Monday, 23 May 2016

اگر شوہر تھپڑ مار دے




اگر شوہر تھپڑ مار دے 


جب میاں سے کسی بات پر سخت جھگڑا ہو جائے بلکہ تھپڑ شپڑ بھی پڑ جائے اور گھر کا ماحول سخت خراب ہو جائے تو ایسے میں کیا کیا جانا چاہیئے؟
۔
جواب:
۔
اس سوال کا کوئی ایک حتمی جواب راقم کی دانست میں ممکن نہیں۔ کسی بھی دوسری انتہائی صورتحال کی طرح اس معاملے میں بھی حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے گا. غور کیا جائے گا کہ ایسا ناخوشگوار اور برا واقعہ کیوں پیش آیا؟ 
۔
پہلی صورت یہ ہے کہ جس طرح بعض مرد نہایت درشت مزاج ہوا کرتے ہیں، اسی طرح بعض عورتیں بھی اس حد تک بدتمیز اور بد تہذیب ہوتی ہیں کہ شوہر کی زندگی کو آخری درجے میں اجیرن کر چھوڑتی ہیں. ایسے میں بے تحاشہ برداشت کے بعد امکان ہے کہ ایک نفیس انسان بھی اپنا ذہنی توازن عارضی طور پر کھو کر ہاتھ اٹھا بیٹھے. ایسے میں عورت کو دیکھنا چاہیئے کہ جس شوہر نے سالوں کی رفاقت میں کبھی ہاتھ نہ اٹھایا بلکہ اکثر اسے اسکی غلطی کے باوجود مناتا رہا ، تو اب ایسا کیا غیرمعمولی ہوگیا جو یہ سلیم المزاج بھی اتنی مذموم حرکت کربیٹھا؟ اس موقع پر عورت کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے اور اسے اس رشتے کی آخری وارننگ سمجھنا چاہیئے. مرد معافی مانگ لے تو غنیمت سمجھیئے اور معاف کردیجیئے 
۔
اس کے برعکس ایک دوسرا مرد ہے جو کسی کم سنگین بات پر ہاتھ اٹھا بیٹھا ہے تو اس کی خبر لینی چاہیئے. عورت کو اس سے جزوی قطع تعلق یا بڑوں سے شکایت کرنے کا سوچنا چاہیئے. اس مرد کو ہر حال میں یہ شدید احساس دلانا ہوگا کہ اس کا یہ اقدام قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور آئندہ کیلئے یہ مستقل قطع تعلق کا سبب بن سکتا ہے 
۔
ایک تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی مرد فی الواقع وحشی اجڈ ہے اور بیوی کو پیروں کی جوتی سمجھتا ہے. ایسا شخص بلاتامل ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور اسکے سدھرنے کی امید نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے . فوری طور پر ایسے انسان کو اسکی اوقات یاد دلا کر خلع لے لینی چاہیئے. یہ فیصلہ جتنی جلد ہو اتنا ہی بہتر ہے. بچوں کی پیدائش کے بعد معاملات سدھرتے نہیں بلکہ ایک مستقل ٹریپ کی صورت اختیار کرلیتے ہیں.
۔
====عظیم نامہ====
۔
(نوٹ: اس جواب کو محض راقم کی ذاتی ناقص رائے پر محمول کیجیئے۔ اسے شرعی نصوص سے استنباط سمجھنے کی غلطی نہ کیجیئے)

Wednesday, 18 May 2016

مائیکرواسکوپ کے نیچے


مائیکرواسکوپ کے نیچے



جس دن سے آپ نے اپنی زندگی کو دین کے مطابق ڈھالنے کا فیصلہ کرلیا تو سمجھ لیجیئے کہ اسی دن سے آپ مائیکرواسکوپ کے نیچے آگئے. اب ہر ایک آپ کے ہر عمل کا باریکی سے جائزہ لے گا. ممکن ہے کوئی مولوی کہہ کر چھیڑے تو کوئی استہزائی انداز میں صوفی کہہ کر ٹانگ کھینچے. کوئی آپ کی مثبت تبدیلی پر ہنسے تو کسی کو اچانک آپ انتہاپسند نظر آنے لگیں. اگر داڑھی رکھ لی تو ممکن ہے کہ قریبی گھر والے ہی اسے کٹوا دینے پر زور دینے لگیں، اگر کوئی بہن حجاب کرنے لگی تو فوری طور پر اسے اس کے دوسرے گناہ یاد دلا کر منافقت کے طعنے دیئے جائیں گے، اگر دینی محفل میں بیٹھنے لگے تو اسے نوجوانی کا ابال کہہ کر حوصلہ شکنی کی جائے گی، اگر قران حکیم پڑھنے لگے تو کچھ نیم مذہبی لوگ خود قران پڑھنے سے روکیں گے اور اگر شادی شدہ ہے تو ممکن ہے کہ بیوی ہر معمولی غلطی پر آپ کو دین کا طعنہ دے جیسے ' آپ کا سارا دین بس نماز روزے ہی کا ہے؟ ' یا ' سنت سے یہی کچھ سیکھا ہے؟' وغیرہ غرض اپنے پرائے سب جان کو آجائیں گے. 
.
لازمی نہیں کہ ہر کسی کے ساتھ ایسا ہو مگر اکثر ایسا ہوتا ہے. اسلئے اگر آپ کے ساتھ بھی ہو تو جان لیں کہ یہ آپ کا دین کی راہ میں پہلا امتحان ہے. یہ دیکھنے کیلئے کہ آپ کا ارادہ پکا بھی ہے یا نہیں؟ اگر آپ اس مقام پر گھبرا گئے یا ان زیادتیوں کا جواب درشتگی سے دینے لگے تو ناکام ہوجائیں گے. مطلوب یہ ہے کہ آپ سخت بات کا جواب نرمی سے دیں. تنقید کو مسکرا کر سہہ جائیں. بحث مباحثہ کی بجائے خاموشی سے دین پر چلنے کی اپنی کوشش کرتے رہیں. جہاں اس تنقید اور فقروں سے دل زخمی محسوس ہو ، وہاں خود کو یہ یاد دلائیں کہ دین کی راہ میں سختیوں کو سہنا ہی انبیاء و صلحاء کی سنت ہے. حق کی راہ میں مزاحمت نہ آئے ، ایسا ممکن نہیں. اگر مزاحمت نہیں آرہی تو غور کریں کہ کہیں آپ نے باطل سے کوئی 'جنٹل مین ایگریمنٹ' تو نہیں کر رکھا؟
.
====عظیم نامہ=====

دو دوست


دو دوست 



دو دوست ایک خالی دکان میں بیٹھے گپ شپ کررہے تھے. رات گہری ہوئی تو ایک دوست کو کسی ضروری کام کیلئے تھوڑی دیر کو اپنے گھر جانا پڑا. وہ واپس آیا تو یہ دیکھ کر حیران ہوگیا کہ اس کا دوست اسی جگہ بیٹھا زار و قطار رو رہا ہے. گھبرا کے اس نے وجہ دریافت کی تو دوست نے بتایا کہ تمھارے جانے کے فوری بعد ایک خوبصورت عورت یہاں آئی جس نے مجھے اپنی زبان سے زنا کی دعوت دی. مگر میں نے نفس پر قابو پایا اور اسے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ مجھے میرے الله اور اس کے رسول نے بدکاری سے منع کیا ہے. اب میرے یہ آنسو شکر کے آنسو ہیں کہ رب نے مجھے اس مشکل ترین صورتحال میں تمام تر مواقع ہونے کے باوجود ایمان پر قائم رکھا. یہ سن کر پہلا دوست بھی رونے لگا. دوسرے دوست نے استفسار کیا کہ اب تمھارے یہ آنسو کس لئےہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ میرے یہ آنسو بھی شکر کے آنسو ہیں کیونکہ اگر میں تمھاری جگہ ہوتا تو شہوت نفس سے مجبور ہوجاتا اور کبھی خود کو روک نہ پاتا. ضرور اسی لئے میرے رب نے مجھے اس جگہ سے اس وقت تک دور رکھا جب تک گناہ کا امکان تھا. 
.
ان دونوں دوستوں کا رویہ دراصل سچے مومنین کا رویہ ہے. ایک سچا مومن اپنے رب کا ہر حال میں شکر گزار رہتا ہے. وہ راحت اور مشکل دونوں صورتحال میں شکر کے پہلو دیکھ پاتا ہے. وہ شکر کے وقت تو شکر کرتا ہی ہے لیکن صبر کے وقت بھی خود کو شکر سے خالی نہیں پاتا. 
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 17 May 2016

منفی تنقید پر ایک مثبت تنقید


منفی تنقید پر ایک مثبت تنقید 



ہمارے سیاستدان کرپٹ ہیں، ہمارا میڈیا بکا ہوا ہے، ہماری فوج امریکہ کی غلام ہے، ہمارے وکلاء قانون شکن ہیں، ہمارے مولوی تفرقہ پھیلاتے ہیں، ہماری عوام بے ایمان ہے، ہماری کرکٹ ٹیم سٹہ باز ہے، ہمارا کاروباری حلقہ  ناجائز منافع خور ہے، ہمارا ملازمت پیشہ طبقہ کام چور ہے، ہمارے کئی اسکول کالج رشوت لیتے ہیں، ہمارے کئی مدارس میں بچوں کو جنسی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے
.
تو کیا کریں؟ سینہ کوبی کریں؟ ایک دوسرے کے منہ نوچتے رہیں؟ خود کو درست سمجھ کر مقابل کو صلواتیں سنائیں؟ کسی لڑاکا عورت کی طرح ایک دوسرے کو کوسنے دیا کریں؟ یا پھر خودکشی کرلیں؟ ... کیونکہ یہی تو ہم پچھلے بہت سالوں سے تشخیص و اصلاح کے نام پر کررہے ہیں. ہر شخص صرف منفی تنقید اور افکار کا حامل بنا بیٹھا ہے. اس مکھی کی طرح جو صرف گندگی پر ہی بیٹھا کرتی ہے. ہر کوئی کھری کھری سنا رہا ہے. اب تو ہمیں ایک دوسرے کو برہنہ کردینے میں لطف آنے لگا ہے. افسوس یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی اکثر خود ساختہ لکھاری صرف مایوسی کے بیج بوتے نظر آتے ہیں، تنقید برائے تنقید کرتے ہیں. تحریروں سے ایسا معلوم ہوگا کہ شاید وطن کا سارا درد ان ہی کے سینے میں موجزن ہے مگر ذرا نزدیک سے جاکر جائزہ لیں تو شاذ ہی کوئی ایسا ملے جو عملی زندگی میں اس صورتحال کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر رہا ہوں. جو کسی اسکول یا فلاحی ادارے سے عملی طور پر منسلک ہو. جو کسی کی تعلیم یا نوکری کا بندوبست کرتا ہو. بلکہ امکان ہے کہ کئی تو ایسے ہوں جو کرپشن کے دست بازو بنے ہوئے ہوں. پھر چاہے وہ ناجائز کنڈا ڈال کر بجلی کی چوری ہو، یا رشوت دے کر کام نکلوانا. میرا ذاتی مشاہدہ تو یہی ہے کہ جو فی الواقع معاشرے میں تعمیری کردار ادا کرتے ہیں وہ شکایات کا دفتر کھولے نہیں بیٹھے رہتے
.
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات مسائل کی اپنی سنگینی سے زیادہ ان مسائل کو مستقل اچھالتے رہنا مسلہ بن جاتا ہے. میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مسائل کو زیر بحث نہ لائیں. ضرور لائیں مگر اس میں توازن پیدا کریں. جہاں زید حامد کی طرح خوش فہمی کا چیمپئن بننا حماقت ہے وہاں حسن نثار کی طرح مایوسی کا پیغمبر بن جانا بھی دانش کی دلیل نہیں. تنقید ضرور کریں مگر تعریف کے پہلوؤں پر بھی اپنی نظر کرم کیجیئے. مثبت انداز میں تنقید کیجیئے کہ جسے پڑھ کر قاری مایوسی کی دلدل میں نہ جاگرے بلکہ اس میں اپنے سدھار کا جذبہ پیدا ہو. یقین جانیں کہ اسی معاشرے اور اسی ملک میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جو مثبت ہے، جسکی تعریف نہ کرکے اور جسے موضوع نہ بناکر ہم ظلم کرتے ہیں. لیکن ہمارے قلم توصیف کرتے ہوئے ٹوٹنے لگتے ہیں، ہماری زبان اس کی تعریف سے دانستہ اجتناب کرتی ہے. اللہ رب العزت نے بھی اپنے بندوں کو جنت اور جہنم دونوں بیان کئے ہیں مگر لگتا ہے ہم صرف جہنم دیکھنا اور دیکھانا چاہتے ہیں. ہماری فوج جب دنیا بھر کی فوجوں میں گولڈ مڈل لیتی ہے تو ہم تعریف کی بجائے ٧١ کی شکست بیان کرنے لگتے ہیں، جب دنیا بھر میں ہماری انٹلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کو اول درجہ دیا جاتا ہے تو توصیف کی بجائے ہمیں ان کی دوسری ناکامیاں نظر آنے لگتی ہیں، ہم دنیا کی ساتویں اور اسلامی ممالک میں پہلی ایٹمی قوت بنتے ہیں تو فخر کی بجائے عبدالقدیر خان کو چوری کا طعنہ دینا شروع ہوجاتے ہیں، ہم میزائل، ٹینک، جہاز، آبدوز سب بنانے لگے ہیں تو خوشی کی بجائے ہمیں جرنیلوں کی کرپشن دکھائی دیتی ہے، ہمارے طالبعلم اپنی ایجادات پر دنیا بھر میں انعامات حاصل کرتے ہیں مگر ہماری گفتگو اور خبروں میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتے، ہمارے کھلاڑی کرکٹ، ہاکی، اسکواش، کبڈی، اسنوکر، باکسنگ، باڈی بلڈنگ سمیت بیشمار کھیلوں میں دنیا بھر میں چیمپین بنتے ہیں مگر ہمارا سارا زور ان کی خامیاں ڈھونڈھنے میں ہی لگ جاتا ہے. ہمارا ملک بہترین ادیب اورشاعروں سے مالامال ہے مگر ہم انہیں سننے کو تیار نہیں ہوتے، ہماری اسی سرزمین پر جید علماء اور محققین زندہ ہیں مگر ہم کچھ رنگ برنگے نیم مولویوں کی خرافات کو اپنی گفتگو کا مرکز بنالیتے ہیں، ہمارا شمار صدقہ و خیرات کرنے والے صف اول کے ممالک میں ہوتا ہے مگر ہم ان لٹیروں کا ذکر کرتے ہیں جو مذہب کی آڑ میں گھناؤنا دھندہ کرتے ہیں. غرض ہمیں مایوسی پھیلانے کی لت سی لگ گئی ہے. ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ ہم میں کچھ خوبیاں بھی ہوسکتی ہیں. 
.
میں پچھلے تیرہ برس سے برطانیہ میں مقیم ہوں جو بجا طور پر ترقی اور انصاف کے حوالے سے پوری دنیا میں مثالی ملک مانا جاتا ہے. میں آپ کو سچائی سے بتاتا ہوں کہ ان کی تمام تر خوبیوں کے باوجود ان میں بیشمار سنجیدہ اور بہت بڑے بڑے مسائل موجود ہیں. یہ اس پر بات کرتے ہیں، تنقید بھی کرتے ہیں مگر ہماری طرح واویلا نہیں کرتے رہتے. اس کے برعکس وہ چھوٹی سے چھوٹی مثبت بات کو بھی کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا کرتے ہیں. وگرنہ ان کے سیاستدان بھی ڈیوڈ کیمرون  سمیت اربوں کی کرپشن میں ملوث ہیں، ان کے پادری بھی بچوں سے زیادتی کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں، ان کے ہاں بھی روزانہ عورتوں کو ریپ کیا جاتا ہے، ان کے اسکولوں میں مہلک نشہ آور ڈرگز باآسانی ملتی ہیں، ان کے جرنلسٹ بھی اکثر پیسہ کھا کر تعریف و تنقید کرتے ہیں، ان کے فوجی بھی طرح طرح کی گندگیاں اور قانون شکنیاں کرتے ہیں، ان کے فٹبال مداحوں پر دیگر ممالک میں 'ہولی گین' یعنی فسادی قرار دے کر پابندی لگا دی جاتی ہے، ان کے ہاں بھی بہت سے کالج یونیورسٹیز جعلی ڈگریاں بنادیتی ہیں، ان کے ہاں بھی دنیا بھر سے 'ہیومن ٹریفکنگ' کے ذریعے جنسی دھندھے کروائے جاتے ہیں...... کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شدت میں کمی ہوسکتی ہے مگر ہر طرح کے خطرناک جرائم اور مسائل یہاں بھی موجود ہیں. یہ ان پر بات ضرور کرتے ہیں مگر اس کا تناسب مثبت باتوں کے ذکر کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے. یہ جانتے ہیں کہ منفی باتوں کا پرچار مزید منفیت کو ہی جنم دے سکتا ہے. مگر چلیں یہ تو پھر دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں سے ہے. آپ پڑوسی ملک بھارت کو دیکھ لیں. کون سا جرم اور مسلہ  ان کے یہاں آپ جیسا یا آپ سے زیادہ نہیں ہے؟ کرپشن ان کے اندر ہے، رشوت ان کے ہاں ہے، دنیا بھر میں سب سے زیادہ عورتوں کو جنسی تشدد کا نشانہ اسی ملک میں بنایا جاتا ہے مگر یہ اس کے باوجود پاکستان کے مقابلے میں مثبت باتوں کا ذکر کہیں زیادہ کرتے ہیں. اپنی پولیس کی حوصلہ افزائی کے لئے ڈرامے، فلمیں بناتے ہیں. ہندو مسلم فسادات کی بدترین مثالیں رکھنے کے باوجود، سکھوں کے بد ترین قتل عام کے باوجود یہ خود کو دنیا بھر میں برداشت کا نمونہ بنا کرپیش کرنے میں کامیاب ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ان کے مسائل ہم سے چھوٹے ہیں یا ان کے ادارے، فوج، پولیس یا سیاستدان کرپشن میں ملوث نہیں. مگر وہ جہاں ان پر کڑی تنقید کرتے ہیں وہاں زور و شور سے ان کے مثبت پہلو بھی اجاگر کرتے ہیں. ہمیں اسی تنقید و تعریف کے توازن کو سمجھنا ہوگا. مسائل کا رونا اور اخلاص کا ڈھونگ کرنے کی بجائے مجھے اور آپ کو آگے بڑھ کر اپنا اپنا مثبت کردار نبھانا ہے. یاد رکھیں 
.
موج بڑھے یا آندھی آئے، دیا جلائے رکھنا ہے 
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں، گھر تو آخر اپنا ہے
.
====عظیم نامہ====

Sunday, 15 May 2016

عبادت کا مفہوم


عبادت کا مفہوم 


عبادت لفظ عبد سے نکلا ہے اور عبد کے معنی غلام کے ہیں. اس اعتبار سے عبادت دراصل غلامی کے لغوی معنی خود میں سموئے ہوئے ہے. ضروری ہے کہ پہلے معلوم ہو کہ غلام ہوتا کون ہے؟ جان لیجیئے کہ لفظ غلام اور ملازم یکساں نہیں ہیں. ملازم کسی خاص ملازمت کے لئے مقرر ہوتا ہے، جبکہ غلام ہمہ وقت اپنے مالک کے سامنے ہر قسم کی مشقت اٹھانے کو حاضر ہوتا ہے. جہاں دور حاضر میں مغرب 'آزادی' کو اپنے لئے اثاث کا درجہ دیتا ہے وہاں ایک مسلمان خود کو عبد اللہ یعنی اللہ کا 'غلام' کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے. کلمہ گو افراد میں یہ مغالطہ بھی موجود رہا ہے کہ ان کا ایک گروہ محض پرستش ہی کو عبادت سمجھ بیٹھا ہے جبکہ دوسرا گروہ فقط اطاعت کو عبادت کہہ کر پرستش کے مظاہر یعنی نماز، روزے کا منکر بن جاتا ہے. یہ دونوں انتہائی رویئے ہیں اور دونوں ہی حقیقت کے منافی ہیں. عبادت درحقیقت پرستش اور اطاعت کا مجموعہ ہے. یہ دونوں کے بیک وقت اہتمام کا نام ہے. جہاں ارکان اسلام میں عبادت کا پرستش اور شکر کی صورت میں اظہار ہوتا ہے. وہاں چوبیس گھنٹے کی بقیہ زندگی میں احکام الہی کا عملی مظاہرہ بھی عبادت ہی کا ظہور ہے. عبادت کا ہر وہ تصور ناقص ہے جو ان دونوں لازمی پہلوؤں میں سے کسی بھی ایک کی نفی کرتا ہو. یہ عبادت اور عبد بن کر رہنا ہی انسان و جن کی تخلیق کا مقصد بتایا گیا ہے. چانچہ قران حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اور ہم نے جن اور انسان کو نہیں پیدا کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔“( سورہ حشر آیت ۱۹)
.
یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر جن و انس کی تخلیق کا مقصد فقط عبادت ہی تھا تو اسکے لئے ملائکہ پہلے ہی موجود تھے جو پوری طرح فرمانبردار ہیں. پھر کیا ضرورت تھی کہ اس کارخانہ قدرت میں انسانوں یا جنات کو بھیجا جائے؟ جان لیجیئے کہ ہماری تخلیق اس مادی دنیا کیلئے کی ہی نہیں گئی بلکہ اللہ عزوجل نے ہمیں ایک ابدی دنیا کیلئے پیدا کیا ہے جو جنت و جہنم میں تقسیم ہوگی اور جہاں ان دونوں مقامات میں داخلہ میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا. اس میرٹ کا حصول اسی دنیا میں اپنائے گئے رویئے کی بنیاد پر ہوگا. اسی نسبت سے اسے دارالامتحان بھی پکارا جاتا ہے. یہ دنیا حد سے حد ایک گزرگاہ ہے، ایک عارضی پڑاؤ ہے، ایک امتحان گاہ ہے جہاں ہمیں ابدی دنیا کیلئے اپنی اپنی اہلیت ثابت کرنی ہے. صرف ملائکہ، جنات اور انسان ہی نہیں بلکہ تمام جمادات، نباتات، حیوانات، حشرات اور ہر ہر مخلوقات کی تخلیق کا مقصد عبادت ہی ہے. ہر چیز اپنی زبان سے اور اپنی زبان حال سے الله کی تسبیح و عبادت ہی میں مشغول ہے. سورج، چند، ستارے، درخت، پہاڑ سب ایک نظام میں جکڑے اسی عبادت کا شب و روز اظہار کررہے ہیں. آیت مبارکہ میں صرف انسان اور جنات کا ذکر شائد اسی وجہ سے کیا گیا کہ یہی دو مخلوقات ایسی ہیں جنہیں رب العزت نے ارادہ و اختیار کی آزادی دے رکھی ہے کہ وہ اس محدود مدت زندگی میں اپنی مرضی سے الله کی عبادت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرسکیں. دوسرا اہم پیغام اس میں یہ ہے کہ ہم جان لیں کہ ہماری اصل 'عبد' بن کر رہنا ہے. اگر کوئی بکری یہ کہے کہ میں بکری نہیں گھوڑا ہوں یا کوئی پلیٹ یہ سمجھے کہ میں پلیٹ نہیں چمچہ ہوں تو صرف ان کے کہنے یا سمجھنے سے ان کی حقیقت نہیں بدلے گی. بکری پھر بھی بکری ہی رہے گی اور پلیٹ بہرحال پلیٹ ہی رہے گی. عقلمندی سراب یا دھوکے میں جینا نہیں بلکہ اپنی حقیقت کو تسلیم کرلینے کا نام ہے. کسی بھی تخلیق کی حقیقت و مقصد اس کا بنانے والا ہی سب سے بہتر بتاسکتا ہے. اسی لئے مختلف تخلیق کار مینوفیکچرنگ کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کا مقصد، حقیقت اور استمعال کو تفصیل سے بیان کرتی ہیں. الله رب العزت نے انسان کو تخلیق کیا ہے اور انہوں نے صاف الفاظ میں یہ بتادیا ہے کہ انسان کی حقیقت عبدیت ہے. اسے الله کا عبد بنایا گیا ہے اور اسی رعایت سے اس کا مقصد عبادت یعنی رب کی پرستش و اطاعت کرنا ہے. اگر آج کوئی احمق اپنے عبدالله ہونے کا منکر ہوتا ہے تو لامحالہ انسانی فطرت سے مجبور ہوکر وہ عبادت کے دوسرے بت تراش لے گا. اب چاہے وہ شخصیت پرستی ہو، فرقہ پرستی ہو یا پھر وطن پرستی کا بت ہو. اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے کچھ یوں بیان کیا تھا. 
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
.
عبادت کا ایک اور وسیع تر مفہوم جو راقم سمجھ پایا ہے وہ یہ ہے کہ الله رب العزت نے انسان میں اپنی بہت سی صفات کا محدود عکس انسان میں بھی رکھ رکھا ہے جسے احکام الہی کی روشنی میں نمو دینا بھی عین عبادت ہے. یعنی اللہ العلیم ہیں لیکن تھوڑا سا علم ہم انسانوں کو بھی دیا گیا ہے، الله الحکیم ہے مگر انسانوں میں بھی حکمت کا داعیہ موجود ہے، الله الرحمٰن ہیں مگر رحم کا مادہ انسانوں میں بھی ودیعت کیا گیا ہے. ان صفات میں سے ہر صفت کو قران پاک کی روشنی میں تہذیب کے مراحل سے گزرنا اس خاص صفت الہی میں عبد بن جانے کے مترادف ہے. مثال کے طور پر الرحمٰن کی صفت میں عبد بننے کیلئے جو رویہ اختیار کرنا ہوگا اسکا نقشہ سورہ الفرقان میں کچھ یوں پیش کیا گیا ہے
.
"رحمٰن کے بندے(عِبَادُ الرَّحْمٰنِ) وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے مُنہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ جو اپنے ربّ کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ جو دُعائیں کرتے ہیں کہ”اے ہمارے ربّ، جہنّم کے عذاب سے ہم کو بچا لے ، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے، وہ تو بڑا ہی بُرا مستقر اور مقام ہے۔ “ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضُول خرچی کرتے ہیں نہ بُخل، بلکہ اُن کا خرچ دونوں انتہاوٴں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔ جو اللہ کے سوا کسی اور معبُود کو نہیں پُکارتے ، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔"  
.
====عظیم نامہ====

Friday, 13 May 2016

کون بہتر ؟


کون بہتر ؟


سوال:
ایک انسان وە ہے جو کچھ نہیں سمجھتا اور ایک وە ہے جو غلط سمجھتا ہے. 
آپ کی نظر میں کون بہتر ہے؟

جواب:
سوال میں ابہام ہے یا یوں کہیئے کہ اس کا اجمال اسے مبہم بنا رہا ہے. جو کچھ نہیں سمجھتا ، اگر اس کا کچھ نہ سمجھنا دماغی عدم توازن، طبعی کمزوری، جبر یا کسی اور شدید حالات کی بناء پر ہے تو وہ معذور شمار ہوگا اور شریعت میں مکلف ہی نہیں لہٰذا اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں تو پھر تقابل بھی نہیں 
.
اگر اس کا کچھ نہ سمجھنا اپنی غفلت، ڈھٹائی اور لاپرواہی کی وجہ سے ہے تو اس سے پورا حساب لیا جائے گا کہ تمھیں فلاں فلاں صلاحیت، قابلیت، طاقت اور موقع حاصل تھا تم نے اسے کیوں ضائع کیا؟ اس صورت میں وہ یقینی طور پر دوسرے شخص سے بدتر ہے جو بعد از تحقیق کوئی نتیجہ قائم کرتا ہے اور وہ غلط نکلتا ہے. 
.
یہ بھی دھیان رہے کہ اگر اخلاص سے تحقیق کی اور نتیجہ غلط نکلا تو بہت امکان ہے کہ اسے اس کے اخلاص کا اجر دیا جائے. جیسے حدیث ہے کہ مجتہد اگر درست اجتہاد کرتا ہے تو دو ثواب ہیں اور اگر غلط اجتہاد کرجائے تب بھی ایک ثواب ہے. راقم کی دانست میں یہی مجتہد والا اصول ہر مخلص محقق پر منطبق ہوسکتا ہے اگر اپنی قابلیت اور حدود سے تجاوز نہ کرے. البتہ اگر یہ غلط نتیجہ اندھی تقلید کی بنیاد پر ہے تو اس شخص کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس کیلئے یہ تقلید جائز بھی تھی یا نہیں؟ اگر کے اس شخص کے پاس تحقیقی قابلیت اور ذرائع موجود تھے، سامنے اشکالات بھی تھے اور اس نے محض لاپرواہی کی بنیاد پرتحقیق نہ کی تو پکڑا جائے گا اور اس کا حال بھی ٹھیک ویسا ہی یا شائد اس سے بدتر ہوگا جیسا پہلے شخص کا مواقع و صلاحیت کے باوجود جاہل رہنے کی وجہ سے ہوا تھا.
.
والله اعلم باالصواب

Wednesday, 11 May 2016

بہترین استاد


بہترین استاد


بہترین استاد وہ نہیں جو محض آپ کے سوالات کے شافی جوابات دینے پر قادر ہو بلکہ بہترین استاد تو وہ ہے جو مرشد بن کر آپ کے پوشیدہ روحانی امراض کا معالج بھی بن جائے. جو جہاں آپ کی عقل کو دلائل سے سیراب کرسکے وہاں آپ کے قلب کی تشنگی بھی دور کردے. وہ آپ کی شخصیت میں اتر کر تکبر، حسد، شہوات اور دیگر بیماریوں کی آپ کے سامنے تشخیص بھی کرے اور پھر تربیت سے اس کا شافی علاج بھی فراہم کردے. رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات اور طریق تربیت پر نظر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ اکثر سائل کے سوال کا جواب اسکی داخلی حالت و کیفیت کے حساب سے دیا کرتے. یعنی جب نصیحت کرتے تو کسی صحابی کو غصہ پر قابو پانے کی تلقین ہوتی، کسی کو مال خرچ کرنے کی ترغیب ہوتی، کسی کو والدین سے حسن سلوک کی ہدایت کرتے، کسی کو سلام میں پہل کرنے کی تعلیم دیتے تو کسی کو جہاد و قتال پر ابھارتے. الغرض یہ کہ مخاطب جس پہلو سے روحانی کمزوری کا شکار ہوتا ، اسے موضوع بناکر اس پر نصیحت کا مرہم رکھ دیتے. افسوس کہ آج یہ تصور قریب قریب گم ہوکر رہ گیا ہے. اکثر جو روحانی تذکیر کی بات کرتے ہیں وہ جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب نہیں دے پاتے اور جو پرتشفی جوابات دینے پر قادر ہوں وہ روحانی تربیت کے رموز سے خالی نظر آتے ہیں. اگر آج الله پاک نے آپ کو استاد کی مسند پر بیٹھا رکھا ہے تو لازمی ہے کہ آپ اپنے مخاطبین کی اصلاح دونوں پہلوؤں سے کرنا سیکھیں. اگر کسی ایک پہلو میں بھی ٹھیک توجہ نہ دی گئی تو تربیت ادھوری ہی قرار پائے گی. شاگرد کو بھی چاہیئے کہ وہ کسی ایسے استاد کو کھوجنے کی کوشش کرے جو بیک وقت اس کی منطقی الجھنیں بھی سلجھا سکے اور اس کے باطنی وجود کو بھی پاکیزہ کردے. گو ایسے استاد ملنا بہت مشکل ہیں. اگر ایسے استاد کو کوشش کے باوجود نہ ڈھونڈھ پائے تو پھر یہ کوشش کرے کہ دو مختلف استادوں سے اپنے ان دونوں پہلوؤں کو مستحکم کرنے کا اہتمام کرے. 

.
====عظیم نامہ====