Sunday, 26 April 2015

کیا نماز واقعی برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے ؟



کیا نماز واقعی برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے ؟



" بےشک نماز روکتی ہے بے حیائی اور برائی سے"


میں سوچ رہا تھا کہ سورہ العنکبوت کی ٤٥ آیت کے اس حصہ میں تین بنیادی پیغامات پنہاں ہیں 
.
١. پہلا سبق یہ کہ بے حیائی کو الگ سے زور دے کر ذکر کیا گیا ورنہ بات اتنی بھی ہوسکتی تھی کہ بےشک نماز روکتی ہے برائی سے. ظاہر ہے بے حیائی بھی خود بخود برائی کے لفظ میں مضمر ہو جاتی. مگر اس آیت میں اور قران حکیم کے دیگر مقامات پر بھی جہاں برائی سے بچنے کا کہا گیا وہاں فحاشی کو خاص الگ کر کے ذکر کیا گیا تاکہ مومنین اس سے بچنے کا خاص اہتمام کریں. 
.
٢. دوسرا زاویہ یہ کہ نماز پڑھنے کا ایک لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہیئے کہ نمازی برائی اور فحاشی سے دور ہو جائے. مگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کم سہی مگر نمازی حضرات بھی بعض اوقات بےحیائی اور برے کاموں میں شامل ہو جاتے ہیں. سوال یہ ہے کہ اس ممکنہ تضاد کو کیسے سمجھا جائے؟ اسے سمجھنے کیلئے یہ جاننا ہوگا کہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ نماز روکتی ہے مگر یہ نہیں کہا گیا کہ زبردستی روک دیتی ہے. ان دونوں بیانات میں بڑا فرق ہے. جس طرح ایک زندہ ضمیر انسان کو اس کی ضمیر کی آواز برے کام سے روکتی ہے ، اسی طرح نمازی کو اس کی نماز برائی سے روکتی ہے. مگر جس طرح انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اپنے ضمیر کی آواز سنے اور چاہے تو مسترد کر دے. ٹھیک ویسے ہی انسان یہ بھی اختیار رکھتا ہے کہ وہ اپنی نماز سے برائی کو چھوڑ دے یا پھر نماز کی یاد دہانی کو بھی خاطر میں نہ رکھے. اس سے نماز کی اہمیت کم نہیں ہوتی بلکہ پانچ دفعہ اپنے رب کے سامنے حاضری کا شعور رکھنے والا شخص برائی چھوڑ دینے پر زیادہ مائل ہوتا ہے. ہم جانتے ہیں کہ ایک زندہ ضمیر شخص ایک مردہ ضمیر شخص سے کہیں بہتر ہے اور برائی سے محفوظ رہنے کے زیادہ امکانات رکھتا ہے. ایسے ہی ایک با نماز انسان ایک بے نماز انسان سے سو درجہ زیادہ برائی یا بے حیائی کو ترک کردینے کے امکان رکھتا ہے. 
.
٣. تیسرا سبق دراصل ایک مشاہدہ ہے کہ اگر کوئی شخص بے حیائی اور برائی کو مستقل اپنی سرشت بنالے تو اس کے لئے نماز کی پابندی کٹھن ہو جاتی ہے اور اگر کسی طور پر پڑھ بھی لے تو خشوع و خضوع جاتا رہتا ہے. اگر ایک مسلمان نماز کی پابندی یا اس میں خشوع قائم نہیں کرپارہا تو اسے چاہیئے کہ اپنی روزمرہ کی زندگی کا جائزہ لے. کہیں وہ کھلے گناہ بلخصوص آنکھوں یا بقیہ اعضا کی بےحیائی میں مبتلا تو نہیں؟
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 23 April 2015

لکھنا میری مجبوری


لکھنا میری مجبوری 





لکھنا میری عادت، شوق یا مشغلہ نہیں بلکہ لکھنا میری مجبوری ہے. الله پاک نے اس دنیا میں کچھ افراد کو دوسرے افراد کے مقابل زیادہ حساس پیدا کیا ہے. یہ حساس افراد، واقعات کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں اور مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں. ان ہی حساس افراد کے گروہ میں، الله رب العزت نے کچھ اشخاص کو جمالیاتی زوق بخشا ہوتا ہے اور ساتھ ہی انہیں کسی خاص جمالیاتی تحقیقی صلاحیت سے نواز دیا ہوتا ہے. یہ تخلیقی صلاحیتیں مختلف اشخاص میں مختلف ہوسکتی ہیں مگر اگر ایسی کوئی جمالیاتی صلاحیت کسی انسان میں ودیعت شدہ ہے تو پھر یہ محال ہے کہ وہ اپنے حساس موقف کا اظہار اسکے ذریعے نہ کریں. وہ اگر سچا مصور ہے تو اس کے محسوسات تصویر میں ڈھل جاتے ہیں، اگر وہ سچا شاعر ہے تو اسکی حساسیت غزل و نظم کا قالب اختیار کرلیتی ہے، وہ اگر سچا خطیب ہے تو اس کا مشاہدہ پراثر تقریر بن جاتا ہے اور اگر وہ لکھاری ہے تو اس کے نظریات تحریر کی صورت میں نمایاں ہوجاتے ہیں. اپنی محنت یا دریافت کی تعریف سن کر اچھا محسوس کرنا ہر انسان کی فطرت ہے. لہٰذا ایک مصور اپنے فن پارے کی پذیرائی چاہتا ہے، ایک شاعر اپنی شاعری پر داد کا طالب ہوتا ہے، ایک مقرر اپنی تقریر کے سننے والے چاہتا ہے اور ایک لکھاری اپنی تصنیف کی قبولیت پر مسرور ہوتا ہے. اسے خود پسندی یا خود نمائی سے تشبیہ دینا درست نہیں، اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر ان تخلیقی حساس افراد کو مطلوبہ پذیرائی یا داد حاصل نہ بھی ہو .. یہ تب بھی اظہار پر مجبور ہوتے ہیں. کوئی پڑھے نہ پڑھے ، کوئی سنے نہ سنے، کوئی دیکھے نہ دیکھے .. یہ اظہار کئے بناء نہیں رہ سکتے. 
.
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ لکھنا میری عادت، شوق یا مشغلہ نہیں بلکہ لکھنا میری مجبوری ہے. جب کسی واقعہ کو شدت سے محسوس کرتا ہوں یا جب کسی موضوع پر خوب غور و فکر کے بعد اطمینان حاصل ہو جاتا ہے .. اس لمحے شدت سے آمد شروع ہوتی ہے، متفرق خیالات یہ چاہتے ہیں کہ انہیں لکھ کر ایک مربوط صورت میں باندھ دیا جائے. اس وقت حالت چائے کی اس کھولتی کیتلی کی مانند ہوتی ہے جو چولہے پر رکھی ہو اور اس کا ڈھکنا اندرونی ارتعاش سے بلبلا رہا ہو. جیسے ہی ڈھکن ہٹایا جاتا ہے تو سارا جوش پوری قوت، آواز اور دھوئیں کی صورت میں اپنا اظہار کردیتا ہے. پھر دوبارہ کیتلی میں سکون ہوجاتا ہے. ایک لکھاری ، مصور یا شاعر کے اظہار کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے. مجھے کثرت سے ایسی گزارشات وصول ہوتی رہتی ہیں جن میں تقاضا کیا گیا ہوتا ہے کہ میں فلاں شخصیت یا فلاں تہوار یا فلاں موضوع پر کوئی پراثر تحریر لکھوں. میں ان بہنوں بھائیوں کا شکرگزار ہوتا ہوں ، جو مجھے اس قابل سمجھتے ہیں کہ ان کے جذبات و خیالات کا ترجمان بن سکوں. مگر میں انہیں کیسے سمجھاؤں ؟ کہ میں وہ نہیں لکھ سکتا جسے میں خود شدت سے سچائی سے محسوس نہ کر رہا ہوں. جھوٹی تحریر اور الفاظ کا کھیل میں کھیل سکتا ہوں مگر میرے نزدیک یہ علمی بد دیانتی ہے، کفران نعمت ہے اور بعض صورتوں میں صریح گناہ ہے. مجھے اس سچے شاعر پر رحم آتا ہے جو محض ردیف و قافیہ کا کھیل نہیں کھیلتا بلکہ وہ کہتا ہے جو اس پر آمد ہوتا ہے. کیا حالت ہوتی ہوگی اسکی؟ جب اسے کسی دولہے میاں کا سہرا لکھنے پر مجبور کیا جاتا ہوگا، یہ کہہ کر کہ ممانی اور خالو کا ذکر اچھے سے کردینا ! .. مجھے ترس آتا ہے اس مصور پر جو محض رنگوں کا کھیل نہیں کھیلتا بلکہ اپنی سوچ کو تصویر کرتا ہے. کیسا لگتا ہوگا اسے ؟ جب اسے مجبور کیا جاتا ہوگا کہ ذرا منے کی تصویر بنا دو اور ساتھ میں ایک ہرا طوطا بھی ضرور بنا دینا ... مجھے دلی ہمدردی ہوتی ہے ہر اس تخلیقی حساس شخص سے جس کے فن اظہار کو بازار میں زبردستی بکاؤ مال بنا دیا جاتا ہے بقول مصطفیٰ زیدی 
.
اس منڈی میں جہاں صاف کفن بکتا ہے 
جسم بکتے ہیں، ادب بکتا ہے، فن بکتا ہے 
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 21 April 2015

انسانی رویہ میں حقیقی تبدیلی کیسے ہو ؟



انسانی رویہ میں حقیقی تبدیلی کیسے ہو ؟


انسان کا معاملہ عجیب ہے .. یہ ہاتھی پر سواری کرتا ہے مگر بعض اوقات چوہے سے ڈر جاتا ہے ... ببر شیر سے کرتب کرواتا ہے مگر بعض اوقات ایک چھوٹی چھپکلی کو دیکھ کر چیخ پڑتا ہے ... سمندر کے اندھیروں میں اتر جاتا ہے مگر بعض اوقات رات کی تاریکی سے پریشان ہوجاتا ہے .. سنگلاخ چٹانوں، برفیلے میدانوں، سنسان صحراؤں اور پر ہیبت بیابانوں کو سر کرتا ہے مگر بعض اوقات اپنے گھر میں تنہا ہو تو کانپنے لگتا ہے 

.
معاملہ دراصل اشیاء کے وجود کا نہیں ہے .. بلکہ معاملہ ان اشیاء سے منسلک افکار کا ہے جو وہ اپنے ذہن میں سجا لیتا ہے. انسان کے خارج میں بیشمار نظریات موجود ہوتے ہیں جو اس کے اردگرد پھیلے معاشرے کے ذہنی ارتقاء کے ترجمان ہوتے ہیں. ایک انسان ان نظریات کو دیکھتا ہے، سمجھتا ہے، جائزہ لیتا ہے اور بعض اوقات ان سے مرعوب ہو کر یا ان کا قائل ہو کر انہیں اپنا لیتا ہے. اگر اس کا باطنی شعور کسی حادثے، واقعے ، حالات یا استدلال کی بنیاد پر کسی نظریہ کو دل و جان سے قبول کرلے تو وہ نظریہ اب خارجی نہیں رہتا بلکہ ترقی کرکے اس کا اپنا ذاتی عقیدہ بن جاتا ہے. ایسا عقیدہ جس کی جڑیں اس کے لاشعور میں جاگزیں ہوتی ہیں. پھر یہی عقیدہ اس کے عمل کو مرتب کرتا ہے، یہی عقیدہ تعین کرتا ہے کہ اس کا رویہ کسی شے کی جانب کیسا ہوگا ؟ یہی عقیدہ لاشعوری انداز میں محبت، نفرت یا ڈر کا تعلق استوار کرتا ہے. اگر کسی فاسد عقیدہ کی اصلاح مقصود ہے تو لازم ہے کہ مخاطب کے لاشعور کو کریدا جائے، پھر اسے للکار کر ایک مظبوط تر نظریہ دیا جائے .. جسے وہ قبول کرسکے .. جسے وہ اپنا سکے. ایسے حالات و واقعات پیدا کئے جائیں جو اسکی قبولیت میں معاون ہوں. فرد کی طرح معاشرے کا بھی ایک اجتماعی شعور ہوتا ہے، جسکی اصلاح ان ہی خطوط اور اسی بہج پر کی جاسکتی ہے. یہ عمل کٹھن اور صبر آزما ضرور ہے مگر حقیقی اور پائیدار فکری اصلاح اس کے بناء ممکن نہیں. 
.
====عظیم نامہ====

دوسرے کے عقیدہ کو چھیڑو نہیں اور اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں



دوسرے کے عقیدہ کو چھیڑو نہیں .. اور اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں




جو لوگ مجھے جانتے ہیں وہ اس سے واقف ہیں کہ میں ہمیشہ مذھبی منافرت کا مخالف اور اتحاد بین المسلمین کا داعی رہا ہوں. آپس میں برداشت اور محبت ہمیشہ میرا پیغام رہی ہے. لیکن مجھے آج تک اس جملے کی سمجھ نہیں آئی جو ہمارے علمی حلقوں میں برداشت کے نام پر خوب معروف ہے. وہ جملہ یہ ہے:
.
"دوسرے کے عقیدہ کو چھیڑو نہیں .. اور اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں"
.
مجھے تو یہ جملہ قرانی پیغام کی سراسر مخالفت نظر آتا ہے. اسلام میں تو 'مائنڈ یور اون بزنس' کی اپروچ نہیں سکھائی گئی. بحیثیت مسلمان اور مومن اگر مجھ پر کوئی حق ثابت ہو جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میرا بھائی اس حق کے خلاف عقیدہ اپنائے ہوئے ہے تو مجھ پر فرض ہے کہ میں محبت اور احسن طریق سے اس کے عقیدہ کی اصلاح کی کوشش کروں. ٹھیک اسی طرح اگر مجھے اپنے عقیدہ کے برخلاف کوئی برتر حق معلوم ہوجاتا ہے تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اپنا عقیدہ فوری چھوڑ کر اس برتر حق کو اپنا عقیدہ بنالوں. احتیاط بس اتنی کرنی ہے کہ ہمارا کام پیغام کو احسن طریق سے پہنچانا ہے اور ہر وقت حق کو قبول کرنے کیلئے راضی رہنا ہے. اگر اس کے باوجود اختلاف موجود رہتا ہے تو نفرت نہیں کرنی، تکفیری انداز نہیں اپنانا بلکہ بھائی سمجھ کر کوشش جاری رکھنی ہے
.
====عظیم نامہ====

Sunday, 19 April 2015

دلیل پوچھنا ایک فطری تقاضہ



دلیل پوچھنا ایک فطری تقاضہ 




بچے فطرت پر پیدا ہوتے ہیں ، شائد یہی وجہ ہے کہ وہ سوال کرتے ہیں اور اس کا عقلی جواب چاہتے ہیں. وہ اس پر مطمئن نہیں ہوتے کہ فلاں کتاب میں یہ مرقوم ہے یا فلاں بزرگ کا یہ ارشاد ہے یا فلاں مسلک کی یہ سمجھ ہے. ان کے معصوم سادہ دماغ کو ایک عدد دلیل ضرور درکار ہوتی ہے. وہ دلیل انہیں حاصل ہوجائے تو تسلیم کرنے میں دیر نہیں لگاتے

.
====عظیم نامہ====

حقیقی جنگ



حقیقی جنگ 




لذیذ سے لذیذ پکوان بس زبان پر باقی دو لمحوں کا چٹخارہ ہوتا ہے. ایک بار زبان سے گزر کر پیٹ میں جا پہنچے تو اسکی کیفیت ایک برتن میں پڑے سامان سے زیادہ نہیں ہوتی. کڑوی سے کڑوی دوا بھی زبان پر بس دو لمحوں کی اذیت ہوتی ہے، ایک بار جو پیٹ میں پہنچ جائے تو کسی بے جان برتن میں پڑے سامان سے زیادہ محسوس نہیں ہوتی. اصل اہمیت ، اس خوراک یا دوا کی تاثیر میں مضمر ہوا کرتی ہے جو انسان کی صحت پر اچھے یا برے اثرات مرتب کرتی ہے. اگر انسان محض ایک عقلی وجود کا نام ہوتا جیسا کہ بعض محققین کہتے ہیں تو انسان کچھ کھانے یا نہ کھانے کا فیصلہ ہمیشہ کسی مشینی انداز میں ناپ تول کر ہی کرتا اور اس میں اسے کوئی دقت نہ پیش آتی. مگر چونکہ انسان اپنا ایک نفسی حیوانی و جذباتی وجود بھی رکھتا ہے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر جو خود شوگر کا مریض ہوتا ہے وہ بھی اکثر خود کو میٹھا کھانے سے روک نہیں پاتا. ہمارے باطن میں ان دو وجودوں کے درمیان کی مسلسل کشمکش جاری ہی رہتی ہے. ایک مستقل عدالت ہے جو ہمارے وجود میں برپا رہتی ہے. جہاں استغاثہ اپنے پیش کردہ مقدمہ کا دفاع کرتا ہے اور وکیل صفائی اس مقدمہ کا رد بیان کرتا ہے. قرانی اصطلاح میں یہ نفس امارہ اور نفس لوامہ کی جنگ ہے جو اس دار الامتحان کی حقیقی بنیاد ہے

.
====عظیم نامہ====

Friday, 17 April 2015

چیونٹی کے گھر روز موت

 
 
 

چیونٹی کے گھر روز موت

 
 
کہتے ہیں کہ چیونٹی کے گھر روز موت ہوتی ہے لہٰذا اس کے گھر میں روز رونا مچا ہوتا ہے. مگر انسانوں میں کچھ ایسے بھی ہیں کہ جن کے پاس رونے کی کی کوئی ٹھوس وجہ نہ بھی ہو تب بھی یہ ہمیشہ مظلومیت کا رونا ڈالے رکھتے ہیں. حالات و واقعات ان کے موافق ہوں یا مخالف ، وہ اپنی مظلومیت کے پہلو کھوج نکالتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں ایجاد بھی کرلیتے ہیں. ایسے اشخاص کو دکھی رہنے کی لت پڑ چکی ہوتی ہے. خوشیاں انہیں چاروں اطراف سے گھیر لیں تب بھی یہ گھبرا کر مایوسی اور مظلومیت کے پلو میں اپنی پناہ ڈھونڈھتے ہے. غمگین غزلیں سنتے رہنا، دکھی شاعری دیکھتے رہنا، سنجیدگی کی زبردستی چھاپ لگا لینا، ہر بات میں بے تکے فلسفے جھاڑنا، دنیا کی بیوفائی یا حالات کی سختی کی شکایت کرتے رہنا اور عمل ٹکے کا نہ کرنا .. یہ سب ان کے خدوخال ہیں. اکثر مظلومیت کا دعوا کرنے والوں کی سب سے بڑی نفسیاتی بیماری یہی ہوتی ہے کہ وہ خود کو مظلوم سمجھتے ہیں. جس دن وہ خود کو مظلوم سمجھنے سے انکار کردیں ، اس دن ان کے آدھے مسائل حل ہو جائیں اور باقی آدھے مسائل کو حل کرنے کی ہمت آجائے. دھیان رہے کہ یہاں حقیقی مظلوم طبقہ کی تحقیر مقصود نہیں ہے بلکہ یہ توجہ دلانی درکار ہے کہ اکثر اشخاص کی مظلومیت خود ساختہ ہوتی ہے. جس کا تعلق حالات سے زیادہ انکی اپنی بیمار ذہنیت سے ہوا کرتا ہے
.
 عظیم نامہ====ہ====