Friday, 10 July 2015

قران پر تدبر کا آغاز کیسے کیا جائے؟


قران پر تدبر کا آغاز کیسے کیا جائے؟




.
سوال : بھائی جان قران پر تفکر کا آغاز کیسے کروں ؟ کیسے سمجھوں ؟ تھوڑا گائیڈ کر دیں
.
جواب:
.
السلام و علیکم 
.
مطالعہ قرآن کے دو مقاصد ہیں۔
.
١. تزکر
٢. تدبر
.
تذکر کے لئے اس سے آسان کتاب کوئی نہیں. تدبر کیلئے اس سے مشکل کتاب کوئی نہیں. تزکر ایک بار نیک نیتی سے پڑھنے سے حاصل ہوسکتا ہے. تدبر کی کوئی حد نہیں. ساری زندگی تحقیق کرتے رہیں. قران حکیم کے خزائن الله کی توفیق اور قاری کے ظرف و علم کے مطابق افشاں ہوتے رہیں گے 
.
اِرشاد خداوندی ہے:
.
کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْآ اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَاُولُوا اْلاَلْبَابِ۔ ص، ۳۸:۲۹
.
’’(یہ قرآن) برکت والی کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمائی تاکہ وہ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ عقل مند لوگ نصیحت قبول کریں۔‘‘
.
تذکر کے حوالے سے قرآن یوں گویا ہوتا ہے
.
وَلَقَدْ یَسَّرنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکِرْ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ القمر، ۵۴:۱۷
.
’’اور بے شک ہم نے نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے قرآن کو آسان کیا، تو ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا‘‘
.
تزکر اور تدبر کے بتدریج سفر کو شروع کرنے کے لئے چند تجاویز درج ذیل ہیں. یہ کوئی حتمی تجاویز نہیں ہیں مگر وہ طریق ہے جسے میں نے خود اپنے لئے اپنایا اور فائدہ مند پایا. ان سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور کئی اہل علم اس ترتیب سے اختلاف رکھتے بھی ہیں. لہٰذا اسے ایک کم علم انسان کا ذاتی سفر اور ناقص تجربہ سمجھیں 
.
١. قران مجید کا سادہ ترین ترجمہ لے لیں جو آپ کو سمجھ میں آتا ہو. کسی خاص مسلک یا عالم کا ہونا ضروری نہیں 
.
٢. ساتھ میں تفصیلی تفسیر نہ ہو بلکہ سادہ ترجمہ ہو 
.
٣. ایک نوٹ بک لے لیں جس میں آپ نوٹ بنا سکیں 
.
٤. الله پاک سے دعا کریں کہ وہ آپ کو اپنی کتاب سمجھا دیں اور کسی طرح کی ملاوٹ سے محفوظ رکھیں 
.
٥. اپنے دل میں مصمم ارادہ کر لیں کہ آپ اس کتاب کو مسلکی عینک سے نہیں پڑھیں گے 
.
٦. پڑھنے سے پہلے تمام فرسودہ خیالات اور نظریات کو اپنے ذہن کی تختی سے کھرچ پھینکیں اور یہ ٹھان لیں کہ اس الہامی پیغام کے سامنے اپنا سر جھکا دیں گے 
.
٧. الله کا نام لے کر آغاز کریں. اتنا پڑھیں جتنا شوق سے پڑھ سکتے ہیں. عربی ساتھ پڑھیں تو بہت اچھا ہے ورنہ سادہ ترجمہ پڑھیں. رک رک کر سوچ سوچ کر پڑھیں. ایک خاص وقت مقرر کر سکتے ہیں تو کرلیں
.
٨. جو آیت پسند آئے یا سمجھ نہ آئے ، اسے نوٹ بک میں لکھ لیں. 
.
٩. کھل کر سوال پوچھیں اور سوچیں. آیت کے متعلق جو اشکال پیدا ہوں، انہیں سوالات یا طالبعلمانہ اعتراضات کی صورت میں آیت کے نیچے بریکٹ لگا کر لکھ لیں. یہ سوالات آگے جا کر قران خود حل کردے گا. اگر کچھ سوالات پھر بھی نہ سمجھ آئیں تو بعد میں اہل علم سے پوچھ لیجئے. اس وقت تک جواب پر راضی نہ ہوں جب تک وہ آپ کو قلبی و فکری طور پر مطمئن نہ کردے. 
.
10. ایک دفعہ قران شروع کردیا ہے تو اب رکیئے نہیں. شروع میں شیطان خوب بہکائے گا ، قران کے مزاج کو سمجھنے میں کافی مشکل ہوگی مگر ہمت ہارے بناء رب سے مانگ کر پڑھتے جائیں. دس گیارہ سپاروں کے بعد آپ کو انشااللہ شدید لگاؤ پیدا ہو جائے گا اور نتیجہ میں پڑھنا بہت اچھا لگے گا 
.
١١. اسی طرح پہلی بار قران مجید کو پورا ختم کریں. چار سے چھ مہینہ میں یہ پوراہو جائے گا. ایک بار جب ایسے پورا ہو جائے تو پھر اس کے بعد دوسری بار پڑھیں گے اور اس بار تحقیق کے زاویہ اور بھی گہرے ہوں گے. عربی زبان کو سیکھنا، اس کی لغت کو دیکھنا ، شان نزول کو سمجھنا، مختلف مفسرین کی آراء کا تقابل کرنا، مضامین قران کو الگ الگ دیکھنا وغیرہ اس میں شامل ہوگا
.
واللہ اعلم بلصواب 
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 9 July 2015

گناہ کو گناہ سمجھنا



گناہ کو گناہ سمجھنا


گناہ کو گناہ سمجھنا نہایت ضروری ہے، یہ بات بظاہر اہم محسوس نہیں ہوتی مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان میں احساس ندامت باقی رہے تو پلٹ آنے کی امید باقی رہتی ہے. مگر اگر گناہ کی سنگینی کا احساس دل سے رفو ہو جائے تو پھر ایسا شخص پوری زندگی اسی عمل میں ملوث رہتا ہے. ہم جانتے ہیں کہ ابلیس نے الله رب العزت کے حکم کو ماننے سے انکار کیا تھا اور ہم اس سے بھی واقف ہے کہ آدم الہے سلام نے بھی ممنوعہ شجر کا پھل کھاکر الله رب العزت کے صریح حکم کی خلاف ورزی کی تھی. پھر وہ کون سا فرق تھا جس کی بنیاد پر ابلیس تاقیامت ملعون قرار پایا اور آدم الہے سلام کو پھر بھی خلیفہ الارض کی خلعت پہنائی گئی؟ 
.
فرق اس سے زیادہ کچھ نہ تھا کہ ابلیس نے اعتراف جرم کی بجائے ، الله تعالیٰ پر بھٹکانے کا الزام لگایا. جبکہ آدم الہے سلام نے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے احساس ندامت ظاہر کیا. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احساس ندامت رکھنا کس قدر موثر اور ضروری ہے
.
بچپن میں میرے والد مجھے ایک کہانی سنایا کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ شروع شروع میں شیطان بہت پریشان رہا کرتا تھا، وہ بڑی سخت محنت کے بعد کسی کو گناہ پر آمادہ کرتا. اسے نماز پڑھنے سے روکتا یا جھوٹ بولنے پر اکساتا مگر جیسے ہی اس شخص کو اپنے گناہ کا احساس ہوتا تو وہ فوری الله پاک سے معافی مانگ لیتا. نتیجہ یہ کہ میری رب کی رحمت سے وو نہ صرف معافی حاصل کرلیتا بلکہ بعض اوقات اسکا مرتبہ بھی بڑھا دیا جاتا. یہ دیکھ کر شیطان نے ایک نئی پالیسی بنائی ، اور وہ یہ کہ انسان سے گناہ کچھ اس ڈھنگ میں کرواۓ جایئں کہ وہ انہیں گناہ سمجھ کر نہیں بلکہ ثواب جان کر انجام دے. اب جب کسی عمل کو گناہ سمجھا ہی نہ جائے بلکہ یہ سوچا جائے کہ اس سے آپ متقی ہو رہے ہیں تو پھر ظاہر ہے کہ توبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ آج لوگ ثواب سمجھ کر کبھی تو کسی پیر کو سجدہ کرتے ہیں تو کبھی ہزاروں بیگناہوں کو جان سے مار دیتے ہیں. ضروری ہے کہ کم از کم گناہ کو گناہ تسلیم کیا جائے ، اس کے کرنے کے لئے کوئی بہانہ یا تاویل نہ گھڑی جائے
.
====عظیم نامہ====

رمضان المبارک میں ایک بہترین عمل



رمضان المبارک میں ایک بہترین عمل 



رمضان المبارک میں ایک بہترین عمل یہ بھی ہے کہ آپ چند ایسی آیات حفظ کرلیں، جن میں آپ کی انفرادی ربیت کا بیان ہوا ہو اور وہ اپنے حجم میں کم از کم کسی چھوٹی سورہ جیسے سورہ العصر کے برابر ہوں. ان آیات کو پھر آپ ساری زندگی اپنی نمازوں میں تلاوت کرسکیں گے. میرا اپنا طریق یہی ہے کہ پہلے میں اپنا داخلی جائزہ لیتا ہوں کہ وہ کون سے گناہ یا کمزوریاں ہیں جو مجھ میں موجود ہیں اور جن سے اجتناب کرنا میرے لئے خاصہ کٹھن ہے. جب یہ واضح ہو جائے تو ان کمزوریوں سے متعلق قران حکیم کی آیات کو سمجھ کر حفظ کرلیتا ہوں. پھر نماز میں بار بار غور کرکے تلاوت کرتا رہتا ہوں. اس ترکیب سے گناہ کا چھوڑنا یا اس کمزوری کو ٹھیک کرلینا آسان ہوجاتا ہے. اسی طرح قران پاک کے وہ مقامات جو میرے دل کے زیادہ نزدیک ہیں ، انہیں بھی نماز میں پڑھنے کیلئے یاد کرلیتا ہوں اور یوں اس پر تدبر گہرا ہوتا جاتا ہے. وہ معنی سمجھ آنے لگتے ہیں جو ایک بار پڑھنے یا تفکر کرنے سے کبھی نہیں آتے. رمضان قران کا مہینہ ہے لہٰذا آپ بھی کچھ آیات یا سورہ ضرور سمجھ کر حفظ کریں جو انشااللہ پھر پوری زندگی آپ کے حافظہ میں محفوظ ہوں اور آپ بھی ان فوائد کو حاصل کرسکیں جن کا ذکر میں نے اپر کیا ہے. آزمائش شرط ہے.

.
====عظیم نامہ====

قران حکیم کے وسیع تر معنی کیسے سمجھے جائیں ؟


قران حکیم کے وسیع تر معنی کیسے سمجھے جائیں ؟



اگر میرے دل کا بس چلے تو میں قران حکیم کے سنجیدہ طالبعلموں کیلئے علم طبیعات (فزکس) ، علم نفسیات (سائیکولوجی)، علم حیاتیات (بائیولوجی) ، علم فلکیات (کاسمولوجی) ، علم فلسفہ (فلاسفی) ، علم تاریخ (ہسٹری) اور علم ادب (لٹریچر) کی تعلیم حاصل کرنے کو لازم قرار دے دوں. میری احقر رائے میں قران حکیم کے معنوی خزائن کو گہرائی میں اس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک ان علوم کے ذریعے زمانوی تحقیق سے مطابقت پیدا نہ کی جائے. میرا اپنا معاملہ یہ ہے کہ جب پہلی بار قران مجید پر تفکر مکمل کیا تو لامحالہ سائنس، فلسفہ اور دیگر مضامین سے دلچسپی پیدا ہوگئی. پہلی بار شوق سے بازار جا کر فزکس کی کتاب خریدی، فلکیات اور فطرت سے متعلق تحقیقی پروگرامز دیکھنے لگا، فلسفہ اور دلیل سے دلچسپی پیدا ہوگئی، انسان کے شعوری ارتقاء کی تاریخ جاننے کیلئے میوزیم جاتے رہنا میرا معمول بن گیا. سچ پوچھیں تو ایک لمحے کو میں خوفزدہ ہوگیا کہ شائد میں نے قران کریم کو غلط انداز میں سمجھ لیا ہے ورنہ میرے اردگرد موجود بیشمار قران کے طالبعلموں کو تو یہ دلچسپی نہیں پیدا ہوئی. ایک زمانے بعد مجھے پھر اطمینان حاصل ہوا کہ اگر اس الہامی کتاب پر اسکی روح کے ساتھ تدبر کیا جائے تو یہ ناممکن ہے کہ قاری کو کائناتی علوم سے غیرمعمولی دلچسپی نہ پیدا ہوجائے. الله عزوجل اپنے کلام میں سورج ، چاند، بارش، پودے ، ہماری نفسیات اور دیگر فطری مظاہر کو اپنی 'آیات' قرار دیتے ہیں. گویا اگر قران حکیم الله کی آیات کا مجموعہ ہے تو یہ صحیفہ کائنات بھی خالق بزرگ و برتر کی آیات سے مزین ہے. اگر قران حکیم الله کا کلام ہے تو پھر یہ کائنات بھی الله کا کام ہے. قران پاک میرے رب کا قول ہے اور سائنسی حقائق میرے رب کا عمل... یہ ممکن نہیں کہ پروردگار دو عالم کے قول و فعل میں کسی معمولی درجہ کا بھی تضاد ہو. میرے نزدیک اگر شریعت کا عالم بننا ایک عظیم کام ہے تو ان کائناتی علوم کا عالم یعنی سائنسدان بننا بھی عین عبادت ہے

.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 24 June 2015

ببر شیر اور گائے - ایک فرضی حکایت



ببر شیر اور گائے - ایک فرضی حکایت


.
کہتے ہیں کہ ایک زاہد کو معلوم ہوا کہ ایک بہت بڑا عالم اور عارف شخص ایک قریبی گاؤں میں مقیم ہے. اس زاہد نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بزرگ عارف سے استفادہ حاصل کرنے جائے گا. یہ زاہد ایک اونچے پہاڑ کی کھوہ میں ریاضت کرتا تھا اور اسی میں مقیم تھا. لوگوں نے دیکھا کہ اگلی صبح ہوتے ہی وہ زاہد اپنے غار سے ایک زبردست ببر شیر پر سوار باہر نکلا اور گاؤں کی جانب روانہ ہوگیا. جب بتائے ہوئے پتہ پر پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ عارف تو ایک بہت بڑے محل میں مقیم ہے. بہرحال اب چونکہ وہ سفر کر کے آچکا تھا تو اس نے بناء ملے جانا مناسب نہیں سمجھا. عارف سے ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ وہ عمدہ نفیس لباس میں ملبوس ہے، اچھے پکوان کھاتا ہے اور گھر میں بہت سی آسائشیں رکھتا ہے. عارف نے زاہد کا بڑا تپاک سے استقبال کیا اور کہا کہ آپ پورا دن سفر کرکے آئے ہیں اور رات کافی ہوگئی ہے لہٰذا آرام کریں، کل صبح گفتگو کریں گے. زاہد نے کہا کہ میں اپنا ببر شیر کہاں باندھوں ؟ .. عارف نے جواب دیا کہ اسے پیچھے باڑے میں میری گائے کے برابر میں باندھ دو. زاہد یہ سنتے ہی بولا کہ 'نہیں نہیں .. اگر ساتھ باندھیں گے تو میرا ببر شیر آپ کی اس چھوٹی سی گائے کو کھا جائے گا'. عارف نے بھی جواب میں اصرار کیا کہ ' نہیں نہیں .. شیر کو گائے کے برابر میں ہی باندھ دیں' .. زاہد نے عارف کی عقل پر مسکراتے ہوئے اپنے خوفناک ببر شیر کو اس معصوم گائے کے برابر میں باندھ دیا.
.
دونوں حضرات اب آرام گاہ میں آگئے ، ملازمین نے ذرا فاصلے پر بستر لگا دیئے. اب زاہد تو ساری رات حسب عادت عبادت و ریاضت میں مشغول رہا جبکہ عارف فرائض پڑھ کر مزے سے سوگیا. یہ حالت دیکھ کر زاہد کو غصہ اور افسوس دونوں ہوا اور اس نے مصمم ارادہ کرلیا کہ کل صبح ہوتے ہی وہ یہاں سے رخصت ہو جائے گا. اسی طرح صبح ہوئی اور زاہد نے جانے کی اجازت چاہی. عارف نے اسی خوش دلی سے اجازت دے دی. اب زاہد مسکراتے ہوئے باڑے کی جانب بڑھا کہ اپنا شیر کھول لے. اسے یقین تھا کہ ببر شیر نے گائے کو لقمہ اجل بنادیا ہوگا. مگر جب وہ باڑے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گائے تو ویسے ہی مزے سے کھڑی ہے اور اس کا شیر غائب ہے. اب گھبرا کر زاہد نے عارف سے پوچھا کہ میرا ببر شیر کہاں گیا ؟ تو عارف نے کونے میں پڑی ہڈیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ، 'لگتا ہے رات میں میری گائے تمہارا شیر کھاگئی' ... زاہد ہکلاتے ہوئے بولا 'مگر .. مگر .. میرا بب .. ببر شیر ...آپ کی گا .. گائے ... کیسے ؟' عارف نے مسکراتے ہوئے جواب دیا 'لگتا ہے تمہارا شیر بھی تمہاری طرح صرف دنیاوی دکھاوے کے لئے تھا .. صرف ظاہر ہی ظاہر .. باطن میں کھوکھلا .. جبکہ میری گائے ظاہر میں معصوم اورکمزور تھی مگر داخل میں حقیقی ببر شیر' 
.
smile emoticon
 
.
یہ ایک فرضی حکایت ہے ، مگر سبق یہ ہے کہ آپ خود سے پوچھیں کہ آپ دنیا کے سامنے ظاہر کا شیر ہیں یا ایمانی لحاظ سے حقیقت کا ؟ 
.
نوٹ: نون لیگی شیروں سے گزارش ہے کہ وہ دل پر نہ لیں. کسی قسم کی مماثلت محض اتفاقی تصور کی جائے گی 
smile emoticon

.
====عظیم نامہ====

زیادہ سنو .. کم بولو



زیادہ سنو .. کم بولو



تاریخ کے مختلف فلسفوں اور مذاہب کی تعلیمات کے مطابق کم کلام کرنا اور زیادہ سننا دانائی کی علامت سمجھا جاتا ہے. جب آپ بولتے ہیں تو دراصل وہ ہی دہرا رہے ہوتے ہیں جو آپ پہلے سے جانتے ہیں. اس کے برعکس جب آپ دھیان سے دوسروں کی بات سنتے ہیں تو ہمیشہ کچھ نہ کچھ ضرور سیکھتے ہیں. لہٰذا وہ شخص کیسے دانا ہوسکتا ہے جو سننے سے زیادہ بولنے کا شوقین ہو؟ سیکھنے کے عمل کو تیز کرنے کیلئے اخلاص سے زیادہ سننا لازمی ہے. دوران سماعت فقط سننے کی اداکاری نہیں کرنی چاہیئے بلکہ فی الواقع پوری سنجیدگی اور خلوص سے متکلم کی بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے. بصورت دیگر یہ صریح علمی بددیانتی ہوگی. اسی لئے کہتے ہیں کہ خاموشی کا ادب کرو، یہ آوازوں کی مرشد ہے. اللہ نے بھی ہمیں دو کان سننے کے لئے اور ایک منہ بولنے کے لئے عطا فرمایا ہے ، ہمیں ان کا استمعال بھی اسی تناسب سے کرنا چاہیئے.
.

====عظیم نامہ====

شیطانک ورسز کا الزام ... کیا مفروضہ ؟ کیا حقیقت ؟



شیطانک ورسز یا شیطانی آیات کا الزام ... کیا مفروضہ ؟ کیا حقیقت ؟

========================================
.



اسلام کے خلاف اٹھائے ہوئے اعتراضات میں سب سے مشکل اعتراض شیطانی آیات کا رسول صلی الله و الہے وسلم سے منسلک کرنا ہے. علمی حلقوں میں اس اعتراض کا جواب دینا اس لئے کٹھن ہے کہ یہ اعتراض جس واقعہ کی جانب اشارہ کرتا ہے اسکی تفصیل ہماری اپنی تاریخ و حدیث کی کتب میں بیان ہوئی ہے. دوسرے الفاظ میں یہ اعتراض آج کے کسی غیرمسلم کا گھڑا ہوا نہیں ہے بلکہ اوائل دور سے ہماری اپنی کتابوں میں مذکور ہے. عموماً اس موضوع سے عبوری انداز میں جان چھڑا لی جاتی ہے مگر اس کمیونیکشن کر دور میں یہ لازمی ہے کہ ہم اس حساس عنوان کا دیانتداری کے ساتھ مختلف زاویوں سے جائزہ لیں. یہ تحریر اسی کی کوشش ہے. اس واقعہ کو سمجھنے کیلئے براہ راست مطالعہ سے زیادہ میں نے شیخ یاسر قاضی سمیت دیگر محققین کی تحقیق سے استفادہ کیا ہے اور اس کا خلاصہ درج کرنے جا رہا ہوں. اسی بناء پر اس میں کئی کمزوریاں ہوں گی اور میری کم علمی سے بھی غلطی کا احتمال بڑھ سکتا ہے. اس مضمون کے واحد مخاطب  وہ سلجھے ہوئے مسلم اذہان ہیں جو قران اور سنت دونوں کو دین کی بنیاد سمجھتے ہیں. دوسرے الفاظ میں یہ تحریر منکرین حدیث، ملحدین یا غیرمسلموں کیلئے نہیں ہے. یہ پوسٹ تفصیلی ہوگی اور ممکن ہے کہ کئی قسطوں پر مشتمل ہو، چانچہ صرف سنجیدہ لوگ ہی پڑھنے کی زحمت کریں. انشاءاللہ آغاز کرتے ہیں 
.
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ ملعون سلمان رشدی کی بدنام زمانہ کتاب 'شیطانک ورسز' کا نام تو یقیناً اسی واقعہ کی رعایت سے رکھا گیا ہے مگر اس میں بیان اس واقعہ کا ہرگز نہیں ہے. بلکہ اسکی کتاب میں تو ایک خیالی کہانی پیش کی گئی ہے جس میں وہ اپنی بیمار ذہنیت کو الفاظ دیتا نظر آتا ہے.لہٰذا ضروری ہے کہ اس کتاب کو اصل واقعہ سے گڈمڈ نہ کیا جائے.ہمارا مقصد رشدی کی خیالی کتاب نہیں بلکہ حقیقی واقعہ کی جانکاری ہے. یہ بھی سمجھ لیں کہ احادیث یا اسلامی تاریخ میں اس واقعہ کو شیطانک ورسز یا شیطانی آیت کا نام کبھی نہیں دیا گیا بلکہ اس واقعہ کا حقیقی نام 'قصہ غرانیق' ہے. غرانیق بگلے نما اونچی گردن والے پرندوں کو کہتے ہیں. اسے قصہ غرانیق کیوں کہا جاتا ہے اسکی تفصیل بعد میں آئے گی. فی الوقت یہ جاننا ضروری ہے کہ اس واقعہ کا اسلامی نام شیطانک ورسز نہیں ہے. یہ نام تو دراصل ایک مغربی پروفیسر، ولیم مویر نے اسے اسلام پر اپنی تحقیق کے نتیجے میں دیا. ولیم  نے سیرت نبوی پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے اور وہ انگلینڈ کی نمائندہ یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیمات کا پروفیسر بھی رہا ہے.  یہ واقعہ یعنی شیطانک ورسز یا قصہ غرانیق  دراصل مکہ کے اس دور سے منسلک ہے جب مومنین کی جماعت پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھے. اسے دیکھتے ہوئے رسول عربی صلی الله و الہے وسلم نے صحابہ کی ایک جماعت کو یہ اجازت دی کہ وہ ابی سینیا  یعنی حبشہ کوچ کرجائیں. یہ ایک عیسائی علاقہ تھا جہاں ہر مذہب کو اپنے نظریات پر کاربند رہنے کی آزادی تھی. مظالم سے تنگ صحابہ کی ایک جماعت ابی سینیا ہجرت کرگئی ، اسے اسلام کی پہلی ہجرت بھی کہا جاتا ہو. مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ تمام کی تمام جماعت محض تین مہینے کے قلیل وقت میں مکہ واپس لوٹ آئی. سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہوا ؟ جو یہ صحابہ واپس اسی شہر یعنی مکہ لوٹ آئے جہاں دین پر چلنا انکے لئے آگ پر چلنے کے مصداق بنا دیا گیا تھا؟ .. تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ایسا دراصل اسلئے ہوا کہ ہجرت کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک افواہ پھیل گئی کہ قریش کے مشرکین مکہ نے بحیثیت مجموئی اسلام کو قبول کرلیا ہے. ظاہر ہے کہ یہ اتنی بڑی خبر تھی کہ اسکے سچے ہونے کے بعد دوسرے ملک یا شہر میں رہنا حماقت تھی. لہٰذا روٹھے ہوئے تمام صحابہ حبشہ سے واپس مکہ تشریف لے آئے.ان کے لشکر کو واپس آنے کے بعد یہ اطلاع ملی کہ یہ خبر جھوٹی تھی. البتہ اس خبر کی بنیاد جس واقعہ پر تھی وہ جھوٹ نہ تھا اور واقعہ یہ تھا کہ رسول صلی الله و الہے وسلم جب سورہ النجم کی تلاوت فرما رہے تھے تو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مشرکین بھی باجماعت سجدے میں گرگئے. سوائے سعد ابن مغیرہ کے جس نے اس وقت بھی تکبر کرتے ہوئے محض ماتھے پر مٹی لگا کر کہا کہ میرے لئے یہی بہت ہے. مشرکین کے اس سجدے سے یہ تاثر پیدا ہوگیا تھا کہ شاید انہیں اسلام کی حقانیت پر ایمان نصیب ہوگیا ہے مگر درحقیقت اس سجدے کا محرک قبول اسلام نہیں تھا.
اس سجدے کو کرنے کے پیچھے کیا حقیقت تھی ؟ یہی آج کی کھوج ہے. بدقسمتی سے اس ضمن میں بہت سارے مختلف اور متضاد واقعات ہماری تاریخی کتب میں لکھے ہوئے ہیں. جن کا دفاع کرنا بعض اوقات ناممکن معلوم ہوتا ہے. یہاں ہم ان تین نمائندہ تفاصیل کو زیر بحث لائیں گے جو مرکزی حیثیت کی حامل ہیں
.
پہلی تفصیل وہ ہے جو مستند ترین حدیث کی کتاب صحیح بخاری میں مرقوم ہے اور جس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو قابل اعتراض ہوسکے. اس میں بتایا گیا ہے کہ جب سورہ النجم کی آیات کا نزول ہوا اور آپ صلی الله و الہے وسلم نے اسکی اپنی زبان اطہر سے تلاوت شروع کی تو نہایت پر اثر ماحول بن گیا. ان آیات میں خدا کی بڑائی اور قدرت کا ایسے حسین اثر انگیز انداز میں ذکر کیا گیا کہ سننے والے اس میں ڈوب گئے اور آیات کے آخر میں جب سجدہ کی بات آئی تو اسی اثر انگیزی میں مغلوب ہو کر مومن و مشرک سب ایک ساتھ سجدہ ریز ہوگئے. یہ تفسیر علمی لحاظ سے بھی کافی قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قریش مکہ شرک کے باوجود الله ہی کی ذات کو حقیقی خالق تسلیم کرتے تھے. ہم اس سورہ کی غیرمعمولی اثرانگیزی کو آج بھی محسوس کرسکتے ہیں اور پھر یہ پہلا واقعہ نہ کہلائے گا جب قران نے اپنے سامعین کو مبہوت کر دیا ہو. حضرت عمر رض کے قبول اسلام کی روداد ہو یا عرب کے تاج شعراء کا اعتراف عجز یا پھر مشرکین کا قران کی اثر انگیزی سے بچنے کے لئے کانوں میں انگلیوں کا ٹھونس لینا. یہ سب اسی امر کو تقویت دیتا ہے کہ سورہ النجم کی آیات سے مغلوب ہو کر مشرکین کا عارضی طور پر سجدہ ریز ہوجانا عین ممکن ہے
.
دوسری اور تیسری تفصیل کے بارے میں جان لیں کہ یہ نہ تو صحیحین میں مذکور ہے، نہ ہی صحاح ستہ کی کتب میں مرقوم ہے اور نہ ہی اسلامی تاریخ کی نسبتا نمائندہ کتب جیسے ابن اسحٰق یا ابن جریر میں اس کا کوئی ذکر ہمیں ملتا ہےیہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان دو تفاصیل کی سند کے اعتبار سے کمزوری کا یہ عالم ہے تو ہم اسے یکسر مسترد کیوں نہیں کردیتے ؟ اس کا جواب ہے کہ بعض جید بزرگ علماء نے تو یہی کیا ہے اور انہیں مسترد کردیا ہے. ان عظیم ہستیوں میں علامہ ابن کثیر رح، ناصر البانی رح، امام رازی رح اور دیگر شامل ہیں. ابن خزیمہ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر دوسری اور تیسری تفصیل کو موضوع یعنی گھڑا ہوا قرار دیتے ہیں.  ان حقائق کے باوجود، ساتھ ہی وہ اکابر محقق علماء بھی موجود ہیں جوان میں سے دوسری تفصیل کے قائل رہے ہیں اور کچھ عظیم مفکر علماء تیسری رائے کے بھی قائل ہیں. تینوں گروہوں کے پاس اپنی اپنی دلیلیں موجود ہیں جن کا اجمالی جائزہ ہم اس مضمون میں لیں گے. گو کے اس مقام پر پہلے یہ جاننا ہے کہ دوسری اور تیسری تفصیل درحقیقت ہے کیا؟
.
دوسری تفصیل امام طبری کی تفسیر اور کچھ اور کم مستند کتابوں میں آئی ہے. امام طبری نے اپنی تفسیر کو ایک انسائیکلوپیڈیا کی طرح مرتب کیا ہے. جس کے وہ خود معترف بھی ہیں. انہوں نے اصول یہ نہیں رکھا کہ شامل کردہ روایات کے صحیح یا ضعیف ہونے پر بحث کی جائے بلکہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ معلومات کو درج کردینے کو ترجیح دی ہے. یہی وجہ ہے کہ اہل علم تفسیر طبری میں درج واقعات و روایات پر مکمل اعتماد نہیں کرتے. اس میں ایک روایت لکھی گئی ہے جسے  ارواہ ابن زبیر نے روایت کیا ہے.یہ بات بھی یہاں غور کرنے کی ہے کہ ارواہ ابن زبیر صحابی نہیں تھے. دوسرے الفاظ میں وہ کبھی اپنی زندگی میں رسول کریم صلی اللہ و الہے وسلم نے بلمشافانہ نہیں ملے تھے. فن حدیث سے واقف لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ کسی بھی روایت کو سند کے اعتبار سے کمزور تر کردینے کے لئے یہ کافی امر ہے. اس روایت کے مطابق جب رسول کریم صلی اللہ و الہے وسلم مکہ میں سورہ النجم کی آیات تلاوت کررہے تھے تو ابلیس شیطان نے با آواز بلند کچھ شیطانی آیات کا اضافہ کر دیا. شیطان کی یہ آواز صرف مشرکین نے سنی اور مومنین کے کانوں میں شیطان کی آواز نہیں آئی. دوسرے الفاظ میں رسول الله صلی الله و الہے وسلم نے تو انہی آیات کو تلاوت کیا جو قران حکیم میں موجود ہیں یا جو جبرئیل کے ذریعے وحی کی گئیں مگر آیات کی تلاوت کے درمیان جب آپ توقف کرتے تو شیطان نے اپنی آواز بنا کرکچھ شرک والی آیات پڑھ دیں جنہیں صرف مشرکین کی سماعت نے سنا اور مومنین کی جماعت کو شیطان کی آواز نہیں سنائی دی. روایت کے مطابق سورہ النجم کی ١٩ اور ٢٠  آیت میں جہاں مشرکین کے جھوٹے خداؤں یعنی بتوں لات و منات کا ذکر کیا گیا ہے وہاں شیطان نے اپنے الفاظ کا اضافہ کر دیا. سورہ النجم کی آیت یہ ہیں
.
أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ ١٩ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ ٢٠
'کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا؟اور منات تیسرے پچھلے کو'
.
اس مقام پر شیطان نے اپنی آواز میں ان الفاظ کا اضافہ کردیا
.
 " تلك الغرانيق العُلى ، وإن شفاعتهن لَتُرتَجَى "
.
'یہ بہت عالی مقام غرانیق ہیں(اونچی اڑان اور گردن والے پرندے) جن کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا'
.
 دوسرے الفاظ میں ان الفاظ میں مشرکین کے بتوں کو عالی نسل اڑان والے پرندوں سے تشبیہہ دیکر یہ کہا گیا کہ روز قیامت یہ شفاعت کریں گے. ان الفاظ کو سن کر مشرکین نے یہ محسوس کیا کہ مسلمانوں نے ہم سے موافقت کرلی ہے اور نتیجہ یہ کہ وہ بھی مومنین کے ساتھ سجدہ ریز ہوگئے
.
 اب ہر قاری یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ یہ کتنی سنگین صورتحال یا تفصیل ہے. دشمنان اسلام یہ کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ محمد صلی الله و الہے وسلم نے وقتی طور پر مشرکین کو ساتھ ملانے کیلئے ایسی آیات شامل کرلی تھیں جنہیں بعد میں اندرونی اعتراضات کی وجہ سے خود ہی نکال دیا. اس تفصیل میں شیطان کی آواز کا صرف مشرکین کو سنائی دینا عجیب سا معلوم ہوتا ہے اور اس کی صحت پر مزید سوالات کھڑے کرتا ہے
.
بہرحال اس دوسری تفصیل کو کئی چوٹی کے علماء درست تسلیم کرتے ہیں جن میں سرفہرست نام امام ابن حجر عسقلانی رح کا ہے. آپ سے کون واقف نہیں ؟ کون ہے جو آپ کے علمی قد کا معترف نہ ہو ؟ اس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ معروف ترین شرح یعنی 'فتح الباری' کے مصنف آپ ہی ہیں. آپ کا اس دوسری رائے کو تسلیم کرلینا کوئی معمولی بات نہیں ہے.یہاں یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ امام ابن حجر ایک ضعیف حدیث کو اس درجہ میں کیسے تسلیم کرسکتے ہیں ؟تو اس کے جواب میں جان لیں کہ وہ دلیل علم الحدیث کے اس اصول سے پکڑتے ہیں جس کے مطابق  اگر بہت سی ضعیف احادیث موجود ہوں تو وہ سب مل کر قوی ہوجاتی ہیں اور ضعف باقی نہیں رہتا. یہ دوسری تفصیل طبری کی اس تفسیر کے علاوہ بھی کم مستند کتابوں میں کچھ ردوبدل کے ساتھ موجود ہے. لہٰذا ابن حجر رح کے بقول ان ضعیف روایتوں کی کثرت نے ان کے ضعف کو ختم کردیا ہے. ان کی اس دلیل کے رد میں مشہور محدث امام ناصر الدین البانی رح نے علمی تنقید کی ہے. انہوں نے اسی شیطانک ورسز یا قصہ الغرانیق کے بیان میں اپنا ایک پورا کتابچہ تحریر کیا ہے جس میں ابن حجر رح کی دلیل کو فن حدیث سے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے. انہوں نے یہ سمجھایا ہے کہ کیوں قصہ الغرانیق کی ان احادیث پر علم حدیث کے اس اصول کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا ، جس میں ضعیف حدیثوں کی کثرت ضعف کو ختم کردیتی ہے
.
 اب آتے ہیں تیسری تفصیل کی جانب جس کا ذکر الواحدی اور دوسری کمزور کتب میں آیا ہےیہ تیسری تفصیل دوسری تفصیل سے بھی زیادہ خطرناک ہے. اس کے مطابق جب آپ صلی الله و الہے وسلم سورہ النجم کی آیات کی تلاوت کر رہے تھے تو ان کے کان میں شیطان نے یہ شیطانی آیات ڈال دیں ، آپ صلی الله و الہے وسلم کو نعوز باللہ دھوکہ ہوا کہ یہ شیطان نہیں بلکہ جبرئیل ہیں اور نتیجہ میں یہ شیطانی آیات تلاوت کر دیں. نماز کے آباد جبرئیل تشریف لائے اور دریافت کیا کہ یہ دو آیات آپ نے کیوں تلاوت کیں ؟ تو آپ صلی الله و الہے وسلم نے کہا کہ کیونکہ تم نے مجھے یہ آیات سنائیں. اس کے جواب میں جبرئیل الہے سلام نے بتایا کہ انہوں نے یہ آیات نہیں کہی تھی اور یہ من جانب ابلیس تھیں. یہ سن کر آپ صلی الله و الہے وسلم شدید رنجیدہ ہوئے اور ان آیات کو منسوخ کیا یا یوں کہیں کہ نکال دیا
.
غور کریں کہ یہ تیسری تفصیل تو دوسری سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے. دوسری تفصیل میں کہا گیا تھا کہ شیطان نے شیطانی آیات مشرکین کی سماعت کے لئے پڑھ دی تھی لیکن یہاں تیسری تفصیل میں تو بات یہ ہے کہ آپ صلی الله و الہے وسلم معاذ الله جبرئیل اور ابلیس میں فرق نہیں کرسکے اور ابلیس کی آواز کو جبرئیل کی آواز سمجھ کر سنا دیا. یہاں محققین کی نظر میں پوری وحی کی حفاظت مشکوک ہونے لگتی ہے
.
آپ کو یہاں شائد یہ محسوس ہو کہ اس تفصیل کو تو کوئی بڑا عالم شائد تسلیم نہ کرے مگر آپ مانیں نہ مانیں کئی محقق علماء
نے اسی رائے کو درست قرار دیا ہے. ان علماء میں سب سے چوٹی کا نام امام العصر یعنی امام ابن تیمیہ رح کا ہے
.
یعنی اب صورت یہ ہے کہ پہلی رائے جو مستند ترین ہے، اسکے ماننے والے اکابر علماء جیسے ابن کثیر رح وغیرہ دوسری اور تیسری رائے کو یکسر مسترد کرتے ہیں. ایک عالم جن کا نام یادداشت سے محو ہے، وہ تو یہاں تک شدت میں ارشاد کرتے ہیں کہ اگر دوسری اور تیسری تفصیل کی اسناد سورج کی طرح بھی روشن ہوں، ہم تب بھی انہیں قبول نہیں کریں گے. اسکی وجہ یہ ہے کہ اس سے عصمت رسالت پر حرف آتا ہے لہٰذا اسکے سچ ہونے کا کوئی امکان نہیں
 .
ابن حجر رح جو دوسری رائے کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ پہلی کے ساتھ ساتھ دوسری رائے کو بھی تسلیم کرنے سے عصمت رسالت پر حرف نہیں آتا. کیونکہ شیطانی الفاظ شیطان نے ادا کئے رسول پاک صلی الله و الہے وسلم نے نہیں. چانچہ اس واقعہ کی دوسری تفصیل ماننے سے عصمت رسالت پر کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا. البتہ ان کے ہم خیال گروہ کے نزدیک تیسری رائے سے عصمت پر حرف آسکتا ہے. کیونکہ اسمیں رسول صلی الله و الہے وسلم کی زبان اطہر سے شیطانی کلام کا ظہور بیان ہوا ہے جو ناممکن ہے . آپ صلی الله و الہے وسلم  کی زبان ہمیشہ حق ہی کہتی تھی . اسکے علاوہ نبی معصوم ہوتے ہیں ، لہٰذا کیسے ممکن ہے کہ وہ ابلیس کے کہے کلمات ادا کر جائیں؟
.
ابن تیمیہ رح اپنے دفاع اور اس اعتراض کے جواب میں عصمت کی مکمل تعریف بیان کرتے ہیں. یہ تعریف مضبوط دلائل پر قائم ہے مگر عمومی رائج تعریف سے کچھ الگ ہے. وہ عصمت کی تعریف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انبیاء اپنی تمام تر پاک
دامنی کے باوجود غلطیوں کے مرتکب ہوسکتے ہیں. ان کے بقول انبیاء سے اجتہادی غلطیاں ہوسکتی ہیں. اسکے اثبات میں وہ رسول  صلی الله و الہے وسلم  کی حیات مبارکہ سے بھی مثالیں پیش کرتے ہیں. وہ مزید کہتے ہیں کہ انبیاء کبھی کبیرہ گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے مگر صغیرہ گناہ کے ہوجانے کا امکان ہوا کرتا ہے. اس کی دلیل میں آدم الہے سلام کا شجر ممنوعہ سے ممانعت کے باوجود پھل کھانا موجود ہے. مگر ساتھ ہی وہ صراحت سے لکھتے ہیں کہ نبی سے اگر بادل نخواستہ کوئی صغیرہ گناہ کا ارتکاب ہو جائے تو فوری توبہ کرتے ہیں، واپس رجوع کرتے ہیں اور کبھی گناہ کے دوبارہ کرنے پر اصرار نہیں کرتے
.
امام ابن تیمیہ رح اس تیسری رائے کو قبول کرنے کے لئے دلیل قران سے براہ راست بھی پیش کرتے ہیں. وہ سورہ الحج کی یہ آیات اس واقعہ کی تفہیم کیلئے سامنے لاتے ہیں
.
اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی بھی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ جس نے جب کوئی تمنا کی ہو اور شیطان نے اس کی تمنا میں کچھ آمیزش نہ کی ہو پھر الله ّ شیطان کی آمیزش کو دور کرکے اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے اور الله جاننے والا حکمت والا ہے (۵۲) تاکہ شیطان کی آمیزش کو ان لوگوں کے لیے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بے شک ظالم بڑی ضدی میں پڑے ہوئے ہیں (۵۳) اور تاکہ علم والے اسے تیرے رب کی طرف سے حق سمجھ کر ایمان لے آئیں پھر ان کے دل اس کے لیے جھک جائیں اور بیشک الله ایمان داروں کو سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرنے والا ہے (۵۴) اور منکر قرآن کی طرف سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت یکایک ان پر آ مودجود ہو یا منحوس دن کا عذاب ان پر نازل ہو (۵۵)
.
وہ سورہ الحج کی مندرجہ بالا آیات سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں صاف ظاہر ہے کہ ہر رسول اور نبی کی تمنا یا تلاوت میں شیطان نے آمیزش کی کوشش کی . لیکن الله پاک نے اس آزمائش کو دور کرکے آیات کو مضبوط رکھا. وہ کہتے ہیں عصمت پر بات تو تب آتی جب ایسی کسی شیطانی آیت کو قائم رہنے دیئے جاتا. مگر ہم جانتے ہیں کہ اسے فوری نکال دیا گیا یا دوسرے الفاظ میں آمیزش کو دور کردیا گیا اور اسی بہانے اہل ایمان کا امتحان بھی لے لیا گیا جسکی جانب سورہ الحج کی انہی آیات میں اشارہ موجود ہے
.
پہلی اور دوسری رائے والے شیخ تیمیہ رح کی اس دلیل پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سورہ الحج ہجرت کے بعد نازل ہوئی تھی اور یہ واقعہ اس سے کہیں پہلے وقوع پذیر ہوا تھا. تیسری رائے کے حامی جوابی دفاع میں دلیل دیتے ہیں کہ کسی سورہ کا شان نزول مختلف وقت میں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسکی کچھ آیات پہلے سے نازل نہ ہوچکی ہوں. ہم جانتے ہیں کہ قران میں آیات کی ترتیب نزول کے حساب سے جدا ہے اور موجودہ نظم کے حوالے سے الگ. جیسے اقرا باسم الذی خلق نزول کے حوالے سے پہلی آیت ہے مگر ترتیب کے حوالے سے پہلی آیت نہیں ہے. لہٰذا اس میں کیا مضائقہ ہے کہ سورہ الحج کی یہ آیات مکمل سورہ کے نزول سے پہلے سورہ النجم کی آیات کی تفسیر میں نازل ہوئی ہوں
.
شیخ یہ بھی کہتے ہیں کہ محض اس وجہ سے کہ آپ کسی حدیث  کو اسلئے نہیں چھپا سکتے کہ اسے سمجھنا مشکل ثابت ہورہا ہے. حضرت عائشہ رض کے بقول اگر رسول صلی الله و الہے وسلم کے پاس ایک آیت کو بھی چھپانے کا اختیار ہوتا تو وہ نکاح زینب رض سے متعلق آیت کو چھپا دیتے. مگر الله حق کو ظاہرکرتا ہے ، چاہے وہ تکلیف دہ ہی کیوں نہ ہو. پھر یہی اصول اس واقعہ کیلئے کیوں نہیں ؟ اسی بنیاد پر ابن تیمیہ رح تیسری رائے کو حق تسلیم کرتے ہیں
.
احباب ، یہ تھی وہ مختصر روداد جو اس واقعہ کے ضمن میں موجود ہے. اسکے علاوہ بھی کئی جزیات ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے مگر راقم کے نزدیک اتنی گفتگو سے معاملہ کی سنگینی، استدلال کی نوعیت اور اختلافی پہلو واضح ہوجاتے ہیں. احقر کے نزدیک تینوں آراء مضبوط استدلال پر قائم ہیں مگر میرا ذاتی رجحان یہی ہے کہ پہلی رائے کو صحیح کتب میں ہونے کی بناء پر ترجیح دی جائے اور باقی دو آراء کو شکوک ہونے کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے. باقی اس مضمون کا مقصد بس اتنا تھا کہ قاری خود جائزہ لیکر اپنی رائے قائم کرسکے اور اگر کوئی شکوک اس واقعہ کے ضمن میں موجود تھے تو اسے دور کرسکے.مجھے یقین ہے کہ میں نے اس مضمون میں کئی غلطیاں کی ہونگی جسکے لئے میں اپنے رب سے اور ہر پڑھنے والے سے معافی کا خواستگار ہوں. جو اس میں حق ہے وہ من جانب الله ہے اور جو حق نہیں ہے اس کا قصوروار میرا نفس ہے. الله پاک مجھے معاف کرے. جو اچھا ہو اسے آپ کے دل میں راسخ کردے اور جو غلط ہو اسے آپ کے ذہن سے محو فرما دے. آمین یا رب العالمین
.
====عظیم نامہ=====