Tuesday, 2 April 2013

سب کچھ تقدیر میں ہی لکھا ہے تو انسان کی کیسی غلطی ؟

تقدیر کیا ہے ؟ .. اگر سب کچھ پہلے ہی لکھا ہے تو انسان کی کیسی غلطی ؟

اگر تاریخ انسانی کا جائزہ لیا جاۓ تو معلوم ہوگا کہ مذہب اور فلسفہ کا مشکل ترین موضوع 'مسلہ جبر و قدر' ہے یا یوں کہہ  لیجیۓ کہ ' تقدیر کا مسلہ ' ہے. روز اول سے بیشمار فلسفی، ان گنت منطق ساز، چوٹی کے مذہبی رہنما، بڑے بڑے شاعر اور  نمائندہ نثرنگار اس عنوان پر طبع آزمائی کرتے آئے ہیں لیکن مجھے یہ لکھنے کی اجازت دیجیۓکہ آج تک کسی نتیجہ ور متفق نہ ہوسکے. کہا جاتا ہے کہ اس موضوع کو جتنا سلجھایا جاۓ یہ اتنا ہی الجھتا جاتا ہے. جتنا اسے کھولنے کی سعی کی جاۓ اتنے ہی نئے سوالات وجود میں آجاتے ہیں.ہم مسلمانوں کیلئے یہ موضوع اس حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ تقدیر پر ایمان ان چھ ایمانیات میں سے ایک ہے جن کو ماننا مومن ہونے کی لازمی شرط ہے. آج سے چند برص قبل میں نے چاہا کہ دور حاضر کے بڑے علماء سے اس عنوان کے متعلق استفادہ حاصل کروں جیسے ڈاکٹر اسرار احمد ، پروفیسر احمد رفیق، اور جاوید احمد غامدی صاحب مگر سچ پوچھیں تو سب نے تشنہ چھوڑ دیا. اس عنوان پر غلام احمد پرویز صاحب کی ایک  کتاب بھی نظر سے گزری جو ایک عمدہ علمی کاوہ تھی. اسی طرح انگریزی میں کیونڈش پبلشنگ کی جانب سے فری ول پر ایک تحقیقی کتاب مرتب دی گئی جس نے کئی ذہنی الجھنوں کو دور کیا. قصہ مختصر کہ کافی ورق گردانی کے بعد میں اس تحریر کو لکھنے کی جسارت کررہا ہوں اس امید کیساتھ کہ اگر قارئین کے تمام اشکال دور نہ بھی کرپاؤں تو کم از کم اپنی سوجھ بوجھ یہاں درج کردوں

   تقدیر لفظ قدر سے وجود پزیر ہوا ہے جسکے معنی 'حدود یا اندازہ مقرر کرنے' کے ہیں اسی مادہ لفظ قدر سے اردو زبان کے اور بھی الفاظ زندگی پاۓ ہیں جیسے مقدار، مقدور، اقدار، قادر، معاشرتی قدریں وغیرہ ان تمام الفاظ میں حدود یا اندازے کی صفات پنہاں ہیں. سادہ الفاظ میں تقدیر درحقیقت مجموعہ ہے ان قوانین، اصولوں اور حدود کا جو اس کائنات کی ہر شے کو باندھے ہوۓ جکڑے ہوۓ ہیں. قدر کے یہی معانی قران حکیم کی اس آیت سے عیاں ہیں ٤٣:١١

قبر میں جزا و ثواب کی نوعیت کیا ہوگی ؟ اس بارے میں محققین کی مختلف آراء موجود ہیں. میں اس وقت انکا تقابلی جائزہ نہیں لوں گا بلکہ صرف اپنے تجزیہ سے آپ کو آگاہ کروں گا. پڑھنے والوں پر فرض ہے کہ وہ میری اس تحقیق کو ایک علمی کاوش سمجھیں اور اپنا نتیجہ خود قائم کریں.


============================================

قبر میں جزا و ثواب کی نوعیت کیا ہوگی ؟ اس بارے میں محققین کی مختلف آراء موجود ہیں. میں اس وقت انکا تقابلی جائزہ نہیں لوں گا بلکہ صرف اپنے تجزیہ سے آپ کو آگاہ کروں گا. پڑھنے والوں پر فرض ہے کہ وہ میری اس تحقیق کو ایک علمی کاوش سمجھیں اور اپنا نتیجہ خود قائم کریں.

سب سے پہلے تو تمہیدی طور پر یہ جان لیں کہ یقین کے تین درجے ہیں پہلا درجہ ہے علم الیقین - یعنی وہ یقین جو علمی استدلال سے حاصل ہو. اس دنیاوی زندگی میں ہم سے صرف علم الیقین ہی مطلوب ہے. دوسرا درجہ ہے عین الیقین - یعنی آنکھوں دیکھا یقین، یہ وہ یقین ہے جو عالم برزخ یعنی یعنی موت کے بعد قبر میں حاصل ہوگا. تیسرا اور اعلیٰ ترین درجہ حق الیقین کا ہے جو روز محشر یعنی قیامت کے بعد قائم ہوگا. علم الیقین چونکہ اس مادی دنیا میں مطلوب ہے لہٰذا اس میں ہمارے مادی یعنی جسمانی حواس غالب ہیں. قبر میں کیونکہ جسم مٹی ہوجانے ہیں تو یہاں ہمارا روحانی وجود یا روحانی حواس کا غلبہ ہے لہٰذا معاملات بھی عین الیقین سے متعلق ہیں. روز حساب ہمارے جسمانی اور روحانی دونوں حواس پوری طرح بیدار ہونگے تو یہاں حقیقت اپنے دونوں پہلوؤں سے سامنے آئے گی جسے حق الیقین سے تعبیر کیا گیا ہے.

قران حکیم کے بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیند اور موت میں ایک یقینی مشابہت موجود ہے. نیند اور موت جیسے دو بہنیں ہیں. قران کی سورہ الزمر میں درج ٤٢ آیت ملاحظہ ہو

خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں (نفوس) قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کرچکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

جس طرح نیند میں ہمارا شعور جزوی اور عارضی طور پر معطل ہوجاتا ہے اور جس طرح ہمارا لاشعور ہمارے خیالات کو خواب کی صورت میں تصویری خاکہ بنا دیتا ہے بلکل ویسے ہی موت میں اس سے ملتے جلتے لیکن کہیں زیادہ گہرے نفسی و روحانی تجربات پیش آیئنگے. اس بارے میں بابائے نفسیات فرائیڈ کی تحقیقات بھی قابل غور ہیں ، وہ کہتا ہے کہ خواب میں آپ کے جذبات و خیالات تصویری پیغام بن جاتے ہیں. انکی تعبیر بھی ہر شخص کے انفرادی تصورات کے مطابق جدا جدا ہوتی ہے. ایک مثال سے اسے سمجھتے ہیں، اگر بلی میرا پسندیدہ جانور ہے اور آپ بلی سے خوف کھاتے ہیں تو میرے خواب میں بلی کا نظر آنا محبت کا اشارہ ہوسکتا ہے ، اسکے برعکس آپ کے خواب میں بلی کا نظر آنا خوف کی علامت ہوسکتا ہے. ہر خوابیدہ تصویر کی تعبیر کے پیچھے اس سے متعلق تصورات وابستہ ہوتے ہیں.

اب جب ہم اسی تحقیق کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جن میں احوال قبر بیان ہوئے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی نماز یا نیک اعمال اسکے سامنے ایک خوبصورت چہرے والے انسان کے روپ میں ظاہر ہونگے. اسی طرح ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے پیچھے بھاگنے والے کے سامنے دنیا ایک بدصورت بڑھیا کی صورت میں نمودار ہوگی. اسی رعایت سے یہ بہت ممکن ہے کہ حسد اور کینہ سانپ بچھو بن کر عذاب کا بائث بن جاۓ. مگر یہ سب احوال روحانی سطح پر ہونگے. عذاب قبر سے متعلق موجود تمام احادیث غالباً اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں. اس کے لئے عالم برزخ کی اصطلاح رائج ہے. یعنی یہ ایک علیحدہ روحانی عالم ہے ، یہ لفظ برزخ دراصل 'پردہ ' کا متبادل ہے اور اُس حد فاصل کے لیے استعمال ہوا ہے ، جہاں مرنے والے قیامت تک رہیں گے۔یہ گویا ایک روکاٹ ہے جو اُنہیں واپس آنے نہیں دیتی ۔ " 'من ورائھم برزخ الی یوم یبعثون " '( اُنکے آگے ایک پردہ ہے اُس دن تک کے لیے،جب وہ اُٹھائے جائیں گے) (المومنون٢٣: ١٠٠) ۔ اسے صرف قبر کے گڑھے تک محدود رکھنا شائد درست نہ ہو. ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو قبر میسر ہی نہیں ہوتی ، بعض پانی میں ڈوب جاتے ہیں، بعض کو جنگلی درندے کھا جاتے ہیں، بعض کو جلادیا جاتا ہےاور وہ جنہیں قبر میسر آجائے ، انکے اجسام کو بھی ایک وقت بعد کیڑے کھا جاتے ہیں اور ان کیڑوں کو بھی دوسرے کیڑے کھا جاتے ہیں لہٰذا قبر میں جسمانی سطح پر جزا و ثواب کا نظریہ ایک مشکل نظریہ ہے. حد سے حد یہ کہا جاسکتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی روح کا کوئی نہ کوئی تعلق جسم کہ ذرات سے باقی رہتا ہے مگر جزا و ثواب کے احوال اسکی روح پر ہی وارد ہوتے ہیں. غور کریں تو یہی معاملہ ہمیں خواب میں بھی درپیش آتا ہے، مثال کے طور پر آپ خواب میں دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص آپ کے پیچھے خنجر لئے دوڑ رہا ہے یا آپ کے پیچھے بھیانک کتے لگے ہوئے ہیں اور آپ ان سے بچنے کی خاطر سرپٹ دوڑ رہے ہیں، اچانک آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ .سارا جسم پسینہ میں شرابور ہے، سانس تیز تیز چل رہی ہے اور خوف سے دل بھی زور زور دھڑک رہا ہے . حالانکہ نہ تو حقیقت میں کوئی آپ کے پیچھے بھاگ رہا تھا اور نہ ہی آپ کسی سے بچ رہے تھے. اس سے تین اہم باتیں ثابت ہوتی ہیں پہلی یہ کہ اصل تکلیف یا فرحت روح محسوس کرتی ہے، دوسری یہ کہ روح پر گزرے احوال آپ کے جسم پر بھی اثرات مرتب کرتے ہیں اور تیسری یہ کہ خواب کے دوران آپ خواب ہی کو اصل حقیقت تسلیم کرتے ہیں. برزخ میں بھی جو فرحت و عذاب آپ کی اصل نفسانی شخصیت یعنی روح پر وارد ہونگے اس کا احساس  بلکل حقیقی محسوس ہوگا ، یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا جسم جو شائد ذرات کی صورت میں کہیں موجود ہو وہ بھی ایک نامعلوم تعلق کی بنیاد پر اس اثر کو محسوس کرے مگر وہ تعلق کتنا مظبوط ہے؟ ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا وہ وقتاً فوقتاً کمزور ہوتا جاتا ہے؟ ان سب باتوں سے قطع نظر حقیقی معاملہ دراصل روح ہی کو پیش ہوگا اور قبر کی شکل یا ان میں سوال و جواب بھی شائد تمثیلی روحانی سطح پر ہی ہونگے البتہ روح اپنے جسم سے انسیت کے باعث اس سے ایک غیبی تعلق برقرار رکھے گی

شائد اسی بنیاد پر احادیث میں یہ آتا ہے کہ منکر و نکیر فرشتوں کے سوالات کے بعد قبر میں جنت یا جہنم کی کھڑکی کھول دی جاۓ گی جس میں صاحب قبر اپنے ٹھکانے کا شب و روز مشاھدہ کرے گا. قبر کو خوب کشادہ کر دیا جاۓ گا یا نہایت تنگ. یہاں قبر سے مراد میرے نزدیک برزخی یعنی روحانی قبر ہے جسکا تعلق اس مادی قبر سے انس کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے. ہم اپنی سمجھ کی آسانی کیلئے اصحاب قبر کو تین گروہ میں کرکے دیکھ سکتے ہیں. پہلے وہ جو سرکش تھے، دوسرے وہ جو نیک و پارسا تھے اور تیسرے وہ جن کی زندگی گناہ و ثواب دونوں میں گڈمڈ گزری. 

قرآن سے یہ بات  واضع ہوتی ہے کہ جن لوگوں کا معاملہ اِس پہلو سے بالکل واضح ہوگا کہ وہ سرکشی اور تکبر سے جھٹلانے والے اور اپنے پروردگار کے کھلے نافرمان تھے یا ہونگے ۔ اُن کے لیے ایک نوعیت کا عذاب بھی اِسی عالم برزخ میں شروع ہوجائے گا۔ اسی مشاہدے کی دلیل ہمیں قران پاک کی سورۂ مومن (غافر) میں ملتی ہے جہاں فرمایا :
وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَاب
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَاب

فرعون والوں کو برے عذاب نے گھیر لیا ، صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن تو فرعون والوں کے لئے کہا جائے گا ان کو سخت عذاب میں لے جاؤ۔
( غافر:40 - آيت:45-46 )

یعنی صاف ظاہر ہے کہ آل فرعون پر قبر میں عذاب اسی صورت میں ہوتا ہے کہ انہیں انکا ٹھکانہ دکھایا جاتا رہتا ہے جسے دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور روز آخر انہیں اس عذاب میں حقیقی طور پر داخل کردیا جاۓ گا

قرآن کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا معاملہ اِس پہلو سے بالکل واضح ہوگا کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے لیے درجہ کمال میں وفاداری کا حق ادا کیا ہے اور کرنے والے ہیں ۔ اُن کے لیے ایک نوعیت کا ثواب اِسی عالم میں شروع ہوجائے گا ۔قرآن کے مطابق اِس کی مثال وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اپنے پروردگار کے حکم پر اُس کے دشمنوں سے جنگ کی اور پھر شہید ہوگئے۔قرآن کا ارشاد ہے کہ وہ زندہ ہیں،اور اپنے پروردگا کی عنایتوں سے بہرہ یاب ہورہے ہیں(آل عمران٣: ١٦٩-١٧١) ۔

ان دو انتہاؤں کے بیچ بیچ جو افراد ہونگے ، جن کے گناہ و ثواب دونوں بکثرت موجود ہوں ایسے افراد کے لئے جنت و جہنم دونوں امکانات کا مشاہدہ رکھا جاۓ گا اور انکا حتمی اعلان آخرت میں حساب و کتاب سے ہی واضح ہو پاۓ گا. ان پر ایک طرح کی نیند طاری رہے گی جس میں یہ خوابیدہ مشاہدہ مختلف شعوری سطح پر کرتے رہے گے. یہ زندگی چونکہ جسم کے بغیر ہوگی لہٰذا روح کے شعور،احساس اور مشاہدات وتجربات کی کیفیت اِس زندگی میں کم وبیش وہی ہوگی جو خواب کی حالت میں ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ قیامت کے صور سے یہ خواب ٹوٹ جائے گا، روح کو جسم سے پھر جوڑا جاۓ گا اور مجرمین اپنے آپ کو یکایک میدان حشر میں جسم و روح کے ساتھ زندہ پاکر کہیں گے: 'یویلنا من بعثنا من مرقدنا ۔ '(ہائے ہماری بد بختی ،یہ ہماری خواب گاہوں سے ہمیں کون اُٹھالایا ہے) (یس٣٦: ٥٢)۔

یہ وہ مختصر روداد ہے جو احوال قبر کے بارے میں مرے نقطہ نظر کو بیان کرتی ہے. میری پھر استدعا ہے کہ اسے محض ایک علمی کاوش سمجھا جاۓ اور کوئی بھی نتیجہ انفرادی تحقیق کے بعد قائم کیا جاۓ. الله رب العزت ہم سب کو اپنے دین کی ٹھیک سمجھ اور اچھا عمل عطا کرے. آمین.

واللہ و عالم بلصواب

====عظیم نامہ====



Saturday, 16 February 2013

لونڈیوں کو خریدتے ہوئے جسمانی جانچ

لونڈیوں کو خریدتے ہوئے جسمانی جانچ پرکھ کا سوال
(تحریر کافی طویل ہو گئی، لیکن ناگزیر تھا)
لونڈیوں کی بحث سے متعلق یوں تو بہت سے فکری، فقہی اور سماجی پہلو قابل غور ہیں اور مختلف پہلووں پر وقتاً فوقتاً بات بھی ہوتی رہے گی، لیکن پیش کردہ بعض تفصیلات سے چونکہ کافی لوگوں کا ’’ایمان‘‘ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے، اس لیے باقی پہلووں کو موخر کرتے ہوئے سردست اس ایک پہلو پر معروضات پیش کی جا رہی ہیں جو ’’ایمان‘‘ کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے، یعنی لونڈیوں کو خریدتے ہوئے ان کی Physical Inspection کا پہلو۔ ظاہر ہے، جدید ذہن کے زاویہ نظر سے اس میں لونڈی کی تذلیل اور اس کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا پہلو نمایاں ہے اور یہ باور کرنا مشکل محسوس ہو رہا ہے کہ اسلام، جو عورت کو شرف وعزت بخشنے کا دعویدار ہے، کیونکر اس چیز کو روا رکھ سکتا ہے۔
میرے نزدیک اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے humanistic idealism کے بجائے سماجی پیچیدگیوں اور قانون کی محدودیتوں کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے اور یہ زاویہ اس بحث میں کوئی نیا زاویہ نہیں ہوگا، بلکہ آج ہم جس زاویہ نظر سے قدیم معاشروں میں غلامی کے پورے ادارے کا جواز تسلیم کرتے ہیں، اس میں یہ زاویہ پہلے سے موجود اور مسلم ہے۔ اگر جدید تصور کے مطابق شرف انسانی کے معیارات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو غلامی کا تصور ہی غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہے، لیکن ہم اس دور کی سماجی ضرورتوں اور مجبوریوں کے تناظر میں اس کے جواز کو قبول کرتے ہیں۔ یہاں پیش نظر رکھنے کا نکتہ یہ ہے کہ جب آپ کسی مخصوص سماجی تناظر میں کسی چیز کا قانونی اور اخلاقی جواز تسلیم کر لیتے ہیں تو اس کے ساتھ وابستہ تمام تر مضمرات اور عملی نتائج کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ نفس تصور پر تو سمجھوتہ کر لیں، لیکن اس کے بعد اس سے جڑے ہوئے مضمرات ولوازم کو قبول نہ کریں۔ آپ کو قبول نہیں کرنا تو پہلے ہی مرحلے پر نفس تصور کو غیر اخلاقی قرار دے کر رَد کر دیں، لیکن نفس تصور کا قانونی جواز کسی بھی درجے میں قبول کرنے کے بعد اس کے لوازم کی نفی کرنا غیر منطقی بھی ہوگا اور عملاً اس جواز کی نفی کے بھی مترادف ہوگا جسے اصولاً قبول کیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر ہم نے یہ قبول کر لیا کہ ایک انسان کا کسی بھی سماجی ضرورت کے تحت کسی دوسرے انسان کی ملکیت قرار پانا قانونی طور پر جائز ہے۔ یہ مانتے ہی کچھ قانونی اور عملی نتیجے خود بخود مرتب ہونا شروع ہو جائیں گے اور ہمیں وہ نتیجے جتنے بھی ناپسند ہوں، انھیں قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ ایسا شخص اپنے بہت سے ایسے معاشرتی حقوق کھو دے گا اور ان بہت سی آزادیوں سے محروم ہو جائے گا جو معاشرے کے آزاد افراد کو حاصل ہیں۔ اس کی حیثیت معاشرے کے ایک دوسرے درجے کے فرد کی ہوگی جو کسی بھی لحاظ سے اپنے مالک اور اس کے ہم مرتبہ افراد کی برابری کا خواب نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اپنی ذات پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اس کا مالک اسے جب چاہے اور جس کے ہاتھ چاہے، بیچ سکتا ہے۔ وہ اپنے مالک کی رضامندی کے بغیر شادی بیاہ تو درکنار، کہیں سیر وتفریح کے لیے بھی نہیں جا سکتا۔ اس کی کوئی ذاتی ملکیت نہیں ہو سکتی۔ جو کچھ اسے دیا جائے گا یا وہ اپنی محنت سے کمائے گا، وہ اس کے مالک کی ملکیت ہوگا۔ اب یہ تمام چیزیں جتنی بھی ناخوش کن اور انسانی شرف ووقار کے منافی لگیں، ان کی نفی نہیں کی جا سکتی، اس لیے کہ یہ ’’ملکیت‘‘ کے تصور کے ساتھ لازم وملزوم ہیں۔ اگر ملکیت ہے تو یہ سب چیزیں بھی ہیں۔ اگر یہ لوازم قابل قبول نہیں تو اس کے لیے نفس ملکیت کی نفی اور عدم جواز مانے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجو دنہیں۔
یہی معاملہ باندی کا ہے۔ اگر آپ نے ایک دفعہ اس کے ’’مملوک‘‘ ہونے کے تصور کو قبول کر لیا ہے تو آپ مجبور ہیں کہ اس ملکیت پر مرتب ہونے والے تمام قانونی نتائج کو قبول کریں۔ ملکیت کو مان لینے کے بعد اس کے لوازم ونتائج سے اس بنیاد پر چھٹکارا نہیں مل سکتا کہ وہ شرف انسانی کے تصور کو گراں گزارتے ہیں۔ مثلاً ملکیت کے بعد، مالک کا یہ حق ماننا ناگزیر ہے کہ وہ اس سے جسمانی استمتاع کرے۔ اگر آپ کو یہ برا لگتاہے تو آپ پہلے ملکیت کے تصور کی نفی کریں۔ ملکیت کے تصور کو مان کر حق استمتاع کو نہ ماننا (جیسا کہ ہمارے دور کے بعض مفکرین نے یہ تصوراتی اعجوبہ پیش کیا ہے) ایک داخلی تضاد کی حامل بات ہے۔ اسی پر باقی لوازم کو بھی قیاس کر لیں۔ مالک کو باندی سے حق استمتاع بر بنائے ملکیت حاصل ہے تو مقاربت سے بچے کے ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ بھی مالک کرے گا۔ باندی یہ مطالبہ نہیں کر سکتی کہ بچہ پیدا کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ اسی طرح اگر ایک مالک کی ملکیت میں باندی کا نکاح کسی شخص سے کر دیا گیا تو اس نکاح کا برقرار رہنا بھی سر تا سر مالک کے اختیار پر منحصر ہے۔ وہ آج باندی کو کسی دوسرے شخص کے ہاتھ بیچنے کا فیصلہ کر لے تو نئے مالک کی ملکیت میں جاتے ہی اس کا نکاح شوہر سے فسخ ہو جائے گا، چاہے باندی اپنے شوہر کے ساتھ کتنی ہی خوش کیوں نہ ہو، کیونکہ نئے مالک نے بھی اسے استمتاع ہی کی غرض سے خریدا ہے اور اس کا حق باندی اور اس کے شوہر، دونوں سے مقدم ہے۔ یہ اور اس نوعیت کے دیگر بہت سے امور، جیسا کہ عرض کیا گیا، ملکیت کے تصور کے لازمی اور منطقی نتائج ہیں جن سے کوئی راہ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی۔
اب آتے ہیں اصل سوال، یعنی باندی کو خریدتے ہوئے اس کی جسمانی جانچ پرکھ کی طرف۔ غور فرمائیے، اگر باندی کا ’’مملوک‘‘ ہونا درست ہے اور مالک کا اس سے جسمانی استمتاع کرنا ملکیت کا لازمی تقاضا اور گویا باندی کو خریدنے کا ایک بنیادی مقصد ہے تو بتائیے، کس اصول کے تحت خریدار کو منع کیا جا سکتا ہے کہ وہ خریدنے سے پہلے باندی کے ان جسمانی پہلووں کی تحقیق نہ کرے جو کہ اس کی غرض سے براہ راست متعلق ہیں؟ اگر یہ باندیوں کی عزت نفس کے منافی ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں تو کیا آج ایک، کل دوسر ے اور پرسوں تیسرے مالک کے ہاتھوں میں گردش کرنا اور باری باری ان سب کے تلذذ کا سامان بنتے رہنا عزت نفس اور شرف انسانی کے مطابق ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں، لیکن ہم نتائج کو قبول کرتے ہیں، اس لیے کہ حق ملکیت کو ماننا دراصل ان تمام ناگوار اور ناخوش کن نتائج کو بھی ماننا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس حد تک نکاح کے لیے عورت کا انتخاب کرتے ہوئے اس کا ظاہری جائزہ لیا جاتا ہے، اسی حد تک باندیوں کا بھی جائز ہونا چاہیے، اس سے زیادہ نہیں۔ لیکن یہاں ہم بھول رہے ہیں کہ معاشرتی مقام اور احترام کے پہلو سے ہم آزاد عورت اور باندی کا فرق پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں۔ عورت کا انتخاب اس کی آزادانہ مرضی سے ایک معاہدے کے تحت ہوتا ہے، جبکہ باندی کی خریداری اس کی مرضی کے بغیر ایک ’’سامان‘‘ کے طور پر کی جاتی تھی۔
یہاں بات کی تفہیم کے لیے ایک نامناسب مثال دینا بھی شاید مناسب ہوگا۔ جدید مغربی معاشروں میں عورت کا یہ قانونی حق تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ جسم فروشی کرے۔ شرف انسانی کے لحاظ سے اس کا جو بھی درجہ متعین کیا جائے، اپنے اسباب کے تحت مغربی قانون اس کو ایک جائز قانونی حق قرار دیتا ہے۔ اب فرض کیجیے، کسی شخص کو جنسی تلذذ کے لیے کسی عورت کے ساتھ معاملہ کرنا ہے تو کیا عرف وقانون کی رو سے ’’خریدار‘‘ کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ معاملے کی ضروریات کے لحاظ سے عورت کے جسمانی خصائص کا جائزہ لے؟ اس کے لیے مغربی قوانین میں عملاً کیا ضابطہ ہائے اخلاق وضع کیے گئے ہیں، مجھے نہیں معلوم (شاید انعام رانا اس پر روشنی ڈال سکیں)، لیکن خریدار کو اس حق کا حاصل ہونا کامن سینس کی بات ہے۔ باندی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ جسم فروشی کرنے والی عورت، مرد کو جنسی عمل کا اختیار بھی اپنی مرضی سے دیتی ہے اور اس سے پہلے جسمانی جائزہ لینے کا بھی، جبکہ باندی، مالک کا بستر گرم کرنے کے لیے بھی مجبور ہے اور ملکیت میں آنے سے پہلے خود کو جسمانی جائزہ کے لیے پیش کرنے پر بھی مجبور ہے۔
تاریخ کی کیسی ستم ظریفی ہے کہ باندی اپنی ’’مجبوریوں‘‘ پر مجبور ہے اور معاشرتی قانون (چاہے وہ اسلام کا ہو یا کسی اور مذہب کا) اس کی ان ’’مجبوریوں‘‘ کو قانونی جواز دینے پر مجبور۔
ہذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم

Thursday, 24 January 2013

کتے کی جبلت کیا ہے



’’کتے کی جبلت کیا ہے؟
حرص و آز، چلتے پھرتے اس کی ناک زمین سونگھنے ہی میں لگی رہتی ہے کہ شاید کہیں سے بوئے طعام آجائے۔ اسے پتھرماریں تب بھی اس کی توقع دور نہیں ہوتی کہ شاید یہ چیز جو پھینکی گئی ہے کوئی ہڈی یا روٹی کا ٹکڑا ہو۔
پیٹ کا بندہ تو ایک دفعہ لپک کر اس کو بھی دانتوں سے پکڑ ہی لیتا ہے۔ اس سے بے اتفاقی کیجئے تب بھی وہ لالچ کا مارا ، توقعات کی ایک دنیا دل میں لئے ، زبان نکالے ہانپتا کانپتا کھڑا ہی رہے گا۔
ساری دنیا کو وہ بس پیٹ ہی کی نگاہ سے دیکھتا ہے، کہیں کوئی بڑی سی لاش پڑی ہو، جو کئی کتوں کے کھانے کو کافی ہو، تو ایک کتا اس میں سے صرف اپنا حصہ لینے پر اکتفا نہ کرے گا بلکہ اسے صرف اپنے ہی لیے مخصوص رکھنا چاہے گا اور کسی دوسرے کتے کو اس کے پاس نہ بھٹکنے دے گا۔
اس شہوت شکم کے بعد اگر اس پر کوئی چیز غالب ہے تو وہ ہے شہوت فرج۔ اپنے سارے جسم میں صرف شرمگاہ ہی وہ چیز ہے جس سے وہ دلچسپی رکھتا ہے اور اس کو سونگھنے اور چاٹنے میں مشغول رہتا ہے۔
پس تشبیہ کا مدعا یہ ہے کہ دنیاپرست آدمی جب علم اور ایمان کی رسی توڑ کر بھاگتا ہے اور نفس کی اندھی خواہشات کے ہاتھ میںے اپنی باگیں دے دیتا ہے تو پھر کتے کی حالت کو پہنچے بغیر نہیں رہتا، ہمہ تن پیٹ اورہمہ تن شرمگاہ۔''
مولانا مودودی علیہ الرحمہ
(تفہیم القرآن صفحات: 101-102، جلد دوم)

Wednesday, 23 January 2013

نکاح مسیار

نکاح مسیار
----------
نکاح مسیار کے بارے وضاحت رہے کہ اس نکاح میں نکاح کے چاروں ارکان اورشرائط پوری ہوتی ہیں۔۱- نکاح مسیار میں لڑکی کے ولی کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ اس کے جواز کا فتوی دینے والے کہتے ہیں۔ ۲۔ دوسرا گواہان موجود ہوتے ہیں اور اس نکاح کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے۔ ۳۔ تیسرا نکاح میں لڑکی کے لیے با قاعدہ حق مہر موجود ہوتا ہے۔۴۔ اور چوتھی چیز یہ کہ ایجاب وقبول بھی ہوتا ہے اور یہ موقت نہیں ہوتا یعنی ہمیشہ کے لیے نکاح ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پھر نکاح مسیار اور عام نکاح میں کیا فرق ہے کہ اس بارے اتنا اختلاف ہو گیا۔ فرق یہ ہے کہ عام نکاح میں مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کو رہائش، خرچہ اور وقت دے جبکہ نکاح مسیار میں مرد شادی کے وقت یہ شرط لگاتا ہے کہ وہ بیوی کو رہائش نہیں دے گا، یا خرچہ نہیں دے گا، یا وقت نہیں دے گا، یا ان میں سے دو یا تین چیزوں کی ہی شرط لگا لے کہ وہ یہ نہ دے گا۔
علماء کے مابین اس پر تو اتفاق ہے کہ رہائش، خرچہ اور وقت عورت کے شرعی حقوق ہیں لیکن اس میں اختلاف ہو گیا کہ کیا عورت اپنے ان حقوق کو معاف کر سکتی ہے؟ یعنی مرد اگر عورت سے شادی کے موقع پر یہ کہے کہ میں ان حقوق کو ادا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا لہذا تم مجھے یہ حقوق معاف کر دو اور شادی کے موقع پر اس کا معاہدہ ہو جائے تو کیا اس طرح سے یہ حقوق معاف ہو جاتے ہیں یا پھر بھی باقی رہتے ہیں؟
نکاح مسیار کے بارے علماء اہل سنت کی تین رائے ہیں۔ بعض اس کے جواز کے قائل ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مکروہ ہے لیکن ہو جاتا ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ جائز ہی نہیں ہے۔ اس کی ایک صورت ہمارے معاشروں میں گھر جوائی کی بھی ہو سکتی ہے۔ یا شادی کے بعد لڑکی کا خرچہ اس کے والدین اٹھائیں، یا لڑکی کو گھر اس کے والدین بنا کر دیں وغیرہ۔ ایک تو یہ ہے کہ یہ عملا ہمارے معاشروں میں ہو رہا ہے، اور ایک یہ ہے کہ کیا نکاح کے موقع پر مرد کی طرف سے اس کی شرط لگائی جا سکتی ہے؟
جن علماء نے اس کی اجازت دی ہے، ان میں سابق مفتی سعودی عرب شیخ بن باز، شیخ عبد العزیز آل الشیخ اور سابق مفتی مصر شیخ نصر فرید واصل وغیرہ ہیں۔ ان کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شرائط کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے کہ جو نکاح کے موقع پر لگائی جائیں۔ اور یہ بھی کہ حضرت سودۃ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں چھوڑ دی تھی وغیرہ۔
جو علماء نکاح مسیار کو مکروہ کہتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ ہو جاتا ہے تو ان میں ڈاکٹر وہبہ الزحیلی، ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور شیخ عبد اللہ بن منیع وغیرہ شامل ہیں۔ ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ اس نکاح میں شادی کی جو مصالح ہیں، وہ پوری نہیں ہوتیں لہذا مکروہ ہے اور حرام اس لیے نہیں کہتے ہیں کہ اس میں کچھ ایسا مفقود نہیں ہے جو نکاح کے ارکان اور شروط میں شامل ہو۔
اور جن علماء نے نکاح مسیار کو ناجائز کہا ہے تو ان میں علامہ البانی، ڈاکٹر علی قرۃ داغی اور ڈاکٹر سلیمان الاشقر وغیرہ شامل ہیں کہ ان کے نزدیک یہ وہ نکاح نہیں ہے کہ جسے اسلام نے متعارف کروایا یا رواج دیا ہے۔
نکاح متعہ اور نکاح مسیار میں فرق یہ ہے کہ متعہ ایک وقتی نکاح ہے جبکہ نکاح مسیار دائمی نکاح ہوتا ہے۔ نکاح متعہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی جبکہ نکاح مسیار میں وارثت جاری ہوتی ہے۔ متعہ میں طلاق نہیں ہوتی کہ وقت ختم ہوتے ہی نکاح ختم ہو جاتا ہے جبکہ نکاح مسیار میں طلاق ہوتی ہے۔ نکاح متعہ میں تعداد مقرر نہیں ہے یعنی ستر سے بھی ہو سکتا ہے جبکہ نکاح مسیار چار سے زائد سے نہیں ہو سکتا۔ متعہ میں لڑکی کے ولی اور گواہان کا ہونا ضروری نہیں ہے جبکہ نکاح مسیار میں ولی اور گواہاں کا ہونا ضروری ہے۔
نوٹ: بہر حال یہ علماء کا اختلاف ہے جو ہم نے اس بارے نقل کر دیا ہے، البتہ نکاح مسیار کو کسی طور بھی پسندیدہ امر نہیں کہا جا سکتا کہ رہائش، خرچہ اور وقت عورت کے حقوق ہیں کہ جنہیں مرد کو ادا کرنا ہی چاہیے، چاہے عورت انہیں چھوڑنے پر راضی ہی کیوں نہ ہو۔ واللہ اعلم۔

لیزلی ہیزلٹن سیرتِ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم

لیزلی ہیزلٹن امریکی نژاد برطانوی مصنفہ ہیں, مذاہب اور ان کے سیاسی و سماجی اثرات پہ لکھتی ہیں, عیسائیت اور اسلام پہ بہت سی کتابوں کی مصنف ہیں, نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ "The First Muslim" کے نام سے ان کی ایک کتاب بہت مقبول ہوئی...اسی پہ TED کے فورم پہ انہوں نے ایک لیکچر دیا جس کا ناقص سا ترجمہ پیشِ خدمت ہے- ترجمہ ہرگز میرا میدان نہیں اور جہاں آپ کو بے ربطگی یا تشنگی کا احساس ہو اسے میرا قصور سمجھئے گا- اصل میں سیرتِ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وہ گوشہ ہے جس پہ ہم مسلمانوں نے کبھی اس انداز سے غور نہیں کیا, اس لئے اسے سن کر آپ تک پہنچائے بنا رہا نہیں گیا-
"شک...جو ایمان کے لئے ضروری ہے"
کسی کی داستانِ حیات لکھنا مشکل کام ہے- یہ ایک انجان منزلوں کا سفر ہے جو آپ کسی اور کی زندگی میں کر رہے ہوتے ہیں, وہ منزلیں جو آپ کے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ رکھی ہوتیں, وہ منزلیں جہاں جا کر بھی آپ کو یقین نہیں آتا کہ آپ وہاں جا چکے ہیں, خصوصا" اس صورت میں جب لکھنے والا مجھ جیسا لادین یہودی ہو اور جس ہستی کی داستانِ حیات لکھی جارہی ہو, وہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہو-
مثلا پانچ سال قبل, ہر روز صبح آنکھ کھلتے ہی میرے ذہن میں ایک ناممکن سا سوال جنم لیتا- آدھی دنیا اور تقریبا آدھی تاریخ پہلے صحرا کی اس رات کیا ہوا تھا؟ یعنی 610 عیسوی کی اس رات جب محمد ص پہ ایک غار میں پہلی مرتبہ قرآن کی وحی نازل ہوئی تھی, آخر کیا ہوا تھا؟ یہ اسلام کی بنیادی ترین اور پراسرارترین گھڑی ہے اور شاید اسی لئے اس کا کوئی منطقی تجزیہ ممکن نہیں- اس کے باوجود یہ سوال میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا- میں جانتی تھی کہ مجھ جیسے سیکولر انسان کی طرف سے یہ سوال پوچھنا بھی گستاخی سمجھی جائے گی- اور میں اس جرم کا اعتراف کرتی ہوں, کیونکہ میرے خیال میں ہر طبعی یا ذہنی دریافت بہرحال ایک قسم کی گستاخی, ایک حدود سے تجاوز کا نتیجہ ہی ہوا کرتی ہے- مگر کچھ حدود باقیوں سے زیادہ حساس ہوا کرتی ہیں, اور جیسا کہ مسلمان سمجھتے ہیں محمد کا اس روز اللہ سے (بالواسطہ) رابطہ ہونا, حقیقت پسندوں کیلئے ایک فسانہ ہی ہے- اور میں بھی اس وقت تک خود کو حقیقت پسند ہی سمجھتی تھی-
شاید یہی وجہ ہے کہ جب میں نے ان قدیم روایات کا مطالعہ کیا جن میں اس رات کے واقعات کا تذکرہ ہے تو میرے لئے سب سے زیادہ حیران کن وہ واقعات نہیں تھے جو پیش آئے, بلکہ وہ واقعات تھے جو پیش نہیں آئے- محمد ص پہاڑ سے ہواؤں میں تیرتے ہوئے نہیں اترے- انہوں نے اللہ کی حمد یا کبریائی کے نعرے نہیں بلند کئے- ان سے روشنی یا مسرت نہیں پھوٹ رہی تھی- نہ کوئی نغمے فضاؤں میں بلند ہوئے, نہ کوئی موسیقی بجی, نہ کوئی سنہری ہالہ ان کے گرد چھایا, نہ کوئی لطف و انبساط کی کیفیت, نہ ہی اپنے اللہ کا نبی ہونے کا اعتماد و غرور- میرے کہنے کا مطلب یہ کہ انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا, جس سے اس واقعے کو غیرحقیقی یا مقدس تخیل کی پیداوار قرار دے دینا آسان ہوجاتا- اس کے بالکل برعکس ہوا- آپ ص کے اپنے بیان کردہ الفاظ کے مطابق, آپ کو یقین تھا کہ جو کچھ پیش آیا وہ حقیقت نہیں ہے- آپ کو لگا کہ یہ آپ کا واہمہ ہے, بصارت یا سماعت کا دھوکا, آپ کا اپنا ذہن آپ کو فریب دے رہا تھا- یا پھر اس سے بھی برا...کہ آپ پہ کسی جن, کسی بری طاقت کا قبضہ ہوگیا ہو- حقیقت میں انہیں اس آخری خیال کا اس حد تک یقین تھا اور اس نے انہیں اس حد تک پریشان کیا کہ انہوں نے یہاں تک سوچ لیا کہ پہاڑ سے خود کو گرا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا جائے-
تو جو ہستی پہاڑ سے نیچے اتری, وہ خوشی سے نہیں بلکہ ایک گھمبیر اور قدیم خوف سے کپکپا رہی تھی- وہ یقین سے نہیں بلکہ شک سے مغلوب تھی- اور یہ تکلیف دہ بے سمتی کا احساس, یہ ہر مانوس چیز سے ہٹ کر تجربہ, یہ انسانی فہم سے ماورا شے کی خوفزدہ کر دینے والی آگاہی....اسے ایک خوفناک حیرانی کہا جا سکتا ہے- آج کل ہم Awesome کا لفظ کمپیوٹر ایپس اور وائرل وڈیوز کیلئے استعمال کرتے ہیں اور زلزلے کے علاوہ شاید ہی ہمیں کوئی ایسا تجربہ ہو جو ہمیں بتا سکے کہ Awe ہوتی کیا ہے, اس لئے آج شاید اس لفظ کا مفہوم سمجھنا لوگوں کیلئے مشکل ہے- ہم اپنے دروازے بند کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم محفوظ ہیں اور ہر چیز ہمارے قابو میں ہے- ہم یہ بھلا دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے فہم سے ماورا ہیں-
مگر پھر بھی خواہ آپ ایک حقیقت پسند ہیں یا پراسراریت پہ یقین رکھنے والے, خواہ آپ اس رات جو الفاظ محمد ص نے سنے انہیں ان کے تخیل کا کرشمہ سمجھیں یا کسی بیرونی طاقت کی آواز, جو بات واضح ہے وہ یہ کہ انہیں واقعی یہ تجربہ ہوا, اور اس قدر طاقت سے ہوا کہ جس نے انہیں اور ان کے اردگرد کی دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا اور ایک شرمیلا سا انسان سماجی و اقتصادی انقلاب کا انقلابی وکیل بن کر ابھرا- بلاشبہ خوف ان کا پہلا ردعمل تھا اور یہی واحد فطری ردعمل ہو سکتا تھا, واحد انسانی ردعمل-
کچھ لوگوں جیسا کہ قدامت پسند مسلمان علماء کے نزدیک شاید یہ ردعمل ضرورت سے زیادہ انسانی ہے, کیونکہ وہ آپ ص کے اپنی جان لینے کا ارادہ رکھنے کا ذکر بھی کیا جانا پسند نہیں کرتے, حالانکہ یہ ابتدائی روایات میں محفوظ ہے- وہ اصرار کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک لمحے کیلئے بھی شک نہیں ہوا تھا, افسردگی یا مایوسی تو رہی دور کی بات- کاملیت چاہتے ہوئے وہ انسانی نفسیات کو نظرانداز کر دیتے ہیں- مگر آخر اس میں غیر کامل کیا ہے؟ میں نے جب وہ واقعات پڑھے تو مجھے احساس ہوا کہ محمد ص کا وہ شک ہی تھا جس نے میرے سامنے انہیں زندہ جاوید کر دیا, مجھے انہیں مکمل طور پہ دیکھنے کا موقع دیا اور مجھے ان کی سچائی پہ اعتبار دیا- اور جتنا میں سوچتی چلی گئی اتنا ہی ان کے شک کرنے کی مجھے سمجھ آتی چلی گئی کیونکہ شک ایمان کا لازمی جزو ہے-
شک, ایمان کا حصہ ہے...یہ خیال شاید آپ کو بہت عجیب لگے, مگر جیسا کہ گراہم گرین نے کہا تھا, ہر چیز کی اصل شک ہے- شک نکال دیجئے, اور پیچھے جو بچے گا وہ ایمان نہیں بلکہ ایک مطلق, جذبات سے عاری عقیدہ ہوگا- آپ یقین رکھتے ہیں کہ آپ ہی حقیقتِ مطلق سے واقف ہیں اور آپ کا یہ یقین فورا عقائد و نظریات میں ڈھل جاتا ہے, اور خود راستی میں- خود راستی سے میری مراد اپنے درست ہونے کا دکھائی دینے والا, مغرورانہ رویہ ہے جسے آپ مختصرا وہ غرور کہہ سکتے ہیں جو شدت پسندی میں ہوا کرتا ہے-
تاریخ کی ستم ظریفیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عیسائیت اور اسلام دونوں میں بنیاد پرستوں نے اپنے مخالفین کو قتل کرنے کیلئے کافر کا لفظ استعمال کیا- مزید ستم ظریفی اس میں یہ ہے کہ ان کا یہ مطلقانہ رویہ بجائے خود ان کے مذہب کی نفی ہے, وہ خود گویا کافر ہیں- ان کے پاس سوال نہیں صرف جواب ہوا کرتے ہیں, دیگر تمام مذاہب کے شدت پسندوں کی طرح- انہوں نے سوچ اور ایمان کی سخت آزمائشوں کا تریاق دریافت کر لیا ہے- انہیں یعقوب کی طرح تمام رات جنگ لڑنے کی, موسٰی کی طرح چالیس دن اور رات ویرانوں میں بھٹکنے کی, یا محمد ص کی مانند تمام زندگی جدوجہد میں گزارنے کی کوئی ضرورت نہیں- محمد ص جنہیں قرآن بار بار تسلی دیتا ہے کہ وہ مایوس مت ہوں, افسردہ مت ہوں, اور قرآن ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں اور یہ کہ وہی حق پہ ہیں-
اور پھر یہ بھی کہ ہم نے جو کہ ایک وسیع اور خاموش اکثریت ہیں, مذہب کا عوامی تاثر اس اقلیت کے حوالے کر دیا ہے- ہم نے مغربی کنارے کے جنونی آبادکاروں کو یہودیت کی نمائندگی کا, انسانوں سے خوفزدہ اور عورتوں کے خلاف لوگوں کو عیسائیت کی نمائندگی کا اور خودکش بمباروں کو اسلام کی نمائندگی کا اختیار دے دیا ہے- اور ہم نے اس حقیقت سے آنکھیں چرا لی ہیں کہ بنیاد پرست خواہ عیسائی ہونے کا دعوٰی کریں یا یہودی یا مسلمان ہونے کا, وہ کچھ بھی نہیں ہیں- وہ سب, دوسروں کے لہو میں نہائے شدت پسند دراصل ایک ہی ہیں- یہ ایمان نہیں جنون ہے اور ہمیں ان دونوں میں امتیاز کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اصل ایمان میں سوالوں کے اتنے آسان جوابات نہیں ہوا کرتے- ایمان مشکل ہے, یہ ساری زندگی حقیقت کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش کا نام ہے, یہ زندگی بھر مختلف خیالات کو قبول یا رد کرنے کا نام ہے, ایمان شک کے ساتھ ساتھ چلتا ہے, بعض اوقات ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے, کبھی اسے شعوری طور پہ جھٹلاتے ہوئے بھی-
اور یہ شعوری انکار ہی ہے جس کی مدد سے مجھ جیسی لادین بھی کچھ چیزوں پہ ایمان رکھ سکتی ہے- مثلا میرا ایمان ہے کہ مشرقِ وسطٰی میں امن کا قیام بالکل ممکن ہے, باوجودیکہ تمام شہادتیں اس کے خلاف ہوں- میں اس کی قائل نہیں ہوں, میں بمشکل کہہ سکتی ہوں کہ مجھے اس پہ یقین ہے- میں امن پہ ایمان رکھتی ہوں, خود کو شکست خوردگی کے احساس سے بچانے کیلئے کیونکہ وہ ہر وقت ساتھ چلتا ہے- یہ شکست خوردگی, مایوسی کا احساس خود کو مکمل کر دیتا ہے- جب آپ سوچ لیتے ہیں کہ کچھ ہونا ناممکن ہے تو آپ کچھ ہونے کے تمام امکانات ختم کر دیتے ہیں- میں اس شکست خوردگی کے ساتھ نہیں جی سکتی, ہم میں سے اکثر نہیں جی سکتے, اسی لئے خواہ ہم خدا کو مانیں یا نہ مانیں, اپنے شکوک کے باوجود یا ان کے سبب, ہم ہر چیز ختم کردینے والی مایوسی سے لڑتے رہتے ہیں- ہم مستقبل پہ اور ایک دوسرے پہ یقین رکھتے ہیں- اسے سادگی کہہ لیجئے, حماقت کہہ لیجئے, آئیڈیلزم کہہ لیجئے, مگر اسے انسانیت تو ماننا پڑے گا آپ کو-
کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کے ایمان کے بغیر اور ذہن کو بند کر دینے والے اندھے مغرورانہ یقین کا انکار کئے بغیر, اس قدر انقلابی طور پہ تبدیل ہو سکتے تھے؟ میرا خیال ہے ہرگز نہیں-
بطور ان کی داستانِ حیات کی مصنفہ کے میرا اور ان ص کا پانچ برس کا ساتھ رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آج اگر وہ ہوتے تو ان لوگوں پہ انتہائی غضبناک ہوتے جو مشرقِ وسطٰی یا دنیا بھر میں ان کا نام استعمال کرتے ہوئے قتل و غارت گری کرتے پھرتے ہیں- وہ دنیا کی نصف سے زائد خواتین پہ مشتمل آبادی کے حقوق سلب کئے جانے پہ انتہائی دکھی ہوتے- اپنی امت کو تفرقے میں پڑا دیکھ کر ان کا دل کس قدر مجروح ہوتا, وہ دہشت گردی کو نہ صرف جرم سمجھتے بلکہ اپنی تعلیمات اور اپنے عقائد کے خلاف بغاوت بھی- آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی فرماتے جو قرآن کہتا ہے- جس نے ایک انسان کی جان لی اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا, اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا- اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یقینا خود کو دنیا میں امن کے قیام کیلئے وقف کردیتے-
صلی اللہ علیہ وسلم-

دو موتیں دو زندگیاں

دو موت اور دو زندگیوں کا عقیدہ، قرآن و حدیث کی روشنی میں

دو موتیں دو زندگیاں
اللہ تعالی فرماتا ہے :
كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ   ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ   28؀
’’ تم کیسے اللہ کا کفر کرتے ہو تم مرے ہوئے تھے اللہ نے تمہیں زندہ کیا، پھر وہ تمہیں  موت دیتا ہے ،پھر تمہیں زندہ کرے گا اور پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ ‘‘ ( سورہ البقرہ : ۲۸ )


اس آیت میں انسانی زندگی کے چار ادوار بیان کئے گئے ہیں جو ہر انسان کے لئے ہیں۔ سورہ المومن میں اس کا دوبارہ ذکر کیا گیا :
قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ       11؀
’’وہ کہیں گے اے ہمارے رب واقعی تو نے ہم کو دو مرتبہ موت بھی دے دی اور دو مرتبہ زندگی بھی بخش دی سو ہم نے اعتراف  کرلیا اپنے گناہوں کا تو کیا اب نکلنے کی کوئی صورت ہوسکتی ہے؟‘‘ ( المومن : ۱۱ )
واضح ہوا کہ  ہر انسان کو ان چار مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔
۱: پہلی موت
۲: پہلی زندگی
۳: دوسری موت
۴: دوسری زندگی
پہلی موت :
اللہ تعالی نے پہلی انسانی زندگی سے قبل ایک موت کا ذکر فرمایا ہے، سورہ اعراف میں فرمایا گیا :


وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ  ۭ قَالُوْا بَلٰي ڔ شَهِدْنَا ڔ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ   ١٧٢؀ۙ
’’ اور جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں ۔  تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہیں تھی۔‘‘ ( سورہ اعراف :  ۱۷۲ )
معلوم ہوا کہ انسانی روحیں موجود تھیں، لیکن اللہ تعالی اسے موت کا دور بیان فرمایا۔
پہلی زندگی :
 پہلی موت کے اس دور کے بعد انسانی کی پہلی زندگی کا دور آتا ہے ، مالک کائنات فرماتا ہے :
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ  12 ؀ۚ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ 13۝۠ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَـلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَـلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْــمًا  ۤ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ  ۭفَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ  14؀ۭثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ  15؀ۙثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ   16؀
’’ اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے ،پھر اس کو اس کو مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا،پھر نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا ہے بڑا بابرکت ہے،پھر اس کے بعد تم مر جاؤگے،پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے ۔‘‘
( المومنون :  ۱۲ تا ۱۶ )
الَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ    Ċ۝ۚثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ    Ď۝ۚ   ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ    ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ      Ḍ؀
’’ جس نے ہر چیز کو بہترین صورت میں بنایا اور انسان کی تخلیق مٹی سے کی، اور پھر اس کی نسل  ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے (رحم مادر میں ) درست کیا اور اپنی روح پھونکی اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے ، تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔‘‘
                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                  ( السجدہ :  ۷ تا ۹ )





قال عبد الله حدثنا رسول الله صلی الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق قال إن أحدکم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوما ثم يکون علقة مثل ذلک ثم يکون مضغة مثل ذلک ثم يبعث الله ملکا فيؤمر بأربع کلمات ويقال له اکتب عمله ورزقه وأجله وشقي أو سعيد ثم ينفخ فيه الروح فإن الرجل منکم ليعمل حتی ما يکون بينه وبين الجنة إلا ذراع فيسبق عليه کتابه فيعمل بعمل أهل النار ويعمل حتی ما يکون بينه وبين النار إلا ذراع فيسبق عليه الکتاب فيعمل بعمل أهل الجنة
عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور وہ صادق و مصدوق تھے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے چالیس دن تک (نطفہ رہتا ہے) پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دے اور یہ (بھی لکھ دے) کہ وہ بد بخت (جہنمی) ہے یا نیک بخت (جنتی) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے بیشک تم میں سے ایک آدمی ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ (تقدیر) غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور (ایک آدمی) ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اتنے میں تقدیر (الٰہی) اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔
( بخاری ، مخلوقات کی ابتداء کا بیان،باب: فرشتوں کا بیان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔)

قرآن و حدیث کے بیان سے واضح ہوا کہ انسان کی پہلی موت کا دور وہ ہے کہ جب روح موجود ہوتی ہے اور مگر یہ انسانی جسم نہیں ہوتا، یعنی جسم اور روح کی جدائی کا دور ہی موت کادور کہلاتا ہے۔ اس دور کے بعد انسان کی زندگی کا پہلا دور شروع ہوتا ہے، جب یہ انسانی جسم بنایا جاتا اور اس میں اس کی روح ڈال دی جاتی ہے۔گویا روح اور مٹی سے بنے اس انسانی جسم  کے مل جانے کو ’’زندگی ‘‘ کہتے ہیں، اور اس دور کا اختتام انسان کی موت پر ہوتا ہے۔
انسان کی دوسری موت :
قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے :
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۭ وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ    93؀ ( الانعام : ۹۳ )
’’اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگاجو اللہ پر بہتان باندھے یاکہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو، یا جو کہتا ہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کرسکتا ہوں جو اللہ نے نازل کی ہے؟ کاش تم ان ظالموں کو دیکھو موت کی سختیوں   اور فرشتے ان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے ہوتے ہیں (اور کہتے ہیں) :نکالو اپنی روحوں کو، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا کیونکہ تم ناحق باتیں اللہ کے لئے کہا کرتے دیکھا تھے اور اس کی آیتوں سے استکبارکرتے تھے۔'' ( الانعام: ۶۲)

  وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً  ۭﱑ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ     61؀ ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ ۭ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ  ۣ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ   62؀
’’اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے( فرشتے) اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور کوئی غلطی نہیں کرتے۔پھر تم پلٹائے جاتے ہو اللہ کی طرف جو تمہارا حقیقی مولی ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا  ہے۔‘‘  

اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ       42؀ ( الزمر : ۴۲ )
’’ اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے عین ان کی موت کے وقت، جو نہیں مرے ان کی سوتے ہوئے، پھر روک لیتا ہے اس کی روح جس کی موت کا فیصلہ ہوجائے اور چھوڑ دیتا ہے باقی روحوں کو ایک طے شدہ وقت تک کے لئے، بے شک اس میں نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والوں کے لئے۔‘‘
حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ 99۝ۙلَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا ۭ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ ١٠٠؁ ’’ یہاں تک کہ ان میں سے کسی ایک موت آتی ہے ( تو) کہتا ہے اے میرے رب مجھے واپس لوٹا دے، تاکہ میں نیک عمل کروں جسے میں چھوڑ آیا ہوں، ( اللہ تعالی فرماتا ہے ) ہزگز نہیں، یہ تو محض ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے ، اور ان سب کے پیچھے ایک آڑ ہے اٹھائے جانے والے دن تک ‘‘ ( المومنون ۹۹۔۱۰۰ ) 
ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی کے اس دور کے بعد موت کا دور شروع ہوتا ہے، مٹی سے بنے اس جسم سے روح نکال لی جا تی اور اللہ تعالی  کے پاس لے جائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالی اس روح کو قیامت تک کے لئے روک لیتا ہے ۔ یہی بات سورہ المومنون میں فرمائی گئی : ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ  15؀ۙثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ   16؀ ’’ پھر اس کے بعد تم مر جاؤگے،پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے ۔‘‘ واضح ہوا کہ موت کے معنی روح اور جسم کی علیحدگی ہے اور اب یہ دور قیامت تک چلنا ہے یعنی قیامت سے قبل یہ جسم و روح نہیں ملیں گے۔
انسان کی دوسری زندگی:
ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ  15؀ۙثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ   16؀ ’’ پھر اس کے بعد تم مر جاؤگے،پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے ۔‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اس بارے میں قرآن و ھدیث میں یہی بیان ملتا ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ان سڑے گلے جسموں کو دوبارہ بنا کر انہیں زندہ کرے گا اور پھر انسانیت کا فیصلہ ہوگا۔ اب انہیں جو زندگی ملے گی اس کا خاتمہ نہیں ہوگا۔
قرآن کے اس واضح بیان کے باوجود ان فرقوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی روح واپس اس کے جسم میں لوٹادی جاتی ہی ہے۔ روح کا اس جسم میں واپس آجانا قرآن و صحیح احادیث کا کھلا انکار ہے، اسی طرح  موت کے بعد قیامت سے قبل روح اور اس مٹی سے بنے جسم کا ایکدوسرے سے مل جانا ایک تیسری زندگی کا عقیدہ  فراہم کرتا ہے جو یقینا  قرآن کی مندرجہ  بالا آیات کا کھلا انکار ہے ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس موت کے بعد ایک اور مرحلہ بیان فرمایا ہے:
وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ   ١٥٤؁
’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں اسکا شعور نہیں ۔  ( البقرۃ : ۱۵۴ )
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ    ١٦٩؁ۙ
’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ گمان نہ کرو  بلکہ وہ زندہ ہیں ، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں رزق پاتے ہیں۔ ‘‘ ( آل عمران : ۱۶۹ )

معلوم ہوا  کہ وہ لوگ اللہ میں قتل کردئیے گئے ہیں یعنی انہیں موت آگئی ہے جسم و روح میں علیحدگی ہو گئی ، جنکے جسم ہر قسم کے شعور و حواس سے بیگانہ ہوچکے ہیں، ان کے لئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے انسانو ! تم انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ  زندہ ہے۔کہاں زندہ ہیں؟ فرمایا : اللہ کے پاس ۔
اسے بنیاد بنا کر کچھ کم علم لوگوں نے ہم پر فتوی لگا دیا ہے کہ تم ہی خود دو زندگیوں کے انکاری ہو، ایک تیسری  زندگی کا عقیدہ تم خود بھی رکھتے ہو۔ دراصل فرقے تعصب کی لڑائی لڑتے ہیں، ان میں قرآن فہمی اور علمیت نام کو بھی نہیں ہوتی۔ کاش کہ یہ قرآن و حدیث سے واقف ہوتے تو کبھی بھی ایسی بات منہ سے نہیں نکالتے۔ یہ فتوی جو یہ ہم لگا رہے ہیں انہیں چاہئیے کہ وہ یہ فتوی اللہ اور رسول ﷺ پر لگائیں، کیونکہ دو موت اور دو زندگی کا عقیدہ ہم نے نہیں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا بیان کردہ ہے اور اس  موت کے بعد ایک اور زندگی کا عقیدہ بھی ہم نے نہیں اللہ اور رسول اللہ ﷺ ہی نے دیا ہے۔ اپنی جہالت کی بنائ پر جو بات انہوں نے کہی ہے ان شائ اللہ تعالی قرآن و حدیث کے دالئل دیکر واضح کریں گے کہ یہ دو متضاد باتیں نہیں بلکہ بالکل علیحدہ معملات ہیں جنہیں یہ فرقہ پرست نہیں سمجھ سکے۔

وضاحت :
وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ   ١٥٤؁
’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں اسکا شعور نہیں ۔  ( البقرۃ : ۱۵۴ )
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ    ١٦٩؁ۙ
’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ گمان نہ کرو  بلکہ وہ زندہ ہیں ، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں رزق پاتے ہیں۔ ‘‘ ( آل عمران : ۱۶۹ )

معلوم ہوا  کہ وہ لوگ اللہ میں قتل کردئیے گئے ہیں یعنی انہیں موت آگئی ہے جسم و روح میں علیحدگی ہو گئی ، جنکے جسم ہر قسم کے شعور و حواس سے بیگانہ ہوچکے ہیں، ان کے لئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے انسانو ! تم انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ  زندہ ہے۔کہاں زندہ ہیں؟ فرمایا : اللہ کے پاس ۔

اللہ تعالی کہاں ہے ؟
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ  ۭ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ ۔ ۝
’’ بے شک تمہارا اللہ ہے جس نے  چھ دنوں میں آساموں اور زمین کو پیدا کیا ، پھر, مستوی عرش ہوگیاْ‘‘ ( یونس : ۳ )
اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى Ĉ۝  ’’ جو رحمٰن  ( اللہ )ہے، عرش پر قائم ہے۔ ‘‘ ( طٰہٰ : ۵ )
 سورہ آل عمران کی  شہدا والی آیت کی تفسیر میں نبی ﷺ نے فرمایا :
بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَائٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَائَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَی تِلْکَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَيَّ شَيْئٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِکَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَکُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّی نُقْتَلَ فِي سَبِيلِکَ مَرَّةً أُخْرَی فَلَمَّا رَأَی أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِکُوا ہم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا جنہیں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس سے رزق دیئے جاتے ہیں تو انہوں نے کہا ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی روحیں سر سبز پرندوں کے جسموںمیں ہیں ،ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں اور وہ جنت میں جہاں چاہیں پھرتی رہتی ہیں پھر انہی قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں۔ ان کا رب ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے ، انہوں نےعرض کیا ہم کس چیز کی خواہش کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے جب انہوں نے دیکھا کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا، تو انہوں نے عرض کیا : اے رب ،ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیں یہاں تک کہ ہم تیرے راستہ میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں جب اللہ نے دیکھا کہ انہیں اب کسی چیز کی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا ۔‘‘( مسلم ، کتاب امارت و خلافت ، باب : شہدا کی روحیں )
واضح ہوا کہ موت کے بعد جس زندگی کا قرآن میں ذکر کیا گیا ہے وہ اس جسد عنصری ( مٹی کے بنے جسم) کیساتھ نہیں بلکہ فرمایا گیا کہ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ ’’ انکی روحیں سبر اڑنے والے جسموں میں ہیں ‘‘۔ یعنی جیسا کہ اس سے قبل اس روح کو ایک مٹی کے جسم میں ڈالا گیا تھا اب اسی طرح اسی روح کو ایک اڑنے والے جسم میں ڈالدیا گیا ہے۔ اور یہ ایسا جسم ہے کہ جو کھا پی بھی رہا ہے اور جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز بھی ہو رہا ہے۔ جب اللہ تعالی ان کی خواہش معلوم کرتا ہے  تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو واپس ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے، یعنی  انکی روحیں ان کے اصل جسم میں نہیں۔
اللہ رب العزت نے ایک طرف اس دور کو ‘‘ موت ‘‘  کا دور قرار دیا تو اسی دورانیئے میں ایک دوسری ’’زندگی‘‘ کا بھی بیان فرمایا۔ ان دونوں زندگیوں کا فرق یہی ہے کہ ایک اسی دنیا میں اور جسد عنصر کیساتھ ہے تو دوسری ایک دوسری برزخی جسم اور  جنت ( عالم برزخ یعنی برزخ خے پیچھے کا عالم ) میں بیان کی گئی ہے۔
 یہ تیسری زندگی نہیں کہلائی جا سکتی کیونکہ یہ اس جسد عنصری کیساتھ نہیں لیکن جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد اس جسد عنصری میں روح لوٹا دی جاتی ہے وہ ایک تیسری زندگی کا عقیدہ رکھتے ہیں جو کہ مکمل طور پر قرآن کا انکارہے۔

Friday, 18 January 2013

غامدی صاحب



ایک ہی بات ذہن میں بار بار گونجتی ہے ،جب بھی غامدی صاحب کو سنو یا پڑھو اور وہ لفظ انکی شخصیت پر چھایا ہویا ہے . وہ لفظ ہے “ریشنل””..منطقی آدمی ہیں .
غامدی صاحب کی شخصیت کی نرمی ،سادگی،علمیت،منطقیت پر کشش ہے اور انسان کو ہٹ ضرور کرتی ہے مگر .بس جب بھی میں انکی آنکھوں کو دیکھتا ہوں تو عجیب سا لگتا ہے .ایک وحشت سی نظر آتی ہے .لگتا ہے انکے اندر کوئی طوفان تڑپ رہا ہے .کوئی ٹینشن ہے .کوئی کرب ہے .جانے یہ کیا ہے ؟شاید پوری عمر لوگوں اور علما کی مخالفت کا نتیجہ ہے یا کچھ اور ؟
خدا کے ہونے پر انکے دلائل بہت پختہ بنیادوں پر کھڑے ہیں .اسکا مجھے اندازہ نہیں تھا. غامدی صاحب پر نگاہ پڑی تو احساس ہوا کہ آپ کے دلائل بھی بہت وزن رکھتے ہیں .
غامدی صاحب تصور خدا کی بنیاد کو پانچ اصولوں پر تعمیر کرتے ہیں .نمبر ایک کہ خدا ،یا ایک خالق کا نفسانی وجدان انسان کے اندر موجود ہے .انسان کو جب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس دنیا وکائنات کا کوئی خالق ہے تو اسکے اندر سے ایک آواز آتی ہے اور وہ اس خیال کو “ایلین” نہیں جانتا .یہ نہیں ہوتا کہ کوئی انسان یہ کہے کہ ہیں اچھا خدا بھی ہوتا ہے ؟یا میرا کوئی خالق بھی ہو سکتا ہے ؟بلکہ اسکے الٹ ہی ہوتا ہے لوگ خدا کو مسترد کرنے کے دلائل ڈھونڈھتے ہیں .
انکا دوسرا نکتہ علمی تاریخی تواتر پر مبنی ہے .یعنی کہ انسانی تاریخ،اینتھراپولوجی ،مایتھولوجیز سب اسی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ سب انسانوں کو احساس تھا کہ کوئی خدا ہے .تیسرا نکتہ وہ یہ اٹھاتے ہیں کہ جس دنیا میں ہم رهتے ہیں اس محسوس کائنات کو جانچو اور پرکھو ،دیکھو ،سمجھو کیا یہ اپنی دلیل خود ہے یا کوئی اسکا بنانے والے ہے ؟
آخری دو بنیادوں پر غامدی صاحب نے انبیا اور پھر رسول انکی کتب اور ان اقوام پر نازل عذاب کو رکھا ہے .اس عذاب کو وہ آخری برپا ہونے والی قیامت کا ٹریلر سمجھتے ہیں .اس میں مجھے قرآن پر اور محمّد صلعم کی ذات اور کردارپر فوکس کی کچھ کمی محسوس ہوتی ہے .آج کے دور کے ایتھیسٹ کو ہم کیا ثبوت دیں گے ؟کیا چیلنج دیں گے ؟وہ چیلنج قرآن کا ہی ہونا چاہئے.خیر ان پانچ اصولوں کے برخلاف بھی دلائل ہیں جنکا جواب بھی غامدی صاحب نے علمی اور احسن انداز میں دینے کی کوشش کی ہے .لیکن سوال تو موجود ہیں کہ جیسے یہ وجدان تو خوف نے پیدا کیا ہے ؟علمی تاریخی شہادت کو بھی مفکرین انسان کی داخلی اختراع قرار دیتے ہیں ؟اس دنیا کے چلنے پر تو بہت سے کانسپٹس اور دلائل ہیں .اور انبیا اور رسول کو ماننا تو بہت دور کی بات ہے اس تک مرحلے تک ایک کافر کو کیسے لایا جائے ؟اس پرتفصیلی انداز میں کوئی بھی پاکستانی سکالر زیادہ مطمئن نہیں کر سکا .
آپ کے ہاں رسول پاک سے محبت کی وہ کیفیت نظر نہیں آتی جس کا میں متلاشی ہوں .پیغمبر خدا کے حوالے سے غامدی صاحب میں ایک سرد مہری ہے .ایک علمی چادر تنی ہے.ممکن ہے وہ دل سے بہت محبت رکھتے ہوں بہر حال وہ اپنے جذبات کا ہلکا سا اظھار بھی نہیں کرتے .یہ کچھ دل کی سختی یا ہر چیز کو ریشنل دیکھنے کے مزاج کا ایک نقصان ہے .

عربی زبان پر عبوراور اس زمانے کے پس منظر پر گہری نگاہ غامدی صاحب کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے .حیرت ہے چار بیٹوں کی وفات کے بعد بچ جانے والے اس زمیندار خاندان کے بچے کو کتنی عمدہ علمی اور تعلیمی صحبت ملی ہے .کیا یہ انکےقادریہ سلسلے سے منسلک والد کی علمی لگن کا نتیجہ ہے ؟یا دعاؤں کا ؟میرا خیال ہے انکے والد اگر زندہ ہوتے تو اپنے بیٹے کے تصوف پر خیالات پر ہر گز خوش نہ ہوتے .
حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے زندہ اٹھائے جانے پر اب یہ انٹرپریٹیشن تو ایک بہت متنازعہ ایشو ہے .غامدی صاحب ایک علیحدہ کھڑے ہیں اور باقی تقریباً تمام ہی سکالرز دوسری طرف ہیں .صرف قادیانی ہی غامدی صاحب کے استدلال سے اتفاق کرتے ہیں .کچھ لوگ تو اس بنیاد پر غامدی صاحب پر احمدی ہونے یا انکے سپورٹر ہونے کا الزام بھی لگاتے ہیں جو کہ میری نظر میں با لکل غلط ہے .
مسلمانوں کی اکثریت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی پر یقین رکھتی ہے .غامدی صاحب اس بات سے مکمل انکاری ہیں .وہ دلیل دیتے ہیں کہ قرآن اور صحیح احادیث میں ایسی کوئی روایت نہیں ملتی .
انکے خیال میں سوره نساء میں حضرت عیسیٰ کا جو ذکر ہے اسے غلط سمجھا گیا ہے .یہ بات تو ٹھیک ہے کہ انہیں قتل نہیں کیا گیا .لیکن اٹھایا جانے کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں زندہ اٹھایا گیا ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ انہیں قتل نہیں کیا گیا اور الله نے یہودیوں کو دھوکے میں رکھ کراپنے رسول کو اپنے فرشتوں کے ذریعے اٹھا لیا جو کہ موت ہی ہے .
مزید وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں جب حضرت عیسیٰ اور الله کا مکالمہ درج ہے کہ(مفہوم )اس میں الله قیامت کے روز سوال کرے گا کہ ابن مریم کیا تم نے انہیں یہ تعلیم دی تھی کہ تم میرے بیٹے ہو ؟تو مسیح جواب دیں گے کہ جب تک میں ان میں تھا میں نے انہیں توحید کی ہی تعلیم دی تھی .تو یہ دلیل ہے کہ انکی دوبارہ واپسی نہیں ہو گی اگر ہوتی تو یہاں پر اس بابت بڑی آسانی سے بتایا جا سکتا تھا .
تیسری دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ احادیث کی سب سے پہلی کتاب امام مالک کی موطا میں اس پورے موضوع کا کوئی شائبہ بھی نہیں ملتا ہاں البتہ بعد کی کتب میں چندروایات موجود ہیں جنھیں غامدی صاحب ضعیف اور غیر مصدقہ قرار دے کر مسترد کر دیتے ہیں .
اس پورے ایشو پر کچھ سوالات غامدی صاحب کی فکر پر اٹھتے ہیں .ایک تو وہ حضرت عیسیٰ کی دوبارہ واپسی پر احادیث کی ایک بھاری تعداد کو مسترد کر رہے ہیں .وہ کہتے ہیں کہ یہ احادیث اہل تشیع حضرت کی کتب سے اہل سنّت کی کتابوں میں آییں ہیں .دوسرا یہ کہ مسلمانوں کی فکر عیسائیوں سے متاثر ہوئی جس بنا پر وہ حضرت عیسیٰ کی دوبارہ واپسی کی امید لگا بیٹھے .تیسرا کہ مسلمانوں کے زوال نے اس امید کو ایک جنون بنا دیا حالانکہ انکے بقول یہ ایک حقیقت کے بر عکس بات ہے .کیا یہ بات اتنی آسان اور سادہ ہے؟کیا غامدی صاحب صرف مختلف ہونے کے چکر میں اپنی علیحدہ فکر بنائے بیٹھے ہیں یا وہ واقعی ہی درست علمی استدلال پر ہیں ؟
قرآن کی سوره مریم میں حضرت عیسیٰ اپنی موت ،پیدائش اور زندہ اٹھائے جانے کے دن پر سلام پیش کرتے ہیں .کیا یہ زندہ اٹھایا جانا قیامت کی روز کی بابت ہے یا انکی دوبارہ واپسی پر ؟اگر انکی دوبارہ دنیا میں واپسی کی طرف اشارہ ہے تو پھر انکو زندہ اٹھایا جانے کا دو بار ذکر نہیں ہونا چاہئے تھا؟دوسری طرف علما یہ بھی کہتے ہیں کہ الله کا حضرت عیسیٰ سے وعدہ ہے کہ انکے تمام پیروکار ان پر ایمان لائیں گے تو جب تک وہ دوبارہ واپس نہیں آییں گے تب ہی یہ ممکن ہو سکے گا .کیا یہ مطلب اخذ کرنا درست ہے ؟؟دوسری جانب یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ مسیحوں میں یہ عقیدہ قرآن کے ظہور سے پہلے سے قائم تھا کہ حضرت عیسیٰ کی واپسی ہو گی تو قرآن نے اسکا واضح انکار کیوں نہیں کیا ؟
میں اس ایشو پر مکمل اعتماد اور یقین کے ساتھ کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتا .دل تو یہی چاہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی دوبارہ واپسی ہو اور الله کرے کہ کہیں اسی زمانے کے آس پاس ہو تاکہ مجھے بھی انکو دیکھنے کا موقع مل جائے .دوسری جانب غامدی صاحب کے دلائل بھی مضبوط ہیں .کیا ہم واقعی ہی ایک دل فریب خواب کے قیدی ہیں ؟ایک یوٹو پین معاشرے کی تمنا اور اپنی سر بلندی کی خواہش اسکی وجہ ہے ؟کیا مسلمانوں نے رفتہ رفتہ حضرت عیسیٰ سے متعلق احادیث کو ہلکا پھلکا ٹیمپر کیا ہے ؟
..امام مہدی کے متعلق بھی غامدی صاحب کا یہی نکتہ نظر ہے .وہ اسکو بھی مسترد کرتے ہیں .کیا ان دونوں ایشوز پر کچھ صحیح احادیث موجود ہیں ؟اور کیا قرآن کی جن آیات کی غامدی نے تشریح کی ہے کیا وہ درست ہے ؟قرآن میں ابابیلوں کے پتھر مارنے والے ابرہہ والے واقعے پر انکی تعبیر نے بہت تنازعات کو جنم دیا .اس مسلے کا مکمل ادرک مجھے نہیں ہے اس لئے اس پر تفصیلی بات نہیں کر سکتا کوئی عربی دان ہی اس مسلے پر بحث کر سکتا ہے .
جمہوریت کی غامدی صاحب نے ‘جم ‘ اور ‘حریت ‘ کے ساتھ مستقل حمایت جاری رکھی ہوئی ہے .انکا خیال ہے کہ جمہوریت اسلام سے ثابت ہے .اسکے لئے وہ قرآن کی اس آیت کا حوالہ دیتے ہیں کہ مسلمان اپنے کام اپنے مابین مشورے سے حل کرتے ہیں .(مفہوم)وہ یہ بھی کہتے ہیں اور با لکل درست کہتے ہیں کہ اسلام میں کوئی نظام نہیں ہے .بلکہ صرف گائیڈ نگ پرنسپلز ہیں .
لیکن پھر انکی جمہوریت کی بطور نظام اتنی حمایت کی سمجھ نہیں آتی .یہ تو انکی اپنی ہی بات کا انکار انہوں نے خود ہی کر دیا .ممکن ہے وہ بطور اصول جمہوریت کے حامی ہوں ،موجودہ جمہوریت کی مخالفت پر وہ اسکی درستگی کو سسٹم چلنے سے تعبیر کرتے ہیں .یہی سسٹم چلے گا تو خود بخود ہی ٹھیک ہو جائے گا .یہ غیر متاثر کن دلیل ہے .خود بخود کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا .بلکہ یہ دلیل ہے ہی نہیں بلکہ انتہائی احمقانہ بات ہے .غامدی صاحب کا سیکولر ریاست کو اسلامی ریاست کے برابر قرار دینا بھی سمجھ سے باہر ہے .وہ کہتے ہیں کہ جب ایک ریاست میں مسلمان ہی اکثریت میں ہوں گے تو وہ کیسے اسلام کے خلاف جا سکتے ہیں ؟حالانکہ اس بات کی کی گارنٹی نہیں ہے .پھر ایک ریاست کو سیکولر ہی کیوں کہا جائے ؟جب مسلمانوں کے ہر حکم پر الله نگران ہے تو پھر سے ہم کیسے ایک سیکولر ریاست کا قیام جائز قرار دے سکتے ہیں جس کی بنیاد ہی انسانی فہم اور سہولت پر ہے ؟غامدی صاحب ان سوالات کو لفاظی اور اگر مگر کی دلیلوں سے کاؤنٹر کرتے ہیں جو کہ کچھ زیادہ متاثر کن نہیں ہے .اس معاملے میں وہ سب سے زیادہ کمزور پوزیشن پر دکھائی دیتے ہیں .
انکے دلائل میں یہ بھی ہے کہ اسکا ایک حل وہ معاشرے کی تربیت کو گردانتے ہیں .سماج ٹھیک ہو گا تو اچھے لوگ بھی چن لے گا .اچھا معاشرہ بھی وجود میں آ جائے گا .غامدی صاحب آپ اور آپ جیسے لوگ صدیوں بھی تربیت کر لیں صرف چند ہی فیصد معاشرے کے نسبتاً غیر اہم حصے کو ہی اپنا ہمنوا بنا سکیں گے .کیا ہم صدیوں کے انتظار کے محتمل ہو سکتے ہیں ؟
آگے چل کر وہ کہتے ہیں کہ معاشرے کے طاقت ور افراد کی درستگی معاملات کو حل کر دی گی .سوچ تو ٹھیک ہے .لیکن طاقت ور اپنے برابر یا اپنے سے برتر کی بات سے متاثر ہوتا ہے اپنے سے کم تر کی بات کو وہ اپنے جوتوں کی ٹھوکروں پر رکھتا ہے . طاقت ور طبقہ معاشرے کے استادوں سے سے بھی بڑا استاد ہے .غامدی صاحب کے پاس اس مسلے کا کوئی جامع حل موجود نہیں ہے .
اسکا حل یہی ہے کہ پڑھے لکھے سکالر،ایماندار ،دیانت دار ،اہل اور علمی لوگ خود طاقت ور طبقے میں شامل ہوں یا انکا اثر و رسوخ اتنا بڑھ جائے کہ وہ اپنی بات منوا سکیں .اسکی شکل کیا ہو ؟کوئی عظیم سطح کا پریشر گروپ یا تھنک ٹینک؟یا پولیٹیکل پارٹی ؟کوئی علمی فکری تحریک؟یا ان سب کا ملغوبہ؟آپ سب کی راے کیا ہے ؟
پردے،داڑھی، وغیرہ پر غامدی صاحب کا نکتہ نظر درست ہے .داڑھی کو وہ سنت نہیں گردانتے یہ سب سے مختلف سا ٹچ ہے ، کیونکہ انکے خیال میں سنت تو دین کا حصہ ہوتی ہے . آپ کہتے ہیں کہ داڑھی دین کا حصہ نہیں .اس سے نہ تو چہرے کی تطہیر ہوتی ہے ،یعنی نہ جسم کی نہ روح یا نفس کی کسی کی تطہیر نہیں ہوتی ہو دین کا اصل مقصود ہے تو پھر رکھنے کا مقصد دینی تو نہیں ہو سکتا .؟میرا بھی یہی خیال ہے کہ داڑھی ایک ثقافتی ،علاقائی چیز تھی .اب اگر کوئی رکھنا چاہئے تو رکھے مگر اسکو دین نہ بنائے .ہاں ایک مضبوط نکتہ داڑھی کے حق میں ہے کہ تقریباً معلوم انبیا نے داڑھی رکھی .مگر وہ سب اسی ایک خطے سے بھی تعلق رکهتے تھے .کیا کوئی ٹھوس ثبوت داڑھی کے رکھنے کو لازم قرار دیتا ہے ؟
طالبان کی انہوں نے ڈٹ کر مخالفت کی اور سب سے زیادہ کھل کا مخالفت کی .یہ دلیری انہیں سب علما اور سکالرز سے ممتاز کرتی ہے .اسی لئے انہیں ملک چھوڑنا پڑا سود پر انکی نرمی سود کی حمایت نہیں ہے بلکہ مسلے کو جڑ سے پکڑ کر اسکا حل دینے کی ایک تدریجی کوشش لگتی ہے .مگر وہ صدقات کی اہمیت سے بے خبر ہیں کوئی پختہ حل انکے ہاں نظر نہیں آتا ..موسیقی ،غلاموں اور لونڈیوں پر انکی سوچ زیادہ تر روایتی فکر سے مختلف ہے .اور میرے خیال میں کافی حد تک درست بھی ہے .بطور سکالر آغاز میں وہ حد درجہ اپنے استاد امین اصلاحی سے متاثر تھے .انہی کی نقالی ،انہی کی طرح گفتگو لیکن اب وہ اس سحر سے باہر آ چکے ہیں .
تصوف کا کھلم کھلا انکار کرتے ہیں .تصوف کی باتوں اور دعوؤں کی نفی کرتے ہیں .انکے خیال میں جب کوئی شخص ایک حد سے زیادہ علمی طور پر بلند ہو جائے تو اس سے یہ برداشت ہی نہیں ہوتا کہ اب اسکا خدا سے ذاتی تعلق نہیں ہو سکتا ہے .کیونکہ نبوت کے خاتمے کے بعد تو وحی اور الہام ختم ہو چکا ہے.یہ نفسیات انسان کو مختلف جسمانی سختیوں اور مراقبوں ،چلوں اور وظائف کی طرف مائل کرتی ہے .میرے خیال میں وہ ماضی کی تصوف کی ملاوٹی فکر سے نالاں ہیں حالانکہ تصوف پر سب اہم کتب انہوں نے پڑھ رکھی ہیں ..تصوف کے سب سے بڑے حامی پروفیسر احمد رفیق اختر بھی تصوف سے منسوب ان باتوں کو رد کرتے ہیں مگر تصوف کو رد نہیں کرتے .غامدی صاحب کے اندر تصوف کے مسلے پر ایک تلخی نظر آتی ہے .اسکی وجہ معلوم نہیں .میڈیا پر انکا آنا درست عمل ہے .اس پر تنقید فضول ہے .
مجموعی طور پر غامدی صاحب ایک سکالر ہیں .ایک مفکر ہیں .پاکستان میں ان جیسی روشن فکر والے مزید لوگوں کی ضرورت ہے .افسوس گھٹیا قسم کے سیاسی نوٹنکیوں ،نو سر بازوں اور کمینوں کے لئے گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے والی عوام انکو فہم دینے والے اس استاد کی حفاظت کی ذمہ داری نہ اٹھا سکی اور انہیں ملک سے باہر جانا پڑا اور اس بات پر کوئی واویلہ بھی نہیں ہے؟کیا مردہ لوگ ہیں .
کچھ پہلو بہت اجتہادی ہیں کچھ میں روایت پسند ہیں . زیادہ فوکس صرف قرآن پر ہے .جو کہ کچھ احادیث پر انکی سختی کی دلیل ہے .اس بات کی وضاحت ہونی چاہئے کہ آخر وہ احادیث کو کس پیمانے پر رکھتے ہیں ؟سب سے اہم بات ہے کہ اپنی بات کو غلط ماننے کے لئے ہر وقت تیار دکھائی دیتے ہیں .تمام تر مثبت پہلوؤں کے باوجود کچھ کمی سی ہے .شاید منطقیت انکی شخصیت پر بہت زیادہ بھاری ہے . غامدی .بہت اچھے ہیں .لیکن بہت عظیم نہیں ہیں .پاکستان کو اس وقت بہت عظیم لوگ درکار ہیں یا غامدی جیسے بہت اچھے علمی لوگوں کی کثیر تعداد درکار ہے.