Sunday, 29 September 2019

کسی مسلم کو

کسی مسلم کو اپنی موت کے وقت یہ پچھتاوا ہو کہ اس نے زندگی گناہوں میں بسر کر دی اور نیکیاں نہ سمیٹ پایا تو سمجھ آتا ہے.
مگر کسی مسلم کو مرتے ہوئے یہ افسوس ہو کہ اپنی دنیاوی حسرتیں نہ نکال سکا؟ یا اولاد کی شادی نہ دیکھ سکا یا مزید نہ جی سکا؟ - یہ شائد مسلم کو شایاں نہیں.
ہم جانتے ہیں کہ یہ دنیا سرائے جیسی ہے جہاں کچھ سستا کر نکل جانا ہے. لہٰذا خواہش فقط اتنی ہی ہونی چاہیئے کہ بلاوہ آئے تو نفس المطمئنہ حاصل ہو، میرا رب مجھ گنہگار سے راضی ہو۔ باقی موت آنی ہے تو کل آئے یا اسی وقت کیا فرق پڑتا ہے؟ اگر موت طلب کرنا منع ہے تو طویل زندگی کا حریص ہونا بھی درست نہیں.
.
اس زندگی کے ہیں دو جہاں
ایک یہ جہاں .. ایک وہ جہاں
.
ان دونوں جہانوں کے درمیاں
بس فاصلہ ہے .. سانس کا !
.
جو چل رہی تو یہ جہاں
جو رک گئی تو وہ جہاں
.
====عظیم نامہ====

امل تنویم

ایک علمی محفل میں شرکت کرکے واپس گھر جارہا ہوں۔ یہ ایک تجربہ کار اور ذہین "عامل تنویم" یعنی ہپناٹسٹ کی کلاس تھی جس میں ہپناٹزم کے رموز سے متعلق تعلیم دی گئی مگر جو جلد ہی مجھ سے مسلسل مکالمہ میں تبدیل ہوگئی۔ کوئی ڈھائی گھنٹے وہ انگریز ہپناٹسٹ اور میں اپنی اپنی سمجھ ایک دوسرے کے سامنے رکھتے اور سمجھتے سمجھاتے رہے۔ لاشعور کیا ہے؟ ذہن اور دماغ میں کیا فرق ہے؟ نفس یا انسان کے مخفی وجود سے کیا مراد ہے؟ خدا کون ہے؟ جہنم کیوں ہے؟ فطرت انسانی کی کیا حقیقت ہے؟ کیا کوئی روحانی متوازی دنیا بھی ہے؟ اگر ہے تو اس سے رابطہ کیسے ممکن ہے؟ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ حقیقی سکون کیا ہے؟ سوچ ہوتی کیا ہے؟ قانون جازبیت یعنی لاء آف ایٹریکشن کام کیسے کرتا ہے؟ صحائف الہامی ہیں یا لوگوں نے گھڑ لئے ہیں؟ رسول کی ضرورت بھی ہے یا انسان مراقبہ و مجاہدے سے براہ راست وحی و الہام حاصل کرسکتا ہے؟ سچ یا حقیقت کا کوئی وجود بھی ہے یا ہر کسی کا اپنا سچ ہے؟
۔
یہ اور اس طرح کے اور کئی سوالات موضوع بنے۔ وہ اپنے علم و تجربات سے استدلال پیش کرتی رہی۔ میں تائید و تنقید کی صورت اپنی علمی اور تجرباتی سمجھ قران حکیم کے زیر سایہ اسے پیش کرتا رہا۔ سچ یہ ہے کہ کئی زاویئے نمایاں ہوئے اور کئی باتیں سمجھنے کو ملی۔ یہ بھی امید ہے بلکہ یقین ہے کہ عاجز کی گفتگو نے بھی اسے اپنی فکری غلطیوں کو سمجھنے میں مدد دی ہوگی۔ نشست کی تفصیل چاہ کر بھی لکھنے سے قاصر ہوں کہ یہ موضوعات فیس بک پر شافی انداز میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ لہذا اس اجمال پر ہی اکتفاء کیجیئے۔ ☺
۔
====عظیم نامہ====

لاکوٹا قبیلہ


لاکوٹا قبیلہ
========
۔
کچھ روز قبل معلوم ہوا کہ لندن کے ایک ہوٹل میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جارہا ہے جس میں ریڈ انڈین "لاکوٹا" قبیلے کی ایک معزز شخصیت خطاب کرے گی۔ میں چونکہ مختلف فلسفوں اور طریق حیات کو جاننے میں دلچسپی رکھتا ہوں، اسلئے میں نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ ناظرین میں غالب ترین اکثریت انگریزوں کی تھی اور جو اپنے حلیئے اور اطوار سے ہی "اسپروچئلسٹ" نظر آرہے تھے۔ کوئی رنگ برنگی مالائیں پہنا ہوا ہے تو کوئی نارنجی کرتا زیب تن کیا ہوا ہے۔ کسی کے بال منفرد طرز سے بنے ہوئے ہیں تو کسی کی داڑھی سینے سے نیچے جارہی ہے۔ ہم نے بھی ٹکٹ خریدا اور ایک مناسب نشست پر براجمان ہوگئے۔ "لاکوٹا" قبیلہ درحقیقت امریکہ کے ان حقیقی رہائشیوں کی نسل ہے جو کرسٹوفر کولمبس کی امریکہ دریافت سے قبل وہاں مقیم تھے۔ اس کے بعد کرسٹوفر کولمبس اور دیگر اثرورسوخ رکھنے والو کے زیر سایہ لاکوٹا افراد کا فکری و عملی استحصال کیا گیا۔ لاکوٹا قبیلے کی اپنی تہزیب تھی، اپنے عقائد تھے، اپنی معاشرت تھی۔ انہوں نے جدید معاشرت کو اپنانے سے انکار کردیا۔ جس کے نتیجے میں انہیں درندے اور گنوار کہہ کر قابض فوج نے سالہا سال ان کی نسل کشی کی۔ مرد و عورت کو قتل کیا گیا اور بچوں کو زبردستی اغوا کرکے انہیں دور علاقوں میں جدید معاشرت کیلئے بھیج دیا گیا۔ عدالتوں نے ایسے قوانین بنائے جن کے تحت ان کی مرضی کو سلب کرلیا گیا اور خلاف ورزی کو قانون شکنی کہہ کر جیلیں بھر دی گئیں۔ ان کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرلیا گیا اور ظلم کی وہ داستانیں رقم کیں جو انسانیت پر دھبہ ہیں۔
۔
لاکوٹا کے لوگ سیارہ زمین کو اپنی ماں تسلیم کرتے ہیں اور اسے کائناتی شعور کی ماں قرار دیتے ہیں۔ بقیہ کہکشاوں کو وکاشا کہتے ہیں یعنی ستاروں کا تحفہ۔ لاکوٹا افراد کے مطابق موت خاتمہ نہیں ہے بلکہ صرف صورت کی تبدیلی ہے۔ وقت کا کوئی آغاز یا اختتام نہیں ہے۔ درخت، پتھر، جانور، انسان غرض ہر موجود شے باشعور ہے۔ ایک ننھے سے بیج میں یہ شعور ہے کہ کیسے درخت بننا ہے؟ وہ اپنے آپ میں ایک ہائیڈرولوجسٹ ہے۔ ایک نیومرولوجسٹ ہے۔ کوئی شعور نہ دوسرے سے برتر ہے نہ کمتر۔ ہر شے ایک حسن توازن کیساتھ ایک دوسرے کا خیال رکھتی ہے۔ درخت یہ نہیں سوچتے کہ میں کتنا لمبا ہوں؟ یا میں کتنا ہرابھرا ہوں؟ وہ تو بس بے لوث اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان کو بھی یہی کرنا چاہیئے۔ علم طاقت نہیں ہے بلکہ علم اچھے اخلاق کا نام ہے۔ ہمیں زمین کے اوپر امن قائم نہیں کرنا بلکہ زمین کیساتھ مل کر امن قائم کرنا ہے۔ آج ہمارا شعور انسانی صورت میں ہے لیکن ممکن ہے کہ کل دھول کی صورت ہو۔ ہمارے اردگرد جو پیڑ پودے ہیں جو دھول ہے، کیا معلوم کہ ان میں سے کون کون کبھی ہمارے آباء و اجداد تھے؟ یہ سب ہماری مدد کرتے ہیں، مشورہ دیتے ہیں۔ اگر ہم انہیں سننا سیکھ لیں۔ اپنے اردگرد موجود ہر شے کا شکریہ ادا کرو۔ لاکوٹا افراد کیلئے جنگلی بھینسے (اوکس) زمینی انرجی کے حوالے سے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ گائے بکریاں جب گھاس پودے چرتے ہیں تو اکثر پودے کی جڑ بھی اکھیڑ ڈالتے ہیں۔ مگر جنگلی بھینسے زمینی ماں کا احترام کرتے ہوئے گھاس پودوں کی زندگی چھینے بناء صرف اوپر سے اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں۔ لاکوٹا قبیلے کو زک پہنچانے کیلئے امریکی فوج نے لاکھوں جنگلی بھینسے مارے اور انکی کھونپڑیوں کے مینار بنائے۔ یہاں تک کے یہ بھینسے ناپید ہونے کے قریب پہنچ گئے۔
۔
لاکوٹا افراد شعور ہی کو سب کچھ مانتے ہیں اور کسی ایسے خدا کے منکر ہیں جو جواب دہی کرتا ہو۔ ان کے نزدیک جنت جہنم نہیں ہیں۔ ان کی زبان میں ایمان کیلئے کوئی لفظ نہیں صرف یقین کیلئے لفظ ہے۔ موجودہ دنیا مذہب، سائنس اور سیاست کی تکون بنی ہوئی ہے مگر لاکوٹا کے نزدیک زندگی ایک مسلسل مستقل دائرہ ہے۔ ان کی موسیقی انتہائی مسحور کن ہے۔ لاکوٹا قبیلے سے آئے اس معزز مہمان نے ہمیں آٹھ مختلف بانسریوں سے یکے بعد دیگرے دھیمے گہرے سروں میں ایسی دھنیں سنائی کہ لگا کوئی دل کو بھینچ رہا ہے، وجود میں جھانک رہا ہے اور آنسووں کو بہہ جانے کی ترغیب دے رہا ہے۔ لاکوٹا قبیلہ امریکہ میں آج بھی موجود ہے اور ریاستی مظالم سے نبرد آزما اپنی تہذیب و تمدن کو واپس لانے کیلئے کوشاں ہے۔
۔
====عظیم نامہ====

تتلی

تتلی کی ایک قسم ایسی بھی ہے جسکی زندگی کا دورانیہ صرف ایک روز یعنی چوبیس گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے. سوچتا ہوں کہ بحیثیت انسان مجھے اس کی زندگی انتہائی مختصر نظر آتی ہے. مگر ان ہی چوبیس گھنٹوں میں یہ تتلی پیدا ہوتی ہے، بچپن گزارتی ہے، لڑکپن میں داخل ہوتی ہے، جوان ہوجاتی ہے، ادھیڑ عمری سے گزرتی ہے، بڑھاپا سہتی ہے اور پھر مر جاتی ہے. اس ایک دن کے دورانیئے میں گویا وہ زندگی کے ہر اس دور سے گزرتی ہے، جس سے ایک انسان اپنی ساٹھ ستر برس کی زندگی میں گزرا کرتا ہے. "وقت" کا گزرنا یا اس کا طویل یا مختصر ہونا فقط ہماری سوچ ہے، زاویہ نظر ہے. جو ہمارے لئے مختصر ہے، بہت ممکن ہے کہ کسی دوسری مخلوق کیلئے بہت طویل ہو. اور جو ہمارے لئے طویل ہے، عین ممکن ہے کہ کسی دوسری مخلوق کیلئے انتہائی مختصر ہو. کئی بار جب ہم اپنی دھن میں مست ہوں تو گھنٹے ایسے گزرتے ہیں جیسے ایک لمحہ گزرتا ہو. لیکن حالت انتظار یا اضطرار میں ایک لمحہ بھی سالوں پر محیط محسوس ہوتا ہے. بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خواب میں ہم پاکستان سے انگلینڈ تک کئی ممالک گھوم آتے ہیں مگر اچانک جو بیدار ہوتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ صرف دو منٹ کی جھپکی تھی. کچھ ایسا ہی اس وقت درپیش ہوگا جب ہمیں روز جزاء میں حاضری کیلئے موت سے بیدار کیا جائے گا. یہ نئی منتظر دنیا جہاں اور بہت سے فطری قوانین اور زاویوں سے ہماری موجودہ دنیا سے مختلف ہوگی. وہاں وقت کی تعریف اور گزری زندگی کے دورانیئے سے متعلق ہمارے احساس کو بھی بدل دے گی. آج ہمارا ذہن وقت کے اختصار یا طوالت کا فیصلہ حاضر حالات و تجربات کی روشنی میں کرتا ہے. کل حیات اخروی میں یہی ذہن ہمیں اس وقت موجود حالات و انکشافات کی روشنی میں وقت کی نئی تصویر فراہم کرے گا. قران حکیم کی کچھ آیات ملاحظہ ہوں
.
" اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ تم زمین میں باعتبار برسوں کی گنتی کے کس قدر رہے؟ وه کہیں گے ایک دن یا ایک دن سے بھی کم، گنتی گننے والوں سے بھی پوچھ لیجیئے. اللہ تعالیٰ فرمائے گا فی الواقع تم وہاں بہت ہی کم رہے ہو اے کاش! تم اسے پہلے ہی سے جان لیتے؟" (سورہ المومنون ١١٢ سے ١١٤)
.
"اور ان کو وه دن یاد دﻻئیے جس میں اللہ ان کو جمع کرے گا (تو ان کو ایسا محسوس ہوگا) کہ گویا وه (دنیا میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے کو ٹھہرے ہوں گے۔ واقعی خسارے میں پڑے وه لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وه ہدایت پانے والے نہ تھے" (سورہ یونس ٤٥)
.
====عظیم نامہ====

ستارے



پرسکون رات میں آسمان پر بکھرے ستاروں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ ان میں سے معلوم نہیں کتنے ہی ستارے ایسے ہیں جو سینکڑوں سال پہلے ختم ہوچکے ہیں؟ یہ میری آنکھ کا دھوکہ ہے کہ مجھے آج بھی یہ ایسے نظر آرہے ہیں جیسے ان کا وجود باقی ہو. ثابت شدہ سائنسی حقیقت یہ ہے کہ ہماری آنکھ کسی بھی شے کو اسی وقت دیکھ پاتی ہے جب روشنی اس شے سے نکل کر یا ٹکرا کر ہماری آنکھ کی پتلی سے واپس ٹکرائے. ہم بہت سے ستارے اور دیگر اجرام فلکی آج اس لئے دیکھ پاتے ہیں کہ وہ کسی زمانے میں ہم سے سینکڑوں ہزاروں نوری سالوں کے فاصلے پر موجود ہوا کرتے تھے جن سے روشنی ٹکرا کر یا نکل کر آج جب واپس ہماری آنکھ تک پہنچی تو سینکڑوں سال روشنی پہنچنے کے اس سفر میں گزر گئے. اس دوران وہ ستارے یا اجرام فلکی مٹ چکے ہیں، تباہ ہوچکے ہیں، اپنا وجود کھو چکے ہیں مگر ہماری آنکھ آج بھی ان کی ہزاروں سال پرانی تصویر دیکھ رہی ہے. گویا ہم اس وقت اپنے "حال" میں کائنات کے دوسرے حصے کا "ماضی" دیکھ رہے ہیں۔
۔
زرا سوچیئے کہ اگر کوئی مخلوق ان دورافتادہ ستاروں پر مقیم ہو اور ان کی آنکھ سیارہ زمین اور اس میں آباد زندگی کو دیکھ سکتی ہو تو کیا عجب ہے کہ اسے آج زمین پر ڈائناسورز چلتے نظر آرہے ہوں؟ یا پھر جناح اور گاندھی تقاریر کرتے دیکھائی دیں؟ وہ آج کی تاریخ میں ہمارے ماضی کو دیکھ رہے ہوں گے۔ یعنی ہمارا حقیقی "ماضی" ان دیکھنے والو کیلئے ہمارا "حال" ہوگا اور ہمارا موجودہ "حال" ان دیکھنے والو کیلئے ہمارا "مستقبل" ! گویا جو ان کے نزدیک ہمارے ساتھ ابھی ہوا نہیں ہے بلکہ ہونا ہے وہ حقیقت میں ہمارے لئے ہوچکا ہے ! اس بات پر اپنے ایک پیارے دوست عمران شمشاد کا شعر یاد آگیا
۔
تم نے یہ ماجرہ سنا ہے کیا ؟
جو ہونا ہے ۔۔ ہوچکا ہے کیا ؟
۔
یہ جو تدبیر کررہا ہوں میں ۔۔
یہ بھی تقدیر میں لکھا ہے کیا ؟
۔
====عظیم نامہ====

Wednesday, 4 September 2019

چار بہترین پاکستانی ڈرامے


چار بہترین پاکستانی ڈرامے


انڈین لوگ بڑے فلمی ہوتے ہیں، شائد اسی لئے انکی فلمیں مشہور ہیں؟
اور ہم پاکستانی بڑے ڈرامے باز ہوتے ہیں، شائد اسی لئے ہمارے ڈرامے زیادہ مشہور ہیں؟
.
آج ہم بات کریں گے ان  ڈراموں کی ، جو روحانی اعتبار سے انسان کی تربیت کرتے ہیں.
.
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
.
صاحبو !

کہانی سننا اور کہانی سنانا غالباﹰ تاریخ انسانی کا سب سے قدیم اور سب سے محبوب مشغلہ ہے. یہی وجہ ہے کہ افراد کی اکثریت کو اگر کوئی پیغام یا سوچ منتقل کرنی ہو تو کہانی سے موثر طریق دوسرا کوئی نہیں. شاعرانہ اسلوب گو کے پسند کیا جاتا ہے مگر اس سے پیغام اخذ کرنے والے بہت قلیل ہوتے ہیں. منطقی یا فلسفیانہ انداز کو تو اور بھی کم مخصوص طبیعتیں ہی سمجھ پاتی ہیں. لہٰذا آپ کی اپنی طبیعت سے یہ حقیقت میل کھائے یا نہ کھائے، لیکن بھائی اگر عوام الناس میں تبدیلی لانی ہے تو پھر کہانی سنانی ہے. اسی کہانی کو سنانے سمجھانے کا ایک بہترین طریقہ ڈرامہ نگاری ہے.

ہم آج آپ کو چار ایسے پاکستانی ڈراموں کا مختصر تعارف دے رہے ہیں جو فی الواقع آپ کی روحانی تربیت میں معاون ہوسکتے ہیں. تو دیر کس بات کی؟ چلیئے آغاز کرتے ہیں
.
چار: خدا اور محبت
===========
.
چوتھے نمبر پر جس ڈرامے کو ہم نے رکھا ہے وہ جیو ٹی وی پر ٢٠١١ میں نشر ہونے والا ڈرامہ خدا اور محبت ہے. ہاشم ندیم صاحب کے لکھے اس ناول کو انجم شہزاد نے خوبی سے ڈائریکٹ کیا ہے. مجموعی اعتبار سے ہم اس ڈرامے کو شاہکار تو نہیں کہہ سکتے لیکن اس کے کچھ سین ضرور ایسے ہیں جو انسان کی سوچ میں انقلاب پیدا کرسکتے ہیں اور معرفت کے کچھ سوالات کو جواب فراہم کرسکتے ہیں. یہ ایک ایسے امیر زادے کی داستان ہے جو ایک مولوی صاحب کی نیک دامن بیٹی سے عشق کر بیٹھتا ہے اور اس کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑنے کو تیار ہوتا ہے. اس لڑکے نے عشق مجازی سے عشق حقیقی تک کا سفر کیسے کیا؟ عبد کی محبت سے اٹھ کر معبود کی محبت تک کیسے پہنچا؟ یہ ڈرامہ اسی کی روداد ہے. اسی ڈرامے کا ایک سین میں نے اپلوڈ کردیا ہے، لنک اسکرین پر نظر آجائے گا اور یوٹیوب ڈسکرپشن میں بھی موجود ہے. دیکھ لیجیئے
.
تیسرا: میری ذات ذرہ بے نشاں
===================
.
احباب تیسرے نمبر پر جس ڈرامے کو ہم نے جگہ دی ہے، وہ ہے میری ذات ذرہ بے نشاں. عمیرہ احمد صاحبہ کا یہ ناول بابر جاوید صاحب کی ڈائریکشن میں فی الواقع ایک بہترین ڈرامہ ہے. یہ ایک ایسی آزاد طبع ، سیکولر اور لبرل مائنڈ سیٹ رکھنے والی لڑکی کی داستان ہے جسے ایک آفرین نامی انسان سے محبت ہو جاتی ہے. آفرین خود بھی اس لڑکی سے بیحد محبت کرتا ہے اور نکاح کرنا چاہتا ہے مگر اس کے ماں باپ اس رشتے کے شدید مخالف ہوجاتے ہیں. بالخصوص اس کی متقی عبادت گزار والدہ ہرگز یہ نہیں چاہتی کہ ان کی بہو ایسی آزاد خیال مغرب زدہ لڑکی بنے. مگر کیا کیجیے ان کی ایک نہیں چلتی اور بیٹا شادی پر مصر ہوجاتا ہے. شادی کی تیاریاں ہوتی ہیں لیکن شادی کے روز لڑکے کی ماں بہت عیاری سے ایک جال بچھاتی ہے اور اس لڑکی پر ایک اور لڑکے کے ساتھ بند کمرے میں بدکاری کرنے کا الزام لگا دیتی ہے. ظاہر ہے قیامت آجاتی ہے، لڑکی اپنی ہونے والی ساس کی جانب سے لگائی اس تہمت کو مسترد کرتی ہے. اس عالم میں آفرین اپنی ہونے والی بیوی سے کہتا ہے کہ اگر وہ سچی تو قران حکیم پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائے. وہ کہتی ہے ٹھیک ہے مگر ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھتی ہے کہ لڑکے کی ماں بھی قران پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائے. اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ لڑکے کی ماں اتنے حج کر چکی ہے نمازی پرہیزگار ہے، وہ کبھی قران پر جھوٹ نہیں بولیں گی. مگر یہ دیکھ کر وہ بت بن کر رہ جاتی ہے کہ اسکی ساس بڑے دھڑلے سے قران اٹھا کر جھوٹی قسم کھا لیتی ہے. قران کے اس اکرام میں یہ لڑکی قسم نہیں کھاتی اور یوں بدکاری نہ کرکے بھی ساری دنیا کے سامنے بدکار قرار پاتی ہے. لڑکی کی شادی زبردستی ایک خبیث النفس شکی بوڑھے سے ہوجاتی ہے. یہ صدمات اس لڑکی کی زندگی کو کیسے بدل دیتے ہیں؟ کیسے ایک دنیا پرست لڑکی خدا سے قریب اور عبادت گزار بندی بن جاتی ہے؟ کیسے جھوٹ بولنے والی وہ لڑکے کی ماں اپنے ایمان و عمل کو برباد کرلیتی ہے اور بلآخر بیٹے کو موت کے وقت بتا دیتی ہے؟ یہ سب واقعات دیکھنے والے کو بہت کچھ سوچنے سمجھنے پر مجبور کردیتے ہیں.
.
دوسرا: شہر ذات
===========
.
دوسرے نمبر پر ہے ڈرامہ شہر ذات. یہ بھی عمیرہ احمد ہی کی ایک عمدہ تصنیف ہے اور ہمارے نزدیک بجا طور پر شاہکار کہلا سکتی ہے. سرمد سلطان کھوسٹ نے اسے بھرپور انداز میں ڈائریکٹ کرکے چار چاند لگادیئے ہیں. یہ ایک مذہب بیزار بلکہ ملحدہ لڑکی کی داستان ہے. جو بیک وقت اسکی محبت کی روداد بھی ہے اور معرفت الہی کا سفر بھی. فلک ایک رئیس زادی ہے جو فائن آرٹ یعنی مجسمہ سازی کی طالبہ ہے. اسے مذہب وغیرہ سب قصے کہانی لگتے ہیں، وہ اپنے خوابوں کے شہزادے کو سوچ کر ایک چہرہ بطور مجسمہ بناتی ہے. لیکن پھر ایک دن ٹھیک اسی صورت کا ایک وجیہہ مرد نظر آجاتا ہے. جس کی محبت میں وہ گرفتار ہوجاتی ہے. کوشش کے بعد اسکی شادی بھی اسی مرد سے ہوجاتی ہے. مگر پھر اسکی بے اعتنائی اور اپنے اندر کی خلش اسے پریشان کرکے رکھ دیتی ہے. وہ اپنے وجود کو سوچنے لگتی ہے، خدا کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہے. وہ خدا کیلئے روتی ہے، چلاتی ہے، حالت ہیجان میں اپنی سوسایٹی اپنی ماں تک سے دست و گریباں ہوجاتی ہے. ایسے میں جابجا اسکے ساتھ روحانی وارداتیں ہوتی ہیں. بکریاں چرانے والی عورت سے لے کر ایک مجذوب تک کئی لوگ اسے ایسے ملتے ہیں جو اسے راہ خدا میں پکا کردیتے ہیں. وہ اپنی نانی سے ایک بار پھر قران سیکھتی ہے، نماز پڑھتی ہے. مزید آپ کو نہیں بتاتا کہ اس ڈرامے کا اصل لطف اسے دیکھنے میں ہی ہے سننے میں نہیں ! نہیں دیکھا تو ضرور دیکھیئے. میں نے اس ڈرامے میں موجود کچھ بہترین مناظر کو ایک کلپ میں یکجا کردیا ہے. اس کا لنک اسکرین پر بھی آجائے گا ورنہ یوٹیوب ڈسکرپشن میں لنک موجود ہے، دیکھ لیجیئے. لطف نا آجائے تو پیسے واپس
.
پہلا: منچلے کا سودا  
=============
.
اول نمبر پر جو ڈرامہ ہے اس کے بارے میں آخر میں کیا کہوں ؟

اشفاق احمد صاحب کا تحریر کردہ ڈرامہ 'منچلے کا سودا' اور گلزار صاحب کی پیش کردہ فلم 'غالب' --- میں نہیں جانتا کہ میں کتنی بار دیکھ چکا ہوں اور جانے کتنی ہی بار پھر دیکھنا چاہوں گا. اگر آپ ادبی ذوق کے مالک ہیں یا روحانیت کے اسرار و رموز میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کے باوجود آپ نے یہ دونوں یا ان میں سے ایک شاہکار کو اب تک نہیں دیکھا ہے تو آپ کی اس محرومی پر مجھے افسوس بھی ہے اور تعجب بھی. مجھے تو اس شخص کو بھی صاحب ذوق ماننے میں تردد ہے جس نے انہیں فقط ایک بار دیکھنے پر اکتفاء کرلیا اور باطن میں دوبارہ دیکھنے کی پیاس نہ محسوس کی

یہ معرفت کے ایک مسافر کی داستان ہے. جو اپنا کروڑوں کا کاروبار چھوڑ کر بس فقیری اختیار کرنا چاہتا ہے. اسکے لئے وہ در در بھٹکتا ہے اور ہر اس نیک انسان کو اپنا روحانی استاد بنا لیتا ہے جو چھپا ہوا فقیر ہے. پھر وہ ڈاکیہ ہو یا موچی. گڈریا ہو یا جھاڑو لگاتا ہوا خاکروب. یہ ان سب کے قدموں میں بیٹھتا ہے. یہ سب اسے کہتے ہیں کہ واپس لوٹ جا اپنی دنیا میں چھوڑ دے یہ خیال. یہ اتنا آسان نہیں. مگر اس کے اندر کی بیچینی اور طلب اسے مزید سرگرداں رکھتی ہے. سکی بوڑھی ماں اور دوست احباب سب پریشان ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ نفسیاتی مریض بن چکا ہے. شیطان اسے طرح طرح سے لالچ دیتا ہے. خدا کی جانب سے بھی کئی امتحانات سے گزرتا ہے. معرفت کے اسی سفر میں کئی سال سائنسدان بنتا ہے، دنیا بھر کے اہل علم سے ملتا ہے. بلآخر اپنی منزل پالیتا ہے. کیسے ؟ کن مراحل سے ؟ یہ سب تو دیکھ کر ہی معلوم ہوسکتا ہے.
دوستو میں نے تصوف کو بہت پڑھا ہے اور کسی حد تک خود کو بھی اس سے گزارا ہے. شیخ ابن عربی کی فتوحات مکیہ سے لے کر غزالی کی احیاء العلوم تک. شاہ ولی اللہ کی حجت اللہ البالغہ سے لے کر عبدالقادر جیلانی کی تصنیف تک میں نے بیسیوں کتب کا مطالعہ کیا ہے. اس سب کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ تصوف اور روحانیت کو جس عمدہ اسلوب میں اس ڈرامے کے اندر بیان کیا گیا ہے اسکی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی. اگر یہ ڈرامہ آپ نے نہیں دیکھا ہے تو ضرور دیکھیں. اگر دیکھ لیا ہے تو پھر دوبارہ اور پھر سہہ بارہ دیکھیں کہ یہ نایاب ڈرامہ اسی توقیر کا مستحق ہے. اس ڈرامے کے کچھ کلپ میں یوٹیوب ڈسکرپشن میں دے رہا ہوں، اسے ایک نظر دیکھ لیجیئے
.
دوستو اچھا مضمون، اچھا ڈرامہ یا اچھا ناول وہ نہیں جو آئینے کی طرح اس مجرم معاشرے کا سچا عکاس ہو. بلکہ ہماری دانست میں اچھا وہ ہے جو عکاسی کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کے کریہہ چہرے کی کسی درجے اصلاح بھی کرتا ہو. اگر آپ کو میری یہ ویڈیو پسند آئی ہے تو اسے لائیک اور شیئر کریں. یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنا نا بھولیں. جیسے ہی سبسکرائب کریں گے تو گھنٹی کا نشان نظر آئے گا اسے بھی دبا دیجیئے تاکہ میری آئندہ آنے والی ویڈیوز بھی آپ تک پہنچتی رہیں. تب تک کیلئے اللہ نگہبان !
.
====عظیم نامہ====

Friday, 16 August 2019

مکہ کا ذکر سابقہ صحائف میں کیوں نہیں ملتا





مکہ کا ذکر سابقہ صحائف میں کیوں نہیں ملتا

.

سوال:
کعبہ یا مکہ کا ذکر سابقہ صحائف میں کیوں نہیں ملتا؟ عیسائی اور یہود کے یہاں اسے مقدس مقام کا درجہ کیوں نہیں دیا جاتا؟
.
جواب:
.
سب سے پہلے تو یہ جان لیجیئے کہ مکہ کا پرانا نام بکہ تھا. ٹھیک ویسے ہی جیسے مدینہ کا پرانا نام یثرب یا کراچی کا پرانا نام کولاچی ہوا کرتا تھا. گویا مکہ اور بکہ درحقیقت ایک ہی مقام کے دو نام ہیں. یہی وجہ ہے کہ دونوں نام پڑھنے سننے میں بھی ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں. جب یہ بات سمجھ آگئی تو جان لیں کہ بائبل میں بکہ کا واشگاف الفاظ میں ذکر موجود ہے. غور سے "پی سالم (زبور ٨٤) کے ایک ایک لفظ کو دھیان سے پڑھیں:
.
"اے رب الافواج، اے میرے بادشاہ اور خدا، تیری قربان گاہوں کے پاس پرندے کو بھی گھر مل گیا، ابابیل کو بھی اپنے بچوں کو پالنے کا گھونسلا مل گیا ہے۔
.
مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں بستے ہیں، وہ ہمیشہ ہی تیری ستائش کریں گے۔ (سِلاہ) مبارک ہیں وہ جو تجھ میں اپنی طاقت پاتے، جو دل سے تیری راہوں میں چلتے ہیں۔
.
وہ بکا کی خشک وادی میں سے گزرتے ہوئے اُسے شاداب جگہ بنا لیتے ہیں، اور بارشیں اُسے برکتوں سے ڈھانپ دیتی ہیں۔
.
وہ قدم بہ قدم تقویت پاتے ہوئے آگے بڑھتے، سب کوہِ صیون پر اللہ کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔
.
اے رب، اے لشکروں کے خدا، میری دعا سن! اے یعقوب کے خدا، دھیان دے! (سِلاہ)

اے اللہ، ہماری ڈھال پر کرم کی نگاہ ڈال۔ اپنے مسح کئے ہوئے خادم کے چہرے پر نظر کر۔
تیری بارگاہوں میں ایک دن کسی اَور جگہ پر ہزار دنوں سے بہتر ہے۔ مجھے اپنے خدا کے گھر کے دروازے پر حاضر رہنا بےدینوں کے گھروں میں بسنے سے کہیں زیادہ پسند ہے۔
.
کیونکہ رب خدا آفتاب اور ڈھال ہے، وہی ہمیں فضل اور عزت سے نوازتا ہے۔ جو دیانت داری سے چلیں اُنہیں وہ کسی بھی اچھی چیز سے محروم نہیں رکھتا۔
.
اے رب الافواج، مبارک ہے وہ جو تجھ پر بھروسا رکھتا ہے!"
.
احباب دل پر ہاتھ رکھ کر اور عقیدت سے بالاتر ہو کر بتایئے کہ کیا آپ کو مندرجہ بالا آیات پڑھ کر یہ یقین نہیں ہوتا کہ یہاں تفصیل شہر مکہ کی بیان ہورہی ہے؟ اور اسے بکا یا بکہ پکارا جا رہا ہے؟ وہی پرندوں (ابابیل) کا ذکر، فوجوں کی بات، وہی مکہ کی خشک وادی کی شادابی کا ذکر، وہی وہاں خدا کے گھر کی بات، وہی مسح کیئے خادم یعنی باوضو کا ذکر وہی اس مقام پر حاضری کو ہزار دن سے بہتری کی بات. کم از کم ایک مسلم ذہن کو اس کے بعد کوئی شبہ باقی نہیں رہتا.
.
مگر ہم نے یہ کہاں سے اخذ کرلیا کہ قران کے مطابق مکہ ہی بکہ تھا ؟ تو اس کا واضح جواب ہمیں قران حکیم خود اپنی سورہ آل عمران کی ٩٦ آیت میں کچھ یوں دے دیا ہے کہ
.
"اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو "بکہ" (مکہ) میں ہے جو تمام دنیا کے لئے برکت وہدایت واﻻ ہے"

.
گویا مکہ کے بیان کیلئے قران مجید نے خود بکہ لفظ کو من و عن استعمال کرکے اس پر مہر صادق کردی. یہاں دھیان رہے کہ اس وقت کے یہود و عیسائی مخاطبین کیلئے سنہرا موقع تھا کہ اگر وہ اس قرانی دعوے کو جھوٹ سمجھتے تو آگے بڑھ کر اعتراض کرتے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ایسا نہیں ہوا. حالانکہ بہت سے مختلف اعتراضات اور الزامات جو اہل کتاب نزول وحی کے دوران اٹھاتے رہے وہ ہمارے پاس موجود ہیں. اس معاملے میں ان کا اعتراض یا رد پیش نا کرنا دراصل اسے تسلیم کرنے کے مترادف ہے .یہ بھی دیکھیئے کہ اس علاقے کی قدیم زبانوں میں ''بکّ'' شہر یا بستی کو کہتے تھے جیسے بعلبکّ یعنی بعل دیوتا کی بستی۔ ماہرین لسانیات کے بقول بعض لہجوں میں یہ لفظ''بغ'' بن گیا ہے، جیسے بغداد۔ اسی سے فارسی میں لفظ باغ وجود پذیر ہوا ہے۔ قرآن نے مکہ کو 'بکہ' اور 'ام القری' پکار کر اسی حقیقت کی یاددہانی کرائی ہے۔
.
بائبل کی "جینیسس (پیدائش)" میں درج چند اور آیات ملاحظہ کریں جس میں بی بی ہاجرہ کا اپنے بیٹے کے ساتھ قصہ بیان ہوا ہے اور اس کنوئیں کا ذکر ہوا جسے ہم مسلمان آج "زم زم کا کنواں" کہتے ہیں.
.
" اور جب مشک کا پانی ختم ہوگیا تو اُس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے نِیچے ڈالدیا ۔ اور آپ اُسکے مقابل ایک تیِر کے ٹپّے پر دُور جا بِیٹھی اور کہنے لگی کہ مَیں اِس لڑکے کا مرنا تو نہ دیکھوں ۔ سو وہ اُسکے مُقابل بَیٹھ گئی اور چلاّ چِلاّ کر رونے لگی۔ اور خُدا نے اُس لڑکے کی آواز سُنی اور خُدا کے فرشتہ نے آسمان سے ہاجؔرہ کو پُکارا اور اُس سے کہا اَے ہاجرؔہ تجھ کو کیا ہُوا؟ مت ڈر کیونکہ خُدا نے اُس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اُسکی آواز سُن لی ہے اور اُسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کیونکہ مَیں اُسکو ایک بڑی قوم بناؤنگا۔ پِھر خُدانے اُسکی آنکھیں کھو لیں اور اُس نے پانی کا ایک کُوآں دیکھا اور جا کر مشک کو پانی سے بھر لِیا اور لڑکے کو پِلایا۔"
.
یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کعبہ یا مکہ کا سفر کئی سابقہ رسولوں نے تو کیا ہے مگر بحیثیت امت یہاں کا سفر (حج) صرف امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے. تحریر طوالت اختیار کرتی جارہی ہے. گو اس پر کافی کچھ لکھنا ممکن ہے. ہم یہ سمجھتے ہیں کہ درج بالا تفصیل پڑھنے کے بعد قارئین کی اکثریت کو یہ اطمینان حاصل ہوگیا ہوگا کہ وادی مکہ، آب زم زم، کعبہ کے حج وغیرہ کے بارے میں واضح اشارے بائبل میں آج بھی موجود ہیں. گو ظاہر ہے کہ اہل کتاب آج مکہ کو بکہ ماننے سے انکاری ہیں اور ان کے مختلف محققین مختلف مقامات کو بکا سے تعبیر کرتے ہیں. گو ان کا آپس میں کسی ایک مقام پر اتفاق نہیں ہے. اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر سب کا اتفاق نہیں ہے تو پھر اہل کتاب میں کچھ محقق ایسے کیوں نہ پیدا ہوئے جن کی غیر جانبدار تحقیق اس خاص موضوع پر انہیں قرانی بیان کے قریب لے آتی؟ یعنی وہ مکہ ہی کو بکہ تسلیم کرتے؟ اس کا جواب ہے کہ بالکل ایسے غیرمسلم محققین موجود ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مکہ دراصل پرانا بکہ ہے.
.
ایک نمائندہ مثال یہودی محقق "اوی لپکن" ہیں جن کی کتاب "مکہ کو لوٹ چلو" (ریٹرن ٹو مکہ) کے نام سے شائع ہوچکی ہے. سرورق پر انہوں نے کعبہ کی بناء غلاف والی تصویر لگا رکھی ہے. ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون سے نجات حاصل کی تو بنی اسرائیل کو ایک خاص سیاہ چوکور کعبہ کی شکل کا نشان تعویز کی صورت پیشانیوں پر پہنایا جو دراصل اس بات کی علامت تھا کہ ہم پیرامڈ ٹرائی اینگل سسٹم چھوڑ کر آزادی کے کیووب سسٹم میں داخل ہو رہے ہیں. آج تک ہم یہودی اسے مخصوص مقامات و اوقات میں پہنا کرتے ہیں (تصاویر انٹرنیٹ پر موجود ہیں). وہ اسی مخصوص شکل کے تعویز کا ذکر حضرت عیسیٰ الیہ السلام سے بھی بائبل کی آیت سے ثابت کرتے ہیں. ان کے بقول موسیٰ. ہارون، شعیب علیہ السلام اجمعین سب کعبہ کے پاس موجود تھے جو آج مکہ کہلاتا ہے. جیسا کہ بائبل میں اس مقام کو صحرائی بتایا گیا ہے تو اس سے مراد مکہ ہے. ان کے بقول جب موسیٰ علیہ السلام کو قتل کے الزام میں مصر سے جانا پڑا تو انہیں خوب معلوم تھا کہ وہ مکہ کے علاقے جا رہے ہیں جہاں وہ شعیب علیہ السلام کے ساتھ سالوں رہے. ان کے بقول اس دعوے کے ثبوت میں وہ بہت سے آثار قدیمہ پیش کرنے پر قادر ہیں.
.
وہ بائبل سے بیان کرتے ہیں کہ کیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا کہ بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ جانے دیا جائے تاکہ وہ صحرا میں جا کر گول چکر کاٹیں. اسی کو بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ "حج" جس میں طواف کیا جاتا ہے اس کا مصری تلفظ "حگ" ہے اور بائبل کی اصل زبان عبرانی میں "حگ" کا ایک مطلب یہی طواف یعنی گول گھومنا ہے. یہ بھی ایک قابل غور بات ہے کہ کعبہ کی شکل کا وہ تعویز جو یہودی اپنی پیشانی یا بازو پر امام ضامن کیطرح باندھتے ہیں، اس میں وہ اہتمام کرتے ہیں کہ اسے طواف کعبہ ہی کے جیسے ٹھیک سات مرتبہ گھما کر باندھا جائے. ساتھ ہی مصنف یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ وہاں قربانی بھی دی جاتی ہے.
.
یہ سب پڑھ کر ممکن ہے کہ کوئی قاری اس یہودی مصنف کے بارے میں یہ گمان کرے کہ یہ یا تو مسلمانوں کے ہاتھ بکا ہوا ہے یا ان کا کوئی ہمدرد ہے. قطعی نہیں ! بلکہ "اوی لپکن" ایک کٹر اسلام دشمن ہے جو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا ہے. وہ صاف الفاظ میں کہتا ہے کہ میرے لوگ یہود و عیسائی ہیں اور اس کی خواہش فقط اتنی ہے کہ مسلمانوں سے مکہ چھین کر واپس حاصل کیا جائے کیونکہ اس پر ان کا نہیں یہود و نصاریٰ کا حق ہے. یہ مسلمانوں کو شیطان کا پیرو کہتا ہے اور اللہ کو وہ شیطان قرار دیتا ہے معاذ اللہ ثم معاذ اللہ. ایک مسلم کیلئے اس کی یہ خباثت و جسارت اپنی جگہ قابل نفرت ہے مگر اس سے یہ سچائی نہیں بدلتی کہ اسکی بیان کردہ تحقیق نے ایک مختلف زاویئے سے اسلام کی حقانیت یا مکہ کی حقیقت کو ثابت کیا ہے. ہم مسلمانوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد پاک یاد ہے جس میں آپ نے اہل کتاب سے فرمایا کہ
.
"ہم تم سے بھی زیادہ موسیٰ علیہ السلام پر دعویٰ رکھتے ہیں ....." (صحیح بخاری کتاب ٣ حدیث ٢٢٢)
.
====عظیم نامہ====