Friday, 19 June 2015

کیا روزہ رکھ کر آپ چڑچڑے اور سست ہو جاتے ہیں؟

 

کیا روزہ رکھ کر آپ چڑچڑے اور سست ہو جاتے ہیں؟

 
 
 
"عظیم .. تم تو مسلمان ہو پھر تم روزے کیوں نہیں رکھتے ؟"
.
یہ سوال مجھ سے ایک انگریز دوست نے پچھلے رمضان کے آخری روزوں میں پوچھا تھا. وہ میرے ساتھ میری کمپنی میں کام کرتا تھا. اس دن میں اپنی بریک میں اسٹاف کینٹین میں چلا آیا. وہ وہاں پہلے سے موجود تھا اور جیسے میرا ہی انتظار کر رہا تھا. ہیلو ہائے کے فوری بعد ہی اس نے مجھ سے پوچھا کہ اگر میں برا نہ مانوں تو وہ ایک سوال پوچھ سکتا ہے ؟ میں نے حسب عادت کہا کہ ضرور پوچھو تو وہ مخاطب ہوا
.
"عظیم .. تم تو مسلمان ہو پھر تم روزے کیوں نہیں رکھتے ؟"
.
سوال ایسا غیر متوقع تھا کہ میں سٹپٹا کر بولا "نہیں نہیں ... میں روزے رکھتا ہوں"
.
اس نے شدید حیرت سے پوچھا .. "واقعی ؟ اس مہینہ کتنے روزے رکھے ؟"
.
میں نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ "سارے .. میں نے اب تک تمام روزے رکھے ہیں"
.
یہ سن کر اس کا چہرہ حیرت اور پریشانی سے ٹوٹنے لگا .. اس کی یہ حیرت دیکھ کر میں خود شش و پنج میں پڑ گیا کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟
.
اس نے کچھ توقف کیا ، پھر بے چینی سے پہلو بدلا اور کہا
.
"تم روزے کیسے رکھ سکتے ہو؟ میں نے تو تمہارے کام میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا؟ نہ تم نے کبھی شکایت کی کہ تمھیں کمزوری ہورہی ہے ، نہ تم نے فلاں اور فلاں کی طرح چھٹیاں کی ، نہ تمہارے چہرے سے کبھی ایسا لگا کہ تم نے کچھ کھایا نہیں ہے ... یہ فرق کیسے ؟ "
.
مجھے اب بات سمجھ آچکی تھی اور یہ بھی واضح تھا کہ یہ دعوت کا بہترین موقع ہے. میں نے اسے سمجھایا کہ روزے کی روح یہ نہیں ہے کہ ہم اسے رکھ کر خود کو مظلوم دکھانے لگیں یا دوسروں سے شکایت کریں یا اپنے کام کرنا چھوڑ دوں. نہ ہی روزے کا مقصد یہ ہے کہ ہم صرف کھانا پینا ترک کردیں بلکہ یہ تومسلسل تربیت ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے برا دیکھنا چھوڑ دیں، کانوں سے برا سننا ترک کر دیں ، اپنی بری عادتوں سے پیچھا چھڑالیں ... ایک بہتر انسان بن جائیں .. ایک ایسا انسان جس کی اپنی عادات بھی صالح ہوں اور وہ دوسروں کے لئے بھی درد دل رکھتا ہو.
.
سارا وقت ، میرا وہ بھلا دوست مجھ سے سوال پوچھتا رہا اور پہلے روزوں اور بعد میں دین اسلام کی حکمت کو جانتا رہا. وہ مجھے مسکرا کر بتا رہا تھا کہ اسے آج تک یہ باتیں سمجھ نہ آئی تھی اور وہ اب پوری طرح سے روزے کے فلسفہ کا معترف ہے.
.
غیر مسلم ممالک میں بسنے والے دوست بلخصوص یہ یاد رکھیں کہ مسلم کا کیا ہر ہر عمل اپنے وجود میں دین کا ترجمان ہوتا ہے. رمضان میں ہر غیر مسلم ایک اندرونی حیرت کا شکار ہوتا ہے کہ کوئی کیسے پورے مہینے اپنی مرضی سے بھوکا پیاسا رہ سکتا ہے؟ یہ وہ موقع ہے جب آپ اپنے اچھے عمل سے دین کے ایک بہترین داعی بن سکتے ہیں یا پھر اپنی لرزش سے اسلام کی غلط تصویر پیش کرسکتے ہیں. فیصلہ آپ کا ہے
.
 عظیم نامہ

Monday, 15 June 2015

فیس بک کی ایک عجیب پوسٹ


فیس بک کی ایک عجیب پوسٹ



فیس بک پر ظاہر ہے کہ طرح طرح کی پوسٹیں پڑھنے کا موقع ملتا ہے. جن میں بعض پوسٹیں بے سر پیر کی ہو
 ہیں مگر پھر بھی لوگوں کی توجہ کھینچ لیتی ہیں. ابھی کچھ دن قبل مجھے ایک ایسی ہی پوسٹ میں ٹیگ کیا گیا، جس میں ایک صاحب نے یہ عالی مرتبت سوال اٹھایا کہ اگر کسی وقت سعودی عرب اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے تو آپ کس کا ساتھ دیں گے؟؟ .. میں اس احمقانہ سوال کو نظر انداز کرکے اسے بند کرنے ہی لگا تھا کہ پوسٹ پر آتے بیشمار کمنٹس اور وہاں برپا گرما گرم ماحول نے میری توجہ مبذول کرلی. کمنٹس دینے والوں میں مذہبی رجحان کے افراد بھی تھے اور مغربی فلسفوں کے متاثرین بھی. علماء بھی تھے اور عام عوام بھی. تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ان میں سے کچھ تو کہتے تھے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اسلئے ہم ہر حال میں پاکستان کا ساتھ دیں گے. جبکہ کچھ اور افراد یہ لکھ رہے تھے کہ چونکہ سعودیہ مقدس مقامات کا حامل ہے لہذاٰ ہم ہر صورت سعودیہ کے ساتھ رہیں گے. مجھے وہاں ایک شخص بھی ایسا نہ نظر آیا جو یہ کہتا ہو کہ ہمیں صرف اس کا ساتھ دینا چاہیئے جو حق پر ہو. کسی نے یہ نہ لکھا کہ اسلام میں نہ وطن پرستی ساتھ دینے کا معیار ہے اور نہ ہی مذہبی و مسلکی وابستگی ! .. اسلام تو حق کا علمبردار بناتا ہے اور مظلوم کی پشت پناہی کا حکم دیتا ہے. ظالم اگر نام سے مسلم بھی ہوگا تب بھی اس کی گردن ماری جائے گی اور مظلوم اگر غیر مسلم بھی ہوگا تو اس کا ہر ممکن ساتھ دیا جائے گا. یہی قران کا پیغام ہے، یہی رسول (ص) کی تعلیم ہے اور یہی صحابہ کا عمل ہے
.
====عظیم نامہ====

پھونک


پھونک



میری ایک پھونک ، چراغ پر جلتے شعلے کو بجھا سکتی ہے مگر یہی پھونک ایک بجھتے ہوئے کوئلے کو بھڑکا بھی سکتی ہے. پھونک کا اپنا وجود اہم ہے مگر کمال محض پھونک کا نہیں بلکہ سامنے والے کی صفات کا ہے. خارج سے ہوئے کسی بھی عمل کے اثرات، باطن میں پنہاں صفات کے حساب سے مرتب ہوتے ہیں. میں بحیثیت انسان، نوری و ناری دونوں صفات کا حامل ہوں. اب یہ میرا فیصلہ ہے کہ اس دار الامتحان میں ، کون سی صفات کو نمو دے کر اپنا پیکر ڈھالتا ہوں ؟. جیسی صفات سے آراستہ میرا باطنی وجود ہوگا ویسے ہی اثرات میں خارج سے قبول کرسکوں گا.

.
====عظیم نامہ=====

کردار نہیں تو کچھ بھی نہیں

 

 

کردار نہیں تو کچھ بھی نہیں

 
 
 
کردار یہ ہے کہ ..
.
والدین دعا دیں کہ سب کو ایسی سعادت مند اولاد عطا ہو ..
بیوی اطمینان سے کہہ سکے کہ سب کے نصیب میں ایسا بااخلاق شوہر ہو ..
بچے یہ ناز کریں کہ سب کو ایسا پرشفقت باپ ملے ..
بہن بھائی کھلے دل سے کہیں کہ سب کو ایسا زندہ دل بھائی مل سکے ..
ساس سسر خوشی سے بتائیں کہ سب کو ایسا عزت دینے والا داماد ملے ..
کمپنی باس اور ساتھی ملازمان یہ تمنا کریں کہ کاش سب ایسے ہی خیال رکھنے والے اور ایماندار ہوں ..
دوست یار سب پکاریں کہ سب کو ایسا پراخلاص دوست حاصل ہو ..
عزیز، احباب، پڑوسی، استاد، شاگرد سب ہی آپ کی خوش مزاجی کے گواہ ہوں ..
.
اگر یہ مطلوبہ اوصاف آپ کے کردار کا حصہ نہیں ہے اور آپ سے منسلک اشخاص ان صفات کی آپ میں موجودگی کے قائل نہیں ہیں تو پھر سوچیئے کہ دین کے پیغام کو سمجھنے میں کہاں ٹھوکر کھائی ہے ؟ مومن کیلئے ان اوصاف و صفات کا حصول مستحب نہیں بلکہ واجب ہے. اگر آپ کی نماز و دیگر عبادات آپ کی ایسی کردار سازی نہیں کرتی تو آپ آج بھی دین کے حقیقی مطلوب سے محروم ہیں.
.
 عظیم نامہ

Sunday, 31 May 2015

یہ وقت کیا ہے ؟ .. شاعر: جاوید اختر


 یہ وقت کیا ہے ؟


عنوان : یہ وقت کیا ہے ؟
شاعر: جاوید اختر
انتخاب: عظیم الرحمٰن عثمانی
=================
.
یہ وقت کیا ہے؟
یہ کیا ہے آخر ؟ کہ کیوں  مسلسل گزر رہا ہے؟
یہ جب میں گزرا تھا تب کہاں تھا ؟ .. کہیں تو ہوگا ؟
گزر گیا ہے تو اب کہاں ہے؟ .. کہیں تو ہوگا ؟
کہاں سے آیا ؟ کدھر گیا ہے ؟
یہ کب سے کب تک کا سلسلہ ہے ؟
یہ وقت کیا ہے؟
.
یہ واقعے، حادثے، تصادم 
ہر ایک غم .. ہر ایک مسرت 
ہر ایک اذیت .. ہر ایک لذت
ہر ایک تبسم .. ہر ایک آنسو
ہر ایک نغمہ .. ہر ایک خوشبو
وہ زخم کا درد ہو کہ وہ لمس کا ہو جادو
خود اپنی آواز ہو .. یا ماحول کی صدائیں
یہ ذہن میں بنتی اور بگڑتی ہوئی فضائیں
وہ فکر میں آئے زلزلے ہوں .. یا دل کی ہلچل
تمام احساس ، سارے جذبے
یہ جیسے پتے ہیں .. 
بہتے پانی کی سطح پر جیسے تیرتے ہیں ..
ابھی یہاں ہیں .. ابھی وہاں ہیں 
اور اب ہیں اوجھل
دکھائی  دیتا نہیں ہے لیکن یہ کچھ تو ہے جو بہہ رہا ہے ؟
یہ کیسا دریا ہے ؟
کن پہاڑوں سے آرہا ہے ؟
یہ کس سمندر کو جارہا ہے ؟
یہ وقت کیا ہے؟
.
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ چلتی گاڑی سے پیڑ دیکھو 
تو ایسا لگتا ہے کہ دوسری سمت جا رہے ہیں
مگر حقیقت میں پیڑ اپنی جگہ کھڑے ہیں
تو کیا یہ ممکن ہے ؟ ساری صدیاں قطار اندر قطار اپنی جگہ کھڑی ہوں
یہ وقت ساکت ہو اور ہم ہی گزر رہے ہوں ؟
.
اسی ایک لمحہ میں سارے لمحے ہیں
تمام صدیاں چھپی ہوئی ہوں
نہ کوئی آئندہ .. نہ گزشتہ 
جو ہوچکا ہے .. وہ ہو رہا ہے
جو ہونے والا ہے ، ہو رہا ہے
میں سوچتا ہوں کہ کیا یہ ممکن ہے ؟
سچ یہ ہو کہ سفر میں ہم ہیں
گزرتے ہم ہیں
جسے سمجھتے ہیں ہم گزرتا ہے ، وہ تھما ہے
گزرتا ہے یا تھما ہوا ہے ؟
اکائی ہے یا بٹا ہوا ہے ؟
ہے منجمد یا پگھل رہا ہے؟
کسے خبر ہے ؟ کسے پتہ ہے ؟
یہ وقت کیا ہے؟

Monday, 25 May 2015

سورہ رحمٰن


سورہ رحمٰن



سورہ رحمٰن کی کچھ ابتدائی آیات پر مختصر بات کرتے ہیں
الرَّحْمَنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (2) خَلَقَ الْإِنْسَانَ (3) عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (4) الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ (5) وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ (6) وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ (7) أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ 
.
==========
.
الرَّحْمَنُ (نہایت مہربان) - دراصل الله کا ایک نمائندہ صفاتی نام ہے. یوں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے اسماء صفات میں جس شان سے الله اپنے اس صفاتی نام کو پیش کرتے ہیں وہ سب سے منفرد ہے. اسی وجہ سے غالباً بہت سے محققین اسے اللہ کی سب سے اونچی صفت قرار دیتے ہیں. نمونہ کے طور پر سورہ الاسراء کی آیت کا حصہ ملاحظہ ہو
.
"کہہ دو الله کہہ کر یا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے پکاروسب اسی کے عمدہ نام ہیں ..."
. 
یعنی اپنے ذاتی نام کے ساتھ اگر کوئی صفاتی نام باقاعدہ ذکر کیا تو وہ نام رحمٰن ہی ہے. لفظ رحمٰن میں مبالغہ کا صیغہ ہے ، اور اس کے معنی محض رحم کرنے والے کے نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد ہے وہ رحم کرنے والا جس کی رحمت ٹھاٹھیں مار رہی ہو، زور و شور سے برس رہی ہو
. 
==========
.
عَلَّمَ الْقُرْآنَ (اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی) - سب سے اونچی صفت الرَّحْمَنُ کے ذکر کے فوراً بعد، علوم میں سب سے اونچے علم یعنی قران حکیم کا ذکر کیا گیا. قران مجید اپنے قاری کیلئے اپنے نفس اور آفاق پر غور کرنے کو عبادت سے تعبیر کرتا ہے. وہ ہر علم کی حوصلہ افزائی اور اسکے حصول کی تلقین کرتا ہے مگر سب سے زیادہ اہمیت وہ اسی کو دیتا ہے کہ انسان الله پاک کی اس عظیم ترین نعمت یعنی قران حکیم پر تدبر و تفکر کرے. قران کی عظمت پر یوں تو بیشمار براہین قران و سنت دونوں سے پیش ہوسکتی ہیں مگر اس وقت بخاری کی اس حدیث پر اکتفاء کرتے ہیں

خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرآنَ وَعَلَّمَ
تم لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سکھائے
.
==========
.
خَلَقَ الْإِنْسَانَ (اسی نے انسان کو پیدا کیا) - اب سب سے اونچی صفت اور سب سے بلند علم کے ذکر کے بعد خالق اپنی بہترین مخلوق کا ذکر کر رہے ہیں یعنی وہی انسان جسے خلیفہ الارض کی خلعت پہنائی گئی. اسی ضمن میں سورہ تین میں ارشاد ہوتا ہے کہ

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ 
کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے
.
==========
.
عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (اسی نے اسکو بیان کی صلاحیت دی) - سب سے اونچی صفت رحمٰن ، سب سے بلند علم قران، سب سے مکرم تخلیق انسان کے ذکر کے بعد اس انسان کی افضل ترین صفت یا صلاحیت یعنی 'قوت بیان' کا ذکر ہوا. یہ بیان ہی کی قوت ہے جس کے استمعال سے انسان دیگر مخلوقات کی بانسبت کہیں زیادہ تیزی سے شعوری ارتقاء کرتا چلا گیا. یہی بیان ہے جس نے زبانوں کو جنم دیا ، جس نے رابطہ کو ممکن بنایا، جس کے ذریعے فرد کا علم معاشرہ سے منسلک ہوگیا. 
.
==========
.
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ (سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں) - جس نظام شمسی سے ہماری زمین متعلق ہے ، اس میں سورج اور چاند مرکزی اہمیت رکھتے ہیں. بتایا جا رہا ہے کہ یہ دونوں پورے توازن اور تندہی سے اپنے اپنے مدار میں دیگر مخلوقات کی طرح تسبیح کر رہے ہیں یعنی گھوم رہے ہیں. 
.
==========
.
وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ (اور ستارے اور درخت دونوں سجده کرتے ہیں) - بتایا جا رہا ہے کہ دیگر ستارے اور نباتات بھی اپنا سر جھکائے سجدہ کر رہے ہیں یعنی سورج و چاند کی طرح الله کے نافذ کردہ قوانین کے پابند ہیں.
.
==========
.
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ (اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی) - بتایا جارہا ہے کہ اسی نے اس آسمان کو بلند کیا یعنی ان کاسموس ، کہتشاؤں اور شمسی نظاموں کو ہماری زمین سے جدا رکھ کرہماری آنکھوں سے بلند رکھا. اور پھر میزان یعنی ترازو قائم کی. یہ اشارہ ہے اس حقیقت کا کہ جس طرح ترازو کا کام توازن برقرار رکھنا ہے، ہر شے کو ناپ تول کر بتانا ہے. اسی طرح اس پرہیبت کائنات کو اس کے رب اللہ عزوجل نے بہترین توازن کے ساتھ قائم کیا ہے
.
==========
.
أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ (کہ ترازو میں حد سے تجاوز نہ کرو) - اب ایک خوبصورت ادبی اسلوب سے یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ جس طرح تمہارے رب نے ہر کام میں عدل اور توازن رکھا ہے. ویسے ہی تم پر بھی لازم ہے کہ ترازو یا توازن سے کبھی تجاوز نے کرو. رشتے ہوں، مال ہو یا تمہارا کاروبار .. کوئی بھی معاملہ توازن کو پامال نہ کرے، عدل کے خلاف نہ ہو
.
==========
.
دھیان رہے کہ یہ ایک طالبعلم کا غور کرنا ہے جس میں کمی اور کوتاہی دونوں کا ہی احتمال ہے لہٰذا اسے حتمی نہ سمجھا جائے
.
====عظیم نامہ====

اگر


اگر





اگر ایمان کا دعویٰ عمل سے تصدیق نہ پاۓ تو پھر ناقص ہے .. اگر خدا کا تصور، ذوق عبادت پیدا نہ کرے تو وہ باطل ہے .. اور اگر علم کردار میں نہ ڈھل جاۓ تو وہ علم ہے ہی نہیں، بلکے محض معلومات ہے.
.
====عظیم نامہ====