Tuesday, 6 May 2014

چار منطقی سوالات - چار سادہ جوابات

 

چار منطقی سوالات - چار سادہ جوابات

 

ملحدین کی جانب سے کچھ ایسے سوالات اٹھائے جاتے ہیں جو سننے والے کو منطقی الجھاؤ میں مبتلا کردیتے ہیں. سوالات درج ذیل ہیں
١. کیا خدا شر کو روکنا چاہتا ہے مگر روک نہیں سکتا؟ اگر ایسا ہے تو خدا ہر چیز پر قادر نہیں
٢. کیا خدا قابل تو ہے مگر روکنا نہیں چاہتا؟ اگر ایسا ہے تو وہ شر پسند ہے
٣. کیا خدا شر کو روکنا چاہتا ہے اور روکنے کے قابل بھی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو شر آتا کہاں سے ہے ؟
٤. اگر وہ نہ شر کو روکنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس پر قادر ہے تو اسے خدا کیوں کہیں؟
========================================================
ان سوالات کے سیدھے اور سادے جوابات پیش ہیں
========================================================
١. کیا خدا شر کو روکنا چاہتا ہے مگر روک نہیں سکتا؟ اگر ایسا ہے تو خدا ہر چیز پر قادر نہیں
ج. خدا جو چاہتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ انسان کو اس زندگی میں ارادہ و اختیار کی آزادی دی جائے. وہ چاہے تو خیر کو چنے اور چاہے تو شر اختیار کرے. اس رویہ کی بنیاد پر وہ ہر شخص کو اس کا اجر یا سزا دے. اس سے الله کی قدرت پر کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا
٢. کیا خدا قابل تو ہے مگر روکنا نہیں چاہتا؟ اگر ایسا ہے تو وہ شر پسند ہے
ج. خدا نے اس دنیا کو امتحان کے اصول پر بنایا ہے اور یہی مقدمہ الہامی کتابیں پیش کرتی ہیں. وہ آپ سے آپکا آزادی ارادہ و اختیار نہیں چھیننا چاہتا. لہٰذا برائی سے وہ زبردستی نہیں روکتا بلکہ ترغیب و دعوت سے سمجھاتا ہے اور ساتھ ہی وعدہ کرتا ہے مکمل انصاف کا. اگر وہ شر پسند ہوتا تو کبھی پیغمبروں اور الہامی صحائف سے تلقین و تنبیہہ کا مسلسل سلسلہ جاری نہ کرتا. آپ کی یہ چاہت کہ خدا زبردستی برائی کو روک دے ، دراصل انسان کے ارادہ و اختیار کو سلب کرنے کے مترادف ہے. یہ راہ متعین کرنے کی آزادی ہی تو انسانیت کا اعجاز ہے، آپ انسان کو اس سے کیوں محروم کرنا چاہتے ہیں؟
٣. کیا خدا شر کو روکنا چاہتا ہے اور روکنے کے قابل بھی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو شر آتا کہاں سے ہے ؟
ج. اس سوال کے جواب میں میرے کچھ سوالات کا جواب دیں. کیا اندھیرے کا کوئی حقیقی وجود ہے ؟ اگر ہاں تو ہم اسے کیسے بیان کر سکتے ہیں؟  آج سائنس کی رو سے ہم سب روشنی کی رفتار سے واقف ہیں مگر اندھیرے کی رفتار کیا ہے ؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں؟ اگر اندھیرا واقعی ایک حقیقی وجود رکھتا ہے تو ہم اسکی رفتار کا حساب کیوں نہیں لگا سکتے؟

جواب یہ ہے کہ اندھیرے کا فی الواقع کوئی حقیقی وجود نہیں ہے. اندھیرا تو نام ہے روشنی کی عدم موجودگی کا ! حقیقی وجود تو صرف روشنی کا ہے ، اسکی ضد یعنی اندھیرے کا تصور محض تصوراتی ہے یہ تو بس ایک نام ہے جو ہم نے روشنی کے نہ ہونے والی صورتحال کو بیان کرنے کیلئے اختیار کرلیا ہے. اسی طرح ٹھنڈک کا تصور حقیقی نہیں خیالی و تصوراتی ہے، حقیقی وجود تو گرمی یا حرارت کا ہے. سائنس بس یہی بتاتی ہے کہ ایک شے زیادہ گرم ہے، بہت زیادہ گرم ہے، کم گرم ہے یا بہت کم گرم ہے. وہ ہمیں حرارت یعنی ٹمپریچر بیان کرتی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں. ٹھنڈک تو بس ایک لفظ ہے جو ہم نے کم حرارت والی کیفیت کو بیان کرنے کیلئے اختیار کرلیا ہے. اسی اصول پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شر کا کوئی حقیقی وجود نہیں ، یہ بس خیر کی عدم موجودگی کا نام ہے. الله نے کبھی شر کو تخلیق نہیں کیا، اس نے تو صرف خیر کو پیدا فرمایا لیکن ساتھ ہی انسان کو آزمانے کے لئے اختیار کی آزادی دی کہ وہ چاہے تو خیر کو اپنا لے یا نہ اپنائے. یہ ہمارا خیر کو نہ اپنانا ہے جو شر کو جنم دیتا ہے، ہمارے اردگرد پھیلا ہوا شر ہمارا اپنے ہاتھوں سے لایا ہوا ہے ، خدا نے تو خیر پیدا کیا اور اسی کو اپنانے کا حکم دیا. مثال کے طور پر اس نے  زمین میں ہر مخلوق کیلئے رزق بکثرت رکھ دیا لیکن یہ انسان کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے جس نے بھوک و افلاس کو جنم دیا. ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک مخلوق کی ضرورت دوسری مخلوق کے لئے شر بن جائے. جیسے شیر کی بھوک بکری کے لئے بظاہرشر بن سکتی ہے یا بکری کا چرنا گھاس پھونس کیلئے شر کہلاسکتا ہے. یہ فطرت کے اصول ہیں جو اس نظم کائنات کو برقرار رکھنے کیلئے الله رب العزت نے مختص کئے ہیں مگر اس سے یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکالا جاسکتا کہ اس نے شر کو پیدا   کیا جیسا کہ قتل ، چوری، فاقہ وغیرہ یہ انسان کا اپنا ارادے کا سوئے استمعال ہے جو شر وجود میں لاتا ہےابلیس کو بھی ملعون الله نے پیدا نہیں کیا بلکہ اسکے ارادے کے غلط استمعال نے بنایا
سوال کا جواب یہ بنا کہ خدا کو مکمل اختیار ہے روکنے کا، مگر چونکہ اس نے یہ دنیا امتحان کے اصول پر تخلیق کی ہے اور وہ اس دنیا میں ہماری اختیار کی آزادی کو قائم رکھنا چاہتا ہے لہٰذا وہ زبردستی جبر سے برائی نہیں روکتا بلکہ تلقین و ترغیب کا رویہ اپناتا ہے. اب یہ نقطہ کہ شر آتا کہاں سے ہے؟ یہ اپر درج کردیا گیا ہے کہ یہ انسان کا اپنے ہاتھوں سے لایا ہوا ہوتا ہے. خدا کو مورد الزام نہیں ٹہرایا جا سکتا.
٤. اگر وہ نہ شر کو روکنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس پر قادر ہے تو اسے خدا کیوں کہیں؟
ج. وہ اس دنیا میں ہماری اختیار کی آزادی کو قائم رکھنا چاہتا ہے لہٰذا باوجود قدرت رکھنے کے وہ شر روکنے کیلئے محض تلقین و تعلیم کا طریق اختیار کرتا ہے اور ساتھ ہی اس روز حساب کی خبر دیتا ہے جب ہر شخص اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتے گا. ایسی بااختیار اور منصف ہستی کو کوئی کیوں نہ خدا تسلیم کرے؟

====عظیم نامہ====

Friday, 2 May 2014

کیا ہم بچپن سے ہی نسل پرست ہیں ؟

 
 

کیا ہم بچپن سے ہی نسل پرست ہیں ؟

 

 
 
 
نیلسن منڈیلا اور بہت سے دوسرے مفکرین یہ بتاتے ہیں کہ بچے نسلی تعصب سے پاک ہوتے ہیں ، وہ جلد کی رنگت دیکھ کر
فیصلہ نہیں کرتے
 
 
میں خود اسی فکر کو مانتا آیا تھا لیکن پچھلے دنوں ایک تحقیقی دستاویز نظر سے گزری جس نے اس من پسند تصوراتی محل کو مسمار کردیا. دستاویز میں بہت سے سیاہ فام اور سفید فام بچوں سے سوالات کئے گئے. بچوں کی عمر پانچ سے بارہ سال کے درمیان تھی. ان سب کو ایک ایک کرکے بلایا گیا اور ان کے سامنے دو گڑیایں رکھی گئیں، دونوں گڑیاؤں کے خد و خال بلکل ایک جیسے تھے مگر ایک کی رنگت سفید تھی اور دوسری کی سیاہ
 
 
ان بچوں سے انفرادی سطح پر تنہائی میں  باری باری کچھ سوالات کئے گئے جیسے وہ کون سی گڑیا رکھنا چاہتے ہیں؟ ان میں سے کون سی گڑیا اچھی ہے اور کون سی بری ؟ کون سی گڑیا نیک ہے اور کون سی مجرم ؟ کون سی گڑیا زہین ہے اور کون سی احمق ؟
 
 
دل توڑنے والا انکشاف یہ تھا کہ تمام سیاہ فام اور سفید فام بچوں نے سیاہ گڑیا کو برا، مجرم اور احمق کہا جب کہ سفید گڑیا کو اچھا، نیک اور زہین قرار دیا
 
 
جب پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ؟ تو جواب ملا کہ گڑیا کی جلد، بالوں اور آنکھوں کا رنگ اسے اچھا یا برا بناتا ہے پھر پوچھا گیا کہ وہ کون سی گڑیا جیسا بننا چاہتے ہیں؟ تو سب بچوں کا تنہائی میں انفرادی جواب سفید گڑیا کے حق میں تھا
جب بچوں نے سیاہ گڑیا کو برا، خراب، مجرم وغیرہ کہہ دیا تو صرف سیاہ بچوں سے ایک ایک کرکے اکیلے میں پوچھا گیا کہ وہ خود کو کون سی گڑیا جیسا دیکھتے ہیں؟ تو سیاہ بچوں نے شرم سے سر جھکا کر سیاہ گڑیا کی طرف اشارہ کیا
 
میرے اپنے لئے یہ بہت ہی اداس کرنے اور چونکا دینے والا انکشاف تھا، یعنی نسلی تعصب بچپن میں ہی بچوں کے ذہن میں
آجاتا ہے؟
 
  
اس دستاویز پر کافی سوچتا رہا اور بہت سوچنے کے بعد اسکی جو توجیہہ سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ انسان روشنی کو پسند کرتا ہے اور اندھیرے سے گھبرا جاتا ہے. اس حقیقت کا مشاہدہ بچے بہت کم عمر میں ہی کرلیتے ہیں. وہ کسی بھی اندھیری جگہ پر جانے سے خوف زدہ ہوتے ہیں، اندھیرا چونکہ سیاہ ہوتا ہے غالباً اسی لئے وہ سیاہ فام رنگت کے بارے میں منفی گمان قائم کرلیتے ہیں. یہ تجربہ سیاہ فام بچوں کو بھی ہوتا ہے لہٰذا انکا نتیجہ بھی رنگت کے اعتبار سے سفید کے حق میں اور سیاہ کی مخالفت میں نکلتا ہے. اندھیرے میں کیونکہ انسان کو کچھ نظر نہیں آتا اور اسکی بنیادی صلاحیتیں معطل ہو جاتی ہیں چنانچہ ایسے میں گھبراہٹ طاری ہونا عین فطری ہے
 
 
یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ اگر اس پسند ناپسند کی بنیاد اندھیرے کے جبلی خوف پر ہے تو پھر یہ رویہ دوسری اشیاء کے بارے میں کیوں نظر نہیں آتا؟ مثال کے طور پر اگر گڑیا کی جگہ سفید اور کالی کھلونا گاڑی رکھ دی جائے تو نتیجہ یقیناً مختلف ہوگا. پھر سمجھ آیا کہ بچے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں کہ گاڑی مختلف رنگوں کی ہوتی ہیں جیسے سرخ، سبز، کالی، سفید وغیرہ لہٰذا وہ اندھیرے کے اس خوف کا اطلاق ان اشیاء پر نہیں کرتے. یہ ان کے لئے محض چیزیں ہیں، جبکہ گڑیا کی شکل میں وہ
اپنے وجود کو دیکھتے ہیں
 
 
اب تواس پر بھی شک ہونے لگا ہے کہ 'حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے' ، یہ بات انفرادی یا ایک محدود درجہ میں تو درست ہوسکتی ہے مگر عمومی و مجموئی مشاہدہ اس کی نفی کرتا ہے. لہٰذا کوئی چینی اپنی دبی ہوئی چھوٹی آنکھوں کو حسن نہیں سمجھتا اور نہ ہی دنیا میں کوئی اور اسکی گواہی دیتا ہے. کوئی افریقی موٹے لٹکے ہونٹوں کو حسن کی معراج نہیں کہتا اور نہ ہی دنیا میں کسی اور کو ایسا گمان ہوتا ہے. کوئی جاپانی چھوٹے ناٹے قد کو خوبی نہیں بتاتا اور نہ ہی دنیا میں دیگر افراد کو کوئی ایسا مغالطہ ہوتا ہے. ہاں اگر انفرادی طور پر کسی کی طبیعت عمومی رویہ کے برخلاف مائل ہوجائے تو اسے استثنا سمجھا جائے گا لیکن عمومی نتیجہ عمومی رویہ کو دیکھ کر ہی اخذ کیا جاسکتا ہے. بہرحال یہ موضوع  نہیں تھا بلکہ موضوع وہ نسلی تعصب تھا جو بچے بچپن میں ہی اپنا لیتے ہیں
 
 
یہ دھیان رہے کہ یہ میرا ذاتی احساس ہے جو الفاظ کی صورت لے کر یہاں درج ہوگیا. اس میں یقیناً غلطی کا احتمال ہے اور قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنی رائے اپنے غور و تدبر سے قائم کریں. ممکن ہو تو مجھے بھی مستفید کریں.
 

====عظیم نامہ====

Thursday, 1 May 2014

جزو اور کُل میں بندھی کائنات - ایک تجزیہ


جزو اور کُل میں بندھی کائنات - ایک تجزیہ



 ہر جزو ایک کُل ہے اور ہر کُل خود سے برتر کُل کا جزو. جزئیات کا سفر کئے بناء کُل کی تفصیل و حقیقت معلوم کرنا ناممکن ہے اور کُل کا مشاہدہ کئے بغیر جزئیات کا باہمی ربط نہیں سمجھا جاسکتا. یہ ساری کائنات اسی جزو اور کُل کی تفریق میں بٹی اور جڑی ہوئی ہے

ایک سبز پتے کا مشاہدہ کیجئے، وہ اپنی مخصوص ساخت، دلکش رنگت اور منفرد چھاپ کی بنیاد پر ایک مکمل وجود رکھتا ہے. اپنے آپ میں اسے کُل کی حیثیت حاصل ہے مگر یہی پتہ جب کسی پھول سے منسلک ہوکر ٹہنی سے چمٹتا ہے تو اب یہ "ٹہنی" کُل کے مقام پر فائز ہوجاتی ہے اور پتہ کُل سے جزو بن جاتا ہے. یہ ٹہنی آگے بڑھ کر شاخ سے جڑتی ہے تو اب یہ شاخ کُل کی حیثیت اختیار کرتی ہے اور ٹہنی جزو کہلاتی ہے. اسی طرح یہ شاخ تنے میں اور یہ تنا جڑ میں اور یہ جڑ کھاد و مٹی میں اور پھر یہ مٹی زمین کی گود میں ضم ہوتے چلے جاتے ہیں. جو پہلے مرحلے پر کُل قرار پاتا ہے وہ اب دوسرے مرحلے پر جزو بن جاتا ہے  اور جو پہلے جزو تھا وہ اب کُل کہلاتا ہے

یہی مثال انسانی وجود کی ہے. ایک خلیہ اپنے خدوخال، درج معلومات ، خاص ساخت اور بہترین تناسب کے اعتبار سے ایک مکمل کُل کی حیثیت رکھتا ہے مگر یہی خلیہ جب ناخن کی صورت میں ڈھلتا ہے تو اب خلیہ جزو اور ناخن کُل کہلاتا ہے. پھر یہی ناخن انگلی میں، انگلی ہاتھ میں، ہاتھ بازو میں اور بازو دھڑ سے جڑتا جاتا ہے. ہر درجہ پر ایک مکمل کُل موجود ہوتا ہے مگر اگلے درجہ پر یہی کُل جزو بن جاتا ہے



یہ معاملہ صرف عناصر کی ترتیب سے متعلق ہی نہیں ہے بلکہ اسی تناظر میں جب ہم انسان سمیت تمام مخلوقات جیسے حیوانات، نباتات، جمادات، حشرات، ملائکہ وجنات وغیرہ کا جائزہ لیتے ہیں تو حیرت انگیز طور پر ان سب کو ایک باہمی تعلق میں جکڑا پاتے ہیں. یہ وہی باہمی تعلق ہے جو جزو اور کُل کے اصول پر دو مختلف عناصر یا مخلوقات کو آپس میں جوڑے رکھتا ہے. بقول اسد الله غالب 

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدہء بینا نہ ہوا

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ محض جزئیات کو واپس اکھٹا کر دینے یا جوڑ دینے سے کُل وجود میں نہیں آتا ، یہاں تک کہ ان میں ایک تناسب و تعلق پیدا نہ ہو. لہٰذا ضروری نہیں کہ چاول، دودھ اور چینی کو اکھٹا کردینے سے کھیر لازماً وجود میں آجائے . حتیٰ کہ ان میں ایک خاص تناسب، ترتیب اور تعلق قائم ہو. یہ بھی دیکھیں کہ اگر کسی کُل میں سے جزو کو جدا کردیا جائے تو وہ اپنی سابقہ معنویت کھو بیٹھتا ہے اور ایک نئے کُل  کا جزو بن جاتا ہے، جیسے کسی تحقیقی مقالہ کے ایک جزو یا حصہ کو اس سے علیحدہ کر کے کسی دوسرے مقالہ میں استمعال کیا جائے تو جزو تو وہی رہے گا مگر اب وہ ایک نئے کُل کا حصہ کہلائے گا

اسی اعتبار سے ہماری زمین ایک کُل ہے اور اس میں موجود پہاڑ، وادیاں، دریا، سمندر، صحرا، جنگلات، مخلوقات وغیرہ سب اسکے جزو کی حیثیت رکھتے ہیں. یہی زمین جب ہمارے نظام شمسی کا حصہ بنتی ہے تو اچانک کُل سے جزو کے درجہ پر آجاتی ہے اور کُل کا لقب نظام شمسی کو دے دیتی ہے. پھر یہی نظام شمسی سورج، چاند، زمین، مریخ وغیرہ باقی اور بہت سے سیاروں اور نظاموں کیساتھ مل کر "ملکی وے" نامی کہکشاں سے منسلک ہوتے ہیں تو اب یہ کہکشاں کُل کہلاتی ہے اور اس میں موجود تمام سیارے بشمول ہمارے نظام شمسی کے ، سب کے سب جزو یا جزئیات قرار پاتے ہیں. یہ سلسلہ یوں ہی مستقل دراز ہوتا جاتا ہے اور صاحب شعور پر یہ منکشف ہوتا ہے کہ ریت میں دفن ایک حقیر ذرے سے لے کر عظیم تر کہکشاؤں اور خلاؤں تک، پوری کائنات درحقیقت ایک ہی اکائی ہے. یہ مادی دنیا جزو اور کُل  کے ایک لامتناہی سلسلے میں پیوستہ ہے. ایک ایسا سلسلہ جس میں موجود ہر جزو دوسرے جزو سے مادی قوانین کے ذریعے مربوط انداز میں جڑا ہوا ہے. جیسے کشش ثقل کے قانون نے پوری کائنات کو ایک نادیدہ قوت، ایک بیمثال حسن، ایک عظیم تناسب سے جکڑ رکھا ہے. یہ تمام جزئیات کائنات نامی کُل کا حصہ ہیں جو ایک دوسرے کے باہمی اشتراک سے اس کُل  کو کُل  بناتے ہیں

 جب یہ حقیقت سمجھ آگئی کہ یہ کائنات  کُل ہے اور بقیہ تمام اندرونی وجود اسکا جزو ہیں تو پھر یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی جزو کی حرکت سے کُل متاثر نہ ہو. جسطرح گاڑی ایک کُل  ہے اور انجن، پہیہ، ڈھانچہ وغیرہ اسکے جزئیات ہیں تو یہ ماننا ہوگا کہ اگر کسی ایک جزو میں بھی خرابی پیدا ہو جائے یا اسکی استعداد کم و زیادہ ہو جائے تو وہ بقیہ جزئیات سے میل نہ کھاکر پورے کُل پر ایک حد میں اپنا اثر مرتب کرے گا. سائنس میں بھی ایک تھوری "بٹر فلائی افیکٹ" کے نام سے رائج ہے  جو بیان کرتی ہے کہ کائنات کے ایک حصہ میں تتلی کا پنکھ ہلانا کسی دور دراز دوسرے حصے میں کسی بڑے حادثے جیسے آتش فشاں وغیرہ کا محرک و باعث بن سکتا ہے

اگر سوچنے والے سوچیں تو یہ اپنے آپ میں ایک انکشاف ہے کہ کس حسن سے اس کائنات کا زرہ زرہ ایک ہی لڑی میں پرویا ہوا ہے؟ کس طرح ہر شے اپنا مکمل وجود رکھ کر بھی جزئیات کی محتاج ہے اور اپنے سے بڑے کُل میں گم ہونے کو بے قرار؟ ، یہ حقیقت اس  کائنات میں ہمیں ہمارے اپنے مقام سے روشناس کراتی ہے، ہمیں باشعور ہونے کی نعمت سمجھاتی ہے ، ہمیں اس پرہیبت نظام کا حصہ بناتی ہے اور اس کائنات کو اپنا خاندان جان کر ذمہ داری اٹھانے کا احساس دلاتی ہے. ہمارا مشاہدہ چونکہ صرف مادی اشیاء تک محدود ہے لہٰذا جزو اور کُل کے اس سفر کو ہمیں اسی تناظر میں دیکھنا، سمجھنا اور محدود رکھنا چاہیئے. مابعدالطبیعات کے حقائق جیسے خالق، ملائکہ، جنت و جہنم، برزخ وغیرہ پر اس اصول کا اطلاق . نہیں کیا جاسکتا. موجودات کی کثرت میں ایک پوشیدہ وحدت ضرور پنہاں ہے، جسے راقم نے اس مضمون میں بیان کرنے کی سعی کی ہے. مگر احقر کی سمجھ میں یہ وحدت ذات کی نہیں بلکہ کلمہ 'کن فیکون' کی تفسیر ہے. یہی وہ رعایت ہے جسکی بنیاد پر میں وحدت الشہود کو وحدت الوجود سے زیادہ حقیقت کے قریب پاتا ہوں. البرٹ آئین اسٹائن سے لے کر اسٹیفن ہاکنگ تک سائنس 'تھیوری آف ایوری تھنگ' کی تلاش میں سرگرداں نظر آتی ہے جو اپنی اصل میں اسی 'کن فیکون' کی کھوج ہے
.====عظیم نامہ==== 

عورت کو ہر معاشرے میں عزت کیوں نہ مل سکی ؟



عورت کو ہر معاشرے میں عزت کیوں نہ مل سکی ؟

 
سارا معاملہ پہلی ترجیح کا ہے. مرد نے ابتدا سے عزت کے حصول کو اپنی اولین ترجیح بنایا، عزت و وقار کو پانا مرد کی شدید خواہش ہے اور اس حوالے سے وہ نہایت حساس ہے. اسکے برعکس عورت نے اپنا پہلا تقاضہ محبت کو بنایا، وہ مرد کی طرح محض محبت کو پسند ہی نہیں کرتی بلکہ ہمہ وقت اسکی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے. وہ چاہتی ہے کہ اس سے محبت کی جائے اور اسی کے حصول کو وہ اپنا مقصد و منتہا بنا لیتی ہے. اب چونکہ محبت کے لئے توجہ حاصل کرنا لازم ہے اور خوبصورتی وہ شے ہے جو توجہ کو مبذول کرتی ہے لہٰذا عورت نے ہمیشہ بناؤ سنگھار کو اپنایا یا سادہ الفاظ میں کہیئے تو اپنی 'ذات' کو سجایا تاکہ یہ توجہ اور محبت حاصل ہو سکے. دوسری طرف مرد کیونکہ عزت و وقار کا طالب تھا تو اس نے اپنی ذات پر نہیں بلکہ 'صفات' پر زیادہ زور دیا. وہ ہر وقت اس تگ و دو میں لگا رہا کہ غیرت، شجاعت، ایجاد جیسی صفات کو نشونما دے کر عزت و وقار کو پاسکے. 

مرد اور عورت نے وہی پایا ہے جسکی ان دونوں نے اپنی اپنی جنس میں بحیثیت مجموئی کوشش کی. مرد نے اجتماعی اعتبار سے عزت و وقار کو حاصل کرلیا جبکہ عورت نے محبت و توجہ پالی. مرد کو کمتر درجہ میں محبت ملی اور عورت کو کمتر درجہ میں عزت. البتہ یہی عورت جب ماں کا روپ اختیار کرتی ہے تو اس کردار کو نبھانے میں وہ 'ذات' کو نہیں بلکہ 'صفات' کو اپنالیتی ہے. وہ بناؤ سنگھار کی جگہ ایثار، قربانی، صبر جیسی صفات کے ذریعے اپنی اولاد کو پروان چڑھاتی ہے، شائد یہی وجہ ہے کہ ماں کے روپ میں وہ اپنی اولاد سے اعلیٰ درجہ کی عزت و توقیر حاصل کرلیتی ہے.



====عظیم نامہ====

Saturday, 26 April 2014

کائنات - اضداد کی پہیلی -ایک مختلف تجزیہ


کائنات - اضداد کی پہیلی -ایک مختلف تجزیہ


یہ کائنات مجموعہ اضداد ہے. یہاں ہر شے کا وجود اسکی ضد سے ہے. اگر تاریکی نہ ہو تو روشنی کا کیا تصور؟ اگر تکلیف نہ ہو تو راحت کے کیا معنی؟ اگر بدصورتی نہ ہو تو خوبصورتی کو کون سراہے گا؟ اگر بیماری کا وجود نہ ہو تو صحت کو نعمت کون تسلیم کرے گا؟ اور اگر موت ہی نہ ائے تو زندگی کی تمنا کسے ہوگی؟ .. ہر چیز کا وجود اسکی ضد سے منسلک ہے

ایک اور زاویہ سے سوچیں تو معلوم ہوگا کہ کوئی بھی شے اپنی ضد کے ساتھ ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ موجود نہیں رہ سکتی. یعنی روشنی آئے گی تو اندھیرے کو جانا پڑے گا، صحت آئے گی تو بیماری باقی نہیں رہے گی،خوشی آئے گی تو غم مٹ جائے گا اور دن نکلے گا تو رات کو اپنا بوریا بستر سمیٹنا پڑے گا. سادہ الفاظ میں کوئی بھی شے اپنی ضد سے منسلک اور مشروط تو ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ایک ہی وقت میں موجود نہیں ہوتی


یہ بھی دیکھیں کہ ہر شے اپنی ضد سے ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں بندھی ہوئی ہے یا یوں کہیں کہ ایک دوسرے کی جگہ لیتی رہتی ہے. یعنی دن اور رات کا مستقل ایک دوسرے کی جگہ لینا، تکلیف اور راحت دونوں کا ایک کے بعد ایک آتے ہی جانا، سردی اور گرمی کا مسلسل ایک مدار میں چلتے رہنا وغیرہ. یہ سب اسی امر کی دلیل ہیں کہ ہر شے اپنی ضد سے ایک مستقل اور مسلسل دائرے میں بندھی ہوئی ہے

اب ذرا سوچیں کہ زندگی کی ضد کیاہے؟ ہر لغت آپ کو زندگی کی ضد موت بتائے گی تواب جب ہم اضداد کی فطرت دیکھ چکے ہیں کہ ہر شےاپنی ضد کی جگہ مستقل اور مسلسل لیتی رہتی ہے تو یہی اصول زندگی اور موت پر بھی لاگو ہونا چاہیئے. قران حکیم میں سورہ غافر کی بائیسوی آیت کے بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کو دو زندگیاں اور دو موتیں دی جائیں گی.

قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إِلَى خُرُوجٍ مِنْ سَبِيلٍ

وہ (کفار) کہیں گے اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو بار موت دی, اور دو بارہ زندگی عطاء کی , سو ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے , تو کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے ؟

 پہلی موت سے ہم عالم ارواح میں گزرچکے ہے، پہلی زندگی کو اس وقت اس عالم خلق میں ہم گزار رہے ہیں. دوسری موت طبعی طور پر ہم سب پر وارد ہوگی اور بیشمار افراد پر ہمارے سامنے وارد ہوچکی. اور دوسری زندگی ہمیں روز جزا عطا کی جائیگی. یعنی زندگی اور موت بھی ایک دوسرے کی جگہ مسلسل لیتے رہینگے. اب فطری سوال یہ ہے کہ اگر اس اصول کو مان لیا جائے تو پھر تو روز جزا والی زندگی کو بھی موت سے ہمکنار ہونا ہوگا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا؟ جواب یہ ہے کہ ہاں اصولی طور پر تو ایسا ہی ہونا چاہیئے مگر وہ خالق جس نے اشیاء کو انکی ضد کے ساتھ دائرے میں باندھ رکھا ہے وہ یقیناً اس پر بھی قادر ہے کہ کسی مقام پر وہ اس دائرے کو ازخود توڑ ڈالے. بلکل ایسے ہی جیسے وہ اپنے بنائے ہوئے فطری اصولوں کو بھی معجزہ کے زریعے معطل کر دیتا ہے. حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ روز جزا میں زندگی اور موت کے اس مستقل جاری سلسلے کو سب کے سامنے توڑ دیا جائے گا، موت کو علامتی طور پر ایک مینڈھے کی صورت میں سامنے لایا جائے گا اور اسے ذبح کر کے یہ اعلان ہوگا کہ موت کو ختم کر کے اب زندگی کو مسلسل کر دیا گیا ہے یا دوسرے الفاظ میں زندگی کی ضد کو ہمیشہ کے لئے مٹادیا گیا ہے اور اب اسکی جگہ کوئی نہیں لے گا

اس مقام پر شائد آپ کو ایسا محسوس ہو کہ اب ہم اشیاء کا تعلق ان کی ضد کیساتھ سمجھ چکے ہیں مگر ذرا ایک گہری سانس لے کر یہ سوچیئے کہ کیا واقعی اشیاء کی ضد موجود ہوتی ہیں ؟ کیا 
 کسی بھی شے کی کوئی حقیقی ضد موجود ہے؟

ذرا سوچیں تو کہ کیا اندھیرے کا کوئی حقیقی وجود ہے ؟ اگر ہاں تو ہم اسے کیسے بیان کر سکتے ہیں؟  آج سائنس کی رو سے ہم سب روشنی کی رفتار سے واقف ہیں مگر اندھیرے کی رفتار کیا ہے ؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں؟ اگر اندھیرا واقعی ایک حقیقی وجود رکھتا ہے تو ہم اسکی رفتار کا حساب کیوں نہیں لگا سکتے؟

جواب یہ ہے کہ اندھیرے کا فی الواقع کوئی حقیقی وجود نہیں ہے. اندھیرا تو نام ہے روشنی کی عدم موجودگی کا ! حقیقی وجود تو صرف روشنی کا ہے ، اسکی ضد یعنی اندھیرے کا تصور محض تصوراتی ہے یہ تو بس ایک نام ہے جو ہم نے روشنی کے نہ ہونے والی صورتحال کو بیان کرنے کیلئے اختیار کرلیا ہے. اسی طرح ٹھنڈک کا تصور حقیقی نہیں خیالی و تصوراتی ہے، حقیقی وجود تو گرمی یا حرارت کا ہے. سائنس بس یہی بتاتی ہے کہ ایک شے زیادہ گرم ہے، بہت زیادہ گرم ہے، کم گرم ہے یا بہت کم گرم ہے. وہ ہمیں حرارت یعنی ٹمپریچر بیان کرتی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں. ٹھنڈک تو بس ایک لفظ ہے جو ہم نے کم حرارت والی کیفیت کو بیان کرنے کیلئے اختیار کرلیا ہے. موت بھی زندگی کا نقطہ اختتام نہیں ہے بلکہ حیات کا ایک مختلف نقطہ آغاز ہے

اگر اسی استدلال کو مزید گہرائی میں کھوج کر دیکھیں تو ایک مشکل سوال کا آسان جواب سامنے آجاتا ہے. سوال یہ کہ جب الله کی ذات ہی ہر شے کی خالق ہے اور ہر شر یا برائی سے پاک ہے تو پھر اس نے شر کو تخلیق ہی کیوں کیا ؟جواب یہ ہے کہ اس نے کبھی شر کو تخلیق نہیں کیا، اس نے تو صرف خیر کو پیدا فرمایا لیکن ساتھ ہی انسان کو آزمانے کے لئے اختیار کی آزادی دی کہ وہ چاہے تو خیر کو اپنا لے یا نہ اپنائے. یہ ہمارا خیر کو نہ اپنانا ہے جو شر کو جنم دیتا ہے، ہمارے اردگرد پھیلا ہوا شر ہمارا اپنے ہاتھوں سے لایا ہوا ہے ، خدا نے تو خیر پیدا کیا اور اسی کو اپنانے کا حکم دیا. مثال کے طور پر اس نے  زمین میں ہر مخلوق کیلئے رزق بکثرت رکھ دیا لیکن یہ انسان کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے جس نے بھوک و افلاس کو جنم دیا. ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک مخلوق کی ضرورت دوسری مخلوق کے لئے شر بن جائے. جیسے شیر کی بھوک بکری کے لئے بظاہرشر بن سکتی ہے یا بکری کا چرنا گھاس پھونس کیلئے شر کہلاسکتا ہے. یہ فطرت کے اصول ہیں جو اس نظم کائنات کو برقرار رکھنے کیلئے الله رب العزت نے مختص کئے ہیں مگر اس سے یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکالا جاسکتا کہ اس نے شر کو پیدا   کیا جیسا کہ قتل ، چوری، فاقہ وغیرہ یہ انسان کا اپنا ارادے کا سوئے استمعال ہے جو شر وجود میں لاتا ہےابلیس کو بھی ملعون الله نے پیدا نہیں کیا بلکہ اسکے ارادے کے غلط استمعال نے بنایا

اگر اس پورے استدلال کو سمیٹا جائے تو مندرجہ ذیل نتیجہ سامنے آجاتا ہے

ہر شے سے اسکی ضد منسلک ہے جو اسکی صحیح اہمیت سے ہمیں روشناس کراتی ہے. کوئی بھی شے ایک ہی وقت میں
ایک ہی جگہ اپنی ضد کیساتھ موجود نہیں رہ سکتی بلکہ فطرت کا اصول یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی جگہ مسلسل اور مستقل لیتے رہتے ہیں. شے حقیقی وجود رکھتی ہے اور اسکی ضد کا وجود محض تصوراتی ہے

  واللہ و عالم بلصواب


====عظیم نامہ====




Saturday, 5 April 2014

معجزہ کیا ہے ؟ کیا یہ سب الف لیلیٰ کی کہانی نہیں ؟


معجزہ کیا ہے ؟ کیا یہ سب الف لیلیٰ کی کہانی نہیں ؟ 


سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ معجزہ - قران کی اصطلاح نہیں ہے. قران حکیم میں معجزہ کے لئے لفظ "آیت" یا پھر "سلطان" استمعال کیۓ گئے ہیں. معجزہ کا مادہ لفظ "عجز" ہے جسکے معروف معنی  مجبور کردینے کے ہیں. معجزہ درحقیقت وہ عمل یا فعل ہے جو الله رب العزت کی جانب سے وقت کے رسول کو عطا کیا جاتا ہے اور اسکا مقصد مخاطب قوم کے حاضر علم کو عاجز یا مجبور کردینا ہوتا ہے  معجزہ ایک ایسا عمل ہے جو اپنے اندر بیک وقت دو خصوصیات سموئے ہوتا ہے



١. یہ فطرت کے معلوم اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا لہٰذااسکی کوئی عقلی توجیح ممکن نہیں  

٢. یہ وہ عمل ہوتا ہے جسکے زریعے نبی یا رسول اپنی قوم کے موجودہ علم کو للکارے اور قوم کا علم معجزہ کے سامنے 'عاجز' ہوجاۓ , اسی رعایت سے اسے معجزہ کہا جاتا ہے

معجزات کے انتخاب کی بنیاد رسول کی اپنی پسند ناپسند نہیں ہوتی بلکہ یہ خالص منشاء الہی پر منحصر ہے کہ وہ اپنی مشیت سے کس رسول کو کونسا معجزہ عطا فرما دے؟ ہم اس حقیقت سے بھی خوب آشنا ہیں کہ ہمارے پروردگار کا کوئی بھی حکم بناء حکمت کے نہیں ہوتا ، جائزہ لیں تو صاف ظاہر ہے کہ الله پاک رسولوں کو وہی معجزہ عطا فرماتے ہیں جسکے زریعے انکی مخاطب قوم کے نمایندہ علم کو عاجز کر دیا جاۓ. تاریخ شاہد ہے کہ آل فرعون کا نمایندہ علم جادو و سحر تھا، برٹش میوزیم میں موجود سابقہ آثار  آج بھی اسی کی گواہی دے رہے ہیں لہٰذا موسیٰ الہے سلام کو ایسے معجزات دیئے گئے جو جادو کو اسی کے طریق سے نیچا دکھا دینے والے ہوں. لاٹھی کا سانپ بننا یا ہاتھ کا روشن ہوجانا اسی امر کی دلیل ہیں. دوسری مثال لیں، حضرت عیسیٰ الہے سلام کا زمانہ گریک میڈیسن کے عروج کا تھا چنانچہ آپ کے معجزات علاج و شفاء کی نوعیت کے ہیں. جیسے پیدائشی اندھے کو بینائی حاصل ہوجانا، جلدی بیماری برص کو ٹھیک کر دینا، مردہ یا مرتے ہوۓ انسان کو الله کے حکم سے زندگی لوٹانا وغیرہ. ایک آخری مثال رسول الله محمد صلی الله و الہے وسلم کی ہے، ہم سب واقف ہیں کہ عرب اپنی زبان اور شاعری پر اس حد تک نازاں تھے کہ وہ غیرعرب اشخاص کو حقارت سے عجمی کہا کرتے تھے. عجمی یعنی گونگے، عربوں کے نزدیک غیر عرب کی مثال گونگوں کی تھی. عرب میں بڑے بڑے شاعر موجود تھے، جنکے کلام کے مقابلے منعقد کیۓ جاتے تھے. ایسے میں محمد صلی الله و الہے وسلم کی زبان اطہر سے الله رب العزت نے قران کریم کو بطور معجزہ جاری فرمایا. اس معجزہ میں عرب اقوام کو زبان و کلام کے حوالے سے للکارا گیا، پہلے کہا گیا کہ قران جیسا کلام بنا کر لے آؤ؟ پھر کہا گیا کہ اگر یہ ممکن نہیں تو پھر دس سورتیں پیش کر دو ؟ پھر مزید کہا گیا کہ اچھا اگر اتنا بھی ممکن نہیں تو سارے انسان و جنات ملکر ایک سورت ایسی لا کر دکھا دو؟ .. سادہ الفاظ میں قران نے بطور معجزہ عربوں کے علمی غرور کو عاجز کردیا. یہ چیلنج یا للکار آج بھی ساری دنیا کے موجود ہے لیکن اسکا جواب نہ کل کوئی قابل تشفی دے پایا اور نہ ہی آئندہ دے پائے گا


غور کریں تو فطرت ازخود اپنی ہر ہر ادا میں معجزات سمیٹے ہوۓ ہے، مگر چونکہ یہ سب ہمارے مستقل مشاہدے میں ہے ، اسی لئے ہم اسے معجزہ تسلیم نہیں کرتے. اپنی پیدائش پر ہی غور کر لیں، کس طرح ایک گندے پانی کی بوند سے ایک جیتا جاگتا باشعور انسان وجود پاجاتا ہے؟. آنکھوں کی صورت میں جدید ترین کیمرے، کانوں کی صورت بہترین مائکروفون ، آواز کی صورت میں بہترین ساؤنڈ اسپیکر اور دماغ کی صورت میں تیزترین سوپر کمپیوٹر کیسے وجود پاجاتا ہے؟  ایسے ان گنت واقعات ہمارے اردگرد رونماء ہوتے رہتے ہیں ، جو کسی معجزہ سے کم نہیں مگر کیونکہ ان واقعات نے مشاہدے اور فطری قوانین کا چوغہ اوڑھ رکھا ہے اسلیئے ہم اسے نارمل یا فطری گردانتے ہیں. ایک مومن اس پر ایمان رکھتا ہے کہ وہ خالق جو فطرت کے اصول بنا سکتا ہے، وہ اس پر بھی پوری طرح قادر ہے کہ انہیں کسی وقت معطل یا تبدیل کر دے. درحقیقت معجزات کا وجود تو خالق کے وجود پر ایک قوی اور اضافی دلیل ہے. یہ اور بات کہ جو شخص عقلی استدلال کو خاطر میں نہیں لاتا وہ معجزات کو قبول کرنے سے بھی قاصر ہوتا ہے. قوموں کے انکار کی وجہ یہی اندھے انکار کی روش رہی ہے

مسلمانوں کا ایک گروہ معجزات کا انکار یہ کہہ کر کردیتا ہے کہ معجزہ فطرت کی خلاف ورزی ہے ، فطرت الله کی سنت ہے  اور ہم قران سے یہ بات جانتے ہیں کہ الله اپنی سنت کی خلاف ورزی کبھی نہیں کرتے. یہ ایک منتقی الجھاؤ ہے ، جو ایک سادہ مثال سے واضح کیا جاسکتا ہے. مثال لیں کہ زید عمومی طور پر کھیر نہیں کھاتا مگر عید یا کسی خاص موقع پر وہ ہمیشہ کھیر ہی کھاتا ہے. اب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کھیر کھانا زید کی سنت نہیں ہے بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خصوصی مواقع پر کھیر کھانا زید کی سنت ہے. اسی طرح معجزہ الله کی وہ سنت ہے جسکا ظہور صرف خاص حالات و مواقع میں ہی ہوتا ہے

محققین کے نزدیک معجزہ اور خرق عادت کرامت میں بھی ایک واضح فرق موجود ہے. خرق عادت کسی ایسی چیز کا رونما ہونا  ہے، جو الله کی جانب سے وقتی مدد  ہو مگر کیونکہ اس میں چیلنج کا عنصر نہیں ہوتا اسلیئے اسے معجزہ نہیں قرار دیا جاسکتا. مثال کے طور پر آگ کی فطرت ہے کہ وہ جلاتی ہے مگر ابراہیم الہے سلام کے لئے اسی آگ کو وقتی طور پر ٹھنڈا و سلامتی والا بنا دیا گیا. یہ ایک وقتی مدد تھی اور اسکا ظہور مستقل نہ تھا، یعنی ایسا نہیں تھا کہ آگ کبھی بھی ابراہیم الہے سلام کو نہیں جلاسکتی تھی. لہٰذا اس عظیم واقعہ کو خرق عادت سے تعبیر کیا جائے گا اور یہ معجزہ نہیں قرار پائے گا. معجزہ ہونے کے لئے کسی عمل کا صرف غیرفطری ہونا کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اسے مستقل طور پر مخاطب قوم کے سامنے چیلنج کے طور پر پیش کیا جاۓ 

واللہ عالم بلصواب 

====عظیم نامہ====

Friday, 4 April 2014

قبر میں جزا و ثواب کی کیا نوعیت ہوگی؟ کیا یہ قران و حدیث سے ثابت ہے؟


قبر میں جزا و ثواب کی کیا نوعیت ہوگی؟ کیا یہ قران و حدیث سے ثابت ہے؟



قبر میں جزا و ثواب کی نوعیت کیا ہوگی ؟ اس بارے میں محققین کی مختلف آراء موجود ہیں. میں اس وقت انکا تقابلی جائزہ نہیں لوں گا بلکہ صرف اپنے تجزیہ سے آپ کو آگاہ کروں گا. پڑھنے والوں پر فرض ہے کہ وہ میری اس تحقیق کو ایک علمی کاوش سمجھیں اور اپنا نتیجہ خود قائم کریں



سب سے پہلے تو تمہیدی طور پر یہ جان لیں کہ یقین کے تین درجے ہیں پہلا درجہ ہے علم الیقین - یعنی وہ یقین جو علمی استدلال سے حاصل ہو. اس دنیاوی زندگی میں ہم سے صرف علم الیقین ہی مطلوب ہے. دوسرا درجہ ہے عین الیقین - یعنی آنکھوں دیکھا یقین، یہ وہ یقین ہے جو عالم برزخ یعنی یعنی موت کے بعد قبر میں حاصل ہوگا. تیسرا اور اعلیٰ ترین درجہ حق الیقین کا ہے جو روز محشر یعنی قیامت کے بعد قائم ہوگا. علم الیقین چونکہ اس مادی دنیا میں مطلوب ہے لہٰذا اس میں ہمارے مادی یعنی جسمانی حواس غالب ہیں. قبر میں کیونکہ جسم مٹی ہوجانے ہیں تو یہاں ہمارا روحانی وجود یا روحانی حواس کا غلبہ ہے لہٰذا معاملات بھی عین الیقین سے متعلق ہیں. روز حساب ہمارے جسمانی اور روحانی دونوں حواس پوری طرح بیدار ہونگے تو یہاں حقیقت اپنے دونوں پہلوؤں سے سامنے آئے گی جسے حق الیقین سے تعبیر کیا گیا ہے.

قران حکیم کے بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیند اور موت میں ایک یقینی مشابہت موجود ہے. نیند اور موت جیسے دو بہنیں ہیں. قران کی سورہ الزمر میں درج ٤٢ آیت ملاحظہ ہو

خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں (نفوس) قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کرچکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

جس طرح نیند میں ہمارا شعور جزوی اور عارضی طور پر معطل ہوجاتا ہے اور جس طرح ہمارا لاشعور ہمارے خیالات کو خواب کی صورت میں تصویری خاکہ بنا دیتا ہے بلکل ویسے ہی موت میں اس سے ملتے جلتے لیکن کہیں زیادہ گہرے نفسی و روحانی تجربات پیش آیئنگے. اس بارے میں بابائے نفسیات فرائیڈ کی تحقیقات بھی قابل غور ہیں ، وہ کہتا ہے کہ خواب میں آپ کے جذبات و خیالات تصویری پیغام بن جاتے ہیں. انکی تعبیر بھی ہر شخص کے انفرادی تصورات کے مطابق جدا جدا ہوتی ہے. ایک مثال سے اسے سمجھتے ہیں، اگر بلی میرا پسندیدہ جانور ہے اور آپ بلی سے خوف کھاتے ہیں تو میرے خواب میں بلی کا نظر آنا محبت کا اشارہ ہوسکتا ہے ، اسکے برعکس آپ کے خواب میں بلی کا نظر آنا خوف کی علامت ہوسکتا ہے. ہر خوابیدہ تصویر کی تعبیر کے پیچھے اس سے متعلق تصورات وابستہ ہوتے ہیں.

اب جب ہم اسی تحقیق کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جن میں احوال قبر بیان ہوئے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی نماز یا نیک اعمال اسکے سامنے ایک خوبصورت چہرے والے انسان کے روپ میں ظاہر ہونگے. اسی طرح ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے پیچھے بھاگنے والے کے سامنے دنیا ایک بدصورت بڑھیا کی صورت میں نمودار ہوگی. اسی رعایت سے یہ بہت ممکن ہے کہ حسد اور کینہ سانپ بچھو بن کر عذاب کا بائث بن جاۓ. مگر یہ سب احوال روحانی سطح پر ہونگے. عذاب قبر سے متعلق موجود تمام احادیث غالباً اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں. اس کے لئے عالم برزخ کی اصطلاح رائج ہے. یعنی یہ ایک علیحدہ روحانی عالم ہے ، یہ لفظ برزخ دراصل 'پردہ ' کا متبادل ہے اور اُس حد فاصل کے لیے استعمال ہوا ہے ، جہاں مرنے والے قیامت تک رہیں گے۔یہ گویا ایک روکاٹ ہے جو اُنہیں واپس آنے نہیں دیتی 

" 'من ورائھم برزخ الی یوم یبعثون "

'( اُنکے آگے ایک پردہ ہے اُس دن تک کے لیے،جب وہ اُٹھائے جائیں گے (المومنون٢٣: ١٠٠) ۔ 

اسے صرف قبر کے گڑھے تک محدود رکھنا شائد درست نہ ہو. ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو قبر میسر ہی نہیں ہوتی ، بعض پانی میں ڈوب جاتے ہیں، بعض کو جنگلی درندے کھا جاتے ہیں، بعض کو جلادیا جاتا ہےاور وہ جنہیں قبر میسر آجائے ، انکے اجسام کو بھی ایک وقت بعد کیڑے کھا جاتے ہیں اور ان کیڑوں کو بھی دوسرے کیڑے کھا جاتے ہیں لہٰذا قبر میں جسمانی سطح پر جزا و ثواب کا نظریہ ایک مشکل نظریہ ہے. حد سے حد یہ کہا جاسکتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی روح کا کوئی نہ کوئی تعلق جسم کہ ذرات سے باقی رہتا ہے مگر جزا و ثواب کے احوال اسکی روح پر ہی وارد ہوتے ہیں. غور کریں تو یہی معاملہ ہمیں خواب میں بھی درپیش آتا ہے، مثال کے طور پر آپ خواب میں دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص آپ کے پیچھے خنجر لئے دوڑ رہا ہے یا آپ کے پیچھے بھیانک کتے لگے ہوئے ہیں اور آپ ان سے بچنے کی خاطر سرپٹ دوڑ رہے ہیں، اچانک آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ .سارا جسم پسینہ میں شرابور ہے، سانس تیز تیز چل رہی ہے اور خوف سے دل بھی زور زور دھڑک رہا ہے . حالانکہ نہ تو حقیقت میں کوئی آپ کے پیچھے بھاگ رہا تھا اور نہ ہی آپ کسی سے بچ رہے تھے. اس سے تین اہم باتیں ثابت ہوتی ہیں پہلی یہ کہ اصل تکلیف یا فرحت روح محسوس کرتی ہے، دوسری یہ کہ روح پر گزرے احوال آپ کے جسم پر بھی اثرات مرتب کرتے ہیں اور تیسری یہ کہ خواب کے دوران آپ خواب ہی کو اصل حقیقت تسلیم کرتے ہیں. برزخ میں بھی جو فرحت و عذاب آپ کی اصل نفسانی شخصیت یعنی روح پر وارد ہونگے اس کا احساس  بلکل حقیقی محسوس ہوگا ، یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا جسم جو شائد ذرات کی صورت میں کہیں موجود ہو وہ بھی ایک نامعلوم تعلق کی بنیاد پر اس اثر کو محسوس کرے مگر وہ تعلق کتنا مظبوط ہے؟ ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا وہ وقتاً فوقتاً کمزور ہوتا جاتا ہے؟ ان سب باتوں سے قطع نظر حقیقی معاملہ دراصل روح ہی کو پیش ہوگا اور قبر کی شکل یا ان میں سوال و جواب بھی شائد تمثیلی روحانی سطح پر ہی ہونگے البتہ روح اپنے جسم سے انسیت کے باعث اس سے ایک غیبی تعلق برقرار رکھے گی

شائد اسی بنیاد پر احادیث میں یہ آتا ہے کہ منکر و نکیر فرشتوں کے سوالات کے بعد قبر میں جنت یا جہنم کی کھڑکی کھول دی جاۓ گی جس میں صاحب قبر اپنے ٹھکانے کا شب و روز مشاھدہ کرے گا. قبر کو اعمال کے اعتبار سے خوب کشادہ کر دیا جاۓ گا یا پھر نہایت تنگ. یہاں قبر سے مراد میرے نزدیک برزخی یعنی روحانی قبر ہے جسکا تعلق اس مادی قبر سے انس کی بنیاد پر قائم رہتا ہے .زندہ انسان کی آنکھوں کے سامنے چونکہ صرف مرنے والے کی مادی قبر ہے اور وہ برزخ کو نہیں دیکھ پاتا لہٰذا اس کی دعا اسی قبر کے سرہانے ہوتی ہے. جسے صاحب قبر الله کی اجازت سے اور اس غیبی تعلق کی بنیاد پر اپنے حقیقی برزخی ٹھکانے میں سن پاتا ہے. ہم اپنی سمجھ کی آسانی کیلئے اصحاب قبر کو تین گروہ میں کرکے دیکھ سکتے ہیں. پہلے وہ جو سرکش تھے، دوسرے وہ جو نیک و پارسا تھے اور تیسرے وہ جن کی زندگی گناہ و ثواب دونوں میں گڈمڈ گزری 

قرآن سے یہ بات  واضع ہوتی ہے کہ جن لوگوں کا معاملہ اِس پہلو سے بالکل واضح ہوگا کہ وہ سرکشی اور تکبر سے جھٹلانے والے اور اپنے پروردگار کے کھلے نافرمان تھے یا ہونگے ۔ اُن کے لیے ایک نوعیت کا عذاب بھی اِسی عالم برزخ میں شروع ہوجائے گا۔ اسی مشاہدے کی دلیل ہمیں قران پاک کی سورۂ مومن (غافر) میں ملتی ہے جہاں فرمایا :

وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَاب
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَاب

فرعون والوں کو برے عذاب نے گھیر لیا ، صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن تو فرعون والوں کے لئے کہا جائے گا ان کو سخت عذاب میں لے جاؤ۔
( غافر:40 - آيت:45-46 )

یعنی صاف ظاہر ہے کہ آل فرعون پر قبر میں عذاب اسی صورت میں ہوتا ہے کہ انہیں انکا ٹھکانہ دکھایا جاتا رہتا ہے جسے دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور روز آخر انہیں اس عذاب میں حقیقی طور پر داخل کردیا جاۓ گا

قرآن کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا معاملہ اِس پہلو سے بالکل واضح ہوگا کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے لیے درجہ کمال میں وفاداری کا حق ادا کیا ہے اور کرنے والے ہیں ۔ اُن کے لیے ایک نوعیت کا ثواب اِسی عالم میں شروع ہوجائے گا ۔قرآن کے مطابق اِس کی مثال وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اپنے پروردگار کے حکم پر اُس کے دشمنوں سے جنگ کی اور پھر شہید ہوگئے۔

قرآن کا ارشاد ہے کہ وہ زندہ ہیں،اور اپنے پروردگا کی عنایتوں سے بہرہ یاب ہورہے ہیں (آل عمران٣: ١٦٩-١٧١) ۔

ان دو انتہاؤں کے بیچ بیچ جو افراد ہونگے ، جن کے گناہ و ثواب دونوں بکثرت موجود ہوں ایسے افراد کے لئے جنت و جہنم دونوں امکانات کا مشاہدہ رکھا جاۓ گا اور انکا حتمی اعلان آخرت میں حساب و کتاب سے ہی واضح ہو پاۓ گا. ان پر ایک طرح کی نیند طاری رہے گی جس میں یہ خوابیدہ مشاہدہ مختلف شعوری سطح پر کرتے رہے گے. یہ زندگی چونکہ جسم کے بغیر ہوگی لہٰذا روح کے شعور،احساس اور مشاہدات وتجربات کی کیفیت اِس زندگی میں کم وبیش وہی ہوگی جو خواب کی حالت میں ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ قیامت کے صور سے یہ خواب ٹوٹ جائے گا، روح کو جسم سے پھر جوڑا جاۓ گا اور مجرمین اپنے آپ کو یکایک میدان حشر میں جسم و روح کے ساتھ زندہ پاکر کہیں گے

'یویلنا من بعثنا من مرقدنا

ہائے ہماری بد بختی ،یہ ہماری خواب گاہوں سے ہمیں کون اُٹھالایا ہے (یس٣٦: ٥٢)۔

یہ وہ مختصر روداد ہے جو احوال قبر کے بارے میں میرے نقطہ نظر کو بیان کرتی ہے. میری پھر استدعا ہے کہ اسے محض ایک علمی کاوش سمجھا جاۓ اور کوئی بھی نتیجہ انفرادی تحقیق کے بعد قائم کیا جاۓ. الله رب العزت ہم سب کو اپنے دین کی ٹھیک سمجھ اور اچھا عمل عطا کرے. آمین.

واللہ و عالم بلصواب

====عظیم نامہ====