Monday, 29 February 2016

عقل


عقل 


انسانی عقل کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے احساس حاکمیت کے باوجود ' فطرت' سے مطابقت پیدا کرے اور 'وحی الٰہی' کو خود پر نگران تسلیم کرلے. انسان کے شعوری ارتقاء میں عقل کا اضطراب، جستجو اور کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے مگر اس بدیہی حقیقت کے باوجود بھی عقل کو کامل حاکمیت دے دینا سراسر بے عقلی ہے. یہاں یہ جان لیجیئے کہ راقم کا مطلوب عقل کی تحقیر نہیں ہے بلکہ یہ تو انسانیت کا وہ نمائندہ وصف اور اعجاز ہے جو اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے. سمجھانا فقط اتنا مقصود ہے کہ ہر مخلوق اپنے وجود و صفات میں محدود ہوا کرتی ہے. عقل بھی اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ایک مخلوق ہی ہے لہٰذا اسکی بھی حدود متعین ہیں. جنہیں پہچان لینا ہی عقلمندی ہے اور جن سے تجاوز کی ہر کوشش ایک لاحاصل حماقت ہے 




.
تفسیر ہستی کیا ہوگی ؟ ... انسانی فہم کے حلقہ میں ؟
جو عقل کی مکڑی بنتی ہے، وہ فکر و نظر کا جالا ہے
.
====عظیم نامہ====

ممتاز قادری یا سلمان تاثیر میں سے کون درست تھا ؟

ممتاز قادری یا سلمان تاثیر 


.




آپ سمیت کئی احباب نے مجھ سے آج یہ سوال پوچھا ہے. میرے پاس اس سوال کا ہاں یا نہ میں جواب نہیں ہے. اس کی پہلی وجہ میری کم علمی اور دوسری وجہ اس معاملے میں موجود ابہام ہے. میں نے سوچا یہی تھا کہ میں اس موضوع پر لکھنے سے اجتناب کروں تاکہ اس جذباتی رسہ کشی میں شامل نہ ہوں. جس میں شامل ہوکر آج کئی مہذب اذہان ایک دوسرے کی داڑھی نوچ رہے ہیں. مگر بعد میں یہ احساس ہوا کہ شائد میری کوئی بات حق بن کر کسی کی اصلاح کردے ؟ یا پھر کسی اور کا تصحیح کرنا میری اصلاح کا موجب بن جائے؟ لہٰذا اپنی عاجز رائے درج کر رہا ہوں. جیسا کے عرض کیا کہ اس سوال کا جواب میرے پاس ہاں یا نہ میں نہیں ہے مگر کچھ اصولی باتیں ایسی ہیں جو اگر پیش نظر ہوں تو اس پورے تکلیف دہ واقعہ کو بہتر سمجھا جا سکتا ہے. ان اصولوں کو میں سوال جواب کی شکل دے کر لکھے دیتا ہوں.
.
سوال ١: کیا ناموس رسالت کے خلاف زبان درازی یا توہین رسالت کا کوئی عمل قابل سزا جرم ہے؟
. 
جواب: جی ہاں ، ایک مسلم معاشرے میں اسے شدید جرم تصور کیا جاتا ہے اور اس کے سدباب کیلئے سخت ترین سزا کا نفاز کیا جانا چاہیئے.
.
سوال ٢: کیا پھر ہم کسی شاتم رسول (ص) کو سزا دے سکتے ہیں؟
. 
جواب: سزا کا نفاز حکومت وقت کیا کرتی ہے. فرد کو ہرگز اس کی اجازت نہیں کہ وہ ازخود کسی کے شاتم رسول یا مجرم ہونے کا فیصلہ کرے اور پھر خود ہی اسے سزا سنا دے. یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی فرد کسی چور کو پکڑ کر خود سے اسکا ہاتھ کاٹ دے یا زانی کو کوڑے لگا دے. 
. 
سوال ٣: اگر حکومت بس نام کی مسلمان ہو اور وہ سزا دینے میں کوتاہی کرے تو کیا ہم توہین رسالت پر کچھ نہ کریں ؟
. 
جواب: اگر حکومت عدالتی کاروائی کو شفاف طریق سے انجام نہ دے تو مسلمانوں کو اختیار ہے کہ وہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے حکومت پر ہر ممکن دباؤ ڈالیں. حکومت کو مجبور کریں کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے. یہ تمیز بھی ملحوظ رہے کہ زور ڈالنے کا مقصد انصاف کا حصول ہو، اپنی من مانی نہیں.فرد کو بہرحال یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنے گمان پر کسی کی جان تلف کرلے. وجہ صاف ہے کہ اس سے سے نظم، قانون اور انصاف تینوں کا عمل متاثر ہوگا. بہت ممکن ہے کہ فرد تصویر کا صرف ایک رخ دیکھ کر یا جذباتیت کی رو میں بہہ کر کسی بے گناہ کو گنہگار سمجھ بیٹھے. یا پھر کمتر جرم کی سنگینی میں غلو برت جائے. 
.
سوال ٤: کیا ممتاز قادری کا جذبہ قابل رشک نہیں ؟
.
جواب: میری نظر میں تو ان کا جذبہ قابل رشک ہے مگر طریق غلط ہے اور غلط طریق کو غلط ہی کہنا چاہیئے. پھر ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ سلمان تاثیر کو آخری درجہ کا مجرم سمجھنے میں ٹھیک بھی تھے یا نہیں؟
.
سوال: اگر کوئی باوجود اس اصول کے ہونے کے، ممتاز قادری کی طرح گستاخ کو قتل کردے تو کیا ہم قتل کرنے والے کو پھانسی چڑھا دیں گے ؟
.

جواب: پہلی بات یہ ہے کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے، یہ جمہورعلماء کی رائے ہے. دوسری بات یہ ہے کہ اس میں بھی کوئی بڑا اختلاف نہیں کہ گستاخ کا مقدمہ عدالت میں پیش ہوگا اور حاکم یا قاضی کے حکم سے سزا کا اطلاق کیا جائے گا. اب سوال صرف یہ ہے کہ کوئی شخص اس قانون کی خلاف ورزی کرکے کسی ممکنہ شاتم رسول کو بناء عدالت لے جائے قتل کردیتا ہے. اب ایسی صورت میں کیا ہوگا ؟ .. اس کا جواب یہ ہے کہ اب قتل کرنے والے کو عدالت میں ثابت کرنا ہوگا کہ جس کو اس نے قتل کیا ہے وہ فی الواقع شاتم رسول تھا اور اس نے واقعی اتنی بڑی گستاخی کی تھی جو توہین رسالت کہلاسکے. اگر وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو قصاص نہیں لیا جائے گا ، ممکن ہے کہ کوئی سزا بھی نہیں دی جائے. لیکن اگر قتل کرنے والا ثابت نہ کرسکا کہ مقتول واقعی گستاخ تھا تب عدالت اسے قاتل سمجھ کر ہر ممکنہ اقدام کرنے یعنی سزا دینے کی مجاز ہوگی
.
کیا تمام فقہاء کے نزدیک توہین کی سزا قتل کردینا ہے ؟


توہین رسالت کا معاملہ اسلام میں نازک ترین ہے. نرم سے نرم مزاج والے فقہاء بھی اس ضمن میں کوئی لچک نہیں دکھاتے. لہٰذا جیسے پہلے بیان ہوا کہ جمہور فقہاء کی رائے میں توہین رسالت کی واحد سزا موت ہے. مگر کچھ استثنیٰ اس حوالے سے بھی موجود ہے. حنفی فقہاء کے نزدیک توہین کی سزا موت نہیں ہے بلکہ یہ حاکم وقت پر ہے کہ وہ جس سزا کو مناسب سمجھے اسے نافذ کردے. لہٰذا اگر کوئی غیر مسلم توہین کرتا ہے تو حنفی نکتہ نظر سے اسے موت، جیل یا کوئی اور سزا دی جاسکتی ہے. البتہ اگر کوئی مسلم شخص توہین رسالت کا ارتکاب کرتا ہے اور یہ توہین کرنا ثابت ہوجاتا ہے تو ایسا مسلم اب مسلم نہیں بلکہ مرتد کہلائے گا اور حنفیوں میں جمہور کی طرح مرتد کی سزا موت ہے
.
سوال ٥: کیا قادری جنت میں جائیں گے اور سلمان جہنم میں ؟
.
جواب: خوب جان لیں کہ سزا و جزا کا فیصلہ الله رب العزت کے ہاتھ میں ہے. ہمیں یہ اختیار نہیں کہ کسی کی جنت و جہنم کے بارے میں رائے زنی کرتے پھریں. اطمینان رکھیں کہ آپ کا رب بہترین منصف ہے جو جذبہ، نیت، عمل، طریق سب دیکھ کر مبنی باانصاف فیصلہ کرنے والا ہے. یہ فیصلہ ان ہی پر چھوڑ دیں. میری تو دعا ہے کہ رب کائنات ممتاز قادری اور سلمان تاثیر دونوں کو اپنی نظر رحمت سے دیکھیں اور اگر دونوں کے دل میں تھوڑی بھی خیر تھی تو ان کی خطاؤں کو درگزر کردیں. آمین .. وگرنہ جو بھی فیصلہ میرا رب کرے ، میرا ایمان اسی کے علیم و خبیر ہونے پر ہے.
.
والله و اعلم بالصواب 
.
====عظیم نامہ====

Monday, 22 February 2016

عقل کی حدود



عقل کی حدود 


جب عقل سے یہ جان لیا کہ اللہ بلاشبہ موجود ہیں 
جب عقل سے یہ سمجھ لیا کہ الله واقعی خالق کل کائنات ہیں 
جب عقل سے یہ ثابت ہوگیا کہ محمد صلی الله الہہ وسلم اپنی رسالت کے دعویٰ میں سچے ہیں 
جب عقل سے یہ جان لیا کہ نازل کردہ قران الله کی آخری کتاب ہے 
جب عقل سے یہ دیکھ لیا کہ اس کتاب میں درج احکامات محفوظ اور حتمی ہیں

جب ان کلیدی سوالات کے مشفی جواب عقل نے پالئے اور آخری درجہ میں کلام کا من جانب الله ہونا ثابت ہوگیا تو اب یہ عقل اپنے بنانے والے کی نازل کردہ وحی کی پابند ہوگئی. اب یہ احکامات کی پوشیدہ حکمت تو ضرور کھوج سکتی ہے، طالبعلمانہ سوالات تو کرسکتی ہے مگر ان احکامات کے قبول و رد کا میعار ہرگز نہیں بن سکتی. حکمت کا جاننا یا نہ جاننا اب احکام پر عمل کرنے یا نہ کرنے کی دلیل نہیں بن سکتا. اب تو بس سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا اصول لاگو ہوگا یعنی 'ہم نے سنا اور اطاعت کی'. عقل کو جب اپنے بنانے والے کی لامحدود دانش اور اپنی محدودیت کا ادراک حاصل ہوگیا تو اب عقل کا اعتراف عجز کے ساتھ چلنا ہی عقلی بنیاد قرار پائے گا. اس شخص کا یہ انداز تسلیم اور وحی الہیٰ پر اعتماد احمقانہ نہیں بلکہ خالص عقلی و وجدانی سفر کا نتیجہ ہے. وہ اب جان چکا ہے کہ عاقل ہونا یہ نہیں کہ آپ ہر بات کی عقلی توجیہہ پالیں بلکہ عاقل ہونا یہ بھی ہے کہ آپ اپنی عقل کے بارے میں یہ جان لیں کہ وہ کیا نہیں جان سکتی؟
.
دھیان رہے کہ اس استدلال کا مقصد عقل کو سلب کرنا نہیں بلکہ اسکی حدود کا تعین ہے. وگرنہ پورا قران حکیم تدبر و تفکر کی دعوت دیتا نظر آتا ہے. دنیا کے دیگر مذاہب اپنے پیروکاروں کو عقیدے کی افیون پلا کر انکے غور و فکر کی صلاحیت کو سلب کر لیتے ہیں. لیکن قرآن وہ واحد الہامی کلام ہے جو اپنے قاری کو تحقیق و تدبر پر ابھارتا ہے. وہ کہتا ہے ' افلا تعقلون ' (تم عقل کیوں نہیں استعمال کرتے؟) وہ کہتا ہے ' افلا یدبرون' (تم تدبر کیوں نہیں کرتے؟) وہ اس انسان کو انسان ماننے تک سے انکار کرتا ہے جو اپنی عقل استمعال نہ کرے اور ایسے انسان کو بدترین جانور سے تعبیر کرتا ہے جو گونگا بہرہ بھی ہو. وہ دلیل پیش کرتا ہے اور جواب میں دلیل کا تقاضہ کرتا ہے. وہ اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید سے روکتا ہے اور اس عمل کو مشرکین کی روش بتاتا ہے. وہ کہتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو انجیل، تورات یا کوئی اور بڑی دلیل پیش کرو. وہ مکالمے کی فضا کو فروغ دیتا ہے اور جاہل کو بھی سلام کہہ کر چھوڑ دینے کو کہتا ہے. وہ غیر مذاہب کے خود ساختہ خداؤں کو بھی برا کہنے سے روک دیتا ہے. وہ زمین و آسمان پر غور کرنے کو عبادت بنا دیتا ہے اور تاریخ سے سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے. 
.
تحقیق و تدبر کرنے والا ذہن بناء سوال پوچھے نہیں رہ سکتا. یہ انتہا درجہ کا مغالطہ ہے کہ الله سوال پوچھنے سے منع کرتے ہیں. ہرگز نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ مخلص علمی سوالات کی حوصلہ افزائی فرماتے ہیں. البتہ ایسے سوالات پوچھنے والے کی گرفت کرتے ہیں جس کا مقصد بات کو سمجھنا نہیں بلکہ کجی پھیلانا ہو. یہاں سوال پوچھنا اپنی اصل میں مذموم نہیں بلکہ وہ ٹیڑھی ذہنیت ہے جو فتنہ پرور ہو. اگر مقصد حق کو سمجھنا ہے تو پھر نہ صرف اس کی اجازت ہے بلکہ مندوب ہے. اسکی ایک خوبصورت مثال ملائکہ کا سوال پوچھنا ہے. ہم قران ہی کے بیان سے جانتے ہیں کہ فرشتے رب کی کبھی نافرمانی نہیں کرتے. مگر یہی قران جب ہمیں تخلیق آدم کا قصہ سناتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب الله نے آدم عليه السلام کو خلیفہ الارض بنانے کا اپنا ارادہ ظاہر کیا تو ملائکہ نے بارگاہ الٰہی میں سوال اٹھایا. ملاحظہ ہو سورہ البقرہ ٣٠
.
"جب آپ کے پروردگار نے فرشتو ں سے کہا کہ میں روئے زمین پرایک جانشین اور حاکم مقرر کر نے لگا ہوں تو فرشتوں نے کہا (پروردگارا ) کیا ایسے شخص کو مقرر کرے گا جو زمین پر فساد اور خونریزی کرے گا (جبکہ)  ہم تیری تسبیح اور حمد بجالا تے ہیں ... "
.
ذرا سوچیں کہ رب کے فرمان کے سامنے ایسا سوال اٹھانا کتنی بڑی جسارت ہے اور یہ بھی دیکھیں کہ یہ سوال اٹھا ملائکہ رہے ہیں جو اپنی سرشت میں معصوم بنائے گئے ہیں. اب اگر ہمارے رب کو سوال کا پوچھنا ناپسند ہوتا تو لازمی تھا کہ پوچھنے والے سزا پاتے. مگر اس کے برعکس الله رب العزت نے پہلے ملائکہ کو انکے علم کی محدودیت اور اپنے علم کی کاملیت کا بیان کیا اور پھر اسی پر اکتفاء نہ کیا بلکہ ملائکہ کی تشفی کیلئے ایک پورا امتحان سجا کر حجت کا اتمام کیا. ابلیس اور ملائکہ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ ملائکہ کا سوال پوچھنا بات کو سمجھنے کیلئے تھا. جبکہ ابلیس کا اعتراض اس کے تکبر کا اظہار تھا. یہی وجہ ہے کہ ملائکہ سجدہ کرکے مقرب رہے اور ابلیس کافر بن کر راندہ درگاہ قرار پایا. یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ ملائکہ نے سوال پوچھا تھا ، سجدہ سے انکار نہ کیا تھا. اگر الله کی مشیت میں انہیں جواب نہ بھی دیا جاتا تب بھی وہ سجدہ ضرور کرتے. جیسا کے پہلے ہی بیان کیا جاچکا ہے کہ جب بات کا من جانب اللہ ہونا ثابت ہو جائے تو پھر عقل احکامات کے قبول و رد کا میعار ہرگز نہیں بن سکتی. 
.
نوٹ: گزارش ہے کہ یہاں ملائکہ کے عاقل ہونے یا نہ ہونے کی بحث کو نہ اٹھایا جائے. یہ ایک جدا موضوع ہے جو تفصیل کا متقاضی ہے
.
====عظیم نامہ====

Friday, 19 February 2016

سب سے پہلے اے دوست




سب سے پہلے اے دوست ۔۔۔

۔
سوچو کہ سوچتے کیسے ہیں ؟
تحقیق کرو کہ تحقیق کیسے کرتے ہیں ؟
سیکھو کہ سیکھتے کیسے ہیں ؟

مذہبی دانشور اور گناہوں کی تشہیر



مذہبی دانشور اور گناہوں کی تشہیر 



مجھے شدید حیرت ہوتی ہے کہ دینی علم اور رجحان رکھنے والے احباب اپنی فیس بک وال سے فحش ویڈیوز یا تصاویر شیئر کیسے کرلیتے ہیں ؟

. 
کیا وہ نہیں جانتے کہ دعوت، مزاح یا کسی بھی اور وجہ کو بنیاد بناکر کسی عریاں یا نیم عریاں پوسٹ کی تشہیر دین میں شدید ممنوع ہے ؟
.
کیا وہ واقف نہیں کہ جب وہ دینی علوم پر روز تبصرہ فرماتے ہیں تو لوگ ان کے ہر عمل کو دین کے مبلغ کا فعل سمجھتے ہیں ؟
.
کیا انہیں علم نہیں کہ خدا گناہ چھپانے والے کے گناہ معاف کرتا ہے مگر اس کی تشہیر کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کرتا ؟
.
کیا وہ واقعی اتنے ناسمجھ ہیں کہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ انکی کسی ایسی پوسٹ کو دیکھنے والا ہر شخص ان کے گناہ کو مزید سنگین بنا دیتا ہے ؟
.
کیا وو فی الواقع نہیں دیکھ پاتے کہ جیسے اچھی بات کا پھیلانا صدقہ جاریہ ہے ویسے ہی گناہ کو سوشل میڈیا جیسی جگہ پر پھیلانا گناہ جاریہ ہے ؟ جو ممکن ہے انکے مرنے کے بعد بھی جاری رہے ؟
.
الله کے بندوں ! میں خود کوئی پارسا نہیں بلکہ تم سے کہیں زیادہ گنہگار ہوں مگر اتنی عقل مجھ عاصی کو بھی ہے کہ مذاق یا چٹخارے کیلئے کسی گناہ کی یوں ترویج کرنا کبیرہ گناہ ہے، جرم ہے، سرکشی ہے. یہ کیا معاملہ ہے کہ ایک جانب تم صبح شام دین کی اور نیکی کی باتیں کرو اور دوسری جانب گناہوں کی تشہیر کرکے لایکس اور کمنٹس سمیٹو .. یا پھر تمہارے لئے دین پر بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے کرکٹ یا سیاست پر بات کرلینا ؟ .. میرے تلخ لہجے کو معاف کرنا اور اس پیغام کو سمجھنا جو راقم کا مطلوب ہے.
.
====عظیم نامہ====

انکساری کا ڈھونگ ؟


انکساری کا ڈھونگ ؟


علم نے اگر مجھ میں انکسار پیدا نہ کیا تو پھر کچھ بھی نہیں کیا. انکساری الفاظ سے پیدا کی نہیں جاتی بلکہ یہ خود شناسی سے پیدا ہوجاتی ہے. بعض احباب انکساری کا اظہار بھی اس رعونت سے کرتے ہیں کہ مخاطبین پر تحقیر کا گھڑوں پانی پڑجاتا ہے. پھر کچھ رفقاء ایسے بھی ہے جن کا لفظی چناؤ تو فی الواقع انکسار سے سجا ہوتا ہے مگر عمل اس کے یکسر برعکس ہوا کرتا ہے. یعنی وہ ایسے خوبصورت جملوں کا تو کثرت سے استعمال کرتے ہیں جیسے 'مجھ احقر کی کیا مجال؟' ... یا 'ذرہ نوازی پر ممنون ہوں' ... یا 'قبلہ میں تو معمولی طالبعلم ہوں' ... یا پھر 'مجھ فقیر پرتقصیر کی عاجزانہ رائے تو یہ ہے' وغیرہ
.
اب ظاہر ہے کہ اصولی طور پر ایسا طرز تخاطب کسی منکسر المزاج انسان کا ہی ممکن ہے. مگر المیہ یہ ہے کہ ایسے کئی اشخاص نظر سے گزرے جو الفاظ میں تو ایسے ہی شیریں ہیں مگر کردار میں بلا کے متشدد ہیں. اپنی 'میں' کے سامنے وہ کسی بھی دلیل یا شخصیت کو روند ڈالتے ہیں. حقیقی انکسار الفاظ تک محدود نہیں رہتا بلکہ آگے بڑھ کر متکلم کا کردار بن جاتا ہے. پھر کہنے کی بھی احتیاج نہیں رہتی بلکہ لوگ خود اسکی گواہی سرعام دیتے ہیں. فقط الفاظ کے الٹ پھیر سے اور محض انکساری کی نقاب پہن کر ہم کچھ مخاطبین کو وقتی طور پر متاثر تو کرسکتے ہیں مگر اپنے رب سے باطن چھپا نہیں سکتے.
.
====عظیم نامہ=====

Monday, 15 February 2016

بانو قدسیہ


بانو قدسیہ



ایک دانشور نے محفل میں بانو قدسیہ صاحبہ سے اپنا احساس ظاہر کرتے ہوئے کچھ یوں سوال کیا کہ 
.
' عام طور پر جب میاں بیوی ایک زمانے تک ساتھ رہتے رہیں تو شوہر کی اپنی شخصیت بیوی سے متاثر ہو کر مٹنے لگتی ہے مگر آپ کے کیس میں اس کے بلکل برعکس ہے. اشفاق احمد صاحب کی شخصیت نے تو کوئی خاص اثر قبول نہیں کیا مگر آپ کی اپنی شخصیت اور افکار ان کے زیر اثر نظر آنے لگے. اس کی کیا وجہ ہے ؟ .. کہیں اشفاق صاحب ہلاکو خان کی طرح جابر تو نہیں جو سب مٹا دیں؟ '
.
سامعین نے قہقہے بلند کئے. پھر بانو قدسیہ صاحبہ نے ٹہرے ہوئے لہجے میں کہا کہ 
.
نہیں اگر معاملہ ہلاکو جیسے جبر کا ہوتا تو کوئی مسلہ نہ تھا مگر وہ انسان جو پہلے ہی مٹا مٹا سا ہو ، اسے آپ مٹا نہیں سکتے
.
(ایک انٹرویو سے ماخوز مفہوم)