Wednesday, 13 January 2016

دو عورتوں کا جھگڑا


 دو عورتوں کا جھگڑا 


ہمارے ایک جہاندیدہ دوست خاندانی مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے شوخی سے بولے 

.
عظیم میاں ! یاد رکھیں مرد اور عورت کے جھگڑے میں ہمیشہ مرد ہی ہارتا ہے، مرد عورت سے جیت نہیں سکتا 
.
ہم نے مسکرا کر استفسار کیا ... اور قبلہ اگر جھگڑا دو عورتوں کے بیچ میں ہو، تب ہارنے یا جیتنے والا کون ہوگا؟
انہوں نے جوابی مسکان کے ساتھ کامل اطمینان سے جواب دیا ...  اگر جھگڑا دو عورتوں کے بیچ ہو تو کوئی نہ جیتتا ہے نہ ہارتا ہے ، کیونکہ جیت ہار کے فیصلہ کیلئے ایک کا ہار ماننا ضروری ہے
.
====عظیم نامہ====

مہلک ترین گناہ اور سوشل میڈیا

مہلک ترین گناہ اور سوشل میڈیا 


گناہ وہ اعمال ہیں جو آپ کے نفس کو آلودہ کردیں یا آپ کی روحانی ترقی پر روک لگا دیں. حضرت نواس بن سمعانؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا ’’نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جوتمہارے دل میں کھٹکے اور لوگوں کو اس کی اطلاع ہونا تجھے اچھا نہ لگے‘‘۔ اسی طرح وابصہ بن معبدؓ نے کہا کہ ’’ میں نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو آپﷺ نے فرمایا ’’تم نیکی کے بارے میں پوچھنے کیلئے آئے ہو؟ میں نے کہا ’’جی ہاں!‘‘ اس پر آپﷺ نے فرمایا ’’ اپنے دل سے فتویٰ پوچھ، نیکی وہ ہے جس پر نفس(من) میں اطمینان ہو اور اس پر دل مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور سینے میں بے چینی ہو اگرچہ (مفتی) لوگ تجھے (اس کیلئے جائز ہونے کا) فتویٰ دے دیں۔‘‘ 
.

یوں تو ہر گناہ سے پرہیز لازم ہے اور ہر گناہ ہی ہلاکت ہے مگر سوچتا ہوں کہ کم از کم ان مہلک ترین گناہوں سے خود کو کوسوں دور رکھوں  
.
شرک
===
قران مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
"بے شک اللہ یہ گناہ ہرگز نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور وہ اس کے سوا جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، تو وہ یقینا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ہے۔" (٤:١١٦)
.
یہاں یہ احتیاط لازم ہے کہ شرک کی بہت سی اقسام ہیں جیسے شرک خفی اور شرک جلی. اسی اعتبار سے ان کی شدت میں بھی فرق ہے. دانا انسان شرک کے معمولی امکان سے بھی میلوں دور رہنے کی کاوش کرتا ہے. ذرا اس حدیث کو آنکھیں کھول کر دیکھیں 
.
حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا۔" مسند احمد ۔ج ۴، ص۱۲۵
یعنی کوئی عمل جو بظاھر دینی ہو مگرکرنے والے کی نیت دکھاوے کی ہو تو یہ شرک کی ہی ایک قسم ہے. اس لحاظ سے ہر وہ دینی پوسٹ جو ہم فیس بک پر یا کسی اور پلیٹ فارم پر شیئر کرتے ہیں، اگر اسکے پیچھے نیت دکھاوے اور اپنی واہ واہ کی ہے تو یہ ازخود شرک خفی کا ارتکاب ہے  
.
منافقت 
====
.
منافقت ایک ایسی روحانی بیماری ہے جو جونک کی طرح اپنے شکار کو پکڑے رکھتی ہے اور اس کی آخرت مکمل طور پر تباہ کردیتی ہے. یہی وجہ ہے کہ مومن ہمیشہ اپنا جائزہ لیتا رہتا ہے کہ اس میں شعوری یا غیرشعوری نفاق تو موجود نہیں ؟  یہی حقیقت ہے جسے حضرت حسن بصریؒ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’نفاق کا خوف مومن ہی کو ہوتا ہے، اور نفاق سے بے خوف تو منافق ہی رہتا ہے۔‘‘ 
.
قران و حدیث دونوں کے مطابق منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہونگے. اس آیت کو پڑھیں:  
"یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو اُن کا مدد گار نہ پاؤ گے" (7:145)
.
یعنی ابوجہل جیسے مشرکین سے بھی نیچے کا درجہ منافقین کیلئے ہے. سوشل میڈیا پر مجھ سمیت تمام لکھاریوں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ خدا نخواستہ ایسا تو نہیں کہ ہماری تحریر تو تقویٰ سے دھلی ہو مگر ہمارا کردار منافقت سے تعفن زدہ ہو 
فتنہ و فساد 
======
.
کسی انسان کو قتل کرنا اسلام میں ایک کریہہ ترین جرم ہے اور ایسا کرنا پوری انسانیت کو قتل کردینے کے مترادف ہے مگر قران حکیم کی رو سے فتنہ و فساد میں معاونت کرنا قتل سے بھی کہیں زیادہ بڑا جرم ہے. ملاحظہ ہو:
.
"آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑائی کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دو اس میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے اور الله کے راستہ سے روکنا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس میں سے نکالنا الله کے نزدیک اس سے بڑا گناہ ہے اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی بڑا جرم ہے اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر ان کا بس چلےاور جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے پھر کافر ہی مرجائے پس یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے عمل دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے اور وہی دوزخی ہیں جو اسی میں ہمیشہ رہیں گے" (٢:٢١٧)
.
یہ فتنہ و فساد کے شوقین انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی بکثرت پائے جاتے ہیں جو کبھی مذہبی منافرت کے نام پر اور کبھی سیاسی عصبیت کے نام پر فتنہ و فساد برپا کرتے نظر آتے ہیں. ایسے احباب کی کوئی کمی نہیں جن کی فیس بک وال کسی مخصوص فرقہ یا مسلک کی پذیرائی اور دوسرے فرقہ یا مسلک کی تحقیر سے بھری ہوتی ہے 
.
حقوق العباد 
======
.
گنہگارکو کم از کم اپنے رب کے رحم کی قوی امید رہتی ہے. مگر حقوق العباد میں کوتاہی کا مطلب یہ ہے کہ اب معاملہ صرف الله سے نہیں بلکہ اس شخص سے بھی ہے جس کا آپ نے حق سلب کیا ہے. ظاہر ہے روز قیامت یہ توقع خام خیالی سے زیادہ نہیں کہ کوئی اپنا حق بناء قیمت لئے چھوڑ دے گا اور وہاں قیمت نیکیاں ہی ہیں 
.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے"آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس اور دیوالیہ وہ ہے جو قیامت کے دن اپنی نماز،روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ اللہ کے پاس حاضر ہوگا اور اسی کے ساتھ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی،کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کو قتل کیا ہوگا، کسی کو ناحق مارا ہوگا تو ان تمام مظلوموں میں اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی پھر اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور مظلوم کے حقوق باقی رہے تو ان کی غلطیاں اس کے حساب میں ڈال دی جائیں گی اور پھر اسے جہنم میں گھسیٹ کر پھینک دیا جائے گا"(رواہ مسلم)
.
سوشل میڈیا میں اس کی ایک مثال کسی کے شعر یا تحریر کو چرا کر اپنے نام سے منسوب کر کے پیش کرنا ہے. ایسا کرکے آپ اس کے حقیقی مصنف کی حق تلفی کرتے ہیں اور یہ بلاشبہ چوری کے متبادل ہے 
تکبر 
===
.
رب تعالیٰ کو مخلوق کی جانب سے کسی طرح کا کبر شدید ناپسند ہے. کائنات کا پہلا گناہ جو ابلیس نے کیا وہ شائد کبر ہی تھا. ترمزی میں ارشاد ہے " وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل می رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہو گا " لہٰذا مومن ہمیشہ تکبر سے خالی اور عاجزی سے مزین ہوتا ہے. تکبر صرف بادشاہ ہی نہیں کرتے بلکہ مذہبی چوغہ پہن کر وہ مذہبی علماء بھی کرتے ہیں. اس کا اظہآر کبھی وہ اپنے نام کے ساتھ قطب الاقطاب، شیخ ال شیوخ جیسے ڈیڑھ درجن القابات جوڑ کر کرتے ہیں اور کبھی اپنے ہاتھ پیر مریدوں سے دانستہ چموا کر کیا کرتے ہیں. سوشل میڈیا پر بھی یہ تکبر کبھی لایکس کی تعداد کا زعم دکھا کر اور کبھی مخاطب کی تحقیر کر کے کیا جاتا ہے.
.
سود 
===
.
یہ واحد گناہ ہے جسے کلام پاک میں الله اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے مترادف بیان کیا گیا ہے. ملاحظہ کیجیئے:
.
"اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہوo پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان جنگ پر خبردار ہو جاؤ، اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال (جائز) ہیں، (اِس صورت میں) نہ تم خود ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گاo" (٢:٢٧٢،٢٧٣)
.
سودی نظام میں کسی بھی طرح کی معاونت دراصل باطل نظام کے ہاتھ مظبوط کرنا ہے. قرانی اصولوں کی بنیاد پر معاشرہ سود کی بجائے صدقات کی ذہنیت پیدا کرتا ہے. اسی حوالے سے ارشاد پاک ہے:
"الله تعالیٰ سود کو گھٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں۔“ (٢:١٧٦)
.
سنن ابن ماجہ کی یہ حدیث بھی قابل غور ہے : حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا سود کے ستر (70) گناہ ہیں ان میں سے ادنی درجہ کا گناہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔“
.
سود سوشل میڈیا پر گو کے براہ راست نہیں موجود مگر بناء علم کے اس حساس ترین موضوع کی حرمت کو تختہ مشق بنانا ہلاکت ہے 
.
کفر کی روش 
========
.
جانتے بوجھتے حق کو چھپانا یا اس کا انکار کرنا کفر ہے اور اس کفر کی روش کو کسی فائدے کیلئے اختیار کرلینا انسان کو کافر بنادیتا ہے. یہ بہت بری سرکشی ہے کہ حق آپ پر واضح ہو مگر آپ اس سے پہلوتہی اختیار کریں. جہنم کافروں کی ہی ضیافت کیلئے ہے. یہ بات واضح رہے کہ ہر کفر کا مرتکب کافر نہیں ہے. علماء کفر کرنے اور کافر ہونے میں امتیاز کرتے ہیں. آیت پڑھیئے:
"اور حق کو باطل سے خلط ملط نہ کرو اور حق کو چھپاؤ نہیں جبکہ تم جانتے ہو۔" (٢:٤٣)
کافر ضروری نہیں کہ غیر مسلم ہی ہو بلکہ ایک کلمہ گو بھی حق چھپانے کی وجہ سے کافر ہوسکتا ہے. گو اس کا فیصلہ الله کریں گے. آج اپنے اپنے فرقہ یا عالم یا لیڈر کی اندھی تقلید میں حق کا انکار کرنا یا اسے چھپانا ایک عام روش ہے. اس کی لاتعداد مثالیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتی ہیں  
.
مایوسی
====
رحمٰن کی رحمت سے مایوسی بذات خود کفر ہے. اللہ پاک بارہا اپنے بندوں کو اپنی بےمثل اور بےحساب رحمت کا یقین دلاتے ہیں. یہ مایوسی ہی ہے جو انسان کو توبہ سے روک دیتی ہے. ایک تنبیہہ دیکھیں:
.
"اے میرے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور الله کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک الله کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں" (١٢:٨٧)
.
مایوسی کی ایک مثال سوشل میڈیا پر ان افراد کی ہے جنہیں ان کا محبوب دھوکہ دے کر چلا جاتا ہے اور اب صبح و شام یہ حسرت و یاس کی تصویر بنے کبھی دکھ بھری شاعری سے اور کبھی خدا کی رحمت کو جھٹلا کر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے رہتے ہیں 
.
گناہ کا پرچار کرنا 
===========
گناہ پر ندامت ایک فطری عمل ہے چنانچہ اس سے شرمندہ ہو کر اسے چھپانا بھی ایک فطری فعل ہے. ایسا شخص شدید مغضوب ہے جو اپنے گناہ پر نادم ہونے کی بجائے دوسروں کو بتا کر اسکی ترغیب دے . آج یہ کام فیس بک پر عام ہے کہ لوگ پہلے گناہ کرتے ہیں اور پھر اسے شیئر کرکے مزہ لیتے ہیں. اسمیں اخلاق سوز ویڈیوز سے لیکر فحش لطائف تک سب شامل ہیں  
.
یہ طریق ناقابل معافی ہے. جیسا کہ حدیث میں موجود ہے:((کل أمتی معافی الا المجاھرین))
’’اپنے گناہوں کی تشہیر کرنے والوں کے علاوہ میری امت کے سارے لوگوں کو معاف کر دیا جائیگا ۔‘‘
 .
گناہ کبیرہ 
======
.
متقی انسان چھوٹے بڑے ، دانستہ نادانستہ ہر طرح کے گناہوں سے پرہیز کرتا ہے. مگر یہ بھی سچ ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے. یہ جذبات کی رو میں بہہ کر گناہ کا ارتکاب ضرور کرتا رہتا ہے. اسی لئے مسلسل توبہ استغفار کی تلقین کی گئی ہے. ایسی صورت میں الله رب العزت نے اپنی بےمثال رحمت  سے مومنین کو یہ نوید سنائی ہے.
.
"گر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تم سے تمھارے چھوٹے گناہ معاف کر دیں گے اور تمہیں عزت کے مقام میں داخل کر دینگے." ( سورۃ النساء ، آیت : 21 ) 
لہٰذا عقلمندی کا تقاضہ ہے کہ انسان کبیرہ گناہوں سے خصوصی طور پر متنبہ رہے. کبیرہ گناہ حقوق العباد سے متعلق بھی ہوتے ہیں جیسے تہمت لگانا، جھوٹی گواہی دینا وغیرہ اور کبیرہ گناہ حقوق اللہ سے بھی متعلق ہوا کرتے ہیں جیسے فرض عبادات کا مکمل تارک ہونا، زکات و صدقات میں ڈنڈی مارنا وغیرہ 
.
ان دونوں سے متعلق گناہ آپ کو سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں. جہاں کبھی کسی سیاسی یا مذہبی رہنما پر تہمت و بہتان باندھے جاتے ہیں اور کہیں شرک زدہ مواد کی تشہیر کی جاتی ہے. یہ بھی دھیان رہے کہ کوئی صغیرہ گناہ اگر انسان کی مسلسل عادت و فطرت بن جائے تو پھر وہ صغیرہ نہیں رہتا بلکہ گناہ کبیرہ بن جاتا ہے 
.
میں جانتا ہوں کہ قارئین کی نظر میں اور بھی کئی ایسے گناہ ہونگے جنہیں مہلک ترین کی فہرست میں داخل کیا جاسکتا ہے مگر احقر اسی پر اکتفاء کرتا ہے.  
.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 30 December 2015

قران حکیم اور عالمی سیاست


قران حکیم اور عالمی سیاست





سورہ الروم کی آیات کو دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیسے الله رب العزت کلام پاک میں اس وقت کی سیاسی صورتحال کا ذکر حال اور مستقبل کے تناظر میں کر رہے ہیں؟ ملاحظہ کیجیئے 
.
" المۤ۔ (اہل) روم مغلوب ہو گئے۔ نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ " (سورہ الروم ١ - ٣)
. 
جو پیشین گوئی اس سورہ کی ان ابتدائی آیات میں کی گئی ہے، وہ قرآن مجید کے کلامِ الٰہی ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رسولِ برحق ہونے کی شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اس سورہ میں کلام کا آغاز اس بات سے کیا گیا ہے کہ آج رومی مغلوب ہو گئے ہیں اور ساری دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ سلطنت کا خاتمہ قریب ہے، مگر چند سال نہ گذرنے پائیں گے کہ پانسہ پلٹ جائے گا اور جو مغلوب ہے وہ غالب ہو جائے گا۔ اس زمانے میں دو سب سے بڑی عالمی طاقتیں روم اور فارس (ایران) کی تھیں. اس سورہ کا نام اپنے وقت کی ایک عالمی غیر مسلم طاقت کے نام پر رکھا گیا ہے. یعنی سورہ الروم ! . یہ ایسا ہی ہے جیسے اگر مشیت الہی میں قران حکیم کا نزول آج کے دور میں ہوا ہوتا تو کسی سورہ کا نام سورہ امریکہ رکھا جاتا. ان آیات میں مسلمانوں کی جماعت اور حکومت کو بین الاقوامی معاملات پر نظر رکھنے کی ترغیب بھی دکھائی دیتی ہے. الله و اعلم بلصواب
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 29 December 2015

مکہ مکرمہ - ایک پرفیکٹ سیکولر سوسائٹی


مکہ مکرمہ - ایک پرفیکٹ سیکولر سوسائٹی



رسالت سے قبل مکہ مکرمہ کی سوسائٹی کا تصور کیجیئے. ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی موجودہ مغربی ملک کی طرح ایک پرفیکٹ سیکولر سوسائٹی کا نقشہ ہے. ایک ایسا سیاسی و سماجی ماحول جہاں ہر کسی کو مذہبی آزادی ہے. کوئی 'حبل' کو پوجتا ہے تو کوئی 'لات' کو مانتا ہے. کوئی 'منات' کو حاجت روا سمجھتا ہے تو کوئی خود کو 'عبدالعزی' کہتا ہے. کوئی 'یغوث' کا پیرو ہے تو کوئی 'اساف و نائلہ' کا طواف کر رہا ہے. کوئی تمام بتوں کو خدائی میں شریک کرتا ہے تو کوئی خود کو خالص حنیف کہنے پر اکتفاء کرتا ہے. غرض ہر گروہ اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرتا تھا اور دیگر عقائد کو بناء کسی تنقید کے روا رکھتا تھا. مگر دین اسلام کا مزاج یہ نہیں ہے. وہ جب رسول کی زبان سے کسی کفر زدہ سوسائٹی میں ادا ہوتا ہے تو پھر کسی 'جنٹلمین اگریمنٹ' کے پیچھے نہیں چھپتا بلکہ آگے بڑھ کر کلمہ حق کہتا ہے. حق اور باطل کی تفریق کرتا ہے. اس کا انداز محض مدافعانہ نہیں ہوتا بلکہ علمی انداز میں جارحانہ بھی ہوتا ہے. الله کا دین یہ جملے کہنے نہیں آتا کہ 'سب مذاہب ٹھیک ہیں' یا 'سب رستے جنت ہی کے ہیں'. وہ ان میٹھے میٹھے جملوں کی بجائے رائج شدہ راسخ عقائد کو للکارتا ہے. معاشرے کے ٹہرے پانی میں پہلا پتھر ہی 'لا' کہہ کر مارا جاتا ہے کہ اپنے تمام خداؤں کا انکار کر دو اور پھر دعوت دیتا ہے کہ بس الله کو اپنا معبود تسلیم کرو. قران حکیم جابجا مشرکین کے عقائد کو جو اسکے براہ راست مخاطبین بھی ہیں دعوتی اسلوب کے ساتھ تنقید کا بھی نشانہ بناتا ہے. کبھی وہ سورہ الحج میں کہتا ہے کہ اگر تمہارے یہ تمام بت مل کر بھی آجائیں تو ایک مکھی نہیں بنا سکتے اور اگر مکھی کوئی چیز ان سے چھین بھاگے تو اسے پکڑ نہیں سکتے. کبھی وہ ابراہیم علیہ سلام کی بت شکنی کا بیان کرتا ہے اور کبھی مشرکین کے دیگر عقائد جیسے ملائکہ کو بیٹیاں ماننے پر کڑی تنقید کرتا ہے. یہ بات ٹھیک سے سمجھ لینی چاہیئے کہ اسلام اپنے ماننے والو کو 'مائنڈ یور اون بزنس' کی اپروچ نہیں سکھاتا. نہ ہی وہ مغربی فکر کی طرح مذھب کو 'پرسنل میٹر' کہہ کر چھوڑ دیتا ہے. اسلام فرد اور معاشرے دونوں کی سطح پر تذکیر و تطہیر کا اہتمام کرتا ہے. وہ فرد سے معاشرے اور معاشرے سے فرد کا سفر کرتا ہے. وہ اپنا دائرہ فرد تک محدود نہیں رکھتا بلکہ سیاست، معیشت اور معاشرت سب کو الہامی اصولوں کا پابند کردیتا ہے. وہ جہاں فرد کا تزکیہ کر کے اسے اسلامی معاشرے کا ستون بناتا ہے ، وہاں معاشرے کے نظم کو قران کے اصولوں کا تابع کرکے تزکیہ کی اجتماعی فضا تشکیل دیتا ہے. وہ جہاں دیگر عقائد، مسالک یا مذاہب کو تحفظ فراہم کرتا ہے وہاں وہ ایسی مکالمہ کی فضا بھی پیدا کرتا ہے جہاں حق دلیل کی بنیاد پر واضح اور قائم ہوسکے. وہ معاشرے میں موجود فاسد عقائد یا نظریات کو زیر گفتگو لاتا ہے. اس کے حق میں دلائل کا تقاضا کرتا ہے اور اپنے مقدمہ کے ثبوت میں دلائل پیش کرتا ہے.
.
====عظیم نامہ====

Saturday, 5 December 2015

کراچی کی ایک دوپہر


کراچی کی ایک دوپہر




سڑک پر بے ہنگم ٹریفک کا اژدھام تھا اور میں اس جامد مگر چیختی تصویر کا ایک حصہ بنا ہوا تھا. چلچلاتی دھوپ میں حلق سوکھ رہا تھا۔ میری نظر گھومتی ہوئی ان پنجروں پر جاٹکی ، جن میں نہ جانے کتنی ہی ننھی چڑیائیں قید ، بھوک پیاس سے نڈھال پھڑپھڑا رہی تھیں۔ یہ پنجرے چڑی مار افراد کے تھے جن کا ذریعہ معاش ان ہی چڑیوں کو پکڑنا اور بیچنا تھا۔ ذہن و قلب میں عجب مخمصہ پیدا ہونے لگا۔ ایک جانب وارفتگی سے دل چاہتا کہ ان پیاسی چڑیوں کو خرید کر اس سخت قید سے نجات دلا دوں اور دوسری جانب ذہن بتاتا کہ یہ تو ان چڑی ماروں کے اس روز کے دھندہ کو تقویت پہنچانا ہے۔ اسی شش و پنج میں کتنے ہی لمحے بیت گئے۔ پھر کہیں اندر سے کسی نے سرگوشی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نےاپنے اصحاب کو جہاں غلامی کے طوق کو توڑنا سکھایا ، وہاں یہ بھی تلقین کی کہ اگر مال رکھتے ہو تو غلام خرید کر آزاد کرو۔ گو کہ ایسا کرنا غلام بیچنے والے کے کاروبار کو تقویت دیتا تھا۔ مگر اس غلط کاروبار کو ختم کرنا فرد کا نہیں بلکہ حاکم وقت کا کام تھا۔ لہذا مدینہ میں اسلامی نظم کا قیام ہوا تو پھر غلامی کو بطور کاروبار کرنے کا تدریج سے خاتمہ کردیا گیا۔ 

۔ 
میں جانتا تھا کہ ان چڑی ماروں کا یہ ذریعہ معاش درست نہیں۔ یہ بھی علم تھا کہ یہ مسلسل دوسری چڑیائوں کو ناکردہ جرم پر قید کرتے رہیں گے مگر انہیں ایسا نہ کرنے دینا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا ، تب تک ان بے بس چڑیوں کو خرید کر آزاد کرنا ہی شائد مجھ جیسے کم اختیار کیلئے درست قدم ہے۔ یہ بات سمجھ آتے ہی سکون ہو گیا۔ میں نے اللہ پاک کا نام لے کر انہیں ایک ایک کرکے آزاد کردیا۔ سب چڑیائیں چہچہاتی فضا میں چاروں سمت پھیل گئیں۔ لگتا تھا ان کے ساتھ میں بھی آزاد ہوگیا ہوں۔ میرا دل شاد ہوگیا اور زبان دعاگو۔
۔
====عظیم نامہ====

روحانیت کا حصول


 روحانیت کا حصول   




اگر ' قلب ' آئینہ ہے تو ' گناہ ' اس آئینے کا زنگ ہیں جن سے قلب کو دور رکھنا ہے ، ' استغفار' اس آئینے کی صفائی کا کام کرتی ہے ، ' اذکار' اس آئینے کو چمک عطا کرتے ہیں اور مسلسل ' تدبر و تفکر' اسے درست زاویہ مہیا کردیتے ہیں. یہ چاروں افعال اگر اخلاص سے اپنی روح سمیت انجام پاجائیں تو پھر یہ آئینہ تجلیات کا مرکز بن جاتا ہے. 
.
تزکیہ نفس، تصوف، روحانیت جو چاہے نام دے لیجیئے. مگر شریعت کی پاسداری کے ساتھ ان کے حصول کا راستہ انہی چند سطور میں پوشیدہ ہے. 
.
واللہ و اعلم بلصواب 
.
====عظیم نامہ=====

کراچی آپریشن - ایک تاثر


کراچی آپریشن - ایک تاثر 





.
میں حال ہی میں کراچی گیا اور چاہتے نہ چاہتے جاری آپریشن کا تجزیہ کیا. کچھ مشاہدات کئے اور کچھ واقعات سنے. چونکہ میرا یہ سفر مختصر تھا لہٰذا میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپریشن کی صداقت کو میں کس درجہ تک جان پایا مگر پھر بھی اپنے احساسات آپ سب سے بانٹنا چاہوں گا.
.
اس بارے میں کوئی دو رائے موجود نہیں ہیں کہ آپریشن کی وجہ سے اس وقت کراچی میں امن و امان کی صورت بہت بہتر ہے. قتل و غارت، ڈاکہ زنی، گینگ وار اور بم دھماکوں جیسی وارداتوں میں واضح کمی آئی ہے. نتیجہ یہ ہے کہ کاروبار رات گئے تک کھلے ہیں اور شہری پہلے کی نسبت کہیں زیادہ محفوظ ہیں. اس بہتری کا انکار آپریشن کے مخالف بھی نہیں کرتے. گو ان مخالفین کا کہنا یہ ہے کہ یہ تبدیلی عارضی اور مصنوعی ہے. انہیں خدشہ ہے کہ آپریشن میں اپنائے گئے غلط طریق کی وجہ سے مستقبل قریب میں حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو جائیں گے. آپریشن کے حامی یہ دعا کر رہے ہیں کہ بس یہ آپریشن رکے نہیں بلکہ مسلسل سالوں سال چلتا رہے. یہاں تک کے جرائم پیشہ افراد دم توڑ جائیں. اب آپریشن کے مخالفین کے خدشات درست ہیں یا پھر آپریشن کے حامیوں کی خواہش. اس کے بارے میں خامہ سرائی سے زیادہ کچھ اور ممکن نہیں. 
. 
آپریشن اس وقت تمام جرائم پیشہ گروہوں یا گینگز کے خلاف کسی نہ کسی درجہ میں ہو رہا ہے. مگر یہ سچ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اس آپریشن کا خاص ہدف ایم کیو ایم بنی ہوئی ہے. یہ بات کسی کراچی کے رہائشی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ شہر میں موجود ہر سیاسی تنظیم اپنے ملٹری ونگز رکھتی ہے اور قتل و غارت یا بھتہ خوری جیسے اقدام میں ملوث ہے. ایسے میں صرف ایم کیو ایم کو نشانہ بنانا ، ان کے حامیوں میں غصہ اور تنظیم کے لئے محبت پیدا کر رہی ہے. دوسری اہم بات جو ایم کیو ایم کے حق میں جارہی ہے وہ اس وقت صفائی کی ابتر صورتحال ہے. کراچی شہر شائد اپنی پوری تاریخ میں اتنا مخدوش اور گندا نظر نظر نہیں آیا ہوگا جتنا کہ وہ آج ہے. لہٰذا جہاں شہری امن و امان کی وجہ سے خوش ہیں ، وہاں گندگی کے ڈھیروں کی وجہ سے شدید نالاں بھی ہیں. کوڑے کے ڈھیر ، ابلتے گٹر، ٹوٹی سڑکیں اور بے ہنگم ٹریفک .. ہر شہری کو مصطفیٰ کمال کی یاد دلا رہی ہے جس نے ایم کیو ایم کا میئر بن کر اس شہر کو صفائی اور ترقی کا نمونہ بنا دیا تھا. ایم کیو ایم ان ہی دو باتوں کو اب بلدیاتی الیکشن میں نفسیاتی طور پر کیش کروا رہی ہے. اس کی پوری الیکشن کمپین کچھ اس قسم کے بینرز پر مبنی ہے: "مئیر تو اپنا ہی ہونا چایئے!" ... "ووٹ تو اپنوں کو ہی دینا چاہیئے" وغیرہ . لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ آنے والے الیکشن میں کلین سویپ کرے گی. 
.
دھیان رہے کہ میں یہاں ایم کیو ایم کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ میں خود ان کا شدید ناقد ہوں. لیکن اسوقت مقصد تنقید نہیں بلکہ اپنا دیانتدارانہ مشاہدہ آپ تک پہنچانا ہے. میں یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ جرائم پیشہ عناصر کی بلاتفریق سرکوبی نہیں کی جارہی بلکہ میں یہ بتا رہا ہوں کہ 'سیاسی' جماعتوں میں آپریشن کا خصوصی ہدف اسوقت ایک ہی جماعت ہے. وہ مجرم جو سیاسی نہیں بلکہ پیشہ ور ہیں، ان سب پر رینجرز موت بن کر منڈلا رہی ہے. جس کے بارے میں رینجرز کو یہ یقین ہوجائے کہ وہ عادی مجرم یا فسادی ہے تو اسے ماورائے عدالت گولی ماردی جاتی ہے یا نامعلوم مقام پر لے جاکر چھترول ہوتی ہے. کچھ واقعات اختصار سے عرض کر دیتا ہوں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن کی زد میں تمام غیر سیاسی حلقے یا قومیں شامل ہے. 
.
میرے ایک قریبی دوست کے بتیس سالہ بھائی کو کچھ پٹھان مجرم اغوا برائے تاوان کے لئے اٹھا لے گئے اور بدنام پٹھان علاقے الاصف اسکوائر میں ہاتھ پاؤں باندھ کر قید کر دیا. گھر والو سے تاوان مانگا گیا مگر اسی رات یہ لڑکا ان کے چنگل سے بھاگ نکلا. رینجرز نے اسے اگلے روز بلایا اور شناخت کیلئے کچھ تصاویر دکھائیں. لڑکے نے دو مجرموں کو شناخت کیا مگر اس شرط کیساتھ کے وہ عدالت کے چکر میں نہیں پھنسنا چاہتا. رینجرز نے جوابی کہا کہ ہم آپ کو عدالت لے جانا بھی نہیں چاہتے ، آپ بس اخبار پڑھتے رہیئے گا. تین دن بعد ان دونوں اغوا کاروں کی لاشوں کی تصویر اخبار میں موجود تھی. میرے ایک قریبی رشتہ دار کے کئی کاروبار ہیں اور انہیں بھتہ کیلئے تین مختلف بلوچ بدمعاشوں کا فون آیا کرتا تھا. رینجرز نے تینوں کو مار ڈالا ہے. میرے بڑے بھائی کے دوست کو اندرون سندھ سے تاوان کی دھمکیاں دی گئیں ، اس نے رینجرز سے رابطہ کیا. کچھ دن بعد رینجرز کا فون آیا کہ ان ڈاکوؤں کو اندرون سندھ میں مار دیا گیا ہے. پھر کوئی فون نہ آیا. میرے ایک ایم کیو ایم سے منسلک اور سابقہ ذمہ دار رشتہ دار نے گلستان جوہر میں ایک تھانہ چوکی دکھا کر بتایا کہ اس کے سارے پولیس والو کو رینجرز اٹھا کر لے جاچکی ہے کیونکہ یہ جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتے تھے. 
.
ایسے کتنے ہی واقعات سننے میں آتے رہے، جن میں مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی بھی شامل ہے. جس جس کو رینجرز اٹھا رہی ہے وہ یا تو جرائم پیشہ فسادی ہیں (بلاتفریق) یا پھر کسی پارٹی کے سیاسی ذمہ دار ہیں (زیادہ تر ایم کیو ایم). میری اپنی دیانتدارانہ رائے میں اس آپریشن کو پوری قوت سے اگلے پانچ سے دس سال جاری رہنا چاہیئے مگر اس کا دائرہ دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی تنگ ہونا ضروری ہے جیسے شاہی سید یا پیپلز پارٹی وغیرہ کے بدمعاش. اسی طرح دیگر شہروں میں بھی بلا تفریق کاروائی ہو تاکہ کراچی کو سوتیلے پن کا احساس نہ ہو. دعا یہی ہے کہ الله پاک اس شہر کی رونقوں کو اور دوبالا کریں اور ہر فسادی کو جہنم واصل فرمائیں. آمین.
.
====عظیم نامہ====
.