Monday, 15 February 2016

بانو قدسیہ


بانو قدسیہ



ایک دانشور نے محفل میں بانو قدسیہ صاحبہ سے اپنا احساس ظاہر کرتے ہوئے کچھ یوں سوال کیا کہ 
.
' عام طور پر جب میاں بیوی ایک زمانے تک ساتھ رہتے رہیں تو شوہر کی اپنی شخصیت بیوی سے متاثر ہو کر مٹنے لگتی ہے مگر آپ کے کیس میں اس کے بلکل برعکس ہے. اشفاق احمد صاحب کی شخصیت نے تو کوئی خاص اثر قبول نہیں کیا مگر آپ کی اپنی شخصیت اور افکار ان کے زیر اثر نظر آنے لگے. اس کی کیا وجہ ہے ؟ .. کہیں اشفاق صاحب ہلاکو خان کی طرح جابر تو نہیں جو سب مٹا دیں؟ '
.
سامعین نے قہقہے بلند کئے. پھر بانو قدسیہ صاحبہ نے ٹہرے ہوئے لہجے میں کہا کہ 
.
نہیں اگر معاملہ ہلاکو جیسے جبر کا ہوتا تو کوئی مسلہ نہ تھا مگر وہ انسان جو پہلے ہی مٹا مٹا سا ہو ، اسے آپ مٹا نہیں سکتے
.
(ایک انٹرویو سے ماخوز مفہوم)

چارلی چیپلن


چارلی چیپلن



کہتے ہیں کہ بہت سالوں پہلے برطانیہ کے ایک معروف نفسیاتی امراض کے ڈاکٹر کے پاس ایک مریض آیا اور اس نے بہت دکھ سے پوچھا کہ مجھے کوئی حل بتائیں ، میں ذہنی طور پر بہت بے سکون رہتا ہوں. نفسیاتی ڈاکٹر نے کچھ دیر سوچا اور پھر مشورہ دیا کہ آپ سکون اور خوشی کیلئے مشہور مزاحیہ پروگرام چارلی چیپلن شو دیکھا کریں. 
.
مریض ایک لمحہ توقف کے بعد شدید تذبذب سے بولا ...... ' لیکن .... لیکن ... لیکن ڈاکٹر صاحب .... میں ہی تو چارلی چیپلن ہوں
. 
بہت سے دانشور اس واقعہ کو چارلی کی زندگی سے منسوب کرکے بیان کرتے ہیں. اس کی روایتی صداقت کس قدر ہے ؟ یہ میں نہیں جانتا مگر اس کی معنوی صداقت میں مجھے ذرا بھی ابہام نہیں. سکون کا حصول ہنسنے ہنسانے، محفل سجانے سے ممکن نہیں بلکہ یہ تو قلب و فکر کی یکجائی کا نام ہے.
.
====عظیم نامہ====

" نور" یا " نار"


" نور" یا " نار"



مومن کو یہ خوب سمجھ لینا چاہیئے کہ ہم سے سرزد ہوا ہر شعوری عمل یا تو " نور" بن جاتا ہے یا " نار" میں تبدیل ہوجاتا ہے. تیسری کوئی صورت نہیں. یہی وہ نور ہے جو قران مجید کے بقول مومنین کے آگے یا دائیں جانب دوڑتا ہوگا اور یہی وہ نار ہے جس میں سرکش داخل کئے جائیں گے. 
.
ایک فرضی حکایت ہے کہ کسی نیک آدمی نے بہت رو رو کر دعا کی کہ اسے جہنم کا مشاہدہ کروایا جائے تاکہ وہ پھر کبھی گناہ نہ کرے. اس نے خواب میں دیکھا کہ کچھ فرشتے اس کے پاس آئے اور اسے ساتھ ایک بڑے سے دروازے کے پاس لے گئے. اس شخص نے فرشتوں سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ جہنم کا دروازہ ہے. اسے کھولو اور اندر جاکر جہنم دیکھ لو. وہ شخص گھبرا کر پیچھے ہٹا اور بولا کہ نہیں نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا .. اندر جاکر تو میں جہنم کے شعلوں سے جل جاؤں گا. فرشتے نے تسلی دی اور کہا گھبراؤ نہیں ، تمھیں کچھ نہیں ہوگا. اس نے ہمت کر کر دروازہ کھولا اور اندر قدم رکھ دیا. کیا دیکھتا ہے کہ ایک لق و دق میدان ہے جہاں بہت زیادہ سردی ہے. 
.
وہ شخص نہایت حیرت اور سردی سے کانپتے ہوئے بولا کہ 'اگر یہ جہنم ہے تو اس کی آگ کہاں ہے ؟ ' .. 
فرشتے نے جواب دیا .. 'یہاں جو لوگ آتے ہیں وہ اپنی آگ اپنے ساتھ لاتے ہیں'
.
(دھیان رہے کہ یہ محض ایک اصلاحی حکایت ہے ، اس سے کوئی دینی حکم اخذ کرنا درست نہیں)
.
====عظیم نامہ====

Friday, 12 February 2016

آنسو کبھی ختم نہیں ہوتے


آنسو کبھی ختم نہیں ہوتے




آنسو کبھی ختم نہیں ہوتے۔ بس اپنی وجہ بدل لیتے ہیں۔ آنسووں کو معیوب نہ سمجھو، نہ ہی آنسو کو سکون کے منافی جانو۔ آنسو انسان کے حساس ہونے کی دلیل ہیں اور یہی حساسیت انسانیت کی شناخت ہے۔ آنسو سے ماوراء وجود یا تو مشین کہلاسکتا ہے یا پھر لاش۔

۔
====عظیم نامہ=====

Thursday, 11 February 2016

کیا آپ واقعی نیک ہیں؟


کیا آپ واقعی نیک ہیں؟



اگر واقعی نیک ہو تو اپنی نیکیوں کو ایسے چھپاؤ جیسے اپنے گناہ چھپاتے ہو. اگر ترغیب دینا ناگزیر نہ ہو تو مقبول ترین نیکی وہی ہے کہ جس کی واحد گواہ رب کی ذات ہو
.
====عظیم نامہ====

لاحاصل گفتگو


لاحاصل گفتگو 



مکالمہ کا اسلوب شائستہ اور الفاظ کا انتخاب مہذب نہ ہو تو بات اکثر مثبت نتیجہ سے محروم رہتی ہے۔ عقلمند کیلئے لازم ہے کہ وہ علمی مکالمہ کو کج بحثی میں تبدیل نہ ہونے دے اور اگر پھر بھی ایسی نوبت آجائے تو احسن طریق سے کنارہ کشی اختیار کرے۔ یاد رکھیئے ، بحث و جدال کی کثرت متکلم اور مخاطب دونوں کی ارواح کو تعفن زدہ بنادیتی ہے۔ 
۔
====عظیم نامہ====

توازن


توازن 



برداشت اچھی صفت ہے ۔ اگر وہ بےغیرتی نہ بن جائے
۔
صلح پسندی بہترین طریق ہے ۔ اگر وہ بزدلی میں تبدیل نہ ہو
۔
مصلحت سے کام لینا احسن ہے ۔ اگر وہ حق پوشی کا قالب اختیار نہ کرے


====عظیم نامہ====