Tuesday, 9 February 2016

میرے دوست


 میرے دوست 


.

لوگ کبھی طنز اورکبھی تاسف سے اکثر ایسے جملے کہا کرتے ہیں کہ .. 'اس دنیا میں کوئی ایک سچا مسلمان یا مومن دکھا دو ؟ ہماری تو ساری زندگی ہمیں ایسا کوئی نہ مل سکا' .. معلوم نہیں کہ وہ یہ بات کسی فیشن کے تحت کہتے ہیں یا فی الواقع وہ ایسے بدنصیب ہیں کہ آج تک کسی ایسے انسان سے نہ مل سکے جو سچے مسلم و مومن کے معیار پر پورا اتر سکے؟ یا پھر ان کی بدگمانی انہیں کسی مسلم کی خوبیوں کو دیکھنے سے محروم رکھتی ہے ؟ ... الله و اعلم اصل ماجرا کیا ہے ؟ .. میں تو بذات خود پوری دیانتداری سے یہ احساس رکھتا ہوں کہ میرے حلقہ احباب میں ایک دو نہیں بلکہ درجنوں ایسے نفوس موجود ہیں جو ایمان و عمل کا پیکر ہیں ... ایسے لوگ کہ جنہوں نے اپنی زندگی کو حتی الامکان دین کے تابع کررکھا ہے .. جن سے مل کر ، جنہیں دیکھ کر، جن سے بات کرکے رب یاد آجاتا ہے .. ایسے مسلم کہ جن کی عبادات خوب ہیں اور معاملات خوب تر ہیں .. خامی اور کمی تو ہر بشر میں ہوتی ہے .. مگر میرے یہ دوست گناہ سے بچتے ہیں، گناہ ہو جائے تو اس پر اصرار نہیں کرتے ، الله کی بارگاہ میں آنسوؤں سے توبہ کرنا جانتے ہیں .. میرا گمان تو اپنے اس حلقہ احباب کی جانب اتنا مثبت ہے کہ دل میں خواہش رکھتا ہوں کہ روز آخرت ان ہی کے ساتھ بیدار ہوں .. جیسے اصلی دولت کے انبار میں بعض اوقات کھوٹا سکہ بھی چل جاتا ہے .. کیا معلوم کہ ان دوستوں کے ساتھ جانتے بوجھتے الله پاک میرا بھی بھرم رکھ لیں ؟ .. میرے رب کے لاتعداد احسانوں میں ایک نمایاں ترین احسان مجھ پر یہی ہے کہ مجھے اس دنیا میں ان پاکیزہ نفوس کا ساتھ حاصل ہے. 
.
ان دوستوں میں وہ بھی ہیں جو ہفتہ میں چھ روز ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ قران حکیم کا مل کر مطالعہ کرتے ہیں اور پھر اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں. وہ بھی ہیں جو مل کر ایک فلاحی ادارے کے ذریعے ناداروں کا علاج ، خوراک اور تعلیم کا بندوبست کرتے ہیں. وہ بھی ہیں جو کڑی سردی میں ملک شام، پاکستان اور دیگر ممالک کیلئے بناء کسی معاوضہ کے فوڈ کنٹینرز تیار کرتے ہیں. وہ بھی ہیں جو انگلینڈ میں گھروں سے محروم لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کپڑے پہناتے ہیں. وہ بھی ہیں جو دین کی ترویج کیلئے اصلاحی نشستوں کے اہتمام سے لے کرموبائل سافٹ ویئر تک ہر ممکنہ انداز اپناتے ہیں. وہ بھی ہیں جو فرد کے ساتھ ساتھ نظام کی اصلاح میں بھی جتے ہوئے ہیں. وہ بھی ہیں جو غریبوں کیلئے مفت ڈسپنسری چلا رہے ہیں. وہ نومسلم بھی ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجھ جیسے گنہگاروں کیلئے مثال بن گئے. وہ بھی ہیں جو رمضان کے مہینہ میں مغرب سے فجر تک مسجد میں ہی عبادات کرتے رہتے ہیں. وہ بھی ہیں جنہوں نے تفرقہ سے پاک مسجد قائم کی. وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنے شب و روز غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانے میں لگا رکھے ہیں. ایسے ہی ایک قریبی داعی دوست سے، جس کے ہاتھ پر لاتعداد لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں. میں نے دریافت کیا کہ بھائی مجھے لگتا ہے کہ تم چوبیس گھنٹے دعوت ہی دے رہے ہوتے ہو، سوتے کب ہو ؟ کماتے کیسے ہو ؟ بیوی بچوں کی ذمہ داری کیسے پوری کرتے ہو ؟ .. اس نے مسکرا کر مجھے سمجھایا کہ اگر نیت میں اخلاص ہو تو الله پاک وقت میں برکت پیدا فرمادیتے ہیں. اس نے بتایا کہ اس کے بیوی بچے اس سے مکمل طور پر خوش ہیں اور وہ ان کے ساتھ وقت گزارتا ہے. اس نے بتایا کہ وہ اس وقت چار مختلف کاروبار بھی سنبھالتا ہے جس میں اس نے بہت سے ملازم رکھ رکھے ہیں. میری حیرت دیکھ کر اس نے مجھے اپنے دن کا پورا روٹین سمجھایا مگر میری عقل آج بھی حیران ہے کہ کوئی انسان کیسے اپنا ایک ایک لمحہ بنا تھکے وقف کرسکتا ہے؟
.
میں ایسے سات آٹھ قریبی دوستوں کو جانتا ہوں جو انگلینڈ سے مختلف اسلامی ممالک صرف اسلئے ہجرت کرگئے کہ دین سے قریب ہو سکیں. دنیا پرستوں کے لئے یہ خیال بھی مضحکہ خیز ہے کہ کوئی انگلینڈ میں کامیاب جاب اور پرسکون زندگی ہونے کے باوجود کسی ترقی پذیر ملک کی تکلیف زدہ زندگی کیسے قبول کرسکتا ہے؟. کچھ روز قبل ایک قریبی دوست کا پریشانی میں فون آیا. کہنے لگا کہ عظیم میں نے اپنی کمپنی کیلئے دن رات جاگ کے بناء کسی معاوضہ کے ایک سافٹ ویئر بنایا تھا. اب وہ میری کمپنی کو پسند آیا تو وہ مجھے شریک کئے بناء اسے دوسرے اداروں کو فروخت کرنا چاہتے ہیں. میرے پاس موقع ہے کہ میں اپنا بنایا ہوا یہ سافٹ ویئرجس میں راتیں کالی کی ، قانونی طور پر خود بیچ دوں اور معاوضہ میں کروڑوں کما لوں. مجھے بتاؤ کہ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں ؟ میں نے پوچھا کہ کیا چیز تمھیں امیر ہونے سے روک رہی ہے ؟ .. کہنے لگا کہ یہ سافٹ ویئربناتے ہوئے میں نے کچھ آفس کا وقت بھی استعمال کیا تھا اور ان کا کمپیوٹر بھی زیر استعمال رہا تھا. میں نے جواب دینے سے عاجزی ظاہر کی اور کہا کہ تم اپنے آپ سے فتویٰ لو. کچھ دیر خاموش ہوا اور پھر اس سافٹ ویئر کو نہ بیچنے کا فیصلہ کرلیا. ذرا بتایئے کہ اسلام اور ایمان کے علاوہ وہ کون سی طاقت ہے جو کسی میں اتنی ہمت پیدا کردے کہ وہ گھر آئے کروڑوں روپوں کو لات مار سکے ؟ ایسے نامعلوم کتنے ہی سچے قصے میرے حافظہ کا حصہ ہیں جنہیں سوچ کر رشک بھی آتا ہے اور اپنی بے عملی پر کپکپی بھی طاری ہوتی ہے. لوگ ولی اللہ خانقاہوں میں ڈھونڈھتے ہیں ، جب کے وہ ہمارے اردگرد ہمارے پیاروں کے بیچ موجود ہوتے ہیں. بس دیکھنے والی نظر چاہیئے.
.
====عظیم نامہ====

Friday, 5 February 2016

انسان کی تخلیقاتی نفسیات کے پس پردہ محرکات






انسان کی تخلیقاتی نفسیات کے پس پردہ محرکات



انسانی شعورکی تاریخ اور فہم و فکر کو کسی خاص فارمولے میں لپیٹ کر پیش 
کردینا ممکن نہیں ہے. مگر جس طرح انسانی نفسیات کے دیگر خارجی حقائق تک ہم باطنی سفر کے ذریعے پہنچتے ہیں، جس طرح ہم کئی بار غیب سے حاضر کو پالیتے ہیں، نامعلوم سے نامعلوم کا استنباط کرلیتے ہیں اور مفروضہ سے حقیقت کو کھوج نکالتے ہیں ویسے ہی انسان کی اجتماعی نفسیات کا باریکی سے  جائزہ لینے پر ہمیں ایک مربوط فکری نظام اپنی خاص ترتیب کے ساتھ جلوہ گر نظر آتا ہے. جیسا پہلے عرض کیا کہ کوئی جامد فارمولا اس مد میں نہیں پیش کیا جاسکتا اور اختلاف کی گنجائش ذاتی مشاہدات کی بنیاد پر بہرحال موجود رہے گی. لیکن اس بشری فکر کا مختلف زاویوں سے جائزہ لینا شائد ہمارے شعوری ارتقاء میں معاون ثابت ہو. راقم کی نظر میں انسانی فکر کی کڑیاں اپنے باطن میں کچھ اس انداز سے مربوط و مرتب ہیں
.
نوٹ: درج ذیل نظام فکر کی اصطلاحات کو پہلے اجمال میں درج کیا گیا ہے اور پھر نیچے آسان مثال سے واضح کیا جائے گا  
.
مشاہدہ = خواہش کی تحریک ہے 

خواہش = خیال کی پیدائش ہے 

خیال = تخلیق کا آغاز ہے 

شعور = خیال کا ارتکاز ہے 

ارادہ = خیال کا استحکام ہے 

نیت = خیال کی تجدید ہے 

عمل = خیال کا اظہار ہے 

معلومات = نتائج کا ہجوم ہے 

تجربہ = عمل کا نتیجہ ہے 

علم = معلومات اور تجربہ کا مشترکہ ثمر ہے

اصول = علم و عمل کا حاصل ہے  

کامیابی = علم کا صحیح استمعال ہے 
.
اس مقام پر ممکن ہیں کہ بحیثیت قاری اپ کو تحریر میں ابہام محسوس ہو اور درج بالا بیان نظم سے عاری منتشر و متفرق باتوں کا جم غفیر نظر آئے. مگر احقر کی استدعا ہے کہ ایک بار پھر اطمینان سے ان نکات کا مطالعہ کیجیئے اور پھر نیچے دی گئی مثال سے اسے سمجھنے کی کوشش فرمایئے.
.
ہر تخلیق جو انسانی فکر کا نتیجہ بنی وہ کم و بیش ان ہی مراحل سے باترتیب گزری. اس سفر کی ایک جھلک دیکھیئے 
.
انسان نے ابتدا میں پرندوں کا 'مشاہدہ' کیا 
اس مشاہدے سے پرواز کی 'خواہش' پیدا ہوئی 
خواہش سے 'خیال' نے جنم لیا کہ کیوں نہ میں بھی فضا میں اڑنے کا طریق کھوج لوں ؟
خیال اب ' شعور' کے سامنے مفصل تجزیئے کیلئے پیش ہوا 
شعور کے ارتکاز نے خیال کو استحکام دیا اور اب اسے انجام دینے کا 'ارادہ' وجود میں آگیا 
وقت گزرنے پر خواہش شدت، خیال استقامت اور ارادہ قوی تر ہوتا گیا. 'نیت' کے زریعے تجدید نو ہوتی رہی 
.
اخلاص نیت کی بنیاد پر متعلقہ 'معلومات' کا ذخیرہ جمع ہونے لگا
دستیاب معلومات کی روشنی سابقہ علتوں کے ساتھ مل کر پہلے 'عمل' کا محرک بن گئی  
ابتدائی عملی اقدام یکے با دیگرے ناکام ہوتے رہے مگر ہر ناکامی 'تجربہ' کا روپ دھار کر سیکھ دیتی گئی 
.
یہ تجربہ نسل در نسل منتقل ہوا جو اسے ٹھوس تر بناتا گیا اور معلومات سے 'علم' کی پوشاک میں ملبوس ہوگیا
علم نے فطری قوانین اور سابقہ تجربات کو کسوٹی بناکرممکن ناممکن کو جانا پھر اسی کی ایماء پر 'اصول' وضع کئے 
 بلآخر حاصل کردہ اصولوں کے اطلاق کے ساتھ  مسلسل محنت و تجربات سے گزر کر اس نے پہلا ہوائی جہاز تخلیق کرلیا اور یوں 'کامیابی' سے ہمکنار ہوا  
.
یہ وہ روداد ہے جو معمولی ردوبدل کے ساتھ اکثرانسانی تخلیقات میں پنہاں ہے. کچھ استثنات کو چھوڑ کر تفکر و تخیل کے اس تکلیف دہ سفر میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے 
.
====عظیم نامہ====

حضور ﷺ کی حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی


حضور ﷺ کی  حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی


یہ تحریر میری نہیں بلکہ مولانا شبلی نعمانی کی تصنیف سیرت النبی ﷺ سے ماخوز ہے. جواب اتنا شافی اور درست ہے کہ اسے اپنے بلاگ میں شامل کرلیا



تاریخ طبری اور دوسری کچھ تاریخی کتابوں میں حضور ﷺ کی حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کے متعلق کچھ روایات آئی ہیں جن کو مستشرقین و ملحدین نے ایک لو سٹوری کی شکل میں پیش کیاجسکا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت زینب کی حضرت زید کے ساتھ شادی کے بعد حضور ﷺ کو زینب اچھی لگنے لگی گئی تھیں اور آپ اسکو چھپاتے تھے ، بالاخر حضرت زید نے زینب کو طلاق دے دیدی اور حضور ﷺ نے زینب سے شادی کرلی ۔ نعوذ بااللہ 
یہ روایات عیسائی مورخیں کا مایہ استناد ہے اور اب انکے شاگرد ملحدین انکے نگلے ہوئے نوالے چبا رہے ہیں۔ ان متعصبین کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ اصول فن کے لحاظ سے روایت کس پایہ کی ہے۔ اسکا راوی کون ہے، اسکے بارے میں اسم و رجال کی کتابوں میں کیا کیسی گوائیاں نقل کی گئی ہیں۔انکو بس اعتراض کا موقع چاہیے، کسی روایت سے کچھ بھی ثابت کردیں گے ۔

ان راویات کے اکثر راوی ضعیف ہیں اس لیے یہ قابل اعتبار نہیں ، پھر تاریخ سے ذیادہ مستند سورس قرآن اور حدیث میں حضور ﷺ ، حضرت زید اور زینب کے معاملے پر تفصیل موجود ہےاس لیے ان تاریخی روایات کو لینے اور ان پر مزید کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی ۔

حضور ﷺ اور زینب کا نکاح – اصل واقعہ قرآن و حدیث کی روشنی میں 

حضور ﷺ نے حضرت زید کو جو کہ آپ کے آزاد کردہ غلام تھے منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا ' جب وہ سن بلوغ کو پہنچے تو آپ نے انکی شادی اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب سے کرنا چاہی ۔ حضرت زید چونکہ غلام رہ چکے تھے اس لئے حضرت زینب کو یہ نسبت گوارا نہ تھی۔فتح الباری تفسیر سورۃ الاحزاب بحوالہ ابن ابی حاتم

لیکن بالاخر حضور ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں راضی ہوگئیں اور تقریبا ایک سال تک حضرت زید کے نکاح میں رہیں لیکن دونوں میں رنجش رہتی تھی یہاں تک کہ حضرت زید نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر شکایت کی اور انکو طلاق دینا چاہا۔فتح الباری تفسیر سورۃ الاحزاب بحوالہ روایت عبدالرزاق از معمر از قتادہ

حضرت زید نے حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ زینب مجھ سے زبان درازی کرتی ہے میں اسکو طلاق دینا چاہتا ہوں۔ لیکن حضور ﷺ بار بار انکو سمجھاتے کہ طلاق نہ دیں۔ جیسا کہ قرآن میں ہے
وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ۔(سورۃ الاحزاب آیت 37)
ترجمہ :اور جبکہ تم اس شخص سے جس پر اللہ نے اور تم احسان کیا تھا یہ کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو نکاح میں لئے رہو اور اللہ سے خوف کرو۔

لیکن پھر بھی نباہ نا ہوسکا اور آخر حضرت زید نے حضرت زینب کو طلاق دے دی۔ حضرت زینب حضور ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور آپ ہی تربیت میں پلی تھیں اور آپ ﷺ کے ہی فرمانے سے زینب نے اس رشتہ جس کو وہ اپنی شان کے خلاف سمجھتی تھیں' قبول کیا تھا۔ اب وہ عین جوانی میں طلاق یافتہ ہوگئیں تو آپ ﷺ نے انکی دلجوئی کے لیے خود ان سے نکاح کرنا چاہا' لیکن عرب میں اس وقت تک منہ بولا بیٹا اصلی بیٹے کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے عام لوگوں کے خیال سے آپ ﷺ تامل فرماتے رہے۔ حتی کہ آیت نازل ہوگئی۔
وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ۔ سورۃ الاحزاب آیت 37
ترجمہ : اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپاتے ہو جس کو اللہ ظاہر کردینے والا ہے اور تم لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ ڈرنا اللہ سے چاہیے۔

غرض آپ ﷺ نے اس آیت کے نزول کے بعد حضرت زینب سے نکاح کرلیا اور جاہلیت کی یہ قدیم رسم کہ متنبی اصلی بیٹے کا حکم رکھتا ہے ' کا خاتمہ ہوگیا۔

یہ اصل واقعہ تھا جس کو چھوڑ کر مستشرقین اور عیسائی مشنریوں نے تاریخی روایات کو لیا اور حضورﷺ کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ اس واقعہ کی تائید کئی صحیح احادیث سے ہوتی ہے اور ان آیات سے پہلے اور بعد میں آنے والی آیات بھی اسی پس منظر کی گواہی دیتی ہیں ۔جب یہ واقعہ ہوا تو منافقین نے کہنا شروع کیا کہ یہ رسول ایک طرف تو بیٹوں کی بیویوں سے نکاح حرام قرار دیتے ہیں اور دو سری طرف خود اپنی بہو سے نکاح کرتے ہیں، اس پر سورۂ احزاب کی آگے آیت نمبر ۴۰ نازل ہوئی، فرمایا گیا
 محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ؛بلکہ اللہ کے پیغمبر اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں ، اللہ ہر چیز سے واقف ہے  سورۂ احزاب ۴۰ 

اب تک زیدؓ عام طور پر زیدؓ بن محمد( ﷺ)کہلاتے تھے، سورۂ احزاب کی آیت نمبر ۵ میں یہ فرمایا:
  اے ایمان والو اپنے منہ بولے بیٹوں کو ان کے حقیقی باپوں کے نام سے پکارا کرو کہ اللہ کے نزدیک انصاف کی بات یہی ہے ، بس اگر تم ان کے باپوں کے نام نہ جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جوبات تم سے غلط ہوگئی ہو تو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں اور لیکن جو دل کے ارادے سے کرو ( اس سے بازپرس ہوگی ) اور اللہ بخشنے والا (اور) مہربان ہے 
( سورۂ احزاب :۵)

اس حکم کے بعد انہیں اپنے باپ کی نسبت سے زیدؓ بن حارثہ پکارا جانے لگا۔
( سیرت النبی شبلی نعمانی جلد اول )

Tuesday, 2 February 2016

ملحد اور تحقیق



ملحد اور تحقیق




ایک شخص کسی دستاویزی فلم پر نہایت سنجیدہ چہرہ کے ساتھ گھنٹوں کڑی تنقید کرتے ہوئے آپ کو سمجھاتا ہے کہ اس فلم کی ڈائریکشن بہت خراب ہے ، اسکی کہانی بھی دوسری دستاویز سے چرائی گئی ہے ، اس کا پیغام دلیل سے خالی ہے اور اس کے کردار بھی حقیقت سے کوسوں دور ہیں. آپ یہ لمبی تنقید پورے غور اور تحمل سے سنتے ہیں اور اپنی تشفی کیلئے دریافت کرتے ہیں کہ وہ آپ کو بتائے کہ اس نے کتنی بار اس دستاویز کا باریکی سے تجزیہ کیا ہے ؟ یہ سوال سن کر آپ کا مخاطب شان بے نیازی سے منہ بسورتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس نے زندگی میں کبھی اس دستاویزی فلم کو شروع سے آخر تک نہیں دیکھا ، نہ ہی کبھی اس پر غور و فکر کیا. البتہ چلتے پھرتے کچھ ٹوٹے پھوٹے کلپ ضرور دیکھ لئے یا کسی دوسرے کا اس پر تنقیدی یا تعریفی تبصرہ سن لیا

.
اب ذرا چشم تصور سے دیانتداری کے ساتھ مجھے بتایئے کہ کیا اس آدمی کی بیان کردہ لمبی تنقید کی آپ کی نظر میں کوئی علمی حیثیت باقی رہے گی ؟ یہ بھی فرمایئے کہ اس کی یہ آخری بھونڈی توجیہہ سن کر آپ کا ردعمل کیا ہوگا ؟ .. راقم کی دانست میں تو دو ہی امکانات ممکن ہیں. پہلا یہ کہ آپ شرافت سے اپنا سر پیٹ لیں اور دوسرا یہ کہ شجاعت سے اس عقلمند کو پیٹ ڈالیں جس نے بناء تحقیق خود بھی نتیجہ قائم کیا اور آپ کا وقت بھی ضائع کردیا 
.
یقین کیجیئے ، ملحدین کی اکثریت کا حال اسی شخص جیسا ہے. یہ اتنے ہی ریشنل ہیں جتنا کے وہ شخص جو بناء فلم دیکھ تنقیدی تبصروں کا شوق رکھتا ہے. آپ ان سے بات کر کے دیکھیئے ، سو میں سے ننانوے ایسے ملیں گے جنہوں نے آج تک ایک بار بھی قران حکیم یا دیگر الہامی کتب کا شروع سے آخر تک جائزہ نہیں لیا. مگر اس کے باوجود نہ صرف دین اور خدا کا انکار کربیٹھے ہیں بلکہ کیل کانٹوں سے لیس ہوکر الہامی آیات پر تنقید کا شوق بھی فرما رہے ہیں. یہ سوشل میڈیا پر دن رات مذہب کے خلاف مواد پڑھنے اور لکھنے میں گزارتے ہیں مگر مجال ہے جو صرف ایک بار دیانتداری سے قران مجید کا مطالعہ کرنے کو راضی ہوں. درحقیقت عقل پسندی یعنی ریشنلزم کا نام لے لے کر یہ عقل کو طلاق دیئے بیٹھے ہیں. شعور کے فروغ کی محض مالا جپ کر یہ اپنے شعور کو پھانسی چڑھا چکے ہیں. دلیل کی صرف دہائی دے کر یہ تحقیق کو تعصب کے قبرستان میں دفنا چکے ہیں 
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 27 January 2016

غار حرا میں مراقبہ


غار حرا میں مراقبہ





سوال: 

آپ کی مراقبہ والی پوسٹ کے حوالے سے میرا سوال ہے کہ جب رسالت نہیں ملی تھی تو رسول صلی الله علیہ وسلم کیا غار حرا میں مراقبہ نہیں کیا کرتے تھے ؟ اگر نہیں تو پھر کیا کرتے تھے؟
.
جواب:
اس کی تفصیل قران و حدیث میں موجود نہیں. جس بات کا غالب امکان ہے وہ یہ ہے کہ وہ خالق اور اس کی تخلیقات پرتفکر و تدبر کرتے تھے. قران حکیم میں حضرت ابراہیم علیہ سلام کے اسی غور و فکر کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے. رسول پاک صلی الله علیہ وسلم بھی دین ابراہیمی لے کر آئے اور اسی کی تجدید کر کے جاریکیا. اسکے علاوہ ہر قران کا طالبعلم یہ بات جانتا ہے کہ الله عزوجل نے جگہ جگہ مظاہر کائنات جیسے سورج ، چاند ، ستاروں ، سمندر کو اپنی آیات کہا اور ان پر غور و فکر کی تلقین کی. کسی بھی مقام پر تفکر سے خالی کسی مراقبہ کا ذکر موجود نہیں. لہٰذا اگر کوئی امکان بیان ہوسکتا ہے تو وہ غور و تدبر ہی کا ہے، تفکر سے عاری مراقبہ کا نہیں. اسی طرح اس زمانے میں بھی سنت ابراہیمی کے پیرو موجود تھے جو 'حنیف' کہلاتے تھے اور ایک الله کی عبادت کرتے تھے. چنانچہ یہ کہنا بھی قرین قیاس ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ذکر و عبادات بھی کیا کرتے ہونگے. ہمارے پاس اس بات کے بہرحال کوئی قرائن موجود نہیں کہ رسول عربی صلی الله علیہ وسلم آنکھیں بند کرکے ذہن کو خیالات سے خالی کرنے کی مشق کا اہتمام کرتے تھے. ایسی کسی بات کو آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات مبارک سے امکان کے درجہ میں بھی منسوب کرنا میری نظر میں جسارت ہے 
.
====عظیم نامہ=====

مراقبہ یا تفکر؟



مراقبہ یا تفکر؟


.
خالی الذہن ہو کر کسی مخصوص موضوع پر توجہ کا ارتکاز کرنا اور پھر یکسوئی سے اس کا ہر ممکنہ پہلو سے جائزہ لینا 'تفکر و تدبر' کہلاتا ہے. قران حکیم  ہمیں اسی تفکر کی جانب آنے کی رغبت دلاتا ہے. اگر کوئی مراقبہ، ذکر، تسبیح یا وظیفہ اس تفکر سے خالی ہے تو وہ دین کا مطلوب و مقصود ہرگز نہیں اور نہ ہی اس سے حاصل شدہ ثمرات دیرپا ثابت ہوسکتے ہیں. میں بارہا مختلف عقائد کے ایسے اشخاص سے مل چکا ہوں جو مراقبہ کے ذریعے سکون حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا اس مراقبہ سے سکون کے حصول کے متمنی ہوتے ہیں. مگر جب ان کا قریب سے جائزہ لیا تو انہیں خود فریبی میں مبتلا پایا. اکثر ان کے قریبی احباب ان کے خراب مزاج کی شکایت یا ان کی حرکات سے نالاں نظر آئے. دوسرے الفاظ میں وہ ایسے بے سکون لوگ ہیں جو سکون کی صرف نقاب اوڑھے ہوئے ہیں.
.
مراقبہ کے ذریعے ذہن کو خیالات سے خالی کرنے کی مشق انسان کو عارضی ذہنی سکون تو ضرور دے سکتی ہے مگر زندگی میں حقیقی سکون پیدا نہیں کرسکتی. اس کیلئے لازم ہے کہ انسان تفکر و تدبر کے مدارج طے کرکے بیک وقت قلبی و فکری اطمینان حاصل کرے. یہی وہ کیفیت ہے جو نفس انسانی کو قرانی اصطلاح میں نفس المطمئنہ بنا دیتی ہے. یہ بات بھی ملحوظ رکھیئے کہ وہ مراقبہ جس میں تفکر اہم جزو کی صورت موجود ہو ، ایک احسن فعل ہے اور یہاں اس کی مذمت ہرگز مراد نہیں ہے. درجہ احسان کی تعریف میں جو حدیث جبرئیل موجود ہے، اسمیں ترغیب دی گئی ہے کہ نماز ایسے قائم کرو جیسے الله کو دیکھ رہے ہو یا ایسے کہ الله تمھیں دیکھ رہا ہے. نماز میں الہامی کلمات ادا کرتے ہوئے یہ حضوری کا تصور اپنی حقیقت میں مراقبہ ہی تو ہے، مگر ایسا مراقبہ جو آیات و اذکار پر مستقل تفکر سے بھی مزین ہے. انگریزی زبان میں وہ مراقبہ جو تفکر سے خالی ہو اکثر میڈیٹیشن کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے. جب کہ وہ مراقبہ جس کی بنیاد تفکر پر ہو کنٹمپلشن کہلاتا ہے.
.
====عظیم نامہ====



Thursday, 21 January 2016

انسان کی حقیقت اور اس کا مقصد



انسان کی حقیقت اور اس کا مقصد



.اگر کوئی بکری یہ کہے کہ میں بکری نہیں گھوڑا ہوں یا کوئی پلیٹ یہ سمجھے کہ میں پلیٹ نہیں چمچہ ہوں تو صرف ان کے کہنے یا سمجھنے سے ان کی حقیقت نہیں بدلے گی. بکری پھر بھی بکری ہی رہے گی اور پلیٹ بہرحال پلیٹ ہی رہے گی. عقلمندی سراب یا دھوکے میں جینا نہیں بلکہ اپنی حقیقت کو تسلیم کرلینے کا نام ہے. کسی بھی تخلیق کی حقیقت و مقصد اس کا بنانے والا ہی سب سے بہتر بتاسکتا ہے. اسی لئے مختلف تخلیق کار مینوفیکچرنگ کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کا مقصد، حقیقت اور استمعال کو تفصیل سے بیان کرتی ہیں. الله رب العزت نے انسان کو تخلیق کیا ہے اور انہوں نے صاف الفاظ میں یہ بتادیا ہے کہ انسان کی حقیقت عبدیت ہے. اسے الله کا عبد بنایا گیا ہے اور اسی رعایت سے اس کا مقصد عبادت یعنی رب کی پرستش و اطاعت کرنا ہے. یہی وہ حقیقت ہے جسے کلام پاک میں ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے ”اور ہم نے جن اور انسان کو نہیں پیدا کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ سورہ الذاریات ٥١:٥٦۹.خالق نے انسان کی حقیقت بتا دی. اب عقلمندی اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ہے. اگر آج کوئی احمق اپنے عبدالله ہونے کا منکر ہوتا ہے تو اس سراب سے اسکی اپنی ذات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا مگر یہ حقیقت تبدیل نہ ہوگی کہ وہ عبد بنا کر بھیجا گیا ہے. 

ہمارے خوش یا غمگین ہونے سے یہ حق نہیں بدلتا کہ زمین گول ہے. کسی پر ظلم ہو یا کسی کو اعزاز ملے ، اس سے یہ حق نہیں بدلتا کہ پانی حیات کے لیے ضروری ہے. ہمارے جذبات، احساسات یا حالات سے دنیا کا کوئی بھی حق تبدیل نہیں ہوتا. پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ کسی بشر کے چاہنے نہ چاہنے سے اس کی حقیقت بطورعبد تبدیل ہو جائے؟ یہ ممکن ہی نہیں ہے. عبد اگر معبود کو تسلیم نہ کرے گا تو اپنی حقیقت ذات سے ہی اندھا ہو جائے گا. دیکھیئے قران حکیم اس بات کو کیسے بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے : "اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا، اور ایسے ہی لوگ نافرمان ہوتے ہیں" .. غور کیجیئے ، یہ نہیں کہا گیا کہ انہوں نے الله کو بھلا دیا تو الله نے بھی انہیں بھلا دیا بلکہ یہ سمجھایا گیا کہ انہوں نے الله کو بھلا دیا تو الله نے انہیں ان کا اپنا آپ بھلا دیا ! یعنی معبود کو فراموش کرنے کا لازمی نتیجہ عبد کا خود اپنی حقیقت سے غافل ہوجانا ہے. .اس کا بڑا عملی مظاہرہ الحاد سے متاثر ان معاشروں میں واضح نظر آتا ہے جو انسان کیلئے 'شتر بے مہار' جیسی آزادی کے طالب ہیں. ہم دیکھتے ہیں کہ انسان اگر خالق کی غلامی پر راضی نہ ہو تب بھی آزاد نہیں رہ پاتا بلکہ عبدیت کے اس باطنی احساس کی تسکین کیلئے طرح طرح کی غلامیاں اختیار کرلیتا ہے. وہ کبھی کسی سیاستدان کو ، کبھی کسی گلوکار یا فنکار کو ، کبھی کسی کھیل یا کاروبار کو اور کبھی اپنی خواہشات نفس کو معبود بنا کر اس کی عبدیت اختیار کرلیتا ہے. ظاہر ہے کہ جب مخلوق اپنی جیسی مخلوق کی عبادت کرتی ہے تو اس کا نتیجہ پستی، ذہنی انتشار اور روحانی فساد کی صورت میں برآمد ہوتا ہے. اس کی امیدوں کا محل دیر یا سویر مسمار ہوجاتا ہے. اسی لئے علامہ نے کہا تھا
.
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات


ایسے ہی دھوکے زدہ انسان کو کلام پاک میں کچھ یوں بیان کیا ہے


اَفَرَایْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہ ھَوَاہ"کیا تُم نے اُس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟" .


====عظیم نامہ====