Monday, 17 September 2018

اللہ اکبر

اللہ اکبر


احباب آپ سب کو میری جانب سے محبت بھری عید مبارک۔ مجھے امید ہے کہ آپ سب واقف ہی ہونگے کہ مسلمانوں کو عید کے ان ایام میں بکثرت تکبیرات پڑھنے کا حکم ہے۔ یعنی مردوں کا بلند آواز سے اور خواتین کا دھیمے سے یہ پکارتے رہنا کہ "اللہ اکبر ۔۔۔ اللہ اکبر ۔۔۔ لاالہ الاللہ ۔۔ اللہ اکبر ۔۔۔ اللہ اکبر ۔۔ وللہ الحمد۔ کبھی وجد کی سی حالت میں اور کبھی تفکر سے معمور ہوکر ان تکبیرات کا کہتے رہنا عبد کی زبان سے اپنے معبود کی بڑائی کا اعلان و اعتراف ہے۔ اللہ اکبر یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔ جب یہ بات الفاظ سے گزر کر قلب و ذہن میں جاگزین ہوتے ہیں تو پھر انسان کسی بھی معصیت کی کشش سے یہ سوچ کر بچ پاتا ہے کہ اللہ اکبر - اللہ سب سے بڑا ہے۔ وہ جب اس کائنات کے ناقابل یقین مظاہر اور ان میں پنہاں حکمت کا مشاہدہ کرتا ہے تو بے اختیار زبان حال سے پکار اٹھتا ہے اللہ اکبر - اللہ سب سے بڑا ہے۔
۔
پنج وقتہ فرض نمازیں ہوں یا پھر تہجد و قیام اللیل کی مانند نفل عبادات۔ سب میں ہر رکن سے قبل تکبیر کہی جاتی ہے۔ اگر کوئی رفع الیدین کا قائل ہو تو اور بھی زیادہ لیکن اگر نہ بھی ہو تب بھی نماز کی ابتداء سے لے کر رکوع میں جانے تک اور سجدہ ریز ہونے سے لے کر واپس حالت قیام میں لوٹنے تک ہر نمازی تکبیر یعنی اللہ اکبر پکارا کرتا ہے۔ یوں تو یہ نمازی کے ذوق و مزاج پر ہے کہ وہ اللہ اکبر - اللہ سب سے بڑا ہے ، کہتے ہوئے رب کی کبریائی کا کون سا منظر ذہن میں سجاتا ہے؟ وہ چاہے تو خدا بزرگ و برتر کی تخلیقات کو بھی سوچ سکتا ہے، وہ کلام اللہ کے حسن میں بھی کھو سکتا ہے اور وہ عرش عظیم کی ہیبت بھی محسوس کرسکتا ہے۔ مگر راقم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جب جب دوران نماز یہ پکارتا ہے کہ اللہ اکبر - اللہ سب سے بڑا ہے تو سب سے پہلے یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ ان خیالات سے بھی بڑا ہے جو ٹھیک اسی وقت اسکےذہن میں وارد ہورہے ہوتے ہیں۔ اس کا یقینی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ذہن کی تختی پر موجود ہر وہ دنیاوی خیال جو ماسوائے اللہ ہو غائب ہوجاتا ہے اور رب کے سامنے حضوری کی کیفیت غالب آجاتی ہے۔ یوں دوران نماز ہر تکبیر پر ممکنہ تطہیر ہوتی رہتی ہے اور خشوع بڑھ جاتا ہے۔ آزمودہ ہے ، اب قارئین میں سے کوئی چاہے تو بلعموم کبھی بھی اور بلخصوص دوران نماز اس کا تجربہ کرسکتا ہے۔ ان شاء اللہ۔
۔
====عظیم نامہ====

مارکیٹ ریسرچ

مارکیٹ ریسرچ


والد صاحب ریٹائر ہوئے تو انہوں نے بڑی چاہ سے ایک سپرمارکیٹ کھول لی. انہوں نے اپنی اس دکان کو خوب سجایا. اس میں دواؤں سے لے کر کھلونوں تک اور بیوٹی پروڈکٹس سے لے کر آئسکریم تک سب ہی موجود تھا. کچھ ماہ کے بعد جب پہلی عید آئی تو ہم نے ارادہ کیا کہ دکان پر عیدکارڈز بھی رکھے جائیں. چانچہ میں اپنے والد کے ہمراہ ھول سیل مارکیٹ گیا اور خوب وقت لگا کر بہترین اور جاذب نظر عید کارڈز خرید لایا. ہم دونوں باپ بیٹے کو یہ کامل یقین تھا کہ ہم سے خوبصورت عید کارڈز اس علاقے میں موجود نہیں ہیں. لہٰذا ہم پرامید تھے کہ خوب فروخت ہوگی. مگر یہ دیکھ کر ہماری توقع پر اوس پڑگئی کہ دس روز گزرنے کے بعد صرف دو چار کارڈز ہی فروخت ہوسکے. اس کے برعکس ہماری مقابل دکانوں میں عید کارڈز خوب فروخت ہوئے. میں خفگی و حیرت کی حالت میں دیگر دکانوں کا جائزہ لینے نکلا تو یہ دیکھ کر مزید صدمہ ہوا کہ ان کے پاس جو کارڈز موجود تھے وہ ہماری سوچ کے مطابق کسی طرح بھی معیاری نہ تھے. کسی پر بڑا سا دل بنا ہوا تھا جس میں سے تیر آر پار تھا اور خون ٹپک رہا تھا. کسی میں ایک حسینہ کی تصویر تھی اور اس کے سر پر ایک کبوتر چونچ میں پھول دبایا اڑ رہا تھا. کسی پر ایسے سطحی اشعار لکھے ہوئے تھے جو اکثر پیار میں دھوکہ کھائے ہوئے ٹرک والے لکھ لیا کرتے ہیں. لیکن اس سب کے باوجود یہی کارڈز اس علاقے کی عوام میں خوب مقبول تھے اور خریدے جارہے تھے. اس دن مجھے احساس ہوا کہ کاروبار میں کبھی بیٹھ کر اندازہ نہ لگاؤ . بلکہ ہمیشہ مارکیٹ ریسرچ کرو اور دیکھو کہ تمہارے متوقع گاہک کس قسم کی پسند رکھتے ہیں؟ بہت امکان ہے کہ مارکیٹ پر تحقیق آپ کے اندازوں کو مکمل مسمار کردے.
.
====عظیم نامہ====

فیس بک کی رنگ برنگ دنیا


فیس بک کی رنگ برنگ دنیا


فیس بک کی اس رنگ برنگ دنیا میں کچھ مولانا حضرات نے اسلئے مقبولیت حاصل کی کہ وہ بہت خوبی سے دین کے دقیق موضوعات کو بیان کرنے پر قادر ہیں۔ کچھ دیگر مذہبی رجحان والو نے ہزاروں فالوورز کو اپنی جانب اسلئے متوجہ کرلیا کہ وہ ملحدین کی جانب سے دین پر اٹھائے گئے اعتراضات اور شبہات کو دلیل سے دور کردیتے ہیں۔ کچھ لکھاری اسلئے سراہے گئے کہ وہ سائنس و فلسفہ آسان طریق سے سمجھا دیا کرتے ہیں۔ کچھ لکھنے والے اپنے بہترین ادبی ذوق کے سبب پہچانے جانے لگے۔ کچھ طنز و مزاح لکھنے اور کچھ اعلیٰ شاعری کہنے میں اپنا نام کرگئے. کچھ ایسے بھی ہیں جو تاریخ انسانی کے مختلف واقعات بتاکر سینکڑوں قارئین کو اپنا مداح بناچکے ہیں۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔
۔
مگر پچھلے سال دو سال میں جو ملکی سیاست میں ہلچل رہی۔ شائد اس کے سبب یا پھر زیادہ مقبولیت کے حصول کی خاطر یہ مختلف فیلڈز میں مہارت رکھنے والے لکھاری دانستہ یا نادانستہ فقط سیاسی مبصر بن بیٹھے ہیں۔ مجھ سمیت ان میں سے اکثر ایسے ہیں جن کی سیاسی بصیرت کسی گلی محلے کے کونے پر بیٹھے چچا میاں سے زیادہ نہیں ہے۔ مگر چونکہ یہ الفاظ سے کھیلنا جانتے ہیں اور سوشل میڈیا کی شکل میں انہیں ایک طاقتور پلیٹ فارم میسر ہے، اسلئے بہت بار ایک سطحی بات کو بھی ماہرانہ تجزیئے کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ جن شعبوں میں ان کی مہارت رہی ہے، جس میں انہوں نے زندگی گزاری ہے اور جن پر لکھنے کی وجہ سے ہزاروں فیس بک فالوورز ان سے منسلک ہوئے تھے۔ آج وہ ان شعبوں یا موضوعات پر خال خال ہی قلم اٹھاتے ہیں۔ ان کا اب سارا زور بس اسی سیاسی بکھیڑے کے بیان پر رہتا ہے۔ یوں ہم ان قیمتی مضامین سے آج محروم ہیں جو وہ کبھی لکھا کرتے تھے اور جنہیں پڑھ کر قاری کی غیرمحسوس تربیت ہوتی تھی۔ ضرورت ہے کہ ہم لکھاری اس غلط روش کا ادراک کریں اور سیاسی تبصروں سے کہیں زیادہ ان موضوعات پر بھی مضامین لکھیں جن کی تحقیق پر فی الواقع ہم نے ایک عمر لگائی ہے۔
۔
====عظیم نامہ====

عظیم

عظیم 


وہ ہم سے کہنے لگے کہ آپ کے ابا نے یہ سیاست کی ہے جو آپ کا نام "عظیم" رکھ دیا اور یوں آپ ان چند خوش نصیب شوہروں میں شامل ہوگئے جن کی بیگم انہیں "عظیم" کہنے پر مجبور ہیں۔
۔
ہم نے کہا کہ بھئی بات تو آپ کی درست ہے۔ اس ضمن میں ہم بھی ابا حضور کے معترف ہیں۔ مگر جو ہم ان کی جگہ ہوتے تو نام "سرتاج" رکھ دیتے۔ گویا سلام ہے سابق وزیر خارجہ "سرتاج عزیز" کے والد بزرگوار کی دوراندیشی کو۔ 😎
۔
====عظیم نامہ====

دو احمق


دو احمق 


ایک انگریزی مقولے کے مطابق جب آپ کسی احمق سے بحث کرتے ہیں تو جلد ہی آپ سمیت دو احمق ہوجاتے ہیں۔ پھر اس پر ستم یہ کہ پہلا احمق حماقت میں زیادہ تجربے کے سبب آپ سے جیت بھی جاتا ہے

توہین آمیز کارٹونوں پر ردعمل



توہین آمیز کارٹونوں پر ردعمل

۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

۔
اقبال نے کس خوبی سے ہمیں یہ حقیقت سمجھا دی ہے کہ ہمیشہ سے کمزور کو طاقتور نے کچلا ہے۔ پھر وہ انسان ہو یا عالم حیوانات - کوئی فرق نہیں پڑتا۔ survival of the fitest کل بھی جاری تھا، آج بھی جاری ہے اور ہمیشہ یونہی جاری رہے گا۔ طاقتور ساتھ میں انصاف پسند بھی ہو؟ ایسا تاریخ انسانی میں کم ہی ہوا ہے. لہٰذا طاقتور کو کوسنے دینے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اپنی کمزوری دور کی جائے. خود کو دانستہ کمزور رکھنا اور طاقتور بننے کے مواقع سے استفادہ نہ کرنا خودکشی کے مترادف اور ناقابل معافی جرم ہے۔ پھر فرد کے جرم کو تو پھر قدرت کبھی نظر انداز کردیتی ہے مگر اقوام کے جرائم کا بدلہ لازمی لیا جاتا ہے. جیسے اقبال ہی نے کہا:
.
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

.
پچاس سے زائد ممالک پر حکومت کے باوجود مسلم دنیا کی بین الاقوامی سطح پر مسلسل ذلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ جی۔8 ہو، جی-7 ہو، جی-5 ہو یا پھر اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم۔ ہماری مرضی تو دور ہماری رائے پوچھنا بھی اکثر گوارا نہیں کیا جاتا۔ ایسے میں ہماری کیفیت شادی ہال میں رکھے اس ڈھول جیسی ہے جسے ہر آتا جاتا باراتی بجا جاتا ہے. یا پھر اس فٹبال کی مانند جو راستے میں پڑی ہے اور جسے ہر چھوٹا بڑا لات مار کر ادھر سے ادھر پھینکے دیتا ہے. ہالینڈ نے آزادی رائے کی دلفریب نقاب میں ایک بار پھر آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے توہین آمیز کارٹونوں کا پلید عمل دہرانا چاہا ہے. جو ہر امتی کیلئے دلی اذیت کا سبب ہے. ایک بار پھر عوام میں غم و غصہ ہے. کوئی مذمت کر رہا ہے، کوئی ریلی نکال رہا ہے، کوئی ایمبیسی بند کرنا چاہتا ہے اور کوئی ان کی درآمدات کے بائیکاٹ کا نعرہ بلند کررہا ہے. تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ آج ہم کمزور ہیں بلکہ بیغیرتی کے ساتھ ان ہی اقوام کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں. امداد کے نام پر ہم ان کے قدموں میں بیٹھ کر ان سے بھیک مانگتے ہیں اور بھکاری کی عزت نفس کو کون دیکھتا ہے؟
.
اس دگرگوں صورتحال میں ہم یہی پھسپھسا سا احتجاج کرسکتے ہیں. کوسنے دے سکتے ہیں. کسی تازہ بیوہ کی مانند بددعائیں دے سکتے ہیں. راقم کے نزدیک اگر مسلمان فی الواقع ایسی ہرزہ سرائیوں پر روک لگانا چاہتے ہیں تو جب تک خلافت کی مانند مسلمانوں کا کوئی نظم اجتماعی تشکیل نہیں پاتا تب تک انہیں تین کام کرنے چاہیئے.
.
١. ہر اس فرد یا گروہ کو روکا جائے جو احتجاج کے نام پر املاک کو نقصان پہنچائے یا کسی غیر مسلم بے گناہ پر وار کرے یا اور کسی بھی قسم کی جہالت اختیار کرے. ایسا کوئی بھی جذباتی اقدام مزید تخریب کا سبب بنتا ہے.
.
٢. مسلم ممالک کی عوام اپنے اپنے ممالک کی حکومتوں پر مسلسل زور ڈالیں کہ وہ 'او-آئی-سی' کے پلیٹ فارم پر یکجا ہوکر ایسے غیر مسلم ممالک کی سرزنش کریں جو توہین آمیز خاکے بناتے ہیں. پھر چاہے وہ مشترکہ طور پر ان کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ ہو یا دیگر تجارتی معاہدوں کا منقطع کرنا. ہر ممکن دباؤ ڈالا جائے. (اس وقت تو یہ حال ہے کہ مسلمان ممالک کی یہ تنظیم اپنے نام کی طرح ہر مشکل پر Oh I see کہہ کر خاموش ہوجاتی ہے)
.
٣. دنیا بھر کے علمی پلیٹ فارمز پر اس موضوع کو اٹھایا جائے اور فریڈم آف اسپیچ کے نام پر مغرب کی جانب سے اپنائی گئی منافقانہ پالیسی پر کڑی علمی تنقید کی جائے. جہاں ایک جانب ہولوکاسٹ سمیت دیگر موضوعات پر گفتگو جرم قرار پاتا ہے اور دوسری جانب اس پاکیزہ شخصیت کے اوپراوچھے حملے کیئے جاتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کو اپنی اولاد، والدین اور جان سے زیادہ عزیز ہے. اس کوشش میں ان غیر مسلم مفکرین کو بھی ساتھ ملالیا جائے جو مسلمانوں کے موقف کو درست سمجھتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

اللہ تعالیٰ سارا وقت کیا کرتے ہیں؟


اللہ تعالیٰ سارا وقت کیا کرتے ہیں؟ 


سوال:
عظیم بھائی میرے چھوٹے سے بھتیجے نے مجھ سے پوچھ لیا کہ اللہ تعالیٰ سارا وقت کیا کرتے رھتے ھیں؟ میں نے اسے تو مختلف باتیں کرکے مطمئن کردیا مگر میں خود مطمئن نہیں برائے مہربانی مجھے مزید اس حوالے سے بتائیں.
.
جواب:
ہمارے پاس ظاہر ہے کہ رب کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہے کہ وہ صبح کیا کرتے ہیں، دن میں کیا کام انجام دیتے ہیں اور شام رات کو انکی کیا مصروفیات ہوتی ہیں؟ زمان اور مکان کی قیود میں جکڑے انسان میں یہ استعداد بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی محدود سمجھ سے لامحدود کا ادراک کرسکے. اسی طرح یہ فقط معبود کو شایاں ہے کہ وہ اپنے عبد کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھے. مخلوق کی یہ بساط نہیں کہ وہ اپنے خالق کی مصروفیات کا احاطہ کرنے کا تقاضہ کرے. البتہ چند اشارے ایسے ضرور موجود ہیں جن سے ہم رب العزت کی 'کچھ' مصروفیات کے بارے میں جان سکتے ہیں. یہ اشارے ہمیں خدا کے واحد حتمی ریکارڈ یعنی قران حکیم سے حاصل ہوتے ہیں.
.
رب کریم نے اپنا تعارف 'رب زمین' کہہ کر نہیں کروایا بلکہ 'رب العالمین' کے طور پر دیا. گویا اللہ پاک صرف اس دنیا کے رب نہیں بلکہ دنیاؤں کے رب ہیں. اب دنیاؤں سے مراد کیا ہے؟ یہ صیغہ راز میں ہے اور اس پر متعدد اقوال موجود ہیں. کچھ کے نزدیک یہ اشارہ ہے کہ ہماری اس دنیا میں ہی مختلف مخلوقات کی دنیائیں آباد ہیں. جیسے عالم انسان، عالم حیوانات، عالم نباتات، عالم جمادات، عالم جنات وغیرہ. کچھ کے نزدیک یہ عالم امر اور عالم خلق کی نشاندہی ہے. کچھ کے نزدیک یہ متوازی دنیاؤں یعنی پیرالیل یونیورسز کی تھیوری کو تقویت دیتا ہے اور کچھ کے لئے یہ دیگر کہکشاؤں میں موجود سیاروں پر زندگی کا استعارہ ہے. ان میں سے کوئی ایک تشریح ٹھیک ہو یا تمام امکانات یکجا ہوکر ایک حقیقت کا حصہ ہوں. دونوں ہی حوالوں سے ان دنیاؤں کے نظم و نسق کو بطور رب چلانا اور پالنا اللہ پاک ہی کی شان ہے.
.
اسی طرح اللہ پاک نے اپنے صفاتی ناموں سے اپنا تعارف ہمیں دیا ہے. ان کی ہر ہر صفت جیسے المنتقم سے لے کر القابض تک ہر لمحے مختلف شان سے جلوہ گر ہے. مثال کے طور پر وہ الخالق ہیں اور ہر لمحے کائنات کو مختلف تخلیفی مراحل سے گزار رہے ہیں. جیسے اقبال نے کہا
.
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکون
.
ایک اور بات جو رب ارض و سماء نے اپنے بندوں کو بتائی ہے وہ یہ کہ اس نے ہمیں بے یار و مددگار نہیں چھوڑا ہے بلکہ وہ ہماری دعاؤں کو سنتا اور اسے قبول کرتا ہے. لہٰذا ارشاد باری تعالیٰ ہے:
.
"جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے ۔" (٢:١٨٦)
.
یہ وہ چند اشارے ہیں جو راقم نے اپنی یادداشت سے درج کردیئے ہیں. ایسے ہی کئی اور اشارے کلام پاک سے ہمیں حاصل ہوسکتے ہیں. گو جسے ابتداء ہی میں عرض کیا کہ رب کریم کی مصروفیات کا احاطہ کسی طور ممکن نہیں اور نہ ہی ہماری ایسی مجال ہے.
.
====عظیم نامہ====