Wednesday, 1 June 2016

عذاب قبر ایک سرکش کو زیادہ دوسرے کو کم؟



عذاب قبر ایک سرکش کو زیادہ دوسرے کو کم؟



سوال:
عظیم بھائی اگر اللہ پاک کا کوئی سرکش و نافرمان آج سے ہزاروں سال پہلے مرگیا تھا اور ٹھیک اتنا ہی سرکش و نافرمان آج مرجاتا ہے تو عقل کہتی ہے کہ پہلے سرکش کو روز قیامت آنے سے پہلے ہزاروں سال کی سزا عذاب قبر کی صورت مل چکی ہوگی. جب کے دوسرا سرکش پہلے کے مقابل بہت فائدے میں رہا کہ اس کی موت قرب قیامت کے دنوں میں ہوئی. اسے کیسے سمجھا جائے؟
.
جواب:
سب سے پہلے تو یہ جان لیجیئے کہ عذاب قبر ان امور غیب میں سے ہے جن کا کَماحَقُّہ جان لینا ہمارے بس میں نہیں ہے. البتہ قران و حدیث میں موجود اشاروں سے ہم اس کے ضمن میں کچھ اندازے ضرور قائم کرلیتے ہیں. جن کے بارے میں اہل علم علمی اختلاف بھی کرتے ہیں. کس کو عذاب ہوگا؟ کیسے عذاب ہوا؟ روح پر ہوگا یا جسم پر ہوگا؟ قبر میں ہوگا یا برزخ میں ہوگا؟ یہ تمام سوالات بہت تفصیل کے متقاضی ہیں. لہٰذا راقم اختصار کیلئے خود کو خاص آپ کے سوال تک ہی محدود رکھنے کی سعی کرے گا.
.
قران مجید میں کئی مقامات پر غور کرکے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دیگر مخلوقات کی طرح 'وقت' بھی اللہ ہی کی ایک مخلوق ہے جسے وہ اپنے تصرف سے بدل سکتے ہیں اور بدلتے ہیں. چنانچہ سورہ البقرہ میں اللہ عزوجل نے اپنے ایک بندے کا واقعہ بیان کیا ہے جو کئی محققین کے نزدیک حضرت عزیر ع تھے. انہوں نے ایک بستی کے بوسیدہ کھنڈرات کو دیکھ کر اللہ پاک سے عرض کی کہ وہ کیسے ان مرے ہوئے افراد اور بستی میں دوبارہ زندگی ڈالے گا ؟ تو اللہ پاک نے سو سال کیلئے ان کی روح قبض کرلی. سو سال بعد جب وہ جاگے تو رب کریم نے پوچھا کہ کتنا عرصہ تمہارے خیال میں تم مردہ رہے یا سوتے رہے؟ ان کا جواب تھا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم. غور کیجیئے کہ سو سال مردہ رہنے کے بعد زندہ کئے جانے پر انہیں لگا کہ وہ کچھ گھنٹے ہی کو رخصت رہے ہیں. ان کے اس جواب پر اللہ پاک نے انہیں بتایا کہ تم سو سال مردہ رہے ہو لیکن دیکھو تمہارا کھانا جو تمھارے ساتھ تھا وہ ابھی بھی ویسا ہی تازہ ہے. جب کہ اپنی سواری کو دیکھو تو تمہارا گدھا سو سال سے مرا ہوا ہے اور اس کی بوسیدہ ہڈیاں زمین پر بکھری ہوئی ہیں. پھر اللہ پاک نے ان کے سامنے ان کے اسی گدھے کو ان ہی ہڈیوں کیساتھ دوبارہ تخلیق کر کے دکھایا . اسی طرح اصحاب کہف کے واقعے سے لے کر دیگر کئی واقعات میں قران مجید اسی حقیقت کو باور کرواتا ہے کہ قادر المطلق اسی دنیا میں ایک مخلوق یا شخحص پر وقت کو دراز کر دیتے ہیں اور دوسرے کیلئے نہایت مختصر.
.
اس ساری تمہید کو بیان کرنے کا مقصد فقط اتنا ہے کہ آپ جان لیں کہ آپ کا رب اس پر پوری طرح قادر ہے کہ وہ ہزاروں سال پہلے مرنے والے سرکش و نافرمان کو اور آج مرنے والے سرکش و نافرمان کو ٹھیک ایک جیسا عذاب دے سکے. مگر یہ صرف ایک زاویہ ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ جس کو عذاب قبر زیادہ ہوا اس کے عذاب جہنم میں کوئی تخفیف کردی جائے. یا پھر ایک مقررہ میعاد کے بعد کسی ایک کیلئے عذاب قبر کو ساقط کردیں اور دوسرے پر جاری رہنے دیں. فی الواقع کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ کرنا عبث ہے. جیسا بیان کا کہ یہ امور الغیب ہیں بلکہ کئی حوالوں سے امور المتشبھات ہیں جن کی مستقل کھوج کرنا درست نہیں. مومن کا یقین تو اس بات پر ہے کہ اس کا رب ظالم نہیں ہے اور ممکن ہی نہیں کہ وہ کچھ خلاف انصاف کرے. واللہ اعلم بلصواب.
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 31 May 2016

مخلص یا عقلمند؟


مخلص یا عقلمند؟



آپ کا مخلص اور ایمان دار ہونا آپ کے عقلمند اور درست ہونے کی دلیل نہیں ہے.
۔
آپ بیک وقت نہایت مخلص اور انتہائی احمق ہوسکتے ہیں.
۔
اسی طرح آپ کا پوری ایمان داری سے تحقیق کرنا آپ کے صحیح ہونے کا حتمی ثبوت نہیں ۔
۔
آپ بیک وقت اچھے محقق اور  مکمل غلط ہوسکتے ہیں.
.
====عظیم نامہ====

پرسکون رہنے کا ایک موثر نسخہ


پرسکون رہنے کا ایک موثر نسخہ



اس عارضی دنیا میں پرسکون اور کامیاب رہنے کا ایک موثر نسخہ یہ بھی ہے کہ آپ عملی طور پر بہترین ثمر کی کوشش کریں مگر ساتھ ہی ذہنی طور پر بدترین نتیجے کیلئے تیار بھی رہیں۔ اب اگر نتیجہ بہترین نہ بھی نکلا تو قوی امکان ہے کہ وہ کم ازکم بدترین سے بہتر ہوگا اور اگر فی الواقع بدترین بھی ہوا تو آپ کیلئے صدمے کا سبب نہ بنے گا۔ اب اسی طریق کو ملحوظ رکھ کے بعد از تحقیق دوبارہ بہترین کی کوشش کرلیجیئے۔ کوشش بیشک آپ کے ہاتھوں میں ہے لیکن نتیجہ صرف آپ کے رب کے ہاتھوں میں ہے۔ پس نتیجے کیلئے اسی پر توکل کیجیئے۔ نتیجہ آپ کی مرضی کا نہ بھی ہو تو وہ ان شاء اللہ آپ کی محنت کو ضائع نہ ہونے دے گا۔
۔
====عظیم نامہ====

ایک سطر میں پوچھا گیا سوال


ایک سطر میں پوچھا گیا سوال



اکثر ایک سطر میں پوچھا گیا سوال یا اٹھایا گیا اعتراض اپنے جواب کیلئے ایک لمبے مضمون یا مکالمے کا متقاضی ہوتا ہے. اس امر کا بھی قوی امکان ہے کہ بات سمجھانے کیلئے دوبدو مکالمہ کرنا ضروری ہو . لہٰذا اگر آپ تفصیل طلب سوالات اور اعتراضات کی فہرست فیس بک پر پیش کرنے کے شوقین ہیں اور ان کے جوابات نہ پاکر اس خوشی سے پھول جاتے ہیں کہ شائد آپ کی ان عالی مرتبت باتوں کا مقابل نقطہ نظرکے پاس کوئی شافی جواب سرے سے ہے ہی نہیں تو یہ صریح خام خیالی ہے. جان لیجیئے کہ فیس بک اپنی بات کے اظہار کیلئے جتنی موثر ہے، کسی نتیجہ خیز مکالمے کیلئے اتنی ہی غیر موثر ہے. 
.
====عظیم نامہ====

کعبہ کو مسجد الحرام کیوں کہتے ہیں؟



کعبہ کو مسجد الحرام کیوں کہتے ہیں؟ 



خانہ کعبہ کو مسجد الحرام کیوں کہتے ہیں؟ لفظ حرام تو ہمارے نزدیک اچھا نہیں، اسے خانہ کعبہ کیلئے استعمال کرنے سے جھجھک محسوس ہوتی ہے.
.
جواب: 
یہ جھجھک ہماری عربی زبان سے ناواقفیت کے سبب سے ہے. عربی زبان کے وہ الفاظ جو دیگر زبانوں جیسے اردو میں مستعمل ہوگئے ہیں، وہ کئی بار اپنے حقیقی معنی کھو بیٹھتے ہیں یا اپنی ممکنہ وسعت سے محروم ہوجاتے ہیں یا پھر اس کے ساتھ ایسے تصورات جوڑ دیئے جاتے ہیں جو لفظ کی اصل روح کے خلاف ہوتے ہیں. فقہی اعتبار سے چونکہ حرام ہر اس کام کو کہتے ہیں جس سے دین ہمیں روکتا ہو لہٰذا ایسے افعال کے ساتھ ساتھ لفظ حرام سے بھی ایک غیر محسوس ناپسندیدگی ہم سب مسلمانوں کے اذہان میں گھر کرگئی ہے. حرام کے لغوی معنی “روکنے”کے ہیں. حرام مادہ لفظ حرم سے نکلا ہے جس کے ایک معنی 'مقدس جگہ' کے بھی ہیں. مسجد الحرام چونکہ مقدس ترین جگہ ہے اور اس میں بہت سی حرمتیں بھی مقرر کی گئی ہیں یا یوں کہیئے کہ کئی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں جیسے یہاں جنگ کرنا ممنوع ہے. اسی رعایت سے اسے 'مسجد الحرام' یعنی ' حرمت والی مسجد' پکارا جاتا ہے اور اسی بناء پر سال کے چار مہینوں کو اللہ عزوجل نے حرمت والا قرار دیا ہے. اسی طرح حج میں احرام کی حالت میں بھی حاجی پر بہت سی پابندیاں ہوتی ہیں اور اسی لئے اسے 'احرام' کہا جاتا ہے 
.
====عظیم نامہ====

فرض نماز کے وقت دو نمازی


فرض نماز کے وقت دو نمازی



فرض نماز کے وقت دو نمازی ساتھ موجود ہوں اور نماز کیلئے دانستہ جماعت نہ کریں بلکہ اپنی اپنی نماز علیحدہ ادا کرلیں تو یہ بھی ایک طرح کا کفران نعمت ہے. اللہ عزوجل نے انہیں جماعت کی صورت میں ستائیس گنا تک زیادہ ثواب کے حصول کا موقع عطا کیا جو انہوں نے بناء عذر ضائع کردیا. اگر ان کے سامنے ایسا ہی کوئی مالی فائدہ موجود ہوتا تو یہ کبھی اسے ایسے ہاتھ سے نہ جانے دیتے. ان کا دانستہ جماعت کا موقع یوں بناء ملال چھوڑ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ثواب کے حصول کو مال کے حصول سے شاید کمتر جانتے ہیں. یہاں یہ ملحوظ رہے کہ افضل ترین مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا ہے، اس کے بعد اگر کسی حقیقی عذر کی وجہ سے مسجد نہ جاسکے تو دو یا دو سے زیادہ افراد کا ایک چھوٹی جماعت کرلینا بہتر ہے اور اس کے بعد آخری درجہ نماز کا انفرادی طور پر ادا کرنا ہے.
.
====عظیم نامہ====

Monday, 23 May 2016

اگر شوہر تھپڑ مار دے




اگر شوہر تھپڑ مار دے 


جب میاں سے کسی بات پر سخت جھگڑا ہو جائے بلکہ تھپڑ شپڑ بھی پڑ جائے اور گھر کا ماحول سخت خراب ہو جائے تو ایسے میں کیا کیا جانا چاہیئے؟
۔
جواب:
۔
اس سوال کا کوئی ایک حتمی جواب راقم کی دانست میں ممکن نہیں۔ کسی بھی دوسری انتہائی صورتحال کی طرح اس معاملے میں بھی حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے گا. غور کیا جائے گا کہ ایسا ناخوشگوار اور برا واقعہ کیوں پیش آیا؟ 
۔
پہلی صورت یہ ہے کہ جس طرح بعض مرد نہایت درشت مزاج ہوا کرتے ہیں، اسی طرح بعض عورتیں بھی اس حد تک بدتمیز اور بد تہذیب ہوتی ہیں کہ شوہر کی زندگی کو آخری درجے میں اجیرن کر چھوڑتی ہیں. ایسے میں بے تحاشہ برداشت کے بعد امکان ہے کہ ایک نفیس انسان بھی اپنا ذہنی توازن عارضی طور پر کھو کر ہاتھ اٹھا بیٹھے. ایسے میں عورت کو دیکھنا چاہیئے کہ جس شوہر نے سالوں کی رفاقت میں کبھی ہاتھ نہ اٹھایا بلکہ اکثر اسے اسکی غلطی کے باوجود مناتا رہا ، تو اب ایسا کیا غیرمعمولی ہوگیا جو یہ سلیم المزاج بھی اتنی مذموم حرکت کربیٹھا؟ اس موقع پر عورت کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے اور اسے اس رشتے کی آخری وارننگ سمجھنا چاہیئے. مرد معافی مانگ لے تو غنیمت سمجھیئے اور معاف کردیجیئے 
۔
اس کے برعکس ایک دوسرا مرد ہے جو کسی کم سنگین بات پر ہاتھ اٹھا بیٹھا ہے تو اس کی خبر لینی چاہیئے. عورت کو اس سے جزوی قطع تعلق یا بڑوں سے شکایت کرنے کا سوچنا چاہیئے. اس مرد کو ہر حال میں یہ شدید احساس دلانا ہوگا کہ اس کا یہ اقدام قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور آئندہ کیلئے یہ مستقل قطع تعلق کا سبب بن سکتا ہے 
۔
ایک تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی مرد فی الواقع وحشی اجڈ ہے اور بیوی کو پیروں کی جوتی سمجھتا ہے. ایسا شخص بلاتامل ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور اسکے سدھرنے کی امید نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے . فوری طور پر ایسے انسان کو اسکی اوقات یاد دلا کر خلع لے لینی چاہیئے. یہ فیصلہ جتنی جلد ہو اتنا ہی بہتر ہے. بچوں کی پیدائش کے بعد معاملات سدھرتے نہیں بلکہ ایک مستقل ٹریپ کی صورت اختیار کرلیتے ہیں.
۔
====عظیم نامہ====
۔
(نوٹ: اس جواب کو محض راقم کی ذاتی ناقص رائے پر محمول کیجیئے۔ اسے شرعی نصوص سے استنباط سمجھنے کی غلطی نہ کیجیئے)