایوسی کے پیغمبر


مایوسی کے پیغمبر



بد مزاج انسان کا پسندیدہ جملہ: "بھائی سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے" 
(حالانکہ اکثر سچ کڑوا نہیں ہوتا بلکہ آپ کا لہجہ اور الفاظ کا انتخاب اسے کڑوا بنادیتا ہے)
.
منفی ذہنیت والے انسان کا پسندیدہ جملہ: "بھائی میں تو بس آئینہ دکھاتا ہوں" 
(حالانکہ منفیت کا مریض مثبت زاویہ دیکھ ہی نہیں سکتا. وہ تو صرف ماتم کرسکتا ہے، کوسنے دے سکتا ہے)
بے عمل ناقد انسان کا پسندیدہ جملہ: "بھائی میں تو مسلسل تنقید ہی سے لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہوں." 
(حالانکہ عملی میدان میں مثبت تبدیلی لانے والے افراد ہمیشہ اپنی گفتگو میں مثبت ہوتے ہیں اور صرف 'تعمیری' تنقید کیا کرتے ہیں) 
.
مایوس انسان کا پسندیدہ جملہ: "بھائی یہ معاشرہ ہی سڑ چکا ہے، مجھ اکیلے کے کرنے سے کیا ہوگا؟
(حالانکہ سچی تبدیلی کے خواہشمند شکوے کرنے کی بجائے اپنا اپنا کردار نبھاتے ہیں)
.
دوستو میں یہ نہیں کہہ رہا کہ تنقید نہ کریں یا مسائل کو زیر بحث نہ لائیں. ضرور لائیں مگر اس میں توازن پیدا کریں. جہاں زید حامد کی طرح خوش فہمی کا چیمپئن بننا حماقت ہے وہاں حسن نثار کی طرح مایوسی کا پیغمبر بن جانا بھی دانش کی دلیل نہیں. تنقید ضرور کریں مگر تعریف کے پہلوؤں پر بھی اپنی نظر کرم کیجیئے. مثبت انداز میں تنقید کیجیئے کہ جسے پڑھ کر قاری مایوسی کی دلدل میں نہ جاگرے بلکہ اس میں اپنے سدھار کا جذبہ پیدا ہو. یہ کلیہ کسی سے مخفی نہیں ہے کہ جس صحبت میں بیٹھو گے ویسے ہی جلد یا دیر تم بھی ہو جاؤ گے، لہٰذا اپنی صحبت کا فیصلہ سوچ سمجھ کر اس حدیث کی روشنی میں کرو 
.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے اور برے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے مشک والا اور لوہاروں کی بھٹی. تو مشک والے کے پاس سے تم بغیر فائدے کے واپس نہ ہوگے، یا تو اسے خریدو گے یا اس کی بو پاؤ گے. اور لوہار کی بھٹی تیرے جسم کو یا تمہارے کپڑے کو جلا دے گی یا تم اس کی بدبو سونگھو گے۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2021)
.
====عظیم نامہ====