Wednesday, 11 May 2016

ایک بےحس کی دعا


ایک بےحس کی دعا





"آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے" (القران ٤:٧٥) 
.
یا اللہ ہم بے غیرتوں کو غیرت دے دے. یا اللہ ہم بے شرموں کو شرم دے دے. یا الله ہم بے حسوں کو احساس دے دے. یا اللہ ہمارے حکمران فاسق و فاجر ہوگئے. یا الله ہمارے علماء فرقہ پرست ہوگئے. یا الله ہم بھی وہ امت نہ رہے جو ایک دوسرے کا درد محسوس کرسکے. یا الله ہماری شامت اعمال ہم پر کم ہمتی کی صورت مسلط ہو گئی.

اے رب ہمیں اپنی اصلاح کی توفیق دے. اے مالک ہمیں یہ ہمت دے کہ ہم تیرے دین کے نام پر جمع ہوسکیں. اے رب ہمیں وہ خلافت منہاج النبوہ عطا کر کہ جس کی بشارت آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہے. اے رحمٰن ملک شام کے مسلمانوں کی حفاظت فرما. اے قہاران ظالموں پر اپنا قہر نازل کر جو آج چاروں اطراف مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں. اے منتقم ہمیں ان ظالم حکمرانوں سے نجات عطا کر جو باطل کے دست و بازو ہیں ..... آمین

نیت ثابت تو منزل آسان


نیت ثابت تو منزل آسان 



انہوں نے کہا : امیر کے بچے کو اس کی عیاشیاں دین پہ چلنے نہیں دیتے، اور غریب کے بچے کو اس کی غربت۔۔۔۔۔۔۔۔!
. 
ہم نے عرض کی: آپ ہی کی بات کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جو دین پر چلنے میں مخلص ہوں ان کے راستے نہ امیری روکتی ہے نہ غریبی حائل ہوتی ہے
. 
نیت ثابت تو منزل آسان 
نیت جھوٹی تو بہانے ہزار !

====عظیم نامہ====

چوری شدہ مرغی


چوری شدہ مرغی



سوال:
عظیم بھائی کیا چوری شدہ مرغی کو ذبح کرتے وقت تکبیر پڑھنا ضروری ہے؟
.
جواب: 
گو آپ کے اس عالی مرتبت سوال کا فوری شرعی جواب تو مجھ کند ذہن کے پاس نہیں ہے مگر راقم کی ناقص رائے میں تکبیر پڑھنا پھر بھی ضروری ہے. تکبیر پڑھ کر ذبح کرنے سے چوری کی ہوئی مرغی آپ کے کھانے کیلئے حلال تو نہ ہوگی مگر اس سے آپ ایک اور اضافی گناہ سے محفوظ ہوجائیں گے. آسان الفاظ میں مرغی چوری کرنا ایک گناہ تھا اور اسے ذبح کئے بناء کھانا گناہ پر گناہ. چوری کرکے کھانا ایک الہامی حکم کی خلاف ورزی تھی اور ذبیحہ کے بناء کسی جانور کو تناول کرنا دوسری الہامی حد کی پامالی تھی. یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے دو چور کسی کا مال چوری کریں، ان میں سے ایک چور اس مال سے حلال مرغی کھائے اور دوسرا خنزیر کا گوشت خرید کر کھانے لگے. ظاہر ہے ایسے میں دوسرا چور قبیح تر جرم کا مرتکب قرار پائے گا.
.
نوٹ: یہ ایک کم علم طالبعلم کی 'ناقص' رائے ہے. حکم شرعی کیلئے کسی فقہ کے ماہر سے رجوع کیجیئے

====عظیم نامہ====

شب معراج


شب معراج



شب معراج میں واقعہ معراج کے ساتھ ساتھ اس جملے پر بھی ذرا غور کیجیئے جسے بطور حدیث کئی اہل علم بیان کرتے آئے ہیں اور جسے کم از کم متن کے اعتبار سے کم و بیش سب تسلیم کرتے ہیں۔ گو اس کے الفاظ کی کوئی حتمی سند زخیرہ احادیث میں ہمیں میسر نہیں۔ 
۔
الفاظ کچھ یوں ہیں کہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : الصَّلٰوةُ هِيَ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِ. ’’نماز ہی مومن کی معراج ہے۔‘‘
( سيوطی، شرح سنن ابن ماجه، 1 : 313، رقم : 4239)
.
غور کیجیئے کہ اگر واقعہ معراج رب کے سامنے حضوری، کشف المحجوب اور قرب الہی کا بیان ہے تو پھر نماز کو پیر کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج سے تشبیہہ کیوں دی؟ ایسا کیا کریں جو ہماری نماز فی الواقع معراج کی تعریف پر کسی حد تک پوری اتر سکے.

====عظیم نامہ====

حیوانی وجود اور روحانی وجود


حیوانی وجود اور روحانی وجود



جان لیجیئے کہ آپ کی شخصیت دو حقیقتوں کے مرکب سے وجود میں آتی ہے. پہلا آپ کا حیوانی یا جسمانی وجود اور دوسرا آپ کا نورانی یا روحانی وجود. جس طرح اس جسم کی آنکھیں ہیں جس سے آپ دیکھتے ہیں، کان ہیں جس سے آپ سنتے ہیں، ذہن ہے جس سے آپ سوچتے سمجھتے ہیں. ٹھیک اسی طرح آپ کے روحانی وجود کی بھی آنکھیں ہیں جو مشاہدہ کرتی ہیں، کان ہیں جو خبر پاتے ہیں، ذہن ہے جس سے آپ غور و فکر کرتے ہیں. جس طرح آپ کے جسمانی وجود کی خوراک مختلف اجناس کی صورت میں موجود ہیں. اسی طرح آپ کے روحانی وجود کی خوراک ذکر اللہ اور تفکر و تدبر کی صورت موجود ہیں. 
.
====عظیم نامہ====

راستہ اور منزل


راستہ اور منزل

No automatic alt text available.
سوچیئے کہ آپ کو ایک میراتھن ریس یعنی انسانی دوڑ میں حصہ لینے کا موقع ملتا ہے. ایک بہت بڑے انعام کا اعلان کیا جاتا ہے کہ جو جو بھی دوڑ مکمل کرے گا، دی گئی ہدایات پر عمل کرے گا اور راستے میں موجود مختلف مقامات پر نصب جھنڈوں کو اکٹھا کرکے آخری منزل پر پہنچے گا اسے یہ بیش قیمت انعام حاصل ہوجائے گا. 

.
دوڑ کیلئے بچھائے گئے ٹریک کو دونوں اطراف میں خوبصورت پھولوں سے سجا دیا جاتا ہے، دیکھنے میں آسانی کیلئے بہترین برقی قمقموں کا بندوبست ہوتا ہے، دوڑنے کیلئے انتہائی آرام دہ جوتے آپ کو دے دیئے جاتے ہیں. اس کے علاوہ بھی طرح طرح کی آسانیاں اور ہدایات اس راستے میں نصب کی جاتی ہیں. دوڑ کا آغاز ہوتا ہے تو کچھ افراد تو نہایت تیزی و پھرتی سے اپنی منزل کی جانب دوڑ لگادیتے ہیں. یہ عقلمند لوگ راستے میں موجود سہولیات سے حتی المکان استفادہ کرتے ہیں اور انتظامیہ کے اس بہترین انتظام پر دل سے شکر گزار ہوتے ہیں. اس سب کے دوران ان کی نظر اپنے ہدف سے نہیں ہٹتی اور ایک لمحے کو بھی وہ اپنی منزل سے غافل نہیں ہوتے. اس کے برعکس کچھ اور لوگ اس دوڑ میں نہایت احمق ثابت ہوتے ہیں. وہ راستے میں موجود سہولیات کی چمک دمک دیکھ کر اپنی رفتار کم کر دیتے ہیں یا رک کر ان ہی میں کھو جاتے ہیں. کوئی برقی قمقموں کی ساخت پر غور کرنے لگتا ہے. کوئی موجود ہدایات کی حکمت کو بیان کرنے لگتا ہے. کوئی جھمگھٹا لگا کر انتظامات کی تعریف میں مشغول ہوجاتا ہے اور کوئی دوسرے افراد کو اس دوڑ کے جسمانی فوائد گنوانے لگتا ہے. اس صریح حماقت کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ پہلے گروہ کے علاوہ باقی سب افراد منزل پر پہنچنے اور کامیابی کو حاصل کرنے سے محروم رہیں گے. واحد وجہ ناکامی کی یہی ہے کہ انہوں نے منزل کو فراموش کرکے راستے کو ہی اصل سمجھ لیا. 
.
اس دنیا میں ہم مسلمانوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے. ہم میں سے کسی نے نماز روزے کو اصل سمجھ لیا تو کسی نے ذکر کی محفلیں سجانے کو اصل بنا لیا. کسی نے قیام خلافت کو اصل سمجھا تو کسی نے تبلیغ دین کو اصل گردانا. کوئی فن تفسیر کا شیدائی ہوگیا تو کوئی اصول الفقہ سے محبت کربیٹھا. کوئی فن حدیث میں غرق ہوگیا تو کوئی مسائل تصوف کو اپنا دل دے بیٹھا. حقیقت میں ان تمام عبادات و علوم کی حیثیت صرف 'ذریعے' اور 'راستے' کی تھی. 'منزل' تو اپنے رب کی خوشنودی اور اسکے لئے پاکیزہ قلب کا حصول تھا. سوچیئے کہ اگر ان ریاضتوں میں کھوکر اصل منزل سے نظر ہٹ گئی تو یہ کتنی ہولناک ناکامی ہے؟ اگر میری نماز، میرے ذکر، میرے علم، میرے عمل نے میری تہذیب نفس نہ کی اور مجھے خدا سے قلبی تعلق نہ دیا ، اسکی معرفت نہ دی تو پھر میری مثال بھی اسی شخص کی ہوگی جو دوڑ میں منزل بھلا کر رستے کی چمک دھمک میں کھوگیا. 
.
====عظیم نامہ=====

اصل حکم اور اضافی ثواب


اصل حکم اور اضافی ثواب



ایک استاد نے اپنے دو شاگردوں کو حکم دیا کہ وہ ایک ایک پیالہ پانی کا باہر رکھے مٹکے سے بھر کر لائیں. ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی دے دی کہ اس کام میں جو جو قدم تم بڑھاؤ گے تو ہر قدم پر تمہیں اضافی نمبرز سے نوازا جائے گا جو سال کے آخر میں تمہارے مجموعی نتیجے کا حصہ بن جائیں گے. اب یہ غیر معمولی خوشخبری پاکر پہلا شاگرد مٹکے کی جانب خوشی خوشی گیا، پانی پیالے میں بھرا اور اسے سنبھال کر واپس استاد کے پاس لے آیا. نتیجہ یہ کہ استاد نے اسے شاباشی بھی دی اور وعدے کے مطابق اسے ہر قدم پر اضافی نمبرز سے بھی نوازا. دوسرے شاگرد نے چالاکی دیکھانا چاہی اور بجائے اس کے کہ پانی لے کر استاد کے پاس آتا، وہ مٹکے کے ارد گرد چکر لگانے لگا. سارا وقت وہ یہ سوچ کر یہاں وہاں گھومتا رہا کہ میرے ہر ہر قدم پر استاد مجھے اضافی نمبرز دیں گے اور یوں میں کامیاب ہوجاؤں گا. اب بتایئے اس دوسرے شاگرد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہوگی؟ ظاہر ہے کہ ہر صاحب شعور ایسا منظر دیکھ کر اپنا سر پیٹ لے گا اور اس احمق کو سمجھائے گا کہ ہر قدم پر اضافی نمبرز تمھیں اسی صورت مل سکتے تھے جب تم استاد کا اصل حکم بھی پورا کرتے یعنی مٹکے سے پیالے میں پانی بھر کر واپس استاد کو لاکر دیتے. تم نے اصل مقصد فراموش کردیا اور ضمنی منسلک فضیلت کو اصل سمجھ لیا. لہٰذا تمہارا وقت بھی ضائع ہوا، استاد بھی ناراض ہوئے، تم خود بھی ہلکان ہوئے اور اضافی نمبرز بھی ہاتھ سے گئے. 
.
قران مجید کا اصل مقصد انسان کی ہدایت کا حصول ہے. زندگی فرد اور معاشرے کی سطح پر کیسے گزارنی ہے؟ یہ قران حکیم کا پیغام ہے. یہ دنیا آخرت کی کھیتی کیسے بنے گی؟ قران پاک اس کی تعلیم دیتا ہے. یہ ہدایت اور یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک اس کلام کو سمجھ کر نہ پڑھا جائے. اس پر گہرا تدبر و تفکر نہ ہو. اس کو عمل میں ڈھالنے کی کوشش و سعی نہ ہو. افسوس کے وہ کتاب جس نے زندگی میں انقلاب لانا تھا ، آج مسلمان نے اس کتاب کی بناء سمجھے تلاوت کرکے ثواب کمانے کو اس کا اصل سمجھ لیا. سمجھ کر پڑھنے کی ترغیب دو تو جواب میں کہتے ہیں کہ حدیث پاک میں کہا گیا کہ قران مجید کے ہر ہر حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں ہیں. لہٰذا ہم اسے بناء سمجھے بس تلاوت کرتے رہیں گے. افسوس کیسا عجیب استدلال ہے؟ ان کی حالت میں اور اس دوسرے شاگرد کی حالت میں کوئی فرق ہے کیا ؟ جو پانی لانے کے اصل حکم کو بھول کر ہر قدم پر اضافی نمبرز کی فضیلت کو اصل بنا بیٹھا تھا. یہ تو شائد سمجھا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص قران مجید کو سمجھنے کی کوشش کرے مگر دوسری زبان میں ہونے کی وجہ سے ایک زمانے تک وہ صحیح سے سمجھ نہ سکے اور اس دوران بناء سمجھے بھی محبت سے تلاوت کرتا رہے تو رب پاک اس کی اخلاص نیت پر اسے ہر ہر حرف پر دس نیکیاں دیں. مگر وہ شخص جو جانتے بوجھتے، عقل و صلاحیت رکھنے کے باوجود قران کو کبھی سمجھ کر پڑھنے کی کوشش ہی نہ کرے تو اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی؟ کسی متکلم کی اس سے زیادہ ناراضگی اور کس بات پر ہوگی کہ سامع یا قاری اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش تک نہ کرے ؟
.
====عظیم نامہ====