Monday, 17 September 2018

عالمی بساط


عالمی بساط

Image may contain: 9 people, people smiling
.
یوں محسوس ہوتا ہے کہ پچھلی چند دہائیوں میں برپا ہونے والے کشیدہ حالات نے ایسی ملکی قیادتوں کو جنم دیا ہے جن کی مثال انکے اپنے اپنے ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی. سعودی شہزادے محمد بن سلیمان کی مثال لیجیئے جنہوں نے آتے ہی نہ صرف شاہی خاندان کے نمائندہ ناموں کو پابند سلاسل کردیا بلکہ آگے بڑھ کر بہت سی اسلامی تعلیمات کی اس سلفی تشریح کو بھی مسترد کردیا جس کا مبلغ سعودی عرب دنیا بھر میں بنا رہا ہے. امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توقعات کے برعکس انتخاب جیت کر ایک دنیا کو حیران کردیا. امریکی پالیسیوں کا وہ متعصب چہرہ جو ہمیشہ حقوق انسانی یا اقوام متحدہ کے دلفریب نعروں کی نقاب میں پوشیدہ رہا تھا. ڈونلڈ نے اس نقاب کو الٹ کر کھلم کھلا اس نفرت بھرے ایجنڈے کو سامنے رکھ دیا ہے جس کا واحد مقصد امریکی سالمیت کے نام پر دنیا کو محکوم بنائے رکھنا ہے. یہی ماجرہ انڈیا میں شدت پسند ہندو رہنما نریندرا مودی کے انتخاب کی صورت میں ہوا. حکومتی سطح پر بہت سے اقدامات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ڈیموکریسی کا جھنڈا لہرانے والا بھارت دراصل مذہبی بنیادوں پر ایک 'ہندو دیش' کا خواہاں ہے. کینیڈا کے پرائم منسٹر جسٹن ٹروڈو سے کون واقف نہیں؟ کیا غیر مسلم اور کیا مسلم؟ سب ہی انکی صلح جو طبیعت کے مداح ہیں. کینیڈا عمومی طور پر اپنے ملک سے باہر ہونے والے کسی تنازع پر زیادہ تبصرہ نہیں کرتا مگر اس نفرت بھری دنیا میں کئی بار جسٹن نے امن اور انصاف کیلئے اپنی آواز بلند کی.
.
اسی طرح مسلم دنیا میں بلاشبہ سب سے زیادہ محبت پانے والا نام ترکی کے صدر طیب اردگان کا ہے. جنہوں نے نہ صرف ترکی کے بیرونی دشمنوں کو بھرپور جواب دیا بلکہ اپنے خلاف اٹھنے والی ملکی بغاوتوں کو بھی عوامی حمایت سے کچل ڈالا ہے. یہ واحد لیڈر ہیں جو ملکی سطح سے اٹھ کر پوری اسلامی دنیا کے اتحاد کی بات کررہے ہیں. پاکستان کے حالیہ انتخابات میں عمران خان کا منتخب ہوجانا بھی ایک غیر معمولی واقعہ ہے. ملکی سیاست کے تمام بڑے برجوں کو الٹ کر اقتدار تک پہنچنا اسی لئے ممکن ہوا کہ خان نے عوام کو تبدیلی کی امید دلائی ہے. مخالفین کے نزدیک خان تباہی جبکہ حامیوں کی جانب سے وہ خوشحالی و تبدیلی کی نوید ہے. عمران سے یہ امید کی جارہی ہے کہ نہ صرف وہ ملکی کرپشن کا خاتمہ کرے گا بلکہ دنیا کی سیاست میں بھی پاکستان کی جانب سے دوٹوک موقف اپنائے گا. روس کے صدر ولادیمر پیوٹن اپنے ملک میں بے مثال شہرت کے حامل رہے ہیں. دنیا کے سیاسی منظر نامے میں اگر امریکہ کسی ملک کا نام سن کر اقدام کرنے سے باز رہ پاتا ہے تو وہ روس ہی ہے اور اسکی بڑی وجہ بلاشبہ پیوٹن کی قیادت رہی ہے. ملائیشیا کی معیشت کو مستحکم کرنے میں جو مہاتیر محمد کا کردار رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں. ملائیشیا کی عوام انہیں اپنا ہیرو مانتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے حالیہ الیکشن میں انہیں دوبارہ منتخب کیا ہے اور یوں وہ ٩٢ سال کے معمر ترین سربراہ بن گئے ہیں. شمالی کوریا کے صدر 'کم جونگ ان' نے اپنے سخت بیانات اور پالیسیوں سے پوری دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے. امریکہ کو اسی کی بدمعاشی بھری زبان میں جواب دینا ان کا خاصہ ہے. کئی تجزیہ نگار ڈونلڈ ٹرمپ کو آدھا جنونی جبکہ 'کم جونگ-ان' کو پورا جنونی کہتے ہیں.
.
یہ وہ چند نام ہیں جو اس وقت اقتدار کی کرسیوں پر آپہنچے ہیں. ان میں سے کون خیر اور کون شر کا استعارہ ہے؟ یہ یہاں موضوع نہیں لیکن ایک بات ظاہر ہے کہ یہ سب عالمی سیاسی منظر نامے اور موجود نظریات کو بڑی حد تک بدل ڈالیں گے.
.
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے ... لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی؟
.
====عظیم نامہ====

الحمدللہ


الحمدللہ


گہرا سانولا رنگ، مضبوط جسامت، ہاتھ میں لچک دار چھڑی، گھنی مونچھیں اور رعب دار آواز - یہ خدوخال میرے اسکول کے ایک استاد کے تھے جو خود بھی سندھی تھے اور ہمیں 'سندھی' ذبان ہی بطور سبق پڑھاتے تھے. میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ بہت شفیق تھے مگر اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایمان داری سے ہمیں پڑھایا کرتے تھے. ایک روز کلاس میں آئے تو کہا چلو آج سبق سے ہٹ کر کچھ باتیں کرتے ہیں. کہنے لگے اللہ سائیں کو اپنا ایک بندہ بہت پسند ہے، وہ جسے بہت سی تکالیف ہوں ، جس کے پاس پیسہ نہ ہو یا جو بیمار ہو یا جسے کوئی دکھ لگا ہو ...... مگر جب کوئی دوسرا بندہ اس سے پوچھے کہ بابا چھا حال آہے؟ (بابا کیا حال ہے؟) تو وہ فوراً جواب دے کہ "الحمدللہ" ... سوچو مولا سائیں اپنے اس بندے سے کیسا خوش ہوگا؟ کہ اسے تکلیف تھی، درد تھا، پریشانی تھی .. مگر اس نے دوسرے بندے سے شکوہ نہ کیا بلکہ کہا "الحمدللہ"
.
یہ کہتے ہوئے ان کے چہرے پر مسکراہٹ مگر آنکھوں میں درد نمایاں تھا. ان کی اس بات کا دل و دماغ پر ایسا اثر ہوا کہ آج تک جب بھی کوئی اذیت گھیرتی ہے اور اندر ذرا سی بھی شکایت پیدا ہوتی ہے تو اچانک ان سندھی استاد کا چہرہ چشم تصور میں ابھر آتا ہے اور زبان سے بے ساختہ نکلتا ہے "الحمدللہ". اللہ پاک انہیں اس خوبصورت بات سیکھانے پر بہترین اور مسلسل اجر عطا فرمائیں آمین. کب کون سی بات سننے والے کے لاشعور میں گھر کر جائے؟ ہم نہیں جانتے. لہٰذا خیر کی بات خوبصورت انداز سے ضرور دوسروں کو پہنچائیں. خاص کر بچوں کو تو بہت ہی پیار اور حکمت سے ایسی خیر کی ترغیب دیتے رہنا چاہیئے. کیا معلوم کل کون سی بات ہمارے لئے صدقہ جاریہ ثابت ہو؟
.
====عظیم نامہ====

دو خواہشات کا ٹکرائو


دو خواہشات کا ٹکرائو


ہر مرد اور ہر عورت اسمارٹ نظر آنا چاہتے ہیں۔ موٹاپا یا اپنا بھدا جسم کسے پسند ہے؟ بلکہ اگر یہ کہوں تو غلط نہ ہو کہ فربہ افراد کی اکثریت اپنے موٹاپے سے شدید نفرت رکھتی ہے اور اس سے چھٹکارے کیلئے مختلف حیلے کرتی رہتی ہے۔ اس کا تو پھر بھی امکان ہے کہ کسی فرد کو مخالف جنس کا موٹا ہونا پسند ہو مگر اپنے لیئے موٹاپا اسے بھی پسند نہیں ہوگا۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ جو تیس پینتیس کی دہلیز پار کرچکے ہیں، اسی موٹاپے کا شکار ہیں؟ طرح طرح کی مشقیں، نت نئی ورزشیں اور یوگا سیکھانے والو کی بھرمار ہے مگر پھر بھی ۔۔۔ موٹاپا ہے کہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ کیوں؟ 🤔 ۔۔۔ کہتے ہیں کہ ایک معروف بھاری بھرکم اداکارہ نے موٹاپا کم کرنے کیلئے گھڑسواری شروع کی ہے۔ اس سے وزن تو کم ہوا ہے مگر گھوڑے کا۔ ایک اور صاحب فراست بتا رہے تھے کہ بس دو ہی چیزیں مرتے دم تک ساتھ دیتی ہیں۔ پہلا آپ کا سایہ اور دوسرا موٹاپا۔
۔
مذاق برطرف مگر ہمارے نزدیک دبلا ہونے کی شدید خواہش رکھتے ہوئے بھی کسی کا موٹاپا کم نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب ایک ہی ہے۔ اور وہ سبب یہ کہ اس شخص میں کھانے پینے کی خواہش اسمارٹ بننے کی خواہش سے بہت زیادہ ہے۔ یہ دراصل دو خواہشات کا ٹکرائو ہے جو آپ کے اسمارٹ بننے نہ بننے کا فیصلہ کرتا ہے۔ جس تصادم میں آپ نے ایک کا انتخاب کرنا ہے اور دوسرے کی بڑی حد تک قربانی دینی ہے۔ گویا جس میں اسمارٹ ہونے کی خواہش زیادہ قوی ہوگئی وہ کھانے پینے کی قربانی دے ڈالے گا۔ جب کہ جو بریانی، حلیم، چاکلیٹ، ربڑی کا رسیا ہے اسے اپنی اسمارٹ بننے کی خواہش پر صبر کرنا پڑے گا۔ یہ بظاہر سادہ بات دراصل بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اگر مجھے یا آپ کو وزن کم کرنا ہے تو پہلے خود کو اس ذہن سازی سے گزارنا ہوگا۔ اسمارٹ بننے کی خواہش کو اتنا بھڑکانا ہوگا کہ کھانے پینے یعنی چٹخارے کی رغبت اس کے سامنے ماند پڑجائے۔ ورنہ آپ چاہ کر بھی وزن یا تو کم نہیں کر پائیں گے یا پھر کم کرکے واپس موٹے ہوتے چلے جائیں گے۔
۔
====عظیم نامہ====

مذہبی اصطلاحات

مذہبی اصطلاحات


غامدی صاحب کے افکار سے کسی کو لاکھ اختلاف ہو، ایک بات تو ہم سب کو ماننا ہوگی کہ غامدی صاحب ان مذہبی اصطلاحات کو عوام میں لے آئے ہیں جو کبھی صرف مخصوص علماء کی علمی محافل میں مستعمل ہوا کرتی تھیں. حد تو یہ ہے کہ عوام اب ان اصطلاحات کو مذہبی ہی نہیں بلکہ غیر مذہبی گفتگو میں بھی خوب استعمال کرتے ہیں. سمجھنے کیلئے یہ فرضی مثالیں دیکھیئے:
.
ایک خاتون اپنے شوہر سے دوران بحث کہتی ہیں: "میں نے تو آپ پر دلیل سے "اتمام حجت" کردیا ہے، باقی اب آپ کی مرضی"
.
ایک شوہر اپنی بات کے اختتام پر بولے "بیگم یہ میری "عاجزانہ" اور "طالبعلمانہ" رائے ہے"
.
ایک صاحب نے انٹرنیٹ پر اپنی سمجھ سے ملتی جلتی بات پڑھی تو کہا "مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ میرا "متبادل بیانیہ" اتنا مقبول ہوگیا ہے!"
.
ایک تیرہ سالہ بچے سے اس کے والد نے پوچھا کہ تمہارے پاس اپنی بات کا کیا ثبوت ہے؟ تو وہ بولا "اسکی گواہی میرا "وجدان" اور میری "فطرت" دیتے ہیں"
.
ایک دوست دوسرے دوست کو سمجھا رہا تھا کہ "بھائی اس معاملے میں تو بحث کی گنجائش ہی نہیں ! یہ تو انسانیت میں "تواتر" سے چلی آرہی ہے."
.
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: بیان کردہ امثال حقیقی نہیں بلکہ فرضی ہیں جو بطور مزاح بات سمجھانے کیلئے بیان کی گئی ہیں)

اچھی اردو


اچھی اردو


ایک پرلے درجے کی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ مشکل ترین الفاظ کے استعمال کو اچھی اردو سے تعبیر کیا جائے۔ گویا لکھاری جملے میں ثقیل ترین الفاظ بناء موقع محل کا خیال کیئے اور حسن کلام کو مکمل نظر انداز کرکے شامل کرتا ہے۔ جسے قارئین کی ایک بڑی تعداد کچھ اردو زبان سے ناواقفیت کے سبب اور کچھ ادبی ذوق مفقود ہونے کے باعث خوب سراہتی نظر آتی ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ اردو سمیت کسی بھی زبان میں جب مضمون نگاری کی جاتی ہے تو بات کو موثر طور پر پہنچانے کیلئے کچھ ایسے ثقیل الفاظ شامل کیئے جاتے ہیں جو عام بول چال میں مستعمل نہیں ہوتے۔ مگر اس استعمال میں اگر جملے اپنا حسن کھو دیں یا پھر بیان کردہ مضمون اپنے معنی ہی گنوا بیٹھے تو یہ تحریر و مصنف کی ایس صریح ناکامی ہے جو احقر درجے میں بھی باعث توصیف نہیں۔ گویا اچھی اردو فقط ثقیل الفاظ کا انبار لگادینا نہیں ہے بلکہ مضمون کو خوبی و حسن کے ساتھ قاری یا سامع تک پہنچانا ہے۔
۔
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
۔

====عظیم نامہ====
۔
(نوٹ: راقم کو ہرگز اردو دان ہونے کی خوش فہمی نہیں ہے مگر اس خوبصورت زبان کے طالبعلم کی حیثیت سے یہ ہمارا احساس تھا جو درج کردیا ہے۔ یہ تحریر چند منٹوں کی کاوش ہے اور اس میں کچھ ثقیل الفاظ دانستہ طور پر داخل کیئے گئے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ کچھ قارئین کیلئے یہ الفاظ اجنبی ہوں مگر امید ہے کہ مضمون و مقصد وہ پھر بھی سمجھ جائیں گے۔ عجب نہیں کہ ساتھ ہی سیکھنے والو کو نئے الفاظ بھی میسر آجا
ئیں۔)

ملک کی بربادی کی وجہ یہ غریب ہیں

ملک کی بربادی کی وجہ یہ غریب ہیں


"عظیم بھائی ۔۔ ہمارے ملک کی بربادی کی وجہ یہ غریب ہیں"
۔

میں یہ سن کر چونک گیا۔ ہم اس وقت شہر کراچی کے ایک مہنگے ترین ریسٹورنٹ میں براجمان تھے۔ میرے سامنے بیٹھا دوست ایک کامیاب ترین کروڑ پتی بزنس مین تھا۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ وہ نرم دلی سے کئی غریب گھرانوں کا کفیل بنا ہوا ہے، کئی بے سہاروں کا سہارا ہے اور کئی فلاحی کام اسی کے دم سے چل رہے ہیں۔ آج جب ملاقات ہوئی تو وہ بجھا بجھا تھا۔ وجہ پوچھی تو پھٹ پڑا۔ "عظیم بھائی ۔۔ ہمارے ملک کی بربادی کی وجہ یہ غریب ہیں"۔
۔
میں سٹپٹایا اور قدرے درشت لہجے میں اسے جھڑکتے ہوئے پوچھا کہ ایسا کیوں کہتے ہو؟ ، اب اس نے دکھی لہجے میں بتایا کہ اس نے شہر کے پوش علاقے میں ریسٹورنٹ کھولنے کیلئے ایک دکان آٹھ نو کروڑ میں خریدی مگر افتتاح ہوتے ہی دکان کے عین سامنے ایک شخص غیرقانونی طور پر ٹائر پنکچر کی دکان کھول کر بیٹھ گیا ہے۔ جس سے ریسٹورنٹ کی جاذبیت اپنے ممکنہ کسٹمرز کیلئے آدھی ہوکر رہ گئی ہے۔ اس پنکچر والے کو اس نے کئی بار سمجھانا چاہا مگر اس کا جواب یہ ہے کہ میں نہیں ہٹوں گا، جو چاہے کرلو۔ اس کے اس اعتماد کی وجہ وہ رشوت ہے جو وہ ماہانہ پولیس والو کو دیتا ہے اور وہ بھتہ ہے جو وہ علاقے کے غنڈوں کو ادا کرتا ہے۔ اب ہمارا وہ دوست شدید پریشان تھا کہ اس غریب کے غیرقانونی قبضے سے وہ کیسے جان چھڑائے؟ اس نے بتایا کہ ماضی میں ایک بڑی دکان اس نے اسی لیئے چھوڑ دی تھی کہ اس کے سامنے گنے کے جوس والے آبیٹھے جن کی کسی بڑے بدمعاش سے سیٹنگ ہونے کے سبب وہ نجات حاصل نہیں کرپایا۔ کچھ دیر خاموشی رہی پھر دوست بولا کہ یہ پیسہ میں نے دن رات محنت سے کمایا ہے۔ یہ کروڑوں میں نے حرام سے نہیں کمائے۔ آج جب اپنی انویسٹمنٹ کے ساتھ یہ زیادتی دیکھتا ہوں تو بہت دل کرتا ہے کہ ملک ہی ہی چھوڑ جاوں اور کسی مہذب جگہ اپنی جمع پونجی لگاوں۔ جہاں کم از کم غربت کے نام پر ہونے والی اس غنڈہ گردی سے محفوظ ہوسکوں۔
۔
میں اس کی یہ انوکھی پریشانی سن کر سوچ میں ڈوب گیا۔ میں اب اسکے جملے میں چیختی اسکی فرسٹریشن کو سمجھ پارہا تھا۔ واقعی میں نے آج تک اس زاویئے سے کبھی نہ سوچا تھا۔ میرے نزدیک تو غریب طبقہ ہر حال میں مظلوم اور امیر و متمول طبقہ ظلم کا استعارہ تھا۔ مانا کہ غریب کو کاوبار کا حق ہے مگر کسی امیر کے لیئے بھی یہ حق ہر ملک قبول کرتا ہے کہ اسکی جائز انویسٹمنٹ کو کسی غریب سمیت کوئی بھی غیرقانونی طور پر نقصان نہ پہنچاسکے۔ غریب کے حقوق کی پامالی کا تو ہم سب رونا روتے ہیں مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم غریب کو اسکی غربت کے سبب یہ اختیار دے دیں کہ وہ کسی امیر شہری کے حقوق کو پامال کرسکے؟ آج مجھ پر منکشف ہوا تھا کہ امیر و غریب کے درمیان تنازع میں ایک امکان یہ بھی ہے کہ امیر مظلوم ہو اور غریب ظالم۔ آج میں نے جانا تھا کہ کاروباری بھی اس شہر میں وہی زیادہ کامیاب ہے جو امیر ہونے کے ساتھ بدمعاشی بھی جانتا ہو۔
۔
====عظیم نامہ====
.
(نوٹ: وہ دوست رشوت اور بدمعاشوں کا سہارا نہیں چاہتا. مگر ان حالات میں خود کو مجبور پارہا ہے کہ وہ بھی غنڈوں اور کرپٹ پولیس والو کا سہارا لے)

کیا تعلیم واقعی انسان کو بزدل بنادیتی ہے؟


کیا تعلیم واقعی انسان کو بزدل بنادیتی ہے؟


سوچتا ہوں کہ کیا تعلیم واقعی انسان کو بزدل بنادیتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ تعلیم سے عاری افراد میں بہادری و جی داری کہیں زیادہ نظر آتی ہے؟ تعلیم یافتہ افراد بھی کرپشن سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہوتے ہیں مگر جرائم پیشہ افراد کے وہ گینگز جن میں جان جانے کا بھرپور اندیشہ ہو ان میں آپ کو جاہل افراد ہی نظر آتے ہیں۔ اگر گنتی کے چند پڑھے لکھے شامل بھی ہوں تو وہ منصوبہ ساز، لیڈر یا ٹیکنالوجی ایکسپرٹ بن کر پس پردہ بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر فوج کی مثال لیں تو زمانہ قدیم سے لے کر دور حاظر تک صف اول کے دستوں میں جو سپاہی گولوں اور گولیوں کا سب سے پہلے سامنا کرتے ہیں وہ جاہل یا کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں کچھ انہیں رنگروٹ بھی پکارتے ہیں۔ قدیم تاریخ انسانی میں بھی جن افواج نے حیرت انگیز جنگی فتوحات حاصل کی ان کی ایک بڑی تعداد جاہل یا کم تمدن یافتہ تھی۔ پھر وہ افغانستان کے تاتاری ہوں یا ہندوستان کے پنڈاری - سب ہی میں یہ قدر مشترک نظر آتی ہے۔ ہر ملک کی فوج میں سب سے بڑی تعداد ان دیہاتوں سے بھرتی ہوکر آتی ہے جہاں شرح خواندگی کم ہو۔ اسی طرح کسی بھی شہر کے پسماندہ و کم علم علاقوں کے افراد عمومی طور پر زیادہ غصیلے اور جان پر کھیل جانے والے ہوتے ہیں۔ جبکہ اسکے برعکس جو افراد پوش امیر علاقے میں بستے ہیں ان میں بزدلی یا نزاکت کا عنصر زیادہ چھلکتا ہے۔ ملک عزیز میں ان کو 'برگر بچے' کہہ کر لوگ دل لگی کیا کرتے ہیں۔ مالدار افراد میں بھی اگر ایک امیر ہونے کے ساتھ جدید تعلیم یافتہ بھی ہو تو وہ اس دوسرے مالدار کی نسبت عموما زیادہ ڈرپوکی کا مظاہرہ کرتا ہے جو مال تو بہت رکھتا ہو مگر علوم حاظر سے مطلق جاہل ہو۔ (سمجھنے کیلئے قاری پہلے شخص کو کسی امیر اسٹاک مارکیٹ بروکر اور دوسرے کو کسی جابر وڈیرے کی صورت میں تصور کرسکتا ہے)
۔
اس بات کو سمجھنے کا ایک زاویہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم میں ہر انسان اپنی نوجوانی میں زیادہ جوشیلا زیادہ بہادر ہوتا ہے۔ مگر جیسے جیسے علم، تجربہ اور عمر بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے یہ جوش درجہ بدرجہ ہوش میں تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ گویا جب علم و تجربہ عمر کیساتھ جہالت کو مٹانے لگتا ہے تو جوش اور جرات دونوں ہی کم ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ سب اسلئے ہے کہ شعور کی ترقی علم سے براہ راست منسلک ہے۔ جب انسان کو یہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ اسکی جان کوئی ردی مال نہیں بلکہ نہایت قیمتی ہے، جب اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اسکی صحت و سلامتی بہت اہم نعمت ہے اور جب اسے یہ ادراک ملتا ہے کہ انسان کو اس دار العمل میں ایک ہی موقع نصیب ہے تو پھر وہ ان تمام انمول چیزوں کیلئے نہایت محتاط رویہ اپناتا ہے اوراس کا خصوصی اہتمام رکھتا ہے کہ کسی کمتر مقصد کیلئے انہیں گنوا نہ بیٹھے۔ البتہ اگر اسے بعد از تحقیق کوئی برتر مقصد حاصل ہوجائے جیسے اخروی ابدی کامیابی یا ظلم کا خاتمہ یا اپنے گھر کا دفاع تو پھر وہ کسی جاہل سے بھی زیادہ شجاع اور جان کی پرواہ نہ کرنے والا ثابت ہوتا ہے۔ صحابہ اکرام رضی اللہ اجمعین کی جماعت اسی کی درخشاں مثال ہے۔
۔
====عظیم نامہ====
۔

(نوٹ: یہ تحریر راقم کا ایک احساس ہے جو عمومی مشاہدات پر مبنی ہے۔ استثنائی امثال بہرحال ہر دور میں پائی جاتی ہیں
)