Thursday, 1 November 2018

ایک غرور



ایک غرور




ایک غرور وہ بھی تھا جب حکمران اپنے متعلق درباریوں سے روز یہ سن کر مسرور ہوتے تھے:
.
"جنبش مکون، باادب با ملاحظہ ہوشیار ! .. ظل الہی، حکمران وقت، شیروں کے شیر، نشان عدل و انصاف، ہر دلعزیز، نور تخت، بابر اعظم، شہنشاہ ہند، بادشاہ سلامت .. جلال الدین محمد اکبر تشریف لا رہے ہیں"
.
ایک تکبر یہ بھی ہے جب مرشد و عالم اپنے متعلق مریدین سے روز یہ سن کر خاموش رہتے ہیں:
.
"شیخ الشیوخ، پیران پیر، قطب الاقطاب، استاد الاساتذہ، فقیہ وقت، امام شریعت، شان طریقت، حکیم امت، مفتی اعظم، شیخ الاسلام .. اعلیٰ حضرت مولانا .. جلال الدین محمد اکبر قادری چشتی نقشبندی خطاب کیلئے تشریف لارہے ہیں"
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 4 October 2018

ایک تکبر یہ بھی ہے


ایک تکبر یہ بھی ہے


ایک غرور وہ بھی تھا جب حکمران اپنے متعلق درباریوں سے روز یہ سن کر مسرور ہوتے تھے:
.
"جنبش مکون، باادب با ملاحظہ ہوشیار ! .. ظل الہی، حکمران وقت، شیروں کے شیر، نشان عدل و انصاف، ہر دلعزیز، نور تخت، بابر اعظم، شہنشاہ ہند، بادشاہ سلامت .. جلال الدین محمد اکبر تشریف لا رہے ہیں"
.
ایک تکبر یہ بھی ہے جب مرشد و عالم اپنے متعلق مریدین سے روز یہ سن کر خاموش رہتے ہیں:
.
"شیخ الشیوخ، پیران پیر، قطب الاقطاب، استاد الاساتذہ، فقیہ وقت، امام شریعت، شان طریقت، حکیم امت، مفتی اعظم، شیخ الاسلام .. اعلیٰ حضرت مولانا .. جلال الدین محمد اکبر قادری چشتی نقشبندی خطاب کیلئے تشریف لارہے ہیں"
.
====عظیم نامہ====

Friday, 28 September 2018

سفر اپنا اپنا


سفر اپنا اپنا


Image may contain: ‎‎2 people, ‎including ‎عظیم الرحمٰن عثمانی‎‎‎, people smiling, beard and close-up‎
.
انگلینڈ سمیت تمام یورپ یا امریکہ کی سڑکوں پر موجود گھروں سے محروم مفلوک الحال غریبوں کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں ہے. ہر حساس دل ان کیلئے کسی نہ کسی درجے میں درد محسوس کرتا ہے. میں بذات خود متعدد بار ان کی مسلسل اذیت و تنہائی دیکھ کر غمزدہ ہوجاتا ہوں. مگر کچھ ماہ قبل میری نظر اپنے محلے میں سڑکوں پر بسے ایک ایسے انسان کے چہرے پر پڑی ، جس نے مجھے پوری طرح گرفت میں لے لیا. میں نہیں جانتا کہ وہ کون سی کشش تھی جو مجھے اس بوسیدہ حال کی جانب کھینچے جارہی تھی. سخت ترین مسائل کے باوجود بھی مجھے اس کا چہرہ عجیب سا سکون لئے نظر آیا. اسکی آنکھوں میں کرب و محرومی نہیں بلکہ ایک نادیدہ گہرائی تھی. میں نے نوٹ کیا کہ وہ کسی سے پیسے مانگتا نہیں ہے اور جو خود اسے کچھ دے دے اسے نہایت خوش دلی سے شکر کیساتھ قبول کرلیتا ہے. گنجلک داڑھی، رنگ گندمی، پرانے کپڑے اور کمر پر لدا ہوا بوریا بستر. مجھے وہ کینیا یا موریشئیس کا پیدائشی لگتا تھا. میں اس سے بات کرنا چاہتا تھا، اس کا حال پوچھنا چاہتا تھا مگر چاہ کر بھی نہیں کرپاتا. ہمیشہ رک جاتا. شائد میری انا ، میرا تکبر مجھے ایک سڑک چھاپ سے گفتگو کرنے سے روک رہا تھا (استغفرللہ) مگر اسکے باوجود میں اسے جب بھی دیکھتا تو بے چین ہوجاتا. میری بیوی میری اس بے چینی سے آگاہ تھی، میرا ایک دوست بھی میرے اس لگاؤ سے واقف تھا. میں نے ایک بار اسے کچھ پیسے دیئے مگر بات کرنے کی ہمت پھر بھی نہ جوڑ پایا. کیوں؟ میں نہیں جانتا. ایک بار ایسا بھی ہوا کہ میں نے اس کا پیچھا کیا اور اس کے اردگرد منڈلاتا رہا کہ شائد وہ مجھے سے کچھ کہے، کچھ مانگے اور مجھے گفتگو کرنے کا موقع مل جائے. مگر نہیں. وہ تو جیسے میری موجودگی سے مکمل طور پر غافل تھا. 
.
دن یونہی گزرتے گئے. یہاں تک کہ کوئی دس بارہ روز قبل میں آفس سے واپسی میں ، اپنے خیالات میں مگن گھر جارہا تھا، جب اچانک اس سے مڈبھیڑ ہوگئی. وہ فٹ پاتھ/ سڑک کے کنارے بیٹھا تھا اور میں اسے تب دیکھ پایا جب بلکل اس کے سر پر جاپہنچا. بناء سوچے سمجھے میرے منہ سے ہیلو نکلا. جس کا اس نے جواب دیا. یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے اس سے گفتگو کا آغاز کردیا. میں نے اس سے درخوست کی کہ کیا میں اس سے اس کے بارے میں پوچھ سکتا ہوں؟ جس کا جواب اس نے ہاں میں سر ہلا کر دیا. میں فٹ پاتھ پر ہی اس کے برابر آلتی پالتی مار کر براجمان ہوگیا. ابتداء ہی میں مجھ پر حیرت کا پہاڑ تب ٹوٹا جب اس نے بتایا کہ یہ مفلوک الحال زندگی اس کی مجبوری نہیں بلکہ اس کی پسند ہے. وہ اس حال میں اپنی مرضی سے ہے. وہ معرفت کا مسافر ہے اور خود کو کھوج رہا ہے. میں نے حیرت سے وجہ دریافت کی تو اس نے اپنا سفر بتایا. کیسے اس کے تعلقات اپنے باپ سے نہایت کشیدہ تھے؟ کیسے گھریلو تشدد کے سبب اس کی نفسیات اور شخصیت مسخ ہوتی چلی گئی؟ کیسے اسے اپنا گھر بار چھوڑ کر علیحدہ گھر میں منتقل ہونا پڑا؟ کیسے اس نے بہترین نوکریاں کیں؟ کیسے وہ ایک پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہوا؟ کیسے سالہا سال وہ تنہا کمرے میں بند اپنا علاج کراتا رہا؟ - اس نے یہ کہہ کر مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا دیا کہ وہ مسلمان ہے اور دل سے اسلام کو درست مانتا ہے. اس نے بتایا کہ اس کا باپ مسلمان اور ماں بدھ مت تھی. اسے بدھ مت اور اسلام دونوں کے ٹھیکیداروں سے شدید نفرت ہوگئی. اسے مولوی کا وہ اسلام ذرا نہیں پسند آیا جو تکفیر اور تنگ نظری پر مبنی ہے. جو صرف ظاہر ہی میں الجھا ہوا ہے اور جو جنت پر کاپی رائٹ جماتا ہے. اس نے بتایا کہ اسی نفرت کے دوران اسے ترکی سے آئے ایک مشہور صوفی بزرگ شیخ ناظم الحقانی سے لندن میں ملاقات نصیب ہوئی. جہاں سے اس نے تصوف کی راہ کو اختیار کیا. مگر کچھ عرصے بعد وہ اسے بھی ترک کر گیا. 
.
پھر ایک روز اپنی شدید علالت کے دوران ہی اچانک جیسے قلب کھل گیا. اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود کو کھوجے گا. میں کون ہوں؟ حق کیا ہے؟ حق کا راستہ کیا ہے؟ - یہ وہ تجربے سے جانے گا. اس نے گورنمنٹ سے ملنے والی مراعات کو لینے سے انکار کیا، گھر واپس کر دیا اور سڑک پر جا بسا. یہاں آکر معلوم ہوا کہ سڑک پر بھی سیاست و اجارہ داری ہے. خود کو مسلمان بتانا تو جیسے مصیبت کو دعوت دینا ہے. لہٰذا اس نے سڑک پر ایک علیحدہ شناخت اختیار کرلی اور گلی گلی نگر نگر جانے لگا. کم و بیش دو سال سے وہ سڑک پر ہے اور اسے یہاں خدا کی معرفت نصیب ہوگئی ہے. اس نے اپنے ساتھ ہوے والے روزمرہ کے وہ واقعات بیان کرنے شروع کیئے جن میں خدا نے اسے ہمیشہ مشکل سے بچا لیا. اسی دوران اس کے باپ کا انتقال ہوا، وہ اسکے جنازے میں شرکت کیلئے دوسرے شہر برمنگھم پہنچا تو باپ کی میت سامنے رکھی تھی. اس نے کہا کہ میں نے اس سے پہلے اپنے باپ کے چہرے پر کبھی ایسا سکون نہ دیکھا تھا. یوں لگا جیسے میرے دل سے نفرت، غصہ، شکایت - ہر منفی جذبہ رخصت ہوگیا ہو. میں خود بھی سکون اور خوشی سے نہال ہوگیا. سالوں بعد میرے کزنز مجھ سے ملے ، مجھے گلے لگایا، میری خیریت پوچھی. پھر واپس سڑکوں پر آگیا. اب اس نے مجھ سے میری زندگی پوچھی. معرفت کا جو میرا ٹوٹا پھوٹا سفر ہے، وہ میں نے اسے بیان کیا. اسے محبت سے سمجھایا کہ اسلام کا حقیقی پیغام کیا ہے؟ اسے رغبت دلائی کہ وہ نماز کو دوبارہ ادا کرنا شروع کرے. وہ میری گفتگو سے اتنا ہی خوش تھا جتنا شائد میں اسے سن کر. وہ کہنے لگا کہ آپ کو خدا ہی نے میرے پاس بھیجا ہے اور آپ کی باتوں میں میرے سوالات کے جوابات موجود ہیں. میں نے کہا کہ یہ ممکن ہے. خدا یونہی اسباب پیدا کرتا ہے. اردگرد موجود افراد و حالات سے آپ کیلئے رستہ کھول دیتا ہے. میں نے اسے بتایا کہ کس طرح میں مہینوں سے اس سے گفتگو کیلئے بے چین تھا اور کیسے میں اس کی جانب آج تک ایک غیر معمولی کشش محسوس کرتا رہا. اس نے خوشی سے کہا کہ میں یہ سمجھ سکتا ہوں. اگر آپ میرے پاس مبلغ بن کر آتے تو نہ میں کبھی آپ کی بات تسلیم کرتا نہ ہی اپنے دل کی آپ کو بتاتا. مگر آپ تبلیغ کیلئے نہیں آئے بلکہ صرف محبت لئے آئے. اس نے نماز کا ارادہ کیا اور ساتھ یہ کہا کہ وہ جانتا ہے کہ اب اسے سڑک چھوڑ کر دوبارہ زندگی میں لوٹنا ہے. جہاں وہ اپنی روزی کمائے اور اب تک کے سفر میں سیکھے اسباق سے ایک بہتر انسان بن کر جیئے.
.
میں نے گھڑی دیکھی تو دو گھنٹے فٹ پاتھ پر بیٹھے اسی گفتگو میں گزر چکے تھے. دوران گفتگو لوگ آتے رہے، کسی راہگیر نے سکے اچھالے، کسی نے مزاج پوچھا اور کسی نے چاکلیٹ دی. میں نے اس سے جانے کی اجازت مانگی. اسے ایک بڑا نوٹ مالی مدد کے طور پر دینا چاہا تو اس نے ہاتھ تھام کر منع کردیا. کہنے لگا کہ ہمیں اس پیاری ملاقات کو پیسوں سے داغدار نہیں کرنا چاہیئے اور جو اسے ملاقات میں حاصل ہوا ہے وہ کسی بھی مالی مدد سے بہت زیادہ ہے. یہی احساسات میرے بھی تھے. ہم نے ہاتھ ملایا، ایک تصویر کھینچی اور دلوں میں سکون و مسرت لئے جدا ہوگئے. 
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 26 September 2018

تربیت

تربیت 


تعلیم سے زیادہ ہماری قوم کا المیہ تربیت کا فقدان ہے۔ یہاں ڈگری یافتہ نام نہاد پڑھے لکھے بھی نظم و ضبط کو ویسے ہی پامال کرتے ہیں جیسے تعلیم سے نابلد افراد۔ گویا اکثریت دو حصوں میں منقسم ہے۔ پہلا بناء تعلیم کے جاہل اور دوسرا تعلیم یافتہ پڑھا لکھا جاہل۔ سڑکوں پر کچرا پھینکنے سے لے کر ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑانے تک اور گاہکوں کی قطار توڑنے سے لے کر مخاطب کو غلیظ گالیاں دینے تک دونوں طبقوں کا حال ایک برابر ہے۔ کالج و مدارس کے اساتذہ میں بھی ایک بڑی تعداد ایسی موجود ہے جو خود تربیت کرنا ہی نہیں جانتے۔ چنانچہ ہم لوگوں کوڈگری یافتہ تو بنارہے ہیں مگر انہیں تہذیب و اقدار سیکھانے سے قاصر ہیں۔
یہی حال ان والدین کا ہے جو اپنے بچوں کے سامنے نہ صرف جھوٹ بولتے ہیں بلکہ انہیں جھوٹ بولنا سیکھاتے ہیں۔ شہری ماحول میں تو اب بچے فحش ترین آئٹم سانگز گاتے پھرتے ہیں، ناچتے ہیں اور ماں باپ تالی بجاتے ہیں۔ دیہاتی ماحول میں بعض اوقات اولاد پر اتنا جبر کرتے ہیں کہ اسکی شخصیت و اعتماد مسخ ہوکر رہ جاتے ہیں۔ مانا کہ ریاستی سطح پر قوانین کا عدم اطلاق اس جہالت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مگر اسے وجہ بناکر تربیت کی بنیادی درسگاہوں یعنی گھر اور اسکول سے کیسے صرف نظر کیا جاسکتا ہے؟ ہم سب اپنے اردگرد موجود اس بے ہنگم ہجوم کا حصہ ہیں۔ ہم سب اس برپا لاقانونیت اور افراتفریح میں برابر کے مجرم ہیں۔ لازم ہے کہ ٹی وی و سوشل میڈیا سمیت ہر حاصل زرائع سے قوم کی تربیت کا اہتمام ہو۔ ضروری ہے کہ اب مسجد کے منبر کا ارتکاذ عبادات سے زیادہ معاملات پر ہو۔ اور اسکول و مدارس سے نکلنے والے فقط تعلیم یافتہ نہ ہوں بلکہ تربیت یافتہ بھی ہوں۔ ہم اگر دس ڈیم بھی بناڈالیں یا معجزاتی طور پر ملک کے تمام قرضے بھی اتار پھینکیں یا گوادر سے کراچی تک سڑکوں بلڈنگز کا جال بچھادیں۔ تب بھی ہم اس وقت تک ایک قوم نہیں کہلاسکتے جب تک ہم میں "سوک سینس" بیدار نہ ہوجائے۔
۔
====عظیم نامہ====

نور


نور 



"بھئی واہ سبحان اللہ .. کتنا نور ہے ان کے چہرے پر !"
.
یہ جملہ آپ سب نے متعدد بار مختلف شخصیات کے بارے میں سن رکھا ہوگا یا کہہ رکھا ہوگا. یہ چہرے پر نور ہوتا کیا ہے؟ اسکی کوئی حقیقت بھی ہے یا پھر یہ فقط ایک مفروضہ ایک اختراع ہے ؟ یہ بات تو مسلمہ ہے کہ بہت سے افراد اپنی مذہبی و نظریاتی وابستگی کو بھی ایسے تقدس بھرے جملوں کا روپ دے دیتے ہیں. چنانچہ انہیں اپنے مسلک سے وابستہ نمایاں مذہبی شخصیات کا چہرہ نور سے مزین نظر آنے لگتا ہے. مشاہدہ یہ بھی ہے کہ معتقدین اکثر اپنے مکتب کی اسی شخصیت کے چہرے کو نورانی کہتے ہیں جس کی رنگت سرخ سفید ہو یا قدرے صاف ہو. سیاہ فام یا گہرے گندمی چہروں کو نورانی کہنے کا رواج عموم میں نہیں ملتا. گو چند ایک استثنات ممکن ہیں. راقم کے نزدیک افراد کا اپنی من پسند شخصیات کے چہروں کے بارے میں ایسے جملے بولنا محض ان کی موجود سوچ و عقیدت کا عکس ہے. اس سے زیادہ کچھ نہیں. یہی وجہ ہے کہ دیگر اشخاص جنہیں اس مذہبی شخصیت سے عقیدت نہیں ہے، وہ ان کے چہرے میں کسی نور کو دیکھ بھی نہیں پاتے. سوال پھر وہی اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ پھر کیا ہم یہ مان لیں کہ کسی چہرے کا نورانی ہونا ممکن ہی نہیں؟ تو جناب ہماری دانست و تجربے میں اس کا بہرکیف امکان موجود ہے. گو چہرے پر نور سے مراد کیا ہے؟ پہلے اسے کھوجنا ضروری ہے. 
.
ہم سب کا چہرہ اکثر و بیشتر ہماری شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے. یہی وجہ ہے کہ غصیلے افراد کے چہرے پر ایک خاص طرح کی کرختگی اور شاطر لوگوں کی آنکھوں میں ایک مخصوص عیاری جھلکنے لگتی ہے. ایسے ہی حسد کی آگ میں جلتے رہنے والو کے چہروں پر عجیب سی تاریکی اور منکسر المزاج شخصیات کے چہروں پر نرمی واضح طور پر نظر آتی ہے. چہروں پر حقیقی نور جسے بلاتفریق مسلک محسوس کیا جاسکے، ہمارے نزدیک دو خواص کے اجماع کا نام ہے. پہلا ہے سکون اور دوسرا ہے معصومیت. گویا جس شخصیت کا شاکلہ سکون اور معصومیت کی مٹی سے گندھا ہو، اس کا چہرہ نور سے آراستہ ہوجاتا ہے. دھیان رہے کہ چہرے پر نور کسی پھوٹتی روشنی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ روحانی جاذبیت ہے جو دیکھنے والے کو ایک سکون کی حامل قدرے معصوم شخصیت میں محسوس ہوتی ہے. آپ میں سے اکثر اس بات کی گواہی دیں گے کہ کئی عام سے افراد کے جنازے جب پڑھائے گئے تو میت کا چہرہ نور سے بھرا ہوا نظر آیا. دراصل یہ نور اور کچھ نہیں بلکہ وہ سکون ہے جو مردے کے چہرے پر زندگی کی الجھنوں سے نجات کے بعد نظر آنے لگتا ہے. یہی معاملہ کئی بار میٹھی نیند میں غرق اشخاص کے چہروں پر بھی کمتر درجے میں نظر آتا ہے، وہ سوتے ہوئے زیادہ پرنور یعنی زیادہ پرسکون لگتے ہیں. وجہ وہی ہے کہ اس وقت وہ عارضی طور پر زندگی کی پیچیدگیوں یا جھنجھٹوں سے غافل ہوتے ہے. 
.
اسی طرح بچے چونکہ معصوم ہوتے ہیں لہٰذا ہم سب کو پرنور نظر آتے ہیں. پھر چاہے وہ گوری رنگت کا حامل انگریز بچہ ہو، گندمی پاکستانی بچہ ہو، زردی مائل جاپانی بچہ ہو یا پھر سیاہ فام افریقی بچہ - کوئی فرق نہیں پڑتا. سب ہی نور سے سجے دیکھائی دیتے ہیں. مزید آگے جائیں تو انسان کا بچہ ہی نہیں بلکہ کسی جانور کا بچہ بھی وہی نورانی مقناطیسیت لئے محسوس ہوتا ہے. یہی وجہ ہے کہ بچہ بلی، کتے، بندر، سور، شیر، ہرن، بکری، - کسی کا بھی ہو، ہم سب کو پیارا لگتا ہے. چہرے کا یہ نور اس وقت اور بھی بچے کی شکل پر نظر آتا ہے جب وہ گہری نیند میں سو رہا ہو. مختصر یہ کہ سکون اور معصومیت وہ دو نمائندہ عوامل ہیں جن کی موجودگی شخصیت میں راسخ ہو تو چہرہ حقیقی معنوں میں نورانی ہوجاتا ہے. گو چہرے پر نور ہونا ایک عمدہ وصف ضرور ہے مگر نہ ہی یہ دین کی رو سے بلندی درجات کی علامت ہے اور نہ ہی اخروی نجات کا ضامن. 
.
====عظیم نامہ====

Monday, 17 September 2018

پرلطف نعمتیں


پرلطف نعمتیں


آپ سب نے وہ ویڈیوز ضرور دیکھ رکھی ہونگی، جن میں پیدائشی طور پر سماعت سے محروم بچوں کو پہلی بار ایک جدید آلہ کان سے لگا کر ماں کی آواز سنائی جاتی ہے۔ سنتے ہی وہ گود میں روتے بلکتے بچے پہلے حیرت اور پھر مسرت سے نہال ہوجاتے ہیں۔ بعض معصوم تو وجد میں آکر مسکراتے ہوئے گود میں مچھلی کی مانند مچلنے لگتے ہیں۔ اسی طرح وہ ویڈیوز بھی ممکن ہے آپ نے دیکھ رکھی ہوں، جن میں پیدائشی طور پر بصارت یعنی دیکھنے سے محروم بچوں کو طاقتور چشمہ لگاکر جب پہلی بار دنیا دیکھنا نصیب ہوتا ہے تو وہ خوشی سے کبھی قہقہے لگاتے ہیں تو کبھی فرط مسرت سے پھوٹ پھوٹ کر رو دیتے ہیں۔ ان میں کچھ بچے تو اتنی چھوٹی عمر کے ہیں جن کے بارے میں گمان ہوتا ہے کہ شائد رونے کے سوا کچھ بھی نہ جانتے ہوں۔ مگر نہیں وہ بھی ۔۔۔ پہلی بار سننے یا دیکھنے کا تجربہ پاکر بے پناہ خوشی سے نہال ہوتے نظر آتے ہیں۔
۔
دیکھنا یا سننا کتنی بڑی انسانی ضرورت پوری کرتا ہے؟ اسوقت ہمیں اس سے بحث نہیں۔ ہم تو یہ سوچ کر گنگ ہیں کہ ہم سوچتے ہی نہیں، ہمارے پاس کتنی زبردست اور پرلطف نعمتیں ہیں؟ ان بچوں کے تاثرات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روزمرہ کا دیکھنا اور سننا کتنی لطف یعنی کتنی انجوائیمینٹ کی شے ہے؟ اور صرف یہی کیوں ؟ بلکہ ہر حاصل نعمت - جسے ہم حاصل ہونے کے سبب معمولی سمجھ بیٹھتے ہیں وہ فقط ہماری جسمانی ضرورت ہی پوری نہیں کرتی بلکہ ایک مخفی لطف و طمانیت بھی عطا کرتی ہے۔ جیسے مثال کے طور پر کھانا منہ کے ذریعے معدے میں پہنچ جائے تو توانائی کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے مگر ہمارے رب نے ہمیں ساتھ ذائقہ بھی عطا کیا تاکہ ہم ضرورت پوری کرنے کیساتھ ساتھ اس نعمت سے لطف اندوز بھی ہوں۔ کیا ہو جو آپ کی زبان سے آج ذائقہ چھین لیا جائے؟ پھر آپ اس تمیز سے ہی قاصر ہونگے کہ منہ میں آیا نوالہ بریانی کا ہے یا نہاری کا؟ لیا گیا گھونٹ میٹھی لسی کا ہے یا کڑوی کافی کا؟ توانائی یعنی نیوڑریشن کی ضرورت تو اس کے بغیر بھی پوری ہوجائے گی مگر پھر زندگی کیسی پھیکی؟ کیسی بے رنگ؟ کیسی بور ہوگی؟ اللہ معافی۔
۔
====عظیم نامہ====

اوورسیز پاکستانی

اوورسیز پاکستانی


ایک بدنصیبی ہماری یہ بھی ہے کہ ہماری ایک بڑی تعداد دیار غیر میں بسے پاکستانیو کو محب وطن ماننے کو تیار نہیں۔ انکے نزدیک چونکہ فلاں شخص پاکستان سے باہر نوکری کرتا ہے اسلئے اسے ملک سے محبت نہیں ہوسکتی۔ میں خود انگلینڈ کا رہائشی ہوں اور مجھے ان گنت بار دوران گفتگو ایسے تلخ اور طنزیہ جملوں کا سامنا ہوتا رہا ہے، جب متکلم آپ کے موقف کو دلائل سے قبول یا رد کرنے کی بجائے طعنہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر اتنا ہی ملک سے پیار ہے تو کب واپس آرہے ہو پاکستان؟ جتنے تحقیری جملے ہم اوورسیز پاکستانیو پر کستے ہیں، شائد ہی کوئی دوسری قوم اپنے اوورسیز طبقے کیلئےاختیار کرتی ہو۔ دنیا کا کوئی ملک بسمیت انگلینڈ امریکہ وغیرہ کے ایسا نہیں ہے جس کے لاکھوں کروڑوں شہری اپنے ملک کی بجائے کسی دوسرے ملک میں نہ بستے ہوں تو کیا جب وہ اپنے آبائی ملک کی بہتری کیلئے بات کریں تو ان پر بھی طنز کے نشتر برسائے جاتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ انہیں اپنے آبائی ملک کا سفیر سمجھا جاتا ہے، جہاں وہ بسے ہیں اس ملک میں اپنے سفارتی تعلقات کی مضبوطی کیلئے ان سے رابطہ رکھا جاتا ہے ساتھ انہیں یہ ترغیب بھی دی جاتی ہے کہ وہ اپنے آبائی ملک میں سرمایہ کاری کریں۔
۔
اوورسیز پاکستانی فکر معاش، اعلی تعلیم، صحت کی خرابی سمیت متعدد مختلف وجوہات کی بناء پر اپنے وطن سے باہر سکونت اختیار کیئے ہوئے ہیں مگر ان کے دل آج بھی اپنے ملک اور اپنی قوم کیلئے دھڑکتے ہیں۔ آج بھی جب ان کے سامنے ٹائمز میگزین لندن اور جنگ اخبار کراچی رکھا ہو تو انکے ہاتھ اپنے ملک کے حالات جاننے کیلئے اپنے اخبار کی جانب بڑھتے ہیں۔ آج بھی کرکٹ میچ ہو تو پہلی ہمدردی انکی پاکستان ہی کی جانب ہوتی ہے۔ آج بھی وہ تمام تر خطرات و خدشات کے باوجود دنیا کے دیگر محفوظ ممالک چھوڑ کر پاکستان میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اب ایسے میں یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ انکے اپنے ملک سے اس تعلق کو تذلیل کا نشانہ بنائیں یا پھر انکی ویسی ہی قدر کریں جیسی قدر مہذب اقوام اپنی اوورسیز کمیونٹی کا کرتی ہیں۔
۔
====عظیم نامہ====