Monday, 17 September 2018

کیا تعلیم واقعی انسان کو بزدل بنادیتی ہے؟


کیا تعلیم واقعی انسان کو بزدل بنادیتی ہے؟


سوچتا ہوں کہ کیا تعلیم واقعی انسان کو بزدل بنادیتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ تعلیم سے عاری افراد میں بہادری و جی داری کہیں زیادہ نظر آتی ہے؟ تعلیم یافتہ افراد بھی کرپشن سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہوتے ہیں مگر جرائم پیشہ افراد کے وہ گینگز جن میں جان جانے کا بھرپور اندیشہ ہو ان میں آپ کو جاہل افراد ہی نظر آتے ہیں۔ اگر گنتی کے چند پڑھے لکھے شامل بھی ہوں تو وہ منصوبہ ساز، لیڈر یا ٹیکنالوجی ایکسپرٹ بن کر پس پردہ بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر فوج کی مثال لیں تو زمانہ قدیم سے لے کر دور حاظر تک صف اول کے دستوں میں جو سپاہی گولوں اور گولیوں کا سب سے پہلے سامنا کرتے ہیں وہ جاہل یا کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں کچھ انہیں رنگروٹ بھی پکارتے ہیں۔ قدیم تاریخ انسانی میں بھی جن افواج نے حیرت انگیز جنگی فتوحات حاصل کی ان کی ایک بڑی تعداد جاہل یا کم تمدن یافتہ تھی۔ پھر وہ افغانستان کے تاتاری ہوں یا ہندوستان کے پنڈاری - سب ہی میں یہ قدر مشترک نظر آتی ہے۔ ہر ملک کی فوج میں سب سے بڑی تعداد ان دیہاتوں سے بھرتی ہوکر آتی ہے جہاں شرح خواندگی کم ہو۔ اسی طرح کسی بھی شہر کے پسماندہ و کم علم علاقوں کے افراد عمومی طور پر زیادہ غصیلے اور جان پر کھیل جانے والے ہوتے ہیں۔ جبکہ اسکے برعکس جو افراد پوش امیر علاقے میں بستے ہیں ان میں بزدلی یا نزاکت کا عنصر زیادہ چھلکتا ہے۔ ملک عزیز میں ان کو 'برگر بچے' کہہ کر لوگ دل لگی کیا کرتے ہیں۔ مالدار افراد میں بھی اگر ایک امیر ہونے کے ساتھ جدید تعلیم یافتہ بھی ہو تو وہ اس دوسرے مالدار کی نسبت عموما زیادہ ڈرپوکی کا مظاہرہ کرتا ہے جو مال تو بہت رکھتا ہو مگر علوم حاظر سے مطلق جاہل ہو۔ (سمجھنے کیلئے قاری پہلے شخص کو کسی امیر اسٹاک مارکیٹ بروکر اور دوسرے کو کسی جابر وڈیرے کی صورت میں تصور کرسکتا ہے)
۔
اس بات کو سمجھنے کا ایک زاویہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم میں ہر انسان اپنی نوجوانی میں زیادہ جوشیلا زیادہ بہادر ہوتا ہے۔ مگر جیسے جیسے علم، تجربہ اور عمر بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے یہ جوش درجہ بدرجہ ہوش میں تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ گویا جب علم و تجربہ عمر کیساتھ جہالت کو مٹانے لگتا ہے تو جوش اور جرات دونوں ہی کم ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ سب اسلئے ہے کہ شعور کی ترقی علم سے براہ راست منسلک ہے۔ جب انسان کو یہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ اسکی جان کوئی ردی مال نہیں بلکہ نہایت قیمتی ہے، جب اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اسکی صحت و سلامتی بہت اہم نعمت ہے اور جب اسے یہ ادراک ملتا ہے کہ انسان کو اس دار العمل میں ایک ہی موقع نصیب ہے تو پھر وہ ان تمام انمول چیزوں کیلئے نہایت محتاط رویہ اپناتا ہے اوراس کا خصوصی اہتمام رکھتا ہے کہ کسی کمتر مقصد کیلئے انہیں گنوا نہ بیٹھے۔ البتہ اگر اسے بعد از تحقیق کوئی برتر مقصد حاصل ہوجائے جیسے اخروی ابدی کامیابی یا ظلم کا خاتمہ یا اپنے گھر کا دفاع تو پھر وہ کسی جاہل سے بھی زیادہ شجاع اور جان کی پرواہ نہ کرنے والا ثابت ہوتا ہے۔ صحابہ اکرام رضی اللہ اجمعین کی جماعت اسی کی درخشاں مثال ہے۔
۔
====عظیم نامہ====
۔

(نوٹ: یہ تحریر راقم کا ایک احساس ہے جو عمومی مشاہدات پر مبنی ہے۔ استثنائی امثال بہرحال ہر دور میں پائی جاتی ہیں
)

تیزاب



میں الحمدللہ سخت ترین تنقید یا اختلاف کرتے ہوئے بھی گالی نہ دینے کا قائل ہوں. مگر جب میں تیزاب سے جھلسائے گئے ان چہروں کو دیکھتا ہوں تو خدا کی قسم دل کرتا ہے کہ ان خبیث مجرمین کو غلیظ ترین گالیاں دوں جنہوں نے یہ ظلم ڈھایا ہے. ان کے دانت توڑ کر انکے پیٹ میں اتار دوں، ان کی ایک ایک ہڈی چٹخا کر انہیں اپاہج کردوں، ان کی آنکھیں پھوڑ ڈالوں، ان کی کھال ان کے گوشت سے کھینچ نکالوں اور اسی جھلسا دینے والے تیزاب سے ان کے ہر حصے کو غسل دوں. یہ ایسا کریہہ جرم ہے جس کے سامنے قتل جیسا عمل بھی چھوٹا محسوس ہوتا ہے.











Image may contain: 5 people

کرارا جواب ملے گا !


کرارا جواب ملے گا !


میں زمانہ طالبعلمی میں کم و بیش دس برس ملکی سطح پر تقاریر کرتا رہا۔ بیشمار کو فن خطابت سیکھاتا رہا۔ جانتا ہوں کہ کب خطیب الفاظ کا جال بچھاتا ہے؟ اور کب مقرر جذباتیت سے سامعین کو گرفت میں لیتا ہے ؟ ۔۔ پوری سچائی سے کہتا ہوں کہ خان کی تقریر الفاظ و انداز کا ھیر پھیر نہیں تھی بلکہ اسکے دل کی آواز تھی۔ وہ کم از کم اپنے ارادے میں سچا ہے۔ البتہ اس ارادے پر کتنا فیصد عمل ممکن ہوسکے گا؟ یہ وقت ہی بتائے گا۔ خان میں نے اس وقت بھی ووٹ تمہیں دیا تھا جب تم سارے ملک میں صرف ایک سیٹ جیتے تھے۔ میں نے اس وقت بھی تمہیں امید مانا تھا جب لوگ تمہیں اسلام دشمن، قادیانی، مسٹر یوٹرن، کوکین شاہ، میراثی، طالبان خان وغیرہ کے القاب دیتے تھے۔ اور میں آج بھی تمہیں ایک نجات دہندہ کے طور پر دیکھتا ہوں۔ میں اپنی طبیعت کی نرمی کے باوجود تم سے کسی نرمی کی امید نہیں رکھتا۔ میں مہذب کلامی کا مبلغ ہونے کے باوجود تمہارے لہجے کی کرختگی کو سراہتا ہوں۔ تم میٹھے بن کر دعوت دینے نہیں آئے ہو۔ تم کسی 'زیرک' سیاستدان کی مانند جوڑ توڑ کیلئے نہیں بنے ہو. تمھیں تو قصائی بن کر ان کرپٹ عناصر کے گلے پر چھری رکھنی ہے، تمہیں تو انہیں تکلیف دینی ہے، تمیں تو انہیں رلانا ہے، تمھیں تو ان سے لوٹا ہوا مال واپس لانا ہے. تمہارے مخالف چاہے تم پر کتنے ہی فقرے کسیں، تمیں اقتدار کا بھوکا قرار دیں .. میں ہمیشہ سے جانتا ہوں کہ اقتدار تمہاری منزل کبھی بھی نہیں تھی. بلکہ اقتدار کا حصول تو تمہاری منزل کی جانب آغاز تھا. یہاں تک جو تم شب و روز کی مسلسل جدوجہد، اذیت اور کردار کشی سے گزر کر پہنچے ہو یہ سب تو بس نقطہ آغاز تھا. نئے پاکستان کی اصل جنگ تو اب شروع ہوگی. گھمسان کا رن پڑنے والا ہے. جہاں تم روایتی سیاست کی طرح اپوزیشن سے دبے نہیں رہو گے بلکہ ہر تھپڑ کا جواب گھونسے سے دو گے. کرارا جواب ملے گا .. کرارا جواب ملے گا !
.
====عظیم نامہ====

.
(نوٹ: جو اسلوب سے ناواقف ہوں، انکے لئے عرض ہے کہ تھپڑ گھونسے کی مثال استعارہ ہے کہ 'کچھ لے کچھ دے' کی بجائے اپوزیشن کی کسی شرارت سے سختی سے نمٹا جائے گا)

اللہ اکبر

اللہ اکبر


احباب آپ سب کو میری جانب سے محبت بھری عید مبارک۔ مجھے امید ہے کہ آپ سب واقف ہی ہونگے کہ مسلمانوں کو عید کے ان ایام میں بکثرت تکبیرات پڑھنے کا حکم ہے۔ یعنی مردوں کا بلند آواز سے اور خواتین کا دھیمے سے یہ پکارتے رہنا کہ "اللہ اکبر ۔۔۔ اللہ اکبر ۔۔۔ لاالہ الاللہ ۔۔ اللہ اکبر ۔۔۔ اللہ اکبر ۔۔ وللہ الحمد۔ کبھی وجد کی سی حالت میں اور کبھی تفکر سے معمور ہوکر ان تکبیرات کا کہتے رہنا عبد کی زبان سے اپنے معبود کی بڑائی کا اعلان و اعتراف ہے۔ اللہ اکبر یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔ جب یہ بات الفاظ سے گزر کر قلب و ذہن میں جاگزین ہوتے ہیں تو پھر انسان کسی بھی معصیت کی کشش سے یہ سوچ کر بچ پاتا ہے کہ اللہ اکبر - اللہ سب سے بڑا ہے۔ وہ جب اس کائنات کے ناقابل یقین مظاہر اور ان میں پنہاں حکمت کا مشاہدہ کرتا ہے تو بے اختیار زبان حال سے پکار اٹھتا ہے اللہ اکبر - اللہ سب سے بڑا ہے۔
۔
پنج وقتہ فرض نمازیں ہوں یا پھر تہجد و قیام اللیل کی مانند نفل عبادات۔ سب میں ہر رکن سے قبل تکبیر کہی جاتی ہے۔ اگر کوئی رفع الیدین کا قائل ہو تو اور بھی زیادہ لیکن اگر نہ بھی ہو تب بھی نماز کی ابتداء سے لے کر رکوع میں جانے تک اور سجدہ ریز ہونے سے لے کر واپس حالت قیام میں لوٹنے تک ہر نمازی تکبیر یعنی اللہ اکبر پکارا کرتا ہے۔ یوں تو یہ نمازی کے ذوق و مزاج پر ہے کہ وہ اللہ اکبر - اللہ سب سے بڑا ہے ، کہتے ہوئے رب کی کبریائی کا کون سا منظر ذہن میں سجاتا ہے؟ وہ چاہے تو خدا بزرگ و برتر کی تخلیقات کو بھی سوچ سکتا ہے، وہ کلام اللہ کے حسن میں بھی کھو سکتا ہے اور وہ عرش عظیم کی ہیبت بھی محسوس کرسکتا ہے۔ مگر راقم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جب جب دوران نماز یہ پکارتا ہے کہ اللہ اکبر - اللہ سب سے بڑا ہے تو سب سے پہلے یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ ان خیالات سے بھی بڑا ہے جو ٹھیک اسی وقت اسکےذہن میں وارد ہورہے ہوتے ہیں۔ اس کا یقینی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ذہن کی تختی پر موجود ہر وہ دنیاوی خیال جو ماسوائے اللہ ہو غائب ہوجاتا ہے اور رب کے سامنے حضوری کی کیفیت غالب آجاتی ہے۔ یوں دوران نماز ہر تکبیر پر ممکنہ تطہیر ہوتی رہتی ہے اور خشوع بڑھ جاتا ہے۔ آزمودہ ہے ، اب قارئین میں سے کوئی چاہے تو بلعموم کبھی بھی اور بلخصوص دوران نماز اس کا تجربہ کرسکتا ہے۔ ان شاء اللہ۔
۔
====عظیم نامہ====

مارکیٹ ریسرچ

مارکیٹ ریسرچ


والد صاحب ریٹائر ہوئے تو انہوں نے بڑی چاہ سے ایک سپرمارکیٹ کھول لی. انہوں نے اپنی اس دکان کو خوب سجایا. اس میں دواؤں سے لے کر کھلونوں تک اور بیوٹی پروڈکٹس سے لے کر آئسکریم تک سب ہی موجود تھا. کچھ ماہ کے بعد جب پہلی عید آئی تو ہم نے ارادہ کیا کہ دکان پر عیدکارڈز بھی رکھے جائیں. چانچہ میں اپنے والد کے ہمراہ ھول سیل مارکیٹ گیا اور خوب وقت لگا کر بہترین اور جاذب نظر عید کارڈز خرید لایا. ہم دونوں باپ بیٹے کو یہ کامل یقین تھا کہ ہم سے خوبصورت عید کارڈز اس علاقے میں موجود نہیں ہیں. لہٰذا ہم پرامید تھے کہ خوب فروخت ہوگی. مگر یہ دیکھ کر ہماری توقع پر اوس پڑگئی کہ دس روز گزرنے کے بعد صرف دو چار کارڈز ہی فروخت ہوسکے. اس کے برعکس ہماری مقابل دکانوں میں عید کارڈز خوب فروخت ہوئے. میں خفگی و حیرت کی حالت میں دیگر دکانوں کا جائزہ لینے نکلا تو یہ دیکھ کر مزید صدمہ ہوا کہ ان کے پاس جو کارڈز موجود تھے وہ ہماری سوچ کے مطابق کسی طرح بھی معیاری نہ تھے. کسی پر بڑا سا دل بنا ہوا تھا جس میں سے تیر آر پار تھا اور خون ٹپک رہا تھا. کسی میں ایک حسینہ کی تصویر تھی اور اس کے سر پر ایک کبوتر چونچ میں پھول دبایا اڑ رہا تھا. کسی پر ایسے سطحی اشعار لکھے ہوئے تھے جو اکثر پیار میں دھوکہ کھائے ہوئے ٹرک والے لکھ لیا کرتے ہیں. لیکن اس سب کے باوجود یہی کارڈز اس علاقے کی عوام میں خوب مقبول تھے اور خریدے جارہے تھے. اس دن مجھے احساس ہوا کہ کاروبار میں کبھی بیٹھ کر اندازہ نہ لگاؤ . بلکہ ہمیشہ مارکیٹ ریسرچ کرو اور دیکھو کہ تمہارے متوقع گاہک کس قسم کی پسند رکھتے ہیں؟ بہت امکان ہے کہ مارکیٹ پر تحقیق آپ کے اندازوں کو مکمل مسمار کردے.
.
====عظیم نامہ====

فیس بک کی رنگ برنگ دنیا


فیس بک کی رنگ برنگ دنیا


فیس بک کی اس رنگ برنگ دنیا میں کچھ مولانا حضرات نے اسلئے مقبولیت حاصل کی کہ وہ بہت خوبی سے دین کے دقیق موضوعات کو بیان کرنے پر قادر ہیں۔ کچھ دیگر مذہبی رجحان والو نے ہزاروں فالوورز کو اپنی جانب اسلئے متوجہ کرلیا کہ وہ ملحدین کی جانب سے دین پر اٹھائے گئے اعتراضات اور شبہات کو دلیل سے دور کردیتے ہیں۔ کچھ لکھاری اسلئے سراہے گئے کہ وہ سائنس و فلسفہ آسان طریق سے سمجھا دیا کرتے ہیں۔ کچھ لکھنے والے اپنے بہترین ادبی ذوق کے سبب پہچانے جانے لگے۔ کچھ طنز و مزاح لکھنے اور کچھ اعلیٰ شاعری کہنے میں اپنا نام کرگئے. کچھ ایسے بھی ہیں جو تاریخ انسانی کے مختلف واقعات بتاکر سینکڑوں قارئین کو اپنا مداح بناچکے ہیں۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔
۔
مگر پچھلے سال دو سال میں جو ملکی سیاست میں ہلچل رہی۔ شائد اس کے سبب یا پھر زیادہ مقبولیت کے حصول کی خاطر یہ مختلف فیلڈز میں مہارت رکھنے والے لکھاری دانستہ یا نادانستہ فقط سیاسی مبصر بن بیٹھے ہیں۔ مجھ سمیت ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن کی سیاسی بصیرت کسی گلی محلے کے کونے پر بیٹھے چچا میاں سے زیادہ نہیں ہے۔ مگر چونکہ یہ الفاظ سے کھیلنا جانتے ہیں اور سوشل میڈیا کی شکل میں انہیں ایک طاقتور پلیٹ فارم میسر ہے، اسلئے بہت بار ایک سطحی بات کو بھی ماہرانہ تجزیئے کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ جن شعبوں میں ان کی مہارت رہی ہے، جس میں انہوں نے زندگی گزاری ہے اور جن پر لکھنے کی وجہ سے ہزاروں فیس بک فالوورز ان سے منسلک ہوئے تھے۔ آج وہ ان شعبوں یا موضوعات پر خال خال ہی قلم اٹھاتے ہیں۔ ان کا اب سارا زور بس اسی سیاسی بکھیڑے کے بیان پر رہتا ہے۔ یوں ہم ان قیمتی مضامین سے آج محروم ہیں جو وہ کبھی لکھا کرتے تھے اور جنہیں پڑھ کر قاری کی غیرمحسوس تربیت ہوتی تھی۔ ضرورت ہے کہ ہم لکھاری اس غلط روش کا ادراک کریں اور سیاسی تبصروں سے کہیں زیادہ ان موضوعات پر بھی مضامین لکھیں جن کی تحقیق پر فی الواقع ہم نے ایک عمر لگائی ہے۔
۔
====عظیم نامہ====

عظیم

عظیم 


وہ ہم سے کہنے لگے کہ آپ کے ابا نے یہ سیاست کی ہے جو آپ کا نام "عظیم" رکھ دیا اور یوں آپ ان چند خوش نصیب شوہروں میں شامل ہوگئے جن کی بیگم انہیں "عظیم" کہنے پر مجبور ہیں۔
۔
ہم نے کہا کہ بھئی بات تو آپ کی درست ہے۔ اس ضمن میں ہم بھی ابا حضور کے معترف ہیں۔ مگر جو ہم ان کی جگہ ہوتے تو نام "سرتاج" رکھ دیتے۔ گویا سلام ہے سابق وزیر خارجہ "سرتاج عزیز" کے والد بزرگوار کی دوراندیشی کو۔ 😎
۔
====عظیم نامہ====