Tuesday, 26 July 2016

ثقلین مشتاق سے ایک ملاقات


ثقلین مشتاق سے ایک ملاقات



.
کچھ سال پہلے ہماری مقامی مسجد میں پاکستان سے آئی ایک تبلیغی جماعت نے قیام کیا. اس جماعت میں سابقہ کرکٹرز ثقلین مشتاق اور محمد یوسف بھی شامل تھے. نماز مغرب کے بعد بھائی ثقلین مشتاق نے ایک پراثر اور سادہ اسلوب میں درس دیا. جس میں انہوں نے اپنے دین کے سفر کے بارے میں بھی واقعات سنائے اور ساتھ ہی تفصیل سے نماز، روزہ، تسبیحات، صدقات، تلاوت، تبلیغ وغیرہ کے فضائل بھی بیان کئے. جب آپ کا بیان ختم ہوا تو مجھے اپنے ایک دوست کے ساتھ ان سے گفتگو کا موقع حاصل ہوا. صدق دل سے شکریہ ادا کرنے کے بعد میں نے ان سے قدرے سپاٹ انداز میں کچھ یوں کہا کہ " ثقلین بھائی آپ نے ماشاللہ اتنی دیر خوبصورت گفتگو کی جس میں آپ نے اپنے سننے والو کو دعوت و تبلیغ سمیت تقریبا ہر عبادت و نیکی کی ترغیب دی. مگر مجھے افسوس ہوا کہ اس سارے وقت میں ایک بار بھی آپ نے مخاطبین کو قران حکیم سمجھنے کی رغبت نہیں دلائی جو بلاشبہ فہم دین کے لئے سب سے ضروری ہے" 
.
گو میں نے اپنا یہ اعتراض تہذیب کو ملحوظ رکھ کر ہی پیش کیا تھا مگر اس کی نوعیت خاصی ناقدانہ تھی. مجھے قوی توقع تھی کہ ایک عام سے انسان کی ایسی غیر متوقع تنقید پر ثقلین بھائی جیسے مشہور و معروف انسان غصہ میں کوئی سخت جواب دے سکتے ہیں. لیکن اس وقت مجھے خوشگوار حیرت ہوئی جب توقع کے برعکس ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور وہ پوری ندامت سے بولے کہ آپ کی بات واقعی درست ہے. مجھے واقعی لوگوں کو قران حکیم سے جڑنے کی ترغیب دینی چاہیئے تھی. پھر بولے کہ اب جو لندن میں دیگر مقامات پر مجھے گفتگو کرنی ہے، میں وہاں ضرور اسے شامل کروں گا. ان کے لہجے سے ان کا اخلاص اور سچائی پوری طرح سے چھلک رہے تھے. میں جو کچھ لمحہ پہلے ناقدانہ ذہن سے مخاطب تھا، اب دل کی گہرائی میں ان کیلئے محبت کا جذبہ محسوس کرنے لگا. مومن کا یہ خاصہ ہے کہ اسے جب خیر کی دعوت دی جائے یا دینی اعتبار سے اس کی کسی غلطی کی تصحیح کی جائے تو وہ کسی انا پرست کی طرح اپنی ہتک محسوس نہیں کرتا بلکہ فوری اپنی غلطی سے رجوع کرتا ہے اور شکرگزار ہوتا ہے. 
.
====عظیم نامہ====

Friday, 22 July 2016

ترکی کا مختصر تفریحی سفر اور اس کی روداد


ترکی کا مختصر تفریحی سفر اور اس کی روداد 




.الحمدللہ .. ترکی میں سات روز کی تعطیل گزار کر گزشتہ رات انگلینڈ واپسی ہوگئی. جب گیا تھا تو رنگت ایک عام پاکستانی کی مانند نیم گندمی تھی مگر اب جو لوٹا ہوں تو ویسٹ انڈیز کا کورٹنی واش نظر آرہا ہوں. گویا اصطلاحی نہ سہی مگر لغوی اعتبار سے منہ کالا کروا کر واپسی ہوئی ہے. لکھنے کو اتنا کچھ ہے کہ تفصیل سے لکھوں تو شائد ایک مختصر سفر نامہ بن جائے مگر اتنا لکھنے کا نہ ارادہ ہے نہ ہمت. البتہ یہ لکھنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ میری اب تک کی زندگی کا سب سے پرسکون اور یادگار سفر رہا ہے. مجھے دور یا نزدیک سے جاننے والو کو بجا طور پر مجھ سے یہ امید ہوا کرتی ہے کہ میں ان جگہوں پر جانا ہی پسند کرتا ہوں گا جہاں تاریخ یا فسلفے کا سامان ہو یا پھر چکا چوند کردینے والی تعمیرات ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے نزدیک مثالی و من پسند جگہیں وہ ہیں جہاں اردگرد قدرت کے فطری مظاہر ہوں، جو شہر کی مصنوعیت سے دور ہو، جہاں لوگ سادہ مزاج ہوں، جہاں ہریالی ہو، جہاں شفاف سمندر ہو، جہاں ٹھیلوں سے سجے بازار ہوں، جہاں چائے قہوے کے ڈھابے ہوں. یہی کچھ ذہن میں سجا کر میں ترکی کے ایک ایسے ہی علاقہ میں مقیم تھا جسے الانیہ انطالیہ کہا جاتا ہے. گو میرا قیام ایک خوبصورت فائیو اسٹار ریسورٹ میں تھا جو سوئمنگ پول، جکوزی، شفاف ترین نیلے ساحل سمندر، ان گنت پکوان، انواع و اقسام کے مشروب، آرام دہ کمروں جیسی بیشمار سہولیات سے لبریز تھا. مگر ہوٹل سے باہر کا علاقہ نہایت سادہ اور فطرت کے سحر انگیز مظاہر سے مزین نظر آتا تھا. ترکی واقعی ایک ایسا ملک ہے جو مجموعہ اضداد ہے. جو ایک طرف عظیم اسلامی تاریخ سے مالا مال ہے تو دوسری طرف رومن امپائر کے باقیات کو پوری شان سے سموئے ہوئے ہے. جو ایک جانب مغرب کی فحش روایات کو خود میں جگہ دیئے ہوئے ہے تو دوسری جانب اسلام کی شرم و حیاء کا بھی پوری شدت سے معترف ہے. جہاں ایک طرف یورپی بننے کے جنون میں ہر حد پھلانگ لینے کی خواہش ہے تو دوسری طرف فرد و معاشرے میں احیاء اسلام کی بھرپور تمنا ہے. جہاں ایک جانب فلک بوس حسین عمارتیں ہیں تو دوسری جانب گاؤں کی پرسکون زندگی بھی دھیمے سے مسکرا رہی ہے. جہاں ایک طرف آئینے کی مانند بیشمار شفاف جھرنے اور سمندر ہیں تو دوسری طرف ایسی ایسی جدید سہولیات میسر ہے جنہیں دیکھ کر جنت کا گمان ہو. جہاں ایک جانب ہوٹلوں سے میوزک کا شور نکل رہا ہے تو دوسری جانب مساجد سے اذانوں کی دل نشین آواز بھی گونج رہی ہے. جہاں ایک طرف ہر پکوان حلال ہے وہاں شراب کی دکانیں بھی عام کھلی ہوئی ہیں. (یہ اور بات کہ انگلینڈ کی طرح مجھے ایک بھی شخص شراب کے نشے میں دھت نہیں نظر آیا) گویا اگر میں غالب کے اس مصرعہ 'بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے' کو ترکی کے تناظر میں پیش کروں تو کچھ ایسی صورت ہو کہ 'مجموعہ اضداد ہے ترکی میرے آگے'. دھیان رہے کہ راقم نے اب تک استنبول یا انقرہ جیسے نمائندہ شہروں کا سفر نہیں کیا ہے بلکہ اس کا سفر انطالیہ، الانیہ، ایوسلار، انسیکم اور پاموککالے تک محدود رہا ہے. 
.
ترکی کے بارے میں ایک اور نہایت فرحت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی عوام بڑی تعداد میں پاکستانی عوام سے محبت کرتی ہے. میرے دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ میرے وطن پاکستان کو ایسی ہی عزت دنیا کے تمام ممالک میں عطا کرے جیسی عزت اسے ترکی کی عوام میں حاصل ہے. مجھے جانے سے پہلے کئی لوگوں نے یہ نصیحت کی تھی کہ خود کو برٹش مت بتانا بلکہ پاکستانی کہنا. جیسے ایک امریکی عزیز نے مجھے اپنا واقعہ بتایا کہ جب تک وہ خود کو امریکی کہتا رہا لوگ اس سے واجبی سا سلوک کرتے رہے لیکن جیسے ہی اس نے کسی کے کہنے پر خود کو پاکستانی بتایا تو ہر کوئی مدد کیلئے سبقت لینے لگا. یہی معاملہ میرے ساتھ بھی پیش آیا. اکثر دکانداروں کو جب معلوم ہوتا کہ میں پاکستانی ہوں تو وہ نہایت خوش ہو کر اشارے سے سمجھاتے کہ "ترکی پاکستانی برادر". حیرت انگیز طور پر میرے لئے قیمتیں کم کردیا کرتے اور کئی لوگوں نے مجھے صرف اسلئے مفت تحفے دیئے کہ میں پاکستانی ہوں. آپ اگر میری اس بات پر یقین نہ کریں تو میں سمجھ سکتا ہوں کیونکہ اگر مجھ پر نہ بیتی ہوتی تو میں کبھی یقین نہ کرتا. ترکی کے لوگ اپنے وطن سے شدید محبت کرتے ہیں. امریکہ کے بعد یہ دوسرا ایسا ملک ہے جہاں میں نے کثیر تعداد میں ملک کے جھنڈے لگے دیکھے اور لوگوں کو قومی ترانوں پر جذباتی ہوتے محسوس کیا. ترکی میں یورو کرنسی بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی ان کی اپنی کرنسی لیرا. کچھ تصاویر اور ناموں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ان کے یہاں ملا نصیرالدین، علی بابا اور الہ دین کے کردار ابھی بھی مقبول ہیں. معلوم نہیں کا میرا یہ احساس کتنا درست ہے؟ مگر مجھے بہت سے لوگوں میں رینگنے والے جانوروں سے رغبت نظر آئی. جیسے ایک ترک عورت اچانک مجھ سے پوچھنے لگی کہ کیا پاکستان میں کوبرا سانپ ہوتے ہیں؟ پھر اپنے ہاں پائے جانے والے سانپ کی اقسام بتانے لگی. اسی طرح کئی دکانوں پر چھپکلی کے ربر والے کھلونے نظر آئے، اسی طرح مجھے کم از کم تین لوگوں کے پاس ایک بڑی چھپکلی جسے شائد اردو زبان میں "گوہ" کہتے ہیں پلی ہوئی نظر آئی جسے وہ ہاتھ میں لے کر سہلاتے رہتے. ایک کے ساتھ میں نے تصویر بھی کھینچوائی. بازار میں ایک نیلی آنکھ جیسا نشان ہر جگہ نظر آیا۔ فریج میگنٹ ہو یا استعمال کے برتن یا پھر سجانے کی کوئی دیگر چیزیں سب پر یہ نیلی آنکھ سی نظر آتی ہے۔ ترک عوام کا ماننا ہے کہ اس کے ذریعے بری نظر اور منفی اثرات کو دور کیا جاسکتا ہے۔ ایک دکان مالک نے مجھے یہ نشان تحفہ کے طور پر بھی دیا۔ ترک لوگ اپنی زبان ہی میں بات کرتے ہیں اور مجھے بہت کم لوگ ایسے ملے جو انگریزی بول سکتے ہوں. ترکی کے عوام صحیح معنوں میں صفائی پسند ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان جگہوں پر بھی کچرا نہیں پھینکتے جہاں حکومت کی جانب سے بھی کوئی اہتمام نہ کیا گیا ہو. اس لحاظ سے مجھے ترک عوام برطانوی عوام سے زیادہ صفائی پسند معلوم ہوئے. ہر کام نہایت مستعدی اور منظم انداز میں انجام دیا جاتا ہے مگر خوبصورتی یہ ہے کہ یہ نظام مغربی ممالک کی طرح پیچیدہ نہیں بلکہ بہت سادہ معلوم ہوتا ہے. مجھے بمشکل تمام صرف ایک جگہ کچھ کاغزات پر دستخط کرنے پڑے ورنہ ہر جگہ بس مرحلہ وار کام انجام دے دیا جاتا. اس آسان نظام نے مجھے موجودہ مدینہ کی یاد دلائی. 
.

میرے ترکی پہنچنے کے فوری بعد ہی وہ حالیہ تاریخی واقعہ ہوا جس میں فوج کے ایک باغی گروہ نے اردغوان کی حکومت الٹنے کی ناکام کوشش کی. عوام نے جس مثالی انداز میں اس کوشش کو ناکام بنایا اس سے آپ سب بخوبی واقف ہیں. ترک عوام اس وقت دو بڑے گروہوں میں منقسم ہے. پہلا گروہ وہ ہے جو مغرب کے رنگ میں پوری طرح رنگ کر یورپی کہلانے کا متمنی ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو یورپی بننا تو چاہتا ہے مگر اپنے اسلامی تشخص کو قائم رکھ کر. یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ترکی کی عوام میں اسلام سے قربت بڑھ رہی ہے اور اب ان کا مجموعی شعور ایک بار پھر اسی رفعت کا متمنی ہے جو کبھی خلافت عثمانیہ کی صورت میں ان کا خاصہ تھی. میں پوری دیانتداری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ترک عوام نے میرے دل کو اپنے اخلاق سے جیت لیا ہے. ایسے اخلاق جو برصغیر پاک و ہند میں عوامی سطح پر مفقود ہیں اور جن کا عکس مجھے عرب ممالک میں بلکل نظر نہیں آیا. چار ایسے مواقع آئے جو مجھے اپنے اس مختصر سفر میں سب سے زیادہ دل نشین لگے. پہلا موقع جب میں نے زندگی میں پہلی بار سمندر کے بیچ "اسکوبا ڈائیونگ" یعنی غوطہ زنی کی اور سمندر کی گہرائی میں موجود مخلوقات کو دیکھا. دوسرا موقع جب ایک قزاقی انداز کے نہایت خوبصورت جہاز میں پانچ گھنٹے ہمیں سمندر سے گزارا گیا جہاں میں نے دو رنگ کر پانیوں کو جدا جدا دیکھا اور دونوں پانیوں میں سے گزرا. قران مجید کی اس آیت کو یاد کیا جس میں دو پانیوں کو جدا کرنے کا ذکر ہے. لوگوں کو پہاڑوں پر چڑھ کر سمندر میں چھلانگیں لگاتے دیکھا. تیسرا موقع پاموککالے کا وہ ہوشربا پہاڑی مقام جس کے معنی ترکی زبان میں 'روئی کا محل' ہیں. جہاں کاربونیٹ سمندری معدنیات کے سفید پہاڑ قدرتی زینوں کے ساتھ موجود ہیں اور جہاں قدم قدم پر ان ہی معدنیات سے بھرپور چھوٹے چھوٹے گرم پانی کے تالاب ہیں. بہت امکان ہے کہ آپ نے اس ناقابل یقین مقام کو انگریزی یا ہندی فلموں میں دیکھ رکھا ہو. پاموککالے سےواپسی پر بس میں کوئی آٹھ مختلف ممالک کے لوگ سوارتھے. سب پرلازم تھا کہ اپنی زبان میں کوئی گانے کے بول سنائے جسے سب انجوائے کریں. اپنی باری آئی تو بچاؤ کی کوئی صورت نہ پاکر پرانا گانا "کو-کو-کورینا" سنایا اور چوتھا موقع "ہایرہ پولس" رومی سلطنت کا وہ تاریخی پر ہیبت پنڈال جہاں پندرہ ہزار عوام کیلئے گلیڈیٹرز کے مقابلے کروائے جاتے تھے. لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر تحریر اختصار کی کوشش کے باوجود طویل ہوچکی لہٰذا اسی پر اکتفا کرتا ہوں. کچھ تصاویر بھی ان شاء للہ جلد شیئر کروں گا. 
.
====عظیم نامہ====

ترکی کا مختصر تفریحی سفر اور اس کی روداد


ترکی کا مختصر تفریحی سفر اور اس کی روداد 




.الحمدللہ .. ترکی میں سات روز کی تعطیل گزار کر گزشتہ رات انگلینڈ واپسی ہوگئی. جب گیا تھا تو رنگت ایک عام پاکستانی کی مانند نیم گندمی تھی مگر اب جو لوٹا ہوں تو ویسٹ انڈیز کا کورٹنی واش نظر آرہا ہوں. گویا اصطلاحی نہ سہی مگر لغوی اعتبار سے منہ کالا کروا کر واپسی ہوئی ہے. لکھنے کو اتنا کچھ ہے کہ تفصیل سے لکھوں تو شائد ایک مختصر سفر نامہ بن جائے مگر اتنا لکھنے کا نہ ارادہ ہے نہ ہمت. البتہ یہ لکھنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ میری اب تک کی زندگی کا سب سے پرسکون اور یادگار سفر رہا ہے. مجھے دور یا نزدیک سے جاننے والو کو بجا طور پر مجھ سے یہ امید ہوا کرتی ہے کہ میں ان جگہوں پر جانا ہی پسند کرتا ہوں گا جہاں تاریخ یا فسلفے کا سامان ہو یا پھر چکا چوند کردینے والی تعمیرات ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے نزدیک مثالی و من پسند جگہیں وہ ہیں جہاں اردگرد قدرت کے فطری مظاہر ہوں، جو شہر کی مصنوعیت سے دور ہو، جہاں لوگ سادہ مزاج ہوں، جہاں ہریالی ہو، جہاں شفاف سمندر ہو، جہاں ٹھیلوں سے سجے بازار ہوں، جہاں چائے قہوے کے ڈھابے ہوں. یہی کچھ ذہن میں سجا کر میں ترکی کے ایک ایسے ہی علاقہ میں مقیم تھا جسے الانیہ انطالیہ کہا جاتا ہے. گو میرا قیام ایک خوبصورت فائیو اسٹار ریسورٹ میں تھا جو سوئمنگ پول، جکوزی، شفاف ترین نیلے ساحل سمندر، ان گنت پکوان، انواع و اقسام کے مشروب، آرام دہ کمروں جیسی بیشمار سہولیات سے لبریز تھا. مگر ہوٹل سے باہر کا علاقہ نہایت سادہ اور فطرت کے سحر انگیز مظاہر سے مزین نظر آتا تھا. ترکی واقعی ایک ایسا ملک ہے جو مجموعہ اضداد ہے. جو ایک طرف عظیم اسلامی تاریخ سے مالا مال ہے تو دوسری طرف رومن امپائر کے باقیات کو پوری شان سے سموئے ہوئے ہے. جو ایک جانب مغرب کی فحش روایات کو خود میں جگہ دیئے ہوئے ہے تو دوسری جانب اسلام کی شرم و حیاء کا بھی پوری شدت سے معترف ہے. جہاں ایک طرف یورپی بننے کے جنون میں ہر حد پھلانگ لینے کی خواہش ہے تو دوسری طرف فرد و معاشرے میں احیاء اسلام کی بھرپور تمنا ہے. جہاں ایک جانب فلک بوس حسین عمارتیں ہیں تو دوسری جانب گاؤں کی پرسکون زندگی بھی دھیمے سے مسکرا رہی ہے. جہاں ایک طرف آئینے کی مانند بیشمار شفاف جھرنے اور سمندر ہیں تو دوسری طرف ایسی ایسی جدید سہولیات میسر ہے جنہیں دیکھ کر جنت کا گمان ہو. جہاں ایک جانب ہوٹلوں سے میوزک کا شور نکل رہا ہے تو دوسری جانب مساجد سے اذانوں کی دل نشین آواز بھی گونج رہی ہے. جہاں ایک طرف ہر پکوان حلال ہے وہاں شراب کی دکانیں بھی عام کھلی ہوئی ہیں. (یہ اور بات کہ انگلینڈ کی طرح مجھے ایک بھی شخص شراب کے نشے میں دھت نہیں نظر آیا) گویا اگر میں غالب کے اس مصرعہ 'بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے' کو ترکی کے تناظر میں پیش کروں تو کچھ ایسی صورت ہو کہ 'مجموعہ اضداد ہے ترکی میرے آگے'. دھیان رہے کہ راقم نے اب تک استنبول یا انقرہ جیسے نمائندہ شہروں کا سفر نہیں کیا ہے بلکہ اس کا سفر انطالیہ، الانیہ، ایوسلار، انسیکم اور پاموککالے تک محدود رہا ہے. 
.
ترکی کے بارے میں ایک اور نہایت فرحت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی عوام بڑی تعداد میں پاکستانی عوام سے محبت کرتی ہے. میرے دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ میرے وطن پاکستان کو ایسی ہی عزت دنیا کے تمام ممالک میں عطا کرے جیسی عزت اسے ترکی کی عوام میں حاصل ہے. مجھے جانے سے پہلے کئی لوگوں نے یہ نصیحت کی تھی کہ خود کو برٹش مت بتانا بلکہ پاکستانی کہنا. جیسے ایک امریکی عزیز نے مجھے اپنا واقعہ بتایا کہ جب تک وہ خود کو امریکی کہتا رہا لوگ اس سے واجبی سا سلوک کرتے رہے لیکن جیسے ہی اس نے کسی کے کہنے پر خود کو پاکستانی بتایا تو ہر کوئی مدد کیلئے سبقت لینے لگا. یہی معاملہ میرے ساتھ بھی پیش آیا. اکثر دکانداروں کو جب معلوم ہوتا کہ میں پاکستانی ہوں تو وہ نہایت خوش ہو کر اشارے سے سمجھاتے کہ "ترکی پاکستانی برادر". حیرت انگیز طور پر میرے لئے قیمتیں کم کردیا کرتے اور کئی لوگوں نے مجھے صرف اسلئے مفت تحفے دیئے کہ میں پاکستانی ہوں. آپ اگر میری اس بات پر یقین نہ کریں تو میں سمجھ سکتا ہوں کیونکہ اگر مجھ پر نہ بیتی ہوتی تو میں کبھی یقین نہ کرتا. ترکی کے لوگ اپنے وطن سے شدید محبت کرتے ہیں. امریکہ کے بعد یہ دوسرا ایسا ملک ہے جہاں میں نے کثیر تعداد میں ملک کے جھنڈے لگے دیکھے اور لوگوں کو قومی ترانوں پر جذباتی ہوتے محسوس کیا. ترکی میں یورو کرنسی بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی ان کی اپنی کرنسی لیرا. کچھ تصاویر اور ناموں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ان کے یہاں ملا نصیرالدین، علی بابا اور الہ دین کے کردار ابھی بھی مقبول ہیں. معلوم نہیں کا میرا یہ احساس کتنا درست ہے؟ مگر مجھے بہت سے لوگوں میں رینگنے والے جانوروں سے رغبت نظر آئی. جیسے ایک ترک عورت اچانک مجھ سے پوچھنے لگی کہ کیا پاکستان میں کوبرا سانپ ہوتے ہیں؟ پھر اپنے ہاں پائے جانے والے سانپ کی اقسام بتانے لگی. اسی طرح کئی دکانوں پر چھپکلی کے ربر والے کھلونے نظر آئے، اسی طرح مجھے کم از کم تین لوگوں کے پاس ایک بڑی چھپکلی جسے شائد اردو زبان میں "گوہ" کہتے ہیں پلی ہوئی نظر آئی جسے وہ ہاتھ میں لے کر سہلاتے رہتے. ایک کے ساتھ میں نے تصویر بھی کھینچوائی. بازار میں ایک نیلی آنکھ جیسا نشان ہر جگہ نظر آیا۔ فریج میگنٹ ہو یا استعمال کے برتن یا پھر سجانے کی کوئی دیگر چیزیں سب پر یہ نیلی آنکھ سی نظر آتی ہے۔ ترک عوام کا ماننا ہے کہ اس کے ذریعے بری نظر اور منفی اثرات کو دور کیا جاسکتا ہے۔ ایک دکان مالک نے مجھے یہ نشان تحفہ کے طور پر بھی دیا۔ ترک لوگ اپنی زبان ہی میں بات کرتے ہیں اور مجھے بہت کم لوگ ایسے ملے جو انگریزی بول سکتے ہوں. ترکی کے عوام صحیح معنوں میں صفائی پسند ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان جگہوں پر بھی کچرا نہیں پھینکتے جہاں حکومت کی جانب سے بھی کوئی اہتمام نہ کیا گیا ہو. اس لحاظ سے مجھے ترک عوام برطانوی عوام سے زیادہ صفائی پسند معلوم ہوئے. ہر کام نہایت مستعدی اور منظم انداز میں انجام دیا جاتا ہے مگر خوبصورتی یہ ہے کہ یہ نظام مغربی ممالک کی طرح پیچیدہ نہیں بلکہ بہت سادہ معلوم ہوتا ہے. مجھے بمشکل تمام صرف ایک جگہ کچھ کاغزات پر دستخط کرنے پڑے ورنہ ہر جگہ بس مرحلہ وار کام انجام دے دیا جاتا. اس آسان نظام نے مجھے موجودہ مدینہ کی یاد دلائی. 
.
میرے ترکی پہنچنے کے فوری بعد ہی وہ حالیہ تاریخی واقعہ ہوا جس میں فوج کے ایک باغی گروہ نے اردغوان کی حکومت الٹنے کی ناکام کوشش کی. عوام نے جس مثالی انداز میں اس کوشش کو ناکام بنایا اس سے آپ سب بخوبی واقف ہیں. ترک عوام اس وقت دو بڑے گروہوں میں منقسم ہے. پہلا گروہ وہ ہے جو مغرب کے رنگ میں پوری طرح رنگ کر یورپی کہلانے کا متمنی ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو یورپی بننا تو چاہتا ہے مگر اپنے اسلامی تشخص کو قائم رکھ کر. یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ترکی کی عوام میں اسلام سے قربت بڑھ رہی ہے اور اب ان کا مجموعی شعور ایک بار پھر اسی رفعت کا متمنی ہے جو کبھی خلافت عثمانیہ کی صورت میں ان کا خاصہ تھی. میں پوری دیانتداری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ترک عوام نے میرے دل کو اپنے اخلاق سے جیت لیا ہے. ایسے اخلاق جو برصغیر پاک و ہند میں عوامی سطح پر مفقود ہیں اور جن کا عکس مجھے عرب ممالک میں بلکل نظر نہیں آیا. چار ایسے مواقع آئے جو مجھے اپنے اس مختصر سفر میں سب سے زیادہ دل نشین لگے. پہلا موقع جب میں نے زندگی میں پہلی بار سمندر کے بیچ "اسکوبا ڈائیونگ" یعنی غوطہ زنی کی اور سمندر کی گہرائی میں موجود مخلوقات کو دیکھا. دوسرا موقع جب ایک قزاقی انداز کے نہایت خوبصورت جہاز میں پانچ گھنٹے ہمیں سمندر سے گزارا گیا جہاں میں نے دو رنگ کر پانیوں کو جدا جدا دیکھا اور دونوں پانیوں میں سے گزرا. قران مجید کی اس آیت کو یاد کیا جس میں دو پانیوں کو جدا کرنے کا ذکر ہے. لوگوں کو پہاڑوں پر چڑھ کر سمندر میں چھلانگیں لگاتے دیکھا. تیسرا موقع پاموککالے کا وہ ہوشربا پہاڑی مقام جس کے معنی ترکی زبان میں 'روئی کا محل' ہیں. جہاں کاربونیٹ سمندری معدنیات کے سفید پہاڑ قدرتی زینوں کے ساتھ موجود ہیں اور جہاں قدم قدم پر ان ہی معدنیات سے بھرپور چھوٹے چھوٹے گرم پانی کے تالاب ہیں. بہت امکان ہے کہ آپ نے اس ناقابل یقین مقام کو انگریزی یا ہندی فلموں میں دیکھ رکھا ہو. پاموککالے سےواپسی پر بس میں کوئی آٹھ مختلف ممالک کے لوگ سوارتھے. سب پرلازم تھا کہ اپنی زبان میں کوئی گانے کے بول سنائے جسے سب انجوائے کریں. اپنی باری آئی تو بچاؤ کی کوئی صورت نہ پاکر پرانا گانا "کو-کو-کورینا" سنایا اور چوتھا موقع "ہایرہ پولس" رومی سلطنت کا وہ تاریخی پر ہیبت پنڈال جہاں پندرہ ہزار عوام کیلئے گلیڈیٹرز کے مقابلے کروائے جاتے تھے. لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر تحریر اختصار کی کوشش کے باوجود طویل ہوچکی لہٰذا اسی پر اکتفا کرتا ہوں. کچھ تصاویر بھی ان شاء للہ جلد شیئر کروں گا. 
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 13 July 2016

درود شریف


درود شریف


درود شریف عربی کا نہیں فارسی کا لفظ ہے. عربی میں اس کا متبادل لفظ ' الصلاة على النبي' ہے. یہ واحد ذکر ہے جو انسان، ملائکہ اور رب العزت سب میں رائج ہے اور جس کی نسبت اور حکم کواللہ پاک نے خود سے جوڑ کر صادر کیا ہے.
.
(اِنَّ اللہَ وَ مَلَائِکَتَہُ یُصَلّوْنَ عَلی النَّبِیْ یَا ایُّہا الَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْماً) سورہ احزاب آیت ۵۶۔
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر (اور ان کی آل پر) درود بھیجتے ہیں تو اے ایمان والو تم بھی درود بھیجتے رہو اور برابر سلام کرتے رہو"
.
اگر درود شریف کا جائزہ لیا جائے تو یہ امر کھل کے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ اپنے معنوں اور حقیقت دونوں کے اعتبار سے ایک دعا ہے. ایک ایسی دعا جس میں ہم رب کائنات سے یہ التجا کرتے ہیں کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مزید رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیں. ہم جانتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ سب سے بلند ہے اور انہیں اپنے رب کی اونچی ترین نعمتیں حاصل ہیں مگر اس کے باوجود بھی ہمیں ان کیلئے درود کی صورت دعا کی ترغیب دی گئی ہے. اسکی کئی وجوہات ہیں، جن میں سے دو اہم ترین ہیں. پہلی یہ کہ رب کریم کی عطا کی کوئی حد نہیں، وہ بلند ترین مقام کو بھی مزید سے مزید بلندی عطا کرسکتے ہیں. لہٰذا کیا مضائقہ ہے؟ کہ ہمارے درور کو بہانہ بنا کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل کو مزید رفعتیں عطا کردی جائیں. (گو میرا رب کسی سبب کے بغیر بھی عطا کرنے پر یقیناّ قادر ہیں) دوسری وجہ یہ کہ دعا فقط تقاضہ ہی نہیں ہوتی بلکہ جس کیلئے دعا کی جارہی ہے اس سے تعلق کا اظہار بھی ہوتی ہے. آپ اپنی اولاد یا والدین کیلئے دعا کرتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ وہ آپ کے دل کے قریب ہیں. درود کے ذریعے بندہ مومن کا اپنے محسن آقا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قلبی تعلق مظبوط تر ہوتا جاتا ہے. اسکی ایک مثال یا دلیل یہ بھی ہے کہ ہم خوب واقف ہیں کہ ہمارے ذکر و تسبیح سے اللہ عزوجل کی شان میں اضافہ یا کمی نہیں ہوتی لیکن پھر بھی ہمیں اللہ اکبر اور دیگر کلمات و عبادات کے ذریعے رب کی بڑائی بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے. تاکہ اسی بہانے ہمارا تعلق اپنے خالق سے قریب تر ہوتا جائے. دعا ہمیشہ مانگی جاتی ہے پڑھی نہیں جاتی. افسوس یہ ہے کہ ہمیں درود پڑھنا تو سکھا دیا گیا لیکن مانگنا کسی نے نہ سکھایا. ضرورت ہے اس امر کی کہ درود کے الفاظ ادا کرتے ہوے یہ حقیقت ملحوظ رہے کہ ہم اپنے پروردگار سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل کیلئے رحمت و برکت کی دعا مانگ رہے ہیں. یہ سوچ و سمجھ ان الفاظ میں اپ کی دلچسپی اور لطف دونوں کو کئی گنا بڑھا دیگی.
.
ایک اور پہلو جو ہماری توجہ کا طالب ہے وہ یہ کہ جب ہم اس درود میں ' آل رسول ' کا ذکر کرتے ہیں تو اہل علم کی ایک رائے کے مطابق اس سے مراد محض رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان نہیں ہوتا بلکے اپنے وسیع معنوں میں یہ لفظ تمام امت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احاطہ کرتا ہے. یہ قرآن اور عربی دونوں کا اسلوب ہے کہ لفظ ' آل ' سے مراد قبیلہ یا امّت بھی ہوتا ہے. اسی لیے قرآن پاک میں جب فرعون کے ماننے والو کا ذکر ہوا تو انہیں ' آل فرعون ' کہہ کر مخاطب کیا گیا. لہٰذا آئندہ جب ہم درود میں آل رسول کا ذکر کریں تو یہ جانتے ہوئے کریں کہ اسمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان والے بھی شامل ہیں اور تمام امتی بشمول میں خود بھی شامل ہوں. یہ سوچ جہاں آپ کے قلب کو مزید فرحت دے گی کہ گنہگار ہی سہی لیکن میں بھی امتی ہوں وہاں یہ درود پاک کے الفاظ سے آپ کے زندہ تعلق کو تقویت دے گی. ان شاء اللہ. آئیے ایک بار صدق دل سے درود پڑھ لیتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

رمضان سے متعلق مشورہ


رمضان سے متعلق مشورہ



اگر آپ بھی میری طرح ان سوگوار افراد میں شامل ہیں جو یہ رنج محسوس کرتے ہیں کہ اس رخصت ہوتے ہوئے ماہ رمضان سے وہ کچھ ایسا خاطر خواہ نہ حاصل کرسکے جو بقیہ زندگی کے لئے خیر کا باعث بن سکے تو ایک قیمتی مشورہ پیش ہے۔ قبل اسکے کہ رمضان ہم سے رخصت ہو جلدازجلد کوئی چھوٹی سی سورہ یا اس کے مساوی کوئی بھی آسان سی تین آیات ترجمہ کیساتھ حفظ کرلیں۔ یہ حفظ کردہ آیات ان شاء اللہ نہ صرف روز آخرت اس بات کی گواہ ہونگی کہ ہم نے انہیں 2016 کے رمضان مبارک میں یاد کیا تھا بلکہ اپنی روزمرہ کی نمازوں میں ان کی تلاوت بھی اجر و خیر کا سبب بنے گی۔ ساتھ ہی ان کے ترجمے پر مسلسل غور ہمیں قران حکیم سے مزید نزدیک کردے گا۔ نمونے کے طور پر سورہ الفجر کی یہ آخری آیات درج کردیتا ہوں جو ہر مومن کے خواب کی تکمیل ہیں۔ 
۔
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ( 27 ) فجر - الآية 27
اے اطمینان پانے والے نفس!
۔
ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ( 28 ) فجر - الآية 28
اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی
۔
فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ( 29 ) فجر - الآية 29
تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا
۔
وَادْخُلِي جَنَّتِي ( 30 ) فجر - الآية 30
اور میری بہشت میں داخل ہو جا
۔
====عظیم نامہ=====

اسلام کو بطور دین سب سے زیادہ نقصان کس نے دیا؟


اسلام کو بطور دین سب سے زیادہ نقصان کس نے دیا؟



اسلام کو بطور دین جتنا نقصان مذہبی تفرقہ اور قران حکیم سے دوری نے پہنچایا ہے. اس کا عشر عشیر بھی یہود، نصاریٰ، ملحدین، میڈیا، زائونسٹ، سیاستدان اور دیگر مل کر نہ پہنچا سکے. دشمن اگر سازش کرتا ہے تو کوئی حیرت نہیں کہ دشمن اگر سازش نہ کرے تو دشمن ہی کیوں کہلائے؟ صدمہ تو ان کوڑھ مغزوں پر ہے جو آج بھی اپنی توانائی دیگر کلمہ گو مسالک و فرقوں کی تکفیر میں لگاتے ہیں. حیرت تو ان فالج زدہ اذہان پر ہے جو آج بھی امت کو یکجا کرنے کی فکر کے بجائے نفرت کے بیج بو رہے ہیں. غصہ تو اس اپاہج سوچ پر ہے جو عالم اسلام کو جلتا بلکتا دیکھ کر بھی احیاء دین کی جانب مائل نہیں. 
.
====عظیم نامہ====

دو معصوم مگر پرمغز سوالات




ہمارے ایک منہ بولے بھانجے کے دو معصوم مگر پرمغز سوالات

.
سوال : "اگر میں خود اپنا ہاتھ نہ ہلاؤں تو کیا اللہ تعالٰی کن کہہ کے میرا ہاتھ ہلا سکتے ہیں ؟"
.
جواب: جی احمد بیٹا .. عام طور پر اللہ پاک نے ہم پر کوشش کرنا فرض کیا ہے اور ہاتھ ہلانے کیلئے بھی ہمیں کوشش لازمی کرنی ہوگی اور اگر ہم کوشش نہیں کریں گے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ اللہ پاک ہاتھ کو خود بخود نہیں ہلنے دیں گے مگر صرف کوشش کافی نہیں ہے. اگر اللہ چاہیں تو ہمارا ہاتھ ہمارا مرضی کے بناء بھی بلکل ہلا سکتے ہیں اور اسی طرح اگر ہاتھ ہلانا چاہو تو اللہ اسے ہلنے سے روک سکتے ہیں. دیکھو کتنے لوگ ہیں جن کے ہاتھ کو اچانک فالج ہوجاتا ہے تو وہ چاہ کر بھی اپنا ہاتھ نہیں ہلا پاتے. ایسے ہی کبھی کبھار ہاتھ یا پاؤں سن ہوجایا کرتا ہے اور ہمیں اسے اٹھانا بھی مشکل ہوتا ہے یا اٹھا ہی نہیں پاتے. ایسے ہی زیادہ تر انسان مرنا نہیں چاہتے لیکن جب اللہ چاہتے ہیں تو انہیں مرنا پڑتا ہے. اسی طرح تم، میں اور ہم سب اللہ ہی کی مرضی سے تو پیدا ہوتے ہیں ورنہ ہم نے نہ تو کوئی ایپلیکیشن دے رکھی تھی نہ ہی ہم نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا. الله پاک کا اس دنیا میں قانون یہ ہے کہ وہ کسی کو ذریعہ بنا کر کام کرتے ہیں جیسے تمہارا پیدا ہونا تمہارے والدین کے ذریعہ ہوا مگر جب چاہیں تو ذریعہ بناء بھی پیدا کرسکتے ہیں جیسے حضرت عیسیٰ ع بناء والد کے اور حضرت آدم ع بنا والد والدہ کے پیدا ہوئے. اسی طرح ایک اور قانون اس دنیا میں اللہ پاک کا یہ بھی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم دعا اور کوشش دونوں کریں. جیسے تم اسکول میں پاس ہونے کیلئے اللہ سے دعا بھی کرتے ہو مگر ساتھ ہی پوری کوشش بھی کرتے ہو. اگر کوئی بھی ایک کام نہ کرو گے تو بہت ممکن ہے کہ امتحان پاس نہ کر سکو اور اگر کر بھی لو تو مرضی کے نمبر نہ آسکیں یا کوئی اور مشکل ہوجائے. 
.
سوال: "شیطان ہر وقت بڑے آئیڈیاز دیتا ہے تو اللہ تعالی نے اسکو کیوں بنایا تھا؟"
.
جواب: احمد بیٹے .. بہت سے برے انسان بھی ہر وقت برے آئیڈیا دیتے رہتے ہیں. اسی لئے میں تمھیں کہتا ہوں کہ ہمیشہ اچھے دوست بناؤ تو وہ تمھیں اچھے کام کی طرف بلائیں گے اور اگر برے دوستوں میں بیٹھو گے تو وہ چاہیں گے کہ اپنے ساتھ ساتھ تم سے بھی برے کام کروائیں تاکہ جب کوئی سزا ملے تو وہ اکیلے نہ رہیں بلکہ تم بھی ان کے ساتھ سزا پاؤ. لیکن اب کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان برے لوگوں کو کیوں بنایا؟ ظاہر ہے کہ نہیں. کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اور باقی سب کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی آزادی دی ہے اور وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کون اپنی مرضی سے اچھی باتیں کرتا ہے اور کون بری. اللہ نے کسی انسان کو برا نہیں بنایا مگر کچھ انسان اپنی مرضی سے برے بن گئے اور سب کو برائی کی طرف بلانے لگے. اب اس میں آپ کے اللہ میاں کا کیا قصور؟ یہ تو ان لوگوں کا فالٹ ہوا نا؟ . ٹھیک ایسے ہی اللہ نے شیطان کو برا نہیں بنایا تھا ، وہ اپنی مرضی سے برا بن گیا اور بجائے اپنی غلطی پر اللہ سے معافی مانگنے کے ، وہ یہ کہنے لگا کہ اب خود بھی برا کرتا رہوں گا اور دوسروں کو بھی برائی کے آئیڈیا دیتا رہوں گا تاکہ میرے ساتھ باقی لوگوں کو بھی سزا ملے. اب تم اگر عقلمند ہو تو شیطان سے کبھی دوستی نہیں کرو گے اور اس کی بات کبھی نہیں مانو گے اور اگر کبھی غلطی سے یا دھوکے سے کوئی بات مان گئے تو اللہ سے فوری توبہ کر لو گے. اب دیکھو تمہاری کلاس میں سب بچوں کو اللہ نے اچھا ذہن دیا ہے مگر ان میں سے کچھ اچھے بچے اپنی مرضی سے محنت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور کچھ بچے صرف شرارتیں کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں. اب کسی بچے کی محنت نہ کرنے کا الزام ہم اسکول کو یا ٹیچر کو تو نہیں دیتے کہ انہوں نے اس بچے کو ایڈمشن کیوں دیا؟ بلکہ کہتے ہیں کہ اس بچے کا اپنا قصور ہے. ایسے ہی کسی برے انسان کے برے ہونے یا شیطان کے برا ہونے کا الزام بھی اللہ پاک پر نہیں ہے بلکہ برے انسان یا شیطان پر ہے. اللہ میاں نے تو اس سمیت سب کو آزادی دی تھی مگر اس نے خود آزادی کا اچھا استعمال چھوڑ کر غلط استعمال کیا.
.
====عظیم نامہ====