Thursday, 1 November 2018

آسیہ بی بی کیس

آسیہ بی بی کیس


.
١. ایک شخص توہین رسالت کرتا ہے اور یہ عمل وہ بار بار کرتا ہے. مختلف مواقع ایسے اتے ہیں جب مختلف لوگ اس کی اس توہین آمیز گفتگو کے گواہ ہیں. گویا اس کا مجرم ہونا متعدد واقعات سے واضح ہے.
.
٢. دوسرا شخص توہین رسالت کو اپنا مشن بنا لیتا ہے. وہ دیگر لوگوں کو بھی توہین پر ابھارتا ہے. توہین آمیز تقریر کرتا ہے یا توہین آمیز کتاب لکھتا ہے یا توہین آمیز خاکے بناتا ہے یا توہین آمیز بلاگ چلاتا ہے وغیرہ ہویا اس کا جرم زمانے بھر پر ثابت ہے.
.
٣. تیسرا شخص نے زندگی میں کبھی توہین رسالت نہیں کی ہوتی مگر کسی ایسی ہیجان انگیز لڑائی میں اکسانے پر وہ آگ بگولہ ہوکر گستاخ جملے بول جاتا ہے. مگر جب اسے توجہ دلائی جاتی ہے یا اس پر گرفت کی جاتی ہے تو وہ اپنے اس عمل پر نادم ہوتا ہے اور کھلے الفاظ میں کہتا ہے کہ یہ گستاخی وہ غصے میں کربیٹھا مگر درحقیقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل سے عزت کرتا ہے. دھیان رہے کہ باقی ساری زندگی ایک بار بھی اس نے کوئی گستاخ جملہ نہیں بولا تھا.
.
٤. چوتھا شخص فریاد کرتا ہے کہ مجھ پر ایک بار بھی گستاخی کرنے کا الزام غلط ہے. مجھے ہراساں کرکے اعتراف کروایا گیا. حقیقت میں یہ الزام فلاں دشمنی یا اسی دن ہوئے فلاں جھگڑے یا فلاں فائدے کے سبب اس پر لگایا گیا. ورنہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل سے عزت کرتا ہوں اور بحیثیت غیر مسلم میں اپنی مذہب کی مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر بیان دینے کو تیار ہوں. میری پچھلی زندگی میں کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں بتایا جاسکتا جب میں نے کسی بھی قسم کی کوئی گستاخی کی ہو.
.
جذبات سے بالآتر ہو کر سوچیئے کہ کیا یہ سب برابر کے مجرم ہیں؟ کیا اس کا امکان نہیں کہ تیسرا یا چوتھا شخص سچ کہہ رہا ہو ؟ اگر ہاں اس کا امکان ہے تو پھر فیصلہ کسے کرنا ہے؟ آپ نے؟ مولوی صاحب نے؟ الزام لگانے والے نے؟ یا پھر عدالت نے؟ اگر عدالت نے شواہد کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے تو بس مطمئن ہو جایئے. اب آپ کا کام ہو چکا. اگر شواہد کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے تو اب رب حساب اس عدالت و قاضی سے لے گا. اس قاضی کو روز جزاء ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے موجود شواہد و گواہی کی بنیاد پر ٹھیک انصاف کیا یا نہیں؟ آپ خدارا اسلام کے چیمپین بن کر نہ کھڑے ہوں. بالخصوص جب آپ نے اپنی آنکھوں سے واقعات، شواہد اور گواہیوں کو نہ دیکھ رکھا ہو. آسیہ بی بی نے جو بیان عدالت میں دیا وہ میں یہاں درج کررہا ہوں. ٹھنڈے دماغ سے پڑھیں اور سوچیں کہ اگر واقعی یہ سچ ہو ؟
.
"میں ایک شادی شدہ خاتون اور دو بچوں کی ماں ہوں. میرا خاوند ایک غریب مزدور ہے. میں محمد ادریس کے کھیتوں میں دیگر کئی خواتین کے ہمراہ روزانہ کی اجرت کے عوض فالسے چننے جایا کرتی تھی. مبینہ وقوعہ کے روز میں دیگر کئی خواتین کے ہمراہ کھیتوں میں کام کررہی تھی. مسمات مافیہہ مسمات اسماء بی بی (گواہان استغاثہ) کے ساتھ پانی بھر کے لانے پہ جھگڑا ہو گیا جو میں نے انہیں پیش کرنا چاہا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر منع کردیا چونکہ میں عیسائی ہوں اسلئے وہ کبھی بھی میرے ہاتھ سے پانی نہیں پیئے گی. اس بات پر میرے اور استغاثہ کے گواہان خواتین کے درمیان جھگڑا ہوا اور کچھ سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا. اس کے بعد استغاثہ کی گواہان نے قاری سلام سے مل کر سازش کے تحت میرے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ گھڑا. میں نے پولیس کو کہا کہ میں بائبل پر حلف اٹھانے کو تیار ہوں کہ میں کبھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق توہین آمیز الفاظ بیان نہیں کیئے. میں قران اور اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے دل میں عزت اور احترام رکھتی ہوں لیکن چونکہ پولیس بھی شکایت گزار سے ملی ہوئی تھی. اسلئے پولیس نے مجھے اس مقدمے میں غلط توڑ پر پھنسایا. استغاثہ کے گواہان سگی بہنیں ہیں اور اس مقدمے میں مجھے بدنیتی سے پھنسانے میں دلچسپی رکھتی ہیں. کیونکہ ان دونوں کو میرے ساتھ جھگڑے اور سخت الفاظ کے تبادلے کی وجہ سے بے عزتی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا. قاری سلام /شکایت گزار بھی مقدمے میں اپنا مفاد رکھتا ہے کیونکہ یہ دونوں خواتین اسکی زوجہ سے قران پڑھتی رہی ہیں. میرے آباء و اجداد اس گاؤں میں قیام پاکستان سے رہائش پذیر ہیں. میں بھی تقریباً چالیس برس کی ہوں. وقوعے سے پہلے ہمارے خلاف کبھی بھی اس قسم کی کوئی شکایت نہیں کی گئی. میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں اور گاؤں میں رہتی ہوں لہٰذا اسلامی تعلیمات سے نابلد ہونے کی وجہ سے میں کیسے اللہ کے نبی صلی اللہ الیہ وسلم اور الہامی کتاب یانی قران پاک کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے بے ادبی کی مرتکب ہوسکتی ہوں؟ استغاثہ کا گواہ ادریس بھی ایسا گواہ ہے جو مقدمے میں اپنا مفاد رکھتا ہے کیونکہ اس کا متذکرہ بالا خواتین سے قریبی تعلق ہے."
.
====عظیم نامہ====

جمائی

جمائی

Image may contain: 3 people

اس تصویر کو ذرا غور سے تیس سیکنڈ تک دیکھیں. انہیں جمائی لیتا دیکھ کر آپ کو بھی تو جمائی نہیں آنے لگی؟ لوگوں کی اکثریت دوسرے کو جمائی لیتا دیکھ کر خود بھی جمائی لینے لگتے ہیں. ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اور اسکی ہمارے نزدیک کیا وجہ ہے؟ آج اس تحریر میں یہ جائزہ لیتے ہیں. جمائی ایک ایسا فطری اور قدرتی عمل ہے جو ماں کے پیٹ سے بچہ کرتا ہوا آتا ہے. عموماً ایسا تب ہوتا ہے جب آپ پر تھکن یا بوریت طاری ہو. طبیعاتی زاویئے سے دیکھیئے تو دراصل جمائی ہمیں اس وقت آتی ہے جب آپ کے جسم میں آکسیجن کی کمی واقع ہو. جمائی کے ذریعے ہم بڑا سا منہ کھول کر اضافی آکسیجن جسم میں منتقل کرتے ہیں تاکہ ممکنہ کمی دور ہوسکے. بوریت یا تھکاوٹ کی حالت میں ہم سانس آہستگی سے لینے لگتے ہیں، جس کی وجہ سے جسم میں آکسیجن کی ضروری مقدار کی کمی ہوجاتی ہے اور یوں ہمارا خودکار طبیعاتی نظام ہمیں جمائی لے کر اس کمی کو دور کرنے کیلئے اکساتا یا مجبور کرتا ہے. کچھ محققین کا یہ بھی ماننا ہے کہ جمائی ہمارے گرم ہوتے ہوئے دماغ کو ٹھنڈا کرنے کا بھی کام کرتی ہے. یہ بھی رب کا ایک خوبصورت نظام ہے کہ ہمارا انسانی جسم ایک خاص تناسب سے ہی درست طور پر کام کرپاتا ہے. آکسیجن کی کمی جہاں موت کا سبب بن سکتی ہے وہاں آکسیجن کی زیادتی بھی صحت کیلئے حد درجہ خطرناک ہے. "پینیک اٹیک" میں مبتلا مریض ایسا محسوس کرتا ہے کہ بس اب اس کا آخری وقت آپہنچا ہے مگر اکثر اسکی بگڑتی حالت کی ایک وجہ اسکے جسم میں آکسیجن کی زیادتی ہوتی ہے. "پینیک" کی حالت میں وہ تیزی سے زور زور اور گہری سانسیں بھر رہا ہوتا ہے جس سے آکسیجن کی مقدار جسم میں ضرورت سے زائد ہوجاتی ہے. یوں ارسال خون سے لے کر دیگر طبیعاتی معاملات بگڑنے لگتے ہیں. ایسے مریض کو آکسیجن سلینڈر لگا کر اور تسلی دے کر سانس کو آہستہ کروایا جاتا ہے. تاکہ آکسیجن کا تناسب درست ہوسکے. جسمانی آکسیجن میں معمول کی کمی ہم جمائی لے کر پوری کرلیتے ہیں.
.
مگر یہ سب اپر درج کتھا کہانی اپنی جگہ ایک حقیقت مگر ہمارا حقیقی سوال تو ابھی بھی جوں کا توں ہے؟ اور وہ یہ کہ ہمیں کسی کو جمائی لیتا دیکھ کر خود کیوں جمائی آجاتی ہے؟ بلکہ جمائی لینے کے بارے میں پڑھ کر، سن کر یا سوچ کر بھی ہم جمائی لینے لگتے ہیں. ممکن ہے اس تحریر کو پڑھنے کے دوران بھی آپ کئی بار جمائی لے چکے ہوں. ایسا کیوں؟ اس کی متفرق توجیحات سائنسی حلقوں میں پیش کی جاتی ہیں. گو اب تک کوئی حتمی نتیجہ ایسا نہیں ہے جس پر اتفاق ہوسکے اور یوں ابھی بھی اس موضوع پر تحقیق جاری ہے. ہمارے نزدیک البتہ دو توجیحات ایسی ہیں جو مل کر اس جوابی جمائی لینے کا سبب بنتی ہیں.
.
١. جمائی لینے والا دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے دیکھنے والے کے دماغ کو جمائی لینے کا مشورہ دیتا ہے. اسے علمی حلقوں میں "مائنڈ سجیشن" کہا جاتا ہے اور اسی کی بنیاد پر علم نفسیات میں مختلف دماغی الجھنوں کا علاج کیا جاتا ہے. ہپناسس یا ہپناٹزم کی تو بنیاد ہی اسی "مائنڈ سجیشن" پر قائم ہے. جہاں مخاطب کے تحت الشعور کو کسی سوچ اپنانے کا مشورہ یعنی سجیشن دیا جاتا ہے اور جسے وہ اکثر من و عن قبول کر لیتا ہے.
.
٢. انسان ایک دوسرے سے الفت کا رشتہ رکھتے ہیں. ہم دوسرے کو کسی خوشی یا تکلیف میں مبتلا دیکھیں تو اپنی یادداشت میں موجود یاد سے اسی خوشی یا تکلیف کو کسی حد خود بھی محسوس کرنے لگتے ہیں. مثلاً اگر کسی کا ہاتھ کٹ جائے اور خون بہنے لگے تو ہمیں بھی ایک نفسیاتی تکلیف پہنچنے لگتی ہے. وجہ یہ ہے کہ ہم اس درد کا یا اس سے ملتے جلتے درد کا احساس و تجربہ ماضی میں کر چکے ہوتے ہیں. اسی طرح جب ایک شخص کو ہم جمائی لیتا دیکھتے ہیں تو ہماری یادداشت یا تحت الشعور میں اس تھکن و بوریت کی کیفیت تازہ ہوجاتی ہے جس کا تجربہ ہمیں ماضی میں بارہا ہوچکا ہے. لہٰذا جلد ہی ہم بھی جوابی جمائی لینے لگتے ہیں.
.
بس دوستو ! اب ہم اس مضمون کا یہاں پر ہی اختتام کرتے ہیں ورنہ امکان ہے کہ جمائی لیتے لیتے نیند کی وادی میں نہ جا پہنچیں.
.
====عظیم نامہ====

وہ ایک صلاحیت


وہ ایک صلاحیت

.
اپنے ملک کو چھوڑ کر جب دیار غیر میں طالبعلم حصول علم کیلئے جمع ہوتے ہیں تو اکثر مل جل کر کوئی مناسب قیمت کمرہ یا فلیٹ یا مکان کرائے پر لے لیتے ہیں۔ پاکستان سے آئے اکثر لڑکے اپنے گھروں میں راجکمار کی زندگی گزار کر آئے ہوتے ہیں۔ کھانا پکانا یا گھر کی صفائی انہوں نے کبھی نہیں کی ہوتی مگر اب انگلینڈ جیسے ممالک میں جہاں ماسی وغیرہ کا رواج نہیں، وہاں یہ سب کام انہیں بادل نخواستہ خود ہی انجام دینے پڑتے ہیں۔ ایسی ہی زندگی ابتداء میں، میں نے بھی گزاری۔ کاموں کو دوست آپس میں تقسیم کرلیتے تھے۔ کسی کے ذمہ کھانا پکانا، کسی کے سودا سلف لانا، کسی کے جھاڑو دینا یا ویکیوم کرنا اور کسی کے ٹوائلٹ کو چمکانا شامل ہوتا۔ یہ ذمہ داریاں روزانہ کی بنیاد پر بدلی بھی جاتی ہیں۔ جیسے جو آج سودا سلف لایا وہ کل کھانا پکائے گا وغیرہ۔ کھانا پکانا اپنے آپ میں ایک مرحلہ ہوتا ہے۔ مجھے آج بھی وہ خوشی یاد ہے جب کئی بار کی ناکامی کے بعد میں نے بناء زردی توڑے انڈہ فرائی کرلیا تھا۔ شان اور لذیذہ کے مسالوں نے سب ہی کو کچھ نہ کچھ کھانا پکانا سیکھا دیا۔ ذرا ہاتھ بیٹھا تو سمجھ آگیا کہ پیاز کیسے سنہری ہوتی ہے؟، دہی پھینٹ کر ڈالنا کیوں ضروری ہے؟، کب دم دینا ہے؟ کب چمچہ چلانا ہے؟، کون سا گوشت کس سالن کیلئے اور کون سا چاول کس ڈش کیلئے زیادہ موزوں ہے؟، تازہ ٹماٹر ڈبے سے کیونکر بہتر ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
.
ایک روز ہمارے ایک دوست کی کھانا پکانے کی باری آئی۔ اس نے بریانی بنائی جو کافی اچھی بنی۔ چنانچہ بڑی تعریف ہوئی۔ ہمارے اس دوست پر بھی یہ منکشف ہوا کہ انہیں کھانا پکانے میں لطف آتا ہے۔ لہذا وہ دھیان سے اپنی کوکنگ کو مزید بہتر بنانے لگا۔ کبھی پاکستان میں اپنے گھر والو سے پوچھ کر، کبھی کسی شیف کو سن کر اور کبھی تجربات کرکر کے اس کے کھانے بہتر سے بہتر ہونے لگے. دوستوں کو انتظار رہتا کہ کس دن وہ کھانا بنائے گا؟ خود میں اسے یہی کہتا کہ بھئی تمہارا پکایا کھا کر پیٹ بھر بھی جائے تو نیت نہیں بھرتی. دوسرے گھروں میں مقیم دوست بھی اس کا کھانا تناول کرنے آنے لگے. وہ اب ڈبے کی بجائے اپنے مسالے استعمال کرتا اور وہ وہ لوازمات بھی شامل کرتا جو کوئی روایتی ماہر شیف ہی کرسکتا تھا. اب لڑکے اسے آفر کرتے کہ پیسے لے لو مگر کھانا تم ہی پکاؤ. لوگ آفس میں کھانا سپلائی کرنے کیلئے رابطہ کرنے لگے. بات یہاں تک پہنچی کہ شادی و دیگر تقریبات کا کھانا بھی اس نے معاوضہ لے کر بنایا. گو اسکی پروفیشنل نوکری مختلف تھی اور کھانا پکانا فقط اسکا شوق یا سائیڈ انکم بنا رہا. مذاق ہی مذاق میں یوں لگتا ہے کہ ہمارے اس دوست نے اپنے اندر چھپا ایک آرٹسٹ ڈھونڈھ لیا تھا. یہ آرٹسٹ کوئی مصور، شاعر، موسیقار یا اداکار نہیں تھا بلکہ ایک شیف تھا. جو کھانا پکانے کو ایک فن ایک ہنر کے طور پر اپناتا اور پیش کرتا تھا.
.
دوستوں ہم سب میں بھی کوئی نہ کوئی ایک ہنر ایسا ضرور پوشیدہ ہوتا ہے، جو ہم سے بہتر ہمارے حلقہ احباب میں کوئی نہیں کرسکتا. مگر افسوس کہ ہم میں سے اکثر اس صلاحیت کو اپنے اندر ڈھونڈھ ہی نہیں پاتے. یا پھر شائد ہم خود کو موقع ہی نہیں دیتے؟ ہم میں سے کتنے ہیں؟ جنہوں نے کھانا پکانے کی کئی بار کوشش کی ہو؟ مصوری کو بطور مشغلہ اپنا کر دیکھا ہو؟ شعر کہے ہوں؟ فن خطابت میں اتر کر دیکھا ہو؟ جمناسٹک کراٹے یا تیراکی جیسے مشاغل میں جان کھپائی ہو؟ جب ہم خود کو مختلف مواقع ہی نہیں دیں گے؟ خود کو کھوجیں گے ہی نہیں؟ تو وہ ایک صلاحیت کیسے ڈھونڈھ پائیں گے جو ہمیں انفرادیت، مسرت، مقصدیت اور کامرانی عطا کرتی ہو؟ اس فیس بک کی ہی مثال لیجیئے. کتنے ہی مقبول و معروف لکھاری آج ایسے موجود ہیں، جنہیں سوشل میڈیا پر آنے سے قبل اس حقیقت کا ادراک تھا ہی نہیں کہ وہ بھی اچھا لکھ سکتے ہیں. کوئی انجینئر، کوئی ڈاکٹر، کوئی وکیل اور کوئی بیروزگار تھا، جسے قارئین کی توصیف سے یہ معلوم ہوا کہ وہ عام لوگوں سے بہت بہتر لکھ سکتا ہے. انہیں اپنی اس ایک صلاحیت کا علم ہوگیا جو ان کے وجود کے نہاں خانوں میں مدفون تھی. عزیزان من ! خود کو موقع دیں اور متفرق مشاغل و مصروفیات میں خود کو کھوجیں. ایسا تو نہیں کہ آپ میں بھی کوئی غالب، کوئی پکاسو، کوئی سقراط، کوئی نیوٹن، کوئی شیکسپیئر چھپا بیٹھا ہو؟ اور آپ خود ہی اس سے بے خبر ہوں؟
.
====عظیم نامہ====

مفت

مفت


زندگی میں مفت کچھ بھی نہیں۔ ہر فیصلے کی ایک قیمت ضرور چکانی ہے۔ البتہ وہ قیمت مال کی صورت میں ہی ہو؟ یہ ضروری نہیں۔ کبھی یہ قیمت وقت کی، کبھی رشتوں کی اور کبھی عزت نفس کی شکل میں بھی ہونا ممکن ہے۔ فیصلہ لینے
سے قبل یہ ادراک ضروری ہے کہ کیا آپ اس سے منسلک قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہیں؟
.
====عظیم نامہ====

ھیلمٹ

ھیلمٹ

Image may contain: one or more people, sky, shoes, cloud, outdoor and nature

یورپ امریکہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کیلئے خصوصی ہدایات دی جاتی ہیں. موٹر سائیکل سوار سر سے پاؤں تک حفاظتی لباس پہن کر سواری کرتا ہے. جس میں خصوصی جیکٹ اور ٹراؤزر سے لے کر گھٹنوں کہنیوں کی حفاظت کرنے والے پیڈز تک شامل ہوتے ہیں. سب سے زیادہ زور بہترین ھیلمٹ خریدنے / پہننے پر دیا جاتا ہے جو باقی حفاظتی چیزوں سے زیادہ مہنگا مگر مضبوط کوالٹی کا ہوتا ہے. ہر انسان ھیلمٹ کا بخوشی اہتمام کرتا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں یہی ھیلمٹ ان کی کھونپڑی ٹوٹنے اور موت ہونے سے محفوظ کرسکتا ہے. یہ بیوقوفی کی بحث کبھی ہوتی ہی نہیں کہ ھیلمٹ پہنا جائے یا نہ پہنا جائے؟ جب ھیلمٹ ایک بار ضرب برداشت کرتا ہے تو پھر اس جگہ سے ویسا مضبوط نہیں رہتا جیسا پہلے تھا اور یوں اگلی بار کسی ایکسیڈنٹ کی صورت میں اسکی مدافعت کم ہونا ممکن ہے. یہی وجہ ہے کہ اگر کبھی معمولی سا ایکسیڈنٹ بھی ہو جائے جس میں موٹر سائیکل سوار کا ھیلمٹ زمین پر یا کسی اور سخت شے پر جالگے تو اس ھیلمٹ کو پھینک کر نیا ھیلمٹ خریدا جاتا ہے. آپ نے یہی منظر کرکٹ میں بھی بارہا دیکھا ہوگا کہ جب بلے باز کے ھیلمٹ پر تیز گیند جالگے تو فوری نیا ھیلمٹ منگوایا جاتا ہے.
.
اپنے سر کے بارے میں انتہائی حفاظتی تدبیر ہر وہ انسان کیا کرتا ہے جس میں تھوڑا سا بھی شعور ہو. اگر پاکستان کے لاقانونیت بھرے معاشرے میں آج ھیلمٹ پہننے کی مہم چلائی جارہی ہے اور اس کا قانونی اطلاق کیا جارہا ہے تو ہمیں اس کا خیر مقدم کرنا چاہیئے. اگر آپ کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ آپ موٹر سائیکل خرید سکیں تو پھر لازمی ہے کہ ھیلمٹ بھی خریدسکیں. یہ آپ ہی کی جان کی حفاظت ہے. ایسے مطالبے غیر عقلی و غیر حقیقی ہیں کہ ھیلمٹ آپ کو مفت دیا جائے. دنیا کی کوئی بھی حکومت یا پھر موٹر سائیکل کی کوئی بھی نمائندہ کمپنی ھیلمٹ مفت نہیں دیا کرتی. اسے خریدنا اور پہننا موٹر سائیکل سوار کی اپنی عقلی اور قانونی ذمہ داری ہے.
.
====عظیم نامہ====

انگلینڈ میں بس جانا

انگلینڈ میں بس جانا


انگلینڈ میں بس جانا کبھی بھی میرا ارادہ نہ تھا. میں تو یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ ماسٹرز ڈگری کرنے کے بعد پاکستان واپس چلا جاؤں گا. جب ماسٹرز ہوگیا تو لوگوں نے کہا کہ بھئی ایک دو سال کا تجربہ لے کر واپس آنا. ایسے ہی واپس نہ آجانا. ہمیں بات معقول لگی تو ایک دو سال کا تجربہ لینے رک گئے. اب سب عقلمندوں نے ہمیں یہ مشورہ دیا کہ بھئی پانچ سال میں تمھیں انگلینڈ کا پاسپورٹ مل جائے گا، اسے لے کر ہی آنا تاکہ پاکستان یا مڈل ایسٹ میں بہتر نوکری بھی مل سکے اور اگر کل کوئی انہونی ہو تو تمہارے پاس واپسی کا راستہ بھی موجود ہو. ہمیں ایک بار پھر یہ بات مناسب محسوس ہوئی. سوچا جہاں تین سال رک گئے ہیں وہاں دو سال اور گزار کر پانچ سال بھی رک ہی جائیں گے. پھر واپس اپنے ملک پاکستان. مگر ایسا نہ ہوا. امیگریشن کے ایک کے بعد ایک ایسے مسائل پیدا ہوتے چلے گئے جن سے میرا کیس الجھتا گیا. ہر سال یہ لگتا کہ بس اب سب ہونے والا ہے اور اب میں پاکستان جاسکوں گا. مگر پھر کچھ ایسا ہوتا کہ سب دھرا کا دھرا رہ جاتا. کبھی گورنمنٹ کی نئی پالیسی آجاتی تو کبھی نئی شادی شدہ زندگی میرے قدموں کو جکڑ لیتی. ایک وقت ایسا بھی آیا جب بناء پاسپورٹ لئے پاکستان جانے کا امکان پیدا ہوا مگر میرے وکیل کی حماقت نے میرا کیس اس حد تک بگاڑ دیا کہ واپسی کا مطلب ہمیشہ کیلئے کسی بھی مغربی ملک میں سفر کرنے کی پابندی ہوتی. چنانچہ کئی سال مجھے اپنے دفاع میں لگے، جس کا نتیجہ بلآخر میرے حق میں برآمد ہوا اور اس وکیل پر پابندی لگ گئی جس نے میرا کیس اپنی مجرمانہ غفلت کے سبب برباد کردیا تھا. پورے چودہ سال گزرنے کے بعد مجھے انگلینڈ میں مستقل سکونت حاصل ہوئی مگر اب اس عمر میں پاکستان جاکر دوبارہ سے نئی زندگی کا تجربہ کرنا کوئی آسان فیصلہ نہیں.
.
اس سب کے برعکس، میرا ایک نہایت قریبی دوست انگلینڈ آیا. اسے انگلینڈ بیحد پسند تھا اور وہ یہاں رہنا چاہتا تھا. لیکن اسے یہ ملک راس نہ آیا. پہلے کئی ماہ تو اسے کوئی معمولی نوکری بھی نہ ملی. پھر ایک سیکورٹی گارڈ کی نوکری ملی تو ایسے غیر معمولی واقعات ہوئے کہ دو بار اسے انتہائی ایمرجنسی کے نمبر ٩٩٩ پر کال کرکے پولیس بلانی پڑی. ایک بار ڈکیتی کا بھی سامنا کیا. یوں لگتا تھا کہ یہ ملک اسے کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں ہے. پاکستان میں اسکے والدین بھی ہر وقت فکرمند رہتے. یہاں تک کہ سال بھر میں ہی اسے واپس پاکستان بھیج دیا گیا. وہاں اس کی اچھی نوکری ہوئی، پھر جلد ہی وہ دبئی گیا. جہاں اپنی فیلڈ کی ایک بہترین نوکری کرتا رہا. تنخواہ کے اعتبار سے بھی وہ مجھ سمیت اکثر لوگوں سے بہتر ثابت ہوا. یعنی وہی بندہ جو انگلینڈ میں ناکام تھا وہ دبئی میں نہایت کامیاب رہا. انگلینڈ سے جذباتی وابستگی کے سبب وہ کوئی سات آٹھ برس واپس آنے کی کوشش کرتا رہا مگر ویزہ یا کوئی صحیح راستہ نہیں مل سکا.
.
چند سال پہلے اپنے اس دوست سےکراچی میں ملاقات ہوئی تو ان ہی اپر درج واقعات و معاملات کا ذکر کرتے ہوئے ایک دوسرے سے کہا کہ ہمارا رب الرزاق ہے. وہ ہی ہے جو کسی ایک کا رزق ایک جگہ اور دوسرے کا دوسری جگہ مقرر کردیتا تھا. پھر مرضی نہیں چلتی. لہٰذا جو نہ ملا اس پر کڑھنے کی بجائے، کیوں نہ اس پر خدا کا شکر کیا جائے جو ملا اور جو اس نے ہمارے لئے مقدر کردیا؟ ہم سب خدا کے گرینڈ پلان کا حصہ ہیں. ہم سب کو بس اپنا کردار پہچاننا اور نبھانا ہے.
.
====عظیم نامہ====

قران پاک اور انسانی نفسیات

 قران پاک اور انسانی نفسیات


میرے ایک استاد، دوست اور بزرگ یہاں انگلینڈ میں انسانی نفسیات کے نمائندہ ڈاکٹرز میں شمار ہوتے ہیں. البتہ میرا ان سے تعارف ان کے شعبہ کی بنیاد پر نہیں جڑا بلکہ قران حکیم پر تحقیق کے حوالے سے ہوا. ڈاکٹر صاحب گزشتہ بیس پچیس برس سے کلام پاک پر تحقیق کررہے ہیں اور بہت ہی قیمتی علمی کام کرچکے ہیں. آپ ہماری جامع مسجد میں ہفتہ وار خطاب بھی کرتے ہیں اور ایک عرصے سے اپنی تحقیق کو کتاب کی صورت میں مجتمع کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں. ایک روز اپنے لیکچر کہ بعد مجھے بتانے لگے کہ ..
.
"جب میں
نے قران پاک پر تحقیقی کام شروع کیا تو مجھے ہر تیسری آیت انسانی نفسیات کی بات کرتی ہوئی نظر آتی تھی" ...
.
میں نے پوچھا کہ اچھا اور اب بیس پچیس سال کی تحقیق کے بعد کیا لگتا ہے؟ بے ساختہ ہنس کر بولے
.
"اب مجھے ہر دوسری آیت انسانی نفسیات کی بات کرتی ہوئی نظر آتی ہے" ...

.
====عظیم نامہ====