Tuesday, 31 May 2016

مخلص یا عقلمند؟


مخلص یا عقلمند؟



آپ کا مخلص اور ایمان دار ہونا آپ کے عقلمند اور درست ہونے کی دلیل نہیں ہے.
۔
آپ بیک وقت نہایت مخلص اور انتہائی احمق ہوسکتے ہیں.
۔
اسی طرح آپ کا پوری ایمان داری سے تحقیق کرنا آپ کے صحیح ہونے کا حتمی ثبوت نہیں ۔
۔
آپ بیک وقت اچھے محقق اور  مکمل غلط ہوسکتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

پرسکون رہنے کا ایک موثر نسخہ


پرسکون رہنے کا ایک موثر نسخہ



اس عارضی دنیا میں پرسکون اور کامیاب رہنے کا ایک موثر نسخہ یہ بھی ہے کہ آپ عملی طور پر بہترین ثمر کی کوشش کریں مگر ساتھ ہی ذہنی طور پر بدترین نتیجے کیلئے تیار بھی رہیں۔ اب اگر نتیجہ بہترین نہ بھی نکلا تو قوی امکان ہے کہ وہ کم ازکم بدترین سے بہتر ہوگا اور اگر فی الواقع بدترین بھی ہوا تو آپ کیلئے صدمے کا سبب نہ بنے گا۔ اب اسی طریق کو ملحوظ رکھ کے بعد از تحقیق دوبارہ بہترین کی کوشش کرلیجیئے۔ کوشش بیشک آپ کے ہاتھوں میں ہے لیکن نتیجہ صرف آپ کے رب کے ہاتھوں میں ہے۔ پس نتیجے کیلئے اسی پر توکل کیجیئے۔ نتیجہ آپ کی مرضی کا نہ بھی ہو تو وہ ان شاء اللہ آپ کی محنت کو ضائع نہ ہونے دے گا۔
۔
====عظیم نامہ====

ایک سطر میں پوچھا گیا سوال


ایک سطر میں پوچھا گیا سوال



اکثر ایک سطر میں پوچھا گیا سوال یا اٹھایا گیا اعتراض اپنے جواب کیلئے ایک لمبے مضمون یا مکالمے کا متقاضی ہوتا ہے. اس امر کا بھی قوی امکان ہے کہ بات سمجھانے کیلئے دوبدو مکالمہ کرنا ضروری ہو . لہٰذا اگر آپ تفصیل طلب سوالات اور اعتراضات کی فہرست فیس بک پر پیش کرنے کے شوقین ہیں اور ان کے جوابات نہ پاکر اس خوشی سے پھول جاتے ہیں کہ شائد آپ کی ان عالی مرتبت باتوں کا مقابل نقطہ نظرکے پاس کوئی شافی جواب سرے سے ہے ہی نہیں تو یہ صریح خام خیالی ہے. جان لیجیئے کہ فیس بک اپنی بات کے اظہار کیلئے جتنی موثر ہے، کسی نتیجہ خیز مکالمے کیلئے اتنی ہی غیر موثر ہے. 
.
====عظیم نامہ====

کعبہ کو مسجد الحرام کیوں کہتے ہیں؟



کعبہ کو مسجد الحرام کیوں کہتے ہیں؟ 



خانہ کعبہ کو مسجد الحرام کیوں کہتے ہیں؟ لفظ حرام تو ہمارے نزدیک اچھا نہیں، اسے خانہ کعبہ کیلئے استعمال کرنے سے جھجھک محسوس ہوتی ہے.
.
جواب: 
یہ جھجھک ہماری عربی زبان سے ناواقفیت کے سبب سے ہے. عربی زبان کے وہ الفاظ جو دیگر زبانوں جیسے اردو میں مستعمل ہوگئے ہیں، وہ کئی بار اپنے حقیقی معنی کھو بیٹھتے ہیں یا اپنی ممکنہ وسعت سے محروم ہوجاتے ہیں یا پھر اس کے ساتھ ایسے تصورات جوڑ دیئے جاتے ہیں جو لفظ کی اصل روح کے خلاف ہوتے ہیں. فقہی اعتبار سے چونکہ حرام ہر اس کام کو کہتے ہیں جس سے دین ہمیں روکتا ہو لہٰذا ایسے افعال کے ساتھ ساتھ لفظ حرام سے بھی ایک غیر محسوس ناپسندیدگی ہم سب مسلمانوں کے اذہان میں گھر کرگئی ہے. حرام کے لغوی معنی “روکنے”کے ہیں. حرام مادہ لفظ حرم سے نکلا ہے جس کے ایک معنی 'مقدس جگہ' کے بھی ہیں. مسجد الحرام چونکہ مقدس ترین جگہ ہے اور اس میں بہت سی حرمتیں بھی مقرر کی گئی ہیں یا یوں کہیئے کہ کئی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں جیسے یہاں جنگ کرنا ممنوع ہے. اسی رعایت سے اسے 'مسجد الحرام' یعنی ' حرمت والی مسجد' پکارا جاتا ہے اور اسی بناء پر سال کے چار مہینوں کو اللہ عزوجل نے حرمت والا قرار دیا ہے. اسی طرح حج میں احرام کی حالت میں بھی حاجی پر بہت سی پابندیاں ہوتی ہیں اور اسی لئے اسے 'احرام' کہا جاتا ہے 
.
====عظیم نامہ====

فرض نماز کے وقت دو نمازی


فرض نماز کے وقت دو نمازی



فرض نماز کے وقت دو نمازی ساتھ موجود ہوں اور نماز کیلئے دانستہ جماعت نہ کریں بلکہ اپنی اپنی نماز علیحدہ ادا کرلیں تو یہ بھی ایک طرح کا کفران نعمت ہے. اللہ عزوجل نے انہیں جماعت کی صورت میں ستائیس گنا تک زیادہ ثواب کے حصول کا موقع عطا کیا جو انہوں نے بناء عذر ضائع کردیا. اگر ان کے سامنے ایسا ہی کوئی مالی فائدہ موجود ہوتا تو یہ کبھی اسے ایسے ہاتھ سے نہ جانے دیتے. ان کا دانستہ جماعت کا موقع یوں بناء ملال چھوڑ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ثواب کے حصول کو مال کے حصول سے شاید کمتر جانتے ہیں. یہاں یہ ملحوظ رہے کہ افضل ترین مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا ہے، اس کے بعد اگر کسی حقیقی عذر کی وجہ سے مسجد نہ جاسکے تو دو یا دو سے زیادہ افراد کا ایک چھوٹی جماعت کرلینا بہتر ہے اور اس کے بعد آخری درجہ نماز کا انفرادی طور پر ادا کرنا ہے.
.
====عظیم نامہ====

Monday, 23 May 2016

اگر شوہر تھپڑ مار دے




اگر شوہر تھپڑ مار دے 


جب میاں سے کسی بات پر سخت جھگڑا ہو جائے بلکہ تھپڑ شپڑ بھی پڑ جائے اور گھر کا ماحول سخت خراب ہو جائے تو ایسے میں کیا کیا جانا چاہیئے؟
۔
جواب:
۔
اس سوال کا کوئی ایک حتمی جواب راقم کی دانست میں ممکن نہیں۔ کسی بھی دوسری انتہائی صورتحال کی طرح اس معاملے میں بھی حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے گا. غور کیا جائے گا کہ ایسا ناخوشگوار اور برا واقعہ کیوں پیش آیا؟ 
۔
پہلی صورت یہ ہے کہ جس طرح بعض مرد نہایت درشت مزاج ہوا کرتے ہیں، اسی طرح بعض عورتیں بھی اس حد تک بدتمیز اور بد تہذیب ہوتی ہیں کہ شوہر کی زندگی کو آخری درجے میں اجیرن کر چھوڑتی ہیں. ایسے میں بے تحاشہ برداشت کے بعد امکان ہے کہ ایک نفیس انسان بھی اپنا ذہنی توازن عارضی طور پر کھو کر ہاتھ اٹھا بیٹھے. ایسے میں عورت کو دیکھنا چاہیئے کہ جس شوہر نے سالوں کی رفاقت میں کبھی ہاتھ نہ اٹھایا بلکہ اکثر اسے اسکی غلطی کے باوجود مناتا رہا ، تو اب ایسا کیا غیرمعمولی ہوگیا جو یہ سلیم المزاج بھی اتنی مذموم حرکت کربیٹھا؟ اس موقع پر عورت کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے اور اسے اس رشتے کی آخری وارننگ سمجھنا چاہیئے. مرد معافی مانگ لے تو غنیمت سمجھیئے اور معاف کردیجیئے 
۔
اس کے برعکس ایک دوسرا مرد ہے جو کسی کم سنگین بات پر ہاتھ اٹھا بیٹھا ہے تو اس کی خبر لینی چاہیئے. عورت کو اس سے جزوی قطع تعلق یا بڑوں سے شکایت کرنے کا سوچنا چاہیئے. اس مرد کو ہر حال میں یہ شدید احساس دلانا ہوگا کہ اس کا یہ اقدام قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور آئندہ کیلئے یہ مستقل قطع تعلق کا سبب بن سکتا ہے 
۔
ایک تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی مرد فی الواقع وحشی اجڈ ہے اور بیوی کو پیروں کی جوتی سمجھتا ہے. ایسا شخص بلاتامل ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور اسکے سدھرنے کی امید نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے . فوری طور پر ایسے انسان کو اسکی اوقات یاد دلا کر خلع لے لینی چاہیئے. یہ فیصلہ جتنی جلد ہو اتنا ہی بہتر ہے. بچوں کی پیدائش کے بعد معاملات سدھرتے نہیں بلکہ ایک مستقل ٹریپ کی صورت اختیار کرلیتے ہیں.
۔
====عظیم نامہ====
۔
(نوٹ: اس جواب کو محض راقم کی ذاتی ناقص رائے پر محمول کیجیئے۔ اسے شرعی نصوص سے استنباط سمجھنے کی غلطی نہ کیجیئے)

Wednesday, 18 May 2016

مائیکرواسکوپ کے نیچے


مائیکرواسکوپ کے نیچے



جس دن سے آپ نے اپنی زندگی کو دین کے مطابق ڈھالنے کا فیصلہ کرلیا تو سمجھ لیجیئے کہ اسی دن سے آپ مائیکرواسکوپ کے نیچے آگئے. اب ہر ایک آپ کے ہر عمل کا باریکی سے جائزہ لے گا. ممکن ہے کوئی مولوی کہہ کر چھیڑے تو کوئی استہزائی انداز میں صوفی کہہ کر ٹانگ کھینچے. کوئی آپ کی مثبت تبدیلی پر ہنسے تو کسی کو اچانک آپ انتہاپسند نظر آنے لگیں. اگر داڑھی رکھ لی تو ممکن ہے کہ قریبی گھر والے ہی اسے کٹوا دینے پر زور دینے لگیں، اگر کوئی بہن حجاب کرنے لگی تو فوری طور پر اسے اس کے دوسرے گناہ یاد دلا کر منافقت کے طعنے دیئے جائیں گے، اگر دینی محفل میں بیٹھنے لگے تو اسے نوجوانی کا ابال کہہ کر حوصلہ شکنی کی جائے گی، اگر قران حکیم پڑھنے لگے تو کچھ نیم مذہبی لوگ خود قران پڑھنے سے روکیں گے اور اگر شادی شدہ ہے تو ممکن ہے کہ بیوی ہر معمولی غلطی پر آپ کو دین کا طعنہ دے جیسے ' آپ کا سارا دین بس نماز روزے ہی کا ہے؟ ' یا ' سنت سے یہی کچھ سیکھا ہے؟' وغیرہ غرض اپنے پرائے سب جان کو آجائیں گے. 
.
لازمی نہیں کہ ہر کسی کے ساتھ ایسا ہو مگر اکثر ایسا ہوتا ہے. اسلئے اگر آپ کے ساتھ بھی ہو تو جان لیں کہ یہ آپ کا دین کی راہ میں پہلا امتحان ہے. یہ دیکھنے کیلئے کہ آپ کا ارادہ پکا بھی ہے یا نہیں؟ اگر آپ اس مقام پر گھبرا گئے یا ان زیادتیوں کا جواب درشتگی سے دینے لگے تو ناکام ہوجائیں گے. مطلوب یہ ہے کہ آپ سخت بات کا جواب نرمی سے دیں. تنقید کو مسکرا کر سہہ جائیں. بحث مباحثہ کی بجائے خاموشی سے دین پر چلنے کی اپنی کوشش کرتے رہیں. جہاں اس تنقید اور فقروں سے دل زخمی محسوس ہو ، وہاں خود کو یہ یاد دلائیں کہ دین کی راہ میں سختیوں کو سہنا ہی انبیاء و صلحاء کی سنت ہے. حق کی راہ میں مزاحمت نہ آئے ، ایسا ممکن نہیں. اگر مزاحمت نہیں آرہی تو غور کریں کہ کہیں آپ نے باطل سے کوئی 'جنٹل مین ایگریمنٹ' تو نہیں کر رکھا؟
.
====عظیم نامہ=====