Sunday, 27 September 2015

میں کی گردان


میں" کی گردان"




میری طبیعت ہر اس کتاب یا تقریر سے اجتناب کرتی ہے، جس میں مصنف یا مقرر اپنی "میں" کی گردان کرتا رہے. جیسے "میں" نے فلاں خواب دیکھا یا "میں" فلاں کا شیخ رہا. "میں" فلاں تسبیحات پڑھتا ہوں یا "میں" نے اتنی کتب کا مطالعہ کیا. یہ "میں" کا ورد کرنا ازخود ایک مہلک بیماری ہے. ایسا شخص جب عجز کا اظہار کرتا ہے تب بھی اس کے انداز و کلام میں خودپسندی کا عنصر غالب نظر آتا ہے. ہم اکثر یہ بھول بیٹھتے ہیں کہ غرور محض مال و رتبہ کا ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی بار علمی تکبر یا پارسائی کا نشہ بھی انسان کو برباد کردیتا ہے. خوب جان رکھیئے کہ اگر معرفت نے انسان کی ذات میں عاجزی نہیں پیدا کی تو پھر وہ معرفت نہیں بلکہ محض سراب ہے. اگر علم نے انسان کے وجود میں انکساری کو اجاگر نہ کیا تو پھر وہ علم نہیں بلکہ فقط معلومات ہے.
.
====عظیم نامہ====

دعا



دعا



یا رب العظیم .. مجھے گناہوں سے کراہیت اور سچی توبہ پر استقام عطا کیجیئے
یا رب الکریم .. میری خطاؤں، گناہوں اور جرائم کو معاف کردیجیئے. 
یا رب ارض و سماء .. جیسے آپ نے اس دنیا میں میری برائیوں کو ڈھانپے رکھا، روز جزاء بھی مجھے رسوا نہ کیجیئے.

یا رب العالمین ، یا رب ظاہر و باطن .. آپ کا یہ گنہگار بندہ اجر ہی نہیں توفیق بھی مانگتا ہے. آپ کا یہ عاجزغلام آپ سے انصاف کا طلبگار نہیں بلکہ رحم کا خواستگار ہے. اے رحمٰن ! مجھ پر رحم کر دیں. اے غفور ! مجھے بخش دیں. اے منتقم ! میرا مواخذہ نہ کریں. اے حسیب ! مجھ سے حساب نہ لیں. اے حفیظ ! مجھے میرے نفس سے بچا لیں. آمین یا احکم الحاکمین
frown emoticon

.
===========================
.
خود کو دھوکہ مت دو .. ایمان اتنا ہی ہے جتنا تمہارا عمل ہے - احمد جاوید صاحب
.
نماز پڑھ پڑھ کر اور روزہ رکھ رکھ کر تیری کمر ہی کیوں نہ دھری ہو جائے ، جب تک حرام سے اجتناب نہ کرے گا تو کوئی فائدہ نہیں - حضرت عمر رض
.
مومن وہ نہیں کہ جس کی محفل پاک ہو بلکہ مومن تو وہ ہے جس کی تنہائ بھی پاک ہو - حضرت علی رض
.
بدنصیب ہے وہ شخص جو توبہ کی امید پر گناہ کرے اور زندگی کی امید پر توبہ کو ملتوی رکھے - حضرت علی رض
.
===========================

'تطبیق'


تطبیق

 
دوران کلام ہم نے کہا کہ : حضرت ان دونوں باتوں میں 'تطبیق' کرنا لازم ہے
.
کہنے لگے: 'تطبیق' کے کیا معنی ہیں؟
.
ہم نے مسکرا کر کہا کہ : میاں کسی بات کا 'منطبق' ہونا
.
حیرت سے بولے: اب یہ 'منطبق' ہونا کیا ہے؟
.
ہم نے شرارت سے کہا کہ: قبلہ کسی بات کا 'انطباق' کرنا
.
غصہ سے گویا ہوئے: بھئی اب یہ 'انطباق' کرنا کیا ہوتا ہے؟
.
ہم نے پیار سے کہا کہ: محترم دو باتوں میں 'مطابقت' کی سعی
.
ناراضگی سے مخاطب ہوئے: اور یہ 'مطابقت' کیا ہوتی ہے؟
.
ہم نے پیار سے کہا کہ : عزیزم دو باتوں کو ایک دوجے کے 'مطابق' کردینا
.
ٹھنڈی سانس بھر کر فرمایا : اچھا اچھا اب سمجھا، تو تم ان دونوں باتوں کو ایک دوسرے کے 'مطابق' کرنا چاہتے ہو
.
ہم نے تائید میں گردن ہلا کر کلام کا اختتام کیا. گو ہم زہنی طور پر تیار تھے کہ اگر ہمارے رفیق اب بھی نہ سمجھے تو ہم انہیں بتائیں گے کہ 'مطابق' مادہ لفظ 'طبق' سے برآمد ہوا ہے اور اسی 'طبق' سے دیگر الفاظ جیسے 'طبقہ' اور 'طبقات' وجود پذیر ہوئے ہیں. مگر شائد اس نوبت سے قبل ہی ان کے چودہ طبق روشن ہوچکے تھے. معلوم نہیں کیوں؟
.
====عظیم نامہ====

قران حکیم ترجمہ کے ساتھ پڑھنا



قران حکیم ترجمہ کے ساتھ پڑھنا 




ہم نے کہا کہ : قران حکیم کے ترجمہ کے ساتھ یہ کوشش بھی کرنی چاہیئے کہ عربی میں اتنی مہارت ضرور حاصل ہوجائے کہ ہم کتاب الله کو براہ راست اسی کی زبان میں سمجھ سکیں 
.
کہنے لگے : اس کی قطعی ضرورت نہیں کہ ہمارے پاس ایک سے ایک با محاورہ تراجم موجود ہیں 
.

ہم نے سمجھایا کہ : آپ کی بات درست مگر کوئی بھی ترجمہ اپنے اصل کی روح کو منتقل نہیں کرسکتا 
.
فرمانے لگے : فضول کی بات ہے ، اچھا لفظی ترجمہ پورا مدعا روح سمیت منتقل کردیتا ہے
.
ہم نے احتجاج کیا کہ : کوئی بھی اچھا کلام ترجمہ ہوکر اپنی اثر انگیزی اصل کے درجہ میں قائم نہیں رکھ پاتا
.
تیز آواز میں بولے : یہ تمہارا ذاتی فلسفہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
.
ہم نے پوچھا کہ : تمھیں انگریزی اور اردو دونوں پر مہارت حاصل ہے ؟
.
فخریہ آواز میں مخاطب ہوئے : بلکل سو فیصد
.
پھر ذرا مرزا غالب کے اس سادہ سے شعر کا مجھے انگریزی ترجمہ کر دو، ایسے کہ معنی بھی مکمل ہوں اور کلام کا حسن بھی متاثر نہ ہو ؟
.
گھبرائی نظروں سے دیکھتے ہوئے استفسار کیا : کون سا شعر ؟
.
ہم نے کہا :
.
ہر اک بات میں کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ؟
تم ہی کہو، یہ انداز گفتگو کیا ہے ؟
.
کچھ دیر سوچتے رہے .. پھر کلام کے لئے منہ کھولا .. مگر پھر خاموش ہو گئے .. سامنے میز پر رکھے نقلی پھول سے کھیلنے لگے. کچھ غصہ میں لگ رہے تھے ؟. لگتا ہے بات سمجھ گئے. مگر ہم نے خاموشی میں ہی عافیت جانی


====عظیم نامہ====

اہل نظر کے لئے ظاہری و باطنی علوم کا تقابل - علامہ اقبال کے اشعار میں


اہل نظر کے لئے ظاہری و باطنی علوم کا تقابل - علامہ اقبال کے اشعار میں  


=========================================

.
عقل گو آستاں سے دور نہیں 
اس کی تقدیر میں حضور نہیں 
.
علم میں بھی سرور ہے لیکن 
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں 
.
=========
.
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں 
تیرا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں 
.
========
.
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
.
========
.
گُزر جا عقل سے آگے۔۔۔ کہ یہ نُور
چراغِ راہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ منزِل نہیں ہے
.
========
.
مقام عقل سے آساں گزر گیا اقبال 
مقام شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ 
.
=======
.
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبرئیل 
اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل 
.
عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں 
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل 
.
مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں 
کہاں حضور کی لذت، کہاں حجاب دلیل 
.
=======
.
شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب 
مقام شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیب 
.
======
.
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق 
عقل هے محو تماشۂ لب بام ابهی
.
======
.
اک دانش نورانی ، اک دانش برہانی 
ہے دانش برہانی ، حیرت کی فراوانی 
.
======
.
علم کی حد سے پرے بندۂ مومن کے لیے
لذتِ شوق بھی ہے ، نعمتِ دیدار بھی ہے
.
======
.
شاعر: علامہ محمد اقبال رح
.
انتخاب: عظیم الرحمٰن عثمانی

کیا وطن سے محبت شرک ہے ؟



کیا وطن سے محبت شرک ہے ؟



.
کسی متاثر کن شخصیت سے محبت ہوجانا فطری عمل ہے
مگر شخصیت پرستی حرام ہے ..
.
آبائی وطن کیلئے دل میں محبت رکھنا فطری فعل ہے
مگر وطن پرستی حرام ہے ..
.
غیر الله سے محبت کرنا گناہ نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں واجب و مستحسن ہے. غیر الله کی محبت کو الله عزوجل کی محبت و اطاعت پر فوقیت دینا گناہ ہے. پرستی لفظ پرستش کا غماز ہے جو الله کے سوا کسی کیلئے جائز نہیں. 

.
====عظیم نامہ====

ٹیلر میڈ اسلام


ٹیلر میڈ اسلام



'اسد الله خاں غالب سے جب ایک انگریز افسر نے پوچھا کہ 'کیا تم مسلمان ہو؟'

مرزا بولے 'جناب آدھا مسلمان ہوں
انگریز نے حیرت سے کہا 'کیا مطلب؟ کیسے؟' .. 
ارشاد ہوا 'میاں شراب پیتا ہوں .. سؤر نہیں کھاتا' 
.
اگر دیانت داری سے جائزہ لیں تو ہم سب کا بھی یہی حال ہے .. یہاں سب آدھے پونے مسلمان ہیں ، سب کا اپنی مرضی سے ڈیزائن کردہ ' ٹیلر میڈ ' اسلام ہے. یہاں رشوت لینے والا سرکاری افسر مسجد میں قالین بچھاتا ہے. سود پر کمانے والا حلال گوشت کی دکان ڈھونڈھتا ہے اور جسموں کا دھندہ کرنے والا میلاد و محرم کے جلوس کا انعقاد کرتا ہے. ٹی وی پروگرام 'سر عام' کو دیکھ کر خود سے نفرت ہونے لگتی ہے. لمبی داڑھی والے ، ماتھے پر سجدوں کے نشان سجائے بزرگ جسم فروشی سے لے کر لوگوں میں غلاظت فروخت کرنے تک میں ملوث نظر آتے ہیں. ماشاللہ اور انشااللہ ان کی زبان پر جاری ہوتا ہے مگر کردار ایسے بھیانک کے روح کانپ جائے. ہر ایک ڈھٹائی سے جواز پر جواز پیش کرتا نظر آتا ہے. مجھے تو گمان ہے کہ اگر آج لاہور کے حالیہ گرفتار شدہ ملزمان سے پوچھا جائے کہ 'مسلمانوں کو سؤر کا گوشت کیوں کھلاتے تھے؟'... تو عین ممکن ہے کہ فخریہ کہہ دیں ' الحمدللہ ہم سؤر کا حلال طریقہ سے ذبیحہ کرتے تھے.' 
.
====عظیم نامہ====