Monday, 17 September 2018

دو احمق


دو احمق 


ایک انگریزی مقولے کے مطابق جب آپ کسی احمق سے بحث کرتے ہیں تو جلد ہی آپ سمیت دو احمق ہوجاتے ہیں۔ پھر اس پر ستم یہ کہ پہلا احمق حماقت میں زیادہ تجربے کے سبب آپ سے جیت بھی جاتا ہے

توہین آمیز کارٹونوں پر ردعمل



توہین آمیز کارٹونوں پر ردعمل

۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

۔
اقبال نے کس خوبی سے ہمیں یہ حقیقت سمجھا دی ہے کہ ہمیشہ سے کمزور کو طاقتور نے کچلا ہے۔ پھر وہ انسان ہو یا عالم حیوانات - کوئی فرق نہیں پڑتا۔ survival of the fitest کل بھی جاری تھا، آج بھی جاری ہے اور ہمیشہ یونہی جاری رہے گا۔ طاقتور ساتھ میں انصاف پسند بھی ہو؟ ایسا تاریخ انسانی میں کم ہی ہوا ہے. لہٰذا طاقتور کو کوسنے دینے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اپنی کمزوری دور کی جائے. خود کو دانستہ کمزور رکھنا اور طاقتور بننے کے مواقع سے استفادہ نہ کرنا خودکشی کے مترادف اور ناقابل معافی جرم ہے۔ پھر فرد کے جرم کو تو پھر قدرت کبھی نظر انداز کردیتی ہے مگر اقوام کے جرائم کا بدلہ لازمی لیا جاتا ہے. جیسے اقبال ہی نے کہا:
.
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

.
پچاس سے زائد ممالک پر حکومت کے باوجود مسلم دنیا کی بین الاقوامی سطح پر مسلسل ذلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ جی۔8 ہو، جی-7 ہو، جی-5 ہو یا پھر اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم۔ ہماری مرضی تو دور ہماری رائے پوچھنا بھی اکثر گوارا نہیں کیا جاتا۔ ایسے میں ہماری کیفیت شادی ہال میں رکھے اس ڈھول جیسی ہے جسے ہر آتا جاتا باراتی بجا جاتا ہے. یا پھر اس فٹبال کی مانند جو راستے میں پڑی ہے اور جسے ہر چھوٹا بڑا لات مار کر ادھر سے ادھر پھینکے دیتا ہے. ہالینڈ نے آزادی رائے کی دلفریب نقاب میں ایک بار پھر آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے توہین آمیز کارٹونوں کا پلید عمل دہرانا چاہا ہے. جو ہر امتی کیلئے دلی اذیت کا سبب ہے. ایک بار پھر عوام میں غم و غصہ ہے. کوئی مذمت کر رہا ہے، کوئی ریلی نکال رہا ہے، کوئی ایمبیسی بند کرنا چاہتا ہے اور کوئی ان کی درآمدات کے بائیکاٹ کا نعرہ بلند کررہا ہے. تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ آج ہم کمزور ہیں بلکہ بیغیرتی کے ساتھ ان ہی اقوام کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں. امداد کے نام پر ہم ان کے قدموں میں بیٹھ کر ان سے بھیک مانگتے ہیں اور بھکاری کی عزت نفس کو کون دیکھتا ہے؟
.
اس دگرگوں صورتحال میں ہم یہی پھسپھسا سا احتجاج کرسکتے ہیں. کوسنے دے سکتے ہیں. کسی تازہ بیوہ کی مانند بددعائیں دے سکتے ہیں. راقم کے نزدیک اگر مسلمان فی الواقع ایسی ہرزہ سرائیوں پر روک لگانا چاہتے ہیں تو جب تک خلافت کی مانند مسلمانوں کا کوئی نظم اجتماعی تشکیل نہیں پاتا تب تک انہیں تین کام کرنے چاہیئے.
.
١. ہر اس فرد یا گروہ کو روکا جائے جو احتجاج کے نام پر املاک کو نقصان پہنچائے یا کسی غیر مسلم بے گناہ پر وار کرے یا اور کسی بھی قسم کی جہالت اختیار کرے. ایسا کوئی بھی جذباتی اقدام مزید تخریب کا سبب بنتا ہے.
.
٢. مسلم ممالک کی عوام اپنے اپنے ممالک کی حکومتوں پر مسلسل زور ڈالیں کہ وہ 'او-آئی-سی' کے پلیٹ فارم پر یکجا ہوکر ایسے غیر مسلم ممالک کی سرزنش کریں جو توہین آمیز خاکے بناتے ہیں. پھر چاہے وہ مشترکہ طور پر ان کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ ہو یا دیگر تجارتی معاہدوں کا منقطع کرنا. ہر ممکن دباؤ ڈالا جائے. (اس وقت تو یہ حال ہے کہ مسلمان ممالک کی یہ تنظیم اپنے نام کی طرح ہر مشکل پر Oh I see کہہ کر خاموش ہوجاتی ہے)
.
٣. دنیا بھر کے علمی پلیٹ فارمز پر اس موضوع کو اٹھایا جائے اور فریڈم آف اسپیچ کے نام پر مغرب کی جانب سے اپنائی گئی منافقانہ پالیسی پر کڑی علمی تنقید کی جائے. جہاں ایک جانب ہولوکاسٹ سمیت دیگر موضوعات پر گفتگو جرم قرار پاتا ہے اور دوسری جانب اس پاکیزہ شخصیت کے اوپراوچھے حملے کیئے جاتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کو اپنی اولاد، والدین اور جان سے زیادہ عزیز ہے. اس کوشش میں ان غیر مسلم مفکرین کو بھی ساتھ ملالیا جائے جو مسلمانوں کے موقف کو درست سمجھتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

اللہ تعالیٰ سارا وقت کیا کرتے ہیں؟


اللہ تعالیٰ سارا وقت کیا کرتے ہیں؟ 


سوال:
عظیم بھائی میرے چھوٹے سے بھتیجے نے مجھ سے پوچھ لیا کہ اللہ تعالیٰ سارا وقت کیا کرتے رھتے ھیں؟ میں نے اسے تو مختلف باتیں کرکے مطمئن کردیا مگر میں خود مطمئن نہیں برائے مہربانی مجھے مزید اس حوالے سے بتائیں.
.
جواب:
ہمارے پاس ظاہر ہے کہ رب کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہے کہ وہ صبح کیا کرتے ہیں، دن میں کیا کام انجام دیتے ہیں اور شام رات کو انکی کیا مصروفیات ہوتی ہیں؟ زمان اور مکان کی قیود میں جکڑے انسان میں یہ استعداد بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی محدود سمجھ سے لامحدود کا ادراک کرسکے. اسی طرح یہ فقط معبود کو شایاں ہے کہ وہ اپنے عبد کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھے. مخلوق کی یہ بساط نہیں کہ وہ اپنے خالق کی مصروفیات کا احاطہ کرنے کا تقاضہ کرے. البتہ چند اشارے ایسے ضرور موجود ہیں جن سے ہم رب العزت کی 'کچھ' مصروفیات کے بارے میں جان سکتے ہیں. یہ اشارے ہمیں خدا کے واحد حتمی ریکارڈ یعنی قران حکیم سے حاصل ہوتے ہیں.
.
رب کریم نے اپنا تعارف 'رب زمین' کہہ کر نہیں کروایا بلکہ 'رب العالمین' کے طور پر دیا. گویا اللہ پاک صرف اس دنیا کے رب نہیں بلکہ دنیاؤں کے رب ہیں. اب دنیاؤں سے مراد کیا ہے؟ یہ صیغہ راز میں ہے اور اس پر متعدد اقوال موجود ہیں. کچھ کے نزدیک یہ اشارہ ہے کہ ہماری اس دنیا میں ہی مختلف مخلوقات کی دنیائیں آباد ہیں. جیسے عالم انسان، عالم حیوانات، عالم نباتات، عالم جمادات، عالم جنات وغیرہ. کچھ کے نزدیک یہ عالم امر اور عالم خلق کی نشاندہی ہے. کچھ کے نزدیک یہ متوازی دنیاؤں یعنی پیرالیل یونیورسز کی تھیوری کو تقویت دیتا ہے اور کچھ کے لئے یہ دیگر کہکشاؤں میں موجود سیاروں پر زندگی کا استعارہ ہے. ان میں سے کوئی ایک تشریح ٹھیک ہو یا تمام امکانات یکجا ہوکر ایک حقیقت کا حصہ ہوں. دونوں ہی حوالوں سے ان دنیاؤں کے نظم و نسق کو بطور رب چلانا اور پالنا اللہ پاک ہی کی شان ہے.
.
اسی طرح اللہ پاک نے اپنے صفاتی ناموں سے اپنا تعارف ہمیں دیا ہے. ان کی ہر ہر صفت جیسے المنتقم سے لے کر القابض تک ہر لمحے مختلف شان سے جلوہ گر ہے. مثال کے طور پر وہ الخالق ہیں اور ہر لمحے کائنات کو مختلف تخلیفی مراحل سے گزار رہے ہیں. جیسے اقبال نے کہا
.
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکون
.
ایک اور بات جو رب ارض و سماء نے اپنے بندوں کو بتائی ہے وہ یہ کہ اس نے ہمیں بے یار و مددگار نہیں چھوڑا ہے بلکہ وہ ہماری دعاؤں کو سنتا اور اسے قبول کرتا ہے. لہٰذا ارشاد باری تعالیٰ ہے:
.
"جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے ۔" (٢:١٨٦)
.
یہ وہ چند اشارے ہیں جو راقم نے اپنی یادداشت سے درج کردیئے ہیں. ایسے ہی کئی اور اشارے کلام پاک سے ہمیں حاصل ہوسکتے ہیں. گو جسے ابتداء ہی میں عرض کیا کہ رب کریم کی مصروفیات کا احاطہ کسی طور ممکن نہیں اور نہ ہی ہماری ایسی مجال ہے.
.
====عظیم نامہ====

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی


بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی


ایک احساس، ایک سوچ، ایک دکھ نے مجھے ایک عرصے سے اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے. اب سوچتا ہوں کہ آپ سے آپ کی رائے جان لوں؟ شائد آپ بات سمجھنے میں میری مدد کرسکیں؟
.
وطن عزیز میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے لاتعداد واقعات اس سوال کو پیدا کرتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں؟ کیوں پاکستان میں مدارس سے لے کر اسکولوں تک اور شہروں سے لے کر دیہاتوں تک معصوم بچوں کو ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ میں خوب واقف ہوں کہ دنیا بھر میں ایسی بیمار مجرمانہ ذہنیت کے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی شہوت کی تسکین کیلئے بچوں کو پامال کردیتے ہیں. مگر اعداد و شمار سے اب یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے وطن عزیز میں یہ غلاظت عموم سے کہیں زیادہ ہے. جیسے اسپین میں ہم جنس پرستی عروج پر ہے یا جس طرح پڑوسی ملک بھارت میں عورتوں کو ریپ کرنے کا تناسب بہت ہے ویسے ہی پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کا تناسب اکثر ممالک سے زیادہ نظر آتا ہے. کیوں ؟ وہ کیا عوامل ہیں جن سے اتنی بڑی تعداد کو ان معصوم فرشتوں کو پامال کرنے کا شوق ہوگیا ہے؟
.
دھیان رہے کہ فی الوقت ہمارے پیش نظر بچوں پر ہونے والا جسمانی تشدد نہیں ہے. وہ اپنے آپ میں ایک بڑا مسئلہ ہے. اس وقت فوکس صرف بچوں سے جنسی ہوس پوری کرنے والے وہ درندے ہیں جو ملک میں مذہبی، لبرل، امیر، غریب - ہر بھیس میں موجود ہیں. میں نے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پنڈی، پشاور سمیت ملک کے بیشتر شہروں کو دیکھ رکھا ہے اور ان کے لوگوں سے ملتا رہا ہوں. میں شدید دکھ سے اعتراف کرتا ہوں کہ یہ خبیث وباء قریب قریب پاکستان کے ہر علاقے میں نظر آئی. کہیں کم، کہیں زیادہ اور کہیں بہت زیادہ. کیوں ؟ اگر کسی کے نزدیک وجہ جہالت ہے تو پھر ہر اس ملک میں یہ خباثت اتنی ہی ہونی چاہیئے تھی جہاں تعلیم کی شرح کم ہو. اگر کسی کے نزدیک وجہ معاشرے میں مذہبی پابندیاں ہیں تو پاکستان سے زیادہ مذہبی معاشروں میں یہ کریہہ عمل ہم سے کم کیسے ہے؟ اگر کسی کے نزدیک وجہ مغربی فحاشی کا عام ہونا ہے تو پھر مغرب خود کیوں اس گھٹیا پن سے ویسا متاثر نہیں جیسا ہمارا ملک ہے؟
.
آپ بتایئے .. آپ کیا کہتے ہیں ؟ بیماری کا علاج اسی وقت ممکن ہے جب اس کے محرکات کی نشاندہی ہو.
.
====عظیم نامہ====

نبوی ڈائٹ


نبوی ڈائٹ

.
١. سادہ ترین خوراک کھانا
٢. خوراک میں صحت بخش غذاؤں جیسے کھجور، دودھ، زیتون، شہد وغیرہ کا استعمال کرنا
٣. صرف اس وقت ہی کھانا جب خوب بھوک محسوس ہو اور اسوقت کھانا چھوڑ دینا جب بھوک کچھ باقی ہو
٤. کبھی چند نوالوں پر ہی اکتفاء کرنا اور کبھی معدے کو تین حصوں میں بانٹ کر ایک حصہ کھانا، دوسرا حصہ پانی پینا اور تیسرا حصہ خالی رہنے دینا
٥. ہر ہفتے کم از کم دو روز یعنی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا. اس کے علاوہ بھی کثرت سے نفلی روزے رکھنا
٦. سال میں ماہ رمضان میں لگاتار تیس روزے رکھنا
٧. روزہ نہ ہو تو دن میں کبھی تو صرف ایک بار اور کبھی دو بار مختصر سا سادہ و صحت بخش میسر کھانا تناول کرنا
٨. چھوٹے لقمے بنا کر سکون سے چبا کر کھانا اور اطمینان سے کئی گھونٹ میں پانی پینا
٩. گوشت کھانے کو معمول نہ بنانا بلکہ کبھی کبھار گوشت تناول کرنا
١٠. میسر خوراک کو لوگوں کے ساتھ بانٹ کر کھانا
١١. روزمرہ کی ورزش کیلئے چلتے ہوئے سکون کے ساتھ نہایت تیز رفتار رکھنا
١٢. فٹ نس ایسی برقرار رکھنا کہ 'ماؤنٹین کلائمبنگ' یعنی پہاڑ کی چوٹی پر موجود غار حرا جاتے رہنا
.
یہ ہمارے محبوب و محسن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک زندگی کے ایک حصے کی مختصر جھلک ہے. دل پر ہاتھ رکھ کر کہیئے گا کہ کیا اگر ہم مسلمان اپر درج باتوں پر عمل کرلیں تو پھر کسی اور ڈائٹ پلان کی حاجت یا گنجائش باقی رہتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہم اس پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ ہماری زبان داڑھی و مسواک یا عمامہ و عطر ہی کو صرف سنت کیوں بیان کرتی ہے؟ حالانکہ سنت تو کم کھانا اور خود کو فٹ رکھنا بھی ہے؟ عام مسلمانوں میں خود میں اس کا مجرم ہوں کہ ایک فٹ جسم کی بجائے نہایت فربہ جسم رکھتا ہوں. ہر وہ مولوی بھی اس کا مجرم ہے جو داڑھی و عمامہ کی سنت کو تو اپناتا ہے مگر اپنے بے ڈول جسم یا بے حساب خوراک کو قابو کرنے کی کوشش نہیں کرتا.
.
نوجوانی میں جو ہیرو مجھے فٹ نس میں سب سے زیادہ آئیڈیل لگتا تھا، اس کا نام ہے 'جین کلاڈ وین ڈیم'. کچھ دنوں پہلے اس کا ایک ویڈیو انٹرویو دیکھنے کو ملا. جس میں جب اس سے اسکی فٹ نس کا راز پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ مسلمانوں کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈائٹ اپنا لو. افسوس کہ جو بات مجھ جیسے کوڑھ مغز مسلمان کو نہ سمجھ آئی، اسے ایک غیرمسلم نے سمجھ لیا. ویڈیو لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے.
.
====عظیم نامہ====

اصیل مرغ - شیرو


اصیل مرغ - شیرو

Image may contain: bird
.
مجھے ہمیشہ جانوروں سے ایک غیر معمولی انسیت رہی ہے. بچپن سے لے کر نوجوانی تک میں طرح طرح کے جانور پالتا آیا ہوں. انواع و اقسام کے طوطوں سے لے کر رنگ برنگی چڑیاؤں تک ، بلی سے لے کر خرگوش تک، مچھلیوں سے لے کر بکروں تک اور تیتر بٹیر سے لے کر مرغیوں تک. میں ہمیشہ جانوروں کو محبت سے پالتا رہا ہوں. یوں تو ہر جانور ہی دل سے قریب محسوس ہوا مگر جو جانور میرا پسندیدہ ہے وہ سندھی النسل اصیل مرغ کہلاتا ہے. اسکی شان ہی جدا لگی. اونچی نسل کے اس مرغ کو پالنا اپنے خواص کے لحاظ سے ایسا ہی ہے جیسے کوئی شاہین یا عقاب گھر میں پال لے. میرے اسی شوق و لگن کو دیکھتے ہوئے میرے ایک رشتہ دار جو زمین دار تھے، انہوں نے اندرون سندھ سے ایک بہت ہی عالی النسل اصیل مرغ کا ایک چوزہ مجھے لاکر دیا. ان کے بقول یہ ایک بڑے فاتح مرغ کی نسل سے تھا جس کا چوزہ حاصل کرنے کیلئےہر شوق رکھنے والا بیقرار ہوتا ہے. میں اس وقت شائد دس بارہ سال کا تھا اور اسے حاصل کرکے بہت خوش تھا. میں نے اسے بہت توجہ سے تنہا ہی رکھ کر پالنا شروع کیا. میں اسے بڑے لاڈ سے رکھتا، اسے مہنگی بہترین غذا کھلاتا اور اسے سنوارتا رہتا. نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ایک بہت خوبصورت اونچا اور جاندار اصیل مرغ بن گیا. میں نے اس کا نام 'شیرو' رکھا تھا، آج جب عمران کے کتے شیرو کا کوئی ذکر کرتا ہے تو میری یادداشت میں اپنا وہ مرغ 'شیرو' ابھر آتا ہے. مسئلہ تب ہوا جب میرے بے جا لاڈ پیار نے اسے بلکل 'ممی ڈیڈی' یعنی چھوئی موئی بنا دیا. زبردست جسامت رکھنے کے باوجود اگر اس کا سامنا کسی فارمی مرغ سے بھی ہو جائے تو وہ دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوتا. یوں لگتا تھا جیسے وہ جوان ہونے کے باوجود بھی ابھی تک خود کو چوزہ ہی سمجھتا ہے. دھیان رہے کہ اصیل نسل کے مرغ نہایت لڑاکا اور جنگجو مشہور ہوتے ہیں. جو مر جاتے ہیں مگر مقابل کے سامنے ہار نہیں مانتے. پھر میرا یہ 'شیرو' تو اونچی فاتح نسل سے تھا. مگر میں نے اسے لاشعوری طور پر ایک ڈرپوک بزدل بنا ڈالا تھا.
.
ہم نے کسی اچھے دیسی باپ کی طرح ٹھانی کہ بھئی جوان ہوگیا ہے، شادی کردو خود ہی ٹھیک ہو جائے گا. لہٰذا ایک اصیل نسل کی مرغی لے آئے اور ساتھ پنجرے میں چھوڑ دیا. مگر یہ کیا ؟ اس مرغی نے ہمارے وجیہہ مرغے کی ایسی پھینٹی لگائی کہ بیچارا بے حال ہوگیا. کچھ دن کی کوشش کے بعد کانوں کو ہاتھ لگائے اور مرغی جس سے لی تھی، اسے واپس کردی. اب پریشان تھا کہ اس کو کیسے ٹھیک کروں؟ اتفاق سے ہمارے پڑوسی کے پاس مرغیاں تھیں اور اس سے بھی بڑا اتفاق یہ کہ بناء مرغے کے تھیں. ہم نے ان سے اجازت لی اور ان کی چھت پر اپنا گبرو جوان ان کے ساتھ چھوڑ دیا. وہی ہوا جس کا ڈر تھا. چاروں پانچوں مرغیوں نے باری باری اور کبھی مل کر اسے ایسے پٹخ پٹخ کر مارا جیسے ریسلنگ میں ریسلرز تالی مار کے ایک مخنچو کو مارتے ہیں. عجیب منظر تھا، مرغا آگے آگے دوڑ رہا ہوتا اور مرغیاں اسے مارنے کیلئے اسکے پیچھے پیچھے. شرم سے ہماری گردن جھکی ہوئی تھی. ہمارا پڑوسی کبھی اسکی نامردی پر قہقہہ لگاتا تو کبھی حیرت زدہ رہ جاتا. اس نے ہمیں بہت گفت و شنید کے بعد قائل کیا کہ اسے ایک پوری رات مرغیوں کے ساتھ پنجرے میں بند کردو. سو فیصد صلح ہوجائے گی. ہم نے بات مان لی اور دل پر پتھر رکھ کر اسے پنجرے میں مقفل کردیا. صبح ہوتے ہی بھاگم بھاگ پڑوسی کی چھت پر دل میں امیدیں سجائے گیا تو دیکھا کہ مرغ کونے میں ادھڑے ہوئے دبکے سہمے بیٹھے ہیں. ساری رات کمبخت مرغیوں نے اس پر جسمانی اور شائد جنسی تشدد بھی کیا تھا. مجھے دیکھتے ہی بھاگم بھاگ پاس آگیا. مجھے لگا جیسے شکایت کررہا ہو کہ کیا ایسا ہوتا ہے اچھا مالک؟ میں نے شکستہ دل سے اسے اٹھایا اور واپس گھر لے آیا. میں نے خود کو سمجھا لیا کہ ہمارا یہ چہیتا بھلے دیکھنے میں چارمنگ پرنس لگتا ہو، حقیقت میں یہ پاپا کی پرنسس ہی کہلانے کے قابل ہے.
.
پھر ایک دن اچانک مجھے اپنے دور پرے کے جاننے والے کا خیال آیا جو اصیل مرغ پالنے اور ان کے مقابلے کروانے میں مقبول تھا. ظاہر ہے کہ میں مرغ سمیت کسی بھی جانور کو لڑانے کا قائل نہیں مگر میں اتنا ضرور چاہتا تھا کہ یہ نالائق مرغ کم از کم مرد تو بنے؟ ہم نے ڈھونڈھ کر ان صاحب کا نمبر تلاش کیا اور انہیں فون کھڑکا کر اپنا دکھڑا بیان کیا. انہوں نے کہا کہ فکر ہی نہیں، میں اسے بلکل ٹھیک کرسکتا ہوں. شرط اتنی ہے کہ اسے میرے گھر لے آؤ اور میں جو بھی کروں مجھے روکو نہیں. اب مصیبت یہ تھی کہ وہ صاحب ہمارے گھر سے کافی دور ، کراچی کے ایک نسبتاً غیر محفوظ علاقے 'لالو کھیت' میں رہتے تھے. ہم ابھی اتنے بڑے نہیں تھے کہ گھر سے اکیلے جانے کی اجازت مل سکے. لہٰذا والدہ کو منانے کا مشن شروع ہوا. پہلے ڈانٹ پڑی، پھر جھاڑ پڑی لیکن آخر میں ممتا کے ہاتھوں مجبور انہوں نے حامی بھر لی. دونوں ماں بیٹے رکشہ میں بیٹھ کر اور والد کو بتائے بغیر لالو کھیت ان دور پرے کے جاننے والے گھر میں جاپہنچے. ان صاحب نے گھر کے تنگ سے دالان کو ایک رکاوٹ کے ذریعے بند کیا اور مجھ سے لے کر شیرو کو اسکے بیچ میں چھوڑ دیا. اسکے بعد وہ اپنے دو لڑاکا نسل کے مرغ لے آئے جنہیں وہ مقابلوں میں لڑایا کرتے تھے. میں دیکھ کر گھبرایا کہ ہمارا مسٹنڈا تو مرغیوں کی تاب نہیں لا پاتا اور یہ صاحب اس پر اپنے دو دو جنگجو چھوڑنے لگے ہیں. میرا ایسا نہ کرنے کی التجا کو ان صاحب نے سنی ان سنی کردیا اور دونوں مرغوں کو ایک ادا سے اچھال کر ہمارے معصوم پر چھوڑ دیا. ان دونوں مرغوں کے تیور ہی الگ تھے. انہوں نے پر جھٹک کر شان سے اذان دی اور للکار کر ہمارے مرغ کی جانب بڑھے. میں دل تھامے بیچارے شیرو کی جانب دیکھ رہا تھا جو حیرتناک طور پر خوفزدہ نہیں لگ رہا تھا. بلکہ غور سے آنے والے مقابل مرغوں کی للکار سن رہا تھا. ان دونوں نے مرغوں نے لڑنے سے پہلے اپنے بالوں کو کھڑا کیا، جیسے پہلوان سامنے والے پہلوان سے انگلیاں پھنسا کر پہلے پنجوں سے زور لگاتا تھا، وار بعد میں کرتا ہے. شیرو صاحب نے بھی لامحالہ اپنے بالوں کو لڑنے کیلئے کھڑا کرلیا. میرے لئے یہ حیرت کا پہلا جھٹکا تھا. آج سے پہلے کبھی اسے اس انداز میں نہ دیکھا تھا. اچانک لڑائی شروع ہوئی. شیرو کو کوئی بیس سیکنڈ تو کچھ سمجھ نہ آیا اور دونوں مرغ اس پر چڑھ دوڑے. مگر پھر جیسے غیرت جاگ گئی ہو. شیرو نے پلٹ کر وار شروع کئے. وہ دونوں مرغوں سے زیادہ توانا اور پھرتیلا تھا. لڑتے ہوئے جب اچھلتا تو بہت اپر تک جاتا. جلد ہی دونوں ماہر مرغے بری طرح پٹنے لگے. میں حیرت زدہ کھڑا دیکھ رہا تھا. مجھ سے زیادہ حیران بلکہ غصے میں وہ صاحب تھے، جن کے پہلوان مرغے کسی سستے کرائے کے غنڈوں کی مانند پٹ رہے تھے. میں نے کئی بار لڑائی کو روکنا چاہا، مگر ان صاحب کو ضد سی ہوگئی کہ لڑنے دو. آخرکار جب لڑائی واضح طور پر ان مرغوں کی پٹائی میں بدل گئی تو میں نے زبردستی مرغا اٹھا لیا.
.
میں نے پیار و ترس سے جو شیرو کو دیکھا تو پہلی بار اسکی آنکھوں میں شدید غصہ نظر آیا. میرے ہاتھوں میں ہی اذان پر اذان دے رہا تھا، جیسے اپنی فتح کا اعلان کر رہا ہو. میں اس عجیب ترین روداد کے بعد گھر لوٹ آیا مگر اب شیرو وہ ڈرپوک شیرو نہیں تھا. اس نے سب سے پہلے ان مرغیوں کی کٹ لگائی جو اسے مارتی تھیں، پھر اس پاس جو بھی دیسی و فارمی مرغ اسے نظر آجاتا، یہ اس کی کٹائی لگانے پہنچ جاتا. زبردستی چھڑانا پڑتا. محلے سے شکایت آنے لگی کہ آپ اپنے مرغے کو بند کرکے رکھیں، وہ ہمارے مرغے کو مار کر ہماری مرغیاں اپنے ساتھ لے جاتا ہے. یہ حقیقت تھی کہ اب اس کے ساتھ دوسرے گھروں کی مرغیوں کا ایک پورا جھمگھٹا ہوتا تھا، جن پر وہ پورا حق جماکر ان کا خیال رکھتا. ایک تبدیلی یہ بھی آئی کہ پہلے وہ خود بخود اپنے پنجرے کے اندر چلا جاتا تھا، مگر اب وہ پنجرے کے اپر کسی چیل کی مانند بیٹھ کر کھلی ہوا میں رات بسر کرتا اور صبح گھر سے باہر چلا جاتا. یہ اور بات کہ مجھ سے ابھی بھی ویسے ہی لاڈ کرواتا، جس طرح پہلے کرواتا تھا. کافی عرصے بعد ایک روز وہ صبح ہی صبح آوارہ کتوں کے ایک غول کے حملے کا شکار ہوگیا. دیکھنے والے نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھ کی مرغیوں کو بچانے کی کوشش میں مارا گیا. میرا صدمے سے رو رو کر برا حال تھا. گھر والے اور دوست سب تعزیت کرتے دلاسے دیتے. اسکی موت کے بعد کئی روز تک گھر پر مرغیاں آکر عجیب بھیانک آواز میں شور کرتیں. جیسے بین کررہی ہوں.
.
میں جانتا ہوں کہ یہ تحریر کچھ لوگوں کو شائد جھوٹ محسوس ہو مگر یقین کیجیئے کہ یہ بلکل سچ ہے. میں واقف ہوں کہ کچھ لوگ مجھ پر ہنسیں کہ عظیم نے یہ کیا بیکار مرغے مرغیوں کی باتیں شروع کردی ہیں؟ مگر میں خود اسے اپنی زندگی کا ایک ناقابل فراموش واقعہ گردانتا ہوں. ایسا واقعہ جس میں کئی سبق پوشیدہ ہیں.
.
====عظیم نامہ====

.
(نوٹ: تصویر اصل شیرو کی نہیں ہے، مگر وہ رنگ اور قد کاٹھ میں کچھ ایسا ہی سا تھا)

دوست



دوست

 دوست وہ نہیں جس کے ساتھ آپ معتبر بنے بیٹھیں رہیں. دوست تو وہ ہے کہ جس کا ساتھ تکلف سے پاک ہو. جو آپ کا مذاق اڑا سکتا ہو اور جسے اپنی ہنسی اڑاتے سن کر آپ تالی مار کر لوٹ پوٹ ہوسکتے ہوں. کسی مشکل یا پریشانی میں کام آنا تو دوستی کا فقط ایک وصف ہے. وگرنہ صرف حلقہ یاراں میں بیٹھ کر گپ شپ کرلینا بھی نہ صرف طبیعت کو فرحت بخشتا ہے بلکہ غیرمحسوس معلومات کا تبادلہ اسے زندگی کی کئی کٹھنائیوں سے محفوظ کردیتا ہے. سوچ کے بند دروازوں کو کھول دیتا ہے. یوں تو دوستوں کا ساتھ ہر مرد و زن کو درکار ہوتا ہے مگر بحیثیت مرد میں یہ جانتا ہوں کہ مردوں کیلئے تو بے تکلف دوستوں کا ہونا بیحد ضروری ہے. کچھ بیگمات اپنے شوہروں کو دوستوں کے ساتھ بیٹھنے سے آخری حد تک روکتی ہیں. صرف گھر کو وقت دو، فلاں فلاں گھریلو کام کرو، نوکری یا بزنس پر فوکس کرو، اپنے بچوں پر توجہ دو - یہ اور اس قسم کے ہزار مزید تقاضے سامنے رکھ کر وہ شوہر کو گھر سے آفس اور آفس سے گھر تک مقید کرکے رکھ دیتی ہیں. انہیں لگتا ہے کہ یہی صحیح طریق یا عقلمندی ہے مگر انہیں نہیں معلوم کہ ایسا کرکے وہ خود اپنے لئے گڑھا کھود بیٹھتی ہیں. ان کے شوہر بھی انکی ساس یا نند بن جاتے ہیں جو بات بے بات نقص نکالتے رہتے ہیں. گھر کی آرائش سے لے کر غیرضروری خاندانی معاملات تک وہ رائے زنی کرتے ہیں اور اگر ان کی نہ مانی جائے تو جھٹ پٹ روٹھ بھی جاتے ہیں. اپنے اردگرد موجود ایسے مرد حضرات کا جائزہ لیجیئے کہ جن کی دوڑ کام سے گھر تک محدود ہے اور جنکی زندگی دوستوں کی محافل سے خالی ہے. آپ دیکھیں گے کہ اگر سب نہیں تو ان میں سے نوے فیصد نفسیاتی ہوچکے ہیں اور گھر میں موجود عورت سے زیادہ عورت بنے بیٹھے ہیں.
.
====عظیم نامہ====