Wednesday, 9 January 2019

کیا ہوا جو آج سائنس کے پاس جواب نہیں

کیا ہوا جو آج سائنس کے پاس جواب نہیں ؟


کچھ منکرین خدا جب تخلیق کائنات کی کوئی سائنسی توجیہہ نہیں پیش کرپاتے تو جھنجھلا کر کہتے ہیں کہ کیا ہوا جو آج سائنس کے پاس جواب نہیں ہے؟ مگر کل ضرور ہوگا. جیسے فلاں اور فلاں بات کا جواب گزرے کل میں نہیں تھا مگر آج سائنس کے پاس ہے. گویا ان عقلمندوں کے بقول کل سائنس یہ بھی بتائے گی کہ کائنات کو یا انسان کو کس نے بنایا؟ اور کیوں بنایا؟ حالانکہ ایسا دعویٰ سراسر خود کو اور دوسرے کو دھوکہ دینے کے مصداق ہے. یہ سائنس کا "ڈومین" ہے ہی نہیں کہ وہ کون؟ اور کیوں؟ کی توجیہہ بیان کرسکے. نہ ہی وہ اس سمت میں کام کررہی ہے. مذہب کے علاوہ اگر کوئی ان سوالات کو کھوجنے کی سعی کرتا ہے تو وہ فلسفہ ہے سائنس نہیں. سائنس کا فوکس صرف اس حد تک محدود ہے کہ وہ پہلے سے موجود مادی اصولوں کو دریافت کرے اور ان کی بنیاد پر ہمیں یہ بتانے کی کوشش کرے کہ کائنات کیسے بنی؟ یا انسان کیسے اور کتنے مراحل سے گزرا؟ وہ قطعی یہ نہیں بتاسکتی کہ کائنات یا انسان کو بنانے والا کون ہے؟ کس نے بنایا؟ کیوں بنایا؟ - وہ صرف ان سوالوں سے یہ کہہ کر فرار اختیار کرسکتی ہے کہ شائد یہ سب بناء بنانے والے کے بن گیا ہو؟ یا پھر درخت، پھل، دریا، سمندر، جنگل، مٹی، سورج، چاند، آنکھیں، ناک، کان، دل، گردے، دماغ ان سب کا تو متعین مقصد ہو مگر ان سب میں شاہکار تخلیق انسان کا کوئی مقصد نہ ہو. وہ اپنے نت نئے رنگ برنگے مقصد کو خود ایجاد کرتا ہو. الغرض سائنس نہ آج کیوں؟ اور کون؟ کا جواب دیتی ہے اور نہ ہی ہزار سال بعد کبھی اس کا جواب دے سکتی ہے. سائنس سے اسکے دائرے سے باہر کی امید رکھنا ایسا ہی غیر منطقی ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ کل شعراء اور مصور مریخ پر جانے والی سواری بنالیں گے یا کوانٹم مکینکس کے کچھ نئے اصول دریافت کریں گے.
.
====عظیم نامہ====

"پی ڈی ایف"


"پی ڈی ایف"


مان لیا کہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اور جدت کو اپنانا وقت کے ساتھ چلنے کیلئے شائد لازمی ہے۔ مگر سچ پوچھیئے تو "پی ڈی ایف" کو کتاب کا متبادل بنادینا ہمارے ذوق کو کبھی گوارا نہیں ہوا۔ یہ درست ہے کہ پی ڈی ایف نے پڑھنے والو کیلئے مطالعہ مفت بنا چھوڑا ہے۔ مگر سارے جہاں میں خرچہ کرنے والے کی بھی ایک کتاب خریدتے ہوئے جان نکلنا؟ سمجھ سے باہر ہے۔
۔
صاحبو کتاب پڑھنا فقط کوئی میکانکی عمل یا ذہنی ورزش تو نہیں؟ یہ تو ایک ایسا حسین جذباتی تعلق ہے جو پڑھنے والے کو ایک نئے احساس سے روشناس کراتا ہے۔ اس کا ہاتھ محبت سے تھام کر اسے ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے۔ کبھی کرسی پر بیٹھ کر، کبھی صوفے پر کسی تکیئے سے ٹیک لگا کر، کبھی بستر پر دراز ہوکر کتاب کو پڑھتے پڑھتے خیالات کی نگری میں چپکے سے داخل ہوجانا، کتاب کے کرداروں کو اپنے ذہن میں خود ایک تصویر عطا کرنا۔ یہ سب کیسا دلفریب ہے؟ پینسل سے منتخب جملوں پر نشان لگانا، مختصر نوٹس بنانا، یونہی پڑھتے ہوئے کبھی اونگھ جانا، صفحات کا لمس انگلیوں سے محسوس کرنا اور پرانے کاغذ کی بھینی خوشبو کا احساس ۔ یہ سب کسی 'پی ڈی ایف' سے کیونکر حاصل ہوسکتا ہے؟ کتاب کا پیغام پی ڈی ایف کے ذریعے شائد حاصل تو ہوسکتا ہے مگر جذب ہرگز نہیں ہوسکتا۔
۔
====عظیم نامہ====

اپنی بیوی کے سامنے

اپنی بیوی کے سامنے


یہ حقیقت ہے کہ مرد چاہے کتنا ہی لمبا چوڑا اور طاقتور کیوں نہ ہو؟ اگر شریف ہے تو جلد یا بدیر اپنی بیوی کے سامنے دب ہی جاتا ہے. اس میں نہ مہاجر، سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان کی تخصیص ہے اور نہ ہی پاکستانی، امریکی، جاپانی یا یورپی کی. عورت کی اپنی ہی لاجک ہوتی ہے، جس کا عمومی لاجک سے دور دور تک کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا. ایک شریف مرد بہت جلد یہ جان جاتا ہے کہ وہ کتنا بڑا علامہ ہی کیوں نہ ہو؟ بحث کرکے اپنی بیوی سے کبھی نہیں جیت سکتا. انگلینڈ آکر مجھے دیوقامت افریقی مردوں سے یہ امید تھی کہ ان مسٹنڈوں کے سامنے ان کی بیویاں سنبھل کر رہتی ہونگی. مگر جب ان کی سیاہ فام عورتوں کو دیکھا تو الامان الحفیظ ! .. سات فٹ کا کسرتی افریقی مرد اپنی بیوی کے سامنے ایسے منمنا رہا ہوتا ہے کہ کیا کوئی بکری کا میمنا خونخوار بھیڑیئے کے سامنے منمناتا ہوگا؟ اور ان کی عورتیں ایسی بلند کرخت آواز میں ان کی خبر لیتی ہیں جیسے کوئی سخت مزاج پرنسپل اپنے اسکول کے نالائق ترین طالبعلم کے کان کھینچ رہی ہو. 😂🤣
.
====عظیم نامہ====

مجھے کام بتاؤ ! میں کیا کروں؟ میں کس کو کھاؤں؟


مجھے کام بتاؤ ! میں کیا کروں؟ میں کس کو کھاؤں؟

.
اپنا کھانا مکمل ختم کرنا بھی سنت ہے اور پیٹ میں کچھ خالی جگہ چھوڑ دینا بھی سنت ہے۔ ہمارے ماحول میں ہم سب کا زور اس پہلی سنت پر ہی رہتا ہے اور دوسری سنت ہم میں سے اکثر کیلئے اجنبی ہے۔ یہ تو درست ہے کہ کھانا پلیٹ میں نکالنا ہی اتنا چاہیئے جتنا ہم باآسانی ختم کرسکیں۔ مگر کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے کہ کوئی دوسرا ہماری پلیٹ بھر کر لادیتا ہے یا میزبان کچھ کباب وغیرہ زبردستی پلیٹ نیں ڈال دیتا ہے یا کسی ریسٹورنٹ میں توقع سے زیادہ کھانا آرڈر ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں بچپن سے سنت کا کہہ کر ایسی تربیت دی گئی ہے کہ اگر پیٹ پھٹنے کو بھی آرہا ہو تب بھی ہم باقی کھانے کو حلق میں ٹھونس ٹھونس کر نگل لیتے ہیں۔ اگر پلیٹ پوری نہ ہو پائے تو والدین یا بڑوں کی جانب سے صومالیہ یا تھر وغیرہ کے قحط زدہ بچوں کی مثال دے کر شرمندہ کیا جاتا ہے کہ اپنا کھانا ختم کرو۔ (جیسے ہمارے زیادہ کھالینے سے ان کے پیٹ بھر جائیں گے؟) ہمارے نزدیک یہ اپروچ درست نہیں بلکہ اس دوسری اہم تر سنت کا خون ہے، جسکے مطابق ہمیں پیٹ کو خوراک سے لبالب نہیں بھرنا بلکہ بھوک کا ایک حصہ باقی رہنے دینا ہے۔ ایسی غیر متوقع صورت میں جب پیٹ بھرنے کے بعد بھی کھانا موجود ہو تو بہتر ہے کہ اسے پیک کروا کر گھر لے جائیں یا کسی ضرورتمند کو دے دیں یا پھر اسے کسی ایسے مقام پر ڈال دیں جہاں وہ جانوروں یا کیڑوں کی خوراک بن سکے. اگر بالفرض ایسی کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو اور تھوڑا کھانا بحالت مجبوری بچ رہا ہو تو ہمارے نزدیک خوراک کو زبردستی حلق تک لاد لینے سے اس کا چھوڑ دینا افضل ہے. بس آئندہ کیلئے شرمندگی کے ساتھ، ایسی صورتحال سے اجتناب کی نیت کرلی جائے.
.
دھیان رہے ہمارا مقصد کھانا چھوڑنے یا ضرورت سے زیادہ پلیٹ بھر لینے کی حوصلہ افزائی قطعی نہیں بلکہ دو سنتوں کے مابین توازن برقرار رکھنے کا ہے. ایسی صورت سے بچنے کیلئے ایک فیصلہ جو میں نے حال ہی میں اپنایا وہ یہ ہے کہ اب میں برگر وغیرہ کے ساتھ چپس آرڈر نہیں کرتا. کیونکہ ایک سے زائد بار ایسا ہوا کہ میرا پیٹ اتنا بھر گیا کہ چپس ختم کرنا نہایت دشوار لگنے لگا. اسی طرح کے اقدام اپنے انفرادی تجربات کی روشنی میں ہم سب کرسکتے ہیں. اسی حوالے سے ایک لطیفہ یاد آگیا. کسی نے واقعہ سنایا کہ ایک شادی میں کسی مولوی صاحب نے بہت سا کھانا پلیٹ میں چھوڑ دیا
اب لوگ کہاں باز آتے ہیں ؟ فوری ٹوک دیا کہ ... 'مولانا پلیٹ صاف کرنا "سنت" ہے' ..
مولوی صاحب نے بیچارگی سے توند پر ہاتھ پھیرا اور لاچارگی سے منمنا کر بولے ... 'مگر جان بچانا "فرض" ہے'
.
====عظیم نامہ=====

حلال کو حرام بنا دینا

حلال کو حرام بنا دینا


جس قدر ہولناک جرم کسی حرام کو حلال قرار دینا ہے اتنا ہی خبیث جرم کسی حلال کو حرام بنا دینا بھی ہے۔ افسوس کہ کچھ نام نہاد متقی حضرات کا بس نہیں چلتا کہ وہ انڈے کو بھی یہ کہہ کر حرام کردیں کہ یہ گستاخ دار الکفر کی مرغی سے برآمد ہوا ہے۔ چوبیس گھنٹے ان کا کام یہی ہے کہ یہ مباحات میں بھی حرام کا حکم لگاتے رہیں۔ ٹیلی اسکوپ لے کر ہر کمپنی، چاکلیٹ اور مشروب کا پوسٹ مارٹم فرماتے ہیں اور بناء کسی ٹھوس ثبوت کے، لوگوں میں مختلف اشیاء کے حرام ہونے کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ ان میں ایک فیصد لوگ بھی ایسے دستیاب نہیں ہوتے جو ان اشیاء کے حرام ہونے کو عدالت میں ثابت کرسکیں۔ انہیں تو چاہیئے کہ اگر یہ اپنے دعووں میں سچے ہیں تو عدالت جائیں، ثبوت فراہم کریں، میڈیا کوریج حاصل کریں تاکہ ایسے کسی ممکنہ دھوکے پر روک لگ سکے؟ مگر نہیں ! یہ ایسا نہیں کرتے۔ ان کا طریقہ واردات تو بس سوشل میڈیا پر گمنام پوسٹ بنا کر یا وہڈیو ریکارڈ کرکے پتلی گلی سے نکل لینا ہے۔ دور خلافت میں اگر کوئی ایسی بے پرکی اڑاتا یا ایسی حدیث سناتا جس کے اثبات میں تین گواہ موجود نہیں تو اسے کوڑے لگائے جاتے تھے۔ اب حال یہ ہے کہ خود ساختہ محقق بن کر بناء ٹھوس ثبوت کے چیزوں کو مزے سے حرام قرار دے ڈالتے ہیں اور اس کریہہ عمل کو دین کی خدمت سمجھنے کی خوش فہمی بھی پال لیتے ہیں۔
۔
====عظیم نامہ====

بسنت

بسنت

علاقائی ثقافت اور ثقافتی تہوار کسی بھی ملک کا حسن ہوا کرتے ہیں. اسی ثقافتی حسن کی کشش لوگوں کو مختلف ممالک گھومنے پر مجبور کرتی ہے. بعض اوقات ان کی جڑیں کسی مذہب سے جا جڑتی ہیں اور کبھی یہ ہر مذہب سے ماوراء ہوا کرتی ہیں. "بسنت" ایک ایسی ہی ثقافتی روایت ہے جسے زبردستی مذہب سے نتھی کرنا یا مذہب کے خلاف بتانا ہماری احقر رائے میں درست نہیں. البتہ اس بات کے ہم پرزور حامی ہیں کہ بسنت کے دوران حکومتی سطح پر ہر طرح کی حفاظتی تدابیر اپنائی جائیں، مہلک اشیاء جیسے کانچ کے مانجھوں پر پابندی لگائی جائے، رہائشی گنجان علاقوں سے باہر اس کا اہتمام ہو اور قانونی خلاف ورزی کرنے والو کو گرفتار کیا جائے. ہر بسنت کو کئی افسوسناک حادثے دیکھنے میں آتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے بقرعید پر بہت سے حادثوں میں لوگ زخمی ہوتے ہیں بلکہ جان سے بھی چلے جاتے ہیں. ان افسوسناک حادثوں کو بنیاد بنا کر مکمل پابندی لگا دینا شائد درست اپروچ نہیں. اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ آخری درجے میں حفاظتی تدابیر اپنائی جائیں تاکہ ایسے حادثے نہ ہو یا کم سے کم ہوں.
.
====عظیم نامہ====

اگر اللہ سب کو دولتمند بنادیتا تو

اگر اللہ سب کو دولتمند بنادیتا تو


سوال:
کسی نے سوال کیا ہے کہ اگر اللہ سب کو دولتمند بنا دیتا تو اس کے خزانے میں کون سی کمی آجاتی؟ اس سوال کا کیا جواب دیا جائے؟
۔
جواب:
سوال یہاں تک ہی کیوں محدود ہو کہ اگر اللہ سب کو دولتمند بنادیتا تو اس کے خزانے میں کون سی کمی آجاتی؟
یہ کیوں نہیں کہ
اگر اللہ سب کو صحتمند بنادیتا تو اس کے خزانے میں کون سی کمی آجاتی؟
اگر اللہ سب کو حسین و جمیل بنادیتا تو اس کے خزانے میں کون سی کمی آجاتی؟
اگر اللہ سب کو طاقتور بنادیتا تو اس کے خزانے میں کون سی کمی آجاتی؟
اگر اللہ سب کو صاحب اقتدار بنادیتا تو اس کے خزانے میں کون سی کمی آجاتی؟
وغیرہ وغیرہ ؟
.
میرے رفیق دراصل سوال خزانے میں کمی یا اضافے کا ہے ہی نہیں. سوال ہے اس 'امتحان' کے اصول کا جس کے تحت یہ دنیا کی بساط بچھائی گئی ہے. انسانی رویوں کا امتحان اسی وقت ممکن ہے جب ایک کشمکش بپا ہو. جب کسی کو دے کر آزمایا جائے اور کسی سے لے کر آزمایا جائے. کسی وقت عطا کرکے آزمایا جائے اور کسی وقت چھین کر آزمایا جائے. کس کو کس سے نوازنا ہے؟ اور کس کو کس سے محروم کرنا ہے؟ کس کو کتنا دینا ہے؟ اور کس کو بالکل نہیں دینا ہے؟ اس کا فیصلہ اسی دانشمند پر چھوڑنا درست ہے کہ جس کی دانش اس پورے کائناتی گرینڈ پلان کے پیچھے ہے. ہم سب اس تصویر کائنات کے معمولی پکسل ہیں. پوری تصویر تو اسی بزرگ و برتر کے سامنے ہے جو المصور ہے. ہمیں فقط اپنے رویئے کو اپنے موجود حالات کی مناسبت سے بہترین بنانا ہے. اگر سب ہی امیر ہوتے تو یہ کیسے دیکھا جاتا کہ کون غریب کا سہارا بنتا ہے؟ کون غریب کا استحصال کرتا ہے؟ اور کون غربت میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑتا؟ .. اگر سب ہی صاحب اقتدار ہوتے تو یہ کیسے دیکھا جاتا کہ کون اپنے ماتحت سے کیسے پیش آتا ہے؟ کون رحم و انصاف کا حامل بنتا ہے؟ اور کون ظالم کہلاتا ہے؟ .. باقی ہمیں بتادیا گیا ہے کہ روز حشر کسی سے احقر ترین درجے میں بھی ناانصافی نہیں ہوگی. گویا ہر شخص سے حساب اس کی موجود صلاحیتوں اور مواقع کی مناسبت سے لیا جائے گا.
.
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَO
.
’’اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں‘‘۔ (البقرة،2: 155)

.
ایک بار پھر بتا دوں کہ یہ دنیا 'انصاف' کے اصول پر نہیں بنائی گئی ... 'امتحان' کے اصول پر بنائی گئی ہے. اس دنیا میں مکمل انصاف کا تصور بھی ناممکن ہے. یہاں تو مشاہدہ یہ ہے کہ ظالم طاقت و اقتدار کے نشے میں چور رہتا ہے اور مظلوم، استبداد کی چکی میں پستا ہی جاتا ہے. یہاں اکثر حرام کھانے والا عیاشیوں کا مزہ لوٹتا ہے اور محنت کش پر زندگی کی بنیادی ضروریات بھی تنگ ہو جاتی ہیں. کتنے ہی مجرم، فسادی اور قاتل کسی عدالت کی پکڑ میں نہیں آتے. ایک مثال لیں، اگر ایک بوڑھا شخص کسی نوجوان کو قتل کردیتا ہے اور مان لیں کہ وہ پکڑا بھی جاتا ہے. عدالت اسے اسکی جرم کی بنیاد پر سزاۓ موت بھی نافز کردیتی ہے. اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ انصاف ہے ؟ کہنے کو تو قاتل کو قتل کے بدلے میں قتل کردیا گیا ؟ مگر کیا یہی انصاف کی مکمل صورت ہے ؟ قاتل تو ایک بوڑھا شخص تھا ، جو اپنی زندگی گزار چکا تھا. جبکہ مقتول ایک نوجوان تھا ، اسکی پوری زندگی اسکے سامنے تھی. ممکن ہے کہ اسکی اچانک موت سے اسکی بیوی بے گھر ہوجاۓ ، اسکے یتیم بچے باپ کا سایہ نہ ہونے سے آوارگی اختیار کرلیں. کیا یہی حقیقی انصاف ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں. یہی وہ صورتحال ہے جو انسان میں یہ فطری و عقلی تقاضا پیدا کرتی ہے کہ کوئی ایسی دنیا و عدالت برپا ہو جہاں انصاف اپنے اکمل ترین درجے میں حاصل ہو. جہاں بد کو اسکی بدی کا اور نیک کو اسکی نیکی کا پورا پورا بدلہ مل سکے. دین اسی عدالت کی خبر 'روز حساب' کے نام سے دیتا ہے اور اسی دنیا کی بشارت جنت و دوزخ سے دیتا ہے.
.
ایک آخری زاویہ یہ بھی دیکھ لیجیئے کہ یہ کائنات مجموعہ اضداد ہے. یہاں ہر شے کا وجود اسکی ضد سے ہے. اگر تاریکی نہ ہو تو روشنی کا کیا تصور؟ اگر تکلیف نہ ہو تو راحت کے کیا معنی؟ اگر بدصورتی نہ ہو تو خوبصورتی کو کون سراہے گا؟ اگر بیماری کا وجود نہ ہو تو صحت کو نعمت کون تسلیم کرے گا؟ اور اگر موت ہی نہ ائے تو زندگی کی تمنا کسے ہوگی؟ .. ہر چیز کا وجود اسکی ضد سے منسلک ہے. اگر اس دنیا میں ضد موجود نہ ہو تو آپ کو یہ دولت، طاقت، صحت وغیرہ نعمت ہوکر بھی نعمت محسوس نہ ہوں.
۔
====عظیم نامہ====
۔
(نوٹ: یہ بھی دھیان رہے کہ شرعی اعتبار سے اس دارالاسباب میں ہر ایک کوشش کا مکلف ہے۔ گویا فراخی رزق کی کوشش کیئے بناء غربت سے نکلنے کی امید اتنی ہی غلط ہے۔ جتنی بناء دوا لیئے کینسر یا دیگر مہلک بیماری کے دور ہوجانے کی تمنا
)