Wednesday, 13 May 2015

فطرت انسانی کیا ہے؟

 

فطرت انسانی کیا ہے؟



 فطرت لفظ فطر سے وجود میں آیا ہے، جس کے معانی ہیں 'اندر سے پھوٹنا' .. اسی نسبت سے فطر کے ایک معنی بناء کسی بیرونی مثل کے ابتدا ہونے کے بھی ہیں. الله رب العزت کا ایک صفاتی نام فاطر ہے ( فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ) یعنی وہ جو کائنات کو بناء کسی سابقہ مثل کے وجود میں لے آیا. فطرت دراصل انسان کے وہ مجموعی اوصاف، صفات اور داعیات ہیں جو انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہیں اور جن کی موجودگی آپ کے وجدان میں موجود ہے. یہ وہ داخلی احساسات، جذبات و محرکات ہیں جو اس کی شخصیت میں بنانے والے نے پیدائشی طور پر مضمر کر رکھے ہیں. لہٰذا جب خارج سے کوئی ایسی بات، خیال یا فلسفہ پیش کیا جائے جو انسانی فطرت سے قریب ہو یعنی ان داخلی داعیات کے نزدیک ہو تو انسان کی طبیعت اسے لپک کر قبول کرلیتی ہے. وجہ یہی ہے کہ اس بیرونی شے کے بارے میں داخلی گواہی پہلے سے موجود تھی. اسی طرح اگر کوئی بات انسان کی مشترکہ فطرت کے خلاف ہے تو چاہے اسے کتنا ہی منطقی روپ کیوں نہ دے دیا جائے ، اسے اجتماعی قبولیت کبھی حاصل نہ ہوگی.
.
دیکھیں آپ کو پیاس لگتی ہے اسی لئے آپ پانی پیتے ہیں. اب اگر آپ کو پیاس ہی نہ ہو اور کوئی زبردستی آپ کے منہ میں پانی انڈیلتا رہے تو جلد ہی آپ کا جسم اسے اگل دے گا. خارج سے پیش کردہ شے کا خیر مقدم تب ہی ٹھیک سے ہوسکتا ہے جب اندر طلب موجود ہو. آپ کی شخصیت میں جو داعیات آپ کے رب نے ودیعت کر رکھے ہیں ، ان کی نوعیت بھی پیاس کی سی ہے. آپ کی طبیعت اسی صورت سیرابی اور سرشاری محسوس کرسکے گی جب خارج سے پہنچی بات آپ کے داخلی وجدان کی پیاس بجھا سکے.
.
اسلام کا دعویٰ ہے کہ وہ دین فطرت ہے ، یعنی اس کا پیش کردہ مقدمہ اور عقائد انسانی فطرت سے پوری طرح منسلک ہیں. لہٰذا اسلام کا مخاطب اسکے الہامی پیغام کو جب سنتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ اسکی گواہی اسے باطن سے حاصل ہورہی ہے. یہی وجہ ہے کہ غیرمسلم سب سے زیادہ تعداد میں اسلام کے پیغام کو قبول کرتے ہیں. فطرت کے یہ داعیات چونکہ انسان میں پیدائشی طور پر الہام شدہ ہیں ، اسلئے یہ کہنا مبنی باحقیقت ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور اس لحاظ سے دین فطرت کا ماننے والا یعنی مسلم ہوتا ہے. حضرت عیسیٰ الہے سلام سے تحریف شدہ بائبل میں ایک قول منسوب ہے جس کا مفہوم ہے کہ رب کی جنت میں صرف وہی لوگ داخل ہوسکیں گے جو بچوں کی طرح صاف فطرت پر ہوں.
.
معاملہ یہ ہے کہ انسان دیگر حیوانات کی طرح محض داخلی وجود پر نہیں چلتا بلکہ اس کے اردگرد موجود حالات و واقعات بعض اوقات اس کی فطرت کو جزوی یا کلی طور پر مسخ کردیتے ہیں. پھر انسان کو ارادہ و اختیار کی جو خصوصی صلاحیت رب کی جانب سے عطا ہوئی ہے ، وہ اسے یہ قابلیت دے دیتی ہے کہ وہ چاہے تو فطرت پر قائم رہ کر سلیم الفطرت بنا رہے اور چاہے تو خارجی فلسفوں کو اپنا کر فطری داعیات کو مدفون کردے. اسی حقیقت کا بیان بخاری کی اس صحیح حدیث میں ہوتا ہے
.
"ہر بچہ فطرت (یعنی اسلام) پر پیدا ہوتا ہے تو اسکے والدین اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں"
.
اسی طرح ماں کی ممتا کا جذبہ خالص فطرت کا عکس ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی ماں نے اپنا بچہ کو بیدردی سے مار ڈالا. سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس سے فطرت کا انکار نہیں ہوتا بلکہ اثبات ہوتا ہے. وجہ یہ ہے کہ اس ماں کا یہ ظالمانہ اقدام پورے انسانی معاشرے میں ایک سنسنی پیدا کردیتا ہے ، یہ واقعہ ایک بڑی خبر بن جاتا ہے. ہر انسان یہ جاننا چاہتا ہے کہ ایسا کیا ہوا جو ایک ماں اپنے اس فطری جذبہ کو پامال کرگئی؟ کیا اس کا ذہنی توازن بھی درست تھا ؟ وغیرہ کہنے کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی فرد یا قبیلہ کی فطرت مسخ ہو سکتی ہے مگر اسے استثنیٰ مانا جائے گا اور ایسا کوئی غیر فطری عمل جلد یا بدیر ختم ہوجاتا ہے. ساتھ ہی اسے کبھی انسانیت کی اکثریت کی تائید حاصل نہیں ہوتی.
.
سورہ شمس میں الله عزو جل نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ اچھائی اور برائی کی تفریق و تمیز ہمارے نفس یعنی ہماری فطری شخصیت میں الہام کردی گئی ہیں
.
"پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی"
.

چنانچہ ہر انسان چاہے وہ پاکستان میں بستا ہو، امریکہ میں ہو یا افریقہ کے زولو قبیلہ میں .. وہ یہ جانتا ہے کہ سچ بولنا ایک عمدہ قدر ہے اور جھوٹ بولنا غلط. کسی کی جان بچانا ایک اچھا کام ہے اور کسی بے گناہ کی جان لینا ایک مذموم عمل. یہ تمیز اسکی فطرت میں پہلے دن سے موجود ہے. اس موقع پر وہ حدیث بھی سن لیں جو بتاتی ہے کہ ایک انسان کیسے جان لے کہ کوئی عمل گناہ ہے یا نہیں؟
.
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ”استفت قلبک ولو افتاک المفتون“ (اپنے دل سے فتویٰ لو، اگرچہ مفتی بھی فتویٰ دے دیں)
یعنی اگر اپنے اندر جھانکو گے تو تمہارا قلب ، تمہارا داخل تمھیں یہ بتا دے گا کہ کیا گناہ ہے. اس ضمن میں سب سے بڑا مفتی آپ کا اپنا حاسّهِ باطنی ہے.
.
واللہ و اعلم بلصواب
.
 عظیم نامہ

Monday, 11 May 2015

مدارس پر تنقید - پرویز رشید کے تازہ بیان کے تناظر میں

 

مدارس پر تنقید - پرویز رشید کے تازہ بیان کے تناظر میں

 
 
اس سے کوئی صاحب شعور انکار نہیں کرتا کہ مدارس میں یقیناً کچھ خامیاں بنیادی نوعیت کی موجود ہیں. یہ بھی حقیقت ہے کہ ان خامیوں کو دور کرنے کیلئے نصاب اور تربیت دونوں کے حوالے سے کچھ اصلاحات ناگزیر ہیں. یہ بھی تسلیم کرنا چاہیئے کہ ہمارے مذھبی رویوں میں برداشت کی شدید کمی ہے. یہ بھی بجا ہے کہ تکفیری فتووں نے صرف تفرقہ اور نفرت کو پھیلایا ہے.
.
مگر کسی عقلمند کا یہ کہنا کہ ..
.
ہم سائنس و تحقیق میں پیچھے رہ گئے ہیں اور اس کے ذمہ دار مدارس ہیں؟
یا ہماری ملکی معیشت تباہ ہو گئی ہے ، اس کی وجہ مدارس ہیں ؟
یا پھر ہمارے تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں وغیرہ بین الاقوامی معیار میں پیچھے ہیں، اس کا سبب مدارس ہیں؟
.
اس سے زیادہ بے بنیاد، ظالمانہ اور مضحکہ خیز الزام اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی دست کار سے کہیں کہ کیوں کے اس نے گلدان پر نقوش صحیح سے نہیں کاڑھے اسلئے تھر میں بچے بھوک سے مر گئے.
.
سوال یہ ہے کہ کیا مدارس نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا کہ آپ معاشی اصلاحات نہ کریں ؟ کیا کسی مولوی نے آپ پر بندوق تانی تھی کہ جدید ہسپتال قائم نہ کریں؟ کیا اہل مدرسہ نے آپ کو روک رکھا تھا کہ آپ سائنسی ایجادات نہ کریں ؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر اپنی ناکامیوں کا بوجھ مدارس کے سر پر کیوں ڈالتے ہیں ؟ مذھبی طبقہ کو خدارا وہ ملامتی فرقہ نہ بنائیں جن کے کندھے پر رکھ کر آپ اپنی بندوق چلا سکیں.
.
میں نے پوسٹ کے آغاز میں ہی یہ تحریر کردیا تھا کہ مدارس میں بلاشبہ کئی خامیاں موجود ہیں. مگر سوچنا یہ ہے کہ کس شعبہ یا طبقہ میں نہیں ہیں؟ کیا آپ کی فوج دودھ میں دھلی ہے ؟ کیا آپ کا میڈیا بہت شفاف ہے ؟ کیا آپ کا تعلیمی نظام قابل تعریف ہے ؟ کیا آپ کے قانون ساز ادارے بکاؤ نہیں ہیں ؟ کیا آپ کے ڈاکٹرز انجینیرز سے لے کر ایک چھابڑی والے سبزی فروش تک بد دیانت نہیں ہیں ؟ یا پھر آپ کے سیاستدان کرپشن سے پاک ہیں ؟
.
جب مسائل ہر جگہ موجود ہیں، اصلاحات کی سخت ضرورت ہر میدان میں لازمی ہیں تو انصاف کیجیئے. ہر شعبہ کو اتنا ہی الزام دیجیئے جس کا وہ ذمہ دار ہے. اگر دین سے محبت ہے ، اگر ملک سے لگاؤ ہے تو ان سب اداروں کو ان کی خامیوں سمیت قبول کریں  اور پھر آگے بڑھ کر اصلاح میں کردار ادا کریں. یہ صرف ماتم کرنے والا رویہ ترک کریں، عمل کے میدان میں اتریں.
.
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے

.
عظیم نامہ

Monday, 4 May 2015

شائد ..


شائد


اللہ رب العزت کو زبان کی سختی پسند نہیں ، شائد اسی لئے زبان میں ہڈی نہیں ہوتی ... الله عزوجل کو زندہ مخلوق کا اکڑنا پسند نہیں ، شائد اسی لئے صرف مردہ اکڑ جاتے ہیں ... مگر مردہ لاش پانی میں ڈوبتی نہیں ہے ، شائد اس لئے کہ ڈوبنے کے لئے زندگی ضروری ہے ؟

====عظیم نامہ====

Thursday, 30 April 2015

لفظ کی اہمیت



لفظ کی اہمیت 


.
لفظ لفظ رٹنے سے آگہی نہیں ملتی 
آگ نام رکھنے سے روشنی نہیں ملتی 
.
آدمی سے انساں تک ، پہنچو گے تو سمجھو گے 
کیوں چراغ کے نیچے روشنی نہیں ملتی ؟
.
دوستو ، الفاظ خالی برتن کی مانند ہوتے ہیں .. انہیں مفہوم ہم عطا کرتے ہیں
.
لب پر آتی ہے بات دل سے حفیظ 
دل میں جانے کہاں سے آتی ہے؟
.
لفظ 'کمینہ' ایک گالی شمار کیا جاتا ہے لیکن یہ گالی اسی وقت بنتا ہے جب اس کا مفہوم سننے یا بولنے والے کو معلوم ہو. اگر ایک انسان اس لفظ کے مفہوم ہی سے آشنا نہ ہو تو پھر اس لفظ کا کوئی اثر طبیعت پر محسوس نہیں ہوتا. اسی طرح ممکن ہے کہ ایک لفظ کسی زبان میں گالی ہو مگر وہی لفظ دوسری زبان میں توصیفی کلمہ کی حیثیت رکھتا ہو. چنانچہ جس مفہوم سے آپ کی سماعت آشنا ہوگی ، آپ ویسا ہی تاثر اس لفظ کا خود پر محسوس کرسکیں گے. آپ کو اکثر بداخلاق لوگ اپنے دفاع میں یہ دلیل دیتے نظر آئیں گے کہ 'سچ کڑوا ہوتا ہے' ، کاش کہ انہیں کوئی سمجھا سکے کہ کڑوا اکثر سچ نہیں ہوتا بلکہ آپ کا لہجہ اور الفاظ کا چناؤ کڑوا ہوجاتا ہے. اس کی اعلی ترین مثال رسول عربی صلی الله و الہے وسلم کی ذات مقدس ہے ، جنہوں نے ساری زندگی ببانگ دھل سچ بولا مگر کبھی کڑوا نہ بولا، جب بھی بولا میٹھا بولا.
.
لفظ تاثیر سے بنتے ہیں تلفظ سے نہیں 
اہل دل آج بھی ہیں، اہل زباں سے آگے 
.



یاد رکھیں کہ ہر وہ لفظ گالی شمار ہوگا جس سے مخاطب کی تحقیر و تذلیل مقصود ہو. اگر آپ ایسا کوئی بھی لفظ ادا کرتے ہیں جس کے زریعے، سننے والے کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے، تو امکان ہے کہ اس پر گالی کا اطلاق ہو سکتا ہے. اگر اس تعریف کو سمجھ لیں تو معلوم ہوگا کہ گالی صرف وہ الفاظ نہیں ہیں جنہیں معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے بلکے ایسے بہت سے الفاظ موجود ہیں جنہیں گالی کے طور پر ہم نے خود ایجاد کیا ہے. حد یہ ہے کہ ہم نے مذہبی گالیاں بھی ایجاد کر رکھی ہیں. وہ شیعہ کھٹمل ہے، یہ سنی دشمن اہل بیت ہے .. وہ وہابی نجدی کافر ہے، یہ قبر پرست صوفی ہے .. وہ دیوبند کی گند ہیں ، یہ حلوہ خور بریلوی ہیں ... وہ ہرے طوطے ہیں، یہ یہودی ایجنٹ ہیں. ایک لمبی فہرست ہے گالیوں کی جسے ادا کر کے ہم اپنے مخاطب کی تذلیل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں. وہ اسلام جس نے کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے روکا تھا ، آج اسکے نام لیوا بڑے فخر سے اپنے کلمہ گو بھائیوں کو مذہبی گالیاں دیتے ہیں. 
.
ہر ایک پر لگاتا ہے تو کفر کے فتوے 
اسلام تیرے باپ کی جاگیر تو نہیں ؟
.
ایک آخری پہلو یہ بھی غور طلب ہے کہ کسی بھی لفظ کی لغوی تحقیق، اس لفظ میں مضمر کئی راز کھول دیتی ہے، مگر دھیان رہے کہ ایسی کوئی بھی لغوی تحقیق اسی وقت معتبر ہوگی جب پہلے یہ معلوم ہو کہ مذکورہ لفظ مخاطبین کے درمیان کس مفہوم میں رائج رہا ہے. دور حاضر میں کچھ محققین نے یہ روش اپنائی ہے کہ انہوں نے مخاطبین میں رائج مفہوم کو پس پشت رکھ کر قران حکیم کے الفاظ کی لغوی تحقیق شروع کردی. اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان حضرات نے دین کی بنیادی اصطلاحات کے وہ وہ معنی اخذ کئے جسے سن کر اہل علم اپنا سر پیٹ لیں. 
.
ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے 
مجنوں نظر آتی ہے، لیلیٰ نظر آتا ہے 
.
====عظیم نامہ====

کب تک؟؟

 

کب تک؟؟

  

 
 
کب تک کچے رہو گے؟ .. پکے بنو !
کب تک سوال بنے رہو گے؟ .. جواب بنو !
ذرہ کو ریگستان بننا ہوگا ..
دریا کو سمندر میں ڈھلنا ہوگا ..
سونے کو کندن بننا ہوگا ..
قطرہ کو گوہر میں ڈھلنا ہوگا ..
یاد رکھو کہ تم سے یہ سوال ہوگا کہ اپنی صلاحیت کو مواقع کے تناسب سے کتنا نکھارا ؟ ..
کوئی بہانہ نہیں چلے گا ..
کوئی مصلحت کام نہ آئے گی ..
.
 عظیم نامہ

Wednesday, 29 April 2015

ابلیس کا جال

 
 

ابلیس کا جال

 
 
 
 شیطان تحمل پسند اور مستقل مزاج طبیعت رکھتا ہے. اس کا حملہ اچانک نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا پلان کام کرتا ہے. ذیل میں شیطان کے طریقہ واردات کا مرحلہ وار جائزہ لیا جارہا ہے جو وہ انسان کو اپنے جال میں جکڑ لینے کے لئے استعمال کرتا ہے.
.
١. سب سے پہلے وہ آپ کے دل میں نفس امارہ کے ذریعے وسوسہ ڈالتا ہے. مثال کے طور پر وہ آپ کو محض اتنی معلومات دے کر خاموش ہوجاتا ہے کہ فلاں مقام اور وقت پر آپ کا مرغوب گناہ کا موقع موجود ہے. اتنا کہہ کر وہ ممکن ہے کہ آپ کو کچھ عرصہ کیلئے آزاد چھوڑ دے.
.
٢. اگر آپ نے شیطان کے پہلے قدم پر تعوز نہیں پڑھی یا الله عزوجل کی پناہ نہیں مانگی تو پھر وہ آھستہ آھستہ آپ کو اس خاص گناہ کی جانب رغبت دلانا شروع کرتا ہے. اس سے متعلق اضافی معلومات دیتا ہے.
.
٣. اگر اس دوسرے مرحلہ پر بھی لاحول نہ پڑھی اور الله پاک سے مدد نہ مانگی تو اب وہ آپ کے دل میں اس گناہ کا خود ساختہ بیج بونے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو مسلسل اس گناہ کی چاہت پیدا کرتا رہتا ہے. ساتھ ہی وہ آپ کی توجہ دوسرے کاموں میں الجھائے رکھتا ہے تاکہ اپ کی توجہ اس مہلک بیج کو اکھاڑنے کی جانب نہ جاسکے.
.
٤. جب اس حربہ میں اسے کامیابی مل جاتی ہے تو اب وہ چاروں اطراف سے حملہ کرتا ہے. اگر گناہ فحاشی کی نوعیت کا ہے تو جذبات کو بھڑکاتا ہے اور اگر اس کی قسم منکر کی ہے تو عقل کو زیر کرتا ہے.
.
٥. اس درجہ پر اب وہ اس گناہ کو آپ کے لئے مزین بنادیتا ہے. اسے آسان، خوبصورت اور دل کش کر کے پیش کرتا ہے. اس موقع پر اس گناہ کے قریب لے جانے والے ذرائع آپ کو بہم پہنچاتا ہے.
.
٦. اب چونکہ شیطانی جڑیں آپ کے شعور میں پھیل چکی ہیں لہٰذا اب آپ کو حتمی دعوت گناہ دی جاتی ہے کہ بس اب کر ڈالو.
.
٧. جب گناہ ہو جائے تو اب شیطان جان لڑا دیتا ہے کہ آپ توبہ کی جانب راغب نہ ہوں بلکہ آھستہ آھستہ گناہ کی ندامت دل سے رخصت ہو جائے. کچھ ہی عرصہ میں وہ دوبارہ آپ کو اسی گناہ کی جانب مائل کرنے لگتا ہے.
.
٨. اب اس گناہ کو ایک ایڈ-کشن یعنی لت کی طرح وہ آپ سے چمٹا دیتا ہے. آپ ایسے نفسیاتی ٹریپ میں جا پھنستے ہیں جہاں آپ اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہوجاتے ہیں. اس مقام پر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ گناہ آپ کوا اندر ہی اندر برباد کررہا ہے ، آپ کا ایمان تباہ ہورہا ہے مگر کسی نشہ کرنے والے کی مانند آپ جان کر بھی اس گندی عادت کو نہیں ترک کر پاتے.
 
.
ابلیس کے اس جال کو کسی بھی مرحلہ پر توڑنے کا واحد راستہ سچی توبہ اور استغفار کا ہے. شیطان کے اس آٹھ نکاتی حملے میں جتنا پہلے انسان سنبھل جائے گا، اتنا ہی اس کا نکلنا آسان ہوگا. جتنی دیر کرے گا، اتنا ہی یہ ٹریپ اس کے لئے دشوار تر ہوتا جائے گا. الله پاک ہمیں خطوات الشیطان سے محفوظ رکھے اور فوری رجوع کرنے والا بنا دے. آمین یا رب العالمین
.
 عظیم نامہ

Tuesday, 28 April 2015

ابتداء تخلیق کی توجیحات


ابتداء تخلیق کی توجیحات





"کیا یہ بغیر کسی چیز کے از خود پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا کیا یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں ؟ یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کردیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ یقین کرنے والے نہیں ہیں" 
.
سورہ الطور کی مندرجہ بالا آیات میں اللہ پاک انسان کو تخلیق کے عمل کے آغاز پر غور کرنے کی دعوت فکر دے رہے ہیں. اگر کوئی بھی شے وجود رکھتی ہے تو اس کے نقطہ آغاز کو سمجھنے کے لئے چار توجیہات پیش کی جاسکتی ہیں:
.
پہلی یہ کہ وہ شے یا انسان خود بخود کسی بھی پیش تر چیز کے بغیر وجود میں آگیا ہو. یہ ظاھر ہے کہ ناممکن ہے. ہم جانتے ہیں کہ 'کچھ نہیں' سے 'کچھ نہیں' تخلیق ہوسکتا. کچھ تخلیق ہونے کے لئے لازم ہے کہ اس سے پہلے کچھ ہو. لہٰذا یہ توجیہہ فضول اور باطل ثابت ہوتی ہے 
.
دوسری توجیہہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس شے یا اس انسان نے خود اپنے آپ کو تخلیق کرلیا ہو. یہ بات بھی سراسر احمقانہ اور تجربہ کے خلاف ہے. ہم جانتے ہیں کہ نہ تو انسان خود اپنے آپ کو اپنے ہاتھ سے بناتا ہے اور نہ ہی کائنات کی دیگر مخلوقات اپنے آپ کو ازخود ڈیزائن کرتی ہیں. ہر معلول کو ایک پیشتر اور بیرونی علت کی حاجت لازمی ہوتی ہے. چنانچہ یہ توجیہہ بھی مسمار ہوجاتی ہے 
.
تیسری توجیہہ یہ پیش کی جاسکتی ہے کہ کیونکہ انسان اس معلوم کائنات میں سب سے زیادہ زہین اور باشعور نظر آتا ہے لہٰذا وہ اپنے وجود کی توجیہہ نہ بھی کرسکتا ہو تب بھی بقیہ کائنات کا خالق وہ خود ہو. ظاہر ہے کہ انسان بخوبی واقف ہے کہ ان عظیم سیاروں، ستاروں، کہکشاؤں، سمندروں، پہاڑوں وغیرہ میں سے کسی کا بھی وہ خالق نہیں ہے. اسلئے ایسی غیر حقیقی وجہ کو زبان پر لانا بھی اس کے لئے ناممکنات میں سے ہے 
.
جب یہ تینوں توجیہات عقلی، عملی، علمی، تجرباتی اور ہر دوسرے ممکنہ زاویئے سے فاسد قرار پاتی ہیں تو صرف ایک اور توجیہ باقی بچتی ہے جو سب سے زیادہ قرین قیاس ہے اور جسے تسلیم کرنے میں انسانی فہم حق بجانب ہے. وہ چوتھی اور آخری توجیہہ یہ ہے کہ انسان اور اس پر ہیبت کائنات کی تخلیق کے پیچھے 'کوئی' ہے جو خود تخلیق ہونے سے آزاد ہے. جو زمان و مکان کی پابندیوں سے مارواء ہے، جس کے بارے میں انسانی علم نہایت محدود ہے. مگر جس کا ہونا اس کائنات کے ہونے اور ہمارے اپنے وجود کے ہونے سے صریح طور پر ثابت ہے. اتنے صاف صاف قرائن ہونے کے باوجود اگر کوئی انسان اس واحد قابل قبول توجیہہ یعنی ایک 'برتر وجود' کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کا شمار ان احمقوں میں ہوگا جو علمی حقیقتوں کو بھی ماننے کیلئے دیکھنے کی شرط لگاتے ہیں اور دلیل سمجھنے پر اکتفاء نہیں کرتے 
.
====عظیم نامہ=====