Wednesday, 9 January 2019

'میٹا فزکس' یعنی 'مابعد الطبیعات' علم کیا ہے؟

'میٹا فزکس' یعنی 'مابعد الطبیعات' علم کیا ہے؟

.
اس عنوان پر قلم کشائی سے قبل ہماری دانست میں کچھ تمہید لکھنا بہتر ہے. بحیثیت مسلمان ہم سب قران حکیم کو اللہ رب العزت کا کلام مانتے ہیں. قران مجید میں سورہ الفاتحہ درحقیقت دعا ہے اور پھر سورہ البقرہ سے لے کر سورہ الناس تک سارا کا سارا قران اس دعا کا جواب ہے. گویا سورہ الفاتحہ میں ہم 'ہدایت' کا سیدھا راستہ مانگتے ہیں اور سورہ البقرہ کے آغاز ہی میں یہ بتادیا جاتا ہے کہ یہ قران ہر صاحب تقویٰ یعنی متقین کیلئے ہدایت ہے. پھر اسکے فوری بعد ان متقین کے ایمانی خواص بتائے جاتے ہیں. کیسی عجیب بات ہے؟ کہ سب سے پہلا 'آرٹیکل آف فیتھ' یعنی پہلا ایمانی تقاضہ یہ نہیں بتایا گیا کہ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں یا رسولوں پر ایمان لاتے ہیں یا کتابوں پر ایمان لاتے ہیں یا آخرت پر ایمان لاتے ہیں یا فرشتوں اور تقدیر پر ایمان لاتے ہیں. بلکہ کہا گیا کہ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ - "جو 'غیب' پر ایمان لاتے ہیں". گویا آسان الفاظ میں جو سب سے پہلا تقاضہ قران حکیم ہدایت دینے کیلئے اپنے قاری سے کرتا ہے، وہ یہ کہ وہ تسلیم کرے کہ اسکے موجود جسمانی حسی ادراک سے پرے بھی کچھ غیبی حقیقتیں موجود ہیں یا موجود ہوسکتی ہیں. دھیان رہے کہ غیب پر ایمان سے مراد ہے بناء دیکھے ایمان لانا، بناء سمجھے لانا ایمان لانا ہرگز نہیں. ایمان بالغیب اس یقین کا نام ہے جو مشاہدے یا حسی ادراک کے زریعے نہیں بلکہ غوروفکر کے نتیجے میں جڑ پکڑتا ہے. یہ حاضر سے غائب کو جاننا ہے، یہ معلوم سے نامعلوم کو محسوس کرنے کا سفر ہے. سالک دلائل کا تقابلی موازنہ کرکے ، ایک شعوری ارتقاء کے زریعے کسی شے کے بارے میں علمی راۓ قائم کرتا ہے. یہ راۓ کیونکہ استدلال و تدبر کا نتیجہ ہوتی ہے اسلئے سالک کو ایک خاص قلبی و ذہنی سکون فراہم کرتی ہے. آسان الفاظ میں کہیں تو صاحب ایمان اس پر پوری طرح قائل ہوجاتا ہے. قران حکیم اپنی اصطلاح میں اس علمی نتیجے سے حاصل کردہ یقین کو 'علم الیقین' کے نام سے موسوم کرتا ہے. اب دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ اسکا عمل بھی اسکے ایمان کا عکس بن جاۓ ورنہ ایسا ایمان ہوکر بھی کوئی حقیقی معنی نہیں رکھتا . اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ایمان دار کہلاتا ہے اور نہیں کرتا تو بے ایمان قرار پاتا ہے.
.
اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب، یعنی 'میٹا فزکس' یا 'مابعد الطبیعات' کا علم ہے کیا؟ - 'میٹا فزکس' دراصل فلسفہ کی ایک اہم ترین شاخ ہے اور جو ان سوالات و حقائق پر غور کرتی ہے، جن کے شافی جوابات دینے سے فزکس یعنی طبیعاتی علوم قاصر رہے ہیں. کائنات کا اولین محرک کیا تھا؟ موت کے بعد شعور کا کیا معاملہ ہے؟ وقت کی کیا حقیقت ہے؟ زمان و مکان میں اصل ربط کیا ہے؟ ذہن کیا ہے؟ ذہن اور دماغ میں کیا فرق ہے؟ ذہن اور جسم کا رشتہ کیا ہے؟ اس کائنات کا مقصد کیا ہے؟ یہ اور اس جیسے ان گنت موضوعات ایسے ہیں کہ جن کے جواب دینے سے یا تو سائنس بالکل عاجز نظر آتی ہے کہ یہ اسکے ڈومین یعنی دائرے سے ہی باہر ہیں یا پھر ایسے جوابات دیتی ہے جو کسی طور بھی شافی نہیں مانے جاسکتے. یہ اور بات کہ مادیت پسندی کے اس سیلاب میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو خود کو اسی محدود حسی ادراک یا 'امپیریکل ایویڈنس' تک کے خول میں قید رکھنا پسند کرتی ہے. ان کے نزدیک انسان یا کائنات کا کوئی متعین مقصد نہیں. ان کی ذہانت کے پیچھے کوئی ذہانت بطور خالق نہیں. باپ کی شفقت سے لے کر ماں کی ممتا تک بس ایک 'کیمکل کمپوزیشن' سے زیادہ کچھ نہیں. پچھلی صدیوں میں فزیکل سائنسز کے ذریعے ہونے والی غیر معمولی ترقی نے ان کے لہجوں میں ایک خاص طرح کی رعونت پیدا کردی ہے، جو ہر اس علم یا کوشش پر استہزاء کا رویہ اپناتی ہے جو سائنس کے موجود اصولوں سے باہر یا مختلف ہو. اس علمی تکبر پر خود کچھ سائنسدان جیسے 'مشیو کاکو' آواز اٹھا رہے ہیں. ان کے مطابق سائنسی حلقوں پر آج کل ایک ایسی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جہاں موجود سائنسی اصولوں کو چیلنج کرنا یا اس سے مختلف کچھ اور امکانات کو ماننا گالی بنا دیا گیا ہے.
.
فلسفے کے علاوہ 'میٹا فزکس' یا 'مابعد الطبیعات' سے وابستہ ان ہی موضوعات کو مذہب بھی مخاطب بناتا ہے. مذہب فلسفے کے برعکس جوابات کی بنیاد متفرق بدلتی انسانی عقول کے برعکس وحی پر رکھتا ہے. وہ اس کائنات کے خالق کا تعارف فراہم کرتا ہے، اس کائنات کی مقصدیت بتاتا ہے، انسانی نفس کی تفصیل فراہم کرتا ہے، غیبی حقائق جیسے ملائکہ یا حیات بعد الموت وغیرہ سے پردہ اٹھاتا ہے. ہم جانتے ہیں کہ رب نے ایک ہی دین ہمیشہ جاری کیا مگر انسانی اختلاف نے بہت سے نئے مذاہب کو جنم دے دیا. گو ہر تحقیق کرنے والا یہ جان لیتا ہے کہ ان تمام مذاہب کا فراہم کردہ مقدمہ اور مابعد الطبیعات سے متعلق جوابات مکمل تو نہیں مگر معمولی فرق کیساتھ بڑی حد تک آپس میں مماثلت رکھتے ہیں. جو اسی حقیقت کا مظہر ہے کہ اپنی اصل میں یہ ایک ہی مشترک الہامی پیغام ہے. جیسا مضمون کے آغاز میں ہم نے بیان کیا کہ بطور مسلمان ہم غیب پر ایمان رکھتے ہیں. گویا جب بعد از تحقیق جب دلائل و براہین سے ہم پر یہ ثابت ہوگیا کہ قران حکیم انسانی تحریر نہیں بلکہ الہامی کلام ہے، تب اس میں موجود غیبی خبروں کو ہم نے تسلیم کرلیا ہے. قران مجید میں جابجا انسانی حواسوں پر محیط 'ادراک' کو محدود بتا کر غیبی خبر دی گئی ہے. جیسے سورہ القدر میں جب شب قدر کی غیبی قوت کا بیان ہوا تو قاری سے استفسار ہوا کہ وَمَآ اَدْرَاكَ مَا لَيْلَـةُ الْقَدْرِ - اور تمہیں کیا ادراک کہ شب قدر کیا ہے؟ ... اسی طرح روز قیامت کے وقت القارعہ کا بیان ہوا تو کہا گیا وَمَآ اَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ - اور تمہیں کیا ادراک کہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے؟ ... دوسرے الفاظ میں جگہ جگہ غیب کی خبر دیتے ہوئے سمجھایا گیا ہے کہ ہمارا حسی ادراک ان کی تفصیل جاننے سے قاصر ہے.
.
====عظیم نامہ====

خام خیالی


خام خیالی

یہ محض خام خیالی ہے کہ اگر فلاں ملحد فلاں فلاں غیبی حقیقت سامنے دیکھ لے یا سن لے تو وہ ایمان لے آئے گا. حقیقت یہ ہے کہ جو شخص علمی دلائل سے خالق کو نہیں پہچانتا، اپنی فطرت و وجدان میں رب کا سراغ نہیں پاتا وہ کسی معجزاتی حقیقت کو بھی دیکھ کر کبھی حق تسلیم نہیں کرسکتا. انکار کرنے والے کیلئے وجود خدا کا کوئی ثبوت نہیں اور ماننے والے کیلئے یہ پوری کائنات اپنے خالق کی موجودگی و عظمت پر شاہد ہے.
.
ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے

.
آپ کو کیا لگتا ہے کہ اگر ایک ملحد کو خدا کی آواز سنائی دے جو اسے بتائے کہ میں تمہارا خدا ہوں، مجھ پر ایمان لے آؤ تو کیا وہ واقعی ایمان لے آئے گا؟ .. ہر گز نہیں ! بلکہ وہ اسے اپنا دماغی خلل تصور کرے گا اور اسی پر اصرار کرتا رہے گا. آپ کو کیا لگتا ہے کہ اگر ایک کٹر ملحد کو فرشتے یا جنات نظر آجائیں تو وہ ایمان لے آئے گا؟ قطعی نہیں ! بلکہ وہ اسے 'ھلوسنیشن' یعنی تصوراتی دھوکے سے تعبیر کرے گا. آپ کو کیا لگتا ہے کہ اگر ایک پکا ملحد کسی پیر فقیر کو ہوا میں اڑتا یا پانی پر چلتا دیکھے تو ایمان لے آئے گا؟ بالکل نہیں ! بلکہ وہ اسے کرتب یا 'ہیپناٹزم' قرار دے دے گا.
.
یہ ایمان لانے کا 'احسان' اسی وقت کرسکتے ہیں جب خدا اپنی بادشاہی سمیت سارے غیب کے پردے چاک کرکے اس پوری خلق انسانی کو نظر آنے لگے. مگر اگر سب سامنے آنے کے بعد ہی ماننا ہے تو پھر کاہےکا امتحان؟ جیسے محاورہ ہے کہ 'آمد آفتاب - دلیل آفتاب' یعنی سورج کا طلوع ہونا سورج کے ہونے پر دلیل ہوتا ہے. ظاہر ہے جب سورج کو سب نے دیکھ لیا تو کون ہے جو سورج کے ہونے کا انکار کرے گا؟ مگر حضرت اس میں آپ کا کیا کمال ہوا ؟ اگر خدا کو اپنا وجود یونہی منوانا ہوتا اور اپنی اطاعت انسانیت سے یونہی کروانی ہوتی تو پھر اس دنیا میں امتحان کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا. تقاضہ تو یہ ہے کہ جیسے تصویر کو دیکھ کر مصور کو جان لیتے ہو، دھواں دیکھ کر آگ لگنے کا یقین کرلیتے ہو، مکان دیکھ کر معمار کو سوچ لیتے ہو - ویسے ہی اس پر ہیبت کائنات کو اور اس بے جان مادے سے اٹھنے والے اپنے باشعور وجود کو دیکھ کر خالق بزرگ و برتر خدائے رب العزت کو پہچان جاؤ. اور اگر پھر بھی یہ چاروں اطراف بکھری ان گنت نشانیاں تمہیں اپنے رب کا سراغ نہیں دیتی؟ تم پھر بھی ہٹ دھرمی سے یہ پکارتے رہتے ہو کہ مجھے خدا کا ثبوت حاصل نہیں تو پھر ڈوبے رہو اسی الحاد و شکوک کی دلدل میں اور انتظار کرو اپنی موت کا یا پھر ہمارے بقول اس روز جزاء کا جب ہر انسان اپنے کیئے کا بدلہ پائے گا.
.
".... اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ اس کے ذریعہ جو اس نے تمہیں دیا تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔ پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کا لَوٹ کر جانا ہے۔ پس وہ تمہیں ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔" (سورہ المائدہ ٤٨)

.
====عظیم نامہ====

نیت

نیت


امت مسلمہ کے دو ممتاز ترین محدثین امام بخاری اور امام مسلم نے اپنے اپنے پیش کردہ احادیث کے مجموعہ میں اس مقبول حدیث کو شامل کیا ہے کہ "إنَّما الأَعمالُ بالنِّيَّات" - یعنی اعمال کا دارومدار نیت پر ہے.
.
یوں تو پوری نماز میں ہی توجہ اور خشوع ہونا چاہیئے مگر کم از کم نماز کی ابتداء کرتے ہوئے اسکی نیت پر خاص دھیان دیا کیجیئے. مشاہدہ ہے کہ لوگ نیت پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے. حالانکہ یہی وہ مقام ہے جہاں کم از کم آپ سچے دل سے ایک لمحے کو ہی سہی، یہ سوچ سکتے ہیں کہ میں اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوں. نماز کا آغاز کرنے میں جلدی نہ کیجیئے بلکہ رک کر کچھ لمحہ سوچیئے کہ آپ کس کے دربار میں حاضری دینے جارہے ہیں؟
.
نیت اپنی اصل میں دل کے ارادے کا نام ہے. اس ارادے کو آپ چاہیں تو الفاظ کا قالب بھی عطا کرسکتے ہیں مگر کسی خاص جملے کی ادائیگی نیت کرتے ہوئے لازمی نہیں ہے. اگر کچھ مخصوص الفاظ ادا کرنے سے آپ کو توجہ اور ارتکاز حاصل ہوتا ہے تو ضرور ادا کرلیجیئے، اس میں کوئی حرج نہیں. البتہ راقم کا تجربہ یہ ہے کہ کچھ رٹے رٹائے جملے نیت کیلئے ادا کرنے کی بجائے اپنے الفاظ میں جذبات کو ڈھال لینا زیادہ موثر ہوتا ہے. جیسے مثال کے طور پر کوئی سندھی بھائی یوں بول پڑے کہ 'مولا سائیں آپ کا شکریہ جو آپ نے مجھے عصر کی اس چار رکعات نماز کی قبلہ رخ توفیق دی'. گو جیسا عرض کیا کہ نمازی نیت کرتے ہوئے کوئی ایک لفظ بھی نہ بولے یا مختصر سا بولے تب بھی مکمل جائز ہے. قران و حدیث میں نیت کیلئے کوئی مخصوص الفاظ متعین نہیں کیئے گئے ہیں. لہٰذا الفاظ کی ادائیگی نیت کی شرط نہیں.
.
====عظیم نامہ====

خدائے رحمٰن کے بندے

کیا آپ جانتے ہیں کہ کلام الہی کے مطابق خدائے رحمٰن کے بندے کون ہیں؟

.
رحمٰن کے (سچے) بندے وه ہیں جوزمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں۔
.
اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کوسلام۔
.
اور جو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔
.
اور جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے واﻻ ہے.
.
اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔
.
اورجو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اورنہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔۔۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا،
.
قیامت کے روز اس کے عذاب میں درجہ بدرجہ اضافہ کیا جائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا۔
.
الا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کرچکا ہو اور ایمان لاکر عمل صالح کرنے لگا ہو۔ ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
.
جو شخص توبہ کرکے نیک عمل اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے۔
.
(اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں) جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔
.
اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوجائے تو وقار کے ساتھ گزرجاتے ہیں۔
.
اور جنہیں اگر ان کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے ہوکر نہیں گرتے۔
.
اور جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ ’اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا‘۔
.
یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل منزل بلند کی شکل میں پائیں گے۔ آداب وتسلیمات سے ان کا استقبال ہوگا۔
.
وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام۔
.
(الفرقان 25: 63-76)

موثر اظہار


موثر اظہار


نومولود بچے اردو، انگریزی یا دیگر کسی زبان سے واقف نہیں ہوتے۔ لہذا اپنی ضروریات بیان کرنے کیلئے جبلی طور پر وہ روتے یا مختلف آوازیں نکالتے ہیں۔ جنہیں دیکھ یا سن کر والدین اندازہ لگاتے ہیں کہ اس وقت بچے کا رونا کس ضرورت کے تحت ہے؟ جب یہ بچہ کچھ بڑا ہوجاتا ہے، تب یہ مشاہدہ ہے کہ بولنے پر کسی حد تک قدرت رکھنے کے باوجود کئی بار وہ اپنی بات یا جذبات بیان نہیں کرپاتا۔ کبھی اسے اظہار کیلئے الفاظ ہی نہیں مل پاتے اور کبھی وہ ان الفاظ کو اس طرح ترتیب نہیں دے پاتا جو اس کا مدعا سامع کو سمجھا سکے۔ یہی بچہ جب لڑکپن تک پہنچتا ہے تب اسے بنیادی الفاظ حاصل ہوتے ہیں جن کے زریعے وہ اپنی ضروریات کا بیان کامیابی سے کرپاتا ہے۔ البتہ اب اسے اپنے خیالات و احساسات کو الفاظ کا قالب دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس موقع پر پھر ایک بار اسے بیچارگی کا سامنا ہوتا ہے۔ گویا اس پر منکشف ہوتا ہے کہ مکالمے اور دلائل کے موثر اظہار کیلئے صرف بنیادی الفاظ پر عبور کافی نہیں۔ بلکہ الفاظ کا زخیرہ درکار ہے۔ اسی کشمکش میں بالآخر وہ بچپن و لڑکپن سے ہوتا ہوا فکری بلوغت کی عمر کو پالیتا ہے۔ مگر یہاں تک پہنچ کر بھی انسانوں کی اکثریت کو اظہار کیلئے زبان پر وہ قدرت و وسعت حاصل نہیں ہوا کرتی جو ان کے خیالات کا بہترین ابلاغ کرپائے۔ گویا وہ بہترین سوچنے والا دماغ رکھنے کے باوجود اپنی فکر و رائے کو احسن انداز میں لوگوں تک منتقل نہیں کرپاتے۔ ایسے میں جب انسانوں میں ہی کسی دوسرے کو موثر اظہار کرتا سنتے ہیں تو حیرت و مرعوبیت سے پکار اٹھتے ہیں کہ یہی بات تو جانے کب سے میرے قلب و ذہن میں نقش تھی؟
۔
دراصل مدلل گفتگو کیلئے فقط تفکر و تدبر کافی نہیں ہے۔ بلکہ زبان پر مہارت بھی درکار ہے۔ یہ اظہار اتنا ہی زیادہ پراثر اور اسلوب اتنا ہی زیادہ دلنشین ہوتا جاتا ہے جتنا انسان لسانیات و ادب میں ماہر ہوتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذہبی و غیرمذہبی اہل علم جنہیں اپنے افکار لوگوں تک پہنچانے ہوں۔ ادب و شاعری سے خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ وگرنہ علمیت کے باوجود اکثر اپنی بات یا تو پہنچا نہیں پاتے یا اگر پہنچا بھی دیں تو کلام میں وہ اثر انگیزی نہیں لا پاتے جو قاری یا سامع کی توجہ اپنی گرفت میں لے سکے۔ لہذا اگر آپ کو لگتا ہے کہ بہترین سوچ اور تدبر و تفکر کی صلاحیت رکھنے کے باوجود آپ اپنا موقف منوانے یا موثر انداز میں پہنچانے سے قاصر رہتے ہیں۔ تو قوی امکان ہے کہ آپ الفاظ کا وہ ذخیرہ نہیں رکھتے اور ان ادبی رموز سے نہیں واقف جو اعلی سطح کے اظہار کیلئے لازمی ہے۔ ادبی کتب کا مطالعہ اور ان کے خوبصورت اسلوب کو سمجھنے کی کوشش آج بھی آپ میں اظہار کی صلاحیت کو چار چاند لگاسکتی ہے۔
۔
====عظیم نامہ====

روحانی تجربہ


روحانی تجربہ

.
یوں تو روحانیت کے مسافر کو غیبی دنیا کے کچھ کمالات حاصل ہوجانا یا مختلف روحانی وارداتوں کا تجربہ ہو جانا کوئی اجنبی بات نہیں ہے. مگر آج ہمارا موضوع وہ خاص نفسی تجربہ ہے جو اس راہ کے بیشمار مسافروں میں قدر مشترک بن کر رہا ہے. پھر چاہے وہ مسلم صوفی ہوں، ہندو سادھو ہوں، عیسائی مسٹک ہوں، یہودی کبلھا ماہرین ہوں، بدھ مت کے بھکشو ہوں یا پھر دور جدید کے اسپریچولسٹ ہوں. سب کے سب اس تجربے کو اپنے روحانی سفر میں اہم ترین مقام کے طور پر دیکھتے ہیں. ان سب کے نزدیک یہ تجربہ ان کے سالوں پر محیط مراقبوں، مجاہدوں اور ریاضتوں کا حاصل ہے. اس تجربے میں انہیں حقیقت کا وہ ادراک حاصل ہوجاتا ہے جس کے وہ متلاشی رہے. صوفیاء کے یہاں اس کشف یا تجربے کو 'فنا فی الوجو'د کے عقیدے سے منسلک کیا جاتا ہے. بدھ مت کے پیرو اسے 'نروان' کی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں، ہندو یوگی اسے کبھی 'موکشا' اور کبھی 'تیسری آنکھ' کا کھل جانا پکارتے ہیں. مغرب میں مراقبوں یعنی میڈی ٹیشن سے اس کیفیت کا تجربہ مختلف ناموں جیسے 'یونٹی' وغیرہ سے موسوم کیا جاتا ہے. گویا نام مختلف ہیں. مراقبوں اور ریاضتوں کے انداز جدا ہیں. مگر نتیجہ وہی ایک تجربہ ہے جو بلاتفریق سالک کو حاصل ہوجاتا ہے. اس روحانی واردات کو علامہ اقبال نے اپنے فلسفیانہ خطبات میں 'مذہبی تجربے' کے نام سے بیان کیا ہے. گو راقم کے نزدیک اسے 'نفسی تجربہ' کہنا زیادہ مناسب ہے. ہم یہاں کوشش کریں گے کہ ان نکات کو لکھ دیں جسکی گواہی اس تجربے کے حاملین دیا کرتے ہیں.
.
١. . تجربے میں شاہد اور مشاہدے کا فرق اوجھل ہوجاتا ہے. گویا جو دیکھ رہا ہے اور جسے دیکھا جارہا ہے، ان دونوں میں امتیاز باقی نہیں رہتا. بقول شاعر
یہاں ہونا .... نہ ہونا ہے
اور نہ ہونا، عین ہونا ہے !

.
٢. زمان و مکان کا فرق مٹ کر 'حقیقت' کا کلی ادراک ہوتا ہے. وہ شعور جو آج تک حقیقت کو 'جزو جزو' کرکے سمجھتا اور دیکھتا آیا تھا. اچانک حقیقت کو مربوط 'کل' کی صورت میں مشاہدہ کرلیتا ہے. اپنے وجود سمیت سارے جزو اس ایک کل میں ایسے ضم ہوجاتے ہیں کہ تفریق کرنا ممکن نہیں رہتا. گویا ہر طرح کی دوئی ماند پڑ کر ایک برتر واحد میں گھل جاتی ہے. بقول شاعر
وہ اپنی لامکانی میں رہیں مست !
مجھے اتنا بتادیں، 'میں' کہاں ہوں؟
.

٣. انسانی ذہن کی ساخت ایسی ہے کہ دوئی برقرار رکھے بغیر وہ حق بیان نہیں کرسکتا. اس دوئی کے مٹ جانے سے حقیقت کا جو روپ سامنے آتا ہے. وہ ہر اعتبار سے اتنا منفرد اور اجنبی ہوتا ہے کہ تجربہ کرنے والا خود کو اسکے بیان سے عاجز و قاصر پاتا ہے. جس کی مثل شعور نے پہلے دیکھی ہی نہ ہو اور جس کی تفصیل کو کبھی الفاظ کی پوشاک ملی ہی نہ ہو. اس تجربے کو بیان کرنا ایسا ہی ہے جیسے اس شخص کو شہد کا ذائقہ سمجھایا جائے جس نے کبھی کوئی مٹھاس نہ چکھی ہو. گویا اس تجربے کا شافی ابلاغ ممکن نہیں ہوتا اور جس کا ابلاغ ممکن نہ ہو اس کا ادراک بھی کبھی اجتماعی قبولیت حاصل نہیں کرپاتا. مستقبل میں بھی اگر اسے سمجھنے کا کوئی مبہم سا امکان ہوسکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ انسانی نفس کی پنہاں حقیقتوں کے بیان کیلئے کوئی ایسا ذریعہ علم میسر آجائے جس طرح کا علم 'میتھمیٹکس' یعنی حساب کی صورت میں فزیکل سائنسز کو حاصل ہوگیا. یوں وہ ان تجربات کو بھی 'ایکویشن' کی صورت میں بیان کرنے پر قادر ہوسکے جنہیں فقط لفظ سے سمجھنا محال تھا.
.
٤. یہ تجربہ بھلے درجہ ابلاغ کے تقاضے پورے نہ کرسکے مگر اپنے شاہد و ناظر کو اپنی حقانیت کے بارے میں آخری درجے پر اطمینان دے دیتا ہے. گویا تجربہ کرنے والے کو یہ اشکال لاحق نہیں ہوتا کہ وہ کسی نفسی و ذہنی دھوکے کا شکار ہوا ہے. بلکہ وہ اسے حقیقت کے جوہر کے طور پر قبول کرتا ہے اور اسے شعور کی اس پرت سے متعلق کرتا ہے جس کا کھلنا ارتکاز و مجاہدات سے ممکن ہے. دھیان رہے کہ یہ نفسی تجربہ فقط روایتی مذہبی اذہان کو ہی پیش نہیں آیا ہے بلکہ دیگر نامور شخصیات بھی اس کی شہادت دیتی رہی ہیں. جیسے دور حاضر میں رجنیش اور سدھ گرو جیسے غیر مذہبی اسپرچولسٹ یا پھر 'جم کیری' اور 'عرفان خان' جیسے نامور اداکار. قارئین کیلئے شائد یہ بات بھی دلچسپ ہو کہ علامہ اقبال کی طرح مولانا وحید الدین خان بھی اپنے ایسے ہی تجربے کو بیان کر چکے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

Friday, 30 November 2018

عقل نامہ

عقل نامہ

.
عقل بلاشبہ انسان کو ملی ایک بہت بڑی نعمت ہے. مگر اس کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اپنا تسلط چاہتی ہے. اپنے بنائے ہوئے معیارات کے تحت اپنے اطراف پر جائز یا ناجائز قبضہ کرتی ہے. یہ اپنے فکری محلات تعمیر کرتی ہے مگر جلد ان سے بور ہوجاتی ہے. پھر وہ انہیں خود مسمار کرتی ہے اور پھر دوبارہ تعمیر کرتی ہے. تعمیر و مسماری کا یہ سلسلہ رکتا نہیں بلکہ مسلسل جاری رہتا ہے. اس روش سے اس کا شعوری ارتقاء ضرور ہوتا ہے. ایک پرلطف علمی چسکا بھی اسے میسر رہتا ہے. مگر حتمیت و قطعیت تک اس کی رسائی کبھی نہیں ہوپاتی. جو کل عقلی تھا وہ آج غیر عقلی ہوگیا. جو آج عقلی ہے، بہت ممکن کے کل غیر عقلی کہلائے گا. اسکے باوجود عقل اپنی اجارہ داری چاہتی ہے مگر اس حکومت کے قیام کیلئے اسے ان حواس خمسہ پر اکتفاء کرنا پڑتا ہے جو اپنی اصل میں کئی نقائص رکھتے ہیں. وہ دیکھنے، سننے، چھونے، چکھنے یا سونگھنے سے حقیقت کا ادراک کرنا چاہتی ہے. مگر ان حواس سے اسے جزوی ادراک ہی نصیب ہوسکتا ہے، "كُل" کو جاننے سے وہ محروم ہی رہتی ہے. اس موقع پر اسے کسی مضبوط سہارے کی ضرورت ہوتی ہے. مگر عقل بھوکی مرجاتی ہے، کسی سے مدد نہیں لیتی. عقل کا ہدف چیزوں کو فتح کرنا ہے، ان پر اپنا جھنڈا لہرانا ہے. اپنے وجود کی تذکیر و تطہیر، اپنی کردار سازی اس کا مقصد نہیں. عقل مخلوق ہے مگر یہ خالق بننا چاہتی ہے. یہ اول تو کسی خالق کو ماننا نہیں چاہتی اور اگر مان بھی لے تو اپنی شرائط پر تسلیم کرتی ہے. عقل محدود ہے مگر یہ اپنے عجز اپنی حدود کو پہچاننے کے باوجود اس کا ڈھٹائی سے انکار کردیتی ہے. بلکہ وہ لامحدود کو اپنے محدود میں مقید کرنا چاہتی ہے. لہٰذا اب وہ ٹامک ٹوئیاں مارتی ہے، اندازے لگاتی ہے اور اسی پر مصر رہتی ہے.
.
عقل کی اہمیت کا انکار ہرگز نہیں. عقل وہ نماندہ وصف ہے جو انسان کی بڑی پہچان ہے. بے عقلی تو بڑی شرمندگی کی بات ہے. مگر عقل کا خود پسند ہو کر اپنی حدود کا اعتراف نہ کرنا ازخود حماقت ہے. گویا عقل یہ نہیں کہ آپ سب جان لیں بلکہ عقل یہ بھی ہے کہ آپ یہ جان لیں کہ آپ کیا نہیں جان سکتے؟ عقل کی سب سے بڑی خواہش خود بادشاہ بن جانا ہے. مگر اس کی حقیقی حیثیت وزیر کی ہے. جب تک عقل وزیر بن کر وحی اور فطری داعیات سے رہنمائی نہیں لے گی تب تک بینائی سے محروم رہے گی. عقل کی مثال ان آنکھوں کی سی ہے جن سے ہم سب کچھ دیکھتے ہیں. مگر اگر ایک شخص آنکھیں رکھ کر بھی بینائی سے محروم ہو تو پھر وہ دیکھ نہیں سکتا. اسی طرح اگر کوئی شخص آنکھیں اور بینائی دونوں رکھتا ہو مگر اس کے ارد گرد گھٹاٹوپ اندھیرا چھا جائے تو یہ بینائی و آنکھیں بھی اسے حقیقت نہیں دیکھا سکتی. گویا جب تک انسان کے اندر بینائی کی روشنی اور باہر ماحول کی روشنی یکجا نہ ہو تب تک اسکی آنکھوں کو "بصارت" حاصل نہیں ہو سکتی. یہ اندر کی روشنی وہ فطری داعیات ہے جو انسان کے اندر خدا نے الہام کردیئے ہیں اور باہر خارج کی روشنی درحقیقت اس وحی کا نور ہے جسے ہم تک پیغمبروں کے ذریعے منتقل کیا گیا ہے. عقل اسی وقت "بصیرت" بنے گی جب وہ ان دونوں کی چھتری تلے کام کرے. وگرنہ عقل پرستی کا یہ بت جعلی خدا بن کر آپ پر مسلط ہوجائے گا.
.
”کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش ِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمّہ لے سکتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سُنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گُزرے۔”
(قرآن44 ,25:43)
.
====عظیم نامہ====